بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللّہ فی الارضین.
سبھی خواہران و برادران عزیز کا خیرمقدم کرتا ہوں جنہوں نے آج اپنی آمد سے اس حسینیہ کو متبرک اور منور کر دیا۔
آج میں (اپنی تقریر میں) 12 بہمن مطابق یکم فروری کے بارے میں جو ایک اہم تاریخ ہے، کچھ باتیں عرض کروں گا، چند جملے اس فتنے کے بارے میں عرض کروں گا جو ابھی دو ہفتہ قبل رونما ہوا۔ اس بارے میں وضاحت کروں گا کہ یہ کیسا واقعہ تھا اور کیا ہوا تھا اور چند مختصر جملے امریکا کے بارے میں عرض کروں گا۔ یہ وہ نکات ہیں جو میں نے آج خواہران و براداران عزیز کے سامنے عرض کرنے کے لئے نوٹ کئے ہیں۔
بارہ بہمن مطابق یکم فروری، واقعی ایک ممتاز دن ہے۔ سال کے کچھ دن ایسے ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ ان میں کون سے واقعات رونما ہوئے اور یہ کتنے بڑے اور اہم دن ہیں۔ یہ دن تاریخ میں اپنے واقعات اور حادثات کے نام سے لکھے جاتے ہیں؛ لیکن بعض ایام اتنے اہم اور ممتاز ہوتے ہیں کہ تاریخ سے بالاتر ہوتے ہیں، یہ ایام در اصل تاریخ ساز ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں جو واقعہ رونما ہوتا ہے وہ تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیتا ہے۔ بارہ بہمن مطابق یکم فروری ایک ایسا ہی دن ہے ۔
امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) خطرات کے درمیان تہران آئے؛خطرات کے بیچ میں! آپ، نوجوانوں نے وہ دن نہیں دیکھے ہیں۔ امریکا کا خطرہ تھا، صیہونی حکومت کا خطرہ تھا، دہشت گردوں کا خطرہ تھا؛ بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے امام (رحمت اللہ علیہ) کی آمد کے تعلق سے کیا منصوبے تیار کئے تھے۔ ان تمام خطرات کے بیچ امام شجاعت کے ساتھ ایران آئے۔ بارہ بہمن مطابق یکم فروری کو امام (رحمت اللہ علیہ) کا جو استقبال ہوا، جہاں تک مجھے اطلاع ہے، خود ہمارے اپنے زمانے کی تاریخ میں، جس میں آبادی زیادہ ہے اور وسائل و سہولیات بڑھ چکی ہیں، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی؛ امام کا حیرت انگیز استقبال کیا گیا۔
ایک رہبر، ایک عظیم ہستی، ایک بڑا لیڈر معاشرے میں آیا، سماج اور معاشرے نے گرم جوشی کے ساتھ اس کو اپنی آغوش میں لیا۔ یہ ایک اہم واقعہ تھا، لیکن امام نے اس کو صرف یک رسمی واقعہ نہیں رہنے دیا۔ بعض اوقات اس طرح کے کام رسمی طور پر انجام دیئے جاتے ہیں؛ آتے ہیں، تعظیم کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ وہ بھی چلا جاتا ہے اور استقبال کرنے والے بھی چلے جاتے ہیں۔ امام (رحمت اللہ علیہ ) نے اس کو صرف ایک رسمی استقبال کی شکل میں باقی نہیں رہنے دیا اور ابتدائی لمحات سے ہی اس پر کام کرنا شروع کردیا۔
امام (رحمت اللہ علیہ) نے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے پہلے ہی دن، شاہی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ امام رحمت اللہ علیہ نے بہشت زہرا (تہران کا قبرستان) میں دسیوں لاکھ کے عوامی اجتماع سے خطاب میں اس بادشاہی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا جس کے لئے کہتے تھے کہ اس کی ہزاروں برس کی تاریخ ہے۔ امام نے اس نظام کی جگہ ایک اہم نیز عظیم اور ممتاز خصوصیات کے ساتھ ایک جدید نظام کا اعلان کر دیا۔ یہ نیا نظام جس کی نوید امام (رحمت اللہ) نے تہران پہنچنے پر 12 بہمن مطابق یکم فروری کو دی تھی، متعدد اہم خصوصیات کا حامل ہے جن میں سے بعض کی طرف میں اشارہ کر سکتا ہوں، لیکن جو امام نے فرمایا، اس کی دو بنیادی اور اہم خصوصیات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ انفرادی اور استبدادی حکومت کو عوامی حکومت میں تبدیل کر دیتا ہے؛ یہ بہت اہم خصوصیت ہے۔ اس ملک میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں تھی؛ حتی وزیروں اور حکومتوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی؛ ہر چیز، سب کچھ، ایک دربار میں تیار اور نافذ ہوتا تھا۔ یہ حکومت ایک عوامی حکومت میں تبدیل ہو گئی؛ ایسی حکومت جس میں عوام اپنی رائے کا اظہار کریں، انتخاب کریں اور اختیار بھی انہیں کے پاس رہے۔
دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس نے ملک پر حکمفرما دین مخالف فکر کی جگہ دینی اور اسلامی فکر رائج کر دی۔ اگر کوئی پہلوی حکومت میں شامل لوگوں کے بارے میں لکھی گئی تحریروں کو جو اسی زمانے میں لکھی گئی ہیں، پڑھے تو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ ایران پوری طرح دین مخالف راستے پر بڑھ رہا تھا؛ جس میں دین اور قرآن کی کوئی علامت نہیں تھی؛ ملک اس سمت میں جا رہا تھا۔
امام نے راستہ 180 ڈگری تبدیل کر دیا۔ البتہ ملک کو یکبارگی، سو فیصد دین کے مطابق نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اقدام دینی ہو گیا اور تدریجی طور پر دینی سمت میں آگے بڑھنے لگا۔ اگر ہم، یعنی ہم عہدیداران اپنے فرائض پر صحیح عمل کرتے تو اب تک جو کیا گیا ہے، اس سے ملک واقعی دینی ہو گیا ہوتا۔ واقعی ہم نے، بعض حکومتوں نے، بعض حکام نے اور بعض لوگوں نے جو کچھ کر سکتے تھے، کوتاہی کی؛ جو کام کر سکتے تھے، وہ ہم نے نہیں کئے، جو کام نہیں کرنے چاہئے تھے وہ کئے۔ لیکن پھر اسی راستے پر آگے بڑھے جس کی بنیاد امام (رحمت اللہ علیہ ) نے رکھی تھی؛ یعنی ہم دینی اور اسلامی راستے پر آگے بڑھے ہیں۔
ایک اور خصوصیت جو اس نئی حکومت میں تھی اور جس کا ذکر امام (رحمت اللہ علیہ) کے خطبات میں ہوتا تھا، اور ان جملہ خصوصیات میں جن کا امام ذکر فرمایا کرتے تھے، بہت اہم تھی اور سامراج کو سراسیمہ کر دیتی تھی، ایران سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ تھا۔ امام ( رحمت اللہ علیہ ) نے اپنے خطبات میں شروع میں ہی، ایران سے امریکا کے اثر و رسوخ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ میں اپنی گفتگو کے آخر میں اس سلسلے میں چند جملے عرض کروں گا۔ یہ بھی وہ خصوصیت تھی جس نے امریکیوں کو وحشت زدہ کر دیا۔ جس چیز نے امریکیوں کو وحشت زدہ اور پریشان کر دیا اور جس کی وجہ سے وہ دشمنی پر اتر آئے، یہ تھی کہ اعلان کیا گیا کہ ہمارے ملک میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے؛ ملک ایرانی قوم کا ہے، بنابریں وہ خود اور ان کے منتخب افراد ہی اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
انقلاب اور حکومت کے عوامی ہونے کے بارے میں، ہم نے عرض کیا کہ یہ اسلامی نظام کی خصوصیت تھی، جو کام امام نے کیا وہ یہ تھا کہ عوام کو، ملت ایران کو ان کی اپنی توانائیوں اور قدر و قیمت سے واقف کر دیا۔ امام (رحمت اللہ علیہ) کا بیان بہت موثر تھا، آپ کی باتیں دلوں میں بیٹھ جاتی تھیں۔ امام نے عوام کو اس بات کی جانب متوجہ کر دیا کہ ان کے اندر کیا توانائیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات کہ " ہم کر سکتے ہیں" بہت اہم ہے۔ ہم جو انقلاب سے پہلے زندگی گزار چکے ہیں، حتی ہم بھی جو مجاہدت کر چکے تھے، واقعی یہ سمجھتے تھے کہ ایرانی کچھ نہیں کر سکتے! ہم سے نہیں ہو سکتا، ملک کے عوام کی سوچ بن گئی تھی؛ امام (رحمت اللہ علیہ) آئے اور اس فکر کو ختم کر دیا۔ آپ نے اعلان کیا کہ " ہم کر سکتے ہیں"۔ انھوں نے ہمیں اپنی قدر سے آشنا کیا، ہمیں خود اپنی توانائیوں سے باخبر کیا۔ قاجاریوں اور پہلویوں کے دور میں قوم کو حقیر بنا دیا گیا تھا۔ ایرانی عوام کو اپنے اس ماضی کے ساتھ، اس تمدن کے ساتھ، اس علم کے ساتھ، ان عظیم سائنسدانوں اور دانشوروں کے ساتھ، ان عظیم کتب خانوں کے ساتھ، پہلی قاجاری حکومت سے آخری پہلوی حکومت تک کے دور میں تسلسل کے ساتھ حقیر بنایا گیا۔ ہمیں ایک پچھڑی قوم بنا دیا گیا، ہم علم میں پسماندہ تھے، ٹیکنالوجی میں پسماندہ تھے اور سیاست میں پسماندہ تھے؛ علاقے کی سیاست میں ہمارا کوئی اثرورسوخ نہیں تھا، عالمی سیاست تو بہت دور کی بات ہے!
