Super User

Super User

مسئلہ فلسطین کے ہمیشہ کے لیے خاتمے اور حالات کو بطور کلی اسرائیل کی حق میں تبدیل کرنے کی غرض سے امریکی صہیونی لابی نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ متعارف کروایا ہے۔ امریکی صدر نے برسراقتدار آنے کے ابتدائی دنوں سے آج تک اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن تاحال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے اسی حوالے سے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر سعد اللہ زارعی سے گفتگو کی ہے جو حسب ذیل ہے:
خیبر: صدی کی ڈیل کے حوالے سے منامہ کانفرنس کے بعد تقریبا تمام فلسطینی گروہوں میں ایک قسم کا اتحاد دیکھنے کو ملا اور تمام مزاحمتی گروہوں نے اس اجلاس کے خلاف موقف اختیار کیا، آپ کی نگاہ میں صدی کی ڈیل کا منصوبہ اور منامہ کانفرنس امریکہ اور صہیونی ریاست کے لیے کس حد تک کامیاب ثابت ہوئی ہے؟
۔ دیکھئے اس منصوبہ کا مرکزی پوئینٹ کیا ہے، اگر یہ مانتے ہیں کہ مرکزی پوئینٹ اور بنیادی مسئلہ صدی کی ڈیل اور عرب و فلسطین کے ساتھ تعلقات ہیں تو کہنا پڑے گا کہ صہیونیوں اور اس کے اتحادیوں نے اس مسئلے میں اگر چہ کم لیکن کامیابی حاصل کی ہے۔ منامہ کانفرنس میں اسرائیل کو ایک اہم کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ عربوں نے مسئلہ فلسطین کو پیٹھ دکھا دی اور اسرائیلی نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
عربوں نے نیز سرکاری طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے سے بھی چشم پوشی کر دی، صدی کی ڈیل بنیادی طور پر اس طرح سے تدوین کی گئی ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ اسرائیل کے فائدہ میں حل ہو، یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ عربی منصوبہ جو ۲۰۰۲ میں ملک عبد اللہ کے ذریعے بیروت میں عرب یونین کے اجلاس میں پیش کیا گیا، فلسطینی پناہ گزینوں کے سرزمین فلسطین میں واپس پلٹنے پر مبنی تھا، لیکن اس اہم مسئلہ پر منامہ نشست میں عربوں اور منجملہ سعودیوں نے خط بطلان کھینچ دیا اور یہ اہم قدم ہے اسرائیل کے لیے۔
یہ ماننا پڑے گا کہ صدی کی ڈیل اس حد تک صہیونیوں کے لئے سودآور ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ایک بنیادی اور کلیدی سوال یہ ہے کہ وہ صدی کی ڈیل جو اسرائیل کے پیش نظر ہے وہ سرانجام کو پہنچی یا نہیں؟
اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان تعلقات صرف ایک اجلاس میں خلاصہ نہیں ہوتے اور تعلقات کی بحالی کا مطلب در حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے سفارتخانے کھل جائیں، سیاسی اور معیشتی تعلقات برقرار ہو جائیں، کیا یہ امور موجودہ صورت حال کے پیش نظر ممکن ہیں؟
موجودہ صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی لابی چاہے وہ عربی ہو، غربی ہو یا یہودی حکمران ہوں، سب کے اوپر بے بسی طاری ہے۔ جس مقصد کو یہ ۷۰ سال کے عرصے میں پورا نہیں کر پائے وہ مقصد چند دنوں یا مہینوں میں پورا نہیں ہو سکتا۔
امریکی حکمران، اسرائیل کے اہم ترین حامی اور پشت پناہ ہیں۔ لیکن خود امریکہ سنگین مشکلات کا شکار ہے آج علاقے سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا مسئلہ گرم چل رہا ہے، البتہ بعض علاقوں سے امریکی فوجی دستے نکل بھی چکے ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ دس سال کے عرصے میں امریکی فوج کو مشرقی ایشیا ترکی سے لے کر افغانستان تک سب چھوڑنا پڑے گا۔ اس لیے کہ اس سے زیادہ ان کے لیے علاقے میں ٹکنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا امریکہ کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے لیے اپنا دفاع کرنا بھی سخت ہو رہا ہے اسرائیل کا دفاع کرنا تو دور کی بات۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسرائیل حتیٰ یورپ کے اندر بھی تنہا پڑ رہا ہے وہ یورپ جنہوں نے اسرائیل کو جنم دیا۔ اس لیے کہ بالفور اعلامیہ جو اسرائیل کی تشکیل کا باعث بنا وہ برطانیہ نے ہی تو صادر کیا تھا۔ لیکن آج یورپ اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر گرفتار ہے کہ اسے اسرائیل کے تحفظ کی فرصت ہی نہیں، آج مغربی ممالک سوائے مالی امداد کے صہیونی ریاست کی مدد نہیں کر سکتے۔
خیبر: اسرائیل کی اندورنی صورتحال کیا ہے؟ یہ رجیم کیا تن تنہا اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے؟
مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں اور صہیونیوں کے حالات بھی مناسب نہیں ہیں، وہ اسرائیل جو ایک زمانے میں دعویدار تھا کہ وہ دنیا کی چوتھی اعلی فضائیہ اور پانچویں بڑی فوج کا مالک ہے آج وہ حماس کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے اور دو دن کی جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور آج اسرائیلی اس کوشش میں ہیں کہ حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی قرارداد پر دستخط کریں تاکہ اسرائیل کے ساتھ اس کا کوئی مطلب نہ ہو، البتہ حماس ایسی قرارداد پر دستخط کبھی بھی نہیں کرے گی۔ لہذا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج اسرائیل اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہے اور انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔
خیبر: عربی حکومتیں کیا اسرائیل کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھیں گی؟
عرب بالخصوص سعودی جو اسرائیل کی حمایت کے علمبردار ہیں نیز صہیونی ریاست کا دفاع کرنے سے عاجز ہیں۔ اصلا ایسا کام عربوں کے بس میں نہیں ہے۔ خاص طور پر اس دور میں جب صہیونیوں اور ان کے اتحادی عربوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران نام کا ایک طاقتور بلاک سامنے ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مجتہدین کی کونسل یا مجلس خبرگان کے سربراہ اور اراکین سے خطاب کے دوران ملک کی صورتحال اور علاقے میں اسلامی جمہوری نظام کے نعروں اور اس کے انقلابی اور سیاسی اثر و رسوخ کے دائرے میں روز افزوں وسعت کا جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ دفاع مقدس کے دور کے واقعات اور سبق سے استفادہ کرنا اور انہیں معاشرے میں رواج دینا اہم ہے - آپ نے فرمایا کہ ملک کی ترقی وپیشرفت کو جاری رکھنے کا لازمہ اور بنیاد  اللہ پر توکل ، استقامت و پامردی ، مستقبل کے بارے میں پرامید رہنا نوجوانوں اور خاص طور پر انقلابی نوجوانوں پر اعتماد ، عوام اور بالخصوص انقلابی قوتوں کے درمیان اتحاد نیز ملکی پیداوار کی صحیح معنوں میں حمایت اور اغیار سے توقعات کو ختم کردینا ہے -

