سلیمانی

سلیمانی

 امریکا کی ریاست منی سوٹا میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام کے قتل کیخلاف پرتشدد مظاہرے کیے گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے گاڑیوں اور اسٹورز کو آگ لگا دی گئی، کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر ٹیکساس میں بھی پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ڈرائیور اور مسافر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شہری زخمی ہو گیا۔

عادی سازی با اسرائیل یعنی سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا یا پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا۔ ریاستی سطح پر ان تعلقات کو سفارتی تعلقات کہا جاتا ہے کہ جس کے بعد آپس میں تجارت اور دفاع سمیت متعدد ریاست کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون اور امداد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں یقیناً نوجوانوں کے اذہان میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہو گا کہ آخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات یا عادی سازی کی اس قدر مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔؟ اس سوال کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیئے کہ حقیقت میں اسرائیل کیا ہے۔؟ اسرائیل ایک ایسی ناجائز ریاست کا نام ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین پر 1948ء میں غاصبانہ تسلط حاصل کرکے امریکی و برطانوی آشیر باد کے ذریعے مسلط ہوئی ہے۔ اسرائیل ایک ایسی ریاست کا نام ہرگز نہیں کہ جسے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تشبیہ دیا جا سکے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرنے کی بات اس لئے بھی زیادہ کی جاتی ہے کہ ایک ایسی ناجائز ریاست جس کا وجود ہی غاصبانہ ہے اور اپنے قیام کے روز اول سے ہی نہ صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام کرنے میں مصروف عمل ہے بلکہ فلسطین کے باہر کئی ایک ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہے۔ اسرائیل کے بانیان کا یہ خواب ہے کہ وہ ایک عظیم تر اسرائیل قائم کریں کہ جس کی سرحدیں نیل سے فرات تک ہوں۔ اس کے لئے بنائے جانے والے نقشوں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بہرحال سادہ سا جواب یہ ہے کہ کیا کسی چور اور ڈاکو کہ جو آپ کے بھائی کے گھر میں زبردستی گھس گیا ہو اور آپ کے بھائی اور ان کے تمام اہل و عیال کو نکال باہر کیا ہو تو کیا اس چور اور ڈاکو کے ساتھ آپ دوستانہ تعلقات بنا کر زندگی گزارنا پسند کریں گے۔؟ یہی چور اور ڈاکو اسرائیل ہے، جو ہمارے بھائیوں یعنی فلسطینیوں کے گھر میں گھس چکا اور انہیں نکال باہر کیا ہے۔ لہذا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور سفارتی تعلقات کا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل کے تمام غلط اور مجرمانہ اقدامات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

مسئلہ فلسطین ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے کہ جو دنیا میں سب سے اولین درجہ کی اہمیت رکھتا ہے۔ فلسطین کے عوام کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مشترکہ طور پر نا انصافی کی ہے۔ ان کی زمینوں پر اسرائیل کو قابض کیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر مسلمانوں کا قبلہ اول جو مسلم امہ کے مابین اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے، آج بھی صہیونیوں کی بدترین سازشوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ قبلہ اول بیت المقدس وہ مقام ہے کہ جہاں شب معراج پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) مسجد الحرام سے یہاں تشریف لائے تھے اور یہاں اس مقام پر آپ (ص) نے انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ اب آئے روز صہیونی قبلہ اول کا تقدس پائمال کر رہے ہیں۔ شعائر اللہ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔

فلسطینی عوام کو بے دردی سے قتل و غارت کا نشانہ بنانے کا عمل گذشتہ ایک سو سالوں سے جاری ہے۔ کئی ایک جنگیں مسلط کی گئی ہیں۔ اسرائیل نے پڑوسی ممالک کی زمینوں پر بھی غاصبانہ تسلط قائم کر لیا ہے۔ داعش جیسے فتنہ کو اسرائیل ہی نے جنم دیا تاکہ خطے کو آگ و خون میں غلطاں کرکے اپنے ناپاک عزائم حاصل کرے۔ ان تمام تر معاملات اور وجوہات کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے مابین مسجد اقصیٰ یعنی قبلہ اول بیت المقدس اور فلسطین باہمی اتحاد و یکجہتی کا مظہر رہا ہے۔ دنیا میں چاہے مسلمانوں میں آپس کے کچھ بھی اختلافات موجود ہوں، لیکن جب بھی بات انبیاء علیہم السلام کی مقدس سرزمین فلسطین کی ہو یا قبلہ اول بیت المقدس کی بات ہو تو مسلم امہ کے عوام متحد اور یکجا نظر آتے ہیں۔ اس کی کئی ایک مثالیں دنیا کے ممالک میں موجود ہیں کہ فلسطین و القدس کے پرچم تلے مسلمان اقوام آپس میں متحد و یکجا نظر آتی ہیں۔ اس قسم کے مشاہدات موجودہ دور میں ہمیں خود پاکستان کی سرزمین پر بھی مشاہدے میں آئے ہیں۔

عالمی استعمار اور اس کے شیطانی چیلے چاہے وہ براہ راست اسرائیل کی صورت میں ہوں یا یورپی و مغربی سامراج کی صورت میں ہوں، مسلم امہ کے مابین مسئلہ فلسطین سے متعلق پائے جانے والے اتفاق اور اتحاد سے خائف رہتے ہیں، کیونکہ مسلمان اقوام کا اتحاد اور وحدت ہی ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جو دنیا کی ظالم و استکباری قوتوں کی ناک کو زمین پر رگڑ رہا ہے۔ اسلام و مسلمین کے دشمنوں نے گذشتہ چند سالوں میں متعدد مرتبہ جنگ کے میدانوں میں شکست کھانے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد اور وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے تاکہ مغربی استعمار غاصب اسرائیل کے تحفظ سے متعلق کئے گئے وعدوں کو یقینی بنانے کے لئے اسرائیل کو یقین دلوا سکے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

بدھ 14 اپریل کے دن ولی امر مسلمین امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے تہران میں قرآن کریم سے متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے والے افراد سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے بعض اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ تحریر حاضر میں چند چیدہ چیدہ نکات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔
1)۔ مختلف قرآنی موضوعات میں ہدایت پر مبنی موضوع کی اہمیت اور مقام
خداوند متعال نے ماہ مبارک رمضان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کئی چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں سے ایک اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کا نازل ہونا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 185 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: "شَهرُ رَمَضانَ الَّذی اُنزِلَ فیهِ القُرءان ۔۔۔" (رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا)۔ یہ شاید ماہ مبارک رمضان کا اہم ترین طرہ امتیاز ہے۔
 
دوسری طرف قرآن کریم کی بھی ہزاروں فضیلتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے اکثر ایسی ہیں جنہیں ہماری عقل درک کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن خداوند متعال نے ان تمام خصوصیات میں سے "ہدایت عطا کرنے" کی خصوصیت بیان کی ہے۔ سورہ بقرہ کی اسی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "۔۔۔۔ هُدًی لِلنّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِنَ الهُدیٰ وَ الفُرقان" (انسانوں کیلئے ہدایت اور ہدایت کی واضح دلیلوں کا حامل اور حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر کرنے والا ہے)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خصوصیات بہت زیادہ اہمیت اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ خود قرآن کریم کا آغاز بھی ہدایت سے ہوتا ہے جیسا کہ سورہ حمد میں پڑھتے ہیں: "اِهدِنَا الصِّراطَ المُستَقیم" (خدایا ہمیں سیدھے راستے کی جانب ہدایت فرما)۔ اسی طرح سورہ بقرہ کے آغاز میں فرمایا: "ذٰلِکَ الکِتٰبُ لارَیبَ فیهِ هُدًی لِلمُتَّقین" (یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور متقین کیلئے ہدایت ہے)۔
 
