Super User
شیعہ سنی علماء: سانحہ راولپنڈی کے نام فساد پھیلانے والوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں
جلوس چاہے میلاد النبی (ص) کے ہوں یا عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے، کسی بھی طرح کی پابندی کا تصور بھی محال ہے چونکہ یہ جلوس ہمارے عقیدے کا حصہ ہیں۔ وہ مسلمان جو نبی کریم (ص) سے عشق رکھتے ہیں اور ان کے نام پر مر مٹنے کے لیے تیار ہیں، اسی طرح جو امام حسین علیہ السلام سے عشق رکھتے ہیں اور ان کے نام اور ان کے پیغام پر مر مٹنے کے لیے تیار ہیں، وہ اس طرح کی پابندیوں کے حوالے سے سوچنا بھی اپنے لیے گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں شیعہ سنی علماء نے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ محمد امین شہید اور علامہ حیدر علوی سمیت شیعہ سنی کئی علماء مشترکہ نیوز کانفرنس میں موجود تھے۔ علماء کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو لوگ فرقہ پرست اور فتنہ پھیلاتے ہیں، شیعہ اور سنی کے نام پر لوگوں کو بہکاتے ہیں، ان کو اسلامی کمیونٹی سے الگ دیکھنا چاہیئے، ان سے ہمارا تعلق نہیں ہے۔
علماء کا کہنا تھا کہ سانحہ راولپنڈی کسی مسلمان کا کام نہیں ہے بلکہ یہ کسی غیر مسلم کی کارروائی ہے۔ اس پر ہم سب متفق ہیں اور یہ بات بھی کہتے ہیں کہ مسلک اہل سنت و الجماعت کے نام کو کئی لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر دو نام دیوبندی اور بریلوی کے نام الگ الگ ہیں۔ مسلک بریلوی الگ ہے اور دیوبندی مسلک والے سنی الگ ہیں۔ اس کو اکٹھا استعمال کرنا اس لیے درست نہیں ہے کہ اہل سنت والجماعت جو بریلوی مکتب فکر کے لوگ ہیں، ان میں اس کا کوئی بنیادی طور پر کردار نہیں ہے اور وہ اپنا نام استعمال کرنے سے پہلے اپنے مسلک کو واضح کرتے ہیں۔ علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ جمعہ کو یوم عظمت نواسہ رسول (ص) کے طور پر منایا جائیگا۔
دیگر ذرائع کے مطابق، شیعہ اور سنی علما ء نے کل جمعہ کو یوم احتجاج کی بجائے یوم امن منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ راولپنڈی میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں اس لیے ملک کو باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں مشترکا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ امین شہیدی اور سنی تحریک کے رہنما علامہ حیدر علوی نے کہا کہ جمعے کو پورے ملک میں یوم امن منایا جائے گا، ملک میں آج امن کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ انہوں نے سانحہ راولپنڈی کی انکوائری کمیٹی کے سربراہ کے طور پر وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے نام کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ غیرجانبدار نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں سے تعلقات کا پس منظر رکھتے ہیں۔ شیعہ، سنی علماء نے کہا کہ مسجد کے اندر اور باہر ہونے والے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
رہبر معظم کا رضاکار دستوں اور ان کے کمانڈروں کے شاندار اجتماع سے خطاب
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) رضاکار دستوں کے ہزاروں افراد اور ان کے کمانڈروں کے ایک شاندار اجتماع سے خطاب میں رضاکاردستوں کو اسلامی نظام کے ثبات، اقتدار اور طاقت کا مظہر قرار دیا، اور عالمی استکبار بالخصوص امریکہ کی حق ناپذیر ، فریبکارانہ روشوں اور خصوصیات کی تشریح کے ساتھ قوم کے اقتدار اور استقامت کو دشمن کو مایوس کرنے کا واحد راستہ قراردیا اور حکومت و حکام کی ٹھوس حمایت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی مذاکرات میں ریڈ لائنوں کی رعایت کرنی چاہیے اور قوم کے حقوق سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اس عظیم اجتماع میں رضاکار دستوں کو ایرانی قوم کی عظمت کا مظہر اور ملک کی اندرونی سطح پر مؤثر طاقت قراردیتے ہوئے فرمایا: رضاکار فورس اور بسیج اسلامی نظام ، انقلاب اور ملک کے دوستوں کے لئے مسرت، خوشی ، امید اور اعتماد کا باعث اور دشمنوں اور مخالفین کے لئے خوف و ہراس کا باعث ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بسیج و رضاکارفورس کے ہفتہ اورحضرت زینب سلام اللہ علیھا کے عظیم رزم و جہاد کے ایام کے باہمی تقارن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا رزم و جہاد ، عاشورا کے رزم و جہاد اور معرکہ کی تکمیل ہے اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا جہاد درحقیقت عاشورا کے جہاد کی حفاظت اور اسے زندہ رکھنے کے معنی میں ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت زینب(س) کے کام کی عظمت کو صرف عاشورا کے جہاد کے ساتھ قابل موازنہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلام کی یہ عظیم اور شیر دل خاتون تمام مصیبتوں اور تلخ حوادث کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور بلند و مضبوط چوٹیوں کی طرح ثابت قدم اور استوار رہی ، اور ایک دائمی پیشوا اور دائمی نمونہ میں تبدیل ہوگئی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کوفہ کے عوام کے سامنے اور اسی طرح ابن زیاد اور یزید کے دربار میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے فولادی اور ٹھوس خطبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام عاشور کے دن عزت و عظمت کا پیکر تھے اسی طرح کربلا کی یہ عظیم خاتون بھی عزت و عظمت کا پیکر تھی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت زینب (س)کی استقامت کے نتیجہ کو تاریخ میں حق کی راہ میں استقامت کی حرکت کے وجود میں آنے کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہماری حرکت کا نمونہ بھی زینبی حرکت اور ہمارا ہدف بھی اسلام ، اسلامی معاشرے اور انسان کی عزت و عظمت پر استوار ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا اور تمام انبیاء ، اولیاء اور مؤمنین