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے اور معاہدے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اغیار سے امیدیں نہیں وابستہ کرنا چاہئے  ۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکا اورغاصب صیہونی حکومت کو چھوڑکے کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات اور سمجھوتے کا راستہ بند نہیں ہے ۔ آپ نے اسی کے ساتھ فرمایا کہ جن ملکووں نے اسلامی نظام کے خلاف دشمنی کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور ان میں سرفہرست امریکا اور چند یورپی ممالک ہیں ، ان پر کبھی بھی اعتماد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ ایرانی عوام کے ساتھ کھلی دشمنی کررہے ہیں ۔آپ نے ایٹمی معاہدے کے بعد یورپ والوں کے طرز عمل اور اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور اسی طرح امریکا کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے اور ایران کے خلاف دیگر ظالمانہ پابندیاں لگانے کے بعد ، یورپی ملکوں کی روش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپ والوں نے اپنے وعدوں کے برخلاف امریکی پابندیوں کے تعلق سے کوئی بھی عملی اقدام نہیں کیا اورآئندہ بھی بعید نظر آتا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے فائدے کے لئے کچھ کریں گے بنابریں یورپ والوں سے امیدختم کرلینی چاہئے ۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تمام تر دشمنوں کے باوجود حالات اور امور کے رخ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے فائدے میں بتایا اور فرمایا آج اسلامی جمہوری نظام نہ صرف یہ کہ چالیس سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوا ہے ، بلکہ دس سال پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ مستحکم ہوا ہے اور علاقے میں اس کی انقلابی طاقت و توانائی میں وسعت آئی ہے اور انقلاب کی جڑیں زیادہ مضبوط ہوئی ہیں ۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام عہدیدار امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے پر متفق ہیں۔

دینی مدارس میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر فقہا کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی حکام کی جانب سے مذاکرات کی چال کا مقصد اپنی خواہشات کو مسلط اور یہ ثابت کرنا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی موثر واقع ہوئی ہے۔

آپ نے فرمایا کہ ایرانی عوام کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکام کے موقف میں پائے جانے والے تضاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کبھی غیر مشروط مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور کبھی مذاکرات کے لیے بارہ شرائط کا اعلان کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے بیانات امریکی سیاست کی آشفتگی کا نتیجہ یا پھر فریق مقابل کو دھوکہ دینے کا ایک حربہ ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ" اسلامی جمہوریہ ایران دھوکے میں نہیں آئے گا کیونکہ ہمارا راستہ واضح ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے۔"آپ نے فرمایا کہ امریکہ منصفانہ راہ حل کے لیے مذاکرت نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کا مقصد اپنے ناجائز مطالبات ایران پر مسلط کرنا ہے۔ ‏آپ نے فرمایا کہ" میں اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مذاکرات کا امریکی مقصد اپنے مطالبات مسلط کرنا ہے، لیکن امریکی حکام اس قدر گستاخ ہوگئے ہیں کہ اپنی زبان سے بھی یہ بات دوہرا رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے واضح کیا کہ اس قسم کے مذاکرات کے لیے انہیں (امریکیوں کو) ان لوگوں سے رجوع کرنا چاہیے جو ان کے لیے دودھ دینے والی گائے بنے ہوئے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران، مومنین کی جمہوریت، مسلمین کی جمہوریت اور عزت و سربلندی کی جمہوریت ہے۔

آیت العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ مذاکرات کے لیے امریکیوں کے اصرار اور یورپ والوں کو وساطت کے لیے استعمال کرنے کی ایک وجہ یہی یعنی دباؤ کی پالیسی کو کارگر ثابت کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یورپ والوں کے بارے میں پھر کسی اور وقت بات کروں گا لیکن ان کا اس بات پر اصرار کہ امریکی صدر کے ساتھ ایک میٹنگ کرلی جائے تو آپ کی تمام مشکلات حل ہوجائیں گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کامیاب ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ " اگر امریکہ اپنا بیان واپس لے لے، توبہ کرلے اور ایٹمی معاہدے میں، جس کی اس نے خلاف ورزی کی ہے، واپس آجائے، اس وقت یہ ممکن ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے کے دیگر رکن ملکوں کے ہمراہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوجائے بصورت دیگر، اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکی عہدیداروں کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہو سکتے، نہ نیویارک میں نہ کہیں اور۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ پچھلے چالیس برس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کو طرح طرح کی سازشوں کا سامنا رہا ہے لیکن دشمن ایران کو مغلوب نہیں کر پائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ پچھلے چالیس برس کے دوران دشمنوں کی تمام پالیسیاں یکے بعد دیگرے ایران کی پالیسیوں کے سامنے ناکام ہوگئیں اور آئندہ بھی اسلامی جمہوریہ ایران اللہ کی مدد سے ان پر غلبہ پالے گا اور میدان عمل میں کامیاب اور سربلند رہے گا ۔

بسم‌ اللّه ‌الرحمن‌ الرحیم

والحمد للّه رب العالمین و صلّی اللّه علی رسوله الکریم الامین، محمد خاتم النبیین، و علی آله المطهّرین سیّما بقیة اللّه فی الارضین، و علی اصحابه المنتجبین و من تبعهم باحسانٍ الی یوم الدین

حج کا موسم ہر سال  امت مسلمہ کے لئے اللہ تعالی کی رحمت کے نزول کی میعاد اور جلوہ گاہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد «و اذّن فی الناس بالحج»  در حقیقت پوری تاریخ میں رحمت کے دسترخوان پر تمام لوگوں کو دی جانے والی دعوت ہے کہ اللہ کے متلاشی ان کے دل و جان اور تدبر کی عادی ان کی فکر و نگاہ اس کی برکتوں سے بہرہ مند ہو اور ہر سال حج کے پیغامات و تعلیمات گروہوں کی شکل میں آنے والے افراد کے ذریعے پورے عالم اسلام تک پہنچیں!

حج میں ذکر و بندگی کی اکسیر جو، شخص اور سماج کی تربیت، پیشرفت اور ارتقاء کا کلیدی عنصر ہے، اجتماع و اتحاد کے ساتھ کہ جو امت واحدہ کی تصویر ہے، نیز مرکز واحد کے ارد گرد اور ایک ہی راستے پر مشترکہ مقصد کے ساتھ نقل و حرکت کہ جو یکتا پرستی کے محور پر امت کی سعی و کوشش کی علامت ہے، اسی طرح حج ادا کرنے والے افراد میں باہمی مماثلت ہونا اور ہر امتیازی شناخت کا فقدان کہ جو تفریق کو ختم کرنے اور مواقع کو عام کرنے کی علامت ہے، اسلامی معاشرے کے اصلی ستونوں کے ایک مجموعے کو ایک چھوٹے سے مرقع میں پیش کرتا ہے۔ احرام و طواف و سعی و وقوف و رمی اور حرکت و سکون میں سے ہر ایک عمل حج میں اس پیکر تصویر کے کسی خاص حصے کی جانب اشارہ ہے کہ اسلام نے اپنے مطلوبہ اجتماع کے سلسلے میں جس کا خاکہ پیش کیا ہے۔

مختلف ملکوں اور ایک دوسرے سے دور علاقوں کے عوام کے درمیان اطلاعات و معلومات کا تبادلہ، آگاہی و تجربات کو عام کرنا، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت، غلط فہمیوں کا ازالہ، دلوں کو قریب کرنا، مشترکہ دشمنوں کے مقابلے کے لئے توانائيوں کو مجتمع کرنا، حج کا حیاتی اور بہت بڑا ثمرہ ہے جسے عام طور پر رائج سیکڑوں کانفرنسوں سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اعلان برائت جو ہر زمانے کی طاغوتی طاقتوں کی ہر طرح کی بے رحمی، ستم، برائی اور بدعنوانی سے بیزاری اور مختلف ادوار کی استکباری قوتوں کی باج خواہی اور تحکمانہ روش کے مقابلے میں استقامت کے معنی میں ہے، حج کی برکتوں میں سے ایک اور مظلوم مسلمان اقوام کے لئے سنہری موقع ہے۔ آج استکباری قوتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کے کفر و شرک کے محاذ سے اعلان برائت کا مطلب مظلوم کے قتل عام اور جنگ افروزی سے بیزاری ہے، امریکی بلیک واٹر اور داعش جیسے دہشت گردی کے مراکز کی مذمت ہے، اس اعلان برائت کا مطلب بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں اور اس کے مددگاروں کے خلاف امت اسلامیہ کی فلک شگاف فریاد ہے، اس کا مطلب مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کے حساس علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کی جنگ افروزی کی مذمت ہے جنہوں نے اقوام کے رنج و آلام کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے اور آئے روز ان پر سنگین مصیبتیں مسلط کر رہے ہیں۔ اس اعلان برائت کا مطلب جغرافیائی محل وقوع یا نسل یا جلد کے رنگ کی بنیاد پر تفریق و نسل پرستی سے بیزاری ہے۔ اس اعلان برائت کا مطلب اس شرافت مندانہ، نجیبانہ اور منصفانہ روش و سلوک کے مقابلے میں جس کی اسلام دعوت عام دیتا ہے، جارح و فتنہ انگیز طاقتوں کی استکباری اور خبیثانہ روش سے بیزاری ہے۔

یہ اس حج ابراہیمی کی برکتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کی حقیقی اسلام نے ہمیں دعوت دی ہے۔ یہ اسلامی سماج کے اعلی اہداف کے اہم حصے کا مجسم نمونہ ہے جو ہر سال مسلمان افراد کے ذریعے حج کی ہدایت کاری میں پرمغز اور عظیم منظر پیش کرتا ہے اور زبان گویا سے سب کو ایسے معاشرے کی تشکیل کی کاوش کی دعوت دیتا ہے۔

دنیائے اسلام کے دانشوروں کے دوش پر، جن کی ایک تعداد مختلف ملکوں سے آکر اس وقت حج کے اعمال میں شریک ہوئی ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کی بلند ہمتی اور جدت عملی کے ذریعے یہ دروس و تعلیمات تمام اقوام اور رائے عامہ  تک پہنچنا چاہئیں اور ان کے ذریعے افکار، جذبات، تجربات اور آگاہی کا روحانی لین دین انجام پانا چاہئے۔

آج عالم اسلام کا ایک اہم ترین مسئلہ، مسئلہ فلسطین ہے جو کسی بھی مسلک، نسل اور زبان سے تعلق رکھنے والے تمام مسلمانوں کے سیاسی مسائل میں سر فہرست ہے۔ حالیہ صدیوں کا سب سے بڑا ظلم فلسطین میں ہوا ہے۔ اس دردناک قضیئے میں ایک قوم کی سرزمین، گھر، کھیت، مال و اسباب، ناموس اور تشخص، سب کچھ چھین لیا گيا۔ توفیق خداوندی سے اس قوم نے ہار نہیں مانی، خاموش ہوکر بیٹھ نہیں گئی بلکہ وہ آج ماضی سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ اور زیادہ شجاعانہ انداز میں میدان میں ڈٹی ہوئی ہے، تاہم اس کے ثمر بخش ہونے کے لئے تمام مسلمانوں کا تعاون لازمی ہے۔ سنچری ڈیل کی سازش جس کی تیاریاں ظالم امریکہ اور اس کے خائن ہمنواؤں کے ہاتھوں انجام پا رہی ہیں، صرف ملت فلسطین نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے خلاف انجام دیا جانے والا جرم ہے۔ ہم دشمن کے اس مکر و سازش کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے سب کو سرگرم تعاون کی دعوت دیتے ہیں اور نصرت خداوندی سے ہم مزاحمتی محاذ کی ہمت و ایمان کے سامنے اس سازش اور استکباری محاذ کی تمام دیگر سازشوں کی شکست کو یقینی مانتے ہیں۔

قال اللّه العزیز: ام یریدون کیداً، فالذین کفروا هم المکیدون.  صدق اللّه العلی العظیم. اللہ تعالی سے تمام حجاج کرام کے لئے توفیق و رحمت و عافیت  اور اطاعت کی قبولیت کی دعا کرتا ہوں۔

سیّد علی خامنه‌ ای

14  / مرداد ماه/1398 (ہجری شمسی) مطابق 3/ذی‌الحجه/1440 (ہجری قمری)

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز غیرمعمولی اور استثنائی ذہانت و صلاحیتوں کے مالک ایرانی نوجوانوں اور عالمی اولمپیاد میں تمغے حاصل کرنے والوں نیز والیبال کی جونیئر قومی ٹیم کے اراکین سے، کہ جنھوں نے والیبال میں عالمی چمپیئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے ملاقات میں ان نوجوانوں کی فکری گہرائی ، دانشمندی اور عقلانیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ استثنائی صلاحیتوں اور غیرمعمولی استعداد کے حصول کا راستہ، ایک نہ ختم ہونے والا راستہ ہے .

رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ ایک دو صدیوں میں قاچار اور پہلوی دور حکومت میں ایرانی قوم پر مسلط کی جانے والی پسماندگی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب کےبعد اور خاص طور سے حالیہ بیس برسوں کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں وسیع پیمانے پر جو کوششیں بروئے کار لائی گئیں اس کے باوجود ابھی بھی کافی حدتک پسماندگی باقی ہے اس لئے غیر معمولی ذہانت کے مالک نوجوان نسل کا اہم ترین فریضہ، سائنس و ٹیکنالوجی کے راستے میں تیز رفتار کامیابی کے حصول کو جاری رکھتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرحدوں کا دائرہ مزید وسیع کرنا ہے ۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نینو ٹیکنالوجی میں ایران کے ممتاز مقام پر فائر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس وقت توقع کی جاتی ہے کہ استثنائی صلاحیتوں کے مالک ایرانی نوجوان اور بعد والی نسل، نینو کی طرح سیکڑوں دیگر اور ناشناختہ سائنسی اور جدید ٹیکنالوجی کو کشف کرے گی اور صرف سائنسی ترقی کا راستہ جاری رکھنے پر ہی اکتفا نہیں کرے گی ۔

ملاقات کے دوران ممتاز اور استثنائی ذہانت کے مالک نوجوانوں نے اپنے تمغے رہبرانقلاب اسلامی کو ہدیہ کئے جس پر رہبرانقلاب اسلامی نے ان نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ تمغے ہدیہ کرنے کا یہ عمل، کسی ایک خاص شخص کے لئے نہیں ہے بلکہ قیادت کی ایک علامت کو یہ تمغے عطا کئے گئے ہیں اور میں ان تمغوں کو قبول کرتے ہوئے انھیں، ان پیارے اور منتخب وبرگزیدہ نوجوانوں کو واپس کردوں گا تاکہ یہ تمغے خود ان کے ہی پاس باقی رہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے سیاسی شعبے کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ، جب سے بہائی فرقے نے سسٹمیٹک طریقے سے کام کرنا شروع کیا ہے تب سے لیکر اب تک جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مختلف شعبوں میں جاسوسی کی ہے وہیں اسلامی جمہوریہ کی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایران کے مارکٹ کو تباہ کرنے اور کساد بازاری کو عام کرنے کے جرم میں وقتا فوقتا ایران کی عدلیہ کی جانب سے جن مجرموں پر لگام کسی گئی ان میں کافی نام ایسے ہیں جنکا تعلق اسی بہائی فرقے سے ہے، اس فرقے نے اپنے وجود میں آنے کے بعد سے ہی اقتصادی میدان میں کبھی واسطہ کے طور پر یا کبھی بلاواسطہ اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کی ہمیشہ تگ و دو کی، چاہے وہ ’’عبدالکریم ایادی‘‘ کی بات جسکے مشاغل کی تعداد ۸۰ تک پہنچ چکی تھی اور جس نے شہنشاہی حکومت میں اپنی اقتصادی سرگرمیوں کو جاری رکھا یا پھر اس دور سے گزشتہ چند مہینوں میں بہائیوں کے اول درجے کے صاحبان اقتدار کے گھر سے جڑے فرد خاص (ع خ) کی جانب سے عینکوں کی غیر قانونی تجارت ہو، جب بھی ہم اسلامی جمہوریہ کی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کی فہرست کو دیکھتے ہیں تو اسی فرقے کے نقوش ہمیں دکھائی دیتے ہیں جس نے بہت ہی منظم طریقے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کی غرض سے اقتصادی میدان میں اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے پوری طاقت جھونک دی ، کالے دھن کی بات ہو، یا غیر قانونی طور پر درآمد و برآمدات کا معاملہ، ذخیرہ اندوزی و احتکار ہو یا کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کا معاملہ موجودہ سالوں میں جیسے جیسے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اقتصادی جنگ تیز ہوتی گئی ویسے ویسے اس فرقے کے لوگو ں نے متحدہ طور پر اسلامی انقلاب کے خلاف اپنی کارگزاریوں کو بڑھا دیا اور اقتصادی جنگ کے محاذ پر فرنٹ لائن پر آکر دشمن کا ساتھ دیا ۔
چنانچہ گزشتہ چند مہینوں کے اندر بھی دیکھا جائے تو ہمیں انکی تباہ کاریوں کی ایک طولانی فہرست نظر آئے گی چاہے وہ ’’مثقال‘‘ نامی مرکز کی تشکیل ہو جس نے مجازی فضا میں ایک سائٹ بھی لانچ کی اور ایک ٹیلگرام کا چینل بھی بنایا جس کے ذریعہ ’’ مثقال ‘‘نامی صرافی کا سینٹر چلانے والوں کی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں کو آنلائن کرنسی کی قیمت کی نشاندہی کی جائے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں اس صرافی سینٹر نے اپنے پاوں پسار لئے ،جب لوگوں کی توجہات کو اس سینٹر نے حاصل کر لیا اور لوگ اس کے ذریعہ کرنسی کی قیمتوں کو معلوم کرنے لگے تو اس صرافی سینٹر نے اپنے تجزیوں ، رپوٹوں اور اپنے تشہیری اعلانات کے بل پر ایرانی بازار میں کرنسی کی خرید و فروخت کی ایسی بھوک پیدا کر دی کہ پورا بازار آشفتہ حالی کا شکار ہو گیا جس کے چلتے قیمتوں شدید اتار چڑھاو دیکھنے میں آیا ، اس دوران جو قابل غور بات رہی وہ یہ تھی کہ میں ۲۰۱۱؁ کے دوران جب امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اور کرنسی کا مارکیٹ اتھل پتھل ہو کر رہ گیا اس دور میں جمشید بسم اللہ اور حمید مظلومی و دیگر کچھ لوگو ں کو معیشت میں خلل اندازی کے جرم کے تحت گرفتار کیا گیا اور مثقال سائٹ کے کرتا دھرتا ’’شہنام گلشنی ‘‘ کو بھی گرفتار کر کے پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن تعجب کی انتہا نہ رہی کہ کس طرح یہ لوگ جیل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ کچھ ہی مہینوں کے بعد’’ شہنام ‘‘کو ترکی میں دیکھا گیا ہے۔
’’شہنام گلشنی ‘‘ بہائی فرقے کا ایک ممبر ہے اور اس نے اپنی بیو گرافی میں اس بات کا واضح طور پر اظہار کیا ہے کہ وہ بہائی ہے یہاں تک کہ ’’شہنام گلشنی ‘‘ کا دعوی ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا سینٹرل بینک بھی کرنسی کی قیمتوں کو اسکی سائٹ ’’مثقال‘‘ سے لیتا رہا ہے اگرچہ اس دعوے کی تصدیق مشکل ہے لیکن اس سے اتنا تو پتہ چلتا ہی ہے کہ ’’مثقال ‘‘ سائٹ کا خمار کس طرح لوگوں پر چھایا ہوا تھا، اور آج بھی اپنے اسی اثر و رسوخ کی بنا پر بیرونی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے اس نے کرنسی کے غبارے میں خوب ہوا بھری ہوئی ہے ۔
اسکے علاوہ دیگر اور بھی بہائی فرقے سے متعلق افراد کو مختلف مقامات پر غیر قانونی تجارت کرتے پکڑا گیا ہے ، جیسا کہ کچھ ہی عرصے قبل ایک عینکوں کی کھیپ کو پکڑا گیا جسے غیر قانونی طریقے سے اسلامی جمہوریہ میں لایا گیا تھا ۔
گزشتہ چند مہینوں میں بہائی فرقے کے ایک کلیدی اور ممتاز حیثیت کے حامل شخص کو ایران کے شہر ’’مہاباد‘‘ میں رنگے ہاتھوں دھر دبوچا گیا یہ وہ شخص ہے جسکا تعلق اسرائیل میں فرقہ بہاہیت کی اعلی کمان سے ہے اور اسکے رشتہ دار بھی اسرائیل میں بہائیوں کے صدر دفتر سے جڑے رہے ہیں ۔
