Super User
رہبر انقلاب اسلامی: ایرانی نوجوان امریکا اور صیہونیزم کی ذلت و شکست کا مشاہدہ کریں گے
یوم معلم کی آمد کی مناسبت سے پورے ملک کے اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اور معلمین کی بہت بڑی تعداد نے بدھ کو رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی-
رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں اساتذہ اور معلمین کو ایک قوم کے اہم ترین سرمائے یعنی انسانی سرمائے کا مربی قرار دیا اور فرمایا کہ اساتذہ اور معلمین ہی نئی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھتے ہیں اور وہی جہالت کا مقابلہ کرنے کے میدان کے مجاہد ہوتے ہیں-
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یوم معلم یا ٹیچر ڈے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے شہید استاد آیت اللہ مطہری کو خراج عقیدت یش کیا اور فرمایا کہ شہید آیت اللہ مطہری حقیقی معنی میں ایک ہمدرد اور مخلص معلم تھے-
رہبر انقلاب اسلامی نے معلم و استاد اور وزارت تعلیم و تربیت کے کردار کو انتہائی اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور فرمایا کہ کسی ایک قوم کا سب سے عظیم سرمایہ انسانی سرمایہ ہوتا ہے کیونکہ ملک، انسانی سرمائے کے بغیر ان بعض دولتمند ملکوں کی طرح ہے کہ جن کی دولت حماقت آمیز طریقے سے انسانیت کے خائن اور غداروں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے-
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ وزارت تعلیم کو چاہئے کہ وہ دانا، توانا، خردمند، متقی و پرہیز گار، کار آمد اور شجاع و ہوشیار انسانوں کی تربیت کرے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ قوم متحد رہے گی تو دشمن کی سازشیں خود دشمن کی ہی طرف پلٹ جائیں گی اور ایران کے نوجوان امریکا کی شکست اور صیہونیزم کی ذلت کا مشاہدہ کریں گے-
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمن کی جنگی صف بندی اور اقتصادی و سیاسی میدان میں ان کی یلغار اور سائبراسپیس کے ذریعے حملہ کرنے کی دشمن کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا اور صیہونیزم سبھی میدانوں میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ البتہ یہ چیز امریکا کی موجودہ حکومت سے ہی مخصوص نہیں ہے لیکن امریکا کی موجودہ حکومت کے صدر نے جو کام آسان کر دیا ہے وہ یہ کہ وہ کھل کر سامنے آگیا اور پوری دنیا اب امریکا کا اصلی چہرہ دیکھ رہی ہے-
آپ نے فرمایا کہ ایرانی قوم کے خلاف دشمن کی جنگی صف بندی کے مقابلے میں ایرانی عوام کو بھی پوری طرح تیار رہنا چاہئے اور ملک کے سبھی حکام، قوم کے ایک ایک فرد اور ہر شعبے میں سرگرم توانا اور ماہر افراد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے آمادہ اور میدان میں موجود رہنا چاہئے-
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ البتہ بظاہر فوجی جنگ کے میدان میں دشمن نے صف بندی نہیں کی ہے لیکن ہماری مسلح افواج پوری طرح ہوشیار ہیں-
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں دین کا پرچم دنیا کے دیگر سبھی علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ اونچا اور بلند ہے اور علم و سائنس میں ترقی و پیشرفت کے لحاظ آج ایران دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔
حقیقتِ انتظار اور اسکے تقاضے
ہم اور آپ عصر انتظار میں جی رہے ہیں عصر انتظار میں جینے کے دو رخ ہیں ایک یہ کہ جس کے انتظار میں جی رہے ہیں اسکے لئے کیا کر ہے ہیں اگر انتطار کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں تو ہمار ا یہ جینا عصرِ ظہور میں جینے جیسا ہی ہے فرق بس یہ ہے کہ ہمارا امام ہماری نظروں کے سے اوجھل ہے یہ اور بات ہے کہ نہ ہم اسکی نظروں سے اوجھل ہیں نہ ہمارے اعمال اسکی نظروں سے اوجھل ہیں ،عصر انتظار میں جینے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم جی تو رہے ہیں لیکن نہ ہمیں انتطار کے مفہوم کا پتہ ہے اور نہ ہی اسکے تقاضوں کا ایسے میں ہماری زندگی اور ہماری موت دونوں ہی یکساں ہیں اس لئے کہ نہ ہم اپنے عصر کو پہچانتے ہیں اور نہ ہی یہ عصر جس حجت خدا سے تکوینا جڑا ہے اس کو پہچانتے ہیں ، کیا ہی بہتر ہے کہ انسان عصر انتظار میں ایسے جئیے کہ اسکا شمار عصر غیبت میں رہنے کے باجود میں ان لوگوں میں ہو جنہوں نے وقت کے امام کو درک کیا ہے اور یہ تب ہو سکتا ہے جب ہم انتظار کے صحیح مفہوم ہو سمجھیں اور اسکے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے شاہراہ حیات پر آگے بڑھیں اس لئے کہ انتظار کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے ہم مجاہد کہلائیں گے ورنہ محض عریضے لکھ کر مجاوری ہی کر سکتے ہیں زندگی میں کوئی مجاہدت نظر نہیں آئے گی ، اگر انتظار کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں تو عریضے لکھنے کا انداز بھی مجاہدانہ ہوگا ورنہ یہ بھی ایک رسم ہوگی اور ایک مجاورانہ طرز عمل جس کے مقصد سے ہم ناواقف ہیں اور محض اس لئے انجام دے رہے ہیں کہ ایسا ہوتا چلا آیا ہے ، چاہے عریضوں کا لکھا جانا ہو یا نیمہ شعبان میں چراغانی ہمارے عمل کو جو چیز وزنی بناتی ہے وہ کیفیت انتظار ہے یوں تو روایات میں انتظار کی جو فضیلت ہے وہ اپنی جگہ ہے ہی لیکن اس بات میں شک نہیں کہ انتظار کا مفہوم کافی حد تک ہمارے عمل کی نوعیت سے جڑا ہے اور ہم اس وقت انتظار کے معنی اور اسکی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں جب یہ جانیں کہ ہم اپنے وقت کے امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کاانتظار کیوں کر رہے ہیں ؟ اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں آپکی غیبت کی بنیاد پر وہ کونسی کمی ہمارے معاشرے میں ہے کونسانقص لازم آتا ہے جس کی بھرپائی ظہور کے علاوہ ممکن نہیں ہے
جب تک ہمارے اندر اضطرار کی پیاس نہیں ہوگی تب تک ہم آگے نہیں بڑھیں گے اسی لئے جہاں ہمیں حقیقت انتظار کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہیں ضرورت انتظار پر غور کرنے کی ضرورت ہے اسی کے ساتھ انتظار کے مختلف پہلووں کو سمجھنے کی ضرورت ہے انتظار کی آداب و آثار کو جاننے کی ضرورت ہے ۔
انتظار اور اسکی حقیقت
اگر الفاظ کے صحیح معنی کا پتہ چل جائے تو انسان کے لئے کسی بھی مذہب کی شناخت اسکے اہداف کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے چنانچہ جب ہم انتظار کے معنی دیکھتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ انتظار مختلف امور میں ٹہر کر غور کرنے ، چشم براہ ہونے اور مستقبل کی امید رکھنے کے ہیں [۱]اس معنی کے پیش نظر دو ممکنہ چیزیں سامنے آتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ انتطار ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان غور و فکر کرتا ہے کسی معاملہ میں ٹہرتا ہے اور یہ کیفیت اسے روز مرہ کے کاموں سے روک دیتی ہے وہ اس لحاظ سے کہ کسی کا منتظر ہے ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ جاتا ہے اور مستقبل کو آنے والے کے حوالے کر دیتا ہے کہ وہ آئے گا تو دیکھے گا کیا کرنا ہے فی الحال ہمارا کام تو انتطار کر نا ہے ، ایک دوسرا تصور انتظار یہ ہے کہ انسان کا انتظار ا س کے وجود میں حرکت کا سبب بنتا ہے انسان جسکا انتظار کر رہا ہے اسکے لئے ماحول کو فراہم کرتا ہے اسکی آمد کے لئے فضا کو سازگار بناتا ہے ، اسی لئے اصطلاح میں انتظار کو ایک ایسے مفہوم سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں بشریت کے بہتر مستقبل کی فکر کرنا ایسے مستقبل کی راہ تکنا جس میں ظلم و انصافی نہ ہو اور پوری دنیا میں عدالت قائم ہو جیسی چیزیں بنیادی حیثت کی حامل ہیں چنانچہ انتظار ایک ایسے منجی بشریت کی آمد کا انتظار ہے جو دنیا میں عدل و انصاف قائم کرے گا اور ظلم و ستم کی حکومت کا خاتمہ کر کے عدل و انصاف کی حکومت قائم کرے گا [۲] جب ہم روایات و احادیث پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ انتطار ہاتھ پر ہاتھ بیٹھے رہنا نہیں ہے بلکہ انتظار ایک عمل ہے بلکہ اعمال میں سب سے افضل عمل ہے[۳] ، ایسا عمل جو عبادت سے عبارت ہے[۴] ایسا عمل جو عبادتوں میں بھی سب سےافض ہے[۵] ۔
جب انتظار عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس عبادت کو بہتر سے بہتر طور پر انجام دیا جائے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک منتظر کی خصوصیت کیا ہے ؟ جب ہم روایات میں ایک منتظر کی خصوصیت کو دیکھتے ہیں تو مفہوم روایت یوں ملتا ہے :
جسکے لئے اصحاب قائم میں ہونا خوشی کی بات ہے تو اسے منتظر ہونا چاہیے ایسا منتظر جو جسکا عمل ورع کے ساتھ ہواور محاسن اخلاق پر عمل پیرا ں ہو [۶] اسکا مطلب یہ ہے جو تقوی اور ورع کے ساتھ جی رہا ہے وہی حقیقی منتظر ہے ، جس طرح ماہ مبارک رمضان میں روزہ سب رکھتے ہیں لیکن کیفیت رورزہ الگ الگ ہوتی ہے کسی کا روزہ بھوک اور پیاس سے زیادہ نہیں ہوتا کسی کا روزہ خاص ہوتا ہے کسی کا خاص الخاص ہوتا ہے کوئی ایسا روزہ رکھتا ہے جوکھانے پینے کے ساتھ گناہوں سے بھی امساک کرتا ہے اسکے ہاتھ پیر آنکھ کان ناک سبھی روزہ رکھتے ہیں سارے اعضاء و جوارح سے روزہ رکھتا ہے[۷] کوئی اعضا وجوارح سے بڑھ کر اس منزل پر پہنچتا ہے کہ اسکا دل بھی روزہ رکھتا ہے[۸] یعنی دل میں بھی کوئی ایسا خیال نہیں آتا جو اسکے رب سے جڑا نہ ہو اسی طرح انتظار ہے کوئی انتظار میں صرف بیٹھ کر اپنے مولا کا انتظار کرتا کوئی محض ہر جمعہ دعاءے ندبہ پڑھ کر انتظار کرتا ہے کوئی ادعیہ ماثور پڑھ کر انتظار کرتا ہے تو کوئی انکے سب کے ساتھ اپنے انتظار کو اپنے لئے میدان کارزار بنا لیتا ہے اور ہر اس محاذ پر دشمن سے نبرد آزما نظر آتا ہے جہاں لوگ دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں اسکے انتظار میں اور عام انتطار میں بہت فرق ہے کوئی اس سے بھی بڑھ جاتا ہے اب اسکا انتظار اسکے دل کا تابع نہیں ہوتا بلکہ اپنے دل کو اپنے امام کی اطاعت کا تابع بنا دیتا ہے اور کچھ امام وقت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے ہٹ کر کچھ سوچتا ہی نہیں ہے وہ خود کو بھی بدلتا ہے اور سماج اور معاشرے میں بھی تبدیلی کا خواہاں رہتا ہے وہ نہ خود سے راضی رہتا ہے نہ سماج او ر معاشرے سے راضی رہتا اب یہ سایک عقلی قاعدہ ہے کہ جو بھی موجودہ حالات سے راضی نہیں ہے اور اسے قبول نہیں کرتا وہ حالات کی تبدیلی کا انتظار کر رہا ہے اور خود کو اس کے لئے تیار کر رہا ہے من انتظر امرا تھیا لہ ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے انتظار کا یہ مفہوم نکالا ہے کہ ہے اسکا مطلب خاموشی سے بیٹھ جانا ہے ، گوشہ نشینی اختیار کرنا ہے ، واضح ہے کہ انہوں نے انتظار کا غلط مفہوم اخذ کیا ہے اس لئے کہ انہوں نے حقیقت انتظار کو سمجھا ہی نہیں ہے اور تاریکی میں ایک تیر چلا دیا ہے جس کا کوئی مقصد و ہدف نہیں حتی یہاں تک بڑھ گئے کہ انہوں نے انتظار کو مذہبِ اعتراض تک کہہ دیا [۹]
البتہ انتظار اعتراض ہے لیکن اسکا صحیح رخ دیکھنے کی ضرورت ہے ، انتظار اعتراض ہے سماج کی برائیوں پر ، انتظار اعتراض ہے سماج میں پائی جانے والی نا انصافیوں پر ، انتطار اعتراض ہے ظلم کے خلاف ، اس لئے کہ انتظار موجودہ حالات کو بدلنے کی کوشش ہے یہی وہ اعتراض ہے جو سقیفہ سامنے علی ع نے کیا اور یہ انتظار ایک اعتراض کی صورت رہے گا ، عدل و انصاف کے قائم ہونے تک ،حریت و آزادی کے حصول تک ، انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کے نکھرنے تک ، حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسانوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تعبیر کیا ہے [۱۰]
ہم جانتے ہیں کہ اگر کان سے استفادہ کرنا ہے اگر کسی معدن سے فائدہ اٹھانا ہے تو ضروری ہے کہ کان کنی کےمراحل پر نظر ڈالی جائے کان کنی کا پہلا مرحلہ کشف یعنی پہلی منزل یہ ہے کہ ہم ایسے مقام پر پہنچے جہاں واقعا ایک کان موجود ہو واقعا سونا اور چاندی ہو پتہ چلا ہم ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سونا چاندی تو کیا کوئلہ بھی ملنا مشکل ہے ، تو پہلی منزل کان کو کشف کرنا اور ڈھونڈ نکالنا ہے دوسری منزل اس میں سے خزانے کو نکالنا ہے جسے استخراج کہتے ہیں تیسری منزل اسے نکالنے کے بعد مختلف شکلوں میں ڈھالنا ہے مثلا اگر لوہے کی کان ہے تو خالص لوہے کو نکال ہے اسے مختلف قالبوں میں ڈھالنا ہے ، اگر سونا چاندی ہے تو اب اسے مختلف ہاروں میں زینتی اشیاء میں ڈھالنا ہے تاکہ دیدہ زیب نظر آئے اسکے بعد چوتھامرحلہ یہ ہے کان اور معدن کی سمت اور جہت کا تعین کیا جائے کہ یہ جو کچھ ہے اور جو کچھ ہمیں ملا ہے اسے کس راہ میں صرف کرنا ہے کس کے لئے یہ سب ہے مقصد کیا ہے ؟ کیا مقصد انسان ہے کیا مقصد یہی دنیا ہے یا پھر مقصد حیات اخروی ہے اب انسان کو سوچنا ہے کہ حیوانی راہوں میں اسے صرف کرنا ہے یا انسانی راستہ میں جتنی بھی نعمتیں انسان کو ملی ہے انکا بھی یہی حال ہے انسان انہیں کہاں خرچ کر رہا ہے یہ سوال ہر جگہ ہے کیا انسان ملنے والی نعمتوں کو حیوانی راہوں میں خرچ کر رہا ہے ؟ یا الہی راستوں میں یہاں پر انتظار کی کیفیت سامنے آتی ہے ، ایک واقعی منتظر وہ ہے جو دنیا کی تمام تر سہولتوں کو تیار کرتا ہے کہ اپنے آقا و سلطان کے لئے اور انہیں کا انتظار کرتا ہے انہیں کے بارے میں سوچتا [۱۱]ہے
یہ وہ انتظار کی کیفیت ہے جسے ہمارے ائمہ طاہرین علیھم السلام نے بیان کیا ہے :
تم میں سے ہر ایک ہمارے قائم کے خروج کے لئےآمادہ رہے چاہے وہ ایک تیر کو مہیہ کرنے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو چونکہ جب خدا یہ دیکھے گا کہ انسان نے مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی نصرت کی نیت سے اسلحہ مہیہ کیا ہے تو امید ہے کہ خدا اسکی عمر کو طولانی کر دے کہ وہ ظہور کو درک کر لے اور امام مہدی علیہ السلام کے یاور و مددگاروں میں قرار پائے [۱۲]۔
یہ انتظار کی وہ کیفیت ہے جو مطلوب ہے کہ اگر کوئی ایک تیر کا انتظام بھی کرتا ہے تو گویا وہخود کو تیار کر رہا ہے ایک قیام کے لئے اور کیوں نہ ہو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ایک لقب قائم ہے اور جب یہ لفظ آئے تو احتراما اٹھ کھڑا ہونا ضروری ہے اس قیام کی اجتماعی بھی ہمیں انتظار کے اس مفہوم کی طرف متوجہ کر رہی ہے جہاں انتظار محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ قیام ہمیں بتا رہا ہے کہ آج ہمارا ہادی و رہبر ہمارے سامنے نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسکا نام آتے ہی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ ہمارے سامنے ہو اور ہم بیٹھے رہیں چنانچہ یہ عمل بھی قیام و جہاد کی ایک علامت ہے [۱۳] بعض لوگوں نے اس انتظار سے بہت غلط مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہم سے کچھ مطلب واسطہ نہیں ہے سب کچھ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو کرنا ہے ہمیں تو بس انکے آنے کی دعاء کرنا ہے جبکہ ائمہ طاہرین علیھم السلام کی تعلیمات کچھ اور ہی ہیں چنانچہ راوی کہتا ہے میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا مولا لوگ کہتے ہیں جب مہدی ع کا قیام ہوگا تو سارے کام خودبخود ہو جائیں گے اور ایک حجامت کے برابر بھی خون نہیں نکلے گا آپ نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے خدا کی قسم اگر ایسا ہی ہوتا کہ سارے کام خود بخود انجام پاتے تو یہ کام تو اس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہونا چاہیے تھا جب آپ کے داندان مبارک شہید ہو گئے تھے اور چہرہ پر زخم لگا تھا ، ہرگز ایسا نہیں ہے کہ کام اپنے آپ بن جائے ۔ خدا کی قسم اس وقت تک کام نہیں بنے گا جب تک ہم اور تم خون پسینے میں غرق نہ ہو جاءیں اس مقام پر امام علیہ السلام نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا ۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ انتظار کی کیفت میں عمل پوشیدہ ہے اور کچھ بھی بیٹھے رہنے سے حاصل نہیں ہوگا جب تک آگے نہ بڑھا جائے اسی لئے انتظار محبوب ترین عمل ہے کہ اس میں حرکت ہے ایک مقصدیت ہے منزل کی طرف بڑھنے کی لگن ہے یا محض بیٹھ کر دعائیں پڑھ لینے کو محبوب ترین عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ؟
مفہوم انتطار کی غلط تشریح ہے اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں خامو ش بیٹھ کر بس دعاء کرنا ہے اور کچھ نہیں ہے ، ہرگز یہ معقول نہیں ہے ایک سامنے کی مثال سے واضح ہے ، فرض کریں ہمارے یہاں الیکشن چل رہے ہیں ، فسطائی طاقتوں سے قوم و ملک کے ساتھ ہمیں بھی بھی خطرہ ہے جو کچھ گزشتہ چند برسوں میں ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا اب ہم اگر چاہتے ہیں کہ انہیں شکست ہو تو کیا صرف دعاوں سے کام چلے گا کیا صرف امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کاکی ولادت کا جشن منانے سے کام چلے گا ، ہرگز نہیں بلکہ ہمیں خود اٹھنا ہوگا اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہوگا اسے تقسیم ہونے سے روکنا ہوگا اور متحد ہو کر اپنے دشمن کے خلاف اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال کرنا ہوگا اس طرح ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں اور اسی متحد حرکت کو انتظار کا نام دیا جائے گا اگر ہم واقعی ایسی حکومت کے منتظر ہیں جہاں لوگوں کو انصاف ملے جہاں ظلم کی جگہ نہ ہو تو ہمیں اپنے سماج اور معاشرے میں اپنی طاقت اور توانائی بھر عدل و انصاف کے قیام کی جدو جہد کرنا ہوگی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی ہم اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب اپنی توانائیوں کو انتظار کی راہ میں استعمال میں لائیں اگر ہمارا امام دنیا کو عدل و انصاف سے بھرنے کے لئے آئے گا تو ہماری یہ ادنی ذمہ داری ہو تی ہے کہ ظلم و ستم سے مقابلہ کے لئے کم از کم اپنی اتنی طاقت کو استعمال کریں ہو ہمارے ملک کے آئین نے ووٹ کی صورت ہمیں دی ہے شک نہیں کہ اس سے ہم پورے ملک کو نہیں بدل سکتے جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا لیکن تبدیلی کی طرف ایک قدم اٹھا سکتے ہیں یا کم از کم اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا ووٹ کسی ظالم کو نہیں دیا ہے یہ انتظار کا وہ بنیادی تقاضا ہے جس پر عمل یہ بتائے گا کہ ہم کس عدل و انصاف کے پرچم دار کا انتظار کر رہے ہیں ۔
بقلم سید نجیب الحسن زیدی
حواشی:
[۱] ۔ تاج العروس، زبیدی، ج۷، ص۵۳۹، محب الدین، نشر دارالفکر، لبنان، ۱۴۱۴هـ ق.
۔التحقیق فی کلمات القرآن ، حسن مصطفوی جلد ۱۲ ص ۱۶۶
[۲] ۔ ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۷، ص ۳۸۱؛ عزیز اللّه حیدری، انسان معاصر، ص ۳۲.
[۳] ۔ اَفْضَلُ اَعْمالِ اُمَّتِى اِنتظارُ الفَرَجِ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ،شیخ صدوق, عیون اخبارالرضا۷، ج ۲، ص ۳۶؛ شیخ صدوق, کمال الدین و تمام النعمة، ج ۲، ص ۶۴۴
[۴] ۔ اِنتِظارُ الفَرَجِ عِبَادَةٌ؛اربلی، کشف الغمة فی معرفة الائمة، ج ۲، ص ۱۰۱؛ شیخ طوسی، أمالی، ص ۴۰۵٫
[۵] ۔ اَفضَلُ العِبادَةِ اِنتِظارُ الفَرَجِ، شیخ صدوق، کمالالدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۲۸۷؛ ر.ک: ترمذی، سنن ترمذی، ج ۵، ص ۵۶۵٫
[۶] ۔ من سر ان یکون من اصحاب القائم فلینتظرو لیعمل بالورع وا محاسن الاخلاق ، بحار الانوار، جلد ۵۲، ص ۱۴۰
[۷] ۔ إِذَا صُمْتَ فَلْيَصُمْ سَمْعُكَ وَ بَصَرُكَ وَ شَعْرُكَ وَ جِلْدُكَ وَ عَدَّدَ أَشْيَاءَ غَيْرَ هَذَا وَ قَالَ لَا يَكُونُ يَوْمُ صَوْمِكَ كَيَوْمِ فِطْرِك
تصنيف غرر الحكم و درر الكلم ، عبد الواحد تميمى آمدى ص۱۷۶ ح ۳۳۶۲ ؛
صوم النفس إمساك الحواس الخمس عن سائر المآثم و خلو القلب عن جميع أسباب الشر
۳ ) الكافی،كلینی ج ۴ ص ۸۷ح۱؛ تهذيبالأحكام ،طوسی،ج ۴ ،ص ۱۹۴؛ من لا یحضره الفقیه،ج ۲، ص ۱۰۸ بحارالأنوار،مجلسی، ج ۹۳، ص ۲۹۲ح ۱۵ ؛
[۸] ۔ صَومُ القَلبِ خَيرٌ مِن صِيامِ اللِّسانِ وَ صِيامُ اللِّسانِ خَيرٌ مِن صِيامِ البَطنِ ]إحياء علوم الدين : ج ۱ ص ۳۵۰ ، المحجّة البيضاء : ج ۲ ص ۱۳۱ .
[۹] ۔ انتظار ،فصلنامہ علمی تخصصی ویژہ امام مھدی علیہ السلام ، ص ۸۲ سال اول شمارہ اول پاییز ۱۳۸۰
[۱۰] ۔ اَلّناسُ معادِنُ كَمَعادِنِ الَّذهَبِ وَ الْفِضَّةِ ، كافى، ج ۸، ص ۱۷۷؛ من لا يحضره الفقيه، ج ۴، ص ۳۸۰؛ بحار الانوار، ج ۵۸، ص ۶۵ و ۱۰۶؛ ج ۶۴، ص ۱
[۱۱] ۔ و یوطئون للمہدی سلطانہ ، میزان الحکمہ ، جلد ۲ ص ۵۶۸
[۱۲] ۔ ليعدن احدكم لخروج القائم ولو سهما، فان الله اذا علم ذلك من نيته رجوت لان ينسي في عمره حتي يدركه و يكون من اعوانه و انصاره.
بحارالانوار، ج۵۲، ص۳۶۶
[۱۳] ۔ الغیبۃ ، نعمانی ، بحار الانوار ، جلد ۵۲ ، ص ۳۵۸
رہبر انقلاب اسلامی کی کتاب کی بین الاقوامی نمائش کا دورہ
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کتاب کی 32 ویں بین الاقوامی نمائش کے مختلف شعبوں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر ثقافت اور ارشادی اسلامی عباس صالحی بھی رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ہمراہ تھے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کتابوں کے مختلف شعبوں کے دورے کے دوران کتاب کی نشر و اشاعت کے سلسلے میں ناشرین کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کیا۔
پنجاب یونیورسٹی کے زیرِاہتمام پاک ایران تعلقات پر سیمینار کا انعقاد
پنجاب یونیورسٹی سینٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے زیراہتمام "پاک ایران تعلقات کا مستقبل" کے موضوع پر سینٹر کے آڈیٹوریم میں ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا، جس میں معروف سفاتکار اقبال احمد خان نے کلیدی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سینٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید، فیکلٹی ممبران، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں اقبال احمد خان کہا کہ 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد سے ہی پاکستان اور ایران قریبی تعلقات کیلئے کوشاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی سکیورٹی ماحول نے دونوں ممالک کو قریب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران اقتصادی، کمرشل اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی تعاون سے بےشمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) پاکستان اور ایران سمیت دیگر آٹھ ممالک کو علاقائی تعاون کیلئے پرکشش مواقع پیش کر سکتی ہے۔
مہدویت اور یہود
مام مہدی (عجل اللہ فرجہ) خاتم الاوصیا ہیں جو تمام ادیان کے پیروکاروں کو پرچم حق کے زیر سائے جمع کریں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں کو کس بنیاد پر اور کیسے اس پرچم تلے جمع کر پائیں گے؟
دو باتیں ہیں جو اس سوال کا جواب سخت بنا دیتی ہیں:
۔ یہودیوں کی سابقہ تاریخ ان کی ہٹ دھرمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ سنت نبوت اس امر پر قائم رہی ہے کہ جب بھی کوئی نیا پیغمبر یا نبی آئے پہلے نبی کے ماننے والے نئے نبی پر ایمان لائیں۔ یہودی وہ قوم تھے جو نہ صرف نئے نبی پر ایمان نہیں لائے بلکہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا اقدام کیا۔
۔ یہودی نسل پرستی والے دین کی ترویج کرتے ہیں جو صرف بنی اسرائیل میں محدود اور محصور ہے۔ اسی وجہ سے یہودیت نسلی دین ہے نہ تبلیغی۔ اس لیے کہ جس کے ماں باپ یہودی نہ ہوں وہ کبھی بھی یہودی نہیں بن سکتا۔
خداوند عالم نے سلسلہ نبوت کو اولاد حضرت ابراہیم(ع) میں قرار دیا؛ حضرت ابراہیم(ع) کے دو بیٹے جناب اسحاق و جناب اسماعیل تھے اور جناب یعقوب کہ جن کا لقب اسرائیل تھا جناب اسحاق کے بیٹے تھے۔ بنی اسرائیل جناب یعقوب کی اولاد تھی۔ قرآن کریم نے تاریخ نبوت کو نسل اسحاق میں قرار دیا۔ لیکن جناب اسماعیل کو الہی امانت کے طور پر شام سے دور سرزمین حجاز بھیج دیا اس لیے کہ بنی اسرائیل پیغمبر کش قوم تھی جو حق کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی تھی۔
جناب اسماعیل نے ایسی نسل کو زمین پر چھوڑا جس میں اللہ نے خاتم الانبیاء کو بشریت کی ہدایت کے لیے زمین پر بھیجا۔ البتہ اس دوران یہودیوں نے آپ کے قتل کے کئی منصوبے بنائے لیکن سب ناکام رہے۔ امامت اور ولایت کا سلسلہ اسی نبوت کا تسلسل تھا یہاں تک کہ امامت کی آخری کڑی امام مہدی(عج) پردہ غیب میں چلے گئے۔
لہذا امام مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد نسل اسحاق و اسماعیل کو اکٹھا کریں گے۔ امام مہدی (عج) کا شجرہ نسب باپ کی طرف سے جناب اسماعیل اور ماں کی طرف سے جناب اسحاق سے ملتا ہے۔ اس اعتبار سے نسل پرست یہودیوں کے پاس بھی امام مہدی (عج) کے پرچم کے زیر سایہ نہ آنے کے لیے کوئی بہانہ نہیں ہے۔
بقلم ڈاکٹر محسن محمدی
رہبر انقلاب: امریکہ کی تیل کے معاملے میں عداوت اور سازش کا جواب دیا جائےگا/ امریکا ایرانی تیل کی برآمدات کو نہیں روک سکتا
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہفتہ کام اور مزدور کے آغاز کے موقع پرلیبر یونین کے ہزاروں کارکنوں کے ایک عظيم الشان اجتماع سے خطاب میں ایران کے خلاف امریکی سازش کو ناکام اور شکست خوردہ قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ کی تیل کے معاملے میں عداوت اور سازش کا جواب دیا جائےگا، ایران کے تیل کی فروخت کا سلسلہ جاری رہےگا۔ رہبر معظم نے ملک میں لیبر یونینوں کی کارکردگی کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: ملکی ترقی اور پیداوار کے سلسلے میں مزدور طبقہ کا اہم اور کلیدی کردار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کام کو ایک گرانقدر حرکت قراردیتے ہوئے فرمایا: کام کی قدر و قیمت کو عام فہم بنانا چاہیے تاکہ مزدور کی اہمیت کا مقام بھی پہچانا جائے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیداوارکی رونق میں کام و تلاش کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پیداوار کی رونق مزاحمتی اقتصاد کا ایک اہم حصہ ہےاگر مزاحمتی اقتصادی پالیسیاں کو عملی جامہ پہنا دیا جائے تو ایران کے تیل اور اقتصاد کے بارے میں امریکی اور اسرائیلی حکام کی سازشیں ناکام اور غیر مؤثر ہوجائيں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی عزت کو ہر قوم کے اصلی مسائل اور ترجیحات میں قراردیتے ہوئےفرمایا: کوئی بھی قوم دشمنوں کے زیر اثر رہنا پسند نہیں کرتی اور نہ ہی وہ دشمنوں کے فیصلوں کو قبول کرتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے دعووں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی جمہوری نظام کے خلاف ہیں ایرانی قوم کے خلاف نہیں، حالانکہ ان کی یہ دشمنی اور عداوت ایرانی قوم کے ساتھ ہے کیونکہ اسلامی جمہوری نظام عوام کی مدد سے قائم ہوا ہے اگر عوام کی مدد نہ رہے تو اسلامی جمہوری نظام بھی باقی نہیں رہےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 40 برس میں دشمنوں کی مختلف سازشوں اور ایران کے تیل کی برآمد کے سلسلے میں امریکہ کی حالیہ سازش اور کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: ایرانی قوم اور حکام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ اگر وہ ہمت کریں اور چاہیں تو وہ تمام امریکی رکاوٹوں کو توڑ دیں گے اور امریکہ کی اس مذموم کو شش کو بھی ناکام بنادیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران جتنی مقدار میں لازم اور ضروری سمجھے تیل کی برآمد کا سلسلہ جاری رکھےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا: تمہاری دشمنی اور عداوت کا جواب دیا جائےگا ، ایرانی قوم ایسی نہیں کہ اس کے خلاف کوئی سازش اور عداوت کرتا رہے اور وہ بیٹھ کر تماشا دیکھتی رہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نےایران پر تیل کے سلسلے میں امریکہ کے دباؤ کو بھی ایک اہم فرصت اور موقع قراردیتے ہوئےفرمایا: ایرانی قوم تیل پراپنا انحصار کم کرنے میں کامیاب ہوجائےگی۔
مہدویت اور عیسائی صہیونیت
خداوند عالم نے قوم بنی اسرائیل کو جو متعدد بشارتیں دیں، ان بشارتوں میں سے ایک پیغمبروں کا مبعوث کیا جانا تھا جو انہیں راہ حق کی طرف راہنمائی کرتے اور طاغوت کے ظلم و ستم سے انہیں رہائی دلاتے۔ لیکن اس قوم نے اللہ کے پیغمبروں کے مقابلے میں ایسا کردار ادا کیا کہ قرآن نے انہیں “پیغمبر کش” قوم کے نام سے یاد کیا ہے۔
خداوند عالم کی جانب سے قوم بنی اسرائیل کو دی جانے والی بشارتوں میں سے ایک آخری پیغمبر کی بعثت کی بشارت تھی۔ علاوہ از ایں خداوند عالم نے انہیں راہ حق پر گامزن رہنے کی صورت میں مزید دو وعدے دیئے ایک حضرت عیسی (ع) کی ولادت اور دوسرا مہدی موعود کا ظہور۔
عیسائیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک “انتظار” ہے جو اسلام اور عیسائیت کے درمیان ایک مشترکہ عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں پروردگار عالم مومنین کی نسبت یہودیوں کی دشمنی کو بدترین دشمنی قرار دیتا ہے وہاں عیسائیوں کو اسلام سے نزدیک گردانتا ہے۔
َتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ (مائده: ۸۲)
(آپ دیکھیں گے کہ صاحبان ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور ان کی محبت سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں۔)
خداوند عالم نے اس آیت میں مسلمانوں کو عیسائیوں کے ساتھ ملنسار اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کی دعوت دی ہے اور خاص طور پر اس اعتبار سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام امام مہدی موعود کے ساتھ ظہور کریں گے اور ان کے ساتھیوں میں سے ہوں گے، عیسائیوں کے ساتھ مہر محبت سے پیش آنا اور انہیں بھی انتظار کی راہ میں اپنے ساتھ لے کر چلنا ہماری ذمہ داری ہے۔
مسلمانوں نے قرآن کریم کی اس اسٹریٹجک پالیسی کو نظر انداز کر دیا لیکن یہودیوں نے اس کے باوجود کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو پھانسی دینے کی کوشش کی اپنی چالاکی اور زیرکی سے عیسائیوں کو اپنی مٹھی میں لے کر مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی کے لیے اکسایا، یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان انتظار کا عنصر ایک مشترکہ عنصر ہے جو انہیں آپس میں قریب کر سکتا ہے لہذا انہوں نے انجیلی عیسائیوں جو ایک اعتبار سے صہیونی عیسائی بھی ہیں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ انجیلی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی (ع) اس وقت ظہور کریں گے جب یہودی بیت المقدس پر قابض ہوں گے۔ صہیونی عیسائی وہ بانفوذ گروہ ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں حمایت کی اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اور ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کر کے ان کا حق ادا کیا۔
لہذا اگر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہمدلی اور باہمی تعاون وجود پا جائے تو یقینا یہ عالمی صہیونیت کے ضرر میں ہو گا۔
بقلم ڈاکٹر محسن محمدی
پابندیوں کے باوجود تہران اسلام آباد کے درمیان اقتصادی تعلقات میں فروغ کا امکان موجود: عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو تہران میں ایوان ہائے صنعت و تجارت و زراعت کے نمائندوں اور پاکستان کے تاجروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی اسّی ملین آبادی اور پاکستان اپنی دو سو ملین آبادی کے ساتھ خود ایک بہت بڑی اقتصادی قوت اور گنجائش ہے اور ان توانائیوں سے دونوں ملکوں اور علاقے کے مفاد میں استفادہ کیا جا سکتا ہے-
پاکستانی وزیراعظم نے جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کی اعلی سطح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں نے اگر آج اقتصادی میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے برسوں قبل سے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے تھے لیکن افسوس کہ یہ چیز مغربی ایشیا کے ممالک اور پاکستان، ایران، افغانستان اور ہندوستان جیسے ملکوں کے درمیان بہت زیادہ نہیں پائی جاتی۔
تہران کے ایوان ہائے صنعت و تجارت و زراعت کے سربراہ مسعود خوانساری نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم اطمینان بخش نہیں ہے، کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی حجم کی گنجائش موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہے-
ملایشیاء ؛ کریسٹل مسجد
ملیشیاء کے شہر ترنگانو Terengganu کے جزیرہ وان میں میں واقع مسجد کریسٹل ملک کی اہم مساجد میں شمار کی جاتی ہے
مسجد کی بیرونی سجاوٹ اور خوبصورتی ہر کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے اور کریسٹل و اسٹیل سے بنی دیواریں مسجد کی کشش میں اضافہ کرتی ہیں۔












































































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