2)۔ قرآن کریم کی ہدایت کا دائرہ انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر حاوی
قرآن کریم کی ہدایت انسانوں کے ایک خاص گروہ کیلئے مخصوص نہیں ہے بلکہ پوری عالم بشریت کیلئے ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت انسانی زندگی کے ایک یا چند مخصوص پہلووں تک بھی محدود نہیں ہے۔ قرآن کریم انسان کی زندگی کے تمام پہلووں کیلئے ہدایت فراہم کرتا ہے۔ قرآن کریم نے انسانی زندگی کے کسی پہلو سے چشم پوشی نہیں کی۔ انسان کی روحانی ترقی سے لے کر انسانی معاشروں کی ضروریات، ان کی مدیریت، ان میں عدل و انصاف کے قیام اور انسان کے ظاہری اور باطنی دشمنوں سے مقابلے کیلئے جہاد پر تاکید کرنے، اخلاق، گھرانے کے امور، اولاد کی تربیت وغیرہ جیسے تمام موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
 
3)۔ قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کیلئے تدبر کی ضرورت
قرآن کریم کا انداز عام انسانی کتب کی مانند نہیں کہ ایک فہرست پائی جاتی ہو اور مختلف ابواب پر مشتمل ہو۔ خداوند متعال نے قرآن کریم میں بعض جگہ ایک لفظ یا ایک اشارے کے ذریعے انسان کیلئے معرفت کے سمندر بیان کر ڈالے ہیں۔ لہذا اگر ہم قرآن کریم میں تفکر کریں، تدبر کریں اور اس کے مختلف پہلووں کا بغور جائزہ لیں تو بعض اوقات ایک لفظ سے وسیع مطالب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں جو مختلف واقعات کہانیوں کی صورت میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض انبیاء الہی کے بارے میں ہیں جبکہ بعض عام افراد کے بارے میں ہیں۔ ان تمام واقعات میں انسان کی ہدایت کا سامان موجود ہے۔ ان واقعات کے ذریعے ایسے مطالب بیان کئے گئے ہیں جو کلی ہیں اور ہر زمانے میں لاگو ہوتے ہیں۔
 
مثال کے طور پر سورہ آل عمران کی آیت 173 میں ارشاد ہوتا ہے: "الَّذینَ قالَ لَهُمُ النّاسُ اِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَکُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم ایمانًا وَ قالوا حَسبُنَا اللهُ وَ نِعمَ الوَکیل" (وہ افراد جنہیں لوگوں نے کہا کہ لوگ تم سے جنگ کرنے کیلئے اکٹھے ہو چکے ہیں لہذا ان سے ڈریں، لیکن ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حمایت کرنے والا ہے)۔ یہ جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے۔ جب مسلمانوں کا لشکر ظاہری شکست کے بعد بہت زیادہ زخمیوں کے ہمراہ واپس آ رہا تھا۔ کچھ منافقین نے انہیں ڈرانے کی کوشش کی۔ رسول خدا ص نے صرف زخمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور جا کر انہیں شکست دے دی۔ اس واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق آج بھی ہمارے لئے مفید ہے۔ ہر زمانے کیلئے ہے۔
 
4)۔ تقوی، قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی لازمی شرط
اگرچہ قرآن کریم تک ہم سب کو رسائی حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم قرآن کریم سے بہرہ مند ہوتے ہیں؟ یا اس سے بہرہ مند ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم نے تمام انسانوں کیلئے ہدایت پیش کی ہے لیکن ہم کس صورت میں اس ہدایت سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: "هُدًی لِلمُتَّقین" (متقین کیلئے ہدایت ہے) ایک اور جگہ فرمایا: "هُدًی وَ رَحمَةً لِقَومٍ یُؤمِنون" (اہل ایمان کیلئے ہدایت اور رحمت ہے، سورہ اعراف)۔ ان آیات میں ہدایات کے مختلف درجات اور مراتب کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ جب تقوی پایا جائے گا تو یہ ہدایت بھی ہمیں نصیب ہوتی رہے گی۔

