Super User
ولادت امام زین العابدین علیہ السلام
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین اور سیرہ نویسوں خاصا اتفاق نہیں ہے ـ بعض نے پانچ شعبان اور بعض نے ساتویں شعبان اور بعض نے نو شعبان اور بعض نے پندرہ جمادی الاول ولادت کی تاریخ بیان کیا ہے اور دن کے ساتھ ساتھ سال کے بارے میں بھی اختلاف نظر ہے ـ بعض نے سن 38 ھ ، بعض نے سن 36 ھ ، اور بعض نے 37ھ ، بیان کیا ہے ـ (1)
مگر امامیه کے درمیان 5 شعبان سن 38 ھ مشہور و معروف ہے ـ
امام علی زین العابدین (ع) ؛ سید الشھدا ء امام حسین بن علی (ع) کے فرزند ہیں اور آپکی والدہ ایران کے شاہنشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی شھر بانو ہیں ـ
اس اعتبار سے آپ کا سلسلہ عرب اور فارس کے حاکموں آپ کے ساتھ ملتا ہے ـ دادا امیر المومنین علی ابن ابی الطالب (ع) خلیفہ اور پیغمبر اسلام(ص) کے جانشین اور نانا ایران کا شہنشاہ تھے ـ
امام کی والدہ کے کئ اور نام بھی بیان ہوے ہیں : شاہ زنان ، جھان بانو ، سلافہ ، خولہ اور برہ بھی زکر ہوا ہے اور امام حسین (ع) کے ساتھ شادی کرنےکے بعد " سیّدہ النّساء " کے نام سے معروف ہوئی ـ
شیخ مفید (رہ) سے روایت کے مطابق حضرت امام علی ابن ابیطالب (ع) نے اپنے دور خلافت میں حریث بن جابر حنفی کو مشرق زمین میں ایک علاقے کا حاکم قرار دیا اور اس نے اپنے دور حکومت میں ایران کے شاہنشاہ یزد گرد سوم کی دو بیٹیوں کو حضرت کے پاس بیجدیا اور امام علی (ع) نے ایک [شھربانو] کو امام حسین (ع) کے نکاح میں دیا جس سے امام سجاد(ع) پیدا ہوے اور دوسری کو محمد بن ابی بکر کے نکاح میں دیا جس سے قاسم بن محمد پید ا ہوا اور اس اعتبار سے امام سجاد (ع) اور قاسم بن محمد بن ابی بکر آپس میں خالہ زاد بھائی تھے ـ (2)
شایان ذکر ہے کہ قاسم بن محمد ، امام جعفر صادق (ع) کے نانا ہیں ـ
امام زین العابدین (ع) کے زاد گاہ کے بارے میں اکثر مورخوں نے مدینہ منورہ بیان کیا ہے مگر چونکہ اکثر مورخوں نے لکھا ہے کہ امام علی (ع) کی شھادت کے دو سال پہلے امام سجاد (ع) کی ولادت ہوئی یعنی امام علی کے دور خلافت میں اور اس دور میں آنحضرت کا سارا خاندان کوفہ منتقل ہوا تھا اور امام حسن (ع) کے صلح تک کوفہ میں ہی مستقر تھے ، اس اعتبار سے امام علی زین العابدین (ع) کا زادگاہ کوفہ ہونا چاہۓ نہ کہ مدینہ منورہ !
امام سجاد علیہ السلام کے القاب
آپ کے القاب اچھا ئیوں کی حکایت کرتے ہیں، آپ اچھے صفات ، مکارم اخلاق،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپ کے بعض القاب یہ ہیں :
١۔ زین العابدین
کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو اس لقب سے نوازا گیا ، آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے ۔
٢۔ سید العابدین
آپ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک "سید العابدین " ہے ،چونکہ آپ انقیاد اور اطاعت کے مظہر تھے ، آپ کے جدامیر المومنین کے علاوہ کسی نے بھی آپ کے مثل عبادت نہیں کی ہے ۔
٣۔ ذو الثفنات
آپ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ کے اعضاء سجدہ پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے ۔ ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : "میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ، جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے، اسی لئے آپ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا " ۔
٤۔ سجاد
آپ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب "سجاد " ہے یہ لقب آپ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایا ہے :
" بیشک علی بن الحسین جب بھی خود پر خدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے، آپ قرآن کریم کی ہر سجدہ والی آیت کی تلاوت کر نے کے بعد سجدہ کرتے ، جب بھی خداوند عالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ خوفزدہ ہوتے تھے تو سجدہ کرتے ، آپ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے یاد کیا گیا " ۔
٥۔ زکی
آپ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔
٦۔ امین
آپ کے القاب میں سے ایک معروف لقب "امین " ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ کا فرمان ہے : "اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتاتو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا " ۔
٧ ۔ ابن الخیرتین
آپ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب "الخیرتین " ہے، آپ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی آپ فرماتے ہیں : "انا ابن الخیرتین " ،اس جملہ کے ذریعہ آپ اپنے جد رسول اسلام ۖ کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے : "للّٰہ تعالیٰ من عبادہ خیرتان،فخیرتہ من العربھاشم،ومن العجم فارس " ۔
امام علی زین العابدین (ع) کی کنیت :
ابو محمد ،ابوالحسن ، اور ایک قول کے مطابق ابو القاسم ہیں ـ(4) ، شایان ذکر ہے کہ امام حسین (ع) کی نسل امام زین العابدین (ع) سے آگے بڑی ہے اور حسینی سادات کاسلسلہ نسب امام علی زینالعابدین (ع) سے شروع ہوتا ہے ـ
امام زین العابدین (ع) مندرجہ زیل حاکموں کے ہمعصر تھے :
1۔ امام علی بن ابیطالب (ع) ( بنی ھا شم )
2۔ امام حسن مجتبی (ع) ( بنی ھاشم )
3۔ معاویہ بن ابی سفیان ( بنی امیہ )
4۔ یزید بن معاویہ ( بنی امیہ )
5۔ معاویہ بن یزید ( بنی امیہ )
6۔ عبید اللہ بن زبیر ( بنی عوام )
7۔ مروان بن حکم (بنی امیہ )
8۔ عبد الملک بن مروان ( بنی امیہ )
9۔ ولید بن عبد الملک ( بنی امیہ )
امام زین العابدین (ع) امیر المومنین علی ابن ابیطالب (ع) جو منصف ترین اور شایستہ ترین اسلامی حاکم تھے اور امام حسن مجتبی (ع) کے مختصر دور خلافت کہ جس میں امیر المومنین علی (ع) کے مانند اسلامی حکومت کو چلایا کو چھوڑ کر باقی تمام حاکموں کی طرف سے مصائب اور شداید سے دوچار رہے ، خاص کر یزید بن معاویہ کی طرف سے انتہا کے مظالم جھیل لۓ ـ یزید بن معاویہ نے اپنے دور حکومت میں امام حسین (ع) اور انکے ساتھیوں کو کربلا میں شھید کیا اور حضرت کے پسماندگان از جملہ امام زین العابدین کو اسیر کیا اور اس سے اھل بیت اور مومنین کے قلوب جریحہ دار ہیں اور یزید اور اسکے ساتھی ابدی لعنت میں گرفتار ہوے ـ
امام زین العابدین (ع) شھادت امام حسین (ع) کے بعد منصب امامت پر فائز ہوے اور 35 سال اس فریضہ الہی کو انجام دیتے رہے اور آخر کا ر محرم سن 95 ھ کو ولید بن عبد الملک کے ذریعے زہر دے کر شھید ہوے اور جنت البقیع میں امام حسن مجتبی (ع) کے جوار میں دفن ہیں ـ (5)
حوالہ:
1- مناقب آل ابي طالب (ابن شہر آشوب)، ج3، ص 310؛ وصول الأخبار (بہايي عاملي)، ص 42؛ بحارالأنوار (علامہ مجلسي)، ج 64، ص 12؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج2، ص 1
2- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 492؛ منتہي الآمال، ج2، ص 3
3- مناقب آل ابي طالب، ج3، ص 310؛ منتہي الآمال، ج2، ص 3
4- مناقب آل ابي طالب، ج3، ص 310؛ منتہي الآمال، ج2، ص 3
5- الارشاد، ص 492؛ منتہي الآمال، ج2، ص 38؛ مناقب آل ابي طالب، ج3، ص 310
ایران کے تیل کے بائيکاٹ کے خطرناک نتائج
ایشیا ٹائمز نے ایک رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیوں کو اقتصادی جنگ سے تعبیر کرتےہوئے کہاہے کہ یہ جنگ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو اور امریکہ اسرائيل لابی ایپیک کے براہ راست حکم سے امریکی صدر باراک اوباما نے شروع کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی حکومتوں نے بھی اپنے ملکوں میں تیل کے بے نہایت ذخائر پر اطمئنان کرتےہوئے ایران کے تیل کا بائیکاٹ کرنے کا بات کی ہے تاہم ابھی انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہےکہ ایران کے تیل کا بائیکاٹ کب سے شروع ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے اس فیصلے کی خبریں تیل کی عالمی منڈیوں تک پہنچ چکی ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت تقریبا چودہ ڈالر فی بیرل ہوچکی ہے۔
یورپی یونین کے ممالک چین کے بعد ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ اس کےباوجود یورپی یونین کے انرجی کمیشن کے سربراہ گونتر اوتنیگر نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب ایران کے تیل کی کمی پوری کرسکتا ہے اور بازار میں تیل بھر سکتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں پر نظر رکھنےوالا ہر شخص یہ کھ سکتا ہےکہ سعودی عرب ایران کے تیل کی کمی کو پورا کرنے کی توانائي نہیں رکھتا اس کے علاوہ اسلامی بیداری کی تحریک سے خوفزودہ سعودی دربار کو اپنے تیل کی بے حد ضرورت ہے تاکہ وہ ہر تحریک کوکنٹرول کرنے کےلئے اپنے عوام کو رشوت دے سکے۔ ان امور کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایران کی دھمکی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دنیا کی ضرورت کے تیل کا چھٹا حصہ اس آبی راستے سے ہوکر جاتا ہے۔ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تو تیل کی یہ بھاری مقدار اور اوپک کے ملکوں کی ستر فیصد پٹرولیم مصنوعات دنیا کی منڈیوں تک نہیں پہنچ سکیں گی بنابریں اس بات پر کوئي تعجب نہیں ہے کہ تیل کے بیوپاری زیادہ سے زیادہ تیل خرید رہے ہیں، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو دوہزآر آٹھ کی طرح تیل کی قیمت ایک بار پھر ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل ہوجائے گي۔ ان حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہےکہ اسرائيل نے جو کھیل شروع کیا تھا اب وہ ایک مہلک کھیل میں تبدیل ہوچکا ہے جس سے عالمی اقتصاد بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
ایران کی پارلمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ کی دھمکی کو کوئي عقل مند انسان نظر انداز نہيں کرسکتا جو انہوں نے کہا تھا کہ مغرب ایران کے تیل کا بائيکاٹ کرکے اسٹراٹیجیک غلطی کررہا ہے۔ اگر مغرب کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو دوہزار بارہ کو عالمی معیشت کے جمود کا سال قراردیا جاے گا۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق نئي پابندیوں سے ایران کو کچھ مسائل تو ضرور پیش آ ئيں گے لیکن اسکے بعد امریکی کانگریس کے غیر ذمہ دار اراکین آخر کار یہ باور کرنے پر مجبور ہوجائيں گے کہ عالمی منڈیوں سے پچیس لاکھ بیرل تیل کے غائب ہونے کے نہایت ہی خطرناک نتائج ہونگے۔
ایشیائي ملکوں میں تیل کی ضرورت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور یہ ممالک اکثر ایران سے تیل خریدتے ہیں۔ ایران کے تیل کے بائيکاٹ سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گي بنابریں یہ سوال کیا جاسکتا ہےکہ امریکی صدر اوباما نے کس بناپر ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے قانون پر دستخط کئےہیں؟ اوباما کی انتطامیہ کے لئے اگلے صدارتی انتخابات نہایت اہمیت رکھتے ہیں، ری پبلیکن امیدوار متفقہ طور پر ایران پرحملوں اور جنگ کی بات کررہے ہیں اور امریکی عوام تو ظاہر سی بات ہے دنیا کے حالات سے بے خبرہے اور ان باتوں پر یقین کرلیتی ہے۔اسکے باوجود شاید ہی کوئي انسان اس بات پر یقین کرسکے کہ رواں برس میں امریکہ اور یورپ کی معیشتوں میں تھوڑی بہت بہتری کے باوجود یہ ممالک تیل کی ایک سوبیس ڈالر فی بیرل قیمت کے ساتھ اپنی معیشت کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔
یورپ میں اقتصادی بحران کے شکار اور نیٹو کے رکن ملکوں کے علاوہ کوئي بھی ایران کے تیل کے بائيکاٹ پر راضی نہیں ہے۔ روس نے پہلے سے ہی ان پابندیوں کی مخالفت کردی ہے اور ہندوستان، ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے ایران کے تیل کا پیسہ ادا کررہا ہے اور چين نے ایران سے مزید تیل کی خریداری کے مذاکرات شروع کردئےہیں۔ چین، ایران کے تیل کی قیمت یورو میں ادا کرتا ہے اور عنقریب یوان میں ادا کرنے لگے گا ۔ دونوں ملکوں نے یوان میں معاملے کرنے کے لئے مذاکرات شروع کردئے ہیں۔
لاطینی امریکہ میں بھی ونزوئيلا نے ایران کے ساتھ دوہزار نو میں بائي نیشنل بینک قائم کیا تھا جس کے ذریعے ایران لاطینی امریکہ سے تجارت کرتا ہے۔ امریکہ کے روایتی حلیف جیسے ترکی ایران سے تیس فیصد ضرورت کا تیل خریدتےہیں وہ بھی ان پابندیوں سے مستثنی ہونے کا مطالبہ کریں گے۔
ادھر جنوبی کوریا ہے اسکی بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے وہ روزآنہ ایران سے دو لاکھ بیرل تیل خریدتا ہے وہ بھی اپنی اس ضرورت کے مد نظر امریکی پابندیوں سے مستثنی ہونے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ہندوستان چین اور جنوبی کوریا کے ایران کے ساتھ پیچیدہ تجارتی تعلقات ہیں۔ مثال کے طور پر ایران اور چین کے تجارتی لین دین کی شرح تین ارب ڈالر سے بڑھنے ہی والی ہے۔ یہ تجارتی تعلقات محض امریکہ اور تیل ابیب کی نادانیوں کی بناپر ختم نہیں ہونگے بلکہ ترقی پذیر ملکوں کے نجی بینک ایران کے تیل کی خریداری میں عجلت ہی دکھائيں گے۔
امریکہ، چین کے بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کی توانائي نہیں رکھتا۔
ایشیا ٹائمز لکھتا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی شجاعت اور دانشمندی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ امریکہ اور اسرائيل نے اس کے متعدد ایٹمی سائنس دانوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا، سائنس دانوں کو اغوا کیا، سیستان وبلوچستان صوبے میں دہشتگردانہ کاروائياں کروائيں، اسرائيل نے سائبر حملوں کے ذریعے اس کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کی کوشش کی، امریکہ نے ڈرون طیارے بھیج کر جاسوسی کرنے کی کوشش کی اور روزآنہ کی حملوں کی دھمکیاں اپنی جگہ جاری ہیں اور سعودی عرب کو ساٹھ ارب ڈالر کے ہتھیار دینے کا معاہدہ کیا ان تمام سازشوں کے باوجود ایران اپنی جگہ اٹل ہے اور اپنا کام کررہا ہے۔
تہران نے حال ہی میں اپنے کروز میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور جب تہران مغرب کے کبھی نہ ختم ہونے والے پروپگينڈوں کاجواب دیتا ہے تو اس پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا جاتا ہے۔
ایشیا ٹائمز لکھتا ہےکہ ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہےکہ ایران کو مشکلات پیش آئيں گي اسی طرح سے یورپ میں بھی مشکلات کا دور دورہ ہوگا اور ساتھ ساتھ امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا اور تہران جب یہ دیکھے گا کہ مغرب کا جنون بڑھتا ہی جارہا ہے توتہران ایسے اقدامات کرنےکا حق اپنے لئے محفوظ رکھے گا جن سے تیل کی قیمتوں میں نہایت شدید اضافہ ہوجاے گا، تہران میں یہ توانائي ہے۔ یہ اخبار لکھتا ہےکہ تہران کی حکومت اپنا تیل فروخت کرتی رہےگي اور یورینیم کی افزودگي بھی جاری رکھے گي اور سب سے اہم بات یہ کہ تہران کی حکومت ہرگز نہیں گرے گي۔ یہ اخبار لکھتا ہےکہ امریکہ کی یہ پابندیاں افغانستان میں شادی کی تقریب پر گرنے والے ہیل فائر میزائل کی طرح بری طرح سے ناکام ہوجائيں گي لیکن بعد از خرابی بسیار جو خود مغرب میں پھیلے گي۔
ولادت حضرت ابوالفضل العباس(ع)
حضرت ابوالفضل العباس بن علی ابن ابی طالب (ع) 4 شعبان سن 26 ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوے (1) ۔آپ کی کنیت " ابوالفضل" ہے. آپ کی والدہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت حزام جو کہ " ام البنین " کے نام سے مشھور ہے ۔اس نامدار خاتون سے امام علی بن ابیطالب (ع) کے 4 فرزند عباس، جعفر، عثمان ، اور عبداللہ تھے اور چاروں بھائی اپنے امام حضرت امام حسین (ع) کی یاری کرتے کرتے یزید بن معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں دس محرم کو کربلا میں شھید ہوے ۔ (2)
روایت میں آیا ہے کہ ایک دن امیر المومنین (ع) نے اپنے بھائی عقیل بن ابیطالب (ع) سے فرمایا: تم عرب نسل کے عالم ہو ، میرے لۓ ایسی خاتون کو انتخاب کرو جس سے دلیر ، طاقتور اور جنگجو فرزند پیدا ہوں ۔
عقیل نے انساب عرب اور عرب کی شایستہ اور لایق عورتوں کے بارے میں غور و فکر کرنے کے بعد اپنے بھائی امیر المومنین (ع) کو مشورہ دیا کہ حزام کلبی کی بیٹی فاطمہ ام البنین کے ساتھ شادی کرے، کیونکہ ان کے باپ دادا عربوں میں نہایت شجاع اور دلیر ہیں ۔
امیر المومنین (ع) نے بھی بھائی عقیل کