Super User

Super User

افغانستان: ایک اور ڈرون مار گرایا گیاافغانستان میں ایک اور ڈرون طیارے کو مارگرایا گیا ہے۔ پریس ٹی وی نے اپنی بریکنگ نیوز میں اعلان کیا کہ افغانستان کے مشرق میں صوبے ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون مار گرانے کی ذمہ داری طالبان گروہ نے قبول کرلی ہے۔ اس خبر کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ ایسی صورت میں ہے کہ آج صبح صوبے نورستان میں امریکی ڈرون طیارے کے تازہ ترین حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ افغانستان کی حکومت و عوام بارہا امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کو اس ملک کی قومی حاکمیت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب افغان حکام نے پاکستان کی سرزمین سے افغانستان کے مشرق میں 20 مارٹر گولے داغے جانے کی خبر دی ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبے کنڑ کے سیکورٹی کمانڈر " عبدالحبیب سید خیل " نے آج صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ رات پاکستان کی سرزمین سے اس ملک کے مشرقی علاقوں میں 20 مارٹر گولے داغے گئے ہیں۔ یہ اعلان ایسی صورت حال میں کیا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے آج کابل کا دورۂ کیا اور افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

دربار شام ميں حضرت امام سجاد علیہ السلام کا تاريخي خطبہ

فرزند رسول حضرت امام سجاد علیہ السلام خاندان رسالت (ص) کے ہمراہ کوفہ اور شام لے جائے گئے اور اپني پھوپھي زينب (س) کے ہمراہ فاسد و بدعنوان اموي خاندان کي حقيقت بےنقاب اور امام علیہ السلام کے مقدس مشن کو صحيح اور سيدھے راستے کے طور پر متعارف کرکے حسيني مشن کي تکميل کا اہتمام کيا-

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے کوفہ اور شام اور راہ کوفہ و شام ميں بھي، اپنے خطبوں کے ذريعے قيام حسيني کے اصولوں اور فلسفوں سے لوگوں کو آگاہ فرمايا۔

... يزيد نے اپنے ايک درباري خطيب کو حکم ديا کہ علي اور آل علي کي مذمت اور الميۂ کربلا کي توجيہ اور يزيد کي تعريف کرے- خطيب منبر پر گيا اور خدا کي حمد و ثناء کے بعد اميرالمومنين اور امام حسين عليہما السلام کي بدگوئي اور يزيد اور اس كي باپ کي تمجيد و تعريف ميں طويل خطبہ ديا- اسي حال ميں امام سجاد عليہ السلام نے کرائے کے خطيب سے مخاطب ہو کر بآواز بلند فرمايا: اے خطيب! وائے ہو تم پر کہ تم نے مخلوق کي خوشنودي کے وسيلے سے خالق کا غضب خريد ليا- اب تم دوزخ کي بھڑکتي ہوئي آگ ميں اپنا ٹھکانہ تيار سمجھو اورخود کو اس کے لئے تيار کرلو- اور پھر يزيد سے مخاطب ہوئے اور فرمايا: اجازت دو گے کہ ميں بھي لوگوں سے بات کروں؟ امام علیہ السلام نے حمد و ثناء الہی کے بعد فرمایا: میں اس کا بیٹا ہوں جو حجاز کے شير اور عراق کے سيد و آقا ہيں جو مکي و مدني و خيفي و عقبي، بدري و اُحُدي و شجري اور مہاجري ہيں جو تمام ميدانوں ميں حاضر رہے اور وہ سيدالعرب ہيں، ميدان جنگ کے شير دلاور، اور دو مشعروں کے وارث سبطين "حسن و حسين (ع)" کے والد ہيں؛ ہاں! يہ ميرے دادا علي ابن ابي طالب عليہ السلام ہيں- ميں دو جہانوں کي سيدہ فاطمہ زہراء عليہا السلام کا بيٹا ہوں۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے يہ مفاخرہ آميز کلام اس قدر جاري رکھا کہ لوگوں کي آوازيں آہ و بکاء سے بلند ہوگئيں- يزيد پر شديد خوف و ہراس طاری ہوگیا کہ کہيں اہل شام اس کے خلاف اٹھ نہ کھڑے ہوں چنانچہ اس نےموذن کو حکم ديا کہ اٹھ کر اذان دے اور امام سجاد کے کلام کو قطع کردے-

