پیغام کربلا، مظلوم کربلا کی زبان مبارک سے

Rate this item
(0 votes)
پیغام کربلا، مظلوم کربلا کی زبان مبارک سے

حضرت امام حسین (ع) اپنے خطبے کا آغاز، اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا (ص) کی ایک حدیث سے فرماتے ہیں ۔
اے لوگو پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا ہے ، ہر وہ مسلمان جو ایسے منھ زور سلطان یا بادشاہ کے بالمقابل قرار پاجائےجو حرام خدا کو حلال کرے اور عہد الہی کو توڑے اور قانون و سنت پیغمبر کی مخالفت کرے اور بندگان خدا کے درمیان معصیت کو رواج دے ، لیکن اس کے رویے اور طرز عمل کا مقابلہ نہ کرے تو خداوند عالم پر واجب ہےکہ اسے بھی اس طاغوتی بادشاہ کے ساتھ جہنم کے شعلوں میں ڈھکیل دے ۔ اے لوگوں آگاہ ہوجاؤ کہ بنی امیہ نے اطاعت پروردگار چھوڑکر اپنےاوپر شیطان کی پیروی واجب کر لی ہے انہوں نے فساد اور تباہی کو رواج دیا ہے اور حدود و قوانین الہی کو دگرگوں کیا ہے اور میں ان بد خواہوں اور دین کو نابود کرنے والوں کے مقابلے میں مسلمان معاشرے کی قیادت کا زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے علاوہ تمہارے جو خطوط ہمیں موصول ہوئے وہ اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ تم نے میری بیعت کی ہے اور مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ مجھے دشمن کے مقابلے میں تنھا نہیں چھوڑوگے ۔ اب اگر تم اپنے اس عہد پر قائم اور وفادار ہوتو تم رستگار وکامیاب ہو۔ میں حسین بن علی (ع) تمہارے رسول کی بیٹی فاطمہ زہرا کادلبند ہوں ۔ میرا وجود مسلمانوں کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور تمہارے بچے اور اہل خانہ، ہمارے بچوں اور گھر کے افراد کی مانند ہیں ۔ میں تمہارا ہادی و پیشوا ہوں لیکن اگر تم ایسا نہ کرو اور اپنا عہدو پیمان توڑ دو اور اپنی بیعت پر قائم نہ رہو جیسا کہ تم ماضی میں بھی کرچکے ہو اور اس سے قبل تم نے ہمارے بابا ، بھائی اور چچازاد بھائی مسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ ۔۔۔ تم وہ لوگ ہو جو نصیب کے مارے ہو اور خود کو تباہ کرلیا ہے اور تم میں سے جو کوئی بھی عہد شکنی کرے اس نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے اور امید ہے کہ خداوند عالم مجھے تم لوگوں سے بے نیاز کردے گا ۔
امام حسین بن علی (ع) کا یہی وہ خطبہ تھا، جسے امام (ع) نے، حر اور ا سکے لشکر کے سپاہیوں کے سامنے ، کہ جس نے امام کا راستہ روک دیا تھا، اتمام حجت کے لئے اور ان کو حق کی جانب بلانے کے لئے ارشاد فرمایا تھا ۔اس خطبے کی چند خصوصیات قابل ذکر ہيں ۔اموی نظام حکومت کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے پیغمبر خدا (ص) کے اقوال کا ذکر، امام کی عظمت و منزلت کا بیان ،اپنے قیام اور تحریک کے علل واسباب کا ذکر اورمعاشرے کے افراد کے ساتھ امام کے رابطے کی نوعیت اور اس تحریک کے روشن افق کو بیان کرنا اس خطبے میں پیش کئے جانے والے موضوعات ہیں ۔ 
امام حسین (ع) کا قافلہ، ماہ محرم کی دوسری تاریخ کو کربلا میں وارد ہوتا ہے ۔ اس سرزمین پر امام (ع) اور ان کے خاندان اور اصحاب باوفا کے لئے حالات مزید سخت ودشوار ہوجاتے ہيں دشمن امام (‏ع) اور ان کے بچوں پر پانی بند کردیتے ہیں تاکہ شاید امام اور ان کے ہمراہ اصحاب ، اپنی استقامت کھو بیٹھیں اور ان کے سامنے تسلیم ہوجائیں لیکن ایسے حالات میں کربلا والوں نے ایثار وفداکاری کا ایسا اعلی ترین نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے لئے نمونۂ عمل بن گيا ۔
امام (‏ع) اچھی طرح جانتےتھے کہ میدان جنگ میں بڑے اور عظیم حادثوں کا متحمل ہونے کے لئے عظیم قوت برداشت کی ضرورت ہے ۔ اسی بناء پر ہر مقام پر اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کو ایمان اور یقین کی بنیادیں مستحکم ہونے کی تلقین فرماتے تھے اورشب عاشور ، اصحاب و انصار نے خود کوامام پر قربان کرنے کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔ شب عاشور ایسے اضطراب کی شب تھی جس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس شب امام حسین (‏ع) نے اپنے اصحاب کوبلایا اور واضح طور پران سے کہا کہ ہماری شہادت کا وقت نزدیک ہے اورمیں تم پر سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں لہذا تم رات کی تاریکی سے استفادہ کرو اور تم میں سے جو بھی کل عاشور کے دن جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتا اس کے لئے اپنے گھر اور وطن لوٹ جانے کا راستہ کھلا ہوا ہے ۔ یہ تجویز درحقیقت امام حسین (ع) کی جانب سے آخری آزمائش تھی ۔ اور اس آزمائش کا نتیجہ، امام کے ساتھیوں میں جنگ میں شرکت کے لئے جوش وجذبے میں شدت اور حدت کا سبب بنا اور سب نے امام (ع) سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور کہا کہ خون کے آخری قطرے تک وہ استقامت کریں گے اور آپ کے ساتھ رہیں گے، اوراس طرح سے اس آزمائش میں سرافراز و کامیاب ہوں گے۔