کے اندر ایسے جذبے کے پیدا ہونے کے اصلی عامل کو اللہ تعالی کے عہد و پیمان کے ساتھ صادقانہ رفتار و عمل قراردیتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم صداقت پسند رفتار کو انبیاء الہی ، اولیاء کرام ، مؤمنین اور عام لوگوں کے لئے لازمی قراردیتا ہے اور ہم سب کو اللہ تعالی کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم کی اس صریح نص کی بنیاد پر یہ عہد وپیمان دشمن کے مقابلے میں فوجی، سیاسی اور اقتصادی جنگ میں استقامت و پائداری اور دشمن کو پیٹھ نہ دکھانے کا عہد ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس عہد کی بنیاد پر جہاں کہیں دشمن کے ساتھ مقابلے اور زور آزمائی کا میدان ہو وہاں دشمن کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مؤمنین کے عزم و ارادہ کو دشمن کے ارادے پر غالب بنانا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےاپنے خطاب کے اس حصہ میں کچھ عرصہ پہلے اپنی " قہرمانانہ نرمش یا دلیرانہ نرمی " کی تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بعض افراد نے قہرمانانہ نرمش کی تعبیر کو اسلامی نظام کے اصولوں اور اہاداف سے ہاتھ کھینچنا قراردیا اور بعض دشمنوں نے بھی اسی بنیاد پر اسلامی نظام کی اصولوں سے عقب نشینی کا دعوی کیا جبکہ یہ تعبیریں غلط اور خلاف واقعہ ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دلیرانہ نرمی کا مطلب ہنرمندانہ طور پر مختلف طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی نظام کے گوناگوں اہداف تک پہنچنے کا نام ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عظیم اسلامی تمدن کے ایجاد و پیشرفت کے لئے اسلامی نظام کے گوناگوں اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ اہداف مرحلہ وار شکل و صورت میں ہیں اور ان مراحل کو متعلقہ حکام ، دانشور، راہنما اور ہادی مشخص کرتے ہیں اور پھر ان تک پہنچنے کے لئے اجتماعی حرکت شروع ہوجاتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ صحیح نظام ، اسلامی نظام کی پیشرفت کے لئے منطقی حرکت ہے لہذا تمام سیاستدانوں اور ملک کے اعلی مدیروں اور اسی طرح بسیج اور رضاکار فورس میں سرگرم افراد کو اسے مد نظر رکھنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسکے بعد کچھ سوالات پیش کرتے ہوئے فرمایا: کیا اسلامی نظام کی پیشرفت ، اسلامی نظام کی جنگ افروزی کے معنی میں ہے؟
کیا اسلامی نظام ، تمام عالمی اقوام اور ممالک کو چیلنج کرنا چاہتا ہے؟ جیسا کہ ایرانی قوم کے بعض دشمن منجملہ علاقہ کی غاصب صہیونی حکومت دیوانے کتے کی طرح یہی کچھ بھونکتی رہتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نقطہ نظر، دشمن کے نقطہ نظر کے بالکل مد مقابل ہے کیونکہ اسلامی نظام کا ہدف ، اسلام، قرآن ،پیغمبر اسلام (ص) اور آئمہ طاہرین(ع) کے درس اور سیرت پر استوار ہے جو تمام قوموں کے ساتھ عدل و انصاف اور احسان اور نیکی کے درس پر مشتمل ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دنیا کے لئے حقیقی خطرہ ، دنیا کی شرارت پسند طاقتیں ہیں جن میں اسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت اور اس کے حامی ممالک شامل ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام ہمیشہ تمام انسانوں اور دوسری اقوام کے ساتھ تعاون ، محبت، اخوت اور برادری کا درس دیتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کو حتی امریکی قوم کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، اگر چہ امریکی حکومت ، ایرانی قوم اور اسلامی نظام کے ساتھ عداوت ، دشمنی اور کینہ رکھتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: وہ نقطہ استکبار ہے جو اسلامی نظام کے مد مقابل ہے اور اسلامی نظام جس کا مقابلہ کررہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حقیقت پر تاکید کے بعد رضاکار فورس کے کئي ہزار افراد اور ان کے کمانڈروں سے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے موجودہ دور میں استکبار کی تاریخی خصوصیات کو بیان کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن کریم میں لفظ استکبار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تاریخ میں استکبار کی ہڈیوں کا ڈھانچہ ثابت ، لیکن ان کی روشیں متفاوت اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف میدانوں میں ہر قسم کی غیر عاقلانہ رفتار اور مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تمام میدانوں منجملہ استکبار کے ساتھ مقابلہ اور مخالفت ،منصوبہ بندی، درایت اور حکمت پر مبنی ہونی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استکباری نظام کے ساتھ عاقلانہ اور مدبرانہ رفتار کے تحقق کے لئے " استکباری نظام کی خصوصیات اور اس کی سمت و سو کی" پہچان کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: تسلط پسند نظام کی خصوصیات کے صحیح ادراک اور پہچان کے بغیر اس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے حکیمانہ منصوبہ بندی ممکن نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استکباری نظام کی خصوصیات کی تشریح کے سلسلے میں خود برتری اور خودپسندی کو استکبار کی ایک اصلی خصوصیت قراردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جب ایک ملک یا ایک بین الاقوامی نظام اپنے آپ کو اصل ، برتر اور محور سمجھ لے تو عالمی تعلقات ایک خطرناک موڑ اختیار کرسکتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دیگر ممالک کے امور میں مداخلت کو حق سمجھنے، اپنے نظر یات کو دیگر قوموں پر مسلط کرنے اور عالمی مدیریت کا دعوی کرنے اور اسی طرح تسلط پسند نظام کی خود برتری اور خود پسندی کے خطرناک نتائج کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: امریکی حکام اس طرح بات کرتے ہیں جیسے وہ پوری دنیا اور علاقہ کی دیگر اقوام اور ممالک کے مالک