میں نے یہاں ایک بار ایک واقعے کا ذکر کیا تھا (1) کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا کے ملکوں کو پیرس کانفرنس میں بلایا گیا کہ بین الاقوامی مسائل کے بارے میں فیصلہ کریں؛ ایران سے ایک بڑا وفد پیرس کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا لیکن اس کو کانفرنس میں نہیں جانے دیا۔ ایرانی وفد نے کئی دن انتظار کیا لیکن کانفرنس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایران عظیم کو، متمدن ایران کو، اس ایران کو جو کبھی علم و فلسفے کا مرکز تھا، اس منزل تک پہنچا دیا گیا۔ اس طرح تحقیر کی گئی، اتنا چھوٹا کر دیا گیا! علم میں، ٹیکنالوجی میں، سیاست میں، طرز زندگی میں، بین الاقوامی اعتبار میں، علاقائی فیصلوں میں، ان تمام میدانوں میں، پہلوی اور قاجاری دور میں ایران پسماندہ پچھڑا ہوا تھا؛ نہ کوئی ایجاد، نہ اختراع ، نہ کوئی اہم کام اور نہ کوئی نمایاں اقدام۔
امام نے عوام میں اس پسماندگی کا احساس پیدا کیا کہ قوم سوچے کہ ہم پسماندہ کیوں رہیں؟ ہماری اپنی پروڈکٹس کیوں نہ ہوں؟ ہم خود کیوں نہ بنائيں؟ ہم خود کیوں ںہ پیش کریں؟ ہم اپنی بات دنیا میں کیوں نہ پیش کریں؟ امام (رحمت اللہ علیہ ) نے قوم میں یہ احساس پیدا کیا۔ اس کے اندر توانا ہونے کا احساس زندہ کیا۔ قوم میں خود اعتمادی کی روح پھونکی اور خود اعتمادی پیدا کی۔ آج ملت ایران میں خود اعتمادی پائی جاتی ہے۔ آج آپ کسی یورپی قوم حتی امریکی قوم کی طرح خود کو کمزور نہیں پاتے۔ چھوٹے ہونے کا احساس نہیں کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم توانا ہیں اور آپ نے کرکے دکھا دیا۔ گزشتہ چالیس برس سے کچھ زائد عرصے میں، اس ملک میں بڑے کام انجام پائے ہیں جن کے بارے میں ماضی میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، لیکن وہ کام کر دکھائے گئے۔ ابھی اس وقت بھی، یہی صورتحال ہے۔ البتہ ہمارے کارناموں کو چھپاتے ہیں اور تشہیراتی میدان میں ہم کمزور ہیں۔ اس وقت ان نوجوانوں کی ہزاروں کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ بعض بڑی مشینیں تیار کر رہے ہیں؛ اہم اور بڑے کام کئے جا رہے ہیں۔ یہی یونیورسٹی طلبا، اپنی تیار کردہ بعض مشینیں، صرف تہران میں ہی نہیں بلکہ ملک کے گوشہ و کنار میں، انھوں نے اپنے صنعتی کارنامے دکھائے تو لوگوں نے تعجب کیا، انہیں یقین نہیں آتا تھا! کون یقین کر سکتا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ایران ایسا اسلحہ بنائے گا جس کی نقل امریکا کرے گا؟ (2) کسی کی عقل میں یہ بات آتی تھی؟ لیکن یہ ہوا۔ یہ کام کیا گیا۔ امام نے عوام میں یہ خود اعتمادی پیدا کی۔ امید اور بلند پروازی کا جذبہ پیدا کیا۔
خود امام بھی اس امید کا مظہر تھے۔ اپنے سامنے کوئی مشکل نہیں دیکھتے تھے۔ فرماتے تھے، خرم شہر فتح ہونا چاہئے! ہم وہاں تھے، وہ خرم شہر جو چاروں طرف سے لشکروں کے محاصرے میں تھا، اس کے لئے فرماتے تھے کہ " خرم شہر آزاد ہونا چاہئے"؛ بس ایک بات! یعنی آپ کو یقین تھا کہ یہ کام ہو سکتا ہے۔ آپ نے کہا، نوجوانوں نے ہمت کی اور یہ کام ہو گیا۔ آپ خود اس امید کا مظہر تھے اور عوام کو اس امید کے راستے پر ڈالا۔ آج بھی اگر یہ خبیث شیطانی وسواس نہ ہو، ایسا ہی ہے؛ بعض ملک کے اندر اور بعض باہر سے مستقل طور پر یہ وسوسہ پیدا کرتے ہیں کہ ایرانی نوجوانوں میں کوئی امید نہیں ہے، ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس طرح کی باتیں کرتے ہیں؛ ایرانی نوجوانوں میں امید بھی ہے اور ان کا مستقبل بھی (تابناک) ہے۔ وہ اپنا مستقبل سنوار رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔
22 بہمن (11 فروری) 12 بہمن (مطابق ( 1 فروری) وجود میں لایا۔ 22 بہمن( 11 فروری، اسلامی انقلاب کی سالگرہ اور یوم آزادی) اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ، 12 بہمن (1 فروری،امام خمینی رحمت اللہ کی ایران آمد کا دن) کی دین ہے۔ اگر 12 بہمن ( یکم فروری) کو امام (رحمت اللہ علیہ) نہ آئے ہوتے، آپ کا وہ عظیم الشان استقبال نہ ہوا ہوتا تو 22 بہمن (11 فروری) کا واقعہ بھی رونما نہ ہوتا۔ ایران کا یوم جمہوریہ بھی جو یکم اپریل کو ہے، 12 بہمن (یکم فروری) کی دین ہے۔ اس کی ترقیاں بھی یکم فروری کی دین ہیں۔ یہ بہت اہم اور تاریخ ساز دن ہے۔ 12 بہمن ( یکم فروری) یعنی آج کا دن بہت اہم ہے۔ یہ در حقیقت ایک تاریخ ساز دن ہے۔ اس کو فراموش نہ کریں۔ امام (رحمت اللہ علیہ) پر خدا کا جو لطف وکرم تھا، اس کی برکت سے یہ کام انجام پایا اور الحمد للہ آج تک جاری ہے۔ البتہ 12 بہمن (یکم فروری) میں جہاں یہ ساری برکتیں تھیں، وہیں امریکا کی دشمنی بھی تھی۔ امریکا نے اسی 12 بہمن (یکم فروری،امام رحمت اللہ کی ایران آمدن کے دن) سے اپنی دشمنی پہلے سے زیادہ برملا کر دی۔ یہ بھی تھا۔ اس سلسلے میں بعد میں، میں چند جملے عرض کروں گا۔ یہ چند جملے (امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ایران آمد کے دن) 12 بہمن مطابق یکم فروری کے بارے میں تھے۔
اب آتے ہیں اس فتنے کی طرف جو آٹھ اور نو جنوری کو رونما ہوا۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ امریکی اور صیہونی فتنہ تھا۔ میں نے اس سے پہلے بھی ایک دن یہیں ایک جلسے میں کہا تھا (3) جو لوگ آکر بلوہ کررہے تھے، دو طرح کے تھے۔ کچھ لوگ سرغنہ تھے اور کچھ ان کے احکام پر عمل کر رہے تھے۔ «ھمج لرَّعاع».(4) سرغنہ ٹرینڈ تھے؛ انھوں نے پیسے لے رکھے تھے، ٹریننگ لے رکھی تھی، انہیں سکھایا گیا تھا کہ کس طرح اقدام کریں، کس طرح حملہ کریں، کہاں حملہ کریں، نوجوانوں کو کس طرح اکٹھا کریں، کس طرح بات کریں۔ یہ ساری باتیں انہیں سکھائی گئی تھیں۔ بہت سے سرغنہ گرفتار ہوئے ہیں، انہوں نے ان باتوں کا اعتراف کیا ہے۔
کچھ ماحول سے متاثر ہو جانے والے ہیجان زدہ نوجوان تھے، ہلڑ ہنگامہ ہوا تو وہ بھی نکل پڑے؛ ان کے بارے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ فتنہ، امریکی فتنہ تھا؛ منصوبہ بندی، امریکی منصوبہ بندی تھی۔ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ اس میں صیہونی حکومت بھی شامل تھی۔ یہ جو ہم امریکا کا نام لے رہے ہیں، یہ صرف دعوی نہیں ہے؛ خفیہ اور پرپیچ و پیچیدہ سیکورٹی و انٹیلیجنس راستوں سے ملنے والی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ کیوں نہیں، ہمیں ایسی بہت سی خصوصیات کی اطلاع ہے، لیکن جو بات واضح کرتی ہے کہ یہ امریکی اقدام تھا، خود امریکی صدر کے بیانات ہیں (5) پہلی بات تو یہ کہ وہ صراحت کے ساتھ بلوائیوں کو ایرانی عوام کے نام سے مخاطب کر رہے تھے۔ 12 جنوری کو تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں دسیوں لاکھ لوگ جمع ہوئے، وہ ایرانی عوام نہیں تھے (لیکن) یہ چند ہزار افراد ایرانی عوام تھے! انہیں وہ کہتے تھے، " ایرانی عوام" اس کے بعد کہا" آگے بڑھو، ہم آ رہے ہیں! (6) بنابریں یہ فتنہ امریکی فتنہ تھا۔ اس بات پر توجہ رکھیں کہ یہ تہران میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ نہیں تھا اور آخری بھی نہیں ہوگا۔ اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعات ہوں گے۔ یہ پہلا فتنہ نہیں تھا اور آخری بھی نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کہ بعد میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوں۔ ہم ایک ملک ہیں، ہماری فکر نئی ہے اور ہمارا راستہ نیا ہے، ہم عالمی غنڈوں کے مفادات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان سے متصادم ہیں۔ ہمیشہ ان باتوں کا منتنظر رہنا چاہئے۔ اب یہ کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ اس وقت تک کہ ملت ایران کے امور میں اتنا ثبات واستحکام آجائے جو دشمن کو مایوس کر دے؛ ہمیں اس منزل تک پہنچنا ہے اور پہنچیں گے۔
اس فتنے سے پہلے بھی تہران کی سڑکیں جرائم کی شاہد رہی ہیں، انھوں نے حوادث دیکھے ہیں۔ 20 جون 1981 کو اسی تہران کی سڑکوں پر کارپٹ کاٹنے والے چاقووں سے عوامی رضا کار فورس بسیج کے سپاہیوں پر حمل کیا گیا! اس طرح کے واقعات ہم نے بہت دیکھے ہیں؛ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، آخری بھی نہیں ہے۔ ان تمام واقعات میں اغیار کا ہاتھ تھا اور خاص طور پر حالیہ واقعے میں۔
البتہ اس حالیہ فتنے اور اس سے قبل دیگر واقعات میں، حکام، پولیس کے ذمہ داران، سپاہ اور عوامی رضا کار فورس بسیج اور دیگر سیکورٹی اداروں نے اپنی ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کیا۔ لیکن اس فتنے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والے عوام ہیں۔ اس بار بھی 2009 کے فتنے میں بھی اور دیگر واقعات میں بھی یہی ہوا کہ جب عوام نے فیصلہ کیا اور فتنے کی آگ بجھانے کے لئے میدان میں اترے تو فتنوں کے شعلے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ یہ اس بار بھی ہوا اور آئندہ بھی اگر ملک کے لئے کوئی حادثہ رونما ہوا تو توفیق الہی سے عوام اس کا مقابلہ کریں گے اور اس کو بھی ناکام بنا دیں گے۔
اس فتنے کی چند خصوصیات تھیں جن میں سے، میں، دو تین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
ایک یہ ہے کہ بلوائیوں نے تاجر برادری کے پر امن مظاہروں کی آڑ میں خود کو چھپایا؛ جس طرح کہ بعض مجرمین، بعض شہروں میں، دنیا کی بعض جگہوں پر، پولیس کا سامنا ہونے پر عورتوں اور بچوں کو اپنی ڈھال بنا لیتے ہیں۔ بلوائیوں نے تاجر برادری کی آڑ میں یہ فتنہ بپا کیا تھا۔ تاجر برادری کے لوگوں نے احتجاج کیا، سڑکوں پر آئے، ان میں سے بعض نے دکانیں بند کر دی تھیں۔ میں نے اس بار، اسی جگہ، ایک ایسے ہی جلسے میں کہا تھا کہ ان کی باتیں منطقی اور صحیح تھیں۔ (7) بلوائیوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لئے تاجری برادری کی آڑ لی لیکن تاجر برادری کے لوگ ذہین تھے، معاملہ سمجھ گئے، جب دیکھا کہ یہ بلوہ ہے، پر امن تحریک کے بجائے، پولیس اسٹیشن پر حملہ ہو رہا ہے، تو سمجھ گئے کہ یہ بلوائی ہیں اور پھر انھوں نے خود کو ان سے الگ کر لیا۔
اس فتنے کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ بغاوت کی مانند تھا۔ دنیا کے بعض ملکوں نے بھی اس فتنے کو بغاوت سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایران میں بغاوت ہوئی جس کی سرکوبی کر دی گئی ۔ لیکن یہ بغاوت تھی۔ بغاوت کا مطلب کیا ہے؟ یعنی اس کا مقصد، ملک کے موثر اور حساس اداروں کی تخریب تھی۔ پولیس پر حملہ کیا، سپاہ پر حملہ کیا، بعض دیگر حکومتی مراکز پر حملہ کیا، بینکوں پر حملہ کیا، یہ مادی لحاظ سے تھا۔ اس کے ساتھ ہی مساجد پر حملے کئے گئے، قرآن پر حملہ کیا گیا؛ یہ معنوی پہلو تھا۔ ملک چلانے والے یہی ہیں۔ ان پر حملہ کیا گیا۔