جب موذن نے اللہ اکبر کہا: تو حضرت سجاد علیہ السلام نے فرمايا: کوئي چيز خدا سے بڑي نہيں ہے- جب موذن نےاشھد ان لاالہ الا اللہ کہا: تو علي بن الحسين (ع) فرمايا: ميرے بال، ميري جلد، ميرا گوشت اور ميرا خون سب اللہ کي وحدانيت پر گواہي ديتے ہيں- جب موذن نے اشھد ان محمدا رسول اللہ کہا: تو امام علیہ السلام نے سر سے عمامہ اتارا اور موذن سے مخاطب ہوکر فرمايا: اے موذن! تمہيں اسي محمد کا واسطہ، ٹھہر جا ، تا کہ ميں ايک بات کہہ دوں؛ اور پھر يزيد بن معاويہ بن ابي سفيان سے مخاطب ہوئے اور فرمايا: اے يزيد! کيا يہ محمد ميرے نانا ہيں يا تمہارے ؟ اگر کہوگے کہ تمہارے نانا ہيں تو جھوٹ بولوگے اور کافر ہوجاۆگے اور اگر سمجھتے ہو کہ ميرے نانا ہيں تو بتاۆ کہ تم نے کيوں ان کي عترت اور خاندان کو ظلم کے ساتھ قتل کيا، ان کے اموال کو لوٹ ليا اور ان کے خاندان کو اسير بنايا؟! پھر فرمايا: خدا کي قسم! اگر اس دنيا ميں کسی کے جدّ رسول اللہ ہیں تو وہ صرف ميں ہوں؛ پس تم نے ميرے باپ کو کيوں قتل کيا اور ہميں روميوں کي طرح قيد کيوں کيا- اور پھر فرمايا: اے يزيد تو اس عظيم جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد بھي کہتا ہے کہ "محمد رسول خدا ہيں؟! وائے ہو تجھ پر! قيامت کے روز ميرے جد رسول اللہ اور اميرالمومنين اور ميرے بابا امام حسين تمہارے دشمن ہيں-

امام سجاد عليہ السلام نے اپنا بليغ خطبہ مکمل کيا جس نے مسجد ميں موجود لوگوں کو سخت متاثر اور ان کو بيدار کرديا اور انہيں تنقيد و احتجاج کي جرات ملی۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر اسلام کی تاکید۔

دین اسلام کی واجب تعلیمات میں سے ایک نیکیوں کا حکم دینا ، یعنی نیکیاں بجالانے پر تاکید کرنا اور برائیوں سے روکنا ہے ۔ معروف ایسے کام کو کہا جاتاہے جس کا شرعی یا عقلی اعتبارسے اچھا ہونا ثابت ہو جبکہ منکر ایسا کام ہے جس کا شرعی اور عقلی لحاظ سے برا اور ناپسندیدہ ہونا معلوم ہو ۔ واضح سی بات ہے کہ انسان اپنی بصیرت سے نیک کام کی انجام دہی پر مائل ہوتا اور برائیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اور انسان کے اندر پائی جانے والی یہ حالت اس بات کا باعث بنتی ہے کہ وہ نیکی اوربھلائی کا نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کےلئے بھی خواہاں ہوتا ہے ۔ مغربی نظریات کے برخلاف ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دوسروں کے امور میں مداخلت نہیں ہے بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فلسفہ ، پسندیدہ اور نیک کاموں کا احیاء ، معاشرے پر کنٹرول ، برے افعال کی روک تھام اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کا چاہنا ہے ۔