ہوں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حق قبول نہ کرنے کو استکبار کی خود برتری اور خود پسندی کی دوسری خصوصیت قراردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےقوموں کے حقوق کے مقابلے میں استکبار اور امریکیوں کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کی مخالفت ، قوموں کے حقوق کے بارے میں تسلط پسند نظام کی مخالفت کا واضح نمونہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہر انسان اور ہر ملک جو منطق اور استدلال رکھتا ہے وہ حق بات کو تسلیم کرلیتا ہے لیکن استکبار حق بات اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے کی تلاش و کوشش کرتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دوسروں پر ظلم و ستم اور جرم و جنایت کو جائز سمجھنے کو استکبار کی ایک اور خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: تسلط پسند نظام ان قوموں اور انسانوں کے لئے کسی قدر و منزلت کا قائل نہیں ہے جو اس کے تابع نہیں ہیں اور ہر قسم کے جرم و جنایت کو ان کے حق میں جائز سمجھتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں امریکہ کی مقامی باشندوں کے ساتھ قابل نفرت رفتاراور انگریزوں کی آسٹریلیاکے مقامی باشندوں کے ساتھ بد رفتاری اور امریکہ کی طرف سےافریقہ کے سیاہ فام افراد کو غلام بنانے کے سلسلے میں متعدد مثالوں کی طرف اشارہ کیا۔
حسن نصراللہ: دھشتگردانہ اقدامات کربلا والوں کے راستے پر چلنے والوں کے عزم کو سست نہیں کر سکتے
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بیروت میں حالیہ دھشتگردانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کربلا والوں کے راستے پر چلنے والوں کے عزم و ارادے پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔
بیروت سے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بیروت میں ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی 34 سالہ تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ اسلام ناب محمدی، اسلامی انقلاب اور مزاحمت کے دشمنوں کے بزدلانہ اقدامات، کربلا والوں اور امام خمینی (رح) کے راستے پر چلنے والوں کے عزم و ارادے اور ان کی ترقی و پیشرفت میں منفی اثرات مرتب نہیں کرسکتے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کے قریب ہونے والے دھشتگردانہ بم دہماکوں میں شہید ہونے والوں کی مغفرت کے لئے دعا کرنے کے ساتھ کہا کہ اس قسم کی غیر انسانی سرگرمیوں نے مزاحمت و حق و انصاف کے راستے پر گامزن رہنے والوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والے دھشتگرد عناصر کے چہرے سے نقاب کو اتار دیا ہے اور شہداء و مظلوموں کے خون نے ہم کو مزاحمت کے حق پسند راستے پر باقی رکھنے کے لئے مزید مضبوط و محکم کردیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی اس ملاقات میں بیروت میں ہونے والے دھشتگردانہ واقعہ کو مزاحمت کے محاذ میں براہ راست مقابلے میں صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں اور ان کے حمایتی یافتہ تکفیری گروہوں کی ناتوانی کی علامت قرار دیا۔
لبنان میں بم دھماکہ، درجنوں شہید و زخمی
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو خوفناک بم دھماکوں میں تیئس افراد شہید اور ایک سو پچاس زخمی ہوئے ہیں۔المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق آج جنوبی بیروت میں واقع الجناح علاقے میں ایران کے سفارت خانے کے پاس دو زبردست بم دھماکے ہوئے۔ بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر غضنفر رکن آبادی نے صیہونی حکومت کو ان دہشتگردانہ بم دھماکوں کا ذمےدار قرار دیا ہے۔ غضنفر رکن آبادی نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے قریب ہونے والے بم دھماکوں میں صیہونی حکومت کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دہشتگردانہ واقعے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف حق پر مبنی ہے۔ رکن آبادی نے مزید کہا کہ ایران طاقت کے ساتھ استقامت کے راستے پر آگے بڑھتا رہے گا۔بیروت میں آج ہونے والے دہشتگردانہ بم دھماکوں میں تیئیس افراد شہید اور ایک سو پچاس زخمی ہوۓ ہیں۔
ایران پر صہیونی حملے کی صورت میں اسرائیل کا ساتھ دیں گے
امریکہ کے جوائنٹ چیف اف آرمی اسٹاف نے ایران پر یکطرفہ حملے کے لئے صہیونی حکومت کے فیصلے کی صورت میں اپنے ملک کی فوجی سرگرمیوں کے امکانات کے حوالے اشارے دیئے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق " مارٹین ڈمپسی " نے ایران کے خلاف فوجی آپشن کے انتخاب کے لغے صہیونی حکومت کے انفرادی فیصلے کی صورت میں امریکہ کے ردعمل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ ، اسرائیل کے حوالے سے اپنے بعض واضح وعدوں کو پورا کرے گا۔ امریکہ کے جوائنٹ چیف اف آرمی اسٹاف نے اعتراف کیا کہ اسرائیل سے ہم نے مضبوط وعدے کیے ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ ہمارے دائمی رابطے ہیں۔ " مارٹین ڈمپسی " نے ایک سیمینار میں صحافیوں سے بات میں مزید کہ کہ اسرائیل کو مشرق وسطی میں حتمی طور پر باقی رہنا چاہیے۔
قومی وحدت، صہیونی حکومت کے ساتھ مقابلے کے لئے ضروری
حزب اللہ لبنان کے سینیئر رکن نے اس ملک میں قومی وحدت کے استحکام کو صہیونی حکومت کے ساتھ مقابلے کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سینیئر رکن نے آج کہا کہ داخلی دہمکیوں کے عنوان سے صہیونی حکومت و تکفیری گروہوں کے ساتھ مقابلے کے لئے لبنان کی قومی وحدت ضروری ہے۔ " محمد رعد " نے صہیونی حکومت امت اسلامیہ کے خلاف علاقائی خطرہ ہے اور حزب اللہ لبنان اپنی تمام توانائی اور امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے فلسطین کی حمایت جاری رکھے گی۔ حزب اللہ کے سینیئر رکن محمد رعد نے تکفیری و دھشتگرد گروہوں کی مزاحمت کے خلاف جاری پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ عوامی حمایت سے عاری ہیں اور اخلاقی و انسانی اقدار کے بھی پابند نہیں ہیں، لہذا تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ تکفیری و دھشتگرد عناصر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ محمد رعد نے وضاحت کی کہ حزب اللہ قومی وحدت کے دائرے میں مشترکہ پالیسیوں کی حامی ہے۔
