Super User
حج معصومین [ع] کی زبان سے ۳
مستجار
قَالَ الصَّادِقُ(ع:(
بَنیٰ إِبْراہِیمُ الْبَیْتَ۔۔۔وَجَعَلَ لَہُ بَابَیْنِ بَابٌ إِلَی الْمَشْرِقِ وَ بَابٌ إِلَی الْمَغْرِبِ،وَالْبَابُ الَّذِی إِلَی الْمَغْرِبِ یُسَمَّیالْمُسْتَجَارَ۔[ 81
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں:
”جنا ب ابراھیم خلیل ںنے کعبہ کی تعمیر فرمائی اور اس کے لئے دو دروازے بنائے،ایک در مشرق کی طرف،اور ایک در مغرب کی طرف،جودر مغرب کی طرف ھے اسے مستجار کھتے ھیں’ ’۔
رکن یمانی
رَا یَٔنٰاکَ تُکْثِرُ اِسْتِلاٰمَ الرُّکْنِ الْمَیٰانیِّ فَقَالَ: مٰا اَتَیْتُ عَلَیْہِ قَطُّ اِلاّ وَٰجَبْرَئیلُ قٰائِمٌ عِنْدَہُ یَسْتَغْفِرُ لِمَنْ اسْتَلَمَہُ۔[ 82
عطا کھتے ھیں:
”لوگوں نے حضرت رسول خد ا صلی الله علیہ و آلہ و سلم سے کھا ھم بھت دیکھتے ھیں کہ آپ(ص)رکن یمانی کا بوسہ لے رھے ھیں فرمایا:میں ھر گز رکن یمانی کے پاس نھیں آیا مگر یہ کہ میں نے دیکھاکہ جبرئیل ع)وھاں کھڑے ھیں اور جولوگ اسے چوم رھے ھیں ان کے لئے مغفرت کی دعا کر رھے ھیں ”۔
سعی کی جگہ
عَنْ ا بَٔی بَصِیرٍ قَالَ:
سَمِعْتُ ا بَٔا عَبْدِ اللّٰہِ (ع)یَقُولُ:
[ مَا مِنْ بُقْعَةٍ ا حَٔبَّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمَسْعَیٰ لِا نَّٔہُ یُذِلُّ فِیھَا کُلَّ جَبَّارٍ۔[ 83
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:“کوئی بھی جگہ خدا وند عالم کے نزدیک سعی کی جگہ سے محبوب اورپسندیدہ نھیں ھے کیونکہ وھاں ھر جبار وستم گر ذلیل خوارھوتا ھے ”۔
مقبول شفاعت
قَالَ عَلِیُّبْنُ الْحُسَیْنِ (ع:(
السَّاعِی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَشْفَعُ لَہُ الْمَلاٰئِکَةُ فَتُشَفَّعُ فِیہِ بِالإِیجَابِ۔[ 84
امام زین العابدین (ع)فرماتے ھیں:
”فرشتہ صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنے والے کی(خدا سے) شفاعت طلب کرتے ھیں اور ان کی دعاقبولھوتی ھے ’ ’ ۔
ھرولہ
عَنْ ا بَِٔی عَبْدِ اللّٰہِ(ع) قَالَ:
صَارَ السَّعْیُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِا نََّٔ إِبْرَاہِیمَ عَرَضَ لَہُ إِبْلِیسُ فَا مََٔرَہُ جَبْرَئِیلُ(ع)، فَشَدَّ عَلَیْہِ فَھَرَبَ مِنْہُ،فَجَرَتْ بِہِ.السُّنَّةُ - یعنی بالْھَرْوَلَة[ 85
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”صفاو مروہ کے درمیان سعی میں (ھرولہ)اس لئے ھے کہ ابلیس نے خود کو وھاں جناب ابراھیم (ع) پر ظاھرکیا اس وقت جبرئیل (ع)نے جناب ابراھیم (ع) کو شیطان پر حملہ کا حکم دیا آپ (ع) نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھاگااس وجہ سے ھرولہ سنت بن گیا ”۔
صفا ومروہ کے درمیان بیٹھنا
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع:(
لاٰ یَجْلِسُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ مَنْ جَھَدَ۔[ 86
امام جعفرصادق(ع) نے فرمایا:
”صفاو مروہ کے درمیان نہ بیٹھے مگر وہ شخصجو تھک جائے ’ ’ ۔
اھل عرفات پر فخر
قال رسول الله (ص:(
”إنّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یُباھی مَلائِکَتَہُ عَشِیَّةَ عَرَفَة بِاَھْلِ عَرَفَةَ فَیَقُولُ:
[ اُنْظُرُوا اِلی عِبادی ا تَٔوْنی شُعْثاً غُبْراً”۔[ 87
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”بلا شبہ خدا وند عالم روز عرفہ کے عصر کے وقت اھل عرفات کے سلسلہ میں فرشوں سے فخر ومباھات کرتا ھے اور فرماتا ھے :میرے بندوں کو دیکھو جو پریشاں حال اور غبار آلود میرے پاس آئے ھیں”۔
مشعر الحرام
قال رسول الله(ص): - وَھُوَ بِمنیٰ:-
لَوْ یَعْلَمُ اَہْلُ الجَمْعَ بِمَنْ حَلُّوا ا ؤَبِمَنْ نَزَلُوا لاَ سْتَبْشَرُوا بالفَضْلِ مِنْ رَبِّھِمْ بَعْدَ المَغْفِرَةِ”۔[ 88
رسول خدا (ص)جب منیٰ میںتشریف فرماتھے آپ(ص) نے فرمایا: “اگر اھل مشعر جان لیتے کہ کس کی بارگاہ میں آئے ھیں اور کس لئے آئے ھیں تو مغفرت اور بخشش کے بعد خدا کے فضل کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو بشارت دیتے ”۔
منیٰ
قال الصادق(ع:(
[ ”إِذَا ا خَٔذَ النَّاسُ مَوَاطِنَھُمْ بِمِنًی،نَادَی مُنَادٍمِنْ قِبَلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ:إِنْ ا رَٔدْتُمْ ا نْٔا رَٔضَی فَقَدْ رَضِیتُ”۔[ 89
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں:
”جب لوگ منیٰ میں اپنی جگہ ٹھھر جاتے ھیں تو منادی خداوند عالم کی جانب سے ندا دیتا ھے اگر تم یہ چاھتے تھے کہ میں تم سے راضیھو جاو ںٔ تو میں تم سے
راضیھو گیا ”۔
شیطا ن کو کنکریاں مارنا
قالَ الصَّادِقُ(ع:(
”إنَّ عِلَّةَ رَمْیِ الْجَمَراٰتِ ا نََّٔ إِبْراہِیم(ع) تَراء یٰ لَہُ إِبْلِیسُ عِنْدھٰا فَا مَٔرہُ جَبْرائیلُ بِرَمْیِہ بِسَبعِ حَصَیاتٍ وَا نَٔ یُکَبِّر مَعَ
[ کُلِّ حَصَاةٍ فَفَعَلَ وَجَرَتْ بِذلِکَ السُّنَةِ”۔[ 90
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں:
”ان جمرات کوکنکریاں مارنے کی وجہ یہ ھے کہ ابلیس وھاں پر حضرت ابراھیم) ع) کے سامنے ظاھرھوا اسوقت جبرئیل (ع) نے جناب ابراھیم (ع) کو حکم دیا کے سات کنکریوں سے شیطا ن کو ماریں اور ھر کنکری پر تکبیر بھی کھیں جناب ابراھیم (ع) نے ایسا ھی کیا اور اس کے بعد سے یہ سنت بن گئی”۔
قربانی
عن ا بٔی جعفر (ع)قال: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
[ إِنَّمَا جَعَلَ اللّٰہُ ھَذَا الْا ضَٔحَی لِتَشْبَعَ مَسَاکِینُھُمْ مِنَ اللَّحْمِ فَا طَٔعِمُوھُمْ”۔[ 91
امام محمد باقر (ع)فرماتے ھیں:
”کہ رسو ل خدا (ص)نے فرمایا :خدا وند عالم نے اس قربانی کو واجب قرار دیا ھے تاکہ بےنوا اور مسکین لوگ گوشت سے استفادہ کریں اور سیرھوں پس انھیں کھلاو ”ٔ۔
مغفرت طلب کرنا
قال الصادق(ع:(
”اِسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللّٰہِ لِلْمُحَلِّقِینَ ثَلاٰثَ مَرَّاتٍ”۔[ 92
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں:
”کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے منیٰ میں سر مڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ استغفار کیا (اور خداسے ان کے لئے بخشش طلب کی)ھے”۔
حج کے اسرار
عالم جلیل سید عبد الله مرحوم محدث جزائری کے پوتوں سے نقل کرتےھوئے کتاب شرح نخبہ میں تحریر کرتے ھیں :
متعدد ما خذ میں جن پر میری تائید ھے بعض بزرگوں کی تحریر میں یہ حدیث مرسل اس طرح نقلھوئی ھے کہشبلی حج انجام دینے کے بعد امام زین العابدین ںکی زیارت کو آئے تو حضرت (ع) نے ان سے فرمایا:
حَجَجْتَ یَا شَبْلِیُّ؟
قَالَ:نَعَمْ یَا ابْنَ رَسُولِ اللّٰہِ فَقَالَ(ع):ا نََٔزَلْتَ الْمِیقَاتَ وَ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ الثِّیَابِ وَاغْتَسَلْتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،
قَالَ:فَحِینَ نَزَلْتَ الْمِیقَاتَ نَوَیْتَ ا نََّٔکَ خَلَعْتَ ثَوْبَ الْمَعْصِیَةِ وَلَبِسْتَ ثَوْبَ الطَّاعَةِ؟ قَالَ:لاٰ،
قَالَ:فَحِینَ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ ثِیَابِکَ نَوَیْتَ ا نََّٔکَ تَجَرَّدْتَ مِنَ الرِّیَاءِ وَالنِّفَاقِ وَالدُّخُولِ فِی الشُّبُھَاتِ؟قَالَ:لاٰ،
قَالَ:فَحِینَ اغْتَسَلْتَ نَوَیْتَ ا نََّٔکَ اغْتَسَلْتَ مِنَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوبِ؟قَالَ:لاٰ،
قَالَ:فَمَا نَزَلْتَ الْمِیقَاتَ وَلاٰ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ الثِّیَابِ وَلاٰ اغْتَسَلْتَ،
اے شبلی! کیا تم نے حج کر لیا؟عرض کیا ھاں اے فرزند رسول خدا !فرمایا:کیا تم میقات میں ٹھھرے اور اپنے
سلےھوئے لباس کو جسم سے اتار کر غسل کیا؟ شبلی نے جواب دیا، ھاں۔امام نے پوچھا جب تم میقات
میںداخلھوئے تو کیا یہ نیت کی کہ میں نے گناہ اور نافرمانی کا لباس اتار دیا ھے اور خدا کی اطاعت و
فرمانبرداری کا لباس پہن لیا ھے ؟
شبلی: نھیں۔امام نے پوچھا:جب تم نے اپنا سلاھوا لباس اتارا تو کیا یہ نیت کی تھی کہ خود کو ریا ،دوروئی اور
شبھات وغیرہ سے دور کر رھےھو ؟شبلی نھیں:
امام (ع): غسل کرتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خود کو خطاو ںٔ اور گناہوں سے پاک کر
رھےھو؟شبلی نھیں :
امام (ع):(پس در حقیقت تم ) نہ میقات میں واردھوئے اور نہ تم نے سلاھوا لباس اتارا اور نہ غسل کیا ھے ”۔
ثُمَّ قَالَ:تَنَظَّفْتَ وَا حَٔرَمْتَ وَعَقَدْتَ بِالْحَجِّ، قَالَ:نعم۔قَالَ: فَحِینَ تَنَظَّفْتَ وَا حَٔرَمْتَ وَ عَقَدْتَ الْحَجَّ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ تَنَظَّفْتَ بِنُورَةِ
التَّوْبَةِ الْخَالِصَةِ لِلَّہٰ تَعَالیَ؟قَالَ لاٰ،قَالَ:فَحِینَ ا حَٔرَمْتَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ حَرَّمْتَ عَلَی نَفْسِکَ کُلَّ مُحَرَّمٍ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ؟قَالَ:لاٰ،
قَالَ:فَحِینَ عَقَدْتَ الْحَجَّ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ قَدْ حَلَلْتَ کُلَّ عَقْدٍ لِغَیْرِ اللّٰہِ؟قَالَ:لاٰ،
قَالَ لَہُ(ع):مَا تَنَظَّفْتَ وَلاٰا حَْٔرَمْتَ وَلاٰ عَقَدْتَ الْحَجَّ ،
”اس کے بعد امام(ع) اس سے پوچھتے ھیں، کیا تم نے خودکو پاک صاف کیا اور احرام پہنا اور حج کا عھد
وپیمان کیا (یعنی حج کی نیت کی)شبلی: ھاں
امام (ع): کیا تم یہ نیت کی تھی کہ خود کو خالصتوبہ کے نور ہ سے پاکیزہ کر رھےھو؟شبلی :نھیں
امام (ع):احرام باندھتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ جو کچھ خدا نے تمھیں کرنے سے روکا ھے اسےاپنے آپ پر حرام سمجھو؟شبلی:نھیں۔ امام: حج کا عھد کرتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم نے ھر غیر
الٰھی عھد وپیمان سے خودکو رھا کر لیا ھے؟ شبلی: نھیں۔امام(ع) :پھرتم نے احرام نھیں باندھا پاکیزہ نھیںھوئے اور حج کی نیت نھیںکی ”۔
قَالَ لَہُ: ا دَٔخَلْتَ الْمِیقَاتَ وَصَلَّیْتَ رَکْعَتَیِ الْإِحْرَامِ وَلَبَّیْتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،
قَالَ:فَحِینَ دَخَلْتَ الْمِیقَاتَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ بِنِیَّةِ الزِّیَارَةِ؟قَالَ:لاٰ۔
قَالَ:فَحِینَ صَلَّیْتَ الرَّکْعَتَیْنِ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ تَقَرَّبْتَ إِلَی اللّٰہِ بِخَیْرِ الْا عٔمَالِ مِنَ الصَّلاٰةِ وَا کَٔبَرِ حَسَنَاتِ الْعِبَادِ؟ قَالَ:لا،
قَالَ:فَحِینَ لَبَّیْتَ نَوَیْتَ ا نََّٔکَ نَطَقْتَ لِلّٰہِ سُبْحَانَہُ بِکُلِّ طَاعَةٍ وَصُمْتَ عَنْ کُلِّ مَعْصِیَةٍ؟ قَالَ:لاٰ ،
قَالَ لَہُ(ع): مَا دَخَلْتَ الْمِیقَاتَ وَلاٰ صَلَّیْتَ وَلاٰ لَبَّیْتَ،
”اس کے بعد امام (ع)نے پوچھا :کیا تم میقات میں داخلھوئے اور دو رکعت نماز احرام ادا کی اور لبیک کھی
؟شبلی:ھاں۔
امام (ع):میقات میں داخلھوتے وقت کیا تم نے زیارت کی نیت کی؟ شبلی :نھیں۔
امام (ع):کیا دو رکعت نماز پڑھتے وقت تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم بھترین اعمال اور بندوں کے بھترین حسنات یعنی نماز کے ذریعہ خدا سے قریبھو رھےھو؟شبلی: نھیں۔
امام (ع):پس لبیک کھتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خدا کی خالص فرمانبر داری کی بات کر رھےھواور ھر معصیت سے خاموشی اختیار کر رھےھو؟شبلی :نھیں ۔
امام (ع)نے فرمایا:پھر نہ تم میقات میں داخلھوئے نہ نماز پڑھی اور نہ لبیک کھی ”۔
ثُمَّ قَالَ لَہُ:ا دَٔخَلْتَ الْحَرَمَ وَرَا یَٔتَ الْکَعْبَةَ وَصَلَّیُتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،
قَالَ :فَحِینَ دَخَلْتَ الْحَرَمَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ حَرَّمْتَ عَلَی نَفْسِکَ کُلَّ غَیْبَةٍ تَسْتَغِیبُھَا الْمُسْلِمِینَ مِنْ ا ۂَْلِ مِلَّةِ الْإِسْلاٰمِ؟قَالَ:لاٰ۔
قَالَ فَحِینَ وَصَلْتَ مَکَّةَ نَوَیْتَ بِقَلْبِکَ ا نَّٔکَ قَصَدْتَ اللّٰہَ؟ قَالَ:لاٰ۔
قَالَ(ع):فَمَا دَخَلْتَ الْحَرَمَ وَلاٰ رَا یَٔتَ الْکَعْبَةَوَلاٰ صَلَّیْتَ،
”امام (ع) نے پھر پوچھا :کیا تم حرم میں داخلھوئے، کعبہ کو دیکھا اور نماز ادا کی ؟شبلی :ھاں۔
امام(ع) :حرم میں داخلھوتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ اسلامی معاشرہ کے مسلمانوں کی غیبت کو اپنے
اوپر حرام کرتےھو ؟ شبلی: نھیں۔
امام (ع):مکہ پہنچتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی کہ صرف خدا کو چاھتےھو ؟شبلی:نھیں۔
امام (ع):پھر نہ تم حرم میں واردھوئے اور نہ کعبہ کا دیدار کیا اور نہ نماز ادا کی ”۔
ثُمَّ قَالَ:طُفْتَ بِالْبَیْتِ وَمَسَسْتَ الْا رَٔکَانَ وَسَعَیْتَ؟قَالَ:نَعَمْ۔
قَالَ(ع):فَحِینَ سَعَیْتَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ ھَرَبْتَ إِلَی اللّٰہِ وَعَرَفَ مِنْکَ ذٰلِکَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ؟قَالَ:لاٰ ۔
قَالَ فَمَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ وَلاٰ مَسِسْتَ الْا رَٔکَانَ وَلاٰ سَعَیْتَ۔
”پھر امام نے پوچھا :کیا تم نے خانہ خدا کا طواف کیا ارکان کو مس کیا اور سعی انجام دی ؟شبلی :ھاں۔
امام (ع):سعی کرتے وقت کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ شیطان اور اپنے نفس سے بھاگ کر خدا کی پناہ حاصلکرتےھواور وہ غیب سے سب سے زیادہ آگاہ ھے وہ اس بات کو جانتا ھے ؟ شبلی:نھیں۔
امام (ع):پھر نہ تم نے خانہ خدا کاطواف کیا نہ ارکان مس کئے اور نہ سعی کی،
ثُمَّ قَالَ لَہُ:صَافَحْتَ الْحَجَرَوَ وَقَفْتَ بِمَقَامِ إِبْرَاہِیمَ(ع) وَصَلَّیْتَ بِہَ رَکْعَتَیْنِ؟قَالَ:نَعَمْ فَصَاحَ) ع)صَیْحَةً کَادَ یُفَارِقُ الدُّنْیَا ثُمَّ
قَالَ:آہِ آہِ۔
ثُمَّ قَالَ(ع):مَنْ صَافَحَ الْحَجَرَ الْا سَْٔوَدَ فَقَدْ صَافَحَ اللّٰہَ تَعَالَی،فَانْظُرْ یَامِسْکِینُ لاٰ تُضَیِّعْ ا جَْٔرَ مَا عَظُمَ حُرْمَتُہُ،وَتَنْقُضِالْمُصَافَحَةَ بِالْمُخَالَفَةِ،وَقَبْضِالْحَرَامٍ نَظِیرَ ا ۂَْلِ الْآثَامِ۔
ثُمَّ قَالَ(ع):نَوَیْتَ حِینَ وَقَفْتَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ(ع)ا نََّٔکَ وَقَفْتَ عَلَی کُلِّ طَاعَةٍ وَتَخَلَّفْتَ عَنْ کُلِّ مَعْصِیَةٍ؟قَالَ:لاٰ۔
قَالَ:فَحِینَ صَلَّیْتَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ نَوَیْتَ ا نََّٔکَ صَلَّیْتَ بِصَلاٰةِ إِبْرَاہِیمَ(ع)،وَا رَْٔغَمْتَ بِصَلاٰتِکَ ا نَْٔفَ الشَّیْطَانِ؟قَالَ:لاٰ۔
قَالَ لَہُ:فَمَا صَافَحْتَ الْحَجَرَ الْا سَْٔوَدَ وَلاٰ وَقَفْتَ عِنْدَ الْمَقَامِ وَلاٰ صَلَّیْتَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ۔
”امام(ع) نے دریافت فرمایا:کیا تم نے حج اسود سے مصافحہ کیا، مقام ابراھیم (ع) کے نزدیک کھڑےھوئے
اوردو رکعت نماز ادا کی ؟شبلی: ھاں،
پس امام (ع):نے فریا د بلند کی ایسا لگتا تھا کہ آپ (ع) دنیا سے ھی کو چ کرجانے والے ھیں اس کے بعد
فرمایا :آہ ،آہ۔۔۔۔
پھر فرمایا :جو حجر اسود کو لمس کرے اس نے خدا سے مصافحہ کیا پس اے مسکین !دیکھ اس عظیم حرمتوعزت کو ضائع نہ کر اور مصافحہ کو مخالفت اور گناہکاروں کے مانند حرام کاری کے ذریعہ نہ توڑ اس کے بعد پوچھا : جب تم مقام ابراھیم (ع)کے نزدیک گئے تو کیا تمھاری نیت یہ تھی کہ خدا کے تمام احکام وفرامین کی پابندی اور ھر معصیت ونافرمانی کی مخالفت کرو گے؟شبلی: نھیں
امام (ع):جب تم نے طواف کی دور کعت نماز ادا کی تو کیا یہ نیت تھی کہ تم نے جناب ابراھیم کے ھمراہ نمازپڑھی ھے اور شیطان کی ناک کو خاک پر رگڑدیاھے ؟شبلی:نھیں۔
امام(ع):پھر درحقیقت نہ تم نے حجر اسود کا مصافحہ کیا نہ مقام ابراھیم کے پاس کھڑےھوئے اور نہ وھاں دورکعت نماز اداکی ۔
ثُمَّ قَالَ(ع):لَہُ ا شَٔرَفْتَ عَلَی بِئْرِ زَمْزَمَ وَ شَرِبْتَ مِنْ مَائِھَا؟ قَالَ:نَعَمْ۔
قَالَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ ا شَٔرَفْتَ عَلَی الطَّاعَةِ، وَغَضَضْتَ طَرْفَکَ عَنِ الْمَعْصِیَةِقَالَ:لاٰ۔
قَالَ(ع):فَمَا ا شْٔرَفْتَ عَلَیْھَا وَلاٰ شَرِبْتَ مِنْ مَائِھَا۔
پھرامام(ع) نے پوچھا :کیا تم چاہ زمزم پر گئے اور اس کا پانی پیا؟ شبلی :ھاں
امام (ع)نے فرمایا :کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم نے خدا کی فرماں برداری حاصل کر لی اور اس کے گناہوںاور معصیت سے آنکھیں بند کر لی ھیں؟شبلی:نھیں
امام (ع)نے فرمایا :پھر درحقیقت نہ تم چاہ زمزم پر گئے اور نہ اس کا پانی پیا ھے ”۔
ثُمَّ قَالَ لَہُ(ع):ا سَٔعَیْتَ بَیْنَ الصَّفَاوَالْمَرْوَةِ وَمَشَیْتَ وَتَرَدَّدْتَ بَیْنَھُمَا؟قَالَ:نَعَمْ۔
قَالَ لَہُ:نَوَیْتَ ا نَّٔکَ بَیْنَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ؟ قَالَ:لاٰ۔
قَالَ:فَمَاسَعَیْتَ وَلاٰمَشَیْتَ وَلاٰتَرَدَّدْتَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔ ثُمَّ قَالَ:ا خَٔرَجْتَ إِلٰی مِنیٰ؟ قَالَ :نَعَمْ،قَالَ: نَوَیْتَ ا نَّٔکَ آمَنْتَ
النَّاسَ مِنْ لِسَانِکَ وَقَلْبِکَ وَیَدِکَ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا خَرَجْتَ إِلٰی مِنًی۔
ثُمَّ قَالَ:لَہُ ا ؤَقَفْتَ الْوَقْفَةَ بِعَرَفَةَ،وَطَلَعْتَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ، وَعَرَفْتَ وَادِیَ نَمِرَةَ،وَدَعَوْتَ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ عِنْدَالْمِیْلِ
وَالْجَمَرَاتِ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:ھَلْ عَرَفْتَ بِمَوْقِفِکَ بِعَرَفَةَمَعْرِفَةَ اللّٰہِ سُبْحَانَہُ ا مَٔرَ الْمَعَارِف وَالْعُلُومِ وَعَرَفْتَ قَبْضَ اللّٰہِ عَلٰیصَحِیفَتِکَ وَ اطِّلاٰعَہُ عَلَی سَرِیرَ تِکَ وَقَلْبِکَ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ نَوَیْتَ بِطُلُوعِکَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ ا نَّٔ اللّٰہَ یَرْحَمُ کُلَّ مُو مْٔنٍ وَ
مُو مْٔنَةٍ وَیَتَوَلَّی کُلَّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ؟ قَالَ: لاٰ، قَالَ: فَنَوَیْتَ عِنْدَ نَمِرَةَ ا نَٔکَ لاٰ تَا مُٔرُ حَتَّی تَا تْٔمِرَ،وَلاٰ تَزْجُرُ حَتَّی تَنْزَجِرَ؟
قَالَ: لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَمَا وَقَفْتَ عِنْدَ الْعَلَمِ وَالنَّمِرَاتِ، نَوَیْتَ ا نَٔھَا شَاھِدَةٌ لَکَ عَلَی الطَّاعَاتِ حَافِظَةٌ لَکَ مَعَ الْحَفَظَةِبِا مَٔرِ رَبِّ
السَّمَاوَاتِ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا وَقَفْتَ بِعَرَفَةَ،وَلاٰ طَلَعْتَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ،وَلاٰ عَرَفْتَ نَمِرَةَ، وَلاٰدَعَوْتَ، وَلاٰ وَقَفْتَ عِنْدَ النَّمِرَاتِ۔
”پھرامام (ع) نے کیا تم نے دریافت کیا، صفاو مروہ کے درمیان سعی انجام دی اور پید ل ان دو پھاڑوں کےدرمیان راہ طے کی ھے ؟ شبلی :ھاں
امام (ع): کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خوف ورجاء کے درمیان راہ طے کر رھےھو؟شبلی:نھیں
امام (ع):پس تم نے صفاو مروہ کے درمیان سعی نھیں کی پھر فرمایا کیا تم منیٰ کی طرف گئے ؟شبلی:ھاں
امام (ع):کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ لوگوں کو اپنی زبان اپنے دل اور اپنے ھاتھوں سے امان میں رکھو؟شبلی:نھیں
امام (ع):پھر تم منیٰ نھیں گئےھو۔ اس کے بعد پوچھا :کیا تم نے عرفات میں وقوف کیا اور جبل رحمت کے
اوپر گئے اور وادی نمرہ کو پہچانااور جمرات کے کنارے خدا سے دعاکی ؟شبلی:ھاں
امام (ع)نے فرمایا:آیا عرفات میں وقوف کے وقت تمھیں معارف و علوم کے ذریعہ الله کی معرفتھوئی اور کیا تم نے جانا کہ الله تمھارے نامہ عٔمل کولے گا اور وہ تمھاری فکر و خیال سے آگاھی رکھتا ھے ؟شبلی:نھیں
امام :کیا جبل رحمت کے اوپر جاتے وقت تمھاری یہ نیت تھی کہ خداوند عالم ھر با ایمان مرد وزن پر رحمت
نازل کرتا ھے اور ھر مسلمان مردوزن کی سرپرستی کرتا ھے ؟شبلی:نھیں
امام :آیا وادی نمرہ میں تم نے یہ خیال کیا کہ کوئی حکم نہ دو جب تکخود فرمانبردار نہھوجاو أور نھی نہ کرو
جب تک خود کو نہ روکو؟ شبلی:نھیں
جب تم نشان اور نمرہ کے نزدیک ٹھھرے تو کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ وہ تمھاری عبادات اور طاعت پر گوا ہھوں اور خداوندعالم کے نگھبانوں کے ھمراہ اس کے حکم سے تیری حفاظت کریں؟ شبلی:نھیں
حضرت نے فرمایا:پھر نہ تم عرفات میں ٹھھرے نہ جبل رحمت کے اوپر گئے نہ نمرہ کو پہچانا نہ دعا کی اور نہ نمرہ کے نزدیک وقوف کیاھے۔
ثُمَّ قَالَ:مَرَرْتَ بَیْنَ الْعَلَمَیْنِ،وَصَلَّیْتَ قَبْلَ مُرُورِکَ رَکْعَتَیْنِ،وَمَشَیْتَ بِمُزْدَلِفَةَ، وَل قَطْتَ فِیھَا الْحَصَی،وَمَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ
الْحَرَامِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ :فَحِینَ صَلَّیْتَ رِکْعَتَیْنِ،نَوَیْتَ ا نََّٔھَا صَلاٰةُ شُکْرٍ فِی لَیْلَةِ عَشْرٍ،تَنْفِی کُلَّ عُسْرٍ، وَتُیَسِّرُ کُلَّ یُسْرٍ؟
قَالَ :لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَامَشَیْتَ بَیْنَ الْعَلَمَیْنِ،وَلَمْ تَعْدِلْ عَنْھُمَا یَمِیناً وَشِمَالاً،نَوَیْتَ ا نَْٔ لاٰ تَعْدِلَ عَنْ دِینِ الْحَقِّ یَمِیناً وَشِمَالاً،لاٰ
بِقَلْبِکَ،وَلاٰ بِلِسَانِکَ،وَلاٰبِجَوَارِحِکَ، قَالَ:لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَ مَا مَشَیْتَ بِمُزْدَلِفَةَ وَلَقَطْتَ مِنْھَا الْحَصَی،نَوَیْتَ ا نَّٔکَ رَفَعْتَ عَنْکَ
کُلَّ مَعْصِیَةٍ،وَ جَھْلٍ،وَثَبَّتَّ کُلَّ عِلْمٍ وَعَمَلٍ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا مَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ،نَوَیْتَ ا نَّٔکَ ا شَٔعَرْتَ قَلْبَکَ
إِشْعَارَ ا ۂَلِ التَّقْویٰ وَالْخَوْفَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا مَرَرْتَ بِالْعَلَمَیْنِ،وَلاٰ صَلَّیْتَ رِکْعَتَیْنِ،وَلاٰ مَشَیْتَ بِالْمُزْدَلِفَةِ،وَلاٰرَفَعْتَ مِنْھَا الْحَصَی،وَلاٰ مَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۔
پھرامام نے پوچھا کہ کیا تم دونشانوں کے درمیان سے گذرے اور وھاں سے گذرنے سے پھلے دورکعت نمازاداکی اور پیدل مذدلفہ گئے اور وھاں کنکریاں چنیں اور مشعر الحرام سے گذرے؟شبلی:ھاں
امام نے فرمایا:جب دورکعت نماز اداکی تو کیا یہ نیت کی تھی کہ یہ نماز شب دھم کی نماز شکر ھے جو ھرسختی کو دور اور کاموں کو آسان کرتی ھے ؟ شبلی:نھیں
امام :جب تم دو نشانوں کے درمیان سے گذرے اور دائیں اور بائیں منحرف نھیںھوئے تو کیا یہ نیت کی تھی کہدین حق سے دائیں اور بائیں نہ دل سے نہ زبان سے اور نہ اپنے اعضاء بدن سے منحرف نھیں ھوئےھو؟شبلی:نھیں
امام :جب تم مذدلفہ گئے اور وھاں سنگریزے جمع کئے تو کیا یہ نیت کی تھی کہ ھر گناہ اور جھالت کو خودسے دور کیاھے اور ھر علم و نیک عمل کو اپنے آپ میں پائےدار کیا ھے؟شبلی:نھیں
امام :جب تم مشعر الحرام سے گذرے تو کیا یہ نیت کی تھی کہ اپنے دل کو اھل خدا کے تصور اور خدا کے خوف سے آراستہ کرو؟شبلی:نھیں
امام :پھر نہ تم دو پھاڑوں کے درمیان سے گذرےھو، نہ دورکعت نماز ادا کی ھے ،نہ مذدلفہ گئےھو ،نہ سنگریزے چنے ھیں اور نہ مشعر الحرام سے گذرےھو”۔
ثُمَّ قَالَ لَہُ:وَصَلَّتَ مِنٰی،وَرَمَیْتَ الْجَمْرَةَ، وَحَلَقْتَ رَا سْٔکَ، وَذَبَحْتَ ھَدْیَکَ،وَصَلَّیْتَ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ،وَرَجَعْتَ إِلَی
مَکَّةَ،وَطُفْتَ طَوَافَ الْإِفَاضَةِ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:فَنَوَیْتَ عِنْدَ مَا وصَلْتَ مِنًی وَرَمَیْتَ الْجِمَارَ،ا نَّٔکَ بَلَغْتَ إلَی مَطْلَبِکَ،وَقَدْ
قَضَی رَبُّکَ لَکَ کُلَّ حَاجَتِکَ؟قَالَ:لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَ مَا رَمَیْتَ الْجِمَارَنَوَیْتَ ا نَّٔکَ رَمَیْتَ عَدُوَّکَ إِبْلِیسَ وَغَضِبْتَہُ بِتَمَامِ
حَجِّکَ النَّفِیسِ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا حَلَقْتَ رَا سْٔکَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ تَطَھَّرْتَ مِنَ الْا دَٔنَاسِ، وَمِنْ تَبِعَةِ بَنْی آدمَ،وَخَرَجْتَ مِنَالذَّنُوبِ کَمَا وَلَدَتْکَ ا مُٔکَ؟ قَالَ: لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا صَلِّیْتَ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ لاٰ تَخَافُ إِلاَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّوَذَنْبَکَ،وَلاٰ تَرْجُو إِلاَّ رَحْمَةَ اللّٰہِ تَعَالیَ؟ قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا ذَبَحْتَ ھَدْیَکَ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ ذَبَحْتَ حَنْجَرَةَ الطَّمَع بِمَا تَمَسَّکْتَ بِہِ مِنْ حَقِیقَةِالْوَرَعِ،وَا نَّٔکَ اتَّبَعْتَ سُنَّةَ إِبرَاہِیمَ بِذَبْحِ وَلَدِہِ،وَثَمَرَةِ فُو أَدِہِ وَرَیْحَانِ قَلْبِہِ،وَحاَجَّہُ سُنَّتُہُ لِمَنْ بَعْدَہُ،
وَقَرَّبَہُ إِلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ؟لِمَنْ خَلْفَہُ قَالَ:لاٰ، قَالَ: فَعِنْدَمَا رَجَعْتَ إِلَی مَکَّةَ وَطُفْتَ طَوَافَ الْإِ فَاضَةِ نَوَیْتَ ا نَّٔکَ ا فَٔضْتَ مِنْ
رَحْمَةِ ١للّٰہِ تَعَالَی،وَرَجَعْتَ إِلَی طَاعَتِہِ وَتَمَسَّکْتَ بِوُدِّہِ وَا دَّٔیْتَ فَرَائِضہ،وَتَقَرَّبَتَ إِلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ: لَہُ زَیْنُ
العابدین(ع) فَمَا وَصَلْتَ مِنًی وَلاٰرَمْیَتَ الْجِمَارَ،وَلاٰحَلَقْتَ رَا سْٔکَ، وَلاٰ ا دَّٔیْتَ نُسُکَکَ،وَلاٰ صَلَّیْتَ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ، وَلاٰ طُفْتَ طَوَافَ الْإِ فَاضَةِ،وَلاٰ تَقَرَّبْتَ۔اْرجِعْ فَإِنَّکَ لَمْ تَحُجَّ۔
”پھر امام (ع)نے پوچھا کیا تم منیٰ پہنچے اور جمرہ کو کنکریاں ماری ،سر کے بال اتارے،اور اپنی قربانی انجام دی؟ نیز مسجد خیف میں نماز ادا کی ، اور مکہ واپس آکر “طواف افاضہ انجام دیا ”؟شبلی:ھاں
امام (ع)نے فرمایا:جب تم منیٰ پہنچے اور رمی جمرات انجام دی تو کیا یہ محسوس کیا کہ تمھاری تمنا پوریھوگئی اور خدا وند عالم نے تمھاری تمام حاجتیں پوری کردیں ؟شبلی:نھیں
امام (ع):جب جمرات کو کنکریاں ماریں تو کیا یہ نیت تھی کہ اپنے دشمن ابلیس کو کنکری ماررھےھواور اپنےقیمتی حج کو مکمل کرنے کے ساتھ تم نے اسے غضب ناک کر دیا ھے؟شبلی:نھیں
امام(ع):جب تم نے اپنے سر کے بال اتارے توکیایہ نیت کی تھی کہ بنی آدم کے گناہوں اور آلودگیوں سے پاکھو گئے اور اپنے گناہوں سے یوںباھر آگئے جیسے تمھیں تمھاری ماں نے ابھی پیدا کیا ھے؟ شبلی:نھیں
امام (ع):جب تم نے مسجد خیف میں نماز ادا کی تو کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ خدا ئے متعال اور گناہوں کےعلاوہ کسی چیز سے نھیں ڈرتے اور خدا کی رحمت کے علاوہ کسی اور سے امیدوار نھیں ھو؟شبلی:نھیں
امام(ع):جب تم نے اپنی قربانی کو ذبح کیا تو کیا یہ نیت تھی کہ حقیقی تقویٰ وپرھیز گاری کے ذریعہ تم نے اپنی لالچ کا گلا کاٹ دیا ھے اور جناب ابراھیم (ع)کہ جنھوں نے اپنے میوہ دٔل اور لخت جگر بیٹے کو قربان گاہ میں لا کر خدا سے قرب حاصل کرنے کا ایک وسیلہ اپنے بعد کی نسلوں کے لئے سنت کے طور پر قائم کیا تھا،ان کی پیروی کر رھےھو؟ شبلی: نھیں
امام(ع) :جب تم مکہ واپسھوئے اور “طواف افاضہ” انجام دیاتو کیا یہ نیت کی تھی کہ خدا کی رحمت سے کوچ کر کے اس کی اطاعت کی طرف پلٹ رھےھو،اس کی محبت حاصل کر لی ھے الٰھی واجبات ادا کئے ھیں اور خدا سے نزدیکھو گئےھو؟ شبلی: نھیں
امام :پھر نہ تم منیٰ پہنچے ،نہ شیطانوں کوسنگریزے مارے ھیں،نہ اپنے سر کے بال اتارے ھیں،نہ اپنے حج کے اعمال انجام دیئے ھیں،نہ مسجد خیف میںنماز ادا کی ھے،نہ طواف بجا لائےھواور نہ خدا کے قرب میںپہنچےھوواپس جاو کٔہ تم نے حج انجام نھیں دیا ھے ۔
[ فَطَفِقَ الشِّبْلِیُّ یَبْکِی عَلَی مَافَرَّطَہُ فِی حَجِّہِ،وَمٰا زَالَ یَتَعَلَّمُ حَتَّی حَجَّ مِنْ قَابِلٍ بِمَعْرِفَةٍ وَیَقینٍ۔[ 93
”جنا ب شبلی اس با ت پر بُری طرح رونے لگے کہ جیسا حج کرناچاہئے تھا انجام نھیں دیا اور مناسک حج آگاھی کے ساتھ ادا نھیں کئے آپ اپنی حالت پر شدت سے غم زدہ تھے اور اس کے بعد سے حج کے اسرار ومعارف یاد کرنے میں مشغولھو ئے تاکہ اگلے سال پوری شناخت اور یقین کے ساتھ حج بجالائیں” ۔
ختم قرآن
قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ(ع:(
تَسْبِیحَةٌ بِمَکَّةَ ا فَْٔضَلُ مِنْ خَرَاجِ الْعِرَاقَیْنِ یُنْفَقُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَقَالَ:مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ بِمَکَّةَ لَمْ یَمُتْ حَتَّی یَریٰ رَسُولَ اللّٰہِ
[ وَیَریٰ مَنْزِلَہُ فِی الْجَنَّةِ۔[ 94
امام زین العابدین (ع):نے فرمایا:
”مکہ میں سبحان الله کہنے کا ثواب عراق اور شام کے مالیات کو خدا کی راہ میں انفاق کرنے سے بھتر ھے،
نیز فرمایا:جو شخص مکہ میں ایک قرآن ختم کرے وہ اپنی موت سے پھلے حضرت رسول خدا (ص)کی زیارت کر لیتا ھے اور جنت میں اپنی جگہ کا مشاھدہ کر لیتا ھے ”َ
کعبہ سے وداع
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
[ إِذَا ا رَٔدْتَ ا نَٔ تَخْرُجَ مِنْ مَکَّةَ وَتَا تْٔیَ ا ھَٔلَکَفَوَدِّعِ الْبَیْتَ وَطُفْ بِالْبَیْتِ ا سُٔبُوعاً۔[ 95
معاویہ ابن عمار کھتے ھیں-کہ امام جعفر صادق ں نے فرمایا :
”جب تم مکہ سے نکل کر اپنے گھر والوں کی طرف واپس آنا چاہوتو کعبہ سے وداع کرو اور سات مرتبہ اس کے گرد طواف کرو”۔
قبولیت کی نشانی
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
[ آیَةُ قَبُولِ الْحَجِّ تَرْکُ مَا کَانَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ مُقِیماً مِنَ الذُّنُوبِ۔[ 96
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”حج کے قبولیت کی نشانی یہ ھے کہ جو گناہ بندہ پھلے انجام دیتا تھا اسے ترک کردے ”۔
حج کی نورانیت
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ(ع)قَالَ:
[ الْحَاجُّ لاٰ یَزَالُ عَلَیْہِ نُورُ الْحَجِّ مَا لَمْ یُلِمَّ بِذَنْبٍ۔[ 97
امام جعفرصادق (ع)فرمایا:
”حج کرنے والا جب تک اپنے آپ کو گناہ سے آلودہ نہ کرے ، حج کا نورھمیشہ اس کے ساتھ رھتاھے”۔
دوبارہ آنے کی نیت
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
[ مَنْ ا رَٔادَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةَ فَلْیَو مَُّٔ ھَذَا الْبَیْتَ،وَ مَنْ رَجَعَ مِنْ مَکَّةَ وَھُوَ یَنْوِی الْحَجَّ مِنْ قَابِلٍ زِیدَ فِی عُمُرِہِ۔[ 98
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جو شخص دنیا وآخرت چاھتا ھے وہ اس گھر کی طرف آنے کا قصد کرے اور جو شخص مکہ سے واپس ھو اوریہ نیت رکھے کہ اگلے سال بھی حج سے مشرفھوگا تو اس کی عمر میں اضافہ ھوتا ھے ’ ’ ۔
حج کی تکمیل
قالَ الصادِقُ(ع:(
”اِذاحَجَّ اَحَدُکُمْ فَلْیَخْتِمْ حَجَّہُ بِزِیارَتِنَا لِا نَّٔ ذٰلِکَ مِنْ تَمامِ الحَجِّ”۔[ 99
امام جعفر صادق (ع) اسماعیل ابن مھران سے فرماتے ھیں:
”جب بھی تم میں سے کوئی شخص حج انجام دے اسے چاہئے کہ اپنے حج کو ھماری زیارت پر تمام کرےکیونکہ یہ حج کے کاملھونے کی شرطوں میں سے ھے ”۔
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم کی زیارت
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
[ مَنْ حَجَّ فَزٰارَ قَبْری بَعْدَ مَوْتی کَانَ کَمَنْ زٰارَنی فی حَیٰاتِی۔[ 100
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جس نے حج کیا اور میری موت کے بعد میری زیارت کی وہ اس شخصکے مانند ھے جس نے میری زندگی میں میر ی زیارت کی ھے”۔
پیغمبر (ص)کے ساتھ حج
”عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ(ع) قَالَ:
[ إِنَّ زِیٰارَةَ قَبْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی الله علیہ و آلہ و سلم تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ مَبْرُورَةً۔[ 101
امام محمد باقر(ع) فرماتے ھیں:
”بلا شبہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم کے قبر کی زیارت (کاثواب (آنحضرت(ص) کے ساتھ کئے جانےوالے ایک مقبول حج کے برابر ھے ”۔
عاشقانہ زیارت
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
مَنْ جٰاءَ نی زٰائِراً لایَعْمَلُہُ حٰاجَةً اِلاّٰ زِیٰارَتی، کَانَ حَقّاً عَلَیَّ اَنْ اَکُونَ لَہُ شَفیعاً یَوْمَ الْقِیٰامَةِ۔[ 102
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جو شخص میری زیارت کو آئے اور میری زیارت کے علاوہ کوئی اور کا م نہ کرے تو مجھ پر یہ حق ھےکہ میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں” ۔
فرشتو(ع) کی ماموریت
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ لَیْ مَلَکَیْنِ یَرُدَّانِ السَّلاٰمَ عَلٰی مَنْ سَلَّمَ عَلَیَّ مِنْ شَرْقِ البِلاٰدِ وَغَرْبِھٰا،اِلاّٰ مَنْ سَلَّمَ:
عَلَیَّ فی دٰاری فَاِنّی اَرُدُّ عَلَیْہِ السَّلاٰمَ بِنَفْسی۔[ 103
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”خدا وند عالم نے میرے لئے دو فرشتے خلق فرمائے ھیں کہ جو شخص بھی مشرق ومغرب میں مجھے سلامکرتا ھے اور مجھ پر درود بھیجتا ھے وہ اس کا جواب دیتے ھیں مگر جو شخص میرے گھر آتا ھے اور مجھے سلام کرتا ھے تو میں خودا س کے سلام کا جواب دیتاھو ں ”۔
مسجد النبی میں نماز
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
صَلاٰةٌ فِی مَسْجِدِی ھَذَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ عَشَرَةَ آلاٰ فِ صَلاٰةٍ فِیغَیْرِہِ مِنَ الْمَسَاجِدِإِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِنَّ الصَّلاٰةَ فِیہِ تَعْدِلُ مِائَةَ ا لَٔفِ صَلاٰةٍ۔[ 104
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”میری مسجد میں نماز دوسری مسجدوں میں پڑھی جانے والی دس ہزار نمازوں کے برابر ھے سوائے مسجدالحرام کے کہ
اس میں پڑھی جانے والے نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ھے ”۔
جنت کا باغ
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
مَا بَیْنَ قَبْرِی وَمِنْبَرِی رَوْضَةٌ مِنْ رِیَاضِالْجَنَّةِ،وَمِنْبَرِی عَلَی تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ ۔[ 105
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”میری قبر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے اور میرا منبر جنت کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کے اوپر ھے ”۔
حضرت فاطمہ (ع)پرسلام
یزید ابن عبد الملک نے اپنے باپ سے سنا کہ اس کے دادا کھتے تھے کہ میں حضرت فاطمہ زھرا (ع) کی خدمت میں حاضرھواآپ (ع)نے مجھے سلام کیا اور اس کے بعد دریافت کیاکہ تم کس لئے یھاں آئےھو؟میں نے عرضکی،برکت کی درخواست کرنے ۔
قَالَتْ:ا خَٔبَرَنِی ا بَٔی وَھُوَ ذَا ھُوَ ا نَّٔہُ مَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ وَعَلَیَّ ثَلاٰثَہَ ا یَّٔامٍ ا ؤَجَبَ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّةَ۔
حضرت فاطمہ سلام الله علیھا نے فرمایا:
”میرے بابا نے مجھے خبر دی ھے کہ :جوشخص ان(ص)پر اور مجھ پرتین روز سلام کرے خدا وند عالم اس پر جنت واجب کردیتا ھے ”۔
[ قُلْتُ لَھَا:فِی حَیَاتِہِ وَحَیَاتِکِ قَالَتْ نَعَمْ وَ بَعْدَ مَوْتِنَا۔[ 106
”میں نے حضرت (ع)سے پوچھا :ان کی اورآپ (ع) کی حیات میں ؟ فرمایا: ھاں اور ھماری موت کے بعد بھی
”۔
ائمہ (ع)پر سلام
قَالَ ا بَٔو جَعْفَرٍ(ع)،وَنَظَرَ النَّاسَ فِی الطَّوَافِ قَالَ:
ا مُٔرُوا ا نَٔ یَطُوفُوا بِھَذَا ثُمَّ یَا تُْٔونَافَیُعَرِّفوُنَا مَوَدَّتَھُمْ ثُمَّ یَعْرِضُوا عَلَیْنَا نَصْرَھُمْ”۔[ 107
امام محمد باقر (ع) نے،اس وقت جب کہ آپ لوگوں کوطواف کرتےھوئے دیکھ رھے تھے فرمایا:
”ان کو حکم دیا گیا ھے کہ یھاں (کعبہ کے گرد)طواف کریں اور اس کے بعد ھمارے پاس آئیں اور اپنی دوستی اور محبت و نصرت ومدد کا ھم سے اظھارکریں اوراسے ھمارے سامنے پیش کریں ”۔
شھیدوں پر سلام
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
إِنَّ فَاطِمَةَ علیھا السلام کَانَتْ تَا تْٔی قُبُورَ الشُّھَدَاءِ فِی کُلِّ غَدَا__________ةِ سَبْتٍ فَتَا تْٔی قَبْرَ حَمْزَةَ وَ تَتَرَحَّمُ عَلَیْہِ وَتَسْتَغْفِرُ
[ لَہُ۔[ 108
امام جعفرصادق (ع)نے فرمایا:
”حضرت فاطمہ زھرا سلام الله علیھا:ھر سنیچر کی صبح کوشھیدا کی قبروں پر آتیں پھر جناب حمزہ کی قبر پرآتی تھیں اور ان کے لئے رحمت وبخشش کی دعا کر تی تھیں ” ۔
ائمہ (ع)کی زیارت
قَال الرضا(ع:(
إِنَّ لِکُلِّ اِمامٍ عَہْداً فی عُنُقِ اَوْلِیائِہِ وَشِیعَتِہِ
وَاِنَّ مِنْ تَمامِ الوَفاءِ بالعَھْدِ وَحُسْنِ الا دٔءِ زِیارَةُ قُبُورِھِمْ فَمَنْ زارَھُم رَغْبَةً فی زیارَتِھِمْ وَ تَصْدیقاً بِما رَغبوا فیہِ کانَ ائَٔمَّتُھُم شُفَعائَھُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ۔[ 109
امام علی رضا (ع) نے فرمایا:
”ھر امام (ع)کاعھدان کے دوستوں اور چاہنے والوں کی گردن پر ھے کہ اس عھد کی مکمل وفا ان کی قبروںکی زیارت ھے پس جو شخصعشق و محبت کے ساتھ اور اس کی تصدیق کے ساتھ جس کی طرف وہ رغبتکرتے ھیں ان کی قبروں کی زیارت کرے تو ان کے ائمہ (ع)بھی قیامت میں اپنے ان زائروں کی شفاعت کریں گے ”۔
مسجد قبا میں نماز
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیہ و آلہ و سلم:
[ الصَّلاٰةُ فی مَسْجِدِ قُبٰاءَ کَعُمْرَةٍ۔[ 110
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”مسجد قبامیں نماز پڑھنا ایک عمرہ انجام دینے کے مانند ھے ”۔
دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے سلو ک
زَیْدٌ الشَّحَّامُ عَنِ الصَّادِق(ع)،ا نَّٔہُ قَالَ:“یَا زَیْدُ خَالِقُوا النَّاسَ بِا خَٔلاٰقِھِمْ صَلُّوافِی مَسَاجِدِ ھِمْ وَعُودُوا مَرْضَاھُمْ وَاشْھَدُواجَنَائِزَ ھُمْ وَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ ا نَٔ تَکُونُوا الْا ئَٔمَّةَ وَالمُو ذَّٔنِینَ فَافْعَلُوا فَإِنَّکُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ قَالُوا ھَو لُٔاٰءِ الْجَعْفَرِیَّةُ رَحِمَ اللّٰہُجَعْفَراً مَا کَانَ ا حَٔسَنَ مَا یُو دَّٔبُ اصَٔحَابَہُ وَإِذَا تَرَکْتُمْ ذٰلِکَ قَالُوا ھَو لُٔاٰءِ الْجَعْفَرِیَّةُ فَعَلَ اللّٰہُ بِجَعْفَرٍ مَاکاَنَ ا سَْٔوَأَ
[ مَایُو دَّٔبُ اصَٔحَابَہُ۔[ 111
”امام جعفر صادق (ع)نے زید شحّام سے فرمایا :اے زید!خود کو لوگوں کے اخلاق سے ھماہنگ کرو ،ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو،ان کی مسجد وں میں نماز اداکرو،ان کے پیماروں کی عیا دت کرو،ان کے جنازوں کی تشییع میں حاضرھو،اور اگربن سکو تو ان کے امام جماعت یا موذن بنو۔ کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یہ کھیں گے کہ یہ لوگ جعفری(حضرت جعفر بن محمد علیھما السلام کی پیروی کرنے والے )ھیں خدا وند عالم
جعفر (ره) پر رحمت نازل فرمائے اس نے ان لوگوں کی کیا اچھی تربیت کی ھے اور اگر ایسا نہ کروگے تو وہ لوگ کھیں گے کہ یہ جعفری ھیں ،خداوند عالم جعفر (ره)کے ساتھ ایسا ویسا کرے اس نے اپنے ماننے والوں کی کیا بُری تربیت کی ھے!!”۔
حاجیوں کا استقبال
عَنْ ا بِٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
”کَانَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ(ع) یَقُولُ:یَا مَعْشَرَ مَنْ لَمْ یَحُجَّ اسْتَبْشِرُوا بِالْحَاجِّ وَصَافِحُوھُمْ وَ عَظِّمُوھُمْ فَإِنَّ ذَلِکَ یَجِبُ عَلَیْکُمْ تُشَارِکُو ہُمْ فِی الْا جَٔرِ”۔[ 112
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”حضرت علی بن الحسین علیھما السلام ھمیشہ فرماتے تھے اے لوگو!جو حج پر نھیں گئےھو حاجیوں کےاستقبال کے لئے جاو ،ٔ ان سے مصافحہ کرو،اور ان کا حترام کرو کہ یہ تم پر واجب ھے اس طرح تم ان کے ثواب میں شریک ھوگے ”۔
حاجیوں کے اھل خانہ کی مدد کا ثواب
قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ(ع):مَنْ خَلَفَ حَاجّاً
[ فِی ا ھَٔلِہِ وَمَالِہِ کاَنَ لَہُ کَا جَٔرِہِ حَتَّی کَا نَّٔہُ یَسْتَلِمُ الْا حَٔجَارَ۔[ 113
امام زین العابدین (ع) نے فرمایا:
”جو شخص حاجی کی عدم موجودگی میں اس کے اھل خانہ اور اس کے مال کی دیکھ بھال کرے تو اس کا ثواب اسی حاجی کے ثواب کے مانند ھے یھاں تک کہ گویا اس نے کعبہ کے پتھروں کو بوسہ دیا ھے ”۔
مبارک ھو
عَنْ یَحْیَی بْنَ یَسَارٍ قَالَ:حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِا بَِٔی عَبْدِ اللّٰہِ(ع) فَقَالَ:
[ ”حَاجُّ بَیْتِ اللّٰہِ وَزُوَّارُ قَبْرِ نَبِیِّةِ صلی الله علیہ و آلہ و سلم وَشِیعَةُ آلِ مُحَمَّدٍ(ع) ھَنِیئاً لَکُمْ۔[ 114
یحییٰ بن یسار کھتے ھیں:
”ھم نے حج انجام دینے کے بعد امام جعفر صادق (ع) سے ملاقات کی، حضرت نے فرمایا:الله کے گھر کے حاجی قبر پیغمبر (ص) کے زائر اور شیعہ أٓل محمد(ص)(ھونا تمھیں )مبارک ھو”۔
١۔ / ٩۔تفسیر قمی: ۶٢ / 81 ]مستدرک الوسائل : ٣٢٣ ]
١۔ / 82 ]اخبار مکہ ارزقی: ٣٣٨ ]
۴۔ /۴٣۴/ 83 ]کافی: ٣ ]
٢١۶٨ ۔ /٢/ 84 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٢٠٨ ]
١٣/ 85 ]علل الشریع: ۴٣٢ ۔وسائل الشیعہ: ۴۵٠ ]
٢۔ /۴١٧/ 86 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٢٨۵۴ ]
٢۔ /۶٩٢/ 87 ]مسنداحمد حنبل : ٧١١١ ]
١١ ۔ /۴۵/ 88 ]معجم الکبیر طبرانی: ١١٠٢١ ]
۴۔ /٢۶٢/ 89 ]کافی: ۴٢ ]
٢۔ / ١۔کنز الفوائد : ٨٢ / 90 ]علل الشرایع: ۴٣٧ ]
١۴ ۔ / 91 ]وسائل الشیعہ: ١۶۶ ]
۵۔ /٢۴٣/ 92 ]تھذیب الاحکام : ٨٢٣ ]
١٠ ۔ / 93 ]مستدرک الوسائل : ١۶۶ ]
۵۔ /۴۶٨/ 94 ]تھذیب الاحکام: ١۶۴٠ ]
۵٣٠ ۔ /١/ 95 ]کافی: ۴ ]
١٠ ۔ / 96 ]مستدرک الوسائل: ١۶۵ ]
۴۔ /٢۵۵/ 97 ]کافی: ١١ ]
٢۔ /١۴١/ 98 ]من لایحضرہ الفقیہ: ۶۴ ]
١۔ / 99 ]علل الشرایع: ۴۵٩ ]
٣۔ /٣۵١/ 100 ]معجم الاوسط طبرانی: ٣٣٧۶ ]
١۴ ۔کامل الزیارات: ۴٧ ۔ / 101 ]وسائل الشیعہ: ٣٣۵ ]
١٢ ۔ /٢٢۵/ 102 ]معجم الکبیر طبرانی: ١٣١۴٩ ]
١٢ ۔ /٢۵۶/ 103 ]کنز العمال: ٣۴٩٢٩ ]
١۔ / ۴ - ،ثواب الاعما- ل ۵٠ /۵۵۶/ 104 ]کافی: ١١ ]
۴۔ /۵۵۴/ 105 ]کافی: ٣ ]
۶۔ /٩/ 106 ]تھذیب الاحکام: ١٨ ]
١٠ ۔ / 107 ]مستدر ک الوسائل : ١٨٩ ]
١۔ /۴۶۵/ 108 ]تھذیب الاحکام: ١۶٨ ]
۴۔ / 109 ]کافی: ۵۶٧ ]
٢ا/ ٣٢۴ ۔ / 110 ]سنن ترمذی: ۴۵ ]
١۔ / ٢ -، من لایحضرہ الفقیہ: ٣٨٣ / 111 ]وافی: ١٨٢ ]
۴۔ /٢۶۴/ 112 ]کافی: ۴٨ ]
١١ ۔ / ١، -وسائل الشیعہ : ۴٣٠ /١۴٧/ 113 ]محاسن : ٢٠۶ ]
۴۔ / 114 ]کافی: ۵۴٩ ]
حج معصومین [ع] کی زبان سے ۲
حج کا نعرہ
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص): ا تَٔانِی جَبْرَئِیلُ(ع) فَقَالَ:
اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَا مْٔرُکَ اَنْ تَا مْٔرَ ا صَٔحَابَکَ ا نَٔ یَرْفَعُوا اصَٔوَاتَھُمْ بِالتَّلْبِیَةِ فَإِنَّھَا شِعَارُ الْحَجِّ۔[ 41
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جبرئیل میرے پاس آئے اور کھا کہ خدا وند عالم آپ کو حکم دیتا ھے کہ اپنے ساتھیوں اوراصحاب کو حکم دیں کہ بلند آواز سے لبیک کھیں کیونکہ یہ حج کا نعرہ ھے ”۔
معرفت کے ساتھ واردھونا
قَالَ الْبَاقِرُ(ع:(
مَنْ دَخَلَ ھَذَا الْبَیْتَ عَارِفاً بِجَمیع ما ا ؤَجَبَہُ اللّٰہ عَلَیْہِ کٰانَ ا مَٔناً فِی الآخِرَةِ مِنَ الْعَذَابِ الدّٰائِمِ۔[ 42
امام محمد باقر (ع)فرماتے ھیں:
”جو شخصاس گھر میں اس عرفان کے ساتھ داخلھو کہ جو کچھ خداوند عالم نے اس پر واجب کیا ھے اس سےآگاہ رھے تو قیامت میں دائمی عذاب سے محفوظ رھے گا”۔
خدا کے غضب سے امان عبد الله بن سنان کھتے ھیں کہ میں نے امام جعفر صادق ں سے پوچھا :“کہ خدا وند عالم کا ارشاد “ومن دخلہ کان آمناً[ 43
”یعنی جو شخصاس میں داخلھو وہ امان میں ھے اس سے مراد گھر ھے یا حرم ؟
[ قَالَ:مَنْ دَخَلَ الْحَرَمَ مِنَ النَّاسِ مُسْتَجِیراً بِہِ فَھُوَ آمِنٌ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ ۔۔۔ ۔[ 44
”امام (ع)نے فرمایا:جو شخص بھی حرم میں داخلھو اور وھاں پناہ حاصل کرے وہ خدا کے غضب سے امان میں رھے گا ”۔
مکہ خدا و رسول کا حرم
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
مَکَّةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمَ ا مَٔیرِ الْمُو مْٔنِینَ (ع)،الصَّلاٰةُ فِیھَابِمِائَةِ ا لَٔفِ صَلاٰةٍ، وَالدِّرْھَمُ فِیھَ ابِمِائَةِ ا لَٔفِدِرْھَم،وَالْمَدِینَةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمُ ا مَٔیرِ الْمُو مْٔنِینَ۔ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمَا۔الصَّلاٰةُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰف صَلاٰةٍ وَالدِّرْھَمُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰفِ دِرْھَمٍ۔[ 45
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں :
”مکہ خدا وندعالم ،اس کے رسول(ص)(پیغمبر اکرم (ص)) اور امیر المومنین کا حرم ھے اس میں ایک رکعت نماز ادا کرنا ایک لاکھ رکعت کے برابر ھے۔ ایک درھم انفاق کرنا ایک لاکھ درھم خیرات کرنے کے برابر ھے۔ مدینہ (بھی)الله ،اس کے رسول اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع)کا حرم ھے اس میں پڑھی جانے والی نماز دس ہزار نماز کے برابر اور خیرات کیا جانے والا ایک درھم دس ہزار درھم کے برابر ھے ”۔
مسجد الحرام میں داخل ھونے کے آدا ب
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَادْخُلْہُ حَافِیاً عَلَی السَّکِینَة وِالوَقَارِ وَالْخُشُوعِ۔۔۔ ۔[ 46
امام جعفر صادق (ع)فرماتے ھیں:
”جب تم مسجد الحرام میں داخل ھوتو پابرہنہ اور سکون ووقار نیز خوف الٰھی کے ساتھ داخلھو ”۔
جنت کے محل
قَالَ ا مَٔیرِ الْمُو مْٔنِینَ (ع:(
ا رَٔبَعَةٌ مِنْ قُصُورِ الْجَنّةِ فِی الدُّنْیَا:الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ،وَمَسْجِدُ الرَّسُولِ (ص)، وَ مَسْجِدُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَمَسْجِدُ الْکُوفَةِ؛[ 47
حضرت علی ابن ابی طالب (ع)فرماتے ھیں:
”چار جگھیں دنیا میں جنت کے محل ھیں:
١۔مسجد الحرام ، ٢۔مسجد النبی(ص) ، ٣۔مسجد الاقصیٰ، ۴۔مسجد کوفہ ،
حرمین میں نماز
عَنْ إِبْرَاھِیمَ بْنِ شَیْبَةَقَالَ:
کَتَبْتُ إِلَی ا بَٔی جَعْفَرٍ(ع) ا سَٔا لَٔہُ عَنْ إِتْمَامِ الصَّلاٰةِ فِی الْحَرَمَیْنِ،فَکَتَبَ إِلَیَّ:کَانَ رَسُولُ اللّٰہ یُحِبُّ إِکْثَارَالصَّلاٰةِ فِیالْحَرَمَیْنِ فَا کَٔثِرْفِیھِمَا وَا تَٔم ۔َّ[ 48
ابراھیم بن شیبہ کھتے ھیں کہ:
میں نے امام محمد باقر(ع) کو خط لکھا اور اس میں مکہ اور مدینہ میں پوری نماز اداکرنے کے سلسلہ میںدریافت کیا امام (ع)نے جواب میں تحریر فرمایا:
”رسول خدا (ص)ھمیشہ مسجد الحرام اور مسجد النبی میں زیادہ نماز پڑھنا پسند کرتے تھے پس ان دو جگہوں پر نماز یں زیادہ پڑھو اور اپنی نماز بھی پوری ادا کرو”۔
مکہ میں نماز جماعت
عَنْ ا حَٔمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ا بَٔی نَصْرٍ،عَنْ ا بَٔیالْحَسَنِ[ ع)قَالَ:
سَا لَٔتُہُ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی فِی جَمَاعَةٍ فِی مَنْزِلِہِ بِمَکَّةَ ا فَٔضَلُ ا ؤَ وَحْدَہُ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ :وَحْدَہُ۔[ 49
احمد ابن محمد ابن ابی نصرکھتے ھیں:
”میں نے حضرت علی بن موسیٰ الرضا(ع) سے دریافت کیا اگر کوئی شخص مکہ میں نماز جماعت اپنے گھرمیں ادا کرے یہ افضل ھے یا مسجد الحرام میں فرادیٰ نماز اداکرنا افضل ھے فرمایا: فرادیٰ (مسجد الحرام میں)” ۔
اھل سنت کے ساتھ نماز
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ،قَالَ:
”قَالَ لِی ا بَٔو عَبْدِ اللّٰہِ(ع):یَا إِسْحَاقُ ا تَٔصَلَّی مَعَھُمْ فِی الْمَسْجِدِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ۔ قَالَ:صَلِّ مَعَھُمْ فَإِنَّ الْمُصَلِّی مَعَھُمْ فِیالصَّفِّ الْا ؤََّلِ کاَلشَّاھِرِ سَیْفَہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ”۔[ 50
اسحاق ابن عمار کھتے ھیں:
”امام جعفر صادق (ع)نے مجھ سے فرمایاکہ: اے اسحاق!کیا تم ان لوگوں (اھل سنت )کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتےھو؟میں نے عرض کیا ھاں!حضرت ]ع]نے فرمایا:ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو بلاشبہ جو شخصان لوگوں کے ھمراہ پھلی صف میں نماز پڑھے
وہ اس مجاھد کے مانند ھے جو خدا کی راہ میں تلوار چلا رھاھواور دشمنان دین کے ساتھ جنگ کررھاہو’ ’۔
کعبہ چوکور کیوں ھے؟
رُوِیَ ا نَّٔہُ إِنَّمَا سَمِّیَتْ کَعْبَةً لِا نَّٔھَا مُرَبَّعَةٌ وَصَارَتْ مُرَبِّعَةً لِا نَّٔھَا بِحِذَاءِ الْبَیْتِ الْمَعْمُورِ وَھُوَ مَرَبِّعٌ وَصَارَ الْبَیْتُ الْمَعْمُورُ مُرَبِّعاً لِا نَّٔہُ بِحِذَاءِ الْعَرْشِ وَھُوَمُرَبَّعٌ، وَصَارَالْعَرْشُ مُرَبَّعاً،لِا نَّٔ الْکَلِمَاتِ الَّتِی بُنِیی عَلَیْھَا الْإِسْلاٰمُ ا رَٔبَعٌ:وَھِیَ :سُبْحَانَ)[51]اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ،وَلاٰ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ ا کَٔبَرُ۔( ١
شیخ صدوق ۺ فرماتے ھیں:
”ایک روایت میں آیا ھے کہ کعبہ کو کعبہ اس لئے کھا گیا ھے کہ وہ چوکور ھے اور وہ چوکو اس لئے بنایاگیا ھے کہ اسی کے مقابل (آسمان اول پر) بیت المعمور چوکور بنایا گیا ھے اس کی وجہ یہ ھے کہ وہ عرش خدا کے مقابل ھے جو چوکور ھے اور عرش خدا بھی اس لئے چوکور ھے کہ اس کی بنیاد اسلام کے چارکلموں پر ھے اور وہ یہ ھیں :“سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّہِٰ،وَلاٰ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ،وَاللّٰہُ ا کَٔبَرُ”۔
کعبہ کی طرف دیکھنا
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ :
مَنْ نَظَرَإِلَی الْکَعْبَةِ لَمْ یَزَلْ تُکْتَبُ لَہُ حَسَنَةٌ وَتُمْحَی عَنْہُ سَیِّئَةٌ، حَتَّی یَنْصَرِفَ بِبِصَرِہِ عَنْھَا۔[ 52
امام جعفر صادق (ع)فرمایا:
”جو شخص کعبہ کی طرف دیکھے ھمیشہ اس کے لئے حسنات لکھے جاتے ھیں اور اس کے گناہ محو کئےجاتے ھیں جب تک وہ اپنی نگاھیں کعبہ سے ہٹا نھیں لیتا ”۔
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ :
النَّظَرُ إِلَی الْکَعْبَةِ عِبَادَةٌ،وَالنَّظَرُ إِلَی الْوَالِدَیْنِ عِبَادَةٌ،وَالنَّظَرُ إِلَی الْإِمَامِ عِبَادَةٌ۔[ 53
امام جعفرصادق (ع)نے فرمایا:
”کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ھے ،ماں باپ کی طرف دیکھنا عبادت ھے،اور امام کی طرف دیکھنا عبادت ھے”۔
الٰھی لمحہ
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ :
إِنَّ لِلْکَعْبَةِ لَلَحْظَةً فِی کُلِّ یَوْمٍ یُغْفَرُ لِمَنْ طَافَ بِھَا ا ؤَ حَنَّ قَلْبُہُ إِلَیْھَا ا ؤَ حَسَبَہُ عَنْھَا عُذْرٌ۔[ 54
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”بلا شبہ کعبہ کے لئے ھر روز ایک لمحہ (ایک وقت )ھے کہ خدا وند عالم اس میں کعبہ کا طواف کرنے والوں اور ان لوگوں کو جن کا دل کعبہ کے عشق سے لبریز ھے نیز ان لوگوں کو جو کعبہ کی زیارت کے مشتاق ھیں لیکن ان کی راہ میں رکاوٹیں ھیں ،بخش دیتا ھے”۔
برکتوں کا نزول
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ :
إِنَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ حَوْلَ الْکَعْبَةِ عِشْرِینَ وَمِائَةَ رَحْمَةٍ مِنْھَا سِتُّونَ لِلطَّائِفِینَ وَا رَٔبَعُونَ لِلْمُصَلِّینَ وَعِشْرُونَ لِلنَّاظِرِینَ۔[ 55
امام جعفر صادق (ع)فرماتے ھیں:
”خدا وند عالم اپنی ایک سو بیس رحمتیں کعبہ کے اوپر نازل کرتا ھے جن میں سے ساٹھ رحمتیں طواف کرنےوالوں کے لئے ،چالیس رحمتیں نماز پڑھنے والوں کے لئے اور بیس رحمتیں کعبہ کی طرف دیکھنے والوں کے لئےھوتی ھیں”۔
دین اور کعبہ کا ربط
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ :
لاٰ یَزَالُ الدِّینُ قَائِماً مَا قَامَتِ الْکَعْبَةُ۔[ 56
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ھیں:
”جب تک کعبہ قائم ھے اس وقت تک دین بھی اپنی جگہ بر قرار رھے گا”۔
یہ عمل منع ھے
محمد ابن مسلم کھتے ھیں کہ: میںنے امام صادق ںسے سنا آپ فرما رھے تھے:
قال الصادق (ع:(
[ لاٰ یَنْبَغِی لِا حَٔدٍ ا نَٔ یَا خْٔذَ مِنْ تُرْبَةِ مَا حَوْلَ الْکَعْبَةِ وَإِنْ ا خَٔذَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئاً رَدَّہُ۔[ 57
” کسی شخصکے لئے یہ درست نھیں ھے کہ کعبہ اور اس کے اطراف کی مٹی اٹھائے اور اگر کسی نے اٹھائی ھے تواسے واپس کر دے”۔
کعبہ کا پردہ
عَنْ جَعفر،عَنْ ا بَٔیہِ علیھما السلام:
ا نَّٔ عَلِیّاً کَانَ یَبْعَثُ بِکِسْوَةِ الْبَیْتِ فی کُلِّ سَنَةٍ مِنَ الْعَرٰاقِ۔[ 58
امام محمد باقر (ع)نے فرمایا:
”بلا شبہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ھر سال عراق سے کعبہ کا پردہ بھیجتے تھے ”۔
امام زمانہ(ع) کعبہ میں
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْیَرِیِّ ا نَّٔہُ قَالَ :سَا لَٔتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ الْعُمْرِیَّ -رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - فَقُلْتُ لَہُ:رَا یَٔتَ صَاحِبَ ھَذَا الْا مَٔرِ؟فَقَالَ:نَعَمْ وَآخِرُ عَھْدِی بِہِ عِنْدَ بَیْتِ اللّٰہِ الْحَرَامِ وَھُوَ یَقُولُ:اللَّھُمَّ ا نَٔجِزْ لِی مَاوَعَدْتَنِی۔[ 59
عبد الله ابن جعفر حمیری کھتے ھیں:
”میں نے محمد بن عثمان عمری سے پوچھا کیا تم نے امام زمانہ(ع) کو دیکھا ؟انھوں نے جواب دیا ھاں!میں نےآخری بار انھیں کعبہ کے نزدیک دیکھا کہ حضرت) ع)فرمارھے تھے اے میرے الله !جس چیز کا تونے مجھ سے وعدہ کیا ھے اسے پورا فر ما ”۔
حجر اسود
قَالَ رَسُولُ اللَّہِ (ص:(
اَلْحَجَرُ یَمینُ اللّٰہِ فِی الا رَٔضِ،فَمَنْ مَسَحَ یَدَہُ عَلَی الْحَجَرِ فَقَدْ بٰایَعَ اللّٰہَ اَنْ لاٰ یَعْصِیَہُ۔[ 60
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”حجر اسود زمین میں خدا کے داہنے ھاتھ کے مانند ھے پس جو شخصاپنا ھاتھ حجر اسود پر پھیرے اس نے اس بات پر الله کی بیعت کی ھے کہ اس کی معصیت ونافرمانی نھیں کرے گا”۔
حجر اسود کو دور سے چومنا
عَنْ سَیْفٍ التَّمَّارِ قَالَ:
قُلْتُ لِا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ ا تَٔیْتُ الْحَجَرَ الْا سَٔوَدَ فَوَجَدْتُ عَلَیْہِ زِحَاماً فَلَمْ ا لَٔقَ إِلاَّ رَجُلاً مِنْ ا صَٔحَابِنَا فَسَا لَٔتُہُ فَقَالَ:لاٰبُدَّ مِنِاسْتِلاٰمِہِ فَقَالَ:إِنْ وَجَدْتَہُ خَالِیاً وَإِلاَّ فَسَلِّمْ مِنْ بَعِیدٍ۔[ 61
سیف ابن تمار کھتے ھیں“میں نے امام جعفرصادقں سے عرض کیا:
”میں حجر اسود کے قریب آیا وھاں جمعیت بھت زیادہ تھی میں نے اپنے ساتھیوں میں سے ھر ایک سے پوچھاکیا کروں ؟ سب نے جواب دیا کہ استلا م حجر کرو (حجر اسود کا بوسہ لو)۔میرا فریضہ کیا ھے؟امام نے اس سے فرمایا :اگر حجر اسود کے پاس مجمع نہھو تو اسے استلام کروورنہ اپنے ھاتھ سے دور سے اشارہ کرو ”۔
عدل کا ظہور
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
ا ؤَّلُ مَا یُظْھِرُ الْقَائِمُ مِنَ الْعَدْلِ ا نَٔ یُنَادِیَ مُنَادِیہِ ا نَٔ یُسَلِّمَ صَاحِبُ النَّافِلَةِ لِصَاحِبِ الْفَرِیضَةِ الْحَجَرَ الْا سَٔوَدَ وَالطَّوَافَ
[ ۔[ 62
امام جعفر صاد ق(ع) فرماتے ھیں:
”جو سب سے پھلی چیز امام زمانہ (ع) اپنے عدل سے ظاھر کریں گے یہ ھے کہ ان کا منادی پکار کر کھے گا مستحبی طواف کرنے والے اور حجر اسود کو لمس کرنے والے حجر اسوداور اطواف کی جگہ کو واجبی طواف کرنے والو(ع) کے لئے خالی کردیں ”۔
حرم میں ایثار وفدا کاری
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
اَبْلِغُوا ا ۂْلَ مَکَّةَ وَالمُجاوِرینَ اَنْ یُخَلُّوا بَیْنَ الحُجّاجِ وَبَیْنَ الطَّوَافِ وَالْحَجَرِ الْا سَْٔوَدِ وَمَقامِ اِبراھِیمَ وَالصَّفِّ الا ؤَّلِ مِنْ عَشْرٍ تَبْقیٰ مِنْ ذِی القَعْدَةِ اِلی یَوْمِ الصَّدْرِ۔[ 63
رسو ل خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”اھل مکہ اور اس میں رہنے والوں تک یہ بات پہنچادو کہ ذی القعدہ کے آخری دس دن سے حاجیوں کی واپسیکے دن تک طواف کی جگہ ،حجر اسود ،مقام ابراھیم (ع) اور نماز کی پھلی صف کو حاجیوں کے لئے خالیکردیں ”۔
جس بات سے روکا گیا ھے
عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ:
کَانَ بِمَکَّةَ رَجُلٌ مَوْلًی لِبَنِی اُمَیَّةَ یُقَالُ لَہُ:ابْنُ ا بَٔی عَوَانَةَ لَہُ عِنَادَةٌ،وَکَانَ إِذَادَخَلَ إِلَی مَکَّةَ ا بَٔو عَبْدِ اللّٰہِ(ع)ا ؤَا حَٔدٌ مِنْا شَٔیَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ یَعْبَتُ بِہِ،وَإِنَّہُ ا تَٔی ا بَٔا عَبْدِ اللّٰہِ(ع) وَھُوَ فِی الطَّوَافِ فَقَالَ:یَا ا بَٔا عَبْدِ اللّٰہِ مَا تَقُولُ فِی اسْتِلاٰمِ الْحَجَرِ ؟
فَقَالَ:اسْتَلَمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ (ص)فَقَالَ لَہُ:مَا ا رَٔاکَ اسْتَلَمْتَہُ قَالَ:ا کَٔرَہُ ا نَٔ ا ؤَذِیَ ضَعِیفاًا ؤَ ا تَٔا ذَّٔی قَالَ فَقَالَ قَدْ زَعَمْتَ ا نَّٔ رَسُولُ اللّٰہِ (ص)اسْتَلَمَہُ قَالَ:نَعَمْ وَلَکِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ إِذَا رَا ؤَْہُ عَرَفُوا لَہُ حَقَّہُ وَا نَٔا فَلاٰ یَعْرِفُونَ لِی حَقِّی۔( ١
حماد بن عثمان کھتے ھیں:
”مکہ میں بنی امیہ کے دوستداروں میں سے ابن ابی عوانہ نام کا ایک شخصرھتا تھا جو اھل بیت علیھم السلامسے کینہ رکھتا تھا اور جب بھی امام جعفر صادق(ع) یا پیغمبر کی اولاد میں سے کوئی [ 64 ] بزرگ مکہ آتا تھاوہ اپنی باتوں سے ان کی تحقیر کرتا تھا اور اذیت پہنچاتا تھا۔ ایک روز وہ طواف کی حالت میں امام جعفرصادق (ع)کی خدمت میں آیا اور آپ) ع) سے پوچھنے لگا کہ حجر اسود پر ھاتھ پھیرنے سے متعلق آپ (ع) کا نظریہ کیا ھے ؟حضرت (ع) نے فرمایا:رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ و سلم مسح واستلام کرتے تھے ، اس شخصنے کھا میں نے آپ (ع) کو استلام حجر کرتےھوئے نھیں دیکھا
،امام(ع) نے جواب دیا:
میں اس بات کو پسند نھیں کرتا کہ کسی کمزور کو اذیت پہنچاو ںٔ یاخود اذیت میں مبتلاھوں اس شخص نے پھرپوچھا: آپ (ع) نے فرمایا ھے کہ: رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم اس کا استلام کرتے تھے ،امام نےفرمایا:ھاں!لیکن جب لوگ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم کو دیکھتے تھے تو ان کے حق کی رعایت کرتے تھے (یعنی انھیںراستہ دے دیا کرتے تھے)لیکن میرے لئے ایسا نھیں کرتے اور میرا حق نھیں پہچانتے
”۔
ہاتھ سے اشارہ
محمد بن عبیدالله کھتے ھیں:
لوگوں نے امام علی رضا (ع) سے پوچھا :اگر حجر اسود کے اطراف جمعیت زیادہھو تو کیا حجر اسودکو ھاتھ سے مسح کرنے کے لئے لوگوں سے زبردستی کرنا یا جھگڑنا چاہئے ؟
قَالَ:“إِذَا کَانَ کَذَلِکَ فَا ؤَْمِ إِلَیْہِ إِیمَاءً بِیَدِکَ”۔[ 65
”امام (ع) نے فرمایا :جب بھی ایسی صورتھو ،اپنے ھاتھ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرو (اور گذرجاو )ٔ”۔
خواتین کے لئے
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
إِنَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَضَعَ عَنِ النِّسَاءِ ا رْٔبَعاً :الْإِجْھَارَ بِالتَّلْبِیَةِ ،ۻ وَالسَّعْیی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ یَعْنِی الْھَرْوَلَةَ وَدُخُولَ الْکَعْبَةِ وَاسْتِلاٰمَ الْحَجَرِ الْا سَٔوَدِ۔[ 66
امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
”بلاشبہ خدا وند عالم نے چار چیزوں کو حج میں عورتوں سے معاف رکھا ھے:
١۔بلند آوازسے لبیک کہنا،
٢۔صفاو مروہ کے درمیان سعی میں ھرولہ(آہستہ دوڑنا(
٣۔کعبہ کے اندر داخلھونا ،
۴۔حجر اسود کو لمس کرنا ”۔
خدا کا فخر
قال رسول الله (ص:(
ان الله یباھی بالطائفین۔[ 67
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم فرماتے ھیں:
”بلا شبہ خد اوند عالم طواف کرنے والوں پر فخر ومباھات کرتا ھے’ ’ ۔
طواف اور رھائی
عَنْ رَسُولُ اللّٰہِ (ص)قَالَ:
[ ۔۔۔فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ ا سُٔبُوعاً کَانَ لَکَ بِذَلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدٌ وَذِکْرٌ یَسْتَحْیُیمِنْکَ رَبُّکَ ا نَٔ یُعَذِّبَکَ بَعْدَہُ۔۔۔ ۔[ 68
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”پس جب تم نے الله کے گھر کا سات مرتبہ طواف کرلیا تو اس کے ذریعہ خدا وند عالم کے نزدیک تمھارا عھد اور ذکر ھے کہ خداوند عالم اس کے بعد تم پر عذاب کرنے سے شرم کرے گا”۔
زیادہ باتیں نہ کرو
قَال رَسُولُ اللّٰہ (ص:(
[ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلٰوةٌ،فَإِذَا طُفْتُمْ فَا قَٔلُّوا الْکَلاٰمَ۔[ 69
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”الله کے گھر کا طواف نماز کے مانند ھے پس جب تم طواف کرتےھو تو باتیں کم کرو ”۔
طواف کا فلسفہ
قَال رَسُول اللّٰہ (ص:(
إِنَّمَاجَعَلَ الطَّوٰافُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَرَمْیُ الْجِمٰارِ لإِقٰامَةِ ذِکْرِ اللّٰہِ ۔[ 70
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”الله کے گھر کا طواف،صفاو مروہ کے درمیان سعی اور رمی جمرات خدا کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ھیں ’ ’۔
عمل میں نیت کی تاثیر
عَنْ زیاد القندی،قال:قُلْتُ لا بٔی الحسن (ع):جُعِلْتُ فِداک إنّی ا کَٔونُ فی الْمَسْجِدِ الْحرامِ، وَا نْٔظُرُ اِلی النّاسِ یَطوفونَ بالبَیْتِ وا نٔا قاعِدٌ فاغْتَمُّ لِذلکَ،فقال:
یَازِیَاُد لاٰ عَلَیْکَ فَإِنَّ الْمُو مْٔنَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ یَو مُّٔ الْحَجَّ لاٰیَزَالُ __________فِی طَوَافٍ وَسعْیٍ حَتَّی یَرْجِعَ۔[ 71
زیاد قندی (جو ایک مفلوج آدمی تھا)کھتا ھے کہ:
”میں نے امام موسیٰ کاظم (ع)سے عرض کیا آپ (ع) پر قربانھو جاوںٔ میں کبھی مسجد الحرام میںھوتاھوںاوردیکھتاھوں کہ لوگ کعبہ کا طواف کررھے ھیں اور میں بیٹھاھوں (طواف نھیں کر سکتا )اس پر میں غم زدہ ھو جاتاھوں امام) ع)نے فرمایا:اے زیاد!تم پر کوئی ذمہ داری نھیں ھے (غمگین نہھو) بلاشبہ مومن جس وقت سے حج کے ارادہ سے اپنے گھر سے نکلتا ھے اس وقت سے ھمیشہ طواف اور سعی کی حالت میں ھے یھاں تک کہ اپنے گھر واپس چلاجائے ”۔
انسانی تھذیب کی رعایت
عَنْ سَمَاعَة بْنِ مِھْرَانَ عَنْ ا بِٔی عَبْدِ اللّٰہِ) ع):سَا لْٔتَہُ عَنْ رَجُلٍ لی عَلَیْہِ مالٌ فغابَ عَنّی زَماناً فَرَا یَٔتُہُ یَطوفُ حَولَالْکَعْبَةَ ا فٔا تَٔقاضاہُ مالِی؟قَالَ:لاٰ،لاٰ تُسَلِّمْ عَلَیْہِ وَلاٰ تُرَوِّعْہُ حَتَّی یَخْرُجَ مَنْ الْحَرَمِ۔[ 72
سماعة ابن مھران کھتے ھیں کہ:
”میں نے امام جعفرصادق(ع)سے پوچھا :ایک شخصمیرا مقروضھے اور میں نے ایک مدت سے اسے نھیں دیکھا پس اچانک میں اسے کعبہ کے اطراف میں دیکھتاہوں کیا میں اس سے اپنے مال کا تقاضہ کر سکتاھوں؟فرمایانھیں،حتی اسے سلام بھی نہ کرو اور اسے نہ ڈراو یٔھاں تک کہ وہ حرم سے خارجھو جائے ”۔
نماز ،مقام ابراھیم (ع) کے نزدیک
عَن رَسُولِ اللّٰہِ قال:
۔۔۔فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ ا سُبُوعاً لِلزِّیَارَةِ وَ صَلِّیْتَ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ضَرَبَ مَلَکٌ کَرِیمٌ عَلَی کَتِفَیْکَ فَقَالَ ا مَّٔا مَا مَضَی فَقَدْ غُفِرَ لَکَ فَاسْتَا نْٔفِ الْعَمَلَ فِیمَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ عِشْرِینَ وَمِائَةِ یَوْمٍ۔[ 73
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”پس جب تم خانہ کعبہ کے گرد زیارت کا طواف کر لیتےھو اور مقام ابراھیم) ع)کے نزدیک نماز طواف ادا کرلیتےھو تو ایک کریم وبزرگوار فرشتہ تمھارے شانوں پر ھاتھ رکھ کر کھتا ھے :جو کچھ گزر گیا اور تم نے جو گناہ پھلے انجام دیئے تھے خدا وند عالم نے وہ سب بخش دیئے پس اس وقت سے ایک سو بیس دن تک (تم پاک وپاکیزہ رہو گے اب )نئے سرے سے اپنے عمل کا آغاز کرو”۔
امام حسین(ع) مقام ابراھیم (ع)کے پاس
رُئِیَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ،ثُمَّ صٰارَ اِلَی الْمَقٰامِ فَصَلّٰی،ثُمَّ وَضَعَ خَدَّہُ عَلَی الْمَقٰامِ فَجَعَلَ یَبْکی وَیَقُولُ: عُبَیْدُکَ بِبٰابِکَ، سَائِلُکَ بِبٰابِکَ، مِسْکینُکَ بِبٰابِکَ، یُرَدِّدُ ذٰلِکَ مِرٰاراً۔[ 74
”لوگوں نے امام حسین (ع)کو دیکھا کہ وہ الله کے گھر کا طواف کر رھے تھے اس کے بعدانھوں نے مقام ابراھیم کے پاس نماز ادا کی پھر اپنا چھرہ مقام ابراھیم پر رکھا اور روتےھوئے خداوند عالم کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے ! تیرا حقیر بندہ تیرے دروازہ پر ھے ،تیرا فقیر تیرے دروازہ پر ھے،تیرا مسکین تیرے دروازہ پر ھے،اور آپ (ع) ان جملوں کو باربار دھرا رھے تھے”۔
ھمراھیوں کی مدد
عن اِبراھیم الخثعَمی قال:قُلْتُ لا بٔی عبد الله (ع):إِنَّاإِذَا قَدِمْنَا مَکَّةَ ذَھَبَ اصَٔحَابُنَا یَطُوفُونَ وَیَتْرُکُونِّی ا حَٔفَظُ مَتَاعَھُمْقَالَ ا نَٔتَ ا عَٔظَمُھُمْ ا جَٔراً۔[ 75
اسماعیل خثعمی کھتے ھیںمیں نے امام جعفر صادق(ع) سے عرضکیا:
”ھم جب مکہ میں واردھوئے تو ھمارے ساتھی مجھے اپنے سامان کے پاس چھوڑ کر طواف کے لئے چلےگئے تاکہ میں ان کے سامان کی حفاظت کروں ،امام (ع)نے فرمایا: تمھارا ثواب ان سے زیادہ ھے”۔
آب زمزم ھر درد کی دوا
قَالَ رَسُولُ اللّٰہ (ِص:(
[ مَاءُ زَمْزَمَ دَوَاءٌ لِمَا شُرِبَ لَہُ۔[ 76
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”زمزم کا پانی ھر اس درد کی دوا ھے جس کی نیت سے وہ پیا جائے ” ۔
زمین کا بھترین پانی
قَالَ ا مَٔیرُ الْمُو مْٔنِینَ (ع:(
[ مَاءُ زَمْزَمَ خَیْرُ مَاءٍ عَلَی وَجْہِ الْا رَٔضِ۔[ 77
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”آب زمزم روئے زمین پر بھترین پانی ھے ”۔
حجر اسماعیل
عَنْ ا بِٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
[ الْحِجْرُ بَیْتُ إِسْمَاعِیلَ وَفِیہِ قَبْرُ ھَاجَرَ وَقَبْرُ إِسْمَاعِیلَ۔[ 78
امام جعفر صادق نے فرمایا:
”حجر ،جناب اسماعیل (ع) کاگھر ھے اور اس میں آپ (ع) کی اور آپ کی والدہ جناب ھاجرہ (ع)کی قبر ھے
”۔
عن ا بٔی عبد الله (ع)قال:
[ إن إسماعیل(ع) تُوُفّی وَھُوَ اِبنُ مائَةَ وَثَلاثِینَ سَنَة وَدُفِنَ بِالحِجْر مَعَ ا مُّٔہ۔[ 79
امام جعفر صادق نے فرمایا:
”جناب اسماعیل (ع)نے ایک سو تیس سال کے بعد وفات پائی اور اپنی والدہ کے ھمراہ حجر میں دفن کئے گئے
”۔حطیم
معاویہ ابن عمار کھتے ھیں:میں نے حطیم کے بارے میں امام جعفرصادق ںسے دریافت کیا:
فَقَالَ ھُوَ مَا بَیْنَ الْحَجَرِ الْا سَٔوَدِ وَبَیْنَ الْبَابِ”۔
”آپ (ع) نے فرمایا :یہ حجر اسود اوردر کعبہ کے درمیان ھے” میں نے سوال کیا کہ اسے حطیم کیوں کھتےھیں ؟
[ فَقَالَ لِا نَّٔ النَّاسَ یَحْطِمُ بَعْضُھُمْ بِعْضاً ھُنَاکَ۔[ 80
”فرمایا :اس لئے کہ لوگ اس جگہ ایک دوسرے کو (کثرت جمعیت کی وجہ سے ( دباتے ھیں ”۔
ملتزم
قٰال رَسُول اللّٰہ (ص:(
) بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقٰامِ مُلْتَزَمٌ مٰایَدْعُوا بِہِ صٰاحِبُ عٰاھَةٍ اِلاّ بَٰرِی ۔َٔ( ٢
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”رکن حجر اسود اور مقام ابراھیم (ع) کے درمیان ملتزم ھے کوئی بھی بیماری اور مشکل میں مبتلا شخص وھاں دعا نھیں کرتا مگر یہ کہ اس کی حاجت پوریھوتی ھے ”۔
١۔ /۴۶٢/ ٩/۔سنن دارمی : ١٧۵۵ / 41 ]مستدرک الوسائل : ١٧٧ ]
٢۔ /٨۴/ 42 ]عوالی اللّآلی: ٢٢٧ ]
43 ]سورہ أٓل عمران آیت ٩۶ ۔ ]
۴۔ /٢٢۶/ 44 ]کافی: ١ ]
۴۔ /۵٨۶/ 45 ]کافی: ١ ]
۴۔ / 46 ]کافی : ۴٠١ ]
۵۔ / 47 ]امالی طوسی: ٣۶٩ ۔وسائل الشیعہ: ٢٨٢ ]
۴۔ /۵٢۴/ 48 ]کافی : ١ ]
۴۔ / 49 ]کافی: ۵٢٧ ]
٢/ 50 ]وافی: ١٨٢ ]
٢۔علل الشرائع: ٣٩۶ و ٣٩٨ ۔ / 51 ]من لایحضرہ الفقیہ: ١٩٠ ]
۴۔ /٢۴٠/ 52 ]کافی ۴ ]
۴۔ /٢۴٠/ 53 ]کافی: ۵٠ ]
۴۔ /٢۴٠/ 54 ]کافی: ٣ ]
۴۔ /٢۴٠/ 55 ]کافی: ٢ ]
۴۔ /٢٧١/ 56 ]کافی: ۴ ]
57 ]وھی: ٢٢٩ ۔ ]
١٣٩ ۔ / 58 ]قر ب الاسناد: ۴٩۶ ]
٢۔غیبت شیخ طوسی: ٣۶٣ ۔ / 59 ]من لایحضرہ الفقیہ: ۵٢٠ ]
١٠٢ ۔ / 60 ]الحج والعمرة فی القرآن والحدیث: ١٨۵ ]
۵۔ /١٠٣/ 61 ]تھذیب الاحکام : ٣٣ ]
۴۔ /۴٢٧/ 62 ]کافی: ١ ]
۵۔ /۵۴/ 63 ]کنز العمال: ١٢٠٢۴ ]
۴۔ /۴٠٩__________/ 64 ]کافی: ١٧ ]
۴۔ /۴٠۵/ 65 ]کافی: ٧ ]
٢۔ /٣٢۶/ 66 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٢۵٨٠ ]
۵۔ / ٩۔تاریخ بغداد: ٣۶٩ / 67 ]مستدرک الوسائل : ٣٧۶ ]
٢۔ /٢٠٢/ 68 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٢١٣٨ ]
۵۔ /٢۵۶/ 69 ]مسند ابن حنبل: ١۵۴٢٣ ]
٢۔ /١٧٩/ 70 ]سنن ابی داو دٔ : ١٨٨ ]
۴,۴٢٨ ۔ / 71 ]کافی: ٨ ]
۴۔ /٢۴١/ 72 ]کافی: ١ ]
٢۔ / ۵۔من لایحضرہ الفقیہ: ٢٠٢ /٢٠/ 73 ]تھذیب الاحکام : ۵٧ ]
۴١ ۔ / 74 ]تاریخ دمشق: ٣٨٠ ]
۴۔ /۵۴۵/ 75 ]کافی: ٢۶ ]
۶۔ / ٢،کافی: ٣٨٧ /٣٩٩/ 76 ]محاسن : ٢٣٩۵ ]
77 ]محاسن : ٢٣٩۴ ۔ ]
۴۔ /٢١٠/ 78 ]کافی: ١۴ ]
١٠٧ ۔ / 79 ]الحج العمرة فی القرآن والحدیث: ١٩٩ ]
80 ]علل الشرائع: ۴٠٠ ۔ ]
حج معصومین [ع] کی زبان سے ۱
حج کا واجب ھونا
قَالَ عَلِی (ع:(
فَرَضَعَلَیْکُمْ حَجَّ بَیْتِہِ الْحَرَامِ الَّذِی جَعَلَہُ قِبْلَةً لِلْا نَٔامِ ”۔[ 1
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”خداوند عالم نے اپنے اس محترم گھر کے حج کو تم پر واجب قرار دیا ھے جسے اس نے لوگوں کا قبلہ بنایا
ھے”۔
قال علی (ع:(
”فَرَضَحَجَّہُ وَا ؤَجَبَ حَقَّہُ وَکَتَبَ عَلَیْکُمْ وِفَادَتَہُ فَقَالَ سُبْحَانَہُ> وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاٰعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰالَمِینَ[ 2
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”خدا وند عالم نے کعبہ کے حج کو واجب ،اس کے حق کی ادائیگی کو لاز م اور اس کی زیارت کو تم پر مقرر کیا ھے پس وہ فرماتا ھے:“لوگوں پر خدا کا حق یہ ھے کہ جو بھی خدا کے گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ھے وہ بیت الله کی زیارت کے لئے جائے اور وہ
شخص جو کفر اختیار کرتا ھے (یعنی حج انجام نھیں دیتا )تو خدا عالمین سے بے نیاز ھے
حج کا فلسفہ
قال علی (ع:(
”جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ عَلاٰمَةً لِتَوَاضُعِھِمْ لِعَظَمَتِہِ و اَذعانَھُمْ لِعِزَّتِہِ”۔[ 3
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”خدا وند عالم نے کعبہ کے حج کو علامت قرار دیا ھے تاکہ لوگ اس کی عظمت کے سامنے فروتنی کا اظھارکریں اور پروردگار عالم کے غلبہ نیز اس کی عظمت و بزرگواری کا اعتراف کریں ”۔
قال علی (ع:(
[ ”جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ لِلْإِسْلاٰمِ عَلَماًوَلِلْعَائِذِینَ حَرَماً”۔[ 4
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”خدا وند عالم نے حج اور کعبہ کو اسلام کا نشان اور پرچم قرار دیا ھے اور پناہ لینے والے کے لئے اس جگہ کو جائے امن بنایا ھے”۔دین کی تقویت کا سبب
قال علی (ع:(
۔۔۔وَالْحَجَّ تَقْوِیَةً لِلدِّینِ[ 5
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
”۔۔۔اورحج کو دین کی تقویت کا سبب قرار دیاھے”۔
دلوں کا سکون
قال الباقر (ع:(
الحَجُّ تَسْکِین القُلُوبُ[ 6
امام محمد باقر (ع)فرماتے ھیں:
”حج دلوں کی راحت وسکون کا سبب ھے”۔
حج ترک کرنے والا
قال رسول الله (ص:(
مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ إِنْ شَاءَ یَھُودِیّاً وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِیّاً”۔[ 8
پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا:
”جو شخصحج انجام دیئے بغیر مر جائے (اس سے کھا جائے گا کہ ) تو چاھے یہودی مرے یا نصرانی ”۔
یھی مضمو ن ایک دوسری روایت میں امام جعفر صادق (ع) سے بھی نقلھواھے۔[ 9
حج و کامیابی
لوگوں نے امام محمد باقر (ع)سے دریافت کیا کہ حج کا نام حج کیوں رکھا گیاھے ؟تو آپ نے فرمایا:
[ ” قَالَ حَجَّ فُلاٰنٌ ا یَٔ ا فَٔلَحَ فُلاٰنٌ”۔[ 10
”فلاں شخص نے حج کیا یعنی وہ کامیاب ھوا ”۔
حج کی اھمیت
محمد بن مسلم کھتے ھیں کہ:
امام محمد باقر (ع)یا امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
[ ”وَدَّ مَنْ فی الْقُبُورِ لَوْ ا نَّٔ لَہُ حَجَّةً وَاحِدَةً بِالدُّنْیَا وَمَا فِیھَا”۔[ 11
”مُردے اپنی قبروں میں یہ آرزو کرتے ھیں کہ اے کاش!وہ دنیا،اور دنیا میں جو کچھ بھی ھے دیدیتے اور اس کے عوضانھیں ایک حج کا ثواب مل جاتا ”۔
حج کا حق
قال الإمام زَیْنُ العابِدِین(ع) فِی رسالَةِ الحُقُوق: “حَقُّ الْحَجِّ ا نَْٔ تَعْلَمَ ا نََّٔہُ وِفَادَةٌ إِلَی رَبِّکَ وَفِرَارٌ إِلَیْہِ مِنْ ذُنُوبِکَ وَفِیہِقَبُولُ تَوْبَتِکَ وَقَضَاءُ الْفَرْضِالَّذِی ا ؤَْجَبَہُ اللّٰہُ تَعَالیَ عَلَیْکَ”۔[ 12
امام زین العابدین (ع) اپنے رسالہ حٔقوق میں فرماتے ھیں:
”حج کا حق تم پر یہ ھے کہ جان لو حج اپنے پروردگار کے حضو رمیں تمھاری حاضری ھے اوراپنے گناہوں سے اس کی جانب فرار ھے حج میں تمھاری توبہ قبول ھوتی ھے اوریہ ایک ایسا فریضہ ھے جسے خدا وند عالم نے تم پر واجب کیا ھے”۔
خد اجوئی
قال الصادق (ع:(
“.[ ”مَنْ حَجَّ یُرِیدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لاٰ یُرِیدُ بِہِ رِیَاءً وَلاٰ سُمْعَةً غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ اَلْبَتَّةَ[ 13
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”جو شخصحج کی انجام دھی میں خدا کا ارادہ رکھتاھواور ریاکاری و شھرت کا خیال نہ رکھتاھو خدا وند عالم
یقینا اسے بخش دے گا”۔
حج کا ثواب
قالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص:(
[ ”لَیْسَ لِلْحِجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوابٌ إِلاَّ الجَنَّةَ ”۔[ 14
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”حج مقبول کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نھیں ھے”۔
حج کی تاثیر
ہشام بن حکم کھتے ھیں:
امام جعفر صادق (ع) نے فر مایا:
[ ”مَامِن سَفَرٍا بَٔلَغَ فِی لَحْمٍ وَلاٰدَمٍ وَلاٰجِلْدٍ وَلاٰ شَعْرٍ مِنْ سَفَرِ مَکَّةً وَمَا ا حََٔدٌ یَبْلُغُہُ حَتَّی تَنَالَہُ الْمَشَقَّةُ”۔[ 15
”مکہ کے سفر کی طرح کوئی سفر بھی انسان کے گوشت، خون، جلد، اور بالوں کوکا متاثر نھیں کرتا اور کوئیشخص سختی اور مشقت کے بغیر وہاں تک نھیں پہنچتا ”۔
حج میں نیت کی اھمیت
قال الصادق(ع:(
”لَمَّا حَجَّ مُوسَی(ع)نَزَلَ عَلَیْہِ جَبْرَئِیلُ فَقَالَ لَہُ مُوسَی یَا جَبْرَئِیلُ ۔۔۔مٰا لِمَنْ حَجَّ ھَذَا الْبَیْتَ بَنِیَّہٍ صَادِقَةٍ وَنَفَقَةٍ طَیِّبَةٍ؟قَالَ:فَرَجَعَ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ،فَا ؤَْحَی اللّٰہُ تَعَالیٰ إِلَیْہِ؛قُلْ لَہُ:ا جَْٔعَلُہُ فِی الرَّفِیقِ الْا عَٔلَی مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّھَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنْ ا ؤُلَئِکَ رَفِیقاً”۔[ 16
”جس وقت جناب موسیٰ نے حج کے اعمال انجام دیئے تو جبرئیل (ع) ان پر نازلھوئے جناب موسیٰ نے ان سےپوچھا:
اے جبرئیل (ع!(
جو شخصاس گھر کا حج سچی نیت اور پاک خرچ سے بجا لائے اس کی جزا کیا مقررھوئی ھے جبرئیل کچھجواب دیئے بغیر خدا وند عالم کی بارگاہ میں واپس گئے (اور اس کا جواب دریافت کیا)خداوند عالم نے ان پر وحی کی اور فرمایا:موسیٰ سے کہو کہ میں ایسے شخص کو ملکوت اعلیٰ میں پیغمبروں صدیقوں ،شھدا اور صالحین کا ھم نشین قرا ر دوں گااور وہ بھترین رفیق اور دوست ھیں”۔
نور میں واردھونا
عبد الرحمان بن سمرة کھتے ھیں:ایک روز میں حضرت پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں تھا کہ آنحضرت(ص)نے فرمایا:
”إِنِّی رَا یَٔتُ الْبَارِحَةَ عَجَائِبَ”۔
میں نے گذشتہ رات عجائبات کا مشاھدہ کیا ۔
ھم نے عرض کی کہ اے رسو ل خدا (ص)!ھماری جان ھمارا خاندان اور ھماری اولاد آپ(ص)پر فداھوں آپ نے کیا دیکھا ھم سے بھی بیان فرمایئے:
فقال۔۔۔
رَا یَٔتُ رَجُلاً مِنْ ا مُّٔتِی مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ ظُلُمَةٌ وَمِنْ خَلْفِہِ ظُلْمَةٌ وَعَنْ __________یَمِینِہِ ظُلَمَةٌ وَعَنْ شِمَالِہِ ظُلْمَةٌ وَمِنْ تَحْتِہِ ظُلْمَةٌ مُسْتَنْقِعاً فِی الظُّلْمَةِ فَجَاءَ ہُ حَجُّہُ وَعُمْرَتُہُ فَا خَٔرَجَاہُ مِنَ الظُّلْمَةِ وَا دَٔخَلاٰہُ فِی النُّورِ۔۔۔۔[ 17
”فرمایا:میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے سامنے سے، پشت سے ، دائیں اور بائیںسے،اور قدموں کے نیچے سے ، اسے تاریکی نے گھیر رکھا تھا اور وہ ظلمت میں غرق تھا اس کا حج اور اس کا عمرہ اس کے پاس آئے اور انھوں نے اسے تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کردیا ”۔
حق کے حضور حاضری
قالَ عَلِیٌّ (ع:(
اَلْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُاللّٰہِ،وَحَقٌّ عَلَی اللّٰہِ ا نَْٔ یُکْرِمَ وَفْدَہُ وَیَحْبُوَہُ بِالْمَغْفِرَةِ۔[ 18
حضرت علی(ع) فرماتے ھیں:
”حج اور عمرہ انجام دینے والا خدا کی بارگا ہ میں حاضرھونے والوں میں سے اور خدا پر ھے کہ اپنی بارگاہ میں آنے والے کا اکرام کرے اور اسے اپنی مغفرت و بخشش میںشامل قرار دے ’ ’۔
خدا وند عالم کی میزبانی
قال الصّادق (ع:(
إِنَّ ضَیْفَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ رَجُلٌ حَجَّ وَ اعْتَمَرَ فَھُوَ ضَیْفُ اللّٰہِ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی مَنْزِلِہِ۔[ 19
امام جعفر صادق نے فرمایا:
”جو شخص حج یا عمرہ بجالائے وہ خدا کا مھمان ھے اور جب تک وہ اپنے گھر واپس نہھو جائے ا س کا مھمان باقی رھتا ھے ’ ’ ۔
حج اور جھاد
قال رسول الله(ص:(
جِھٰادُ الْکَبیرِ وَالصَّغیرِ وَالضَّعیفِ وَالْمَرا ةَِٔ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ۔[ 20
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”عورتوںاور کمزور لوگوں کا حج اور عمرہ بڑا جھاد اور چھوٹا جھاد ھے”۔
حج عمرہ سے بھتر ھے
قال رسول الله (ص:(
اِعْلَمْ اَنَّ الُعُمْرَةَ ھِیَ الْحَجُّ الاصُٔغَرُ،وَاَنَّ عُمْرَةً خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیٰا وَمٰا فیھٰا وَحَجَّةً خَیْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ۔[ 21
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے عثمان بن ابی العاصسے فرمایا:
”جان لو کہ عمرہ حج اصغر ھے اور بلا شہ عمرہ دنیا اور جو کچھ اس کے اندر ھے ان سب سے بھتر ھے
،نیز یہ بھی جان لو کہ حج عمرہ سے بھتر ھے” ۔
گناہ دُھل جاتے ھیں
قال رسول الله (ص:(
اَیُّ رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِہ حٰاجاًاَوْ مُعْتَمِراً، فَکُلَّمٰا رَفَعَ قَدَماًوَ وَضَعَ قَدَماً،تَنٰاثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ بَدَنِہِ کَمٰایَتَنٰا ثَرُ الْوَرَقُ مِنَالشَّجَرِ،فَاِذَا وَرَدَ الْمَدِیْنَةَ وَصٰافَحَنی بِالسَّلاٰمِ،صٰافَحَتْہُ الْمَلاٰئِکَةُ بِالسَّلاٰمِ،فَاِذَا وَرَدَ ذَالْحُلَیْفَةَ وَاغْتَسَلَ،طَھَّرَہ اللّٰہُ مِنَالذُّنُوبِ،وَاِذَا لَبِسَ ثَوْبَیْنِ جَدیدَیْنِ،جَدَّدَ اللّٰہُ لَہُ الْحَسَنٰاتِ و اَِذَا قَالَ:اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، ا جَٰٔابَہُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ:“لَبَّیْکَ وسَعْدَیْکَ،اَسْمَعُ کَلاٰمَکَ وَاَنْظُرُ اِلَیْکَ،فَاِذَا دَخَلَ مَکَّةَ وَ طٰافَ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفٰاوَالْمَرْوَةَ وَصَلَ اللّٰہُ لَہُ الْخَیْراتِ۔۔۔۔[ 22
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جو شخصحج وعمرہ کے لئے اپنے گھر سے باھر نکلتا ھے پس جو قدم بھی وہ اٹھاتا اور زمین پر رکھتا ھے اس کے بدن سے گناہ یوں گرتے جاتے ھیں جیسے درختوں سے پتے چھڑتے ھیں، پس جب وہ شخصمدینہ میں واردھوتا ھے اور سلام کے ذریعہ مجھ سے مصافحہ کرتا ھے تو فرشتے بھی سلام کے ذریعہ اس سے ھاتھ ملاتے ھیں اور مصافحہ کرتے ھیں اور جب وہ ذولحلیفہ (مسجد شجرہ) میںواردھو کر غسل کرتا ھے تو خدا وند عالم اسے گناہوں سے پاک کردیتا ھے۔ جب وہ احرام کے دو جامہ اپنے تن پر لپٹتا ھے تو خدا وند عالم اسے نئے حسنات اور ثواب عطا کرتا ھے جب وہ “لبیک اللھم لبیک ”کھتا ھے تو خداوند عزوجل اسے جواب دیتےھوئے فرماتا ھے “لیبک و سعدیک” میں نے تیرا کلام اور تیری آواز سنی اور (عنایت کی نظر )تجھ پر ڈال رھاھوں اور جب وہ مکہ میں واردھوتاھے اور طواف نیز صفا ومروہ کے درمیان سعی انجام دیتا ھے تو خد اوند عالم ھمیشہ کی نیکیاں اور
خیرات اس کے شامل حال کر دیتا ھے”۔
دعا کی قبولیت
قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص:(
اَرْبَعَةٌ لا تُرَدُّ لَھُمْ دَعُوَةٌ حَتّٰی تُفْتَحَ لَھُمْ اَبْوٰابُ السَّمٰاءِ وَتَصیرَ إِلَی الْعَرْشِ:
[ اَلْوٰالِدُ لِوَلَدِہِ،وَالْمَظْلُومُ عَلٰی مَنْ ظَلَمَہُ، وَالْمُعْتَمِرُحَتّی یَرْجِعَ ، والصّٰائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ۔[ 23
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”چار لوگ ایسے ھیں جن کی دعا رد نھیںھوتی یھاں تک کہ آسمان کے دروازے ان کے لئے کھو ل دیئے جاتے ھیں اور دعائیں عرش الٰھی تک پہنچ جاتی ھیں:
١۔باپ کی دعا اولاد کے لئے ،
٢۔مظلوم کی دعا ظالم کے خلاف،
٣۔عمرہ کرنے والے کی دعا جب تک کہ وہ اپنے گھر واپس آجائے ۔
۴۔روزہ دار کی دعا یھاں تک کہ وہ افطار کر لے ۔
دنیا بھی اور آخرت بھی
قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص:(
مَنْ اَرَادَا لدُّنْیٰاوَالآخِرَةَ فَلْیَو مُّٔ ھٰذَاالبَیْتَ،فَمٰا ا تٰٔاہُ عَبْدٌ یَسْا لَٔ اللّٰہَ دُنْیٰا اِلاَّ ا عَٔطٰاہُ اللّٰہُ مِنْھٰا،وَلایَسْا لَٔہُ آخِرَةً اِلاَّادَّخَرَلَہُمِنْھٰا۔[ 24
رسو ل خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جو شخصدنیا اور آخرت کو چاھتا ھے وہ اس گھر کی طرف آنے کا ارادہ کرے بلاشبہ جوبھی اس جگہ پر آیا اور اس نے خدا سے دنیا مانگی تو خداوند عالم نے اس کی حاجت پوری کردی نیز یہ کہ اگر خدا وند عالم سے اس نے آخرت طلب کی تو خدا وند عالم نے اس کی یہ دعا بھی قبول کی اور اسے اس کے لئے ذخیرہ کردیا”۔
آگاھی کے ساتھ حج
قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص):فی خُطْبَتِہِ یَوْمَ الْغَدِیر :مَعٰاشِرَ النّٰاسِ، حُجُّواالْبَیْتَ بِکَمٰالِ الدّینِ وَالتَّفَقُّہ، وَلا تَنْصَرِفُواعَنِ
[ الْمَشٰاھِدِ اِلاَّ بِتَوْبَةٍ واِقْلاٰعٍ۔[ 25
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے یوم غد یر کے خطبہ میں فرمایا:
”اے لوگو! خانہ خٔدا کا حج پوری آگاھی اور دینداری سے کرو ، اوران متبرک مقامات سے توبہ اور گناہوں کی بخشش کے بغیر واپس نہ لوٹو ”۔
شرط حضور
قَالَ ا بَٔو عَبْدِاللّٰہِ (ع)کاَنَ ا بَٔی یَقُولُ:
[ مَنْ ا مَّٔ ھَذَاالْبَیْتَ حَاجّاً ا ؤَمُعْتَمِراًمُبَرَّا مًٔنَ الْکِبْرِ رَجَعَ مِنْ ذُنُوبِہِ کَھَیْئَةِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ ا مُّٔہُ۔[ 26
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”میرے پدر بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حج یا عمرہ کے لئے اس گھر کی طرف روانہ ھو اور خود کو کبر و خود پسندی سے دور رکھے تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاکھو جاتا ھے جیسے اسے اس کی ماں نے ابھی پیدا کیاھو”۔
حج کی برکتیں
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ) ع:(
حَجُّوا وَاعْتَمِرُوا،تَصِحَّ ا بَٔدَانُکُمْ،وَتَتَّسعَ ا رَٔزَاقُکُمْ،وَتُکْفَوْا مَو ؤُنٰاتِ عِیَالِکُمْ،وَقَالَ:الْحَاجُّ مَغْفُورٌ لَہُ وَمَوْجُوبٌ لَہُ الْجَنَّةُ،وَمُسْتَا نْٔفٌ لَہُ الْعَمَلُ،وَمَحْفُوظٌ فِی ا ھَٔلِہِ وَمَالِہِ۔[ 27
امام جعفر صادق (ع)سے روایت ھے کہ آپ نے فرمایا:
”علی بن الحسین علیھما السلام فرماتے تھے کہ:حج اور عمرہ بجالاو تٔاکہ تمھارے جسم سالم،تمھاری روزیاںزیادہ اور تمھار ے خانوادہ اور زندگی کا خرچ پوراھو آپ مزید فرماتے تھے:حاجی بخش دیا جاتا ھے جنت اس پر واجبھو جاتی ھے ، اس کا نامۂ عمل پاک کر کے پھر سے لکھا جاتا ھے اور اس کا مال اور خاندان امان میں رھتے ھیں”۔
جو حج قبول نھیں
عَنْ ا بَٔی جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ(ع)قَالَ:
مَنْ اصَٔابَ مَالاً مِنْ ا رَٔبَعٍ لَمْ یُقْبَلْ مِنْہِ فِی ا رَٔبَعٍ: مَنْ اصَٔابَ مَالاً مِنْ غُلُولٍ ا ؤَ رِبًا ا ؤَ خِیَانَةٍا ؤَ سَرِقَةٍ لَمْ یُقْبَلْ مِنْہُ فِیزَکَاةٍ وَلاٰ صَدَقَةٍ وَلاٰحَجٍّ وَلاٰ عُمْرَةٍ۔[ 28
امام محمد باقر (ع)فرماتے ھیں:
”جو شخصچار طریقوں سے مال اور پیسہ حاصل کرے اس کا خرچ کرنا چار چیزوں میں قبول نھیں ھے:
جو شخصآلودگی اور فریب کی راہ سے،سودکے ذریعہ، خیانت کے ذریعہ اور چوری کے ذریعہ پیسہ حاصل کرے تو اس کی زکات ، صدقہ،حج اور عمرہ کرنا قبول نھیں ھے ’ ’ ۔
مال حرام کے ذریعہ حج
قال ا بٔو جعفر(ع:(
لا یَقْبَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَجّاًوَلاٰعُمْرَةً مِنْ مالٍ حَرامٍ۔[ 29
امام محمد باقر(ع) فرماتے ھیں :
”خدا وند عالم حرام مال کے ذریعہ کئے جانے والے حج و عمرہ کو قبول نھیں کرتا ”۔
حاجی کا اخلاق
عَنْ ا بَٔی جَعْفَرٍ(ع) قَالَ:
مَا یُعْبا مُٔنْ یَسْلُکُ ھَذَا الطَّرِیقَ اِذَا لَمْ یَکُنْ فِیْہِ ثَلاٰثُ خِصَالٍ: وَرَعٌ یَحْجُزُہُ عَنْ مَعَاصِی اللّٰہِ،وَحِلْمٌ یَمْلِکُ بِہِ غَضَبَہُ،وَ حُسْنُ الصُّحْبَةِ لِمَنْ صَحِبَہُ۔[ 30
امام محمد باقر (ع)نے فرمایا:
”جو شخص حج کے لئے اس راہ کو طے کرتا ھے اگر اس میں تین خصلتیں نہھوں تو وہ خدا کی توجہ کا مرکز نھیں بنتا:
١۔تقویٰ وپرھیز گاری جو اسے گناہ سے دور رکھے۔
٢۔صبر وتحمل جس کے ذریعہ وہ اپنے غصہ پر قابو رکھے۔
٣۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک ۔
کامیاب حج
قال رسول الله (ص:(
[ مَنْ حَجَّ ا ؤَ اعْتَمَرَ فَلَمْ یَرْفَثْ وَلَمْ یَفْسُقْ یَرْجِعُ کَھَیْئَةِ یَومٍ وَلَدَتْہُ ا مُّٔہُ۔[ 31
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”جس نے حج یا عمرہ کیا اورکوئی فسق وفجور انجام نہ دیا تو وہ اس شخص کی طرح پاک واپس ھوتا ھےجیسے اس کی ماں نے اسے ابھی پیدا کیا ھے”۔
حج کی قسمیں
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
الْحَجُّ حَجَّانِ:حَجُّ اللّٰہِ،وَحَجُّ لِلنَّاسِ،فَمَنْ حَجَّ لِلّٰہِ کَانَ ثَوَابُہُ عَلَی اللّٰہِ الْجَنَّةَ،وَمَنْ حَجَّ لِلنَّاسِ کاَنَ ثَوَابُہُ عَلَی النَّاسِ یَوْمَالْقِیَامَةِ۔[ 32
امام جعفر صادق (ٍع)فرماتے ھیں:
حج کی دو قسمیں ھیں:
”خدا کے لئے حج اور لوگوں کے لئے حج،پس جو شخص خداکے لئے حج بجالایا اس کی جزا وہ خدا سے جنت کی شکل میں حاصل کرے گا اور جو شخص لوگوں کے دکھانے کے لئے حج کرتا ھے اس کی جزا قیامت کے دن لوگوں کے ذمہ ھے ”۔
حاجیوں کی قسمیں
معاویہ ابن عمار کھتے کہ امام صادق (ع)نے فرمایا:
الْحَاجُّ یَصْدُرُونَ عَلَی ثَلاٰثَةِ اصَٔنَافٍ:فَصِنْفٌ یَعْتِقُونَ مِنَ النَّارِ،وَصِنْفٌ یَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِہِ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ ا مُّٔہُ،وَصِنْفٌ یُحْفَظُ فِی ا ۂَلِہِ وَمَالِہِ،فَذَلِکَ ا دَٔنَی مَا یَرْجِعُ بِہِ الْحَاجُّ۔[ 33
”حاجی تین قسم کےھوتے ھیں:
ایک گروہ جہنم کی آگ سے رھائی پاتا ھے ،دوسرا گروہ گناہوں سے اس طرح پاکھوتا ھے جیسے وہ ابھی اپنی ماں کے بطن سے پیداھواھو، اور تیسرا گروہ وہ ھے کہ اس کا خاندان اور اس کا مال محفوظھوجاتا ھے اوریہ وہ کمترین جزا ھے جس کے ساتھ حاجی واپسھوتے ھیں”۔
ناکام حاجی
قال رسول الله (ص:(
یَا تٔی عَلَی النَّاسِ زَمانٌ یَحُجُّ ا غٔنِیاءُ ا مَٔتِّی لِلنُّزھَةِ،وَا ؤَساطُھُمْ لِلْتِجارةِ،وَقُرّاو ھُٔمْ للریّاءِ وَالسَّمْعَةِ وَفُقَرائُھُم لِلمسا لٔةِ۔( ١
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کے دولت مندلوگ سیرو تفریح کے لئے اور درمیانی طبقہ کے لوگتجارت کے لئے قاری حضرات ریاکاری اور شھرت کے لئے اور فقرا مانگنے کے لئے حج کو جائیں گے ”۔
اپنے ھمراھیوں کے ساتھ سلوک
قَالَ ا بَٔو عَبْدِ اللّٰہِ(ع :(
وَطِّنْ نَفْسَکَ عَلَی حُسْنِ الصِّحَابَةِ لِمَنْ صَحِبْتَ فِی حُسْنِ خُلْقِکَ،وَکُفَّ لِسَانَکَ،وَاکْظِمْ غَیْظَکَ،وَا قَٔلَّ لَغْوَکَ،وَتَفْرُشُ عَفْوَکَ، وَتَسْخُو نَفْسَکَ۔[ 34
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”خود کو آمادہ کرو تاکہ جس شخص کے بھی ھمراہ سفر کرو اچھے اور خوش اخلاق ساتھی رہو اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو ،اپنے غصہ کو پی جاو ،ٔبیہودہ وبے فائدہ کام کم کرو ،اپنی بخشش کو دوسروں کے لئے وسیعکرو،اور سخا وت کرنے والے رہو”۔
راہ کی اذیت
عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ:
مَنْ ا مَٔاطَ ا ذَٔی عَنْ طَرِیقِ مَکَّةَ کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ حَسَنَةً وَمَنْ کَتَبَ لَہْ حَسَنَةً لَمْ یُعَذِّبْہُ۔[ 35
امام جعفر صادق نے فرمایا:
”جو شخص مکہ کی راہ میں اذیت و تکلیف اٹھا ئے خدا وند عالم اس کے لئے نیکی لکھتا ھے اور جس شخصکے لئے خداوند عالم نیکی لکھتا ھے اسے عذاب نھیں دیتا ”۔
حج کی راہ میں موت
قال الصادق(ع:(
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ ا بَٔی عَبْدِ اللّٰہِ(ع (قَالَ: مَنْ مَاتَ فِی طَرِیقِ مَکَّةَ ذَاھِباًاَّوُ جَائِیاً ا مَٔنَ مِنَ الّفَزَعِ الّا کَٔبَرِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔[ 36
عبد الله ابن سنان سے روایت ھے کہ امام جعفر صادق (ٍع)نے فرمایا:
”جو شخص مکہ کی راہ میں جاتے وقت یا واپسھوتے وقت مرجائے وہ قیامت کے دن کے عظیم خوف ھراس سے امان میں ر ھے گا ”۔
حج میں انفاق کرنا
قال الصادق (ع:(
دِرْھَمٌ فِی الْحَجِّ ا فَٔضَلُ مِنْ ا لَٔفِیْ ا لَٔفٍ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ سَبِیلِ اللّٰہِ ”۔[ 37
امام جعفر صادق (ع)فرماتے ھیں:
”حج کی راہ میں ایک درھم خرچ کرنا حج کے علاوہ کسی اور دینی راہ میں بیس لاکھ درھم خرچ کرنے سے
بھتر ھے”۔
احرام کا فلسفہ
عَنِ الرِّضَا(ع:(
فَاِنْ قَالَ:فَلِمَ اُمِرُوا بِالإحْرٰامٍ؟قیل:لِاَ ن یَتَخَشَّعُوا قَبْلَ دُخُولِ حَرَمَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاَمْنِہِ وَلِئَلاّ یَٰلْھُوا وَیَشْتَغِلُوا بِشَیْءٍ مِنْا مُٔرِ الدُّنْیَا وَزِینَتِھَا وَالَذَّاتِھَا وَیَکُونُوا جَادِّینَ فِیمَا ھُمْ فِیہِ قَاصِدِینَ نَحْوَہُ،مُقْبِلِینَ عَلَیْہِ بِکُلِّیِّتِھِمْ،مَعَ مَا فِیہِ مِنَ التَّعْظیمِ لِلّٰہِتعٰالی وَلِبَیْتِہِ،وَالتَّذَلُّلِ لِا نَٔفُسِھِمْ عِنْدَ قَصْدِ ھِمْ إِلَی اللّٰہِ تَعٰالیٰ وَوِفَادَتِھِمْ إِلَیْہِ، رَاجِینَ ثَوَابَہُ،رَاھِبِینَ مِنْ عِقَابِہِ،مَاضِینَ نَحْوَہُ مُقْبِلِینَ إِلَیْہِ بِالذُّلِّ وَالِاسْتِکَانَةِ وَالْخُضُوعِ۔[ 38
امام علی رضا (ع)نے فرمایا:
”اگر یہ کھا جائے کہ لوگوں کواحرام پہننے کا حکم کیوں دیا گیا ھے ؟ تو یہ کھا جائے گا کہ :اس لئے کہ لوگ الله کے حرم اور امن وامان کی جگہ میں واردھونے سے پھلے خاشع اور منکسر مزاجھوں ، امور دنیا ،اس کیلذتوںاور زینتوں میں سے کسی بھی چیز میں خودکو مشغول نہ کریں جس کام کے لئے آئے ھیںاور جس کاارادہ رکھتے ھیں اس پر صابر رھیں اور پورے وجود سے اس پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ احرام میں خدااور اس کے گھر کی تعظیم۔ اپنی فروتنی اور باطنی ذلت وحقارت ، خدا کی طرف قصد اور اس کے حضور واردھونا ھے،جب کہ وہ اس سے جزا کی امید رکھتے ھیں اس کے عقاب اور سزا سے
خوف زدہ ھیں اور انکسار وفروتنی اور ذلت خوا ری کی حالت میں اس کی طرف رخ کئےھوئے ھیں”۔
احرام کا ادب
قَالَ ا بَٔو عَبْدِ اللّٰہِ(ع:(
إِذَا ا حَٔرَمْتَ فَعَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ،وَذِکْرِ اللّٰہِ کَثِیراً،وَقِلَّةِ الْکَلاٰمِ إِلاَّ بِخَیْرٍ،فَإِنَّ مِنْ تَمَامٍ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ا نَٔ یَحْفَظَ الْمَرْءُ لِسَانَہُإِلاَّ مِنْ خَیْرٍ۔[ 39
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا:
”جب محرمھو جاو تٔو تم پر لازم ھے کہ باتقویٰ رہو ،خدا کو بھت یاد کرو ،نیکی کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کہ بلا شبہ حج اور عمرہ کا کاملھونا یہ ھے کہ انسان اپنی زبان کو نیکی کے علاوہ کسی اور امر میں نہ کھولے ”۔
حقیقی لبیک
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص): مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبّی اِلاَّ لَبّٰی مَا عَنْ یَمینِہِ وَشِمٰالِہِ مِنْ حَجَرٍا ؤَ شَجَرٍا ؤَمَدَرٍحَتّٰی تَنْقَطِعَ الاَرْضُمِنْ ھٰا ھُنَا وَھٰاھُنَا۔[ 40
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”کوئی شخ-ص لبیک نھیں کھتا مگر یہ کہ اس کے دائیں بائیں ،پتھر درخت ،ڈھیلے اس کے ساتھ لبیک کھتےھیں یھاں تک کہ وہ زمین کو یھاں سے وھاں تک طے کر لے ”۔
:1]نھج البلاغہ خ ١۔ ]
١١ ۔نھج البلاغہ :خ ١۔ / 2]وسائل الشیعہ : ١۵ ]
3]نھج البلاغہ :خ ١ ]
١١ ۔نھج البلاغہ:خ ١۔ / 4]وسائل الشیعہ: ١۵ ]
5]نھج البلاغہ :خ ١۔ ]
٧۵ ۔ / 6]بحار الانوار : ١٨٣ ]
١۔ / ١١ ۔علل الشرایع : ۴١١ / 7]وسائل الشیعہ : ١٠٣ ]
٢۔ / ١١ ۔ثواب الاعمال: ٧٠ / 8]وسائل الشیعہ : ١٠٩ ]
١۔ / ١١ ۔علل الشرایع : ۴١١ / 9]وسائل الشیعہ : ١٠٣ ]
١۔ / ١١ ۔علل الشرایع : ۴١١ / 10 ]وسائل الشیعہ : ١٠٣ ]
۵۔ / ١١ ۔تھذیب الاحکام : ٢٣ / 11 ]وسائل الشیعہ : ١١٠ ]
٢۔ /۶٢٠/ 12 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٣٢١۴ ]
٢۔ / ٨۔،محجة البیضاء: ١۴۵ / 13 ]مستدرک الوسائل : ١٨ ]
٢۔ / ٣۔ محجة البیضاء: ١۴۵ /١٧۵/ 14 ]سنن ترمذی: ٨١٩٠ ]
۴۔ /٢۶٢/ 15 ]الکافی : ۴١ ]
٢۔ /٢٣۵/ 16 ]من لایحضرہ الفقیہ: ٢٨٧ ]
٨۔ / ٣٠١ ۔مستدرک الوسائل : ٣٩ / 17 ]امالی صدوق: ٣۴٢ ]
۴۔تحف العقول : ١٢٣ ۔ / 18 ]وسائل الشیعہ: ١١۶ ]
١۴ ۔ / 19 ]خصال : ١٢٧ /۔وسائل الشیعہ: ۵٨۶ ]
۵۔ / 20 ]سنن نسائی: ١١۴ ]
٩۔ /۴۴/ 21 ]معجم الکبیر طبرانی: ٨٣٣۶ ]
١۴٨ ۔ / 22 ]الحج العمرة فی القرآن والحدیث : ٣٢۵ ]
٢/۵١٠/ 23 ]کافی : ۶ ]
24 ]مسند الامام زید: ١٩٧ ۔ ]
٢۵٧ ۔ / 25 ]الحج العمرة فی القرآن والحدیث: ٧١٨ ]
۴۔ /٢۵٢/ 26 ]کافی: ٢ ]
۴۔ /٢۵٢/ 27 ]کافی: ١ ]
١١ ۔ / 28 ]امالی صدوق: ۴۴٢ ۔وسائل الشیعہ: ١۴۵ ]
٩٣ ۔ / 29 ]بحار الانوار: ١٢٠ ]
۴۔ /٢٨۶/ 30 ]کافی: ٢ ]
٢۔ / 31 ]سنن دار قطنی: ٢٨۴ ]
٧۴ ۔ / 32 ]ثواب الاعمال : ١۶ ]
۵۔ /٢١/ 33 ]تھذیب الاحکام : ۵٩ ]
۴۔ /٢٨۶/ 34 ]کافی: ٣ ]
۴۔ /۵۴٧/ 35 ]کافی: ٣۴ ]
۵۔ /٢٣/ 36 ]تھذیب الاحکام : ۶٨ ]
۵۔ / 37 ]تھذیب الاحکام : ٢٢ ]
٢۔ / ٢۔وسائل الشیعہ: ٣١۴ / 38 ]عیون اخبار الرضا: ٢۵٨ ]
۴۔ /٣٣٧/ 39 ]کافی: ٣ ]
٢۔ /٩٧۵/ 40 ]سنن ابن ماجہ: ٢٩٢١ ]
حج ؛ اتحاد کی کنجی ؛ اتحاد کی عظمت کا احساس
حج مسلمانوں کے اتحاد و یکرنگی کا مظہر ہے۔ یہ جو اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو اور ان میں سے ان افراد کو جو استطاعت رکھتے ہیں معینہ وقت پر مخصوص مقام پر طلب کیا ہے اور انہیں ایسے اعمال و حرکات کے سلسلے میں کئی شب و روز تک ایک جگہ مجتمع کر دیا ہے جو پر امن بقائے باہمی، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے مظہر ہیں، اس کا سب سے پہلا نمایاں ثمرہ ایک اک فرد میں اتحاد و اجتماعیت کا جذبہ، مسلمانوں کے اجتماع کی عظمت و جلالت کا نظارہ اور ان کے اندر احساس عظمت و وقار پیدا ہونا ہے۔ اس عظمت و وقار کے احساس کے ساتھ اگر مسلمان کسی پہاڑی درے میں بھی زندگی گزار رہا ہو تو کبھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرے گا۔ اسی حقیقت کے احساس کے نتیجے میں مسلمان تمام اسلامی ممالک میں اسلام کی دشمنی یعنی سرمایہ داری کے نظام اور اس کے مہروں اور ہم نواؤں کے سیاسی و اقتصادی تسلط اور نیرنگ و فتنہ انگیزی سے ٹکرا جانے کی جرئت و ہمت اپنے اندر پیدا کر سکیں گے۔ پھر ان پر مغربی سامراجیوں کا حقارت و بے بسی کا احساس پیدا کرنے والا جادو کارگر نہیں ہوگا جو یہ طاقتیں، قوموں کے سلسلے میں استعمال کرتی آئی ہیں۔ اسی عظمت و وقار کے نتیجے میں مسلمان حکومتیں اپنے عوام کا سہارا لیکر خود کو اغیار کے سہارے سے بے نیاز بنا سکتی ہیں اور پھر مسلمان عوام اور ان پر حکمرانی کرنے والے نظام کے درمیان یہ مصیبت بار فاصلہ بھی باقی نہیں رہےگا۔ اسی اتحاد و اجتماعیت کے احساس کے بعد ماضی و حال کے سامراجی نیرنگ یعنی انتہا پسندی پر مبنی فرقہ وارانہ تعصب کے جذبات بھڑکانے کی کوششیں مسلمان قوموں کے درمیان یہ وسیع و عمیق خلیج پیدا نہیں کر سکیں گی اور عرب، فارس، ترک، افریقی اور ایشیائی قومیتیں ایک دوسرے کی اسلامی شناخت و ماہیت کی حریف و مخالف ہونے کے بجائے اس کا جز اور تسلسل بن جائيں گی اور ایک وسیع ماہیت کی عکاسی کریں گی۔ بجائے اس کے کہ ہر قومیت دوسری قومیتوں کی نفی اور تحقیر کا وسیلہ بنے، ہر قوم دیگر اقوام کے درمیان اپنی تاریخی، نسلی اور جغرافیائی خصوصیات اور خوبیوں کی منتقلی کا ذریعہ بن جائے گی۔
اس عظیم اجتماع کے مضمرات
اسلام میں ویسے تو نماز جماعت، نماز جمعہ اور نماز عید جیسی اجتماعی طور پر انجام دی جانے والی عبادتیں بھی موجود ہیں لیکن (حج کا) یہ عظیم اجتماع، ذکر و وحدانیت کو مرکزیت دینا اور دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمانوں کو نقطہ واحد پر لاکر جمع کر دینا بڑا ہی با معنی عمل ہے۔ یہ بات کہ پوری امت مسلمہ اور سارے مسلمان اپنے لسانی، نسلی، مسلکی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک جگہ پر جمع ہوں اور مخصوص اعمال کو آپس میں مل کر انجام دیں جو عبادتوں، گریہ و زاری، ذکر و مناجات اور توجہ و ارتکاز پر مشتمل ہیں، یہ بہت با معنی چیز ہے۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے قلوب و اذہان کا اتحاد میدان سیاست و جہاد میں ہی اہم نہیں بلکہ خانہ خدا میں جانا، قلوب کا ایک دوسرے کے نزدیک ہونا، جسموں اور جانوں کا ایک دوسرے کی معیت میں ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے : " واعتصموا بحبل اللہ جمیعا" اللہ کی رسی کو اکیلے پکڑنے کا فائدہ نہیں ہے، ایک ساتھ مل کر پکڑنا ضروری ہے۔ ایک ساتھ مل کر اعتصام بحبل اللہ کیجئے۔ الہی تعلیم و تربیت و ہدایت کے محفوظ مرکز کو ایک ساتھ مل کر اپنائیے۔ معیت و ہمراہی ضروری ہے۔ دل ایک ساتھ ہوں، جانیں ایک ساتھ ہوں، فکریں ایک ساتھ ہوں، جسم ایک ساتھ ہوں۔ یہ جو آپ طواف کرتے ہیں، یہ ایک مرکز کے گرد دائرے کی شکل میں حرکت کرنا، یہ محور توحید کے ارد گرد مسلمانوں کی حرکت و پیش قدمی کی علامت ہے۔ ہمارے سارے کام، اقدامات اور حوصلے وحدانیت پروردگار اور ذات اقدس الہی کے محور کے ارد گرد ہونا چاہئے۔ یہ درس ہماری پوری زندگی کے لئے ہے۔
اتحاد کے مواقع کا غلط استعمال
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ کوئی شخص اتحاد کے اس ذریعے اور وسیلے کو اختلاف و خلیج پیدا کرنے کا حربہ بنا لے۔ یہ خطاب ہر ایک سے ہے۔ (میرا) خطاب صرف اس متعصب اور کفر کے فتوے صادر کرنے والے شخص سے نہیں ہے جو مدینے میں کھڑے ہوکر شیعوں کے مقدسات کی بے حرمتی کرتا ہے، میرا خطاب سب سے ہے۔ حج کے امور کے ذمہ داران، کاروانوں کے ذمہ داران اور علماء سب ہوشیار رہیں کہ اتحاد کے اس موقع کو (بعض عناصر) تفرقہ انگیزی کا حربہ نہ بنا لیں، دلوں میں ایک دوسرے کی کدورتیں نہ بھر دیں۔ کون سی چیز ہے جو ایک شیعہ کے دل میں اپنے غیر شیعہ مسلمان بھائی کے تعلق سے کینہ بھر دیتی ہے، ایک سنی کے دل کو اپنے شیعہ مسلمان بھائی کی کدورت سے پر کر دیتی ہے۔ غور کیجئے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں۔ ان کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ حج کو جو زخم کا مداوا، اتحاد کا ذریعہ اور عالم اسلام کے دلوں، نیتوں اور ارادوں کی یکسانیت و ہم آہنگی کا وسیلہ ہے انتشار اور بغض و عناد کا حربہ نہیں بننے دینا چاہئے۔ اس مسئلے اور اس کے مصادیق کی شناخت کے لئے بہت ہوشیاری اور دقت نظر کی ضرورت ہے۔
اتحاد کی راہ کے روڑے
جو لوگ حج میں تفرقہ اندازی، فتنہ انگیزی، خرافاتی اور رجعت پسندانہ افکار کی ترویج کی کوششوں میں مصروف ہیں وہی سامراج کے عمدی یا غیر عمدی مہرے ہیں جو اس عظیم موقع کو نابود کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جو لوگ اس اتحاد کی عظمت و جلالت اور شکوہ و وقار کو عظیم امت مسلمہ کی نظروں میں مجسم نہیں ہونے دیتے وہ ان افراد میں شامل ہیں جو اس عظیم ذخیرے اور سرمائے کو نابود اور ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جو لوگ تفاخر و امتیاز، دیگر قوموں کے استحصال و تذلیل، دنیا کے مستضعفین کے خلاف جنگ افروزی کا وسیلہ قرار پانے والی عظمت و جلالت نہیں بلکہ راہ خدا میں عظیم امت اسلامیہ کی عظمت و جلالت کو الہی اقدار کی راہ کی عظمت و جلالت کو اور وحدانیت کے راستے کی عظمت و جلالت کو عالم اسلام میں منعکس نہیں ہونے دینا چاہتے وہ پوری انسانیت پر ظلم کر رہے ہیں۔ اس وقت اس عظیم الہی ذخیرے اور سرمائے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے عالم اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
سامراج کی تفرقہ انگیزی
اس وقت عالم اسلام میں سامراج اور امریکا کا ایک بنیادی ہدف اختلاف پیدا کرنا ہے اور اس کا بہترین راستہ شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں سامراج کے پروردہ عناصر عراق کے مسائل کے سلسلے میں کیسی باتیں کر رہے ہیں، کیسی زہر افشانی کر رہے ہیں اور بہ خیال خود نفاق کے کیسے بیج بو رہے ہیں؟! برسہا برس سے مغربی سامراج اور توسیع پسند طاقتوں کے ہاتھ ان حرکتوں میں مصروف ہیں۔ حج میں انہیں اس کا بڑا اچھا موقع مل جاتا ہے کہ شیعہ کو سنی کے اور سنی کو شیعہ کے خلاف مشتعل و برافروختہ کریں۔ ایک دوسرے کے مقدسات اور محترم ہستیوں کی توہین کے لئے ورغلائیں۔ بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ صرف حج میں ہی نہیں بلکہ پورے سال اور سبھی میدانوں میں ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ شیعہ سنی جنگ امریکا کی مرغوب ترین شئے ہے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ جنگ میں ایک دوسرے کے مد مقابل صف آرا ہونے والوں کی مانند ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں، بغض و کینے میں ڈوب کر ایک دوسرے کے خلاف بولیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیں، بد کلامی کریں! بعید نہیں ہے کہ اس پر محن دور میں حج کے موقع پر اختلاف و انتشار پیدا کرنے کے لئے کچھ افراد کو کرائے پر حاصل کر لیا گيا ہو، لوگوں کو بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ کاروانوں میں شامل علمائے کرام اس مسئلے میں زیادہ ذمہ دارانہ انداز میں کام کریں، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دشمن کی مرضی کیا ہے۔ یہ بہت بڑی غفلت اور سادہ لوحی ہے کہ انسان اس خیال کے تحت کہ وہ حقیقت کا دفاع کر رہا ہے، دشمن کی سازش کی مدد کرنے لگے اور دشمن کے لئے کام کرنے لگے۔ کچھ لوگ مزدوری لے کر، پیسے لیکر یہ کام کرتے ہیں، بسا اوقات سطحی فکر والے متعصب لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کے خلاف برانگیختہ اور مشتعل کرتے ہیں۔ اب اگر سامنے والا ویسا ہی شدید رد عمل دکھاتا ہے تو بلا شبہ ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے کیونکہ ان کا تو مقصد ہی یہی ہے۔ وہ ہمیں آپس میں دست بگریباں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مطمئن رہیں۔
حج کے اسرار و رموز
بغیر شک کے حج بجا لانے کی عظیم جزا اور اسے ترک کرنے کی عظیم سزا صرف اسی وجہ سے ہے کہ حج، اسلام کے اندر ایک عبادت کہلاتا ہے۔ قرآن کریم ایک مختصر اور پرمعنی جملہ میں حج کے بارے میں فرماتا ہے: لیشھدوا منافع لھم، لوگوں کو حج کی دعوت دو تا کہ اپنے منافع کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہ منافع بہت زیادہ ہیں روایات معصومین (ع) میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ:
۱: تربیت نفس اور تہذیب اخلاق: حج تقوی اور خلوص کے ستونوں کو مضبوط بناتا ہے۔ مذکورہ روایات کے اندر جو تعبیر استعمال ہوئی ہے یہ ہے کہ حج مقبول سبب بنتا ہے کہ انسان کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور گناہوں سے اس طریقے سے پاک ہوتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پاک و صاف پیدا ہوتا ہے۔ یہ چیز اس بات کی علامت ہے کہ حج دل کی پاکیزگی، روح کی طہارت اورگناہوں سے دوری کا سبب بنتا ہے، البتہ یہ فائدہ انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب خانہ خدا کے زائرین اعمال و مناسک حج کے اسرار و رموز سے آشنائی کے ساتھ انجام دیں تاکہ جو قدم بھی اٹھائیں وہ قدم خدا کی جانب اٹھے، اسکے معبود اور محبوب کے قریب ہونے کا سبب بنے۔ اور یہ عظیم عبادت اس کے لیے ایک نئے تولد کے مترادف ہو۔ وہ لوگ جو اس عبادت کے اسرار کی طرف توجہ کرتے ہوئے نہایت خلوص نیت کےساتھ انجام دیتے ہیں اس کے گہرے آثار کا اپنے وجود کے اندر زندگی کے آخری لمحہ تک احساس کرتے ہیں اور ہمیشہ جس لمحہ اس معنوی سفر کی یادوں کو یاد کرتے ہیں تو ان کی روح کو تازگی ملتی ہے۔ یہ حج کا تربیتی اور اخلاقی اثر ہے۔
۲: سیاسی آثار: حج کے تربیتی آثار کے ساتھ ساتھ بہت اہم سیاسی آثار بھی پائے جاتے ہیں اس لیے کہ حج اگر ویسے ہی جیسے اسلام نے دستور دیا ہے اور ابراہیم بت شکن نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے،بجا لائیں تو یہ حج مسلمانوں کی عزت، دین کے ستونوں کی مضبوطی، اتحاد اور دشمنوں کی صفوں کے مقابلے میں قدرت اور شوکت کا باعث بنے گا۔اور یہ جمع غفیر جو ہر سال خانہ خدا کے پاس اگٹھا ہوتا ہے مسلمانوں کے لیے بہترین فرصت فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی صفوں کو مضبوط بنائیں اخوت اور برادری کے رشتوں کو قوی کریں دشمنان اسلام کے نقشوں پر پانی پھیریں۔ لیکن افسوس سے جیسا کہ اکثر مسلمان حج کے اخلاقی فلسفہ کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے اس کے سیاسی فلسفہ کو بھی بے خبر رہتے ہیں۔ صرف اس کے ظواہر پر قناعت کرتے ہیں اور اس کی روح اور باطن سے غافل ہوتے ہیں اور ایک سیاستمدار کے بقول: واے ہو مسلمانوں پر اگر حج کے معنی کو نہ سمجھیں۔ اور واے ہو دشمنان اسلام پر اگر مسلمان حج کے واقعی معنی کو سمجھ جائیں۔
۳: علمی اور ثقافتی آثار: حج کے کچھ اور اہم آثار جن کی طرف روایات معصومین (ع) میں بھی اشارہ ہوا ہے ثقافتی آثار ہیں۔ اس لیے کہ مکہ سے مدینہ تک اور دیگر مواقیت پر جگہ جگہ رسول اسلام (ص) اور آئمہ معصومین کے آثار نظر آتے ہیں یہ آثار دنیا کے کونے کونےسے حج پر آنے والے علماء دانشمند، متفکرین،اور مؤلفین حضرات کو ان کےبارے میں غور و فکر کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ثقافتوں اور اجتماعی مسائل سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔ اور اگر اس کام کے لیے مخصوص پروگرامینگ کی جائے تو یقینا اس کے آثار دنیائے اسلام میں ظاہر ہوں گے۔
۴: اقتصادی آثار: اسلامی روایات میں حج کے اہداف میں سے اقتصادی اہداف کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ تصور کریں کہ حج کا اقتصادی مسائل سے کیا ربط ہے؟ لیکن جب اس بات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ آج کے مسلمانوں کی اساسی مشکل دشمنان اسلام کے مقابلہ میں اقتصادی مشکل ہے اور اس مشکل کو حج کے ذریعے دنیائے اسلام سے رفع کیا جا سکتا ہے اگر مسلمانوں کے پاس اتنا شعور ہو وہ اس سرمایہ کو اسلام کی ترقی کی راہ میں خرچ کریں۔ خلاصہ کلام یہ کہ حج کے ایسے مہم آثار ہیں کہ سزاوار ہے کہ ان کے بارے میں جداگانہ طور پر کتابیں لکھی جائیں اور دنیا کے مسلمانوں کو ان سے آگاہ کیا جائے۔
حج کی فضیلت
قرآن کریم حج کو واجب قرار دینے کےساتھ ساتھ اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ حج بھی دوسرے عبادی امور کی طرح پاک و صاف نیت کےساتھ انجام پائے: حج اور عمرہ کو خدا کے لیے مکمل طریقے سے انجام دو۔ حج کے تمام فوائد اس وقت انسان کو حاصل ہوتے ہیں کہ جب وہ صرف اور صرف خدا ہی کے لیے انجام پائے۔ اہلبیت علیھم السلام کی احادیث کے اندر بھی حج کی فضیلت اور اس کی برکتوں کی طرف اشارہ کرتے بیان ہوا ہے کہ حج اور عمرہ کرنے والا خدا کا مہمان ہوتا ہے اور خدا اسے مغفرت اور بخشش کو ہدیہ کے طور پر عطا ہے۔ حج ہر ناتوان اور کمزور کا جہاد ہے۔ رسول اکرم (ص) نے فرمایا: حج فقر اور تنگدستی کو ختم کرتا ہے۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے: حج بجا لاؤ تاکہ بے نیاز ہو جاؤ۔ امام سجاد (ع) فرماتے ہیں: حج کا حق تم پر یہ ہے کہ یہ جان لو تم اس کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کے حضور میں گئے ہو اور اپنے گناہوں سے دور ہو چکے ہو اور حج کے ذریعے تمہاری توبہ قبول ہوئی ہے اور وہ تکلیف جو خدا نے تم پر عائد کی ہے ادا کر دی ہے۔
حج روایات کی روشنی میں
حج اسلامی سماج کی عظمت و اقتدار کو دنیاوالوں کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقعہ ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) خدا وند عالم کے حکم سے مسلمانوں کو اس الہی فریضہ کی انجام دہی کے لیے دعوت کرتے تھے اور بارہا اپنی فرمایشات میں حج کی فضیلت کو بیان کرتے تھے۔ ذیل میں آنحضرت (ص) کی چند ایک گرانقدر احادیث فلسفہ حج اور اس کی شناخت و آداب کے بارے میں ذکر کرتے ہیں:
فلسفه حج
خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی اور رمی جمرات کرنے کا حکم دیا گیا ہے صرف اس لیے کہ خدا کو یاد کیا جائے
جہاد کے بعد سب سے بہترین عمل
رسول خدا (ص) سے پوچھا: کون سا کام زیادہ فضیلت کا حامل ہے؟ آنحضرت نے فرمایا: خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان۔ کہا: اس کے بعد؟ فرمایا: جہاد خدا کی راہ میں۔ کہا: اس کے بعد؟ حج مقبول۔ حج کے دوران انفاق کرنا سات سو گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے حج کے علاوہ انفاق کرنے سے
حج كي جزا
حج کی جزا سوائے بہشت کے کچھ نہیں ہے۔ پیغمبر اکرم (ص): حاجی جو تسبیح، تہلیل اور ذکر کرتا ہے خدا اس کے بدلے میں اسے بہشت کی بشارت دیتا ہے .
زياده حج بجا لانا
پیغمبر اکرم (ص): زیادہ حج و عمرہ بجا لانا فقر اور تنگدستی کو دور کرتا ہے۔جو شخص احرام کی حالت میں مر جائے لبیک کہتے ہوئے مبعوث ہوگا
خدا کے مہمان
حاجی اور عمرہ کرنے والے خدا وند عالم کے مہمان ہیں۔ خدا نے ان کی دعوت کی ہے اور انہوں نے لبیک کہا ہے۔ انہوں نے خدا سے مانگا ہے اور خدا نے اسے عطا کیا ہے .
آثار حج
خانہ خدا کا حج کرنے جاؤ۔ اس لیے کہ حج گناہوں کو ایسے دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کو دھو دیتا ہے۔ حج و عمرہ کو بجا لاتے رہو تا کہ فقر و فاقہ تمہاری زندگی سے دور رہے۔
بے نیازی
حج کرو تاکہ بے نیاز ہو جاؤ۔
حجر الاسود
حجر الاسود روئے زمین پر خدا کا ہاتھ ہے۔ جو شخص اپنا ہاتھ اس پر ملے در حقیقت اس نے خدا کے ساتھ بیعت کی ہے تا کہ اس کے بعد اس کی نافرمانی نہ کرے۔
زاد سفر کی پاکیزگی
جو شخص سفر کا سامان تیار کرے اور اس کے اس سامان کے اندر حتی اگر ایک پرچم بھی حرام کا ہے تو خدا اس کے حج کو قبول نہیں کرے گا۔
قبولیت کی علامت
حج کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ انسان جن گناہوں کو حج پر جانے سے پہلے انجام دیتا رہا ہے انہیں ترک کر دے۔
لبیک کہنے کا ثواب
کوئی حاجی ایسا نہیں ہے کہ پورے دن کو وہ لبیک کہتا ہوا گذرے مگر یہ کہ سورج کے غروب ہونے سے پہلے اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں۔
جو شخص صبح سے شام تک لبیک کہے اس کے گناہ اس طریقے سے پاک ہو جاتے ہیں جیسا کہ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
طواف کی فضیلت
خدا وند عالم اپنے گھر کے طواف کرنے والوں پر افتخار کرتا ہے جو شخص خانہ خدا کے سات چکر لگائے اور اسے شمار کرتا رہے اس کے ہر ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ اس کا معاف ہو جاتا ہے اور اس کا ایک درجہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
سعی کی جزا
حاجی جب صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔
اہمیت عرفات
بعض ایسے گناہ ہیں جو عرفات کے علاوہ کہیں بخشے نہیں جاتے۔
جمرات کی جزا
جمرات کو کنکریاں مارنا روز قیامت کا ذخیرہ ہے۔ حاجی جب جمرات کو کنکریاں مارتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
قربانی دینے کا فلسفہ
قربانی اس لئے واجب ہوئی ہے کہ غریب اور فقراء اس کے گوشت سے کھا سکیں پس قربانی کر کے گوشت انہیں دے دو۔
حج کو ترک نہ کرنا
پیغمبر اکرم (ص) مولائے کائنات کو ایک وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یا علی! وہ شخص جس پر حج واجب ہو اور اسے ترک کر دے وہ کافر ہے۔ خدا وند عالم فرماتا ہے: خدا کے لیے لوگوں کی گردنوں پر حج بیت اللہ اس شخص کے لیے جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اور جو شخص انکار کرے گا خدا وند عالم عالمین سے بے نیاز ہے۔
اسلام میں حج کی اہمیت
حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اور عظیم فریضہ الہی ہے۔ قرآن مجید ایک مختصر عبارت میں اس فریضہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: " وَ لِلهِ عَلَي الناسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْهِ سَبيلاً "خدا کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اور اسی آیت کے ذیل میں فرماتا ہے: " وَ مَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيُّ عَنِ الْعالَمينَ "جو شخص کفر اختیار کرے تو خدا عالمین سے بے نیاز ہے۔ یہ جملہ کہ حج استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے اور جو شخص حج کا انکار کر دے کافر ہے، حج کی اسلام کے اندر فوق العادہ اہمیت کو واضح کر دیتا ہے۔ اور سورہ اسراءکی ۲۷ ویں آیت" وَ مَنْ كانَ في هذِهِ أَعْمي فَهُوَ فِي اْلا´خِرَﮤِ أَعْمي وَ أَضَلُّ سَبيلاً " کی تفسیر میں جو امام صادق علیہ السلام سے روایت مروی ہے یہ بیان کرتی ہے کہ جو شخص حج واجب کو جان بوجھ کر تاخیر میں ڈالے یہاں تک کہ موت آجائے وہ قیامت میں نابینا محشور ہو گا۔ دوسری حدیث میں وارد ہوا ہے: جو شخص حج واجب کو بغیر کسی عذر کے ترک کر دے قیامت کے دن نصرانی یا یہودی محشور ہو گا۔ اور اس کے مقابلہ میں حج کی جزا اور پاداش بھی اتنی زیادہ روایات میں بیان ہوئی ہے کہ شاید ہی کسی اور عمل کےبارے میں اتنی جزا بیان ہوئی ہے۔ جیسا کہ امام صادق (ع) سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے۔ کہ آپ نے فرمایا: جو لوگ حج و عمرہ کو بجا لائے وہ خدا کے مہمان ہیں وہ جو بھی خدا سے مانگیں گے خدا انہیں عطا کرے گا۔ جو دعا بھی کریں گے خدا مستجاب کرے گا۔ اور اگر کسی کی شفاعت کریں گے خدا ان کی شفاعت کو قبول کرے گا۔ اور اگر وہ اسی راستے میں مر جائیں خدا ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا۔ نیز ایک اور روایت میں پیغمبر اسلام (ص) سے مروی ہے: " اَلْحجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاء اِلَّا الجَنَّﮥ "؛حج مقبول کی جزا بہشت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور آپ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ... خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَومٍ وَلَدَتْهُ اُمُّهُ " جو شخص حج بجا لائے اس طریقے سے گناہوں سے پاک ہوتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ اور یہ عظیم اللہ کی نعمت اور سب سے بہترین جزا ہے کہ انسان کے تمام گناہ بخشے جائیں۔
ہندوستان کي معاشي مشکلات
ہندوستان کے وزير اعظم من موہن سنگھ نے اعتراف کيا ہے کہ عالمي مالياتي بحران سے ہندوستان کي معيشت بھي متاثر ہوئي ہےـ
من موہن سنگھ نے نامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ ہندوستان کي معيشت کٹھن دور سے گزر رہي ہےـ انہوں نے کہا کہ ملک کو نازک حالات در پيش ہيں اور عالمي معيشت پر کٹھن وقت ہے جس کا اثر ہندوستان کي معيشت پر بھي پڑا ہےـ انہوں نے ہندوستان کي شرح ترقي ميں آنے والي کمي کو بيروني عوامل کا نتيجہ قرار دياـ
من موہن سنگھ نے اس سے پہلے کانگريس کي مجلس عاملہ کے اجلاس ميں بھي کہا کہ مالي سال دو ہزار گيارہ دو بزار بارہ ميں ہندستان کي ترقي کي شرح سات فيصدي رہي جو دنيا بھر ميں سب سے زيادہ ہےـ اس سے قبل ہندوستان کے وزير خزانہ پرنب مکھرجي نے بھي کہا ہے کہ يوروزون کے مالياتي بحران، امپورٹ ميں اضافہ اور تيل کي قيمتوں ميں عدم استحکام سے ہندوستان کي معيشت پر منفي اثرات پڑے ہيں
استنبول کے امام جمعہ؛ شام میں گرنے والا خون کا ہر قطرہ تمام مسلمانوں کا ہے
زينبیہ مسجد و اسلامی مرکز استنبول (Zeynebiye Camii ve Kültür Merkezi Istanbul) کے شیعہ امام جمعہ جناب صلاح الدین اوزگوندوز (Selahattin Ozgunduz) نے جمعے کے خطبوں کے ضمن میں شام کے خلاف ترک ذرائع ابلاغ کے رویے پر سخت نکتہ چینی کی۔
انھوں نے شام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں عوام کے غیرانسانی قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: شام میں گرنے والا خون کا ہر قطرہ میرے، اور ہر مسلمان کا خون ہے۔
انھوں نے ذرائع ابلاغ کے توسط سے شام کے حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے حالات سدھارنے کے لئے قرآن مجید سے رجوع کرنا پڑے گا اور شام کے بارے میں تقریبا تمام شیعیان اہل بیت (ع) کی رائے یہ ہے کہ اس ملک میں ـ نسل اور فرقے کی تمیز کے بغیر ـ ہر مسلمان اور غیر مسلم کے گرنے والے خون کا ہر قطرہ میرا اور تمام مسلمانان عالم کے خون کا قطرہ ہے۔
انھوں نے کہا: دشمنان اسلام کی کوشش ہے کہ ہمارے درمیان فتنہ انگیزی کرے اور تفرقہ ڈال دے وہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو قتل کریں اور اس سلسلے میں گرنے والا خون میرا خون ہے لیکن قابضیں اور باہر سے آنے والے دہشت گردوں اور قاتلوں کا خون میرا خون نہيں ہے۔
مسجد زینبیہ کے امام جمعہ نے کہا: شام کے عوام ایک ہی وجود اور ایک ہی ہویت کو تشکیل دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ قرآن اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی مسئلے پر زور دیا ہے اور خداوند متعال ایک آیت میں ارشاد فرماتا ہے کہ جس نے ناحق خون گرایا وہ ابدی عذاب کا مستحق ہے اور دوسری آیت میں فرماتا ہے: کہ "جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا ہے" چاہے مقتول مؤمن ہو چاہے غیر مؤمن ہو۔
انھوں نے کہا: کل آپ کا ایک پڑوسی تھا جس کو آج آپ قتل کرنا چاہتے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دشمن نے فتنہ انگیزی کی ہے چنانچہ سوال یہ ہے کہ آپ کے اس کل والے ہمسائے کا گناہ کیا ہے؟ وہ جس دن سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے بچوں کا گناہ کیا ہے؟ انہیں کیوں مارا جارہا ہے؟ مشرکین اپنی بـچیوں کو زندہ در گور کرتے تھے؛ اگر آپ کہیں کہ ان کے بچے ان کی طرح ہیں اور انہیں بھی مارنا چاہئے تو اگر ایسی بات ہے تو پھر تو مشرکین کی بچیوں کو بھی مشرک گرداننا چاہئے تاہم یہ بات قرآن متصادم ہے کیونکہ قرآن کا فرمان گرامی یہ ہے کہ خداوند متعال ان قتلوں کے بارے میں پوچھے گا اور زندہ درگور کرنے کے ان تمام واقعات کے بارے میں پوچھے گا؛ آپ نے اگر اپنی بیٹی کو زندہ در گور کیا ہے تو خداوند متعال کو یہ جواب نہيں دے سکیں گے کہ "میں اس بچی کا باپ تھا اور میری مرضي میں اس کو زندہ رکھوں یا اس کو ماردوں! ہرگز نہیں، آپ کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ تشیع کی رائے ہے کیونکہ تشیع قرآن اور حضرت محمد (ص) کی نگاہ سے ان مسائل کو دیکھتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