اسی طرح روز مرہ کی ضرورت کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کے جرم میں ایک اور بہائی کو پکڑا گیا نیز کچھ اور بہائیوں کو مختلف چیزوں کے مارک کو تبدیل کر کے نئے مارک چسپاں کر کے انہیں مارکٹ میں فروخت کرنے پر پکڑا گیا جنکا مقصد ایران کے بازار کو تباہ کرنا تھا۔ کیایہ تعجب کا مقام نہیں ہے کہ جس ملک میں رہتے ہیں اسی کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں اور جب ایران کا ہر طرف سے اقتصادی محاصرہ کر لیا گیا ہے تو یہ دشمن کے محاذ پر اسکا کام کر رہے ہیں اور جب انہیں کوئی سزا سنائی جاتی ہے تو دنیا بھر کا میڈیا شور مچانے لگتا ہے کہ ایران میں مذہبی آزادی پر قدغن ہے ۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر انکے عقائد کی بات کی جائے تو یہ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اسلحہ رکھنے تک کو منع کر دیا ہے گو کہ اتنا دنیا میں امن و سلامتی کی انہیں فکر تھی کہ انہیں کسی انسان کا اپنے ساتھ اسلحہ کا رکھنا بھی گوارا نہیں تھا جہاں انکے پیغمبر کا یہ حکم انکے لئے باعث افتخار ہے اور یہ خود کو دنیا میں ایسے مظلوموں کے طور پر پیش کرتے ہیں جو امن و چین کے خواہاں ہیں اور ایران میں اپنی آزادی کی محدودیت کا رونا روتے ہیں وہیں یہ بات کس قدر تعجب کی ہے کہ انکے گھروں میں غیر قانونی اسلحوں کے ذخیرے ملتے ہیں اور جنگی آلات کو یہ گھروں میں چھپا کر رکھتے ہیں ۔اور انکی ان کارگزاریوں سے وقتا فوقتا پردہ اٹھتا رہتا ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ جنوبی خراسان کے شہر سربیشہ کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انکے شہر میں جدید ساخت کے غیر قانونی اسلحوں کی ایسی کھیپ کو ضبط کیا گیا ہے جنکا استعمال جنگوں میں ہوتا ہے ، اسی طرح اسلامی جمہوریہ کے دیہات ’’دستجرد‘‘ میں بھی اسی قسم کے اسلحوں کو ضبط کیا گیا جہاں بہائی فرقے کی میٹنگیں ہوا کرتی تھیں اور زور وشور کے ساتھ اس علاقے میں انکا کام جاری تھا لیکن علاقے کے مقامی لوگوں کی فراست و سمجھداری کی وجہ سے ایک ایسے گھر کی تلاشی لی گئی جہاں بہائی فرقہ کے لوگوں کا جم گھٹا لگتا تھا جسکے نتیجہ میں بہت سا اسلحہ پولیس کے ہاتھوں لگا جبکہ یہ ایسا گھرتھا جسکے مالک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں رہائش پذیر ہے ۔
الغرض ایسے بہت سے نمونے مل سکتے ہیں جہاں واضح طور پر یہ دشمن کے پانچویں ستون کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران میں رہتے ہوئے بھی وہی کام کر رہے ہیں جنکا اوپر سے آرڈر ہوتا ہے ، چاہے اقتصادی مسائل ہو یا قومی سلامتی کے مسائل ہر جگہ انکی تخریب کارانہ کاروائیاں نظر آتی ہیں اور یہ ہر ایک مقام پر اسرائیل کے مفاد میں کام کرتے نظر آتے ہیں، رہتے اسلامی جمہوریہ ایران میں ہیں لیکن فکر انہیں اسرائیل کی ستاتی ہے اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا مذہب سے لینا دینا نہیں ہے یہ مذہب کے لبادے میں اسلام کے سب سے بڑے دشمن کا ایک سیاسی مہرہ ہیں۔ جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف خفیہ و آشکار طور پر بر سرپیکار ہیں اور جب انہیں دھر دبوچا جاتا ہے تو اپنے مذہب کی دہائی دینے لگتے ہیں جب کہ انکا مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے انکا مذہب بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ مسلمانوں کی طاقت کو بانٹ کر انہیں تحفظ دیتے ہوئے اسلام کے خلاف استعمال کیا جائے اور یہ کام بہت تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے ۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوری ایران کے جاسوسوں اور اسلامی جمہوریہ کے حدود تجاوز کر نے والوں کے دفاع کے سلسلہ سے ۱۷ رمضان المبارک ۱۴۰۳ ھ مطابق ۲۸ جون ؁۱۹۸۳ حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان ایک خطاب کیا ، جس میں آپ نے اس وقت کے امریکی صدر جمہوریہ کی جانب سے ساری دنیا سے بہائیوں کے لئے مدد کی گہار لگانے کے سلسلہ سے اس بات کی وضاحت کی کہ بہائیوں کی جانب سے امریکی صدر جمہوریہ کی یہی حمایت انکے جاسوس ہونے اور امریکیوں کے بہائیوں سے مفاد کے وابستہ ہونے کو بیان کرتی ہے ۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے رونالڈ ریگن کی تقریر کہ جسے بعض ریڈیو اسٹیشنز نے نشر کیا کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے کنایہ آمیز انداز میں کہا: یہ لوگ چونکہ مظلوم ہیں اور بالکل بھی جاسوس نہیں ہیں، مذہبی مراسم کے علاوہ کسی چیز میں مشغول نہیں رہے، اس پر ایران نے انکے انہیں مذہبی رسومات کی وجہ سے ۲۲ لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، یہ وہ بات ہے جس کی بنا پر ریگن نے ساری دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ جاسوس نہیں ہیں ، یہ ایسے سیدھے سادے لوگ ہیں جنکی کسی بھی کام میں کوئی شمولیت یا دخالت نہیں ہے اپنی تقریر میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اس بات کو بیان کرنے کے بعد بہت سنجیدگی کے ساتھ انکی پھانسی کی سزا کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہم نے ہرگز انکے بہائی ہونے کی وجہ سے انہیں قید وحبس کا حکم نہیں دیا بلکہ انکے ساتھ کچھ مسائل رہے ہیں، یوں بھی بہائی کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ بہائی ایک پارٹی ہے، ایسی پارٹی جسکی ماضی میں برطانیہ حمایت کرتا رہا ہے اور اب امریکہ نے اسے اپنی چھتر چھایہ میں لیا ہوا ہے یہ لوگ جاسوس بھی ہیں اور دیگر لوگوں کی طرح انکے عقائد میں بھی انحراف پایا جاتا ہے، یہاں پر مسئلہ تو یہ ہے کہ انکے طرفدار جناب ریگن صاحب آپ جیسے لوگ ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انکی ایک مبہم و خاص صورت حال ہے، ہمارے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے میں انکا کردار اس کے علاوہ کیا ہوگا کہ ہماری مخبری کریں اور ہمارے اسرار کو دشمنوں تک منتقل کریں، اور ایرانی قوم و حکومت کے درمیان انکے ساتھ جاسوسی کریں ۔
سچ تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے معمار و بانی کا جوہر کلام یہ ہے کہ بہائیوں کے ساتھ مقابلہ آرائی کی وجہ انکے عقائد کے انحراف کے علاوہ اور ماورا اسکے کے یہ بنیادی طور پر بہائیت کوئی مذہب نہیں ہے اور یہ ایک گمراہ و منحرف فرقہ ہے، در اصل یہ ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جاسوسی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ و اسرائیل بہائیوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ اور اسلامی انقلاب کے ۴۰ سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی ڈگر پر یہ کھیل جاری ہے اسلامی انقلاب کے چالیس سال گزر جانے کے بعد بھی یہی کھیل جاری ہے اور بہائی فرقہ کہ جسکا مرکزی دفتر اور ہیڈ کواٹر مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کے حیفا شہر میں ہے، اسرائیل اور امریکہ کے لئے جاسوسی کر رہا ہے اور اس گمراہ فرقہ سے مقابلہ آرائی و تقابل کی بنیادی وجہ یہی امام خمینی رضوان اللہ تعالی کے وہ خدشات ہیں جنہیں آپ نے اس فرقے کے بارے میں بیان کیا ہے ۔
.صحیفه امام خمینی، ج۱۷،ص۴۵۹

