حقیقتِ روزہ، ترک یا حصول

Rate this item
(0 votes)
حقیقتِ روزہ، ترک یا حصول

عربی زبان میں صوم یا صیام کا معنی امساکِ فعل ہے، یعنی کسی کام کو ترک کرنا، اس سے رک جانا اور اسے انجام نہ دینا۔ گویا صوم کی بنیاد رکنے اور باز رہنے پر ہے۔ قرآن مجید میں حضرت مریمؑ کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے: "فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا" (سورہ مریم: 26) یہاں صوم سے مراد خاموشی ہے، یعنی کلام کو ترک کرنا اور باتوں سے اجتناب کرنا، نہ کہ محض بھوکا رہنا۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صوم کا اصل معنی رکنا (Abstention) ہے، نہ کہ صرف کھانے پینے سے اجتناب کرنا۔ کھانے، پینے اور خواہشات سے اجتناب بھی دراصل اسی اصل مفہوم کے مختلف مظاہر ہیں۔ اسی بنا پر شرعی روزہ بھی حقیقت میں رکنے اور اجتناب کی ایک عملی مشق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا روزہ صرف ترک کا نام ہے۔؟

اگرچہ ظاہری طور پر صوم ترک ہے، لیکن حقیقت میں صوم حصول ہے۔ روزہ میں انسان ترک کرتا ہے:
غذا کو
خواہش کو
لذت کو
لیکن اسی ترک کے نتیجے میں وہ حاصل کرتا ہے:
ارادہ کی قوت
تقویٰ کی کیفیت
روحانی بالیدگی
اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" (سورہ البقرہ: 183) یعنی روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔

درحقیقت روزہ انسان کو خدا کی صفت الصمد کا جزوی مظہر بناتا ہے اور اسے بے نیازی کی مشق سکھاتا ہے۔ انسان، جو ہمیشہ اپنی خواہشات کا محتاج نظر آتا ہے، روزے کے ذریعے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان پر حاکم بن سکتا ہے۔ پس صوم حقیقت میں بھوک کا نام نہیں بلکہ خواہش سے آزادی کا نام ہے۔ یہ ترک کے پردے میں حصول کا سفر ہے۔۔۔ ایسا سفر جس میں انسان حیوانیت کو ترک کرکے انسانیت تک پہنچتا ہے اور اپنی کمزوری سے نکل کر اپنے ارادہ کی قوت کو پا لیتا ہے۔

تحریر: ساجد علی گوندل

Read 3 times