ایران میں جدید ترین ڈرون طیارے کی رونمائی
رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت دفاع کے تیار کردہ جدید ترین ڈرون طیارے کی ، وزیر دفاع کی موجودگي میں رونمائی ہوئی۔ وزارت دفاع کے ، دفاع پروپیگنڈا ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت دفاع کے تیار کردہ اسٹریٹیجک جدید ترین ڈرون طیارے "فطرس" کی آج ایران کے وزیر دفاع " حسین دھقان " کی موجودگي میں رونمائی ہوئی۔
یہ ڈرون طیارہ ایران کا سب سے بڑا اسٹریٹیجک طیارہ ہے جو خاص صلاحیتوں کا حامل ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے کہا یہ اہم کارنامہ، جو ایرانی ماہرین کی کاوشوں سے انجام پایا ہے، ملک کے ڈرون طیاروں کی ٹکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم قدم ہے جس نے یہ ثابت کردکھایا ہےکہ دشمنوں کی پابندیاں دفاعی صنعتوں کی پیشرفت میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ہیں۔
شہید عباس بابائی کا وصیت نامہ
شہید عباس بابائی نے اس وصیّت نامہ میں اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: خدا کے راستے کا انتخاب کرو کہ اس کےعلاوہ سعادت و خوشبختی کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ یاری ملیحہ; اسی طرح جیسے جانتی ہو کہ ماں کا احترام واجب ہے۔ اگرانسان معمولی سی بھی تکلیف ہو ، وہ پہلا فرد کہ جو اس سے زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے ماں ہے کہ جو ہمیشہ اپنے جگر گوشہ یعنی بچے کی فکر میں رہتی ہے۔
ملیحہ : خدا کی قسم مسلمان صرف وصرف وہ نہیں کہ جو نماز ادا کرے اور روزہ رکھے۔ لیکن پہلی بات کی طرف آتا ہوں، اگر تمہارے دوست نے تم کو ناراض کیا اور بعد میں وہ پشیمان ہوجائے اور تم کو سلام کرلے اور تم سے مدد چاہے ، حتمی طور پر اس کی مدد کرنا۔
جتنا بھی ہوسکے اپنے دوستوں کی مدد کرو اور جس کسی کو جانتی یا نہ جانتی ہو اس کے ساتھ خوبی کرو اور کسی کو اپنے سے ناراض نہ ہونے دینا، ایسا نہ ہو کوئی تم سے رنجیدہ ہوجائے۔ جو کوئی بھی تم سے بدی کرے حتمی طور پر اس سے دوری اختیار کرو اور اگر کبھی وہ اپنے کیئے پر پشیمان ہوجائے تو اپنی ناراضگی دور کردینا۔
ملیحہ : اس دنیا میں صرف ، پاکی ، صداقت ، ایمان ، عوام سے محبت ، وطن کی حفاظت میں جان کا دینا اور انسان کی عبادت باقی رہنے والی ہے۔ جتنا بھی ہوسکے عوام کی خدمت کرو، پردے ، پردے کا بہت ہی زیادہ لحاظ رکھو۔ اگر چاہتی ہو کہ عباس (شہید کا بیٹا) ہمیشہ خوشحال رہے حتمی طور پر میری باتوں کو غور سے سنو۔
ملیحہ : جتنا بھی ہوسکے پڑھتی رہو، خوب پڑھو، خوب پڑھو، اچھی فکر کی حامل بنو، لوگوں کی مدد کرو، اچھے فیصلے کرو، ہمیشہ خدا سے مدد چاہتی رہو، نماز حتمی طور پر ادا کرو ، خدا کے راستے کو کبھی فراموش نہ کرنا۔
میری مہربان بیوی ملیحہ : جب بھی نماز ادا کرو میرے لئے دعا ضرور کرنا۔ خداوندا تجھے امام مہدی(عج) کی جان کا واسطہ امام زمانہ (عج) کے انقلاب تک خمینی کو باقی رکھہ۔ خدا کی قسم مجھے شہداء اور شہداء کے اہل خانہ سے شرم آتی ہے کہ وصیّت نامہ لکھوں۔ خدایا، میری ، میرے بچوں اور میری اہلیہ کی موت کو شہادت کی موت قرار دے۔ خدایا ؛ اپنی بیوی و بچوں کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ خداوند اس دنیا میں میرے پاس کچھہ بھی نہیں ہے جو کچھہ بھی ہے وہ تیرا دیا ہوا ہے۔ والدین گرامی : اس انقلاب کا ہمارے اوپر بہت بڑا قرض ہے۔
دربار یزید میں حضرت زینب) س) کا تاریخی خطبہ
راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے : خدا کی قسم ! حضرت زینب کی اس آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو !!...۔
یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا ، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین (علیہ السلام) کے لبوں اور دانتوں پر لگایا ۔ ابوبرزہ اسلمی (جو کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صحابی تھے اور وہاں پر موجود تھے ) نے یزید کو مخاطب کرکے کہا : اے یزید ! کیا تو اس چھڑی سے حسین فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر مارر ہا ہے ؟ ! میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) ، حسین اور ان کے بھائی حسن (علیہما السلام) کے لبوں اور داندان مبارک کو بوسہ دیتے تھے اور فرماتے تھے : : «أَنْتُما سَيِّدا شَبابِ أهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَتَلَ اللهُ قاتِلَكُما وَلَعَنَهُ، وَأَعَدَّلَهُ جَهَنَّمَ َوساءَتْ مَصيراً»؛ ۔ تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو ، جو تمہیں قتل کرے ، خدا اس کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لئے جہنم کو آمادہ کرے اور وہ بہت خراب جگہ ہے ۔
یزید غصہ میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ صحابی رسول (ص) کو باہر نکال دو ۔
یزید اپنے غرور میں مست تھا اور سمجھ رہا تھا کہ کربلا میں کامیاب ہوگیا ہے اوران اشعار کو بلند آواز سے پڑھ رہا تھا جو اس کے اور آل امیہ کے دین مبین اسلام پر ایمان نہ رکھنے کی زندہ دلیل ہے (١) :
لَيْتَ أَشْياخي بِبَدْر شَهِدُوا جَزِعَ الْخَزْرَجُ مِنْ وَقْعِ الاَْسَلْ
فَأَهَلُّوا وَ اسْتَهَلُّوا فَرَحاً ثُمَّ قالُوا يايَزيدُ لاتَشَلْ
لَسْتُ مِنْ خِنْدَفَ إِنْ لَمْ أَنْتَقِمْ مِنْ بَني أَحْمَدَ، ما كـانَ فَعَلْ
کاش کہ میرے وہ بزرگ جو جنگ بدر میں قتل کردئیے گئے تھے وہ آج ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح قبیلہ خزرج نیزہ مارنے کے بجائے گریہ وزاری میں مشغول ہیں ۔اس وقت وہ خوشی میں فریاد کرتے اور کہتے : اے یزید ! تیرے ہاتھ شل نہ ہوں !