جس طرح سے کہ ایک بڑے باغ کو پھل دار بنانے کے لئے آبیاری ، کھاد دینے ، غیرضروری شاخ و برگ کو چھانٹنے ، موذی کیڑوں مکوڑوں ، اور اسی طرح کی متعدد آفات سے بچانے کی ضرورت ہے ، اسی طرح اسلام پسندانہ اصلاحی پروگرام کا جاری وساری رہنا اور اس کا کمال تک پہنچنا بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ جب مناسب حالات فراہم ہوں اور مختلف انفرادی و اجتماعی آفات کا خاتمہ ہو ۔ اسی بناء پر خداوند عالم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قالب میں ہر مرد و عورت کو دوسروں کے رفتار و کردار پر نگرانی کا حق عطا کیا ہے ۔ اس لئےتمام مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے اعمال و کردار پر نگراں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی جیسے افراد کو بھی معاشرے میں اخلاقی بیماریوں سے نجات دلائے ۔ خداوند عالم سورۂ توبہ کی آیت 71 میں ارشاد فرماتا ہے "مومن مرد اور مومن عورتيں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی و مددگار ہیں کہ یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہيں اور برائیوں سے روکتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں ، زکات ادا کرتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں "

معروف اور منکر ، جزئی امور میں محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔چنانچہ تمام اچھے اور نیک کاموں کا شمار معروف ميں اور تمام برے اور بد کاموں کا شمار منکر میں ہوتا ہے ۔ دینی ثقافت اور عقل کی نظر میں بہت سے کام معروف ہیں مثال کے طور پر سچ بولنا ، وعدے کی پابندی ، بے کسوں اورغریبوں کی دستگيری ، راہ خدا میں انفاق ، صلۂ رحم ، ماں باپ کا احترام ، علم کاحصول ، دوسروں کے حقوق کی رعایت ، اسلامی پردہ اور اسی طرح بہت سی دیگر مثالیں ، معروف میں شامل ہیں اس کے بر خلاف بہت سے برے اور ناپسندیدہ کاموں کو منکر کہا جاتا ہےجیسے حسد کرنا ، کنجوسی ، جھوٹ بولنا ، تکبر کرنا، نفاق ، تجسس ، چغلی ، برا بھلا کہنا ، اندھی تقلید ، یتیم کامال کھانا ، ظلم ، ناانصافی ، مہنگا بیچنا ، سود کھانا ، اور رشوت لینا وغیرہ ۔ اسلامی نقطۂ نگاہ سے دین حق کی دعوت ، عدل و انصاف کے نفاذ کے لئے حکومت حق کے قیام کی راہ ميں کوشش ، خدا کی راہ میں جان و مال نچھاور کرنا اور جارحین کے ساتھ مقابلہ کرنا ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کےاہم موارد میں شامل ہے ۔

قرآن کریم تمام انبیاء کی پہلی ذمہ داری ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قرار دیتا ہے اور سورۂ نحل کی آیت 36 ميں ارشاد فرماتا ہے" اور یقینا ہم نے ہرامت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو پھر ان میں بعض کو خدا نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی " ۔ انبیاء علیھم السلام کی بعثت کی اہم ترین وجہ ، انفرادی و اجتماعی فسادات کا مقابلہ اور عدل وانصاف کا قیام تھا تاکہ معاشرے میں اصلاحات انجام پائیں اور عدل وانصاف کا قیام عمل میں آئے اور عام انسان کامیاب و رستگار قرار پائیں کیوں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ انفرادی و اجتماعی فساد سے بھرے ہوئے معاشرے کا کسی اصلاحی اقدام کے بغیر تزکیہ ہو سکے ۔

پیغمبراسلام (ص) اور ان کے اہل بیت علیھم السلام کی عملی سیرت ، اعلی ترین اخلاقی تعلیمات سے سرشارہے ۔ مثال کے طورپر تاریخ میں ذکر ہوا ہے کہ ایک دن حضرت علی (ع) کوفے کی گلیوں میں گذر رہے تھے کہ اچانک متوجہ ہوئے کہ کوئی ان کے پیچھے آرہا ہے امام (ع) کھڑے ہوگئے اور ایک جوان کو دیکھا تو آپ نے فرمایا اے جوان کیا تجھے کوئی کام ہے ؟ اس نے جواب میں کہا ہاں اے امیرالمومنین میں یہ چاہتاہوں کہ آپ مجھے ایک ایسی نصیحت فرمائیں جس کے سبب خدا میرے گناہوں کو بخش دے ۔ امام (ع) نے اس جوان کے جواب میں فرمایا " جو کوئی تین خصوصیات کا حامل ہو وہ دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں محفوظ رہے گا اول یہ کہ امر بالمعروف کرے اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہو ۔ دوم یہ کہ نہی عن المنکر کرے اور خود بھی اس منکراور برائی سے دور رہے ۔ اور سوم یہ کہ کسی بھی حالت میں گناہ میں آلودہ نہ ہو اور الہی حدود کی پابندی کرے ۔

اہل بیت اطہار علیھم السلام کی عملی سیرت میں اچھائیوں اور نیکیوں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنے کا اصل مقصد ظلم و فساد کا مقابلہ کرنا ہے ۔ سماجی تبدیلیوں ميں ان بزرگوں کی شمولیت اس حد تک نمایاں ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ بہت سےاصلاحی اقدامات اور تعمیری تغیرات ان کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پرتو میں عملی صورت اختیار کرتی ہیں ۔ چنانچہ امام حسین (ع) کا انقلاب ، سماجی و سیاسی تبدیلیوں میں خاندان رسول اکرم (ص) کے موثرکردار کی ایک نمایاں مثال ہے ۔ صدر اسلام میں پیغمبراسلام (ص) کی رحلت کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کماحقہ عمل نہیں کیا گيا اور لوگوں نے خوف یا لالچ میں اس سلسلے میں زبانی یا عملی اقدام نہيں کیا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کی۔ نتیجے میں دین میں برائی کو رواج مل گيا اور یزید جیسا فاسق وفاجر تخت حکومت پر بیٹھ گيا ۔ امام حسین نے اپنے قیام اور تحریک کا مقصد اوراس کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے اس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جانب اشارہ فرمایا اور اسے اپنے قیام کے اہداف میں سے قراردیا ۔ آنحضرت ایک بیان میں حکومت بنی امیہ کو ایسا منکر متعارف کراتے ہیں کہ جس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہئے ۔ امام (ع) یزید کو شرابخوار ، اور فاسق و فاجر ، اور اس کے پیروکاروں کو شیطان کا مرید ، اور حکومت اموی کو ، حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے والی متعارف کراتے ہیں اور کیوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا زبانی اثر حالات کو تبدیل کرنے میں بے اثر ہوچکا تھا اس لئے امام حسین (ع) نے ظالم وجابر اور فاسد حاکم یزید کو ، منکرات اور برائیوں سے روکنے کےلئے اٹھ کھڑے ہونے کو اپنا اہم ترین فریضہ جانا اور اسی دینی اصول کی بنیاد پر امام (ع) نے بیعت یزیدکو ٹھوکرماردی اور اسے باعث ننگ و عار قرار دیا اور کربلا جیسی جاوداں تاریخ رقم کردی ۔

اہل بیت اطہار علیھم السلام کی عملی سیرت کامزید جائزہ لینے سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ مخصوص آداب و شرائط ہيں ۔ اول تو یہ کہ جو شخص دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے وہ خود اس پر عمل بھی کرتا ہو ۔ پہلی صدی ہجری کے ایک دانشور حسن بصری ایک دن لوگوں کے ایک گروہ کے سامنے کھڑے ہوئے تھے اور لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی تلقین اور نصیحت کررہے تھے ۔ فرزند رسولخدا حضرت امام زین العابدین (ع) نے ان کی باتیں سن لیں اور ان سے فرمایا تم جو اس طرح سے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کررہے ہو کیا اپنی موت کے وقت اپنی اس حالت سے ، جو تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان ہے ، راضی رہو گے ؟ حسن بصری نے جواب میں کہا نہیں میں راضی نہیں ہوں گا ۔ امام (ع) نے ان سے دوبارہ سوال کیا ، کیا تم اپنی حالت میں تبدیلی کے خواہاں ہو تاکہ ایک بہترین اور شائستہ حالت کو درک کرسکو ؟ تو حسن بصری نے نفی میں جواب دیا ، امام (‏‏ع) نے فرمایا تم جو کہ خود اپنی حالت میں اصلاح کی کوشش نہيں کرنا چاہتے تو پھر کیسے لوگوں کو اچھائی کا حکم دیتے ہو اور انہیں برائی سےروکتے ہو ؟ حسن بصری نے اپنا سر شرمندگي سے جھکا لیا اور پھر اس کے بعد کسی نے انہیں نہیں دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس طرح سے نصیحت کرتے ہوں ۔