ایک اور نکتہ جو اس فتنے میں پایا جاتا ہے اور اس پر توجہ رکھنا بہتر ہے، یہ ہے کہ اس فتنے کی منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی۔ منصوبہ بندی ملک کے اندر نہیں ہوئی تھی ملک کے اندر بلوائیوں نے یہ فتنہ بپا کیا لیکن اس کی منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی۔ انہیں باہر سے حکم دیا جا رہا تھا، ان کا باہر سے رابطہ تھا، البتہ سرغنوں کا ۔ بلوائیوں کے سرغنہ ملک سے باہر سے رابطے میں تھے۔ باہر سے ان سے کہا جاتا تھا کہ اب یہ کام کرو، اب فلاں جگہ حملہ کرو، اس سڑک پر جاؤ۔ یہ ہدایات باہر سے انہیں دی جا رہی تھیں۔ سیٹلائٹ وغیرہ کے ذریعے وہ اطلاعات حاصل کرتے تھے اور بلوائیوں کے لئے احکامات صادر کرتے تھے۔
ایک باخبر ذریعے سے مجھے معلوم ہوا کہ امریکی حکومت کے ایک با اثر رکن نےاس طرف، ایرانیوں سے، کہا تھا کہ یہ حالیہ واقعہ جو ایران میں رونما ہوا ، اس میں امریکا اور صیہونی حکومت کے جاسوسی کے اداروں ، سی آئی اے اور موساد نے اپنی پوری قوت سے کام لیا تھا۔ اس کا اعتراف ایک امریکی نے کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جاسوسی کی دو اہم تنظیموں سی آئی اے اور موساد نے اس فتنے میں اپنی پوری قوت لگا دی تھی لیکن انہیں شکست ہوئی ۔ منصوبندی باہر کی گئی اور باہر سے ہی بلوائیوں کو احکامات دیئے جا رہے ہیں۔
ایک اور خصوصیت اس فتنے کی یہ تھی کہ اس کے سرغنے سب ٹرینڈ تھے۔ قتل و خونریزی کے ماہر تھے، انھوں نے باقاعدہ ٹریننگ لے رکھی تھی۔ بعض لوگوں سے ان کی کوئی خاص دشمنی نہیں تھی لیکن قتل کرنا ان کا مشن تھا۔ لہذا وہ پولیس اور فوج کے مراکز پر حملے کر رہے تھے۔ لوگوں کے قتل کے لئے مسلحانہ حملے کر رہے تھے۔ اپنے ذاتی اسلحے سے بھی حملے کر رہے تھے تاکہ دوسری طرف سے بھی ردعمل اور جوابی حملے کئے جائيں۔ حتی ان لوگوں کو بھی جنہیں وہ خود پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے میدان میں لائے تھے، انہیں بھی پیچھے سے حملے کا نشانہ بنا رہے تھے! مجھے اطلاع دی گئی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے بعض پر پیچھے سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ لوگ حتی خود اپنے افراد پر بھی رحم نہیں کرتے تھے تاکہ مرنے والوں کی تعداد بڑھے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں کسی حدتک کامیاب بھی رہے ہیں۔ البتہ دشمن چاہتا تھا کہ اس سے زیادہ لوگ مارے جاتے۔ دشمن جتنے لوگوں کا قتل چاہتا تھا، اتنے لوگ نہیں مارے گئے لیکن وہ دعوی کر رہا ہے۔ البتہ ان جیسوں کے لئے اس طرح کا جھوٹ بعید نہیں ہے۔ وہ مارے جانے والوں کی تعداد دس گنا بڑھا کر بیان کر رہے ہیں۔
دشمن کا مقصد ملک کی سیکورٹی ختم کرنا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ پہلے ہی مرحلے میں ملک کی سیکورٹی ختم ہو جائے۔ سیکورٹی نہ ہو تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ جب سیکورٹی نہ ہو تو پیداور بھی نہیں ہوتی اور روٹی بھی نہیں ہوتی۔ پڑھائی لکھائی بھی نہیں ہوتی، اسکول کالج بھی نہیں ہوتے، تحقیقات بھی نہیں ہوتیں۔علم بھی نہیں ہوتا، پیشرفت بھی نہیں ہوتی، سیکورٹی ہو تو یہ سب ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے ملک میں سیکورٹی کی حفاظت کی ہے ہماری گردنوں پر ان کا حق حیات ہے۔ ہمارے بچے اگر سڑکوں پر اسکول کی طرف جا سکتے ہیں تو یہ سیکورٹی کی وجہ سے ہے؛ اگر سیکورٹی نہ ہو تو آپ کے بچے اسکول بھی نہیں جا سکتے۔ خود آپ بھی اپنی دکانوں میں نہیں جا سکتے۔ اپنے کام پر نہیں جا سکتے۔ یہ نوجوان جو تحقیقات اور ریسرچ میں مصروف ہيں، یہ، تحقیقات بھی نہیں کر سکتے۔