میں ""خندف"" (٢) کی اولاد میں سے نہیں ہوں جو احمد (رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اولاد سے انتقام نہ لوں ۔
یہاں پر علی کی شیر دل بیٹی زینب کبری کھڑی ہوگئیں اور بہترین خطبہ ارشاد فرمایا :
دربار یزید میں حضرت زینب (س) کا تاریخی خطبہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
«أَلْحَمْدُللهِِ رَبِّ الْعالَمينَ، وَصَلَّى اللهُ عَلى رَسُولِهِ وَآلِهِ أجْمَعينَ، صَدَقَ اللهُ كَذلِكَ يَقُولُ: (ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوأَى أَنْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُون).(3)
أَظَنَنْتَ يا يَزِيدُ حَيْثُ أَخَذْتَ عَلَيْنا أَقْطارَ الاَْرْضِ وَآفاقَ السَّماءِ، فَأَصْبَحْنا نُساقُ كَما تسُاقُ الأُسارى أَنَّ بِنا عَلَى اللهِ هَواناً، وَبِكَ عَلَيْهِ كَرامَةً وَأَنَّ ذلِكَ لِعِظَمِ خَطَرِكَ عِنْدَهُ، فَشَمَخْتَ بِأَنْفِكَ، وَنَظَرْتَ فِي عِطْفِكَ جَذْلانَ مَسْرُوراً حِينَ رَأَيْتَ الدُّنْيا لَكَ مُسْتَوْثِقَةٌ وَالاُْمُورَ مُتَّسِقَةٌ وَحِينَ صَفا لَكَ مُلْكُنا وَسُلْطانُنا، فَمَهْلاً مَهْلاً، أَنَسِيتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ: (وَ لاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاَِّنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْماً وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ).(4)
سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے ۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت(علیهم السلام) پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا ۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے[مختلف طرح سے] تنگ کر دئیے ہیں اور آلِ رسول کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز هوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے ۔ اور زمامداری[خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے ۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کی سانس لے ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے ۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں ۔ اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے ۔
اس کے بعد فرمایا :
«أَ مِنَ الْعَدْلِ يَابْنَ الطُّلَقاءِ! تَخْدِيرُكَ حَرائِرَكَ وَ إِمائَكَ، وَ سَوْقُكَ بَناتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّم سَبايا، قَدْ هَتَكْتَ سُتُورَهُنَّ، وَ أَبْدَيْتَ وُجُوهَهُنَّ، تَحْدُو بِهِنَّ الاَْعداءُ مِنْ بَلد اِلى بَلد، يَسْتَشْرِفُهُنَّ أَهْلُ الْمَناهِلِ وَ الْمَناقِلِ، وَ يَتَصَفَّحُ وُجُوهَهُنَّ الْقَرِيبُ وَ الْبَعِيدُ، وَ الدَّنِيُّ وَ الشَّرِيفُ، لَيْسَ مَعَهُنَّ مِنْ رِجالِهِنَّ وَلِيُّ، وَ لا مِنْ حُماتِهِنَّ حَمِيٌّ، وَ كَيْفَ يُرْتَجى مُراقَبَةُ مَنْ لَفَظَ فُوهُ أَكْبادَ الاَْزْكِياءِ، وَ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ دِماءِ الشُّهَداءِ، وَ كَيْفَ يَسْتَبْطِأُ فِي بُغْضِنا أَهْلَ الْبَيْتِ مَنْ نَظَرَ إِلَيْنا بِالشَّنَفِ وَ الشَّنَآنِ وَ الاِْحَنِ وَ الاَْضْغانِ، ثُمَّ تَقُولُ غَيْرَ مُتَّأَثِّم وَ لا مُسْتَعْظِم:
لاََهَلُّوا و اسْتَهَلُّوا فَرَحاً *** ثُمَّ قالُوا يا يَزيدُ لا تَشَلْ
مُنْتَحِياً عَلى ثَنايا أَبِي عَبْدِاللهِ سَيِّدِ شَبابِ أَهْلِ الجَنَّةِ، تَنْكُتُها بِمِخْصَرَتِكَ، وَ كَيْفَ لا تَقُولُ ذلِكَ وَ قَدْ نَكَأْتَ الْقَرْحَةَ، وَ اسْتَأْصَلْتَ الشَّأْفَةَ بِإِراقَتِكَ دِماءَ ذُرّيَةِ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَ نُجُومِ الاَْرْضِ مِنْ آلِ عَبْدِالمُطَّلِبِ، وَ تَهْتِفُ بِأَشْياخِكَ، زَعَمْتَ أَنَّكَ تُنادِيهِمْ، فَلَتَرِدَنَّ وَ شِيكاً مَوْرِدَهُمْ وَ لَتَوَدَّنَّ أَنَّكَ شَلَلْتَ وَ بَكِمْتَ، وَ لَمْ تَكُنْ قُلْتَ ما قُلْتَ وَ فَعَلْتَ ما فَعَلْتَ».
اے طلقاءکے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) (5) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے ۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ۔ تیرے حکم پر اشقیاءنے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا ۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسولکی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے ۔ اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں ۔آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں ۔ آج آلِ محمد کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے ۔
اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر کو چبایا هو ۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکها ہو۔ وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت(علیهم اسلام) پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے ۔
اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔
اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی (علیه السلم) کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے ۔
اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے فرزند رسول خدا اور عبدالمطلب کے خاندانی ستاروں کا خون بها کر ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناونے جرم کا مرتکب ہوا ہے ۔تو نے اولاد رسول کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں ۔
تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں ۔
آج تو آلِ رسول کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے ۔ تو سمجهتا هے که وه تیری آواز سن رهے هیں؟ ! (جلدی نه کر) عنقریب تو بهی اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا ۔
اس کے بعد حضرت زینب نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا !
«أَللّهُمَّ خُذْ بِحَقِّنا، وَ انْتَقِمْ مِنْ ظالِمِنا، وَ أَحْلِلْ غَضَبَكَ بِمَنْ سَفَكَ دِماءَنا، وَ قَتَلَ حُماتَنا، فَوَاللهِ ما فَرَيْتَ إِلاّ جِلْدَكَ، وَلا حَزَزْتَ إِلاّ لَحْمَكَ، وَ لَتَرِدَنَّ عَلى رَسُولِ اللهِ بِما تَحَمَّلْتَ مِنْ سَفْكِ دِماءِ ذُرِّيَّتِهِ، وَ انْتَهَكْتَ مِنْ حُرْمَتِهِ فِي عَتْرَتِهِ وَ لُحْمَتِهِ، حَيْثُ يَجْمَعُ اللهُ شَمْلَهُمْ، وَ يَلُمُّ شَعْثَهُمْ، وَ يَأْخُذُ بِحَقِّهِمْ (وَ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِى سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ).(6) وَ حَسْبُكَ بِاللهِ حاكِماً، وَ بِمُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّمَ خَصِيماً، وَ بِجَبْرَئِيلَ ظَهِيراً، وَ سَيَعْلَمُ مَنْ سَوّى لَكَ وَ مَكَّنَكَ مِنْ رِقابِ المُسْلِمِينَ، بِئْسَ لِلظّالِمِينَ بَدَلاً، وَ أَيُّكُمْ شَرٌّ مَكاناً، وَ أَضْعَفُ جُنْداً».
اے ہمارے پروردگار، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے ۔ اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے ۔ اور اے خدا تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا ۔ اے یزید ! (خدا کی قسم ) تو نے جو ظلم کیا ہے یه اپنے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے ۔ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے ۔ تو رسولِ خدا کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناونے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا ۔ نیز رسول کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا ۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا ۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا ۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں ۔ بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں ۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ، عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے ۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول کی گواہی دیں گے ۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعه تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا ۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے ۔
عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا ۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا :
«وَ لَئِنْ جَرَّتْ عَلَيَّ الدَّواهِي مُخاطَبَتَكَ، إِنِّي لاََسْتَصْغِرُ قَدْرَكَ، وَ أَسْتَعْظِمُ تَقْرِيعَكَ، وَ أَسْتَكْثِرُ تَوْبِيخَكَ، لكِنَّ العُيُونَ عَبْرى، وَ الصُّدُورَ حَرّى، أَلا فَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ لِقَتْلِ حِزْبِ اللهِ النُّجَباءِ بِحِزْبِ الشَّيْطانِ الطُّلَقاءِ، فَهذِهِ الاَْيْدِي تَنْطِفُ مِنْ دِمائِنا، وَ الأَفْواهُ تَتَحَلَّبُ مِنْ لُحُومِنا، وَ تِلْكَ الجُثَثُ الطَّواهِرُ الزَّواكِي تَنْتابُها العَواسِلُ، وَ تُعَفِّرُها اُمَّهاتُ الْفَراعِلِ.
وَ لَئِنِ اتَّخَذْتَنا مَغْنَماً لَتَجِدَ بِنا وَ شِيكاً مَغْرَماً حِيْنَ لا تَجِدُ إلاّ ما قَدَّمَتْ يَداكَ، وَ ما رَبُّكَ بِظَلاَّم لِلْعَبِيدِ، وَ إِلَى اللهِ الْمُشْتَكى، وَ عَلَيْهِ الْمُعَوَّلُ، فَكِدْ كَيْدَكَ، وَ اسْعَ سَعْيَكَ، وَ ناصِبْ جُهْدَكَ، فَوَاللهِ لا تَمْحُو ذِكْرَنا، وَ لا تُمِيتُ وَحْيَنا، وَ لا تُدْرِكُ أَمَدَنا، وَ لا تَرْحَضُ عَنْكَ عارَها، وَ هَلْ رَأيُكَ إِلاّ فَنَدٌ، وَ أَيّامُكَ إِلاّ عَدَدٌ، وَ جَمْعُكَ إِلاّ بَدَدٌ؟ يَوْمَ يُنادِي الْمُنادِي: أَلا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظّالِمِينَ.
وَ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعالَمِينَ، أَلَّذِي خَتَمَ لاَِوَّلِنا بِالسَّعادَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ، وَ لاِخِرِنا بِالشَّهادَةِ وَ الرَّحْمَةِ. وَ نَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُكْمِلَ لَهُمُ الثَّوابَ، وَ يُوجِبَ لَهُمُ الْمَزيدَ، وَ يُحْسِنَ عَلَيْنَا الْخِلافَةَ، إِنَّهُ رَحيمٌ وَدُودٌ، وَ حَسْبُنَا اللهُ وَ نِعْمَ الْوَكيلُ».
اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد [برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں ۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے ۔ میری اس جرائت سخن پر تو مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔
افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے ۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیئے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں ۔
اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا ۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے ۔
اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجهے معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے ۔تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا ۔تو نے جس گھناونے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا ۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے ۔تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے ۔
ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا ۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے ۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے” (7) ۔
یہ خطبہ تاریخ اسلام کا بہت ہی فصیح اور طاقت ور خطبہ ہے ،گویا اس خطبہ میں علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی بلند و بالا روح اور بے نظیر شجاعت ، ان کی شیر دل بیٹی زینب کبری کی زبان پر جاری ہوگئی ہے جو اسی زبان و لہجہ اور اسی منطق میں تقریر کی ہے ۔
١۔ ان اشعار کا دوسرا شعر ، رسول خدا کے دشمن عبداللہ بن زبعری کا ہے ، اس نے یہ اشعار جنگ احد میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کے شہید ہونے کے بعد کہے تھے اور ان اشعار میں آرزو کی تھی کہ کاش جنگ بدر میں ہمارے قتل ہونے والے بزرگ ہوتے اور دیکھتے کہ قبیلہ خزرج (مدینہ کے مسلمان قبیلے ) کس طرح گریہ وزاری کررہے ہیں ۔ اس شعر سے استفادہ کرتے ہوئے باقی شعر خو د اس نے کہے ہیں ۔
٢۔ خندف ، قریش کے مورث اعلی ہے جوخود یزید کا بھی دادا شمار ہوتا ہے ۔ (ر.ك: تاريخ طبرى، ج 1، ص 24ـ25.) ۔
٣۔ روم، آيه 10.
٤۔ آل عمران، آيه 178.
٥۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ابوسفیان ، معاویہ ، قریش کے بزرگ افراد اور اپنے دشمنوں کو بخش دیا تھا اور فرمایا تھا : اذھبوا فانتم الطلقاء (جائو تم آزاد ہو ) ۔ (رجوع کریں : بحارالانوار، ج 21، ص 106 و تاريخ طبرى، ج 2، ص 337) .
٦۔ آل عمران، آيه 169.
٧۔ مقتل الحسين مقرّم، ص 357-359 ; بحارالانوار، ج 45، ص 132 ـ 135 و احتجاج، ج 2، ص 122ـ130 (با مقدارى تفاوت) .
٨. کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص596.
اسلامی طرز زندگی
آج ہم ان مفاہیم اور اصولوں کا جائزہ لیں گے جو الہی تصور کائنات میں انسانی طرز زندگي پر اثر انداز ہیں .
جیسا کہ ہم نے اس قبل کہا تھا کہ انسانی طرز زندگي اور روش پر نظر ڈالنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسلامی اور مغربی تمدن کے درمیان واضح فرق موجود ہے ۔ یہ فرق اور اختلاف ان دونوں تہذیبوں پر حاکم ، تصور کائنات کا نتیجہ ہیں ۔ بلا شبہ یہ نظریاتی اختلافات ، طرز زندگي کے حالات اور ان کے اچھے اور برے ہونےنیز زندگي کی روش کی اصلاح کے لئے موثر واقع ہوں گے ۔
اسلامی طرز زندگي اس لحاظ سے کہ ایک روش اور طرز ہے اس لئے اس میں طریقۂ زندگي کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس اعتبار سے کہ اسلامی ہے اس لئے فرد اور معاشرے کے رویوں سے لا تعلق بھی نہیں ہے ۔ اس بناء پر ہر وہ طرز عمل جو اسلامی بنیاد پر ہو اسے اسلامی شناخت اور اعتقاد کا حامل ہونا ضروری ہے ۔ الہی تصور کائنات ، کہ جس کی بنیاد پر اسلامی طرز زندگي وجود میں آئے ، خدائے واحد پر اعتقاد ، قیامت اور دنیا و آخرت کی سعادت کی جانب ہدایت بشر کے لئے پیغمبران الہی کی بعثت کے عقیدے جیسے اصولوں پر استوار ہے ۔ یہ اصول درحقیقت ایسے بنیادی سوالوں کا جواب ہیں جو ہر آگاہ انسان کے ذہن میں ابھرتے ہیں ۔ اور وہ سوال اس طرح سے ہیں کہ کائنات کا خالق کون ہے ؟ زندگي کا اختتام کیسے ہوگا ؟ اور کس طریقے سے زندگي کے بہترین اصولوں کی شناخت اور پہچان کی جاسکتی ہے ۔ دنیا میں زندگي سے متعلق الہی تصور کائنات کے مطابق جو تعریف کی جاتی ہے وہ ایک جامع اور متعدد اصولوں کی بنیاد پر ہے کہ جن میں سے اہم ترين اصولوں کا ہم یہاں پر ذکر کريں گے ان میں سے ایک غیب پر ایمان ہے ۔
غیب کا تعلق خدا ، فرشتوں ، جن ، شیطان ، روح ، برزخ ، قیامت ، بہشت اور دوزخ سے ہے ۔ کائنات کا ایک حصہ ہمارے وجودکے ارد گرد ہے جو مادی خلقت کا مظہر ہے مثلا زمین ، آسمان ، ستارے اور دریا وغیرہ / لیکن کائنات کا عظیم حصہ غیب سے متعلق ہے جس کا مقدار کے لحاظ سے، ظاہر کائنات سے موازنہ نہیں ہوسکتا اور اس کے اثرات بھی انتہائي عظیم ہیں ۔ اگرچہ عام انسان ممکن ہے کہ مادی اور ظاہری اشیاء سے زیادہ وابستگي کے سبب کائنات کے اس دوسرے حصے سے انس نہ رکھتے ہوں تاہم اس حصے کے موجود ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور انسانوں کے طرز زندگي میں پیش آنے والے بہت سے مسائل ، غیب کے امور پر عدم اعتقاد اور اس بارے میں فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اگر کوئی غیب کے مسئلے کو اپنے لئے حل نہ کرسکے اور اس پراعتقاد پیدا نہ کرسکے تو وہ اسلام کے بارے میں حقیقی اعتقاد حاصل نہيں کرسکتا اور اس کے اصولوں پر عمل بھی نہیں کرسکتا ۔ مثال کے طور پر خدا ، قیامت ، بہشت و جہنم ، فرشتوں ، شیطان اور روح اور مجموعی طورپر غیبی امور کا تعلق ، ماوارائے زمان و مکان سے ہے اور وہ مادی محدودیت کے بھی حامل نہیں ہیں۔ یہ سب کے سب غیب کے مصادیق میں سے ہيں ۔ انسان اپنی دنیاوی زندگي میں خدا کے اذن سے غیب کے بعض مصادیق کو حاصل کرسکتا ہے اور اس کے بعض مصادیق عالم برزخ میں موت کے بعد یا عالم آخرت میں اس کے لئےظاہر اور آشکار ہوں گے ۔
خداوندعالم غیب کے مصادیق میں سے ہے وہ قابل رؤیت نہیں ہے ۔ انسانوں کو چاہیئے کہ خدا کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات کو دیکھ کر اس کے وجود پر ایمان لائیں اور وہ نشانیاں ہمارے اطراف میں بہت زیادہ ہیں اور قرآن میں بھی ان کا ذکر ہوا ہے ۔ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی مخلوق اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے سب پروردگار کے وجود کی نشانی ہے ۔الہی تصور کائنات میں توحید پر عقیدے کا لازمہ یہ ہے کہ اسے اپنے وجود میں رچا بسا لیا جائے ۔ اسی بناء پر ہر زندگي ، زندگي نہيں ہوتی ، کیوں کہ اگر زندگي کے تمام امور میں خدا محور و مرکز نہ قرار پائے تو اس سے معصیت اور ذلت کے سوا کوئی نیکی سرزد نہیں ہوگي ۔ فرزند رسول خدا (ص) حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں ، اطاعت خدا کی راہ میں موت کا ذائقہ ، معصیت خدا میں آلودہ زندگي کے ساتھ آنے والی موت سے کہیں زيادہ بہتر اور شیریں ہے اور خدا کی اطاعت کی راہ میں فقر و تنگدستی ، خدا کی نافرمانی کے ساتھ حاصل ہونے والی دولت و ثروت سے کہیں زيادہ عزیز ہے اور اطاعت الہی میں بلا اور سختی ہمارے لئے خدا کی معصیت ميں حاصل ہونے والے سکون اور سلامتی سے زیادہ محبوب ہے ۔( بحار الانوار ج 81 ص 173 )
سید الشہداء حضرت امام حسین (ع) فرماتے ہيں ، ذلت کی زندگي سے عزت کی موت بہتر ہے ۔ زندگي کی روش کے توحیدی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ طرز زندگي ، عبودیت الہی اور بندگي پروردگار کی آئینہ دار ہو ۔ اس طرح سے اسلامی آداب عام طور پر بندگي کے آداب ہیں ۔ چنانچہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای اس سلسلے میں فرماتے ہيں ۔ توحید محض ایک فلسفی اور فکری نظریہ نہيں ہے بلکہ انسانوں کے لئے ایک طرز زندگي ہے ۔ خدا کواپنی زندگي پر حاکم بنانا اور بڑی طاقتوں کو ہیچ اور ناچیز سمجھنا ہے ۔ لا الہ الا اللہ ، کہ جو ہمارے پیغمبر (ص) اور تمام انبیاء الہی کا اہم پیغام تھا ، اس معنی میں ہے کہ انسانوں کی زندگي اور ان کے زندگي کے انتخاب کی روش میں کوئی طاغوتی اور شیطانی طاقت کا عمل دخل نہ ہو ۔اگر توحید ، انسانی معاشرے ميں عملی صورت اختیار کرلے تو انسانوں کی دنیا آباد بھی ہوجائے گي اور اگرہم توحید اور خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہوں اور اس پر عمل کو اپنی زندگي ميں لازمی نہ قرار دیں اور رسم بندگي انجام نہ دیں تو ہمارا عمل توحیدی اور غیب پر عقیدے کا حامل نہیں ہوگااور پھر ہمارے عقیدے اور عمل میں بھی بہت فاصلہ ہوگا ۔
