Super User

Super User

انسان کے سقوط میں ریاکاری کاکردارمعاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جو صرف دوسروں کو خوش کرنے یا اپنے عمل کو ظاہر کرنے کی نیت سے کام کرتے ہیں اس طرح کے افراد اپنے کاموں میں خداکی مرضی کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ اپنے رفتار وکردار میں خدا کو نظر انداز اور حد سے زیادہ ظواہر پر توجہ کرنے سے ریا کاری پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کے افراد کو ریاکار کہا جاتا ہے ۔

ریا ایک ناپسند خصلت ہے کہ انبیاء کرام اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بڑی شدت کے ساتھ اس سے منع کیا ہے کیونکہ ریاکاری انسان کو شرک کی طرف ڈھکیل دیتی ہے اور انسانیت کے مرتبے سے اس کے سقوط کا باعث بنتی ہے ۔

ریا کے لغوی معنی تظاہر اور خود نمائی کے ہیں اور اصطلاح میں اس نیک اوراچھے کام کو کہتے ہیں جسے انسان خدا کے لئے نہیں بلکہ تظاہر ،خود نمائی اور لوگوں کو دکھانے کے قصد سے انجام دیتا ہے یہ کام چاہے عبادی ہوں جیسے نماز چاہے غیر عبادی ہوں جیسے دوسروں کی مدد کرنا ۔ریاکار شخص دوسروں کی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے اس کے کام کو دیکھیں اور اس کی تعریف کریں حالانکہ خلوت اور تنہائی میں وہ اس کام کو انجام دینا نہیں چاہتا بلکہ اسے چھوڑ دیتا ہے ۔درحقیقت ریاکار دوسروں کو دکھانے کی غرض سے کام انجام دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف اور تمجید کریں اگر اس کی تعریف نہ کی جائے تو وہ دوبارہ اس عمل کو انجام نہیں دیتا ۔

ریا کاری سے انسان کا عمل نابود ہوجاتا ہے اوراس کےعمل کو اندر سے دیمک کی طرح کھوکھلا کردیتی ہے جس کے نتیجے میں اس کا عمل بے اثر اور بیکار ہوجاتا ہے۔ ریا کی نیت سے عبادت کرنے والی کی فکر یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کی عبادت اور عمل کو پسند کریں اس کی توجہ اس طرف قطعانہیں ہوتی کہ خدا بھی اس کی عبادت یاعمل کو پسند کرتا ہے یا نہیں ! حالانکہ مؤمن کا عقیدہ ہے کہ خدااپنے بندوں کے اعمال کو دیکھتا ہے اور نیک کام کرنے والوں کو ضرور پاداش دے گا۔بنابر ایں اسے لوگوں کی طرف کسی چیز کی نہ تو توقع ہوتی ہے ناہی تعریف وتمجید کا خواہاں ہوتا ہے ۔

ممکن ہے کہ شروع میں انسان ریاکاری پر مبنی عمل اور اس عمل کے درمیان تشخیص نہ دے سکے جسے بغیر ریاکاری کے انجام دیا ہے ۔ ریاکاری کی پہلی اور روشن علامت احسان جتانا ہے ۔اگر انسان کوئی کام انجام دے کر لوگوں پر احسان جتائے تو اس کے عمل کا اجر اور ثواب ختم ہوجاتا ہے ۔سورہ بقرہ کی آیت نمبر دوسو چونسٹھ میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو منت گذاری اور اذیت سے برباد نہ کرو اس شخص کی جو اپنے مال کو دنیا کو دکھانے کے لئے صرف کرتاہے اوراس کا امیان نہ خدا پر ہے اور نہ آخرت پر اس کی مثال اس صاف چٹان کی ہے جس پر گرد جم گئی ہوکہ تیز بارش کے آتے ہی بالکل صاف ہوجائے ،یہ لوگ اپرنی کمائی پوبھی اختیار نہیں رکھتے امو اللہ کافروں کی ہدایت نہيں کرتا ۔اس آیت میں منت گذاری ،اذیت اور ریاکاری کو ایک ہی ردیف میں شمار کیا گیا ہے اور انھیں اعمال وصدقات کی بربادی اور بطلان کا سبب قرار دیاگیا ہے حتی اس آیت کے مطابق ریاکار شخص خدا وآخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔

اسلام کی نظر میں ریاکاری ایک مذموم عمل ہے جو ریاکاری کرتا ہے وہ مؤمن نہیں ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ریاکاری مکمل شرک ہے ۔جو لوگوں کے لئے کام کرتا ہے اس اجرت لوگوں پر ہے اور جو خدا کے لئے کام کرتاہے اس کا اجر اور ثواب خدا کے ذمہ ہے ۔ عبادات میں سب سےا ہم مسئلہ نیت کا ہے ۔ نیت ہر عبادت کی روح شمار ہوتی ہے اور عبادت کی اہمیت اور قبولیت کا تعلق بھی نیت سے ہے ۔ اگر نیت میں اشکال ہو اور خدا کے لئے نہ ہو اگر چہ وہ عبادت کتنی ہی اہم اور بڑی کیوں نہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ہم اپنے روز مرہ کی عبادات اورمسائل میں بھی نیت کی اہمیت کے بہت زیادہ قائل ہیں اور خالص نیت سے انجام پانے والے کاموں کی قدر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر تمہارا دوست ملاقات کے وقت تم سے خیریت پوچھتے وقت تم پر قربان اورفدا ہونے کے الفاظ استعمال کرے اور کہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ چاہتا ہوں، تمہاری بہت زیادہ یاد آرہی تھی اگر تم یہ جان لو کہ اس نے یہ تمام باتیں محبت میں کہی ہیں تو اس کی یہ باتیں تمہارے لئے بہت ہی اہم اور قابل قدر ہوں گی جس کے نتیجے میں تم بھی اس سے زیادہ محبت کرنے لگو گے ۔لیکن اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ اس نے یہ باتیں تمہیں فریب دینے کے لئے کہی ہیں تاکہ تم سے فائدہ اٹھائے تو تم کبھی بھی اس کی باتوں پر توجہ نہیں دوگے اور ناہی اس کے احترام کے قائل ہوگے ۔ بلکہ وہ جتنا بھی ان باتوں کو دوہرائے گا اس سے نفرت بڑھتی جائے گی ۔ ظاہر میں دونوں کا عمل ایک جیسا ہوگاکیونکہ نیت سے عمل کا پتہ چل جاتاہے ۔بنابرایں یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ مؤمن اور ہوشیار افراد کام کی اہمیت کے بارے میں اس کے ظاہری آثار کو نہیں دیکھتے ہیں بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے کس نیت سے اس کام اور عمل کو انجام دیا ہے ۔

ریاکاری کے مقابلے میں اخلاص ہے ۔اخلاص یہ ہے کہ انسان کام کو صرف خدا کی مرضی اور اس کے فرمان کی انجام دھی کے قصد سے انجام دے اس کے علاوہ دوسرا کوئی قصد یا نیت نہ ہو ۔ ایسا شخص اپنے عمل کو کبھی بھی دوسروں کو دکھانے کے لئے انجام نہیں دے گا تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں بلکہ صرف خدا کے لئے انجام دیتا ہے ۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کوئی دوسروں کے سامنے کوئی عمل انجام دے اور لوگ اس کی تعریف کریں لیکن اہم یہ ہے کہ اس نے کسی کو دکھانے کے لئے یہ عمل انجام نہیں دیا ہے بلکہ صرف خدا کے لئے انجام دیا ہے ۔البتہ قابل ذکر ہے کہ انسان خلوص نیت سے اور صرف خدا کے لئے عمل انجام دے ۔ بعض مواقع پر دوسروں کی موجود گی میں عبادت کرنا یاعمل انجام دینا ایک امر مستحب ہے ۔ سورہ ابراہیم کی اکتسیویں آیت میں انفاق کے بارے ارشاد ہوتاہے کہ آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں ۔

کسی بھی عمل کو ریاکاری سے محفوظ رکھنا بہت بڑا کام ہے ،جو بھی خدا کے لئے کام کرے اور اپنے اعمال کو صرف خدا کی مرضی کے لئے انجام دے تو خدا کے نزدیک اس کا مقام بلند اور بالا ہے ۔ سورہ انسان پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلبیت اطہار علیہم السلام یعنی حضرت علی علیہ السلام ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ،حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کے خالصانہ عمل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس گھرانے نے تین روز متواتر اپنے افطار کو مسکین ، یتمیم اور اسیر کودئیے اور اس عمل کو صرف خدا اور اس کی مرضی کے حصول کے لئے انجام دئیے لہذا خدا وند متعال نے ان کے خالصانہ عمل کو قبول کرلیا اور ان کے کام کی تمجید میں سورہ انسان کو نازل فرمایا تاکہ وہ سب کے لئے نمونہ عمل قرار پائیں ۔

بعض علماء اور عرفاء بیان کرتے ہیں اگر آپ ریا کاری سے بچنا چاہتے ہیں حتی آپ نے نیک عمل کرنے کا جو ارادہ کیا ہے وہ بھی آپ کے ذھن میں نہ آئے اور صرف یہ کہے کہ خدا کا لطف وکرم تھا اور اس عمل سے آپ لذت محسوس کریں اور بار بار اپنے ذھن میں اس عمل کو دہراتے رہیں تودر حقیقت آپ نے اپنے عمل کے خلوص میں کمی کی ہے ۔ پس اگر آپ نے کسی کی مدد کی ہے یا آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا ہے ، خدا کے لئے قلم چلایا ہے اور خدانے جو حکم دیا ان سب پر عمل کیا ہے تو انھیں بار بار اپنے ذھن میں لانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ریا مادہ رائ سے ہے جس کے معنی رویت اور دیکھنےکے ہیں ۔ عمل کی تکرار کے ساتھ انسان اپنے عمل کو جو انجام دیا ہے اسے بہت بڑا دیکھے گااسی لئےوہ اپنی تعریف وتمجید کی زيادہ سے زیادہ امید بھی رکھے گا ۔ریا کاری سے بچنے کا ایک راستہ اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہے یعنی ہر شخص کو اپنے روزانہ کے عمل کا محاسبہ کرنا چاہئیے اور اپنے رفتار کردار اور اپنے تمام کاموں کا جائزہ لینا چاہئیے ۔اس عمل سے انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی نیت کے بارے زیادہ دقت کرے اور اپنے ظاہری اور باطنی تمام کاموں کے بارے میں اپنی نیت کو پہچانے اور اس سلسلے میں وہ سستی سے کام نہ لے ۔ کام کے بارے میں اس محاسبہ سے اسے ریاکاری کو پہچاننے میں مدد ملے گی ۔

کتاب چہل حدیث کے باب محاسبہ میں موجود بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحتوں پر ختم کررہے ہیں ۔ اے عزيز ! تم غفلت سے بیدار ہوجاؤ اور کام کے بارے میں غور وفکر کرو اور اپنے نامہ اعمال پر نظر ڈالو اور ان اعمال سے ڈرو جن اعمال کو تم نے عمل صالح کی نیت سے انجام دیاہے ،جیسے نماز ،روزہ اور حج وغیرہ یہ اعمال کہیں عالم آخرت میں تمہارے لئے ذلت وگرفتاری کا سبب نہ بن جائیں ۔ تم دنیا میں اپنے اعمال کا حساب کتاب کرلو کیونکہ یہ بہترین موقع ہے اور اگرتم اس دنیا میں اپنا محاسبہ نہیں کیا اور اپنا حساب کتاب درست نہیں کیا تو قیامت کے دن جب تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائےگا تو تم بڑی مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ گے ، حساب کتاب کے وقت خدا کے انصاف سے ڈرو اور غرور وتکبر سے پرہیز کرو اور نیک عمل کے سلسلے میں جد وجہد کرنے سے کبھی بھی دریغ نہ کرو۔

رہبر معظم کا مرحوم حبیب اللہ عسکر اولادی کے انتقال پر تعزیتی پیغامرہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے حضرت امام (رہ) کے وفادار،صادق، معتمد اور مجاہد دوست آقائ حاج حبیب اللہ عسگر اولادی کے انتقال پر تعزیتی پیغام ارسال کیاہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذيل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت امام (رہ) کے وفادار،صادق، معتمد اور مجاہد دوست آقائ حاج حبیب اللہ عسگر اولادی کے انتقال کی دردناک خبـر انتہائی افسوس اور رنج و غم کے ساتھ موصول ہوئي ۔اس مجاہد اور مبارز انسان نے اپنی بابرکت عمر کو اسلام کی خدمت اور انقلاب اسلامی کےقیام کے سلسلے میں بسر کیا اور جوانی سے لیکر عمر کے آخری برسوں تک اس راہ میں اپنی مخلصانہ مجاہدت، تلاش و کوشش اور ہمت میں کوئي کوتاہی نہیں کی، طاغوت اور ستم شاہی کےدور میں مجاہدت اور جہاد کے ابتدائی ایام سے ہی قوم ، علماء اور حضرت امام (رہ) کے ساتھ پر خطر صفوف میں حاضر ہوئے اور کئی سال تک قید کی صعوبتوں پر بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد حساس اور مؤثر عہدوں پر مخلصانہ خدمات سرانجام دیتے رہے اور اپنی عمر کے آخری لمحات تک کام اور تلاش و کوشش میں مصروف رہے ۔ اللہ تعالی سے مرحوم کے لئے رحمت اور فضل طلب کرتا ہوں اور مرحوم کے پسماندگان اور دوستوں کو تعزيت اور تسلیت پیش کرتا ہوں۔

سید علی خامنہ ای

14/آبان/ 1392

آیۃ اللہ موحدی : دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت

تہران کے خطیب جمعہ آیۃ اللہ موحدی کرمانی نے عالمی استکبار کے خلاف جدو جہد کے قومی دن چار نومبر کو ہونے والی عظیم ریلیوں اور مظاہروں میں عوام کی شرکت اور ان مظاہروں میں امریکہ مردہ آباد کے فلک شگاف نعروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام کے سخت دشمنوں کے مقابلے میں غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان سے غفلت کے نتیجے میں شدید نقصان اٹھانے پڑسکتے ہیں ۔

تہران کے خطیب جمعہ نے ملت ایران کے خلاف امریکہ کے جارحانہ رویوں اور اسی طرح امریکہ اور تسلط پسند نظام کے خلاف اسلامی جمہوریۂ ایران کے بانی حضرت امام خمینی (رح ) کی جدوجہد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ملت ایران کے خلاف امریکہ اور تسلط پسند نظام کی تمام سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار اور ان کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کرتے تھے ۔

آيۃ اللہ موحدی کرمانی نے اسی طرح سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کے ایام عزا پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین نے اپنی تحریک کے ذریعے مسلمانوں کو بہت عظیم درس دیئے اور ان میں سے ایک ، دشمن سے خوف نہ کھانا ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ مومنین کو دشمنوں کے مقابلے میں مطمئن ہونا چاہیئے اور یہی اطمینان انہيں کامیابی سے ہمکنار کرےگا ۔

مصر: صحرائے سینا میں سیکیورٹی فورسز پر حملہمصر کے علاقے سینا میں مسلح افراد نے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق جرمن نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مصر کے سیکیورٹی زرائع نے اعلان کیا ہے کہ نا معلوم مسلھ افراد نے سینا کے علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق العریش کے علاقے میں کوسٹل گارڈز پر ہونے والے اس حملے میں سرحدی پولیس کے اہلکاروں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ادھر جمعرات کے دن السبخہ کے علاقے میں مصر کے سیکیورٹی اہلکاروں اور تکفیری دہشتگردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں آٹھ تکفیری دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سینا کے علاقے میں کافی دنوں سے فوج کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان، نیٹو کے کنٹینرز تباہطالبان نےنیٹو کے کنٹینرز پر حملہ کر کے دو کنٹینروں کو تباہ کر دیاہے۔

پریس ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے کل صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود میں حملہ کرکے نیٹو کے دو کنٹینروں کو تباہ کر دیا۔اس حملے میں کنٹینروں کے ڈرائیور زخمی ہوئے۔

گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں نیٹو کے کنٹینروں کو طالبان نے اپنے حملوں کا نشانہ بنا کرسینکڑوں کنٹینروں کو تباہ کر دیا۔

مرگ بر امریکہ یعنی مسلمانوں کی نابودی کے منصوبے بنانے والے مردہ باد

رپورٹ کے مطابق 4 نومبر کو "استکبار کے خلاف جدوجہد کا قومی دن" [یا یوم مردہ باد امریکہ] اسلامی جمہوریہ ایران میں نہایت شاندار طریقے سے منایا گیا اور یہ دن اس بار پہلے سے کہیں زيادہ شاندار تھا کیونکہ بعض سیاستدانوں نے اس سے پہلے مرگ بر امریکہ کے نعرے کی مخالفت کی تھی۔ دارالحکومت تہران میں ریلیوں کا آخری ٹھکانہ امریکی جاسوسی گھونسلا یعنی سابق امریکی سفارتخانہ تھا، جہاں پر مختلف سڑکوں سے آنے والی ریلیوں نے ایک عظیم اجتماع کی شکل اختیار کی۔

اس موقع پر امریکی جاسوسی کے گھونسلے کے سامنے، اعلی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ اور اس کونسل میں رہبر انقلاب کے نمائندے اور مجمع تشخیص مصلحت کے رکن اور حالیہ صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار ڈاکٹر سعید جلیلی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر جلیلی کے خطاب کے اہم نکتے درج ذیل ہیں:

٭ ہم ایک بڑے واقعے کی یاد منا رہے ہیں جس کو ـ موجودہ دور میں ـ مکتب امام حسین(ع) کو احیاء کرنے والے امام خمینی(رح) نے پہلے انقلاب سے بڑا انقلاب قرار دیا۔

٭ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ امام خمینی(رح) کی منطق کیا تھی اور کیوں انھوں نے اس واقعے کو پہلے انقلاب سے بڑا انقلاب قرار دیا؟ پہلا انقلاب اور انقلاب کی کامیابی وہ کامیابی تھی جس نے اس ملک کی خودمختاری، استقلال اور اقدار کی راہ میں رکاوٹ بننے والے استبدادی نظام کو برطرف کردیا، لیکن امام(رح) کے اہداف اس سے بالاتر تھے۔

رہبر معظم کا 13 آبان کی مناسبت سے طلباء کے ایک عظيم اجتماع سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سامراجی طاقتوں سے مقابلہ کے قومی دن کی آمد کے موقع پر اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلباء کے اجتماع سے خطاب میں مذاکراتی ٹیم کے حکام اور مذاکرات کی محکم اور مضبوط حمایت کی اور ایرانی قوم کے ساتھ سامراجی طاقتوں کی دشمنی اور عداوت کے علل و اسباب بیان کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کے گذشتہ اور ماضی کے اعمال و رفتار سے بخوبی پتہ چلتا ہے ایٹمی معاملہ ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے کے لئے صرف ایک بہانہ ہے۔ کسی کو دشمن کی فریبکارانہ مسکراہٹ پر غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں بہت خوب، ورنہ مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں اندرونی وسائل پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 13 آبان کے تین تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کو 1343 ہجری شمسی میں امریکی فوجیوں اور اہلکاروں کو ایران میں عدالتی استثنی کے معاہدے کے خلاف تقریر کرنے کی وجہ سے ملک بدر کردیا گيا، سن 1357 ہجری شمسی میں امریکہ کی حامی حکومت کے اہلکاروں کے ہاتھوں تہران میں طلباء کا وحشیانہ قتل عام ، اور سن 1358 میں طلباء کے دلیرانہ اقدام کے ذریعہ امریکی سفارتخانہ پر قبضہ ، یہ تینوں واقعات کسی نہ کسی زاویہ سے امریکی حکومت سے متعلق ہیں اور اسی وجہ سے 13 آبان کے دن کو سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کے دن سے موسوم کیا گيا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن مجید میں استکبار کے لفظ کی تشریح سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے مؤمن اور شجاع جوانوں نے 1358 ہجری شمسی میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرکے اس کی حقیقت اور اصلی تصویر کو برملا کردیا جو حقیقت میں جاسوسی کا مرکز تھا، ایرانی جوانوں نے تیس سال پہلے امریکہ کی جاسوسی کا انکشاف کرکے اسے دنیا کے سامنے پیش کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس دن ہمارے جوانوں نے امریکی سفارتخانہ کو جاسوسی کے اڈے اور مرکز سے موسوم کیا اور آج تیس سال بعد امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک امریکی سفارتخانوں کو جاسوسی کے اڈے اور جاسوسی کےمراکز سے موسوم کر رہے ہیں۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے جوان تیس سال پہلےدنیا کے کلینڈر سے کہیں آگے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس نکتہ کے اظہار کے بعد استکباری لفظ کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: استکبار کا اطلاق ایسے انسانوں اور حکومتوں پر ہوتا ہے جو دوسری قوموں اور دوسرے افراد کے معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور کسی کے سامنے جوبدہ بھی نہیں ہیں۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: استکبار کے مد مقابل وہ انسان اور قومیں ہیں جو استکباری طاقتوں کی مداخلت اور منہ زوری کو نہ صرف برداشت نہیں کرتیں بلکہ اس کا مقابلہ بھی کرتی ہیں اور ایرانی قوم ایک ایسی ہی قوم ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکی حکومت کو استکباری حکومت قراردیا اور اس کی طرف سے دوسروں کے امور میں مداخلت کو اپنا حق سمجھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم اپنے اسلامی انقلاب کے ذریعہ امریکہ کی منہ زوری اور اس کی تسلط پسندی کے مقابلے میں کھڑی ہوگئی اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اس نے اپنے ملک سے استکبار کی جڑیں بالکل کاٹ دیں ، اور بعض ممالک کی طرح ایرانی قوم نے اس کام کو نامکمل نہیں چھوڑا بلکہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کسی بھی قوم اور ملک کے لئے مستکبر کے ساتھ صلح و مذاکرات کو بے فائدہ قراردیتے ہوئے فرمایا: تمام قومیں امریکہ کی استکباری خصلت ک وجہ سے اس سے متنفر اور اس کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہیں اور تجربہ سےیہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جو قوم اور حکومت، امریکہ پر اعتماد کرےگی وہ ضرور چوٹ کھائے گی، حتی اگر امریکہ کے دوست ہی کیوں نہ ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں کچھ تاریخی نمونے پیش کئے جن میں ڈاکٹر مصدق کا امریکیوں پر اعتماد اور امریکیوں کا جواب میں 28 مرداد میں مصدق کے خلاف کودتا،اور اسی طرح ایران سے محمد رضا پہلوی کے فرار کے بعد امریکیوں کی اس کے ساتھ بے وفائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج قوموں میں سب سے زیادہ نفرت، امریکی حکومت کے بارے میں پائی جاتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر آج دنیا میں ایک سالم اور منصفانہ سروے کروایا جائے تو پوری دنیا میں عوام کی رائے امریکی حکومت کے بارے میں سب سے زيادہ منفی ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: عالمی استکبار کے ساتھ قومی مقابلہ کا دن ایک اساسی اور بنیادی مسئلہ ہے جو درست تجزيہ اور تحلیل پر استوار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تمام طلباء کو استکبار کے ساتھ مقابلے کے مسئلہ کے بارے میں صحیح اور دقیق تجزيہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب کے اوائل کے جوانوں کو امریکہ کے بارے میں تجزيہ اور تحلیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انھوں نے بے رحم طاغوتی حکومت کی حمایت اور امریکہ کے ظلم و ستم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا تھا لیکن آج کے جوان کو درست تحقیق اور تجزيہ کے ساتھ اس مطلب تک پنہچنا چاہیے کہ ایرانی قوم امریکہ کی استکباری خصلت کے کیوں خلاف ہے اور ایرانی قوم کی امریکہ سے بیزاری کی اصلی وجہ اور دلیل کیا ہے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد امریکہ کے ساتھ جاری مسائل کے بارے میں کچھ اہم اور بنیادی نکات پیش کئے اور گروپ 1+5 کے ساتھ ایرانی مذاکراتی ٹیم اور حکام کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی ٹیم انقلاب کے فرزندوں اور اسلامی جمہوریہ کے حکام پر مشتمل ہے جو اپنی تمام کوششوں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں اور کسی کو "انھیں کمزور کرنے ، ان کی توہین کرنے یا انھیں سازشی قراردینے کا حق نہیں ہے" ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: گروپ 1+5 میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس گروپ کے ساتھ ایران کے مذاکرات صرف ایٹمی معاملے تک محدود ہیں اور ہمیں ان مذاکرات سے کوئي ضرر یا نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہمارے تجربہ میں مزید اضافہ ہی ہوگا اور سن 1382 اور 1383 ہجری شمسی کے تجربہ کی طرح عوام کی تجزيہ اور تحلیل کی طاقت میں مزيد استحکام ہوگا جس میں عارضی طور پر یورینیم کی افزودگي کو متوقف کیا گيا تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس قومی تجربے کے مزید نتائج کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: ایک عشرہ قبل یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں عقب نشینی کرتے ہوئے ہم نے ایک قسم کی مسلط کردہ تعلیق کو قبول کرلیا لیکن دو سال تک کام معطل، معلق اور متوقف کرنے کے بعد سبھی سمجھ گئے کہ حتی اس قسم کے اقدام کے ذریعہ بھی مغربی ممالک کا تعاون حاصل نہیں کرسکیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو ممکن تھا بعض لوگ یہ دعوی کرتے کہ اگر ایک بار عقب نشینی کرلیتے تو ایٹمی فائل کے بارے میں تمام مشکلات حل ہوجاتیں ، لیکن عارضی تعلیق کے تجربہ سے سبھی نے درک کرلیا کہ فریق مقابل دوسرے اہداف کے پیچھے ہیں لہذا ہم نے کام اور پیشرفت کا دوبارہ آغاز کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کی موجودہ ایٹمی صورتحال کو ایک عشرہ پہلے کی صورتحال سے بالکل متفاوت اور اس میں زمین و آسمان کا فرق قراردیا اور امریکہ کے ساتھ جاری مسائل میں متعلقہ حکام کی مضبوط اور سنجیدہ حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: میں جاری مذاکرات سے مطمئن اور پرامید نہیں ہوں کیونکہ ان مذاکرات سے قوم کو جن نتائج کی توقع اور امید ہے شاید وہ حاصل نہ ہوں لیکن اس بات پر اعتقاد ہے کہ یہ تجربہ کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہےبشرطیکہ قوم بیدار رہے اور جان لے کہ کیا ہونے والا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے غلط پروپیگنڈہ کرنے والےبعض مفادپرست اور سادہ لوح عناصر پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا: بعض عناصر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا سہارا لیکر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر ایٹمی معاملے میں ہم تسلیم ہوجائیں تو تمام اقتصادی اور غیر اقتصادی مشکلات حل ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس تبلیغاتی چال کے باطل ہونے کے ثبوت میں ، ایران کے ایٹمی معاملے سے پہلے ایران کے خلاف امریکہ کے گھناؤنےمنصوبوں اور سازشوں کا حوالہ دیا، اور پوری قوم ،بالخصوص جوانوں اور طلباء سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں غور و فکر اور دقیق مطالعہ کریں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کچھ سوال پیش کرتے ہوئے فرمایا: کیا انقلاب کے اوائل میں جب امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کیں اور ان پابندیوں کو جاری رکھا، کیا اس وقت ایران کا ایٹمی معاملہ موجود تھا؟ جب امریکہ نے ایران کے مسافر طیارے کو نشانہ بنایا اور 290 مسافروں کا قتل عام کیا، کیا اسوقت ایٹمی بہانہ یا ایٹمی مسئلہ موجود تھا؟ انقلاب کے اوائل میں جب امریکہ نے شہید نوژہ بیس میں کودتا کا منصوبہ بنایا، کیا اس وقت ایٹمی بہانہ موجود تھا؟ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امریکہ کی طرف سے انقلاب مخالف عناصر کی سیاسی اور فوجی حمایت کی اصل وجہ کیا ایران کا ایٹمی پروگرام تھا؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان سوالوں کے منفی جواب کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: لہذا ایٹمی مسئلہ صرف ایک بہانہ ہے، فرض کرلیتے ہیں کہ اگر ایٹمی معاملہ ہماری عقب نیشینی کی بنا پر حل بھی ہوجائے تو پھر بھی وہ ایران کے ساتھ دشمنی اور عداوت جاری رکھنے کے لئے دسیوں دوسرے بہانے تلاش کرلیں گے جن میں میزائلوں کی پیشرفت، ایرانی قوم کی اسرائيل کے ساتھ مخالفت اور ایرانی قوم کی لبنان اور فلسطین میں اسلامی مقاومت کی حمایت جیسے بہانے شامل ہوسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان حقائق کا حوالہ دینے کے بعد فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکیوں کی دشمنی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایرانی قوم کا ان کے تمام مطالبات کو رد کرنے کے ساتھ اس بات پر یقین ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکہ ، اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود، ایرانی قوم کے منتخب و مقتدر نظام اور علاقہ میں اس کے اثر و رسوخ کے بالکل خلاف ہےجیسا کہ حال ہی میں امریکہ کے ایک سیاستداں اور فکری عنصر نےواضح طور پر اعلان کیا کہ ایران چاہے ایٹمی ہو یا نہ ہو وہ خطرناک ہے کیونکہ وہ علاقہ میں بااثر اور صاحب اقتدار ہے اور خود ان کے بقول علاقہ پر ایران کی قیادت حکمفرما ہوگئی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: ایران کا ایٹمی معاملہ صرف بہانہ ہے اور امریکی اسوقت دشمنی سے ہاتھ کھینچ لیں گے جب ایرانی قوم ایک الگ تھلگ ، غیر معتبر اور غیر محترم قوم بن جائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ مشکلات اور مسائل کا حقیقی حل اندرونی وسائل اور اندرونی طاقت پر توجہ مبذول کرنے کو قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر کوئی قوم اپنی قدرت اور توانائیوں پر قائم رہے تو وہ دشمن کی ناراضگی اور پابندیوں سے متلاطم نہیں ہوگي اور ہمیں اس ہدف تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ماضی اور حال کے تمام حکام سے ہماری یہی سفارش رہی ہے کہ ترقی و پیشرفت کے سلسلے میں اور مسائل و مشکلات کے حل کے لئے ایران کی وسیع جغرافیائی، قدرتی وسائل اور انسانی ظرفیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں سفارتی کوششوں کو بھی بہت ہی ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اندرونی ظرفیتوں سے استفادہ کا مطلب سفارتی کوششوں کی مخالفت نہیں ہے۔ لیکن توجہ رکھنی چاہیے کہ سفارتی کوششیں کام کا صرف ایک حصہ ہیں اور اصلی کام اندرونی توانائیوں پر استوار ہے جو مذاکرات کی میز پر بھی معتبر اور مقتدر ثابت ہوسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوم اور حکام کی توجہ اس اہم نکتہ کی طرف مبذول کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے لیکر اب تک ایران دشمنوں کے مقابلے میں کبھی بھی مایوسی سے دوچار نہیں ہوا اور اس کے بعد بھی نہیں ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس بات کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے پاس انقلاب کے پہلے عشرے میں بہت سے مادی وسائل منجملہ پیسہ، ہتھیار ، تجربہ اور کارآزمودہ فوج نہیں تھی جبکہ مخالف محاذ یعنی صدام معدوم اور اس کے حامی مغربی اور مشرقی طاقتیں طاقت و توانائی کے اوج پر تھیں لیکن وہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اب ایران اور اس کے مخالف محاذ کے شرائط پہلے سے کہیں زيادہ متفاوت ہیں، کیونکہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ، علم و ٹیکنالوجی ، عالمی وقار و اعتبار،ہتھیار اور کئی ملین آمادہ جوان موجود ہیں جبکہ اس کے مخالف محاذ یعنی امریکہ اور اس کے اتحادی آج مختلف قسم کی سیاسی ، اقتصادی اور دوسرے بہت سے اختلافات سے دوچار ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےامریکہ میں سیاسی اختلافات، امریکی حکومت کی 16 دن تک تعطیل ،بڑی اقتصادی مشکلات، بجٹ میں کئی ہزار ارب ڈالر کا خسارہ اور گوناگوں مسائل منجملہ شام پر حملہ کے مسئلہ میں یورپ اور امریکہ کے درمیان شدید اختلافات کو ایران کے مخالف محاذ کی موجودہ مشکل صورتحال قراردیتے ہوئے فرمایا: آج ایرانی قوم پہلے سے کہیں زيادہ پیشرفت کی مالک ، آگاہ اور صاحب اقتدار بن چکی ہے اور اس کا 20 یا 30 سال پہلے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ وہ پھر بھی دباؤ قائم رکھیں گے لیکن ہمیں اپنی اندرونی توانائیوں پر اعتماد کرتے ہوئے دباؤ کو برداشت اور اس سے عبور کرجانا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذاکرات اور سفارتکاری کے میدان میں حکومت اور متعلقہ حکام کی کوششوں اور اقدامات کی ایک بار پھر حمایت کرتے ہوئے فرمایا: یہ اقدام ایک تجربہ اور ممکنہ طور پر ایک مفید کام ہے اگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوا تو بہت بہتر، لیکن اگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ملک کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: میں اپنی پہلی سفارش کو ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ دشمن کی مسکراہٹ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مذاکراتی ٹیم اور سفارتی حکام کومیری یہ ہدایت ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور دشمن کی فریبکارانہ مسکراہٹ سے کہیں غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی حکام کو فریق مقابل کے اظہارات اور اقدامات پر ضروری توجہ رکھنی چاہیے کیونکہ وہ ایک طرف مسکرا کر مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور پھر دوسری طرف بلا فاصلہ یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف تمام آپشن میز پر موجود ہیں، مثال کے طور پر اب وہ کیا غلطی کرنا چاہتے ہیں معلوم نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران پر ایٹمی حملہ کرنے کا مطالبہ کرنے والے ایک امریکی سیاستداں کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر امریکی سچ کہتے ہیں اور مذاکرات میں سچے اور سنجیدہ ہیں تو انھیں اس بیہودہ شخص کا منہ توڑدینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: وہ حکومت جو عالمی اور ایٹمی مسائل کے بارے میں ذمہ داری کا دعوی کرتی ہے وہ دوسروں کو ایٹمی دھمکی دیکر غلط بات کرتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: آج امریکی حکومت اور امریکی کانگریس پر صہیونی کمپنیوں اور صہیونی سرمایہ داروں کا تسلط قائم ہے جس کی وجہ سے وہ صہیونیوں کا لحاظ رکھنے پر مجبور ہیں لیکن ہم صہیونیوں کا لحاظ رکھنے پر مجبور نہیں ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہم نے پہلے دن کہا، آج بھی کہہ رہے ہیں اور آئندہ بھی کہیں گے کہ ہم صہیونی حکومت کو جعلی، ناجائز اور حرامزادہ حکومت جانتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوم اور حکام کی ہوشیاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم حکام کے ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو ملک کی مصلحت میں ہوگا۔ اور حکام ، قوم اور بالخصوص جوانوں کو پھر سفارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی آنکھوں کو مکمل طور پر کھول لیں کیونکہ قوم کے اہداف تک پہنچنے کا واحد راستہ آگاہی اور ہوشیاری پر مبنی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام میں فرمایا: امیدوار ہیں کہ جوان اپنے شاداب جذبہ کے ساتھ ملک کو اپنی تحویل میں لیں اور اپنی خلاقیت کے ذریعہ اسے ترقی کے بام عروج تک پہنچادیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم

والحمدلله رب العالمين و الصلوة والسلام علي سيدالانبياء و المرسلين و علي آله الطيبين و صحبه المنتجبين

موسم حج کی آمد کو امت اسلامیہ کی عظیم عید سمجھنا چاہئے۔ ہر سال یہ گراں قدر ایام دنیا بھر کے مسلمانوں کو جو سنہری موقعہ فراہم کرتے ہیں وہ ایسا کرشماتی کیمیا ہے کہ اگر اس کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا جائے اور اس سے کما حقہ استفادہ کیا جائے تو عالم اسلام کے بہت سے مسائل اور کمزوریوں کا علاج ہو سکتا ہے۔

حج فیضان الہی کا چشمہ خروشاں ہے۔ آپ خوش قسمت حاجیوں میں ہر ایک کو اس وقت یہ خوش قسمتی حاصل ہوئی ہے کہ نورانیت و روحانیت سے معمور ان مناسک و اعمال کے دوران دل و جان کی طہارت کرکے اس رحمت و عزت و قدرت کے سرچشمے سے اپنی پوری زندگی کے لئے سرمایہ حاصل کریں۔ خدائے رحیم کے سامنے خشوع اور خود سپردگی، مسلمانوں کے دوش پر ڈالے جانے والے فرائض کی پابندی، دین و دنیا کے امور میں نشاط و عمل و اقدام، بھائیوں کے سلسلے میں رحمدلی و درگزر، سخت حوادث کا سامنا ہونے پر جرائت و خود اعتمادی، ہر جگہ ہر شئے کے سلسلے میں نصرت خداوندی کی امید، مختصر یہ کہ تعلیم و تربیت کے اس ملکوتی میدان میں مسلمان کہلانے کے لایق انسان کی تعمیر و نگارش کو آپ اپنے لئے بھی مہیا کر سکتے ہیں اوراپنے وجود کو ان زیوروں سے آراستہ اور ان ذخیروں سے مالامال کرکے اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے اور سرانجام امت اسلامیہ کے لئے بطور سوغات لے جا سکتے ہیں۔

آج امت اسلامیہ کو سب سے بڑھ کر ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو ایمان و پاکیزگی و اخلاص کے ساتھ ساتھ فکر و عمل اور روحانی و معنوی خود سازی کے ساتھ ساتھ کینہ توز دشمنوں کے مقابل جذبہ استقامت سے آراستہ ہو۔ یہ مسلمانوں کے اس عظیم معاشرے کی ان مصیبتوں سے رہائی کا واحد راستہ ہے جن میں وہ آشکارا طور پر دشمنوں کے ہاتھوں یا قدیم ادوار سے قوت ارادی، ایمان اور بصیرت کی کمزوری کے نتیجے میں گرفتار ہے۔

بیشک موجودہ دور مسلمانوں کی بیداری اور تشخص کی بازیابی کا دور ہے۔ اس حقیقت کو ان مسائل کے ذریعے بھی واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے جن سے مسلمان ممالک آج دوچار ہیں۔ ایسے ہی حالات میں ایمان و توکل علی اللہ، بصیرت اور تدبیر پر استوار عزم و ارادہ مسلم اقوام کو ان مسائل سے کامیابی اور سرخروئی کے ساتھ نکال سکتا ہے اور ان کے مستقبل کو عزت و وقار سے آراستہ کر سکتا ہے۔ مد مقابل محاذ جو کسی صورت میں بھی مسلمانوں کی بیداری کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے، اپنی پوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتر پڑا ہے اور مسلمانوں کو کچلنے، پسپا کرنے اور آپس میں الجھا دینے کے لئے تمام نفسیاتی، عسکری، اقتصادی، تشہیراتی اور سیکورٹی کے شعبے سے مربوط حربوں کو استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام، عراق، فلسطین اور خلیج فارس کے ملکوں تک مغربی ایشیا کی تمام ریاستوں، نیز شمالی افریقا میں لیبیا، مصر اور تیونس سے لیکر سوڈان اور بعض دیگر ممالک تک تمام ملکوں پر ایک نگاہ ڈالنے سے بہت سے حقائق واضح ہو جاتے ہیں۔ خانہ جنگی، اندھا دینی و مسلکی تعصب، سیاسی عدم استحکام، بے رحمانہ دہشت گردی کی ترویج، ایسے گروہوں اور حلقوں کا ظہور جو تاریخ کی وحشی قوموں کے انداز میں انسانوں کے سینے چاک کرتے ہیں، ان کا دل نکال کر دانتوں سے بھنھوڑتے ہیں، وہ مسلح عناصر جو بچوں اور خواتین کو قتل کرتے ہیں، مردوں کے سر قلم کرتے ہیں اور ان کی ناموس کی آبروریزی کرتے ہیں، ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بعض مواقع پر یہ شرمناک اور نفرت انگیز جرائم دین کے نام پر اور پرچم دین کے تلے انجام دیتے ہیں، یہ سب کچھ اغیار کی خفیہ ایجنسیوں اور علاقے میں ان کے ہمنوا حکومتی عناصر کی شیطانی اور سامراجی سازشوں کا نتیجہ ہے جو ملکوں کے اندر موافق مقامات پر وقوع پذیر ہونے کا امکان حاصل کر لیتی ہیں اور قوموں کا مقدر تاریک اور ان کی زندگی کو تلخ کر دیتی ہیں۔ یقینا ان حالات میں یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ مسلمان ممالک روحانی و مادی خلا کو پر کریں گے اور امن و سلامتی، رفاہ آسائش، علمی ترقی اور عالمی ساکھ کو جو بیداری اور تشخص کی بازیابی کا ثمرہ ہے حاصل کر سکیں گے۔ یہ پرمحن حالات اسلامی بیداری کو ناکام اور عالم اسلام میں ذہنی اور نفسیاتی سطح پر پیدا ہونے والی آمادگی کو ضائع کر سکتے ہیں اور ایک بار پھر برسوں کے لئے مسلم اقوام کو جمود و تنہائی اور انحطاط کی جانب دھکیل کر ان کے کلیدی مسائل جیسے امریکا اور صیہونزم کی مداخلتوں اور جارحیتوں سے فلسطین اور مسلم اقوام کی نجات کے موضوع کو فراموش کروا سکتے ہیں۔

اس کے بنیادی اور اساسی حل کو دو کلیدی جملوں میں بیان کیا جا سکتا ہے اور یہ دونوں ہی حج کے نمایاں ترین درس ہیں:۔

اول: پرچم توحید کے نیچے تمام مسلمانوں کا اتحاد اور اخوت

دوم: دشمن کی شناخت اور اس کی چالوں اور سازشوں کا مقابلہ

اخوت و ہمدلی کے جذبے کی تقویت حج کا عظیم درس ہے۔ یہاں دوسروں کے ساتھ بحث و تکرار اور تلخ کلامی بھی ممنوع ہے۔ یہاں یکساں پوشاک، یکساں اعمال، یکساں حرکات و سکنات اور محبت آمیز برتاؤ ان تمام لوگوں کی برادری و مساوات کے معنی میں ہے جو اس مرکز توحید پر عقیدہ رکھتے ہیں اور قلبی طور پر اس سے وابستہ ہیں۔ یہ ہر اس فکر و عقیدے اور پیغام پر اسلام کا دو ٹوک جواب ہے جس میں مسلمانوں اور کعبہ و توحید پر عقیدہ رکھنے والوں کے کسی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے۔ تکفیری عناصر جو آج عیار صیہونیوں اور ان کے مغربی حامیوں کی سیاست کا کھلونا بن کر ہولناک جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور مسلمانوں اور بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں اور دینداری کے دعوے کرنے والے اور علماء کا لباس پہننے والے وہ افراد جو شیعہ و سنی تنازعے یا دیگر اختلافات کی آگ بھڑکا رہے ہیں، یا بات جان لیں کہ خود مناسک حج ان کے دعوے پر خط بطلان کھینچتے ہیں۔

بہت سے علمائے اسلام اور امت اسلامیہ کا درد رکھنے والے افراد کی طرح میں بھی ایک بار پھر یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہر وہ قول و فعل جو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے شعلہ ور ہو جانے کا باعث بنے، نیز مسلمانوں کے کسی بھی فرقے کے مقدسات کی توہین یا کسی بھی اسلامی مسلک کو کافر قرار دینا کفر و شرک کے محاذ کی خدمت، اسلام سے خیانت اور شرعا حرام ہے۔

دشمن اور اس کی روش کی شناخت دوسرا اہم نکتہ ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کینہ پرور دشمن کے وجود کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے اور حج میں چند بار انجام پانے والا رمی جمرات کا عمل اس دائمی توجہ کا علامتی عمل ہے۔ دوسرے یہ کہ اصلی دشمن کی شناخت میں جو آج عالمی استکبار اور جرائم پیشہ صیہونی نیٹ ورک کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، کبھی غلطی نہیں کرنا چاہئے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس کٹر دشمن کی چالوں کو جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ انگیزی، سیاسی و اخلاقی بدعنوانی کی ترویج، دانشوروں کو رجھانے اور ڈرانے، قوموں پر اقتصادی دباؤ اور اسلامی عقائد کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے عبارت ہیں بخوبی پہچاننا چاہئے اور اسی طریقے سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس کے مہروں میں تبدیل ہو جانے والے عناصر کی بھی نشاندہی کر لینا چاہئے۔

استکباری حکومتیں اور ان میں سر فہرست امریکا وسیع و پیشرفتہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے اصلی چہرے کو چھپا لیتے ہیں اور انسانی حقوق اور جمہوریت کی پاسبانی کے دعوؤں سے قوموں کی رائے عامہ کے سامنے فریب دینے والا برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ ایسے عالم میں اقوام کے حقوق کا دم بھرتے ہیں کہ جب مسلم اقوام ہر دن اپنے جسم و جان سے ان کے فتنوں کی آگ کی تمازت کا پہلے سے زیادہ احساس کرتی ہیں۔ مظلوم فلسطینی قوم پر ایک نظر جو دسیوں سال سے روزانہ صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے جرائم کے زخم کھا رہی ہے۔ یا افغانستان، پاکستان و عراق جیسے ممالک پر ایک نظر جہاں استکبار اور اس کے علاقائی ہمنواؤں کی پالیسیوں کی پیدا کردہ دہشت گردی سے زندگی تلخ ہوکر رہ گئی ہے۔ یا شام پر ایک نظر جو صیہونیت مخالف مزاحمتی تحریک کی پشت پناہی کے جرم میں بین الاقوامی تسلط پسندوں اور ان کے علاقائی خدمت گزاروں کے کینہ پرستانہ حملوں کی آماجگاہ بنا ہے اور خونریز خانہ جنگی میں گرفتار ہے، یا بحرین یا میانمار پر ایک نظر جہاں الگ الگ انداز سے مصیبتوں میں گرفتار بے اعتنائی کا شکار ہیں اور ان کے دشمنوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ یا یا دیگر اقوام پر ایک نظر جنہیں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پے در پے فوجی حملوں، یا اقتصادی پابندیوں، یا سیکورٹی کے شعبے سے متعلق تخریبی کارروائیوں کے خطرات لاحق ہیں، تسلط پسندانہ نظام کے عمائدین کے اصلی چہرے سے سب کو روشناس کرا سکتی ہے۔

عالم اسلام میں ہر جگہ سیاسی، ثقافتی اور دینی شخصیات کو چاہئے کہ ان حقائق کے افشاء کی ذمہ داری کا احساس کریں۔ یہ ہم سب کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے ۔شمالی افریقا کے ممالک جو بد قسمتی سے ان دنوں گہرے داخلی اختلافات کی لپیٹ میں ہیں، دوسروں سے زیادہ اپنی عظیم ذمہ داری یعنی دشمن، اس کی روش اور اس کے حربوں کی شناخت پر توجہ دیں۔ قومی جماعتوں اور دھڑوں کے درمیان اختلافات کا جاری رہنا اور ان ملکوں میں خانہ جنگی کے اندیشے غفلت ایسا بڑا خطرہ ہے کہ اس سے امت اسلامیہ کو پہنچنے والے نقصانات کا جلدی تدارک نہیں ہو پائے گا۔

البتہ ہم کو اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس علاقے کی انقلابی قومیں جہاں اسلامی بیداری مجسم ہو چکی ہے، اذن پروردگار سے یہ موقعہ نہیں دیں گی کہ وقت کی سوئی برعکس سمت میں گھومے اور بدعنوان، پٹھو اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کا دور واپس آئے، لیکن فتنہ انگیزی اور تباہ کن مداخلتوں میں استکباری طاقتوں کی کردار کی جانب سے غفلت ان کی مہم کو دشوار بنا دے گی اور عزت و سلامتی اور رفاہ و آسائش کے دور کو برسوں پیچھے دھکیل دے گی۔ ہم قوموں کی توانائی اور اس طاقت پر جو خدائے حکیم نے عوام الناس کے عزم و ایمان اور بصیرت میں قرار دی ہے، دل کی گہرائیوں سے یقین رکھتے ہیں اور اسے ہم نے تین عشرے سے زیادہ کے عرصے کے دوران اسلامی جمہوریہ کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے پورے وجود سے اس کا تجربہ کیا ہے۔ ہمارا عزم تمام مسلم اقوام کو اس سربلند اور کبھی نہ تھکنے والے ملک میں آباد ان کے بھائیوں کے تجربے سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالی سے مسلمانوں کی بھلائی اور دشمنوں کے مکر و حیلے سے حفاظت کا طلبگار ہوں اور بیت اللہ کے آپ تمام حاجیوں کے لئے حج مقبول، جسم و جان کی سلامتی اور روحانیت سے سرشار خزانے کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام عليكم و رحمة الله

سيّد علي خامنه‌اي

پنجم ذي‌الحجه 1434 (ہجری قمری) مطابق 19 مهرماه 1392 (ہجری شمسی برابر 12 اکتوبر 2013 عیسوی)

Saturday, 21 September 2013 05:20

امثال وحکم قرآنی

امثال وحکم قرآنی

خداوند متعال نے اعلی عقلی مفاہیم کو مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنی عقل کے تناسب سے سمجھ سکيں ۔ بنابرایں قرآنی مثالوں کا فلسفہ اعلی اور گہرے مسائل کو سادہ اور لوگوں کے عقل وفہم کے مطابق بیان کرنا ہے ۔

مثل یعنی حقائق علمی کو محسوس کی جانے والی چیزوں سے تشبیہ دینا ،اس تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے عقلی مسائل ہیں کہ اکثر لوگوں میں جنھیں سمجھنے اور درک کرنے کی طاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے ۔ لیکن عادت کی وجہ سے محسوساتی اشیاء کو بہتر اور آسانی سے درک کرلیتے ہیں ۔، عقلی بحثوں میں توضیح وتفسیر کے سلسلے میں مثال کا کردار ناقابل انکار ہے اسی لئے حقائق کو واضح اور روشن اور انھیں ذھن سے نزدیک کرنے میں ہم ہمیشہ مثال کے محتاج ہیں کیونکہ کبھی ایک مثال دقیق اور مقصود سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ وضاحت کے بارے میں ایک کتاب کا کام کرتی ہے اور مشکل مطالب کو سب کے لئے عام فہم بنادیتی ہے ۔

مثل کےخوبصورت اور عام فہم ہونے کی وجہ سے تمام تہذیبوں نے استقبال کیا ہے اورہر ایک قوم کے نزدیک قابل قبول ہے اور ہر قوم کی تہذیب کی طاقت کی علامت ہے ۔ فارسی ادب میں بھی بارہا اس ادبی صنعت سے استفادہ کیا گیا ہے تاکہ مخاطبین پر اس کا ڈبل اثر پڑے ۔

مثال کبھی ایک عمل ہے اور کردار کی زبان سے اسے بیان کیا جاتا ہے اور عمل میں اس کے معنی پیدا ہوتے ہیں اور کبھی ایک لفظ ہے جو زبان پر جاری ہوتی ہے ،جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام کی سیرت میں ، کبھی عملی مثالوں کو دیکھا جاتا ہے کہ فطری طور اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔ بطور مثال ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم اپنے اصحاب وانصار کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ان چھوٹے گنا ہوں کی طرف اصحاب کو متوجہ کردیں جن کے خطرات کی طرف لوگوں کی توجہ بہت کم ہوتی ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں اصحاب وانصار کو حکم دیا کہ تھوڑی سی لکڑی جمع کریں ۔ اصحاب نے عرض کی یا رسول اللہ اس بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں دور دور تک لکڑی کاکہیں بھی وجود نہیں ہے! آپ نے فرمایا که تلاش کرو ، تھوڑی ہی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو کافی ہے ۔اصحاب لکڑی کی تلاش میں نکلے اور ہر ایک نے تھوڑی دیر کے بعد مختصر اور تھوڑی بہت مقدار میں لکڑیاں جمع کیں اور لے آیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لکڑیوں کو ایک جگہ ڈال دیں ، جب ان تھوڑی بہت لکڑیوں کو ایک جگہ لاکر ڈال دیا گیا تو لکڑیوں کی ایک بڑا ڈھیر دکھائی دینے لگا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آگ لگادی ، آگ شعلہ ور ہوئی اور اس میں شدید حرارت پیدا ہوگئي اور اصحاب شدت حرارت کی وجہ سے وہاں سے دور ہوگئے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح سے اکھٹا ہوجاتے ہیں ! بنابرایں چھوٹے گناہوں سے پرہیزکریں ۔

چھوٹے چھوٹے گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح جمع ہوجاتے ہیں اور اچانک آگ کے دریا میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، گناہان صغیرہ کے بارے میں سب سے بڑا خطرہ جے توجہی ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملا اس مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے۔

کیونکہ قرآن کریم ایک کتاب ہے اس لئے فطری بات ہے کہ اس کی مثالیں بھی لفظی ہیں ۔ قرآن کریم میں ضرب المثل کے بیان کی خاص علامت ہے جس سے آپ بہت زیادہ متائثر ہوتے ہیں اور اس مؤثر عامل سے قرآن کریم کو بہت زیادہ فائدہ پہونچا ہے ، بنیادی طور پر قرآن کریم نے اپنی اعلی تعلمیات کو مثال ، تشبیہ اور استعارہ کے ذریعہ بیان کیا ہے اور کبھی اس سے بھی بالا تر تخیلاتی اور نفسیاتی صورت میں بیان کیا ہے ، دعوت کے لئے ادبی اور فنی روش مؤثر اور ممکن ترین وسیلہ شمار ہوتی ہے ،قرآن کریم کی ہرایک مثال ایسے خوبصورت بورڈ کی مانند ہے جو مخاطبین کے سامنے بڑی مہارت کے ساتھ حالات کے مطابق نقشہ کھنچ دیتا ہے تاکہ خود انسان اپنی حیات کے خوبصورت اور برے مناظر کو دیکھر اس کے بارے میں فیصلہ اور خدا کی مہارت کا تصور کرے تاکہ قرآن کریم کے اعجاز کے بارے میں اسے دلیل قرار دیا جاسکے ۔

خداوندمتعال نے بعض اعلی عقلی مفاہیم کو م‍ثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنے فہم وادراک کے مطابق سمجھ سکیں بنابرایں قرآن کریم میں بیان کی گئیں مثالوں کا فلسفہ اعلی اورگہرے مفاہیم اور مسائل کو لوگوں کے فہم وادراک کے مطابق بیان کرنا ہے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرما یا ہے کہ قرآن کریم پانچ چیزوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے ۔: حلال ،حرام ۔ محکم ، متشابہ اور امثال کے لئے ، پس حلال پر عمل اور حرام سے پرہیز کریں ، محکم کی پیروی کریں اور متشابہ پر یقین رکھیں اور مثالوں سے عبرت حاصل کریں ۔

مختلف اور گوناگوں مثالیں دی جاتی ہیں جو مختلف اہداف ومقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں ،قرآن کریم کے اعلی و ارفع اور فصیح کلام میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ تعقل ، فکر تذکر ، یاد دھانی اور نصیحت وعبرت حاصل کرنے کے لئے ہیں ۔ خدا وندمتعال نے مختلف مثالوں کو بیان کرنے کے ہدف کو مختلف آیات میں بیان فرمایا ہے ،چنانچہ سورہ ابراہیم کی پچیسویں آیت میں مثال بیان کرنے کے ہدف کو تذکر اور یاد دھانی قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے یضرب اللہ الامثال للناس لعلہم یتذکروں ۔ خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید ہوش میں آجائیں ، سورہ حشر کی اکیسویں آیت میں بھی خدانے مثال بیان کرنے کے مقصد کو غور وفکر قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے { وتلک الامثال نضربہاللناس لعلہم یتفکرون } ہم ان مثالوں کو انسانوں کےلئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ کچھ غور وفکر کرسکیں، اسی طرح سورہ عنکبوت کی تنتالیسویں آیت میں مثال بیان کرنے کے مقصد کے بارے میں ارشاد ہوتاہے { وتلک الامثال نضربہا للناس وما یعقلہاالا العالملون } ہم ان مثالوں کو تمام عالم انسانیت کے لئے بیان کررہے ہیں لیکن انھیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ مذکورہ آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان پر مثالوں کے اثرات کو تین مرحلوں میں سمجھا جاسکتا ہے ۔پہلا مرحلہ تذکر اور یادھانی کا ہے کہ جس میں پیغام الہی کی حقیقت کا ذھن دھرانا ہے،دوسرامرحلہ غور وفکر کا ہے کہ انسان میں مثال اور اس کی حکمت میں غور وفکر کرتا ہے ، تیسرا مرحلہ ادراک ہے کہ جس میں گہری فکر کے ساتھ حقائق کی شناخت اور ادراک ہوتا ہے ۔

ایران کے معروف عالم دین جاری اللہ زمخشری مثل کے بارے میں کہتے کہ کلام عرب میں دراصل مثل کے معنی مثل یعنی نظیر کے ہیں ، اعراب اور علماءکے نزدیک ضرب المثل کی شان اعلی اوراہم ہے کیونکہ اس میں مخفی اور پوشیدہ معانی سے پردے ہٹادئیے جاتے ہیں اور مبہم نکات کی وضاحت کی جاتی ہے تاکہ تخیلاتی امر واضح وروشن اور غائب ظاہرکی طرح عیاں ہوجائے ، اسی لئے قرآن کریم اور تمام آسمانی کتابوں میں مثالوں سے بہت زیادہ استفادہ کیا گیا ہے ۔

مثالوں کے بہت سے فوائد ہیں ، مثالوں کے ذریعہ عقلی مسائل محسوس کئے جاتے ہیں ، مطالب سب کے لئے عا م فہم ہوجاتے ہیں اور مسائل کے بارے میں یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے ،سرانجام مناسب مثال سےہٹ دھرم لوگ خاموش اور کبھی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ بعض محققین نےقرآنی مثالوں کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کیا ہے اور سو سے زائد مثالوں کا تجزیہ وتحلیل کی ہے ، بلاشبہ قرآنی امثال معجزہ ہیں اور اس حقیقت تک پہونچنے کے لئے کافی ہے کہ ان کی ایک تعداد کا دقیق جائزہ لیا جائے ۔ چنانچہ ہم اگلے پروگرام میں قرآنی مثالوں کے نمونے پیش کریں گے تاکہ آپ مثالوں سے استفادہ کے بارے میں قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت اور اہم نکات سے بہرہ مند ہوسکیں ۔

شام کے اقدام کا خیر مقدم لیکن صہیونی اقدام پر تشویشاسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے آج ہفتہ وار پریس کانفرنس میں شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی رپورٹ کے بارے میں کہا ہےکہ اس رپورٹ میں یہ تو کہا گيا ہے کہ شام میں کیمیاری ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں لیکن یہ نہیں کہا گیا ہےکہ کس نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اسی بناپر ایسی قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیں جو پروپگينڈوں کا سبب بنیں۔ مرضیہ افخم نے کہا کہ شام کا کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن میں شامل ہونا ایک مثبت قدم ہے لیکن صیہونی حکومت کے اس کنونشن میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے اب بھی تشویش باقی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری نے شام کے بارے میں روس کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ روس کی تجویز اور جینوا سمجھوتوں کو جنگ سے دوری کے اقدامات کے طورپر تسلیم کرنا چاہیے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ اعتدال کی روشیں ہر طرح کے انتھا پسندانہ اقدامات کی جگہ لیے لیں گي جن سے امن عالم کو شدید خطرے لاحق ہیں۔ مرضیہ افخم نے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکی صدر کے درمیاں خطوط کے تبادلے کے بارے میں کہا کہ امریکی صدر نے ڈاکٹر حسن روحانی کو مبارک باد کا خط بھیجا تھا جس کےجواب میں ڈاکٹر روحانی نے مختلف مسائل پر روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی حکام سے ملاقات کا کوئي پروگرام نہيں ہے اور اگر کسی ملاقات کی ضرورت پیش آئي تو پانچ جمع ایک گروپ کے دائرہ کار میں یہ ملاقات ہوسکتی ہے۔انہوں نے آئي اے ای اے کے سربراہ کے اس الزام کو مسترد کیا کہ ایران ایجنسی کے ساتھ بھرپور تعاون نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے جس طرح سے آئي اے ای اے کےساھت تعاون کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی اور آئي اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایرانی سائٹوں کا معائنہ کرنے کا بھی پورا پورا موقع دیا گیا ہے۔