وہ عوام کو نظام کے مقابلے پر لانا چاہتے تھے لیکن خوش قسمتی سے عوام سے انہیں منھ کی کھانی پڑی ۔ 12 جنوری کو دسیوں لاکھ لوگ باہر نکلے اور اپنے آپ کو دکھا دیا کہ عوام یہ ہیں۔ انہوں نے بلوائیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ حکام کو چاہئے کہ عوام کی قدر کریں؛ واقعی ملک کے حکام کو عوام کی قدر کرنی چاہئے۔
یہاں میں یہ بات عرض کر دوں کہ یہ فتنہ، اتفاقی تھا یا حساب کتاب کے ساتھ کیا گیا تھا، یہ میں نہیں کہہ سکتا، لیکن ایسے وقت میں کیا گیا کہ ملک کے حکام، سرکاری عہدیداران، صدر مملکت(8) اور دیگر عہدیداران، ملک کے لئے ایک اقتصادی پیکیج تیار کر رہے ہیں۔ وہ ملک کے لئے اقتصادی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اقدام کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں اور ملک آگے بڑھے۔ ایسے وقت میں یہ فتنہ بپا کیا گیا۔ اب یہ کہ یہ ایک اتفاق تھا یاحساب کتاب کے ساتھ کیا گیا تھا، یہ میں نہیں کہہ سکتا۔
داعش جیسا تشدد بھی اس فتنے کی ایک خصوصیت تھی۔ داعش کو کس نے تیار کیا تھا؟ امریکا کے اسی موجودہ صدر نے اپنے پہلے دور کے انتخابات کے دوران صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ داعش کو ہم وجود میں لائے ہیں۔ داعش کو امریکیوں نے تیار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ دہشت گرد گروہ تشکیل دیا۔ خود اس وزیر خارجہ نے جو ایک عورت تھی، (9) کہا اور اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ داعش کو ہم نے عراق اور شام پر قبضے کے لئے تیار کیا ہے۔ اس داعش کو بھی انہیں نے تیار کیا ہے؛ یہ ایک اور داعش ، اس کا کام بھی اسی کے کاموں جیسا ہے۔ اس دن میں نے عرض کیا کہ داعش لوگوں کو بے دینی کی تہمت لگار ختم کر رہا تھا اور یہ دینداری کی وجہ سے لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ فرق صرف یہ ہے ورنہ یہ وہی گروہ ہے۔ انھوں نے بھی داعش کی طرح لوگوں کو جلا کر مار دیا! دیکھئے یہ کتنی سنگدلی ہے کہ کسی انسان کو زندہ جلاکر مار دیا جائے، سر قلم کر دیے جائيں! یہ وہی کام ہیں جو داعشی دہشت گرد کرتے تھے۔ تشدد ان کی ایک خصوصیت تھی۔ (10)
اب آپ نے یہ جو نعرے لگائے اور امریکا کا نام لیا تو ہم بھی امریکا کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہماری گفتگو کا آخری حصہ امریکا کے بارے میں ہے۔
ایران اور امریکا کا مسئلہ کیا ہے؟ اس مقابلہ آرائی میں جو چالیس برس سے زائد عرصے سے جاری ہے اور ایران اور امریکا میں دشمنی ہے، یہ مسئلہ کیا ہے؟ میرے خیال میں اس مسئلے کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا کہ امریکا ایران کو نگل لینا چاہتا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ اور ایران کے باہوش عوام رکاوٹ ہیں۔ کسی نے کہا کہ میں رشتہ مانگنے گیا، ساری باتیں ہو گئيں، دو جملوں میں اصل مسئلہ پھنس گیا۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی بیٹی کا رشتہ چاہئے، وہ کہتے ہیں تمہاری ہمت کیسے ہوئی! (11) اسی طرح ایرانی عوام نے فریق مقابل سے کہا کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔ یعنی ایرانی عوام کا جرم یہ ہے۔ لڑائی اس بات کی ہے۔