الہی تصور کائنات کے دیگر اہم اصولوں میں سے ایک ، کہ جو انسانی زندگي پر اثر انداز ہونے والے ہیں ، دنیا اور آخرت دونوں سے وابستہ ہونا ضروری ہے کہ جس کا ہم نے اس قبل کے پروگرام ميں ذکر کیا تھا اس سلسلے میں ہم یہ مزید یہ کہنا چاہيں گے کہ دنیوی زندگي کی مثال ایک کھیت کی مانند ہے کہ جس میں جتنا ممکن ہوسکے کاشت کرنی چاہئے تاکہ آخرت میں اسے کاٹ سکیں اور اپنے اصلی ہدف کو حاصل کر سکيں ۔ وصی رسول خدا حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہيں اے خدا کے بندوں ، اس دنیاسے اپنی آخرت کے لئے کہ جہاں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا نیک اعمال ساتھ لے جاؤ اس لئے کہ یہ دنیا ، عمل کی جگہ ہے اور آخرت میں تمہیں اسی عمل کی جزا ملے گي ۔ ( الکافی ج 8 ص 174 ) مولائے کائنات اسی طرح نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 133 میں زندگي دنیا سے بہرہ مند ہونے کے بارے میں فرماتے ہيں ۔ آگاہ ہوجاؤ کہ بے بصیرت انسان کی نگاہیں اسی دنیا کی حد میں محدود ہوتی ہیں اور وہ اس سے آگے نہيں دیکھتا لیکن بابصیرت انسان کی نگاہیں دنیا سے بالاتر ہوکر دیکھتی ہیں اور وہ جانتا ہےکہ اس کا حقیقی ٹھکانہ اس دنیاسے ماوراء ہے اور وہ آخرت ہے ۔پس جو بینا اور بابصیرت انسان ہیں ان کے دل دنیا سے اچاٹ ہوتے ہیں اور بے بصیرت انسان دنیاسے لو لگاتا ہے ، با بصیرت انسان دنیا سے آخرت کے لئے توشہ اکٹھا کرتا ہے جبکہ بے بصیرت انسان اسی دنیا کے لئے سب کچھ حاصل کرتا ہے ۔ حضرت امام علی علیہ السلام اپنے اس گرانبہا قول میں ان دو نظریوں سے حاصل ہونے والی زندگي کی روش میں موجود فرق کی جانب بخوبی اشارہ فرمارہے ہيں ۔ وہ نظریہ جو صرف دنیا کواپنا ہدف اور مقصد قرار دیتا ہے وہ اس چند روزہ زندگي کے لئے ہی صرف تگ ودو کرتا ہے اور جو افراد آخرت کو اپنی ابدی اور دائمی جگہ اور منزل قراردیتے ہيں وہ اپنی زندگي ميں اعمال خیر کے ذریعے آخرت کے لئے ایک پل تعمیر کرتےہیں ۔ اور یہیں ہم اس فرق کو بھی سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی عقائد ، اس کے طرز زندگي پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہيں ۔ اسلامی تصور کائنات میں مادی نعمتوں سے تا حد ضرورت استفادہ کرنے ميں کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ مادی حیات کے دوام کے لئے ایک ضرورت بھی ہے لیکن دنیا سے کسی قسم کی دل لگي اور اس سلسلے میں انتہا پسندی قابل مذمت ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہيں : میں تمہیں دنیا سے اجتناب کی تلقین کرتا ہوں کیوں کہ دنیا بہت زیادہ فریب دینے والی شیء ہے ۔ اور جب اہل دنیا اپنی آرزؤں کو پا بھی لیں پھر بھی دنیا خداوند عالم کی اس توصیف سے بالا تر نہیں ہے جیسا کہ وہ سورۂ کہف میں ارشاد فرماتا ہے اے پیغمبر انہیں زندگانی دنیاکی مثال اس پانی کی بتائیے کہ جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا توزمین کی روئیدگي اس سے مل جل گئي پھر آخر میں وہ ریزہ ریزہ ہوگئ جسے ہوائيں اڑا دیتی ہیں اور اللہ ہر شی پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ البتہ یہ ذکر کر دینا بھی لازمی ہے کہ اسلامی طرز زندگي ، انسان کی آسائش اور فلاح و بہبود میں مانع نہیں ہے بلکہ انسان کو بہتر اور سالم زندگي گذارنے کی دعوت دیتی ہے اور ایسی سہولیات کہ جس میں صرف شدت اور تن پروری ہو اس سے روکتی ہے ۔ اسلام ، عیش و عشرت اور پر تعیش زندگي گذارنے سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے ۔
اسلامی طرز زندگي میں ایک اور اہم اور کلیدی نکتہ ، زندگي سے پرامید اور خوش گمان ہونا ہے ۔ زندگي ایک ایسی نعمت ہے جسے خداوند عالم نے ہمیں عطا کیا ہے اس لئے اس کی قدر و منزلت کو سمجھنا چاہئے اور اس سے کما حقہ استفادہ کرتے ہوئے امیدوار ہونا چاہئے ۔ دنیا کے بارے میں اسلامی طرز فکر پر توجہ کے پیش نظر ، مشکلات اور مسائل ، ایک مسلمان فرد کے لئے دنیاسے بدگمانی کا سبب نہيں بننے چاہیئں ۔ اسلامی طرز زندگی میں مومن کو مشکلات پر نالہ و شکوہ کرنے سے منع کیا گيا ہے ۔ مومن کو چاہئے کہ ہمیشہ مشکلات کو برداشت کرنے کے عوض خدا کی جانب سے ملنے والی پاداش اور جزا کو مد نظر رکھے اور ہمیشہ لطف و رحمت الہی سے امید وابستہ رکھے ۔
ہمیں امید ہے کہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے اگرچہ اجمالی طور پر صحیح الہی تصور کائنات کے دائرے ميں زندگي کے ہدف اور مقصد سے کسی حد تک آپ آشنا ہوئے ہوں گے ۔ اگلے پروگرام میں ہم آداب و فرائض زندگي سے متعلق عرائض پیش کریں گے اس وقت تک کے لئے آپ سب کو خدا کی پناہ میں سونپتے ہیں ۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
