Super User

Super User

تہران میں خاتم الانبیا ایئرڈیفینس یونیورسٹی میں تربیت پانے والے افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن کسی ملک کو جو سب سے بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کی سلامتی اور امن وامان کو سلب کرلیا جائے۔

آپ نے فرمایا کہ خطے کے بعض ملکوں میں آج یہ عمل شروع کردیا گیا ہے اور عوام کے امن و سلامتی کو ان سے چھینا جارہا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دنیا بھر میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے خفیہ ادارے خطے کی رجعت پسند حکومتوں کی دولت کے ذریعے آشوب برپا کر رہے ہیں اور یہ کسی بھی قوم کے ساتھ بدترین دشمنی اور خطرناک حد تک کینہ پروری ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عراق و لبنان سے ہمدردی رکھنے والوں کو نصیحت کی کہ وہ ترجیحی بینادوں پر اس بدامنی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔

آپ نے فرمایا کہ میں عراق اور لبنان سے ہمدردی رکھنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بدامنی کے علاج کو ترجیح دیں، عوام کے کچھ مطالبات ہیں، جنہیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پورا کیا جانا چاہیے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جب کسی ملک کا قانونی ڈھانچہ درھم برہم اور سیاسی خلا پیدا ہوجائے تو پھر کوئی مثبت کام انجام نہیں دیاجاسکتا۔

آپ نے فرمایا کہ دشمن نے ایران کے خلاف بھی ایسے منصوبے تیار کیے تھے لیکن خوش قسمتی سے عوام بروقت میدان عمل میں اتر آئے ہماری مسلح افواج بھی پوری طرح آمادہ تھیں اور انہوں نے دشمن کی سازشوں پر پانی پھیر دیا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سامراجی طاقتوں کے فوجیوں اور ایران کی مسلح افواج کے درمیان پائے جانے والے فطری فرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سامراجی طاقتوں کی افواج کا کام دیگر ملکوں پرجارحیت، قبضہ جمانا اور نقصان پہنچانا ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا بنیادی فلسفہ پوری قوت کے ساتھ ملک کا دفاع کرنا ہے اور اس میں کسی ملک کے خلاف جارحیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے پچھلی ایک صدی کے دوران، برصغیر، مشرقی و مغربی ایشیا اور شمالی و مغربی افریقا میں برطانیہ، فرانس، اور امریکہ کی فوجوں کے بعض جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مذکورہ افواج کی اصل مشکل یہ ہے کہ ان کی بنیادیں سامراجی نظام پر رکھی گئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ قرآن اور اسلام کی تعلیمات پر بھروسہ کرنے پر تاکید کرتے ہیں۔

آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے روشن مستقبل کی امید اور وعدہ الہی کی تکمیل پر یقین کو دشمن کی سازشوں کے مقابلے کے اہم عوامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا وند تعالی کے لطف و کرم سے ایران کی نوجوان نسل انتہائی پرامید ہے اور وعدہ الہی کی تکمیل کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے حزب اللہ کے مومن اور فلسطینیوں کے باہمت جوانوں کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی پے در پے ناکامیوں کو وعدہ الہی کی تکمیل کا واضح نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بھاری اخراجات برداشت کرنے کے باوجود مغربی ایشیا میں سامراجی طاقتوں کی شکست بھی وعدہ الہی کی تکمیل کا ایک اور نمونہ ہے۔

آپ نے فرمایا کہ خداوند تعالی کے لطف وکرم سے غزہ میں جاری واپسی مارچ ایک دن فلسطینیوں کی اپنی سرزمینوں کی واپسی پر منتج ہوگا۔

صلح امام حسن علیہ السلام کے شرائط دنیائے اسلام کے مستقبل کے لئے بڑے اہم اور مستحکم تھے اور صلح حسنی نے ہی حسینی قیام کی راہ ہموار کی۔

حضرت علی کی شہادت اور تکفین وتدفین کے بعدعبداللہ ابن عباس کی تحریک سے بقول ابن اثیرقیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعدادچالیس ہزارتھی یہ واقعہ ۲۱/ رمضان ۴۰ ہ یوم جمعہ کاہے۔

حقیقت ہے کہ جب عنان حکومت امام حسن کے ہاتھوں میں آئی توزمانہ بڑاپرآشوب تھاحضرت علی جن کی شجاعت کی دھاک سارے عرب میں بیٹھی ہوئی تھے دنیاسے کوچ کرچکے تھے ان کی دفعة شہادت نے سوئے ہوئے فتنوں کوبیدارکردیاتھا اورساری مملکت میں سازشوں کی کھچڑی پک رہی تھی خودکوفہ میں اشعث ابن قیس ، عمربن حریث، شیث ابن ربعی وغیرہ کھلم کھلابرسرعناداورآمادہ فسادنظرآتے تھے ۔

معاویہ نے جابجاجاسوس مقررکردئیے تھے جومسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتے تھے اورحضرت کے لشکرمیں اختلاف وافتراق کابیچ بوتے تھے اس نے کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے سازشی ملاقات کیں اوربڑی بڑی رشوتیں دے کرانہیں توڑلیا۔

بحارالانوارمیں علل الشرائع کے حوالہ سے منقول ہے کہ معاویہ نے عمربن حریث ، اشعث بن قیس، حجرابن الحجر، شبث ابن ربعی کے پاس علیحدہ علیحدہ یہ پیام بھیجاکہ جس طرح ہوسکے حسن ابن علی کوقتل کرادو،جومنچلایہ کام کرگزرے گااس کودولاکھ درہم نقدانعام دوں گا فوج کی سرداری عطاکروں گا اوراپنی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردوں گا یہ انعام حاصل کرنے کے لیے لوگ شب وروزموقع کی تاک میں رہنے لگے حضرت کواطلاع ملی توآپ نے کپڑوں کے نیچے زرہ پہننی شروع کردی یہاں تک کہ نمازجماعت پڑھانے کے لیے باہرنکلتے توزرہ پہن کرنکلتے تھے_

معاویہ نے ایک طرف توخفیہ توڑجوڑکئے دوسری طرف ایک بڑالشکرعراق پرحملہ کرنے کے لیے بھیج دیا جب حملہ آورلشکرحدودعراق میں دورتک آگے بڑھ آیا توحضرت نے اپنے لشکرکوحرکت کرنے کاحکم دیاحجرابن عدی کوتھوڑی سی فوج کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے فرمایاآپ کے لشکرمیں بھیڑ بھاڑتوخاصی نظرآنے لگی تھی مگر سردارجوسپاہیوں کولڑاتے ہیں کچھ تومعاویہ کے ہاتھ بک چکے تھے کچھ عافیت کوشی میں مصروف تھے حضرت علی کی شہادت نے دوستوں کے حوصلے پست کردئیے تھے اوردشمنوں کوجرائت وہمت دلادی تھی۔

اس وقت آپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا جس میں آپ نے فرمایاہے کہ ہم میں ہرایک یاتلوارکے گھاٹ اترے گایازہروغاسے شہیدہوگا اس کے بعدآپ نے عراق، ایران،خراسان،حجاز،یمن اوربصرہ وغیرہ کے اعمال کی طرف توجہ کی اورعبداللہ ابن عباس کوبصرہ کاحاکم مقررفرمایا۔ معاویہ کوجونہی یہ خبرپہنچی کی بصرہ کے حاکم ابن عباس مقررکردیئے گئے ہیں تواس نے دوجاسوس روانہ کیے ایک قبیلہ حمیرکاکوفہ کی طرف اوردوسراقبیلہ قین کابصرہ کی طرف، اس کامقصدیہ تھاکہ لوگ امام حسن سے منحرف ہوکرمیری طرف آجائیں لیکن وہ دونوں جاسوس گرفتارکرلیے گئے اوربعدمیں انہیں قتل کردیاگیا۔