بہائیت جنگی عزائم رکھنے والے کارزار پسند اسرائیل کی خدمت میں
گزشتہ چند دنوں قبل اسرائیل کے خود ساختہ جعلی ملک کے نام نہاد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اسرائیلی سلامتی و تحفظ کے کالج کے اسٹوڈینس سے ملاقات کے دوران اس بات کا دعوی کیا کہ ’’ فی الوقت دنیا کی واحد ایسی فوج جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے اسرائیل کی فوج ہے ‘‘۔
لائق توجہ ہے کہ بہائی فرقہ کا صدر دفتر اسرائیل میں ہے اور صہیونیوں کی ممکل حمایت و پشت پناہی میں اپنا کام کر رہا ہے ، بہائی ہر ۱۹ دن میں اپنے دفتری چارٹ کے مطابق ’’ ضیافت و دعوت‘‘ کے تحت اپنے تمام تر تعلقات و روابط اور اپنی کارکردگی و اپنے ترویجی وتشہیری کاموں حتی دوستانہ تعلقات و لین دین کو اوپر رپورٹ کرتے ہیں اور اس پروگرام میں حاصل ہونے والی تمام ہی معلومات اسرائیل کو ارسال کر دی جاتی ہیں، یہ اطلاعات ایک ایسے ملک کو پہنچتی ہیں جو واضح طور پر اسلامی جمہوریہ ایران سے مقابلہ کی بات کر تا ہے۔
ہرچند بہائیت کا دعوی ہے کہ اسکے صدر دفتر کے مقبوضہ فلسطین میں ہونے کے باوجود اسکا کوئی تعلق بھی وہاں کے سیاست مداروں سے نہیں ہے اوریہ دفتر محض جغرافیائی طور پر اس خطے میں واقع ہے، لیکن نیتن یاہو کی جانب سے اس دفتر سے متعلق افراد سے ملنا اور انکا نیتن یاہو سے ملاقات کرنا مرغے کی ایسی دم ہے جو چھپائےنہیں چھپتی اور اس دعوے کو باطل کر دیتی ہے کہ ہم نے مرغا چوری نہیں کیا ہے ہم قسم کھا سکتے ہیں، ایسے میں جو مرغے کی دم کو آستین سے باہر دیکھ رہا ہے وہ قسم پر کیونکر یقین کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہائی بالقوہ طور پر اسرائیل کی مخبری کرنے والے عناصر کے طور پر کام کر رہے ہیں جو اسلامی جمہوریہ کے معاشرے کی مختلف سطحوں میں رسوخ کر کے اسلامی جمہوریہ کی حاصل ہونے والی اطلاعات کو دشمنوں تک منتقل کرتے ہیں ۔
اس وقت ملک کے حساس حالات کے باوجود ، اور اسرائیلی حکام کی جانب سے جنگ کی طرف اکسانے والی باتوں اور جنگ خواہانہ زبان استعمال کرنے کے باوجود ضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ذمہ داران چھوٹے چھوٹے جاسوسی کے نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کو لیکر حساس رہیں، اس لئے کہ جب اس سے پہلے بہائیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا اور اس پر اعتراض ہوتا تھا تو یہ دعوی کیا جاتا کہ ساری معلومات اسرائیل ارسال نہیں کی جاتی ہیں بلکہ انہیں بہائیوں کے صدر دفتر بھیجا جاتا ہے، لیکن یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بہائیوں کا یہ صدر دفتر صہیونی رجیم کے اہلکاروں اور حکام کی جانب سے دائمی طور پر زیر نظر رہتا ہے اور اسکی تفتیش ہوتی رہتی ہے ۔

بہائی نظام اسلامی جمہوریہ ایران میں رسوخ و نفوذ اور جاسوسی کے درپے
گمراہ بہائی فرقہ بہت ہی سسٹمیٹک طریقے سے اپنے جاسوسی کے کاموں کو انجام دیتا ہے اور یہ لوگ اپنے مشن کو عملی کرنے کے لئے اندر در آنے کی فضاوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ اور انکا طریقہ کار یہ ہے کہ ’’بیت العدل اعظم ‘‘نامی شورا کی جانب سے (بہائیوں کا اسرائیل میں واقع صدر دفتر ) ان خفیہ اطلاعات کے بل پر جو بہائیوں کی جانب سے وہاں بھیجی جاتی ہیں ایسی فضاوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں سے گھس کر اپنا کام کیا جا سکے نیز اس شوری کی جانب سے اندر گھسنے کے لئے ضروری رخنوں کی نشاندہی کے ساتھ ایسی ہدایات بھی پیش کی جاتی ہے جنہیں بیت العدل کی جانب سے ارسال کئے گئے پیغامات کا نام دیا جاتا ہے اور یہ وہ پیغامات ہوتے ہیں جنہیں بہائیوں کی جاسوسی سے متعلق اور انکی تشہیری و ترویجی فعالیت سے متعلق ہدایات کے طور پر بہائیوں تک پہنچایا جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر ۲۸ سمبر ۲۰۱۰؁ کو جاری ہونے والے ایک پیغام میں جسے اس گمراہ فرقے کے ایک دراز مدت پروگرام کی ایک کڑی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اس پیغام میں ایسے دیہاتی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بہاہیت کو لیکر اور اسکے ڈھانچے کو لیکر کوئی جانکاری نہیں پائی جاتی ہے اور اس پیغام میں انہیں علاقوں کو ایسی اہم فضا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں یہ گمراہ فرقہ اپنی فعالیت انجام دے سکتا ہے من جملہ تشہیری و ترویجی کاموں کے ساتھ ان علاقوں کو جاسوسی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بہائیت کی جانب سے جاری ہونے والے پیغامات کو اس نام سے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ وہ پیغامات ہیں جو بہائیت کے دنیا بھر میں پیروکاروں کے لئے ارسال کئے گئے ہیں لیکن بالکل واضح ہے کہ ان پیغامات کا ہدف و نشانہ اسلامی ممالک اور خاص طور اسلامی جمہوریہ ہے اس لئے کہ بہائی اپنے وجود کا سرچشمہ ایران ہی کو سمجھتے ہیں ۔ بیت العدل کی جانب سے جاری ہونے والے بہت سے پیغامات اور ہدایتوں میں من جملہ ۲۰۱۰؁ کے ۲۸ سمبر کو جاری ہونے والے پیغام میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ مختلف دیہاتوں میں پھیل جائیں اور لوگوں کو اس فرقے کے سسٹم میں داخل کریں اور اس طرح اپنے فرقے کی تبلیغ و ترویج سے متعلق فعالیت کے دائرہ کو پھیلا دیں۔
اس پیغام کے ایک حصہ میں ملتا ہے ’’ اگر اس کام کا ایک نمونہ کسی ایک علاقہ میں تاسیس ہو گیا تو تیزی کے ساتھ دوسرے ہم جوار دیہاتوں میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ در حقیقت بہائیوں نے اس لئے اپنے کاموں کے لئے دیہاتوں کا انتخاب کیا ہے کہ یہاں کی فضا انکے مقاصد تک پہنچنے کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس فضا کو اپنی کارکردگی کا محور بناتے ہوئے لوگوں کی نظروں سے دور اپنی جاسوسی مہم کو وسعت بخشیں ۔ اب یہ اسلامی جمہوریہ کی خفیہ ایجنسیز اور قومی سلامتی سے متعلق مراکز اور ادارہ جات پر ہے کہ وہ اس گمراہ و خطرناک فرقے کے بارے میں اس طرح وارد عمل ہوں کہ لوگوں کی سہولت اور انکے چین و سکون پر حرف نہ آئے اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ایسے اقدام کئے جا سکیں جنکے چلتے اس فرقے کی تبلیغ و ترویج کا شکار ہو کر اس کی طرف مائل ہونے والے افراد کو اس میں شامل ہونے سے روکا جا سکے ۔

نیشابورشہرسے 24 کلومیٹر کے فاصلے پرمشہد ـ نیشابور ہائی وے کے قریب مولا امام رضا علیہ السلام سے منسوب قدمگاہ شریف ہے۔[1]

قدمگاہ مولا امام رضا علیہ السلام، زائرین امام ہشتم ع کےعلاوہ عام سیاحوں کےلئے بھی نہایت پرکشش اور جاذب نظرمقام ہے، قدمگاہ کی جذابیت صرف مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے آس پاس کے نہایت خوبصورت اور قابل دید طبیعی نظارے بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قدمگاہ کے ساتھ ایک خوبصورت باغ بھی ہے جس میں انتہائی قدیمی بلند و بالا درخت موجود ہیں۔

ایرانی بادشاہ ناصرالدین شاہ قاجار کے دور میں قدمگاہ میں موجود باغ کی توسیع کی گئی اور 1971 کو باقاعدہ طور پر اسے ایرانی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا۔[2]

باغ کی خصوصی حفاظت کی جاتی ہے اس کی ایک وجہ اس میں موجود بعض دیگر صفوی دور کے تاریخی یادگاروں کا موجود ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے قدمگاہ کی عمارت کے ساتھ کچھ اور عمارتیں بھی تعمیر کی گئی تھیں ان میں سے ایک میں پانی ذخیرہ کیا جاتا تھا جبکہ ایک عمارت میں مسافروں کو جگہ دی جاتی تھی، جبکہ تیسری عمارت ایسی تھی کہ جس میں مویشی رکھے جاتے تھے۔

قدمگاہ کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو خود تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اور اس گاؤں میں ایک پرانے قلعے کے آثار پائے جاتے ہیں۔

قدمگاہ در اصل امام رضا علیہ السلام کی ایک عظیم یاد گارہے، اس قدمگاہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں ایک نہایت خوبصورت صاف شفاف پانی کا چشمہ بھی موجود ہے اور روایات کے رو سے یہ چشمہ، امام رضا علیہ السلام کے حکم سے ہی جاری ہوا ہےاور یوں یہ امام ہشتم علیہ السلام کے معجزات اور کرامات میں سے ایک ہے۔[3]

قدمگاہ میں 53 سینٹی میٹر سیاہ رنگ کا ایک پتھر موجود ہے جس میں دو قدموں کے نشانات پائے جاتےہیں اور لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس پتھر پر کھڑے ہوکرحضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے نماز ادا کی تھی اورعاشقان امام نے قدموں کے نشان والے پتھرکو محفوظ کرلیا تھا۔[4] جبکہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ عاشقان امام رضا علیہ السلام نے اسے ایک یادگار کے طور پر بنایا ہے۔[5]

قدمگاہ کی تاریخی حیثیت

قدمگاہ تاریخی اعتبارسے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جب امام رضا علیہ السلام مدینہ منورہ سے مرو کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت نیشابور ایران کے ایک پررونق اور آباد شہر کے طور پر پہچانا جاتا تھا، جب امام ہشتم نیشابور پہنچے تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے امام علیہ السلام کا استقبال کیا بعض روایات میں استقتبال کرنے والوں کی تعداد، ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔[6]

اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب امام رضا(ع)، نیشابور کے مقام پر پہنچے تو مُحدِّثین کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:‌ فرزند رسول ص ہمارے لئے کوئی حدیث بیان بیان فرمائیں، امام(ع) نے اپنا سر کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اپنے والد گرامی موسی بن جعفر(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی جعفر بن محمّد(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی محمّد بن علی(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی علی بن الحسین (علیہما السّلام) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی حسین بن علی(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی امیرالمؤمنین علی بن أبی طالب(ع) سے؛ انہوں نے رسول خدا(ص) سے آپ(ص) نے جبرئیل سے سنا جبرئیل کہتے ہیں پروردگار عزّ و جلّ فرماتے ہیں: "اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِی‏ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا.[7]

(ترجمہ: اللہ تعالی نے فرمایا: کلمہ "لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ" میرا مظبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا، جب سواری چلنے لگی تو [امام رضا](ع) نے فرمایا: [البتہ] اس کے کچھ شرائط ہیں اور میں ان شرائط میں سے ایک ہوں۔

چونکہ اس حدیث شریف کے سارے راوی معصوم ہیں اس لئے اسے سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے، اور اس حدیث کو اس مقام پر ایک ساتھ بیس ہزار سے زائد افراد نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے بنفس نفیس سن کرقلم بند کیا ہے۔[8]

قدمگاہ کیسے جائیں؟

قدمگاہ تاریخی اعتبار سے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ جب امام رضا علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کریں تو قدمگاہ کی زیارت سے بھی فیض یاب ہونے کی کوشش کیجئے۔

اگرآپ خود نیشابور شہر سے قدمگاہ کی زیارت پر جانا چاہیں تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ شہر سے قدمگاہ کی طرف عام طور پر ٹیکسی سروس موجود ہے جو بہ آسانی دستیاب ہے۔

مشہد مقدس سے اگر آپ جانا چاہیں تو ریل گاڑی، بس اور ٹیکسی کے ذریعے بھی جا سکتے ہیں۔

عصر حاضر میں مہدویت کا موضوع اتنا اہم موضوع ہے کہ حتیٰ دنیا کی معروف ترین فلم انڈسٹری ہالیووڈ نے اس موضوع پر کئی فلمیں اور کمپیوٹر گیمز بنائی ہیں ہالیووڈ نے اس موضوع کی اہمیت کا احساس اور انسانی معاشرے پر اس کی تاثیر کا ادراک کرتے ہوئے مکمل پروگرامینگ اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔
اورسن ویلیس ( Orson Welles) ہالیووڈ فلم انڈسٹری کی ایک معروف یہودی شخصیت ہے جس کی فلم “Citizen Kane” دنیا کی بہترین اور معروف فلموں میں شمار کی جاتی ہے، اس نے “Nostradamus کی پیشن گوئیاں” کے نام سے ایک فلم بنائی ہے جس میں آخری زمانے میں ایک ایسے شخص کو منجی کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی ہے جس کا نام آخری پیغمبر کے نام پر ہوتا ہے اور وہ مسلمان ہوتا ہے۔ لیکن اس قدر قتل و غارت کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتا ہے کہ ہر کوئی اس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔
اس کا لباس عربی لباس ہوتا ہے اور سر پر عربوں کی طرح دستار باندھے ہوتا ہے۔ یہ یہودی فلم ڈائریکٹر در حقیقت اس فلم کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ مسلمان جس کو منجی اور بشریت کو نجات دلانے والا کہتے ہیں وہ ہزاروں لوگوں کی جانیں لے گا اور ان کے خود کی ندیاں بہائے گا۔ وہ اس فلم کے ذریعے یہ کہنا چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں رہنے والے ۶۰۰ ملین مسلمان جو عظیم قدرتی ذخائر منجملہ تیل و گیس کی دولت کے مالک ہیں اس منجی کے حامی ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے لہذا مسلمانوں سے اس عظیم ثروت و دولت کو چھینا جائے تاکہ اگر ان کا منجی ظہور کرے تو ان کے پاس اس کی مدد کے کچھ بھی نہ ہو اور درنتیجہ وہ جنگ و جدال جو وہ کرنا چاہتا ہے نہ کر سکے۔
ویلیس نے اس فلم کے ذریعے آسکرز (Oscars) کا انعام بھی حاصل کیا ہے اور اس کے بعد اس نے “یامہدی” کے نام سے ایک کمپیوٹر گیم بھی بنائی ہے جس کا مقصد بھی مذکورہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں اور نوجوانوں کو منجی یا مہدی سے دور کرنا اور اس کی نسبت ان میں نفرت پیدا کرنا ہے۔
‘اورسن ویلیس’ نے یہ فلم ایسے حال میں بنائی ہے کہ اسے منجی آخر الزمان کہ جس پر تمام ادیان الہی کے ماننے والے ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان اسے آخری نبی کی نسل میں سے سمجھتے ہیں کے بارے میں دقیق معلومات نہیں ہیں یا اگر معلومات ہیں بھی تو اس نے حقیقت کو چھپاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت اپنی دشمنی کو اس انداز سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ منجی عالم بشریت اللہ کے اس آخری نمائندے کا نام ہے جو دنیا میں قتل و غارت پھیلانے اور خون کی ندیاں بہانے نہیں آئے گا بلکہ بشریت کو قتل و غارت اور فتہ و فساد سے بچانے آئے گا ظلم و ستم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنے آئے گا وہ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی ثروت و دولت کا محتاج نہیں ہو گا بلکہ زمین اس کے لیے اپنے سارے خزانے اگل دے گی وہ اخلاق حسنہ اور پیار و محبت کے ذریعے دنیا کی تقدیر کو بدل دے گا۔ اس لیے کہ وہ اس نبی کا فرزند ہو گا جو نبی رحمت ہے اور اس خدا کا نمائندہ ہو گا ‘ارحم الراحمین’ ہے جس کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے، “رحمتی وسعت کل شئی”۔ لہذا ہالیووڈ کی ایسی فلموں اور گیموں کا مقابلہ کرنا اور ان سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو دور رکھنا تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے اس لیے کہ عالمی صہیونیت ان آلات و ابزار کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتی ہے اور مسلمان بچوں اور نوجوانوں کے اندر ان کے عقائد کی نسبت نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے۔

المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کی معطلی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کی معطلی  در حقیقت غاصب صہیونی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کا بہترین ہتھیار ہے اور فلسطینیوں کو اس ہتھیار سے  بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔

سید حسن نصر اللہ نے جہاد سازندگی ادارے کی اکتیسویں سالگرہ کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے لبنانی عوام کی بہترین خدمات انجام دی ہیں اور ہم اس کی سالگرہ کے موقع پر اس ادارے کے بانیوں اور خدمت گزاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ  لبنان پر حزب اللہ کی حکمرانی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حزب اللہ لبنان کی مختلف سیاسی جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے جس کی اصلی ذمہ داری لبنانی فوج ، عوام اور لبنانی حکومت کے ہمراہ لبنانی سرزمین کی اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں حفاظت کرنا اور اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ کو کسی سے کوئی مشکل درپیش ہو تو حزب اللہ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اور براہ راست اعلان کیا جاتا ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ہم کسی کے پیچھے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ہم مسائل اور مشکلات کو باہمی تعاون سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کو معطل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ  جس چير سے اسرائیل کو سخت پریشانی لاحق ہے وہ سکیورٹی تعاون کا معاہدہ ہے اور فلسطینیوں کے پاس سکیورٹی معاہدہ بہترین ہتھیار ہے اور انھیں اس ہتھیار سے اسرائیل کے خلاف بھر پور استفادہ کرنا چاہیے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے گھر تباہ کرنے کی مزید اجازت نہیں دینی چاہیے ۔