تحریر: مصطفی ہادی

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی علاقہ کے 4 ممالک کا دورہ کریں گے۔محمود قریشی کل اتوار کے دن اپنے سفر کے پہلے مرحلے میں متحدہ امارات کا دورہ کریں گے ۔ اس کے بعد پاکستانی وزير خارجہ تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ دو طرفہ ، علاقائی اور عالمی  امور کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے ایران کے بعد پاکستانی وزير خارجہ قطر اور ترکی کا سفر کریں گے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اس سفر میں متعلقہ ممالک کے حکام سے دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فلسطین الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے دوسرے روز مسلسل غزہ کے بعض علاقوں پر شدید بمباری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اورحماس کے اسلحہ ڈپو سمیت ملٹری سائٹس کو تباہ کردیا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے رفح میں شدید بمباری کی

اطلاعات  کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں فضائی کارروائی کے دوران حماس کی ملٹری سائیٹس اور اسلحہ ڈپو کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی غزہ کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر داغے گئے میزائل کے جواب میں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے بھی غزہ کے ایک علاقہ پر حملہ کیا۔ اسرائیل کے فضائی حملوں میںم تعدد فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یوم فوج کی مناسبت سے اپنے پیغام میں  ایرانی فوج کی میدان میں موجودگی اور آمادگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کی مسلح افواج کو اپنی آمادگی اور نقش آفرینی میں روزبروز اضافہ کرنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل سید عبد الرحیم موسوی کے نام اپنے پیغام میں فرمایا: ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی ماموریت انجام دینے کے لئے میدان میں موجود ہیں اور فوج کی نقش آفرینی اور آمادگی میں روز بروز اضافہ کرنا چاہیے۔

 اے معبود! مجھے اس مہینے میں مغفرت طلب کرنے والوں اور اپنے نیک اور فرمانبردار بندوں میں قرار دے اور مجھے اپنے مقرب اولیاء کے زمرے میں شمار فرما، تیری رأفت کے واسطے اے مہربانوں کے سب سے زیادہ مہربان ۔

عربی ۲۱ کے مطابق تل ابیب میں مقیم اماراتی سفیر نے فلسطین پر قبضے کی تہترویں برسی پر مبارکبادی کا پیغام جاری کیا ہے جس پر سوشل میڈیا پر صارفین سخت نفرت اور غصے کا اظھار کررہے ہیں۔

 

فلسطین پر سال ۱۹۴۸ میں اسرائیل تسلط کو امارات نے «عید استقلال اسرائیل» کے عنوان سے مبارک باد پیش کی ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت غصے کا اظھار کیا ہے اور اس کو اسلامی اور عربی اصولوں سے خیانت قرار دیا ہے۔

 

اماراتی سفارت سے ٹوئٹ کیا ہے: عید استقلال پر اسرائیل کے لیے نیک خواہشات کا اظھار کرتے ہیں۔

 

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اس ٹوئٹ کو شکریہ ادا کیا ہے.

 

ایک صارف نے رد عمل میں کہا ہے: اماراتی سفارت خانہ قبضے کو مبارک باد پیش کرتا ہے جس کے رو سے ۷۵۰ هزار فلسطینی ۲۰ شهروں اور  ۴۰۰ دیہاتوں سے آوارہ ہوگئے جبکہ ظلم و ستم کے نتیج میں ہزاروں فلسطینی جانبحق ہوگیے ہیں۔

 

اسعد ابوخلیل ایک اور صارف نے کمنٹ کیا ہے: تمام عرب اقوام کو دیکھنے کی ضرورت ہے اماراتی سفیر کس طرح سے ایک غاصب رژیم کو اس قبضے اور فلسطینی بربادی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

 

ایک اور صارف حمید النعیمی نے امارات-اسرائیل تعلقات کو تاریخی کی نجس ترین تعلقات قرار دیا ہے۔/

 اے معبود! مجھے اس مہینے میں اپنے امر کے قیام کے لئے طاقت عطا کر، اور اپنی یاد اور ذکر کی حلاوت مجھے چکھا دے اور اپنے شکر کی ادائیگی کو مجھے الہام فرما، اے بصارت والوں میں سے سب بڑے صاحب بصارت ۔

اسلامی جمہوریہ ایران جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کا رکن ملک ہے۔ آئی اے ای اے ایک عالمی ادارہ ہے اور قانونی طور پر اپنے رکن ممالک کے حقوق کے دفاع کا ذمہ دار ہے۔ حال ہی میں (اتوار 11 اپریل 2021ء) نطنز میں واقع ایران کے یورینیم افزودگی کے ایک مرکز میں تخریب کاری انجام پائی ہے جس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پائے گئے ہیں۔ لیکن اب تک آئی اے ای اے نے اس واقعہ پر پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی کا ادارہ ہونے کے ناطے اس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث قوتوں کے خلاف موثر اقدامات انجام دیتا۔
 
نطنز کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کے یورینیم افزودگی کے ایسے متعدد مراکز میں ہوتا ہے جو جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی زیر نگرانی فعالیت انجام دے رہے ہیں۔ نطنز میں تخریب کاری کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران میں "قومی اٹامک ٹیکنالوجی ڈے" کی مناسبت سے اس مرکز میں جدید نسل کے سینٹری فیوجز نصب کئے گئے تھے اور ان کا افتتاح ہونا تھا۔ اسرائیل نے نطنز میں انجام پانے والی تخریب کاری کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تخریب کاری اس مرکز کے الیکٹرک پاور ڈسٹری بیوشن سسٹم میں خلل پیدا کر کے کی گئی تھی۔ اسرائیلی چینل "کان" کی فوجی نیوز رپورٹر کارمیلا مناشیہ نے کہا کہ یہ دھماکہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے انجام پایا ہے۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام خط میں ماضی میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "ایسے جوہری مرکز پر دہشت گردانہ حملہ جو آئی اے ای اے کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے اور وہاں سے بڑے پیمانے پر تابکاری پھیلنے کا خطرہ بھی پایا جاتا ہے، درحقیقت جوہری دہشت گردی کا ایک مجرمانہ اقدام ہے۔" جوہری ٹیکنالوجی کے حامل ممالک میں سے ایران کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جس کا جوہری پروگرام بارہا دشمنوں کی جانب سے مختلف حملوں اور خطروں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
 
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم، جو خود جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ رکھتی ہے، ہمیشہ سے ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر زور دیتی آئی ہے۔ تل ابیب نے اب تک ایران میں جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی انجام دیا ہے جس کی تازہ ترین مثال گذشتہ برس تہران میں سیٹلائٹ سے کنٹرول ہونے والی مشین گن کے ذریعے ڈاکٹر محسن فخری زادہ کی شہادت ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر سائبر حملے کرنے کی بھی متعدد کوششیں انجام دی ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک کوشش اسٹاکس نیٹ نامی وائرس کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ وائرس اسرائیل نے خاص طور پر ایران کی جوہری تنصیبات کیلئے تیار کیا تھا۔
 
اس کے بعد جولائی 2020ء میں نطنز میں ہی سینٹری فیوجز تیار کرنے والے ہال میں دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں بھی اسرائیلی حکام نے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اس وقت بھی ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں ایران کے مستقل نمائندے اور سفیر کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے کے اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور اس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کی تھی۔ کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے کے حکام سے اس حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ دوسری طرف جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کی مختلف قراردادوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کے حقوق کا دفاع کرے گی۔
 
آئی اے ای اے اپنی مختلف قراردادوں میں واضح کر چکی ہے کہ: "پرامن مقاصد کے تحت سرگرم جوہری تنصیبات پر کسی قسم کا دہشت گردانہ حملہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور آئی اے ای اے کے دستور کی خلاف ورزی قرار پائے گا۔" ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی عالمی برادری سے نطنز میں انجام پانے والی دہشت گردی کے خلاف موثر موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت یہ سوال موجود ہے کہ جرمنی اور روس کی جانب سے اس تخریب کاری کی مذمت کئے جانے کے باوجود کیوں آئی اے ای اے اس پر پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے؟ اگرچہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دہشت گردانہ اقدام عالمی قوانین اور آئی اے ای اے کے دستور کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر سید رضا میر طاہر