عاشور کی صبح آئی تو امام (ع) نے نماز صبح کے بعد اپنے اصحاب کے سامنے عظیم خطبہ دیا ایسا خطبہ جو ان کی استقامت اور صبر کا آئینہ دار تھا امام (ع) نے فرمایا اے بزرگ زادوں ، صابر اور پر عزم بنو ۔ موت انسان کے لئے ایک پل اور گذرگاہ سے زیادہ کچھ نہيں ہے کہ جو رنج و مصیبت سے انسان کورہائی دلاکرجنت کی جاوداں اور دائمی نعمتوں کی جانب لے جاتی ہے ۔ تم ميں سے کون یہ نہیں پسند کرے گا کہ جیل سے رہائی پاکر محل اور قصر میں پہنچ جائے جب کہ یہی موت تمہارے دشمن کے لئے قصر اور محل سے جہنم ميں جانے کا باعث بنے گی ۔ اس عقیدے کی جڑ خدا پر اعتماد اور یقین ہے اور یہ چیز صبر اور استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے ۔ پھرامام (ع) نے اپنے لشکر کو ترتیب دیا اور پھر تیکھی نظروں سے دشمن کے بھاری لشکر کو دیکھا اور اپنا سر خدا سے رازو نیاز کے لئے اٹھایا اور فرمایا " خدایا مصائب و آلام اور سختیوں میں میرا ملجا اور پناہگاہ توہی ہے میں تجھ پر ہی اعتماد کرتا ہوں اور برے اور بدترین و سخت ترین حالات میں میری امید کا مرکز توہی ہے ۔ ان سخت و دشوار حالات میں صرف تجھ ہی سے شکوہ کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد کر اور میرے غم کو زائل کردے اور آرام و سکون عطا کر ۔ صبح عاشور کی جانے امام (ع) کی اس دعا میں ، تمام تر صبر و استقامت کا محور خدا پر یقین و اعتمادہے بیشک خدا پر یقین اوراعتماد ، سختیوں کو آسان اور مصائب و آلام میں صبر و تحمل کی قوت عطا کرتا ہے ۔
حضرت امام حسین بن علی (ع) یہ دیکھ رہے تھے کہ دشمن پوری قوت سے جنگ کےلئے آمادہ ہے یہاں تک کہ بچوں تک پانی پہنچنے پر بھی روک لگارہا ہے اور اس بات کا منتظرہے کہ ایک ادنی سا اشارہ ملے تو حملے کا آ‏‏غاز کردے ۔ ایسے حالات میں امام (ع) نہ صرف جنگ کا آ‏غازکرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے دشمن کی سپاہ کو وعظ و نصیحت کریں تاکہ ایک طرف وہ حق و فضیلت کی راہ کو باطل سے تشخیص دے سکيں تو دوسری طرف کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان کوئی نادانستہ طورپر امام کا خون بہانے میں شریک ہوجائے اور حقیقت سے آگاہی اور توجہ کے بغیر تباہی اور بدبختی کا شکار ہوجائے ۔ اسی بناء پر امام حسین (ع) اپنے لشکرکو منظم کرنے کے بعد گھوڑے پر سوار ہوئے اور خیموں سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور انتہائی واضح الفاظ میں عمر سعد کے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ اے لوگوں میری باتیں سنو اور جنگ و خون ریزی میں عجلت سے کام نہ لو تاکہ میں اپنی ذمہ داری کو یعنی تم کو وعظ ونصیحت کرسکوں اور اپنے کربلا آنے کا تمہیں سبب بتادوں اگر تم نے میری بات قبول نہيں کی اور میرے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تم سب ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنی باطل فکر اور فیصلے پر عمل کرو اور پھر مجھے کوئي مہلت نہ دو لیکن بہرحال تم پر حق مخفی نہ رہ جائے ۔ میرا حامی و محافظ وہی خدا ہے کہ جس نے قرآن کو نازل کیا اور وہی بہترین مددگار ہے ۔
یہ ہے ایک امام اور خدا کے نمائندے کی محبت و مہربانی کہ جواپنے خونخوار دشمن کے مقابلےمیں، حساس ترین حالات میں بھی انہیں دعوت حق دینے سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ امام (ع) نے روزعاشورا باوجودیکہ موقع نہیں تھا تاہم لوگوں کو وعظ ونصیحت کی اور اپنے راہنما ارشادات سے لوگوں کو حق سے آگاہ فرماتے رہے اور یہ کام آپ پیہم انجام دے رہے تاکہ شاید دشمن راہ راست پر آجائیں ۔ امام (ع) اپنے خطبے میں لشکر عمر سعدکو یہ بتاتے ہیں کہ کوفے اور عمر سعد کے لشکر کے افراد یہ نہ سوچ لیں کہ میں ان خطبوں اور وعظ و نصیحت کے ذریعے کسی ساز باز یا سمجھوتے کی بات کررہا ہوں ۔ نہیں۔ میرا ہدف ومقصد ان خطبوں اور بیانات سے یہ ہےکہ میں تم پر حجت تمام کردوں اور کچھ ایسے حقائق اور مسائل ہیں کہ جنہیں امام کے لئے منصب امامت اور ہدایت و رہبری کے فرائض کے سبب لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں ان سے باخبر کردینا ضروری تھا.

 

 

Read 956 times

Add comment


Security code
Refresh