حقیقت ہے کہ جب عنان حکومت امام حسن کے ہاتھوں میں آئی توزمانہ بڑاپرآشوب تھاحضرت علی جن کی شجاعت کی دھاک سارے عرب میں بیٹھی ہوئی تھے دنیاسے کوچ کرچکے تھے ان کی دفعة شہادت نے سوئے ہوئے فتنوں کوبیدارکردیاتھا اورساری مملکت میں سازشوں کی کھچڑی پک رہی تھی خودکوفہ میں اشعث ابن قیس ، عمربن حریث، شیث ابن ربعی وغیرہ کھلم کھلابرسرعناداورآمادہ فسادنظرآتے تھے ۔۔۔ معاویہ نے جابجاجاسوس مقررکردئیے تھے جومسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتے تھے اورحضرت کے لشکرمیں اختلاف وافتراق کابیچ بوتے تھے اس نے کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے سازشی ملاقات کیں اوربڑی بڑی رشوتیں دے کرانہیں توڑلیا۔

بحارالانوارمیں علل الشرائع کے حوالہ سے منقول ہے کہ معاویہ نے عمربن حریث ، اشعث بن قیس، حجرابن الحجر، شبث ابن ربعی کے پاس علیحدہ علیحدہ یہ پیام بھیجاکہ جس طرح ہوسکے حسن ابن علی کوقتل کرادو،جومنچلایہ کام کرگزرے گااس کودولاکھ درہم نقدانعام دوں گا فوج کی سرداری عطاکروں گا اوراپنی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردوں گا یہ انعام حاصل کرنے کے لیے لوگ شب وروزموقع کی تاک میں رہنے لگے حضرت کواطلاع ملی توآپ نے کپڑوں کے نیچے زرہ پہننی شروع کردی یہاں تک کہ نمازجماعت پڑھانے کے لیے باہرنکلتے توزرہ پہن کرنکلتے تھے_

معاویہ نے ایک طرف توخفیہ توڑجوڑکئے دوسری طرف ایک بڑالشکرعراق پرحملہ کرنے کے لیے بھیج دیا جب حملہ آورلشکرحدودعراق میں دورتک آگے بڑھ آیا توحضرت نے اپنے لشکرکوحرکت کرنے کاحکم دیاحجرابن عدی کوتھوڑی سی فوج کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے فرمایاآپ کے لشکرمیں بھیڑ بھاڑتوخاصی نظرآنے لگی تھی مگر سردارجوسپاہیوں کولڑاتے ہیں کچھ تومعاویہ کے ہاتھ بک چکے تھے کچھ عافیت کوشی میں مصروف تھے حضرت علی کی شہادت نے دوستوں کے حوصلے پست کردئیے تھے اوردشمنوں کوجرائت وہمت دلادی تھی۔

مورخین کابیان ہے کہ معاویہ ۶۰ ہزارکی فوج لے کرمقام مسکن میں جااترا جوبغدادسے دس فرسخ تکریت کی ”جانب اوانا“ کے قریب واقع ہے امام حسن علیہ السلام کوجب معاویہ کی پیشقدمی کاعلم ہ

واتوآپ نے بھی ایک بڑے لشکرکے ساتھ کوچ کردیااورکوفہ سے ساباط میں جاپہنچے اور ۱۲ ہزارکی فوج قیس ابن سعد کی ماتحتی میں معاویہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے روانہ کردی پھرساباط سے روانہ ہوتے وقت آپ نے ایک خطبہ پڑھا ،جس میں آپ نے فرمایاکہ

”لوگوں ! تم نے اس شرط پرمجھ سے بیعت کی ہے کہ صلح اورجنگ دونوں حالتوں میں میراساتھ دوگے“ میں خداکی قسم کھاکرکہتاہوں کہ مجھے کسی شخص سے بغض وعداوت نہیں ہے میرے دل میں کسی کوستانے کاخیال نہیں میں صلح کوجنگ سے اورمحبت کوعداوت سے کہیں بہترسمجھتاہوں ۔“

لوگوں نے حضرت کے اس خطاب کامطلب یہ سمجھاکہ حضرت امام حسن، معاویہ سے صلح کرنے کی طرف مائل ہیں اورخلافت سے دستبرداری کاارادہ دل میں رکھتے ہیں اسی دوران میں معاویہ نے امام حسن کے لشکرکی کثرت سے متاثرہوکریہ مشورہ عمروعاص کچھ لوگوں کوامام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے لشکرمیں بھیج کرایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈاکرادیا۔ امام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے متعلق یہ شہرت دینی شروع کی کہ اس نے معاویہ سے صلح کرلی ہے اورقیس بن سعدکے لشکرمیں جوسازشی گھسے ہوئے تھے انہوں نے تمام لشکریوں میں یہ چرچاکردیاکہ امام حسن نے معاویہ سے صلح کرلی ہے_

امام حسن کے دونوں لشکروں میں اس غلط افواہ کے پھیل جانے سے بغاوت اوربدگمانی کے جذبات ابھرنکلے امام حسن کے لشکر کاوہ عنصرجسے پہلے ہی سے شبہ تھاکہ یہ مائل بہ صلح ہیں کہ کہنے لگا کہ امام حسن بھی اپنے باپ حضرت علی کی طرح کافرہوگئے ہیں بالآخرفوجی آپ کے خیمہ پرٹوٹ پڑے آپ کاکل اسباب لوٹ لیاآپ کے نیچے سے مصلی تک گھسیٹ لیا،دوش مبارک پرسے ردابھی اتارلی اوربعض نمایاں قسم کے افرادنے امام حسن کومعاویہ کے حوالے کردینے کاپلان تیارکیا،آخرکارآپ ان بدبختیوں سے مایوس ہوکرمدائن کے گورنر،سعدیاسعیدکی طرف روانہ ہوگئے ، راستہ میں ایک خارجی نے جس کانام بروایت الاخبارالطوال ص ۳۹۳ ” جراح بن قیصہ“تھا آپ کی ران پرکمین گاہ سے ایک ایساخنجرلگایاجس نے ہڈی تک محفوظ نہ رہنے دیاآپ نے مدائن میں مقیم رہ کرعلاج کرایا اوراچھے ہوگئے (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۱ ،تاریخ آئمہ ص ۳۳۳ فتح باری)۔

معاویہ نے موقع غنیمت جان کر ۲۰ ہزارکالشکرعبداللہ ابن عامرکی قیادت وماتحتی میں مدائن بھیج دیاامام حسن اس سے لڑنے کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ اس نے عام شہرت کردی کہ معاویہ بہت بڑالشکرلیے ہوئے آرہاہے میں امام حسن اوران کے لشکرسے درخواست کرتاہوں کہ مفت میں اپنی جان نہ دین اورصلح کرلیں ۔

اس دعوت صلح اورپیغام خوف سے لوگوں کے دل بیٹھ گئے ہمتیں پست ہوگئیں اورامام حسن کی فوج بھاگنے کے لیے راستہ ڈھونڈنے لگی۔

معاویہ کوحضرت امام حسن علیہ السلام کی فوج کی حالت اورلوگوں کی بے وفائی کاحال معلوم ہوچکاتھااس لیے وہ سمجھتے تھے کہ امام حسن کے لیے جنگ ممکن نہیں ہے مکراس کے ساتھ وہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کتنے ہی بے بس اوربے کس ہوں ، مگرعلی وفاطمہ کے بیٹے اورپیغمبرکے نواسے ہیں اس لیے وہ ایسے شرائط پرہرگزصلح نہ کریں گے جوحق پرستی کے خلاف ہوں اورجن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو، اس کونظرمیں رکھتے ہوئے انہوں نے ایک طرف توآپ کے ساتھیوں کوعبداللہ بن عامرکے ذریعہ پیغام دلوایاکہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو، اورخون ریزی نہ ہونے دو۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کورشوتیں بھی دی گئیں اورکچھ بزدلوں کواپنی تعدادکی زیادتی سے خوف زدہ کیاگیااوردوسری طرف حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس پیغام بھیجاکہ آپ جن شرائط پرکہیں انہیں شرائط پرصلح کے لیے تیارہوں ۔

امام حسن یقینا اپنے ساتھیوں کی غداری کودیکھتے ہوئے جنگ کرنامناسب نہ سجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرورپیش نظرتھاکہ ایسی صورت پیداہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پرنہ آنے پائے، اس گھرانے کوحکومت واقتدارکی ہوس توکبھی تھی ہی نہیں انھیں تومطلب اس سے تھا کہ مخلوق خداکی بہتری ہواورحدودوحقوق الہی کااجراہو،اب معاویہ نے جوآپ سے منہ مانگے شرائط پرصلح کرنے کے لیے آمادگی ظاہرکی تواب مصالحت سے انکارکرنا شخصی اقتدارکی خواہش کے علاوہ اورکچھ نہیں قرارپاسکتاتھا اوریہ معاویہ صلح کی شرائط پرعمل نہ کریں گے ،بعدکی بات تھی جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے آکہاں سکتاتھا اورحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی پھربھی آخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کوجمع کرلیا اورتقریرفرمائی

آگاہ رہوکہ تم میں وہ خون ریزلڑائیاں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین میں ہوئے جن کے لیے آج تک رورہے ہواورکچھ مقتول نہروان کے جن کامعاوضہ طلب کررہے ہو، اب اکرتم موت پرراضی ہوتوہم اس پیغام صلح کوقبول نہ کریں اوران سے اللہ کے بھروسہ پرتلواروں سے فیصلہ کریں اوراگرزندگی کوعزیز رکھتے ہوتوہم اس کوقبول کرلیں اورتمہاری مرضی پرعمل کریں ۔

جواب میں لوگوں نے ہرطرف سے پکارناشروع کیاہم زندگی چاہتے ہیں ہم زندگی چاہتے ہیں آپ صلح کرلیجیے ،اسی کانتیجہ تھاکہ آپ نے صلح کی شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے

شرائط صلح

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسب ذیل ہیں :

۱ ۔ معاویہ حکومت اسلام میں ،کتاب خدااورسنت رسول پرعمل کریں گے۔ ۲ ۔ معاویہ کواپنے بعدکسی کوخلیفہ نامزد کرنے کاحق نہ ہوگا۔ ۳ ۔ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔ ۴ ۔ حضرت علی کے اصحاب اورشیعہ جہاں بھی ہیں ان کے جان ومال اورناموس اوراولاد محفوظ رہیں گے۔ ۵ ۔ معاویہ،حسن بن علی اوران کے بھائی حسین ابن علی اورخاندان رسول میں سے کسی کوبھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں گے نہ خفیہ طورپراورنہ اعلانیہ ،اوران میں سے کسی کوکسی جگہ دھمکایااورڈرایانہیں جائے گا۔ ۶ ۔ جناب امیرالمومنین کی شان میں کلمات نازیباجواب تک مسجدجامع اورقنوت نمازمیں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردئیے جائیں ، آخری شرط کی منظوری میں معاویہ کوعذرہوا تویہ طے پایاکہ کم ازکم جس موقع پرامام حسن علیہ السلام موجودہوں اس جگہ ایسانہ کیاجائے ،یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول ۴۱ ء ہجری کوعمل میں آیا۔

صلح نامہ پردستخط

۲۵/ ربیع الاول کوکوفہ کے قریب مقام انبارمیں فریقین کااجتماع ہوا اورصلح نامہ پردونوں کے دستخط ہوئے اورگواہیاں ثبت ہوئیں (نہایة الارب فی معرفتہ انساب العرب ص ۸۰)

اس کے بعد معاویہ نے اپنے لیے عام بیعت کااعلان کردیااوراس سال کانام سنت الجماعت رکھا پھرامام حسن کوخطبہ دینے پرمجبورکیا آپ منبرپرتشریف لے گئے اورارشاد فرمایا:

”ائے لوگوں خدائے تعالی نے ہم میں سے اول کے ذریعہ سے تمہاری ہدایت کی اورآخرکے ذریعہ سے تمہیں خونریزی سے بچایا معاویہ نے اس امرمیں مجھ سے جھگڑاکیاجس کامیں اس سے زیادہ مستحق ہوں لیکن میں نے لوگوں کی خونریزی کی نسبت اس امرکوترک کردینابہترسمجھا تم رنج وملال نہ کروکہ میں نے حکومت اس کے نااہل کودے دی اوراس کے حق کوجائے ناحق پررکھا، میری نیت اس معاملہ میں صرف امت کی بھلائی ہے یہاں تک فرمانے پائے تھے کہ معاویہ نے کہا”بس ائے حضرت زیادہ فرمانے کی ضرورت نہیں ہے“ (تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲۵) ۔

تکمیل صلح کے بعدامام حسن نے صبرواستقلال اورنفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناخوشگوارحالات کوبرداشت کیا اورمعاہدہ پرسختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہواکہ امیرشام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اورسیاسی اقتدارکے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہوکرنخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہئے ،قیام کیا اورجمعہ کے خطبہ کے بعداعلان کیاکہ میرامقصد جنگ سے یہ نہ تھا کہ تم لوگ نمازپڑھنے لگو روزے رکھنے لگو ،حج کرویازکواة اداکرو، یہ سب توتم کرتے ہی ہومیرامقصد تویہ تھاکہ میری حکومت تم پرمسلم ہوجائے اوریہ مقصدمیراحسن کے اس معاہدہ کے بعدپوراہوگیا اورباوجودتم لوگوں کی ناگواری کے میں کامیاب ہوگیا رہ گئے وہ شرائط جومیں نے حسن کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچےہیں ان کاپوراکرنا یانہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے یہ سن کرمجمع میں ایک سناٹاچھاگیا مگراب کس میں دم تھا کہ اس کے خلاف زبان کھولتا۔

شرائط صلح کاحشر

مورخین کااتفاق ہے کہ معاویہ جومیدان سیاست کے کھلاڑی اورمکرو فریب اورزور کی سلطنت کے تاجدارتھے امام حسن سے وعدہ اورمعاہدہ کے بعد ہی سب سے مکر گئے ”ولم یف لہ معاویة لشئی مماعاہد علیہ“ تاریخ کامل ابن اثیرجلد ۳ ص ۱۶۲ میں ہے کہ معاویہ نے کسی ایک چیزکی بھی پرواہ نہ کی اورکسی پرعمل نہ کیا ، امام ابوالحسن علی بن محمدلکھتے ہیں کہ جب معاویہ کے لیے امرسلطنت استوراہوگیاتواس نے اپنے حاکموں کوجومختلف شہروں اورعلاقوں میں تھے یہ فرمان بھیجاکہ اگرکوئی شخص ابوتراب اوراس کے اہل بیت کی فضیلت کی روایت کرے گاتومیں اس سے بری الذمہ ہوں ، جب یہ خبرتمام ملکوں میں پھیل گئی اورلوگوں کومعاویہ کامنشاء معلوم ہوگیاتوتمام خطیبوں نے منبروں پرسب وشتم اورمنقصت امیرالمومنین پرخطبہ دیناشروع کردیاکوفہ میں زیادابن ابیہ جوکئی برس تک حضرت علی علیہ السلام کے عہدمیں ان کے عمال میں رہ چکاتھا وہ شیعیان علی کواچھی طرح سے جانتاتھا ۔ مردوں ،عورتوں ، جوانوں ، اوربوڑھوں سے اچھی طرح آگاہ تھا اسے ہرایک رہائش اورکونوں اورگوشوں میں بسنے والوں کاپتہ تھا اسے کوفہ اوربصرہ دونوں کاگورنربنادیاگیاتھا۔

اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ شیعیان علی کوقتل کرتااوربعضوں کی آنکھوں کوپھوڑدیتا اوربعضوں کے ہاتھ پاؤں کٹوادیتاتھا اس ظلم عظیم سے سینکڑوں تباہ ہوگئے، ہزاروں جنگلوں اورپہاڑوں میں جاچھپے، بصرہ میں آٹھ ہزارآدمیوں کاقتل واقع ہواجن میں بیالیس حافظ اورقاری قرآن تھے ان پرمحبت علی کاجرم عاید کیاگیا تھا حکم یہ تھا کہ علی کے بجائے عثمان کے فضائل بیان کئے جائیں اورعلی کے فضائل کے متعلق یہ فرمات تھاکہ ایک ایک فضیلت کے عوض دس دس منقصت ومذمت تصنیف کی جائیں یہ سب کچھ امیرالمومنین سے بدلالینے اوریزیدکے لیے زمین خلافت ہموارکرنے کی خاطرتھا۔

کوفہ سے امام حسن کی مدینہ کوروانگی

صلح کے مراحل طے ہونے کے بعد امام حسن علیہ السلام اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام اورعبداللہ ابن جعفراوراپنے اطفال وعیال کولے

کر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت

مورخین کااتفاق ہے کہ امام حسن اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نیشین ہوگئے تھے ،لیکن امیرمعاویہ آپ کے درپئے آزاررہے انہوں نے باربار کوشش کی کسی طرح امام حسن اس دارفانی سے ملک جاودانی کوروانہ ہوجائیں اوراس سے ان کامقصدیزیدکی خلافت کے لیے زمین ہموارکرناتھی ،چنانچہ انہوں نے ۵/ بارآپ کوزہردلوایا ،لیکن ایام حیات باقی تھے زندگی ختم نہ ہوسکی ،بالاخرہ شاہ روم سے ایک زبردست قسم کازہرمنگواکرمحمدابن اشعث یامروان کے ذریعہ سے جعدہ بنت اشعث کے پاس معاویہ نے بھیجا اورکہلادیاکہ جب امام حسن شہدہوجائیں گے تب ہم تجھے ایک لاکھ درہم دیں گے اورتیراعقد اپنے بیٹے یزید کے ساتھ کردیں گے چنانچہ اس نے امام حسن کوزہردے کرے شہید کردیا،(تاریخ مروج الذہب مسعودی جلد ۲ ص ۳۰۳ ،مقاتل الطالبین ص ۵۱ ، ابوالفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ،روضةالصفاج ۳ ص ۷ ، حبیب السیرجلد ۲ ص ۱۸ ،طبری ص ۶۰۴ ،استیعاب جلد ۱ ص ۱۴۴) ۔

قائد اسلامی انقلاب نے پاکستانی وزیراعظم کیساتھ ایک ملاقات میں فرمایا ہے کہ ایران نے گزشتہ سالوں کے دوران، یمن سے متعلق ایک چار نکاتی امن منصوبے کی تجویز دی ہے اور اگر اس جنگ کا صحیح طرح سے خاتمہ ہوگا تو علاقے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

آپ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مدتوں پہلے جنگ یمن کے خاتمے کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی تھی اور اس جنگ کا خاتمہ خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ایران اور پاکستان  کے درمیان پائے جانے والے گہرے عوامی تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کو اپنا برادر ہمسایہ ملک سمجھتا ہے اور ایسے بے مثال مواقع کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ گرمجوشی اور بہتری دکھائی دینا چاہیے اور سرحدوں کی سلامتی میں اضافہ  نیز گیس پائپ لائن جیسے معطل منصوبوں کو مکمل کیا جانا چاہیے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے میں سلامتی کے قیام کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی کوششوں کی قدردانی کی اور مغربی ایشیا کے علاقے کو انتہائی حساس قرار دیا۔

آپ نے اس علاقے میں حادثات کی روک تھام کے حوالے سے اجتماعی ذمہ داریوں پر تاکید اور عراق و شام میں میں دہشت گرد  گروہوں کی حمایت میں خطے کے بعض ملکوں کے تخریبی کردار کی جانب اشارہ نیز یمن میں جنگ و خونریزی  پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری ان ملکوں کے ساتھ کوئی  دشمنی نہیں ہے لیکن یہ ممالک امریکہ کی منشا کے تابع ہیں اور اسی کے کہنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک بار پھر تاکید فرمائی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی جنگ میں پہل نہیں کرے گا لیکن اگرکسی نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو بلاشبہہ اسے اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے گا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ ایران نے گزشتہ سالوں کے دوران، یمن سے متعلق ایک چار نکاتی امن منصوبے کی تجویز دی ہے اور اگر اس جنگ کا صحیح طرح سے خاتمہ ہوگا تو علاقے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ریبر انقلاب اسلامی نے دونوں ملکوں کے درمیان گہرے اور قریبی تعلقات کی مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم پاکستان کو اپنے برادر ہمسایہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور موجودہ صلاحیتوں اور مواقع کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی حالیہ سطح میں مزید توسیع دینی ہوگی۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے مشترکہ سرحدوں پر امن و سلامتی کی مزید تقویت سمیت تاخیر کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی اور تکمیل پر زور دیا۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے خطے میں قیام امن و استحکام سے متعلق پاکستانی وزیر اعظم کے جذبہ خیر سگالی اور ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مغربی ایشیا کو ایک انتہائی حساس علاقہ قرار دے دیا۔

انہوں نے بعض خطی ممالک کیجانب سے عراق اور شام میں دہشتگرد گروہوں کی حمایت اور یمن میں جنگ اور خونریزی سے متعلق افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ان جیسے ممالک سے دشمنی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن وہ امریکہ کے زیر کنٹرول ہیں اور اس کی خواست کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف کاروائی کرتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اس ملاقات میں ایران اور پاکستان کو دو برادر ملک قرار دیا اور کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعاون میں فروغ آنا چاہیے اور ہم ایران کے ساتھ  اپنے روابط کو خاص اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ہم ایران کو اپنا اہم تجارتی حلیف سمجھتے ہیں۔

انہوں نے تجارت کے شعبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کو پاکستان کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات کی توسیع پر دلچسبی کا اظہار کردیا۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں امام حسین ملٹری یونیورسٹی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کے آغاز سے ہی ہم نے جس اہم اور عظیم مشن کا آغاز کیا ہے اس کا راستہ سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے ہمیں دکھایا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای حضرت امام حسین علیہ السلام فوجی ٹریننگ یونیورسٹی میں گمنام شہداء مزار پر حاضر ہوئے اور دفاع مقدس کے شہیدوں  کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فوجی سپاہیوں سے خطاب میں ملک  و قوم کی خدمت کو بہت بڑي سعادت قراردیتے ہوئے فرمایا: ملک کا مستقبل ایرانی جوانوں کے ہاتھ میں ہے اور ملکی پیشرفت ، ترقی اور سلامتی میں جوانوں کا اہم اور بنیادی کردار ہے۔

آپ نے فرمایا کہ سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی تحریک کے آغاز میں فرمادیا  کہ ظلم اور ظالم کے خلاف قیام ہی ہماری تحریک کا مقصد ہے اور آج اسلامی جمہوریہ ایران بھی اسی بنیاد پر ظلم کے خلاف جدوجہد اور مظلوموں کی حمایت کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے اور ہر حال میں اس پر عمل کرتا رہے گا۔

آپ نے فرمایا کہ پہلا اربعین بھی اتنا ہی اہمیت کا حامل تھا جتنا آج ہے۔ اربعین حسینی ایک غیر معمولی اور بے مثال ذریعہ ابلاغ ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ پہلا اربعین اور چہلم عاشورا کا انتہائی طاقتور ذریعہ ابلاغ تھا اور یہ چالیس روز بنی امیہ اور سفیانیوں کی ظلم و جور کی دنیا میں حق کی منطق کی فرمانروائی اور حاکمیت کے ایام تھے۔

آپ نے فرمایا کہ اہل بیت اطہار نے چالیس روز کی اس تحریک میں ایک طوفان بپا کردیا تھا اور آج بھی یہ اربعین مارچ ایک پیچیدہ دنیا میں جہاں پروپیگنڈہ مشینریوں کا دور دورہ ہے اور ایسی آواز میں تبدیل ہوچکا ہے جو پوری دنیا تک پہنچ رہی ہے اور آج کے دور کا بھی اربعین ایک بے مثال ذریعہ ابلاغ ہے اور یہ ایسا عظیم واقعہ ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے اور یہ جوکہا جا رہا ہے کہ الحسین یجمعنا یہ ایک حقیقت ہے اور اس تحریک اور اربعین ملین مارچ کو روز بروز فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آج کفر وصیہونینزم اور امریکا کا محاذ قوموں کا خون چوس کر جنگ کی آگ بھڑکا کر اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرکے بندگان خدا اور دیگر قوموں پر ظلم وستم کررہا ہے اور ایرانی عوام حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے فلسفہ کی بنیاد پر ہی ظالموں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اگر آج دشمنوں اور امریکا کے دباؤ کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کی پیروی کا ہی نتیجہ ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے امریکا کے ذریعے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ آج بحمد اللہ سپاہ ملک کے اندر بھی سرخرو و صاحب عزت ہے اور ملک سے باہر بھی اس کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی عزت و وقار میں امریکی پابندیوں کے بعد اور زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے دفاعی میدانوں میں ایران کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ البتہ ہمیں اس میدان میں کسی حد پر اکتفا نہیں کرنا ہے بلکہ اپنی دفاعی توانائیوں کو ہر لمحے بڑھانا ہے اور ایک لحظے کے لئے بھی غفلت نہیں کرنا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام حسین یونیورسٹی کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے فرمایا: مجھے اس یونیورسٹی سے مختلف شعبوں ميں مزید پیشرفت کی توقع ہے میں تمام شعبوں میں اس یونیورسٹی کی پیشرفت کا خواہاں ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اربعین کو عاشورا کا طاقتور ، مضبوط و مستحکم  ابلاغی ذریعہ قراردیتے ہوئے فرمایا: عاشور سے  اربعین تک 40 دن کا فاصلہ بڑا عظیم فاصلہ ہے اس فاصلے میں حضرت زینب (ع) اور امام سجاد  نے شام  اور کوفہ میں عاشور کے حقیقی پیغام اور حق کی آواز کو دنیا تک پہنچایا اور سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کے سلسلے میں حضرت زینب (س) اور حضرت امام سجاد (ع) نے اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں سفیانی حکومت سرنگوں ہوگئی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے " حسین (ع) یجمعنا " کے نعرے کو حقیقت پر مبنی نعرہ قراردیتے ہوئےفرمایا: حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں دنیا بھر کے تمام مسلمان اور دیگر فرقوں کے لوگ شریک ہیں آج دنیا حسین (ع) کے ساتھ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہم امام حسین علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اس دور کے یزیدیوں کا مقابلہ کریں گے اوران کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور اپنے دینی اور شرعی ذمہ د اریوں پر عمل کرتے ہوئے آگے کی سمت گامزن رہیں گے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے شامی کردوں کو چشم زدن میں تنہا چھوڑ دیا اور ان سے منہ پھیر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہی انجام ان سب کا ہوگا جو امریکا پر بھروسہ کرتے ہیں -

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ امریکی حکام اپنے اتحادیوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور معاہدوں کا احترام نہیں کرتے ۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکیوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امریکیوں نے ہراس شخص کو تنہا چھوڑا اور منہ پھیرا ہے جس نے ان پر بھروسہ کیا ۔ انہوں نےکہا کہ جو بھی امریکا سے لو لگائے گا وہ ذلیل وخوار ہوگا - پیر کو امریکی صدر ٹرمپ اور ترک صدر اردوغان کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ شمالی شام  میں کردوں کے زیرکنٹرول علاقوں پر فوجی کارروائی کرنے کے ترک حکومت کے فیصلےکے پیش نظر امریکی فوج اس علاقے سے باہر نکل رہی ہے -

شامی کرد واشنگٹن کے اتحادی ہیں ۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو کے بعد کہا ہے کہ وہ جلد ہی شام کے شمالی علاقوں میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کرنےوالے ہیں -

دوسری جانب شامی کردوں کی ملیشیا سیرین ڈیموکریٹک فورس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ترکی کا حملہ ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہوجائے گا -

ترک فوج نے گذشتہ تین برسوں کے دوران ملک کی پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کئے گئے بل کے مطابق بارہا شام کے اندر فوجی کاررائیاں کی ہیں - شام کی حکومت نے بھی بارہا اپنی سرزمین پر ترک فوج کے فوجی اقدامات کو غاصبانہ اور اپنے اقتدار اعلی کے منافی قراردیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے - شامی حکومت نے اس بار بھی کہا ہےکہ شام کے عوام اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی بھی ملک شام کی ایک بالشت زمین پر غاصبانہ قبضہ کرے -

شامی حکام نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ حملے سے باز رہے اور خود کو مہلکہ میں نہ ڈالے ۔ شامی کردوں کی ملیشیا نے بھی کہا ہے کہ ترک فوج کے حملے کی صورت میں ہم شام کے صدر بشار اسد کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں

غیرمعمولی صلاحیتوں اور ذہانت کے مالک اور سائنسی میدانوں میں سرگرم دو ہزار نوجوانوں نے بدھ کو رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی -

اس ملاقات میں رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ باوجود اس کے کہ ہم ایٹم بم بنانے کی جانب قدم اٹھاسکتے تھے لیکن ہم نےاس راستے پر قدم نہیں رکھا اور اسلامی احکامات اور تعلیمات کی بنیاد پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو شرعی طور پر ہم نے حرام قرار دے دیا بنابریں کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایسے ہتھیاروں کو بنانے اور رکھنے پر سرمایہ لگائیں جن کا استعمال ہی مطلقا حرام ہے ۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کا خاصہ یہ ہے کہ اس نے سخت اور دشوار میدانوں، منجملہ سائنسی میدانوں میں اترنے کی ہمت عطا کی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے متعدد میدانوں میں ملک کی سائنسی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کے مختلف شعبوں میں سانئسی استعداد و صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ایران کی دفاعی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ علم طب اور جدید میڈیکل سائنس ، بیماریوں کو کنٹرول کرنے ، انجینیئرنگ کے میدانوں ، بائیو ٹیکنالوجی، نانو ٹیکنالوجی اور پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی میں شاندار پیشرفت ہوئی ہے ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر تیز رفتار سائنسی ترقی کے ماحول میں ایران میں سائنسی ترقی کا عمل جاری رکھنے کو ضروری اور حیاتی قراردیا ۔

آپ نے ایرانی نوجوانوں میں پائے جانے والے قابل تعریف شوق وجذبے اور خود اعتمادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر باصلاحیت اورغیرمعمولی ذہانت کا حامل نوجوان ایران کے جگر کا ٹکڑا ہے اس لئے ان کی مشکلات کو حل کرنے میں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے نوجوان نسل کی عظیم اور شاندار کامیابیوں پر توجہ اور ان کی تشریح کو دانشوروں اور علمی شخصیات کی ذمہ داری قراردیا ۔

آپ نے چالیس سال قبل ایرانی یونیورسٹیوں کی سرگرمیوں اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چالیس برس بعد کے دور میں ایرانی یونیورسٹیوں کی ترقی و پیشرفت کا موازنہ کرتے ہوئے فرمایا کہ پچھلے چالیس برس کے دوران ایران میں علم و سائنس کے میدان میں جوترقی و پیشرفت ہوئی اس سے ، اسلامی انقلاب سے پہلے کی علمی سرگرمیوں کا کسی بھی صورت میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا -

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایاکہ سائنسی اور علمی میدان میں یہ ترقی بھی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم اورغیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ایرانی نوجوانوں کی مدد سے علم و سائنس کے میدان میں ہم بام عروج پر پہنچیں گے بنابریں ایران کی نوجوان نسل کو اس ہدف کو اپنے پیش نظر رکھنا ہوگا ۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عظیم ثقافتی ایران کے دانشوروں کو یکجا کرنے کو ایک نابغہ معاشرے کی بالقوہ توانائی قراردیا اور فرمایا کہ مغربی ایشیا، عالم اسلام ، استقامتی محور حتی دنیا کے تمام ملکوں منجملہ امریکا اور یورپ میں بھی حق پسند دانشوروں اور سائنسدانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے اور ان سے رابطہ برقرار کرنے سے پاک و صاف اور شرافتمندانہ علم و سائنس اور صحیح سوچ و فکر کو رواج دینے کے لئے ایک منظم ادارہ اور تحریک کو وجود میں لایا جاسکتاہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس بریگیڈ کے کمانڈر نے غاصب صیہونی حکومت کی 2006 میں لبنان پر مسلط کردہ تینتس روزہ جارحیت کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان کی مزاحمت کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ جارحیت بند نہ ہوئی ہوتی تو اسرائیلی فوج ختم ہوجاتی۔

پاسداران انقلاب کی سپاہ قدس کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی نے ، رہبر انقلاب اسلامی اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی کتابوں اور تحریروں کے نشریاتی ادارے کے ساتھ گفتگو میں لبنان کے خلاف، غاصب صیہونی حکومت کی تینتس روزہ جارحیت کی تفصیلات بیان کیں۔

انھوں نے کہا کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی اور اس خطے میں رعب و وحشت کی فضا قائم کرنا، غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ رجعت پسند عرب حکومتوں کی آشکارا اور خفیہ تعاون کے لئے فضا کو سازگار بنانا اور حزب اللہ سے نجات حاصل کرنا، لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کی تینتس روزہ جارحیت کے، تین اہم اہداف تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی نے اپنی اس گفتگو میں، صیہونی حکومت کی تینتس روزہ جارحیت کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے ساتھ ایران کے اعلی رتبہ حکام کی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اس نشست میں، ان کی یعنی جنرل قاسم سلیمانی کی رپورٹ سننے کے بعد فرمایا کہ ، میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ میں اسی طرح کامیابی ملے گی جس طرح جنگ خندق میں کامیابی ملی تھی ۔

سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے بتایا کہ وہ لبنان واپس گئے اور حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ تک رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی سفارشات اور ہدایات پہنچائیں ۔انھوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے اس پیغام نے حزب اللہ میں نئی روح پھونک دی اور حزب اللہ کو یقین ہوگیا کہ اس جنگ میں کامیابی اس کے قدم چومے گی ۔

جنرل قاسم سلیمانی نےتینتس روزہ جنگ میں حزب اللہ کی بعض جنگی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگوں کے برخلاف جن میں اگلے محاذ پر مورچے بنائے جاتے ہیں، اس جنگ میں کوئی ایک مرکز اگلا مورچہ نہیں تھا بلکہ ہر نقطہ ایک مورچہ تھا۔

سپاہ قدس کے کمانڈر نے اس جنگ میں صیہونیوں پر لگائے جانے والے حزب اللہ کی کاری ضربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصراللہ کی تقریر کے دوران حزب اللہ نے اپنا پہلا میزائل داغا جس میں ایک اسرائیلی جنگی کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔

جنرل قاسم سلیمانی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ یہ جارحیت کس طرح بند ہوئی، اس وقت کے قطر کے وزیر خارجہ سے امریکی عہدیدار جان بولٹن اور اقوام متحدہ میں تعینات اسرائیلی سفیر کی ملاقات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ اسرائیلیوں نے اپنی تمام شرطوں سے صرف نظر کرلیا اور حزب اللہ کی شرائط کو ماننے پر مجبور ہوگئے ۔انھوں نے بتایا کہ صیہونی حکومت نے حزب اللہ کی شرائط پر جنگ بندی کو قبول کیا اور اس طرح تینتس روزہ اسرائیلی جارحیت میں حزب اللہ کو فتح عظیم حاصل ہوئی ۔

رضوی علوم اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد امین روحانی نژاد نے حرم مطہر رضوی میں کہا : حضرت امام حسین علیہ السلام کا فریضہ لوگوں میں شعور پیدا کرنا اور دین میں تحریف کا سد باب کرنا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ تمام امور کا محور اور مرکز امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی ہونی چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک ایک الہی طاقت سے عبارت تھی اور امام عالیمقام اپنی اس تحریک کے ذریعے دین اسلام کے پیغام اور پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقاصد کو جاودانی بنانا چاہتے تھے ۔

پروفیسر محمد امین روحانی نژاد نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ قیام عاشورا دین اسلام کی بقا کا ضامن ہے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام  اور تحریک کا اثر اس قدر گہرا ہے کہ چودہ سو سال گذرجانے کے بعد بھی نہ صرف دنیا بھر کے شیعہ بلکہ دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے لوگ امام عالیمقام سے متوسل ومتمسک ہوتے ہیں اور آپ اور آپ کے باوفا اصحاب کی مظلومیت پر اشک غم بہاکر عزاداری کرتے ہيں ۔

پروفیسر روحانی نژاد نے واقعہ کربلا کی معنویت و عظمت او ر اس کی تاثیر کو حریت اور انصاف پسندی کااصلی نعرہ قراردیا اور کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام تمام امتوں کے درمیان اتحاد کا سبب ہیں اور حضرت کے چاہنے والے دنیا بھرسے آپ کے روضہ منورہ کی زیارت کے لیے کربلائے معلی آتے ہیں لہذا تمام شیعوں کا فریضہ ہے کہ ا امام حسین علیہ السلام کے پیغامات کو صحیح طریقے سے لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان پیغامات کو ہر طرح کی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھیں ۔

رضوی علوم اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر روحانی نژاد نے ایران کے اسلامی انقلاب میں تحریک عاشورا کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام اور تحریک میں بہت زیادہ پیغامات اور عبرتیں موجود ہيں اور امام خمینی (رح) نے تحریک عاشورا سے الہام لے کر اور اس کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے شعور و آگہی پیدا کرنے والی اور دشمنوں کو شکست دینے والی ایک تحریک کی بنیاد ڈالی ۔

پروفیسر روحانی نژاد نے مزید کہا کہ جس چیز نے ایران کے اسلامی انقلاب کو دنیا کے دیگر انقلابات پر برتری دلائی ہے وہ تقوا ، ایثار و فداکاری اور اس مکتب پر اعتماد تھا جس کو حاصل کرنے کے لئے جانبازوں نے جنگ کی ۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈروں، اعلی افسران اور عہدیداروں نیز سپاہیوں نے بدھ کو تہران کے حسینیہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی خدمت میں حاضری دی ۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی استقامت و پائیداری اور اپنے راستے پر باقی رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سپاہ، انقلاب کے ہیجان کے دوران وجود میں آئی، دفاع مقدس کے تلاطم کے دوران اس نے رشد کیا اور بلوغ کو پہنچی اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے بعد کے دور میں بھی بغیر کسی لغزش کے تکامل کے راستے پرگامزن رہی ۔آپ نے فرمایا کہ ترقی یا زوال ایسی دو راہی ہے جس سے، انفرادی، سیاسی اور سماجی زندگی میں سبھی افراد تنظیمیں حتی انقلابات دوچار ہوتے ہیں ۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سپاہ سے اس دوراہی پر بھی کوئی لغزش نہیں ہوئی اور اس نے کسی غلطی اور تنزلی کے بغیر اپنے تشخص کے بنیادی عناصر کو محفوظ اور بلندیاں طے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔رہبر انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسدران سے امریکا ، سامراجی محاذ اور اس کے حلقہ بگوشوں کی دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا، سپاہ پر امریکی پابندی اس دشمنی کا نمونہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس دشمنی کی وجہ سپاہ پاسداران کی ترقی و پیشرفت ہے ۔

آپ نے فرمایا کہ امریکا کی اس دشمنی نے سپاہ کی عزت و سربلندی میں حتی دشمنوں کی نگاہ میں بھی اضافہ کردیا ہے۔آپ نے کفر کے متحدہ محاذ کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کی توانائیوں کو قابل تعریف بتاتے ہوئے فرمایا کہ اس محاذ میں سپاہ کا کردار اتنا نمایا ں ہے کہ سپاہ مستکبرین، سامراجی طاقتوں اور سبھی بری قوتوں کی دشمنی کی آماجگاہ بن گئی ہے البتہ اس خبیث محاذ کی دشمنی سپاہ پاسدران کے لئے باعث فخر ہے۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بین الاقوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ علاقائی اور عالمی تغیرات پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دشمنوں نے جتنی زیادہ کوششیں اور سرمایہ کاری کی ہے اتنا ہی زیادہ نقصان کا سامنا کیا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ امریکی صدر نے اعتراف کیا ہے کہ علاقے میں سات ٹریلین ڈالر کا سرمایہ لگایا لیکن سوائے ناکامی اور شکست کے کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے بارے میں فرمایا کہ جیسا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے ، یہ سلسلہ پوری سنجیدگی سے مطلوبہ نتیجے کے حصول تک جاری رہنا چاہئے اور یقینا یہ نتیجہ حاصل ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کے خلاف امریکیوں کی حداکثر دباؤ کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی سمجھ رہے تھے کہ وہ حد اکثر باؤ کی پالیسی پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کو نرمی دکھانے پر مجبور کردیں گے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ خدا کی نصرت و مدد سے اب تک حد اکثر دباؤ کی پالیسی سے خود امریکیوں کے لئے ہی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ گزشتہ دنوں انھوں نے ہمارے صدر سے ملاقات کے لئے گزارش اور التماس بھی کیا تاکہ دنیا پر یہ ظاہر کرسکیں کہ انہوں نے ایران کو جھکا لیا اور ایران کے صدر کو ملاقات پر مجبور کردیا ۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی حکام نے اپنے یورپی دوستوں کو بیچ میں ڈالا کہ کسی طرح صدر ایران سے ان کی ملاقات ہوجائے لیکن سرانجام ناکام رہے اور ان کی یہ پالیسی بھی شکست سے دوچار ہوگئی ۔

امام حسین(ع)نے عباس بن علی(ع)کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟‘‘

امام کا یہ طرز تکلم حضرت عباس کی قدر اور منزلت کو بخوبی روشن کر دیتا ہے کہ وہ ایمان اور یقین کے عالی ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کے لیے اپنے دل میں بہت خاص مقام رکھتے تھے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔

9 محرم بوقت عصر صحرای کربلا میں عمر سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسین(ع)کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا. اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري،‌ اے خدا کے لشکریو! سوار ہوجاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں!". کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار۔

لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا، امام(ع) اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے. بہن حضرت زینب(س) لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟". امام حسین(ع)نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ(ص) کو خواب میں دیکھا اور آپ(ص) نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤگے". امام حسین(ع)نے عباس بن علی(ع)کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں‘‘ ۔ امام کا یہ طرز تکلم حضرت عباس کی قدر اور منزلت کو بخوبی روشن کر دیتا ہے کہ وہ ایمان اور یقین کے عالیترین مرتبہ پر فائز ہیں۔

حضرت عباس(ع)، زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت 20 سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف چلے گئے اور اور ان سے پوچھا: "کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟" انھوں نے کہا: "امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ". حضرت عباس(ع) نے کہا: "اپنی جگہ سے ہلو نہیں حتی کہ میں ابا عبداللہ (ع) کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپ(ع)کو پہنچا دوں". وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباس(ع)اکیلے امام حسین(ع)کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔

امام حسین(ع)نے حضرت عباس(ع) سے فرمایا: "اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو انہیں راضی کرو کہ جنگ کو کل تک ملتوی کریں اور آج رات کو ہمیں مہلت دیں تا کہ اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی درگاہ میں نماز بجا لائیں؛ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں نماز اور اس کی کتاب کی تلاوت کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔

جب تک عباس(ع) امام حسین(ع)کے ساتھ گفتگو کررہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسین(ع)کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جبکہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیشقدمی بھی روک رہے تھے۔

ابوالفضل العباس(ع) دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسین(ع)کی درخواست ان تک پہنچا دی اور اس رات کو ان سے مہلت مانگی. ابن سعد نے امام حسین(ع)اور آپ(ع)کے اصحاب کو ایک رات کی مہلت کی درخواست سے اتفاق کیا، اس دن امام حسین(ع)اور آپ(ع)کے خاندان اور اصحاب و انصار کے خیام کا محاصرہ کیا گیا.

روز عاشور جب جناب عباس نے اپنے بھائی کو تنھا محسوس کیا تو ان کے پاس گئے اور میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام عالی مقام نے فرمایا: تم میرے علمبردار ہو میرے لشکر کے سردارہو ۔ عرض کیا: میرا دل تنگ ہو گیا ہے میں زندگی سے سیر ہو گیا ہوں میں ان منافقوں سے بدلنا لینا چاہتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ان بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی مہیا کر کے جاو۔ جناب عباس دشمنوں کی طرف آئے اور ان کو جتنا وعظ و نصیحت کیا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ امام کے پاس واپس گئے اور قضیہ کی اطلاع دی۔
اتنے میں بچوں کی العطش کی صدائیں سنائی دیں۔ مشک کو اٹھایا۔ اور گھوڑے پر سوار ہوئے تاکہ فرات کی طرف جائیں۔ چار ہزار سپاہیوں نے جو فرات پر پیرا دے رہے تھے آپ کو محاصرہ میں لے لیا اور تیروں کی بارش شروع کر دی۔

انہیں دور بھگایا اور ایک روایت کے مطابق ان میں سے اسّی سپاہیوں کو فی نار جہنم کیا۔ فرات میں داخل ہوئے چلّو میں پانی لیا تاکہ اسے پئیں۔ مگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔ پانی کو پھینک دیا اور مشک کو پانی سے بھرا۔ اور اسے دائیں بازوں پر لگا کر خیموں کا رخ کیا۔ دشمنوں نے راستہ روک لیا۔اور ہر طرف سے آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ جناب عباس نے ان کے ساتھ جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ نوفل ازرقی نے آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔ مشک کو بائیں شانہ پر لٹکایا۔ نوفل نے دوسری ضربت سے بائیاں بازوں بھی قلم کر دیا۔ جناب عباس سے مشک کو دانتوں میں لیا اور گھوڑے کو دوڑایا۔ اتنے میں ایک تیر

مشک پر پیوست ہوا اور سارا پانی بہ گیا۔ دوسرا تیر آپ کے سینے پر لگا اور آپ زین سے زمین پر گرے۔ اور امام حسین علیہ السلام کو آواز دی۔ مولا ادرکنی۔

جب امام علیہ السلام آپ کے قریب پہنچے تو آپ خون میں لت پت ہو چکے تھے۔ امام علیہ السلام نے حسرت سے فرمایا: الان انکسر ظھری و قلت حیلتی"۔ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے چارہ ہو گیا۔
زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام کیا گیا ہے:

السَّلامُ عَلى أبى‏ الْفَضْلِ العَبَّاسِ بْنِ أَميرِالْمُؤمنينَ المُواسي أَخاهُ بِنَفْسِهِ، أَلآخِذُ لِغَدِهِ مِنْ أَمْسِهِ، الْفادى‏ لَهُ الواقى‏ السَّاعى‏ إِلَيْهِ بِمائِه، الْمَقطُوعَةِ يَداه- لَعَنَ اللَّهِ قاتِلَيهُ يَزيدَ بْنَ الرُّقادِ الجُهَنىّ، وَحَكيمِ بْنِ الطُّفَيلِ الطَّائى‏.
سلام ہو ابو الفضل العباس ابن امیر المومنین پر جنہوں نے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان نثار کر دی۔ جنہوں نے گزشتہ کل سے آئندہ کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو ڈھال قرار دیا اور فدا کر دیا۔ اور پانی پہنچانے کی سعی ناتمام کی یہاں تک کہ دونوں ہاتھ قلم ہو گئے۔ خدا کی لعنت ہو ان کے قاتل یزید بن رقاد جہنی اور حکیم بن طفیل طائی پر ۔

اسی بارے میں:

حضرت عباس علیہ السلام عظیم ترین صفات اور فضائل کا مظہر تھے شرافت ، شہامت ، وفا ، ایثار اور دلیری کا مجسم نمونہ تھے۔ واقعہ کربلا میں جناب عباس علیہ السلام نے مشکل ترین اور مصائب سے بھرے لمحات میں اپنے آقاومولا امام حسین علیہ السلام پر اپنی جان قربان کی اور مکمل وفا داری کا مظاہرہ کیا اور مصائب کے پہاڑوں کو اپنے اوپر ٹوٹتے ہوئے دیکھا لیکن ان کے عزم وحوصلہ، ثابت قدمی اور وفا میں ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا اور یہ ایک یقینی بات ہے کہ جن مصائب کا سامنا جناب عباس علیہ السلام نے کیا ان پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا فقط اس کے لئے ہی ممکن ہے کہ جو خدا کا مقرب ترین بندہ ہو اور جس کے دل کو خدا نے ہر امتحان کے لئے مضبوط بنا دیا ہو۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے تمام امور میں آپ ہی کو مرکز سمجھتے تھے اور آپ کے وجود کو لشکر کے برابر قرار دے کر عہدہ علمبرداری آپ ہی کے سپرد فرمایا۔

امام حسین ؑ آپؑ کی شہادت پر بہت روئے ۔ عرب شاعر نے کہا :

احق الناس ان یبکی علیہ فتی ابکی الحسین بکربلاء
اخوہ وابن والدہ علی ابوالفضل المضرج بالدماء
و من واساہ لا یثنیہ شئی و جادلہ علی عطش بماء
کتاب لہوف سید بن طاؤوس ، ص
۱۶۱
ترجمہ : لوگوں کے رونے کے زیادہ حقدار وہ جوان ہے کہ جس پر کربلاء میں امام حسین ؑ روئے ۔ وہ ان کے بھائی اور بابا علی ؑ کے بیٹے ہیں ۔ وہ حضرت ابوالفضل ہیں جو اپنے خون سے نہلا گئے ۔ اور اس نے اپنے بھائی کی مدد کی اور کسی چیز سے خوف کھائے بغیر ان کی راہ میں جہاد کیا اور اپنے بھائی کی پیاس کو یاد کر کے پانی سے اپنا منہ پھیرا ۔(انا للہ و انا الیہ راجعون)
تاریخ نگاروں نے شہادت ابوالفضل(ع) کی کیفیت کے بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں:

خوارزمی کہتے ہیں: عباس(ع) میدان کارزار میں اترے اور رجز خوانی کرتے ہوئے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے اور متعدد دشمنوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے ۔ پس امام(ع) بھائی کے سرہانے حاضر ہوئے اور فرمایا:

الآن انْكَسر ظهری وقَلّت حيلتي؛ (ترجمہ: اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے سہارا ہوگیا)