امربالمعروف کی دیگر اہم شرائط میں سے ایک ، کہ جو گناہکار اور خطا کار فرد میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے ، یہ ہے کہ ایسے فرد کو انتہائی نرمی اور سلجھے ہوئے انداز ميں اچھائیوں کی دعوت دی جائے ۔ اہل بیت اطہارعلیھم السلام اچھائیوں کے بجالانے اور برائیوں سے رکنے کی تلقین انتہائی محبت آمیز لہجے میں کرتے تھے اس طرح سے کہ افراد میں اس کا بہت تیزی سے اثر ہوتا تھا ۔

اہل بیت اطہار علیھم السلام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک اورشرط شجاعت کوقراردیتے ہيں ۔ کبھی ضروری ہوجاتا ہے کہ انسان صحیح تشخیص کے ساتھ حق کا کھل کر اور جراتمندانہ اعلا ن کرے اور انحراف کی راہ میں مانع ہو ۔ چنانچہ ایک دن عباسی حکمراں منصور دوانیقی نے امام صادق ( ع) کو ایک مراسلے میں لکھا کہ کیوں دوسروں کی طرح تم ہمارے پاس نہیں آتے اور ہمارے ساتھ نشست و برخاست نہيں کرتے ؟ امام (ع) نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہمارے پاس مال دنیا سے کچھ نہیں ہے کہ جس کے سبب میں تجھ سے ڈروں اور تو بھی آخرت میں کسی برتری اور فضیلت کا حامل نہیں ہے کہ میں تجھ سے کوئی امید رکھوں " منصور نے اس مراسلے کو پڑھا اور پھر لکھا " آئیے اور ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین کیجئے ۔ امام (ع) نے پھر تند لہجے میں منصور کو خط میں لکھا " جو بھی اہل دنیا ہوگا وہ تجھے نصیحت نہیں کرے گا کیوں تو جو کام بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے اور جو بھی اہل آخرت ہوگا وہ ہدایت کرنے تیرے پاس نہیں آئيگا کیوں کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا

فرزند رسولخدا حضرت امام محمد باقر ( ع) ارشاد فرماتے ہيں " امربالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا امر واجب ہے کہ جس پر دیگر واجبات قائم اور استوار ہوتے ہيں ۔ اب جب کہ اسلام اس طرح سے امر بالعروف اور نہی عن المنکر کی ٹھوس طریقے سے حمایت کررہا ہے ، تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ پورے عزم کے ساتھ حق کا اعلان کریں اور انحراف اور برائیوں کا معاشرے سے سد باب کریں تاکہ اسلامی معاشرہ ہر طرح کے اخلاقی زوال و انحطاط سے محفوظ رہے اور حیات طیبہ اور پاک و پاکیزہ زندگي کی ضمانت فراہم کرے ۔

مصر ميں اکيس خواتين کو گيارہ سال قيد کي سزا

عدالت نے مرسي کي حامي ان اکيس خواتين پر دہشت گرد تنظيم کي رکن ہونے کي بھي فرد جرم عائد کي ہے ، جبکہ ٹريفک کے نظام ميں خلل ڈالنے اور اسکندريہ شہر ميں مظاہرے کا اہتمام کرنے جيسے جرائم ميں بھي ان خواتين کو ملوث قرارديا گيا ہے -

مرسي کي حامي جن اکيس خواتين کو سزا سنائيي گئي ہے ان ميں سات کي عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اس لئے انہيں بچوں کے جيل ميں بھيجا جائے گا -

دوسري طرف عدالت نے اخوان المسلمين کے چھے رہنماؤں کو بھي مظاہروں ميں فساد پر اکسانے کے جرم ميں پندرہ سال قيد کي سزا سنائي ہے - ان لوگوں پر غائبانہ طور پر مقدمہ چلايا گيا -

دريں اثنا سرکاري ميڈيا نے خبردي ہے کہ محمد مرسي کے حامي سترہ مذہبي رہنماؤں کو غربيہ قصبے سے گرفتار کيا گيا ہے.

مساجد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں

امام جمعہ اصفہان آیت اللہ سید یوسف طباطبائی نے کہا کہ مساجد معاشرے میں موجود برائیوں کے خلاف دفاعی مورچے کا درجہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی بگاڑ کو ختم کرنے میں مساجد کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مساجد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مرکز ہیں۔ لوگوں کو ان مراکز سے فیض حاصل کرنا چاہئے اور مساجد سے مربوط علماء کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے میں موجود برائیوں کی نشان دہی اور نیک کاموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ایران میں مساجد بخوبی اپنا فریضہ ادا کررہی ہیں۔

خطیب جمعہ تہران: مغرب جنیوا معاہدے کے تحت پابندیوں کا خاتمہ کرے

خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات کرنے سے ایران کاھدف عالمی طاقتوں سے ایران کے ایٹمی حقوق کے احترام اور انہیں تسلیم کروانا تھا۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے جینوا میں پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں ایران کا واحد ہدف ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام اور ایٹمی حقوق کو تسلیم کروانا تھا۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ بعض مغربی ملکوں اور صیہونی حکومت کے ان پروپگينڈوں کے برخلاف کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنےکی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کررہا ہے بلکہ علاقے کے امن و سکیورٹی کے پیش نظر ہرطرح کے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی پیداوار اور ان میں پھیلاو کا مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے گذشتہ چونتیس برسوں میں یہ ثابت کردیا ہےکہ علاقے کا امن و امان اسکی اولین ترجیح ہے اور تاریخ میں ایسا کوئي ثبوت نہیں ملے گا کہ ایران نے کسی ہمسایہ ملک یا کسی بھی ملک پر جارحیت کی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے ایران اور پانچ جمع ایک کے مذکرات میں صیہونی حکومت کی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت ایسے عالم میں ایران پر جو عظیم تہذیب وتمدن کا حامل ہے علاقے میں بدامنی پھلانے کا الزام لگاری ہے جبکہ مقبوضہ فلسطین میں اسکے غیر انسانی اقدامات سے علاقے اور ساری دنیا میں اسکے خلاف شدید نفرت پائي جاتی ہے۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ جینوا معاہدے کے مطابق اب مغرب کو چاہیے کہ وہ ایران پر عائد شدہ غیر منطقی پابندیوں کا خاتمہ کردے تاکہ اس سے زیادہ اھل عالم کے سامنے اس کی عھد شکنی اور دروغگوئي برملا نہ ہو۔.

جنیوا معاہدہ سے خطہ میں امن قائم ہوگا، علامہ سید ساجد علی نقوی

جنیوا معاہدہ سے خطہ میں امن قائم ہوگا، علامہ سید ساجد علی نقوی

شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے جنیوا معاہدہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن و استحکام مذاکرات کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے، معاہدے سے خطہ میں امن قائم ہوگا، پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کو بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر توانائی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمہوری ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونیوالے جنیوا معاہدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا معاہدہ نہ صرف خوش آئند اقدام ہے بلکہ اس معاہدے سے خطے میں امن قائم ہوگا اور طویل عرصے سے جاری جمود کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور جنگ و جدل کا نہیں بلکہ مذاکرات کا ہے اور ٹیبل ٹاکس کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے بعد خطہ میں جو کشیدگی یا تشویش پائی جاتی تھی، اس کے اثرات بھی کسی حد تک کم ہوجائینگے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اس وقت توانائی بحران کا شکار ہے جبکہ دونوں ممالک میں طے پانے والا معاہدہ نہ صرف غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے بلکہ پاکستان کو اس وقت توانائی کے متبادل ذرائع کی ضرورت ہے، اس لئے اس معاہدہ کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ ملک میں توانائی کا بحران ختم ہوکر خوشحالی کا دور آسکے اور عوام کی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس لوڈ مینجمنٹ سے جان چھوٹ سکے۔

امریکہ کی افغانستان کو دھمکی

امریکہ نے افغانستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر کابل واشنگٹن سکیورٹی معاہدے پر جلد از جلد دستخط نہ ہوئے تو امریکہ افغانستان سے اپنے اور نیٹو کے فوجی نکال لے گا۔

تسنیم نیوز کے مطابق حال ہی میں امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے کابل کا دورہ کرکے افغانستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر افغانستان سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کرتا ہے تو وہ جلد ہی مکمل طرح سے افغانستان سے اپنے فوجی نکال لے گا۔ سوزان رائس نے کابل کے دورے میں افغاں حکام سے کہا ہےکہ آئندہ برس صدارتی انتخابات کے بعد سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہيں کئے جاسکتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ برس سکوریٹی معاہدے پر دستخط کئےجانے کی صورت میں امریکہ کے پاس افغانستان سے فوجیوں کونکالنے کے‏ علاوہ کوئي اور چارہ نہیں رہے گا اور ممکنہ طور پر دوہزار چودہ کے بعد افغانستان میں فوجی موجودگي کے پروگرام کوبھی حتمی شکل نہیں دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے صدر حامد کرزئي نے کہا ہے کہ جب تک رہائشی علاقوں پر امریکہ کے حملے ختم نہیں ہوتے وہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ صدر کرزئي نے کہا کہ جب تک صدر اوبامہ ان کی شرایط قبول نہیں کرتے وہ معاہدے پردستخط نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے گذشتہ دس دنوں میں رہائيشی علاقوں پر حملے کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ لویہ جرگہ کے فیصلوں کا احترام نہیں کرتا۔ گذشتہ اتوار کو افغانستان کے لویہ جرگہ نے کابل واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کو منظوری دی تھی۔

اسلامی ملبوسات کی وسیع پیمانے پر خریدوفروخت

جدید دنیا میں نت نئے فیشن متعارف ہورہے ہیں جس پر ہر ملک میں کھربوں ڈالر فیشن وغیرہ پر خرچ ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں اسلامی فیشن کے عنوان سے تیار کردہ ملبوسات کی خرید و فروخت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

عالمی اقتصادی مرکز نے بتایا کہ آئندہ سال تک اسلامی ملبوسات کی خرید و فروخت 322 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی ملبوسات کی تیاری اور خریدوفروخت نے صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جن ممالک میں اسلامی ملبوسات کی زیادہ خرید و فروخت ہوئی ہے ان میں پاکستان، ایران، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر اور ترکی شامل ہیں۔

رہبر معظم کا ایٹمی مذاکرات کے بارے میں صدر کے خط کا جواب

رہبر معظم کا ایٹمی مذاکرات کے بارے میں صدر کے خط کا جواب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین حسن روحانی کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں لکھے کئے خط کے جواب میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالی کا فضل و کرم اور ایرانی عوام کی دعا اور پشتپناہی اس کامیابی کا اصلی سبب ہے اور ایرانی حکام کو صراط مستقیم پر حرکت کرنےکے سلسلے میں منہ زور طاقتوں کے مقابلے میں ہمیشہ استقامت اور پائداری کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے خط کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محضر مبارک رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای دامت برکاتہ

سلام و تحیت فراواں

اللہ تعالی کا شکر و سپاس ادا کرتا ہوں کہ اس نے حکومت تدبیر و امید کے ابتدائي مہینوں میں آپ کے انقلابی فرزندوں کو سخت اور دشوار مذاکرات کے بعد عالمی برادری کے سامنے ایرانی عوام کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حقانیت کو ثابت کرنے میں کامیاب بنادیا اور انھوں نے پہلا قدم اس طریقہ سے اٹھایا ہے جس میں عالمی طاقتوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم افزودہ کرنے کےحقوق کو تسلیم کرلیا ہے جو کئی برسوں سے اس کا انکار کررہی تھیں اس طرح ملک کی سائنسی اور اقتصادی ترقیات کی حفاظت کے لئے بعد کے بلند اقدام اٹھانےکے لئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ان مذاکرات میں کامیابی سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی نظام کے تمام اصولوں اور ریڈ لائنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی رائے عامہ کے سامنے اتمام حجت اور بڑی طاقتوں کو ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرنے کے سلسلے میں منطق اور استدلال کے ذریعہ قائل کیا جاسکتا ہےاور اختلافات کو مکمل طور پر حل کرنے کے سلسلے میں مضبوط اور مستحکم طور پر بعد کے اقدامات انجام دیئے جاسکتے ہیں۔

بیشک اس کامیابی میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات و راہنمائی اور ایرانی عوام کی بھر پور حمایت کا بنیادی کردار رہا ہے اور حضرت عالی کی ہدایات اور ایران کی صبور اور غیور عوام کی بھر پور حمایت اور تعاون آخری کامیابی کے حصول تک درکار رہےگا۔

اس معاہدے کے قطعی اور یقینی نتائج میں ایران کے ایٹمی حقوق کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا اور ایرانی سرزمین کے ماہرین کے ایٹمی نتائج کی حفاظت شامل ہےاور اس معاہدے کی روشنی میں ایرانی عوام کے خلاف یکطرفہ طور پر لگائی جانے والی ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ شروع ہوجائے گا۔ ایرانی حکومت اور عوام کی پائداری اور استقامت کے نتیجے میں بڑی عالمی طاقتیں اس نتیجہ تک پہنچ گئی ہیں کہ اقتصادی پابندیاں عائدکرنے سے کوئي نتیجہ حاصل نہیں ہوسکتا اور جیسا کہ ایران نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ باہمی احترام اور با عزت مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ۔ یہ ایسا معاملہ تھا جسے فریق مقابل نے بہت دیر میں درک کیا ہے۔ بیشک یہ معاہدہ تمام علاقائی ممالک ،عالمی امن و صلح اورام فریقین کی باہمی کامیابی کا مظہر ہے۔

میں اللہ تعالی کی توفیق سے اس کامیابی پر حضرت عالی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ کی ہدایات اور تعاون پرآپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ایرانی قوم کی گرانقدر حمایت کا تہہ دل سے سپاس گزآر ہوں اور ایٹمی شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تجدید عہد کرتا ہوں اور حضرت عالی اور قوم کی دعاؤں کا طلبگآر ہوں۔

حسن روحانی

3/آذر/ 1392

بسمہ تعالی

جناب صدر محترم

آپ نے جو کچھ مرقوم کیا ہے اس پر مذاکراتی ٹیم اور دوسرے اہلکار قابل قدر اور لائق شکر و تحسین ہیں اور یہ اقدام بعد کے ہوشیارانہ اقدامات کی اساس و بنیاد بن سکتا ہے۔ بیشک اللہ تعالی کا فضل و کرم اور ایرانی عوام کی پشتپناہی اور دعائیں اس کامیابی کا بنیادی عامل رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ایسا ہی رہےگا۔ اس شعبہ میں کام کرنے والے حکام کے پیش نظر راہ راست پر چلنے کے لئے منہ زور طاقتوں کے مقابلے میں پائداری اور استقامت پر ہمیشہ توجہ رکھنی چاہیے اور ایسا ہی ہوگا انشاء اللہ ۔

سید علی خامنہ ای

3/آذر/ 1392