آپ کا ایران، آپ کا ملک بہت زیادہ کشش رکھتا ہے۔ ایران کے تیل میں بہت کشش ہے، ایران کی گیس کشش رکھتی ہے، ایران کی معدنیات کشش رکھتی ہیں، ایران کی اسٹریٹیجک جیوپولیٹیکل پوزیشن کشش رکھتی ہے اور اس کی بہت سی خصوصیات ہیں جو پرکشش ہیں۔
ایران ایسا ملک ہے کہ ایک تسلط پسند لالچی طاقت، اس پر طمع کی نظر رکھتی ہے، ایران ایک ایسا ملک ہے۔ وہ اس ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح کہ ماضی یہ ملک ان کے قبضے میں تھا۔
تقریبا تیس برس امریکی ایران میں رہے۔ ایران کے ذخائر ان کے اختیار میں تھے، ایران کا تیل ان کے اختیار میں تھا، ایران کی سیاست ان کے اختیار میں تھی، ایران کی سیکورٹی ان کے اختیار میں تھی، دنیا کے ساتھ ایران کے روابط ان کے اختیار میں تھے، سب کچھ ان کے اختیار میں تھا۔ تیس سال تک انھوں نے یہاں جو چاہا کیا۔ اب جبکہ ان کا اثرورسوخ ختم ہو گیا ہے، وہ یہاں دوبارہ وہی پہلوی دور کی حالت لانا چاہتے ہیں۔ لیکن ایرانی عوام ان کے مقابلے پر ڈٹ گئے ہیں۔ ایران سے ان کی دشمنی کی وجہ یہ ہے۔ لڑائی یہ ہے۔ بقیہ باتیں جیسے انسانی حقوق کی بات اور دیگر باتیں جو وہ کرتے ہیں، سب بیکار کی باتیں ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے ۔ ایران پر اس کی لالچ کی نگاہ ہے، لیکن ایران ان کے مقابلے پر استحکام کے ساتھ ڈٹ ہوا ہے اور اسی طرح پائیداری کے ساتھ ڈٹا رہے گا اور فریق مقابل کو اپنی تمام موذیانہ حرکتوں میں صرف مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات جنگ کی بات کرتے ہیں کہ ہم اس طرح کے جنگی طیاروں کے ساتھ آئیں گے اور یہ کر دیں گے، یہ کوئی نئی بات نہيں ہے۔ ماضی میں بھی امریکی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ " سبھی آپشن میز پر پیں" سبھی آپشن "یعنی جںگ سمیت سبھی آپشن، یہ تو انھوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ سبھی آپشن میز پر ہیں ۔ یہ صاحب اسی طرح تسلسل کے ساتھ دعوی کر رہے ہیں کہ ہم جںگی بیڑا لے آئے، اور اسی طرح کے دیگر کام کر دیے، میری نظر میں ایرانی عوام کو ان باتوں سے نہیں ڈرانا چاہئے۔ ایرانی عوام ان باتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ وہ حق کی لڑائی سے نہیں ڈرتے۔ ہم جنگ شروع کرنے والے نہیں ہیں۔ کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتے۔ کسی ملک پر حملہ نہیں کرنا چاہتے لیکن کسی کو اس بات کی اجازت بھی نہیں دیں گے کہ ہمارے ملک پر لالچ کی نظر رکھے، اگر کوئی حملہ کرنا اور اذیت پہنچانا چاہے گا تو اس کو ملت ایران کا محکم جواب ملے گا۔ امریکیوں کو جان لینا چاہئے کہ اس بار جنگ ہوئی تو یہ جنگ علاقائی جنگ ہوگی۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللّہ و برکاتہ
1۔ 26 نومبر 2025 کو ملک کے بسیجی جوانوں سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
2 ۔ امریکا کے لوکاس ڈرون کی طرف اشارہ جو ایران کے شاہد 136ڈرون کی کاپی ہے
3۔ 17 جنوری 2026 کو عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے رہبر معظم کا خطاب
4۔ پست اور سرگرداں لوگ ( نہج البلاغہ، حکمت 147 سے ماخوذ
5۔ ڈونلڈ ٹرمپ
6۔ حاضرین کی ہنسی
7۔ 3 جنوری 2026 کو، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت پر شہید جنرل قاسم سلیمانی اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے شہدا کے لواحقین سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
8۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان
9۔ ہلیری کلنٹن
10۔ امریکا مردہ باد کے نعرے
11۔ حاضرین کی ہنسی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
