مغربی بالادستی والا یک قطبی نظام کا خاتمہ، کثیرالجہتی نظام کا دور شروع

Rate this item
(0 votes)
مغربی بالادستی والا یک قطبی نظام کا خاتمہ، کثیرالجہتی نظام کا دور شروع

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وہ نظام جس میں امریکہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اب بتدریج ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک نیا کثیر الجہتی عالمی نظام ابھر رہا ہے جس میں مختلف طاقتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس تناظر میں مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، کا رویہ بھی بدلتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں ماضی میں وہ عالمی قوانین اور اداروں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے تھے، وہیں اب یکطرفہ اقدامات، دھمکیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشی پابندیاں جو کبھی ایک مؤثر ہتھیار سمجھی جاتی تھیں، اب اپنی تاثیر کھو رہی ہیں اور اس کے برعکس عالمی سطح پر مغربی مالیاتی نظام پر عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات کو مغرب کی کمزوری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست میں یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی ہے جس میں چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے مغرب کے لیے اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس کے برعکس ایران کی اندرونی مضبوطی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں وہ عالمی نظام کو منظم کرنے کے بجائے ردعمل دینے پر مجبور ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور بحرانوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

معاشی اور ثقافتی میدان میں بھی مغرب کو چیلنجز درپیش ہیں۔ ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں، علاقائی تعاون کا فروغ، اور مقامی بیانیوں کی کامیابی اس تبدیلی کی واضح علامات ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کا عالمی نظام ایسا ہوگا جس میں کوئی ایک طاقت مکمل کنٹرول نہیں رکھے گی بلکہ مختلف ممالک اور خطے مشترکہ طور پر عالمی امور میں کردار ادا کریں گے۔ ایسے میں مغرب کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئی حقیقتوں کو تسلیم کرے اور خود کو اس بدلتے ہوئے نظام کے مطابق ڈھالے۔

اگر مغرب نے پرانے طریقوں پر اصرار جاری رکھا تو اس کے زوال میں مزید تیزی آ سکتی ہے، تاہم اگر وہ خود کو ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کرے تو وہ نئی عالمی نظام میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتا ہے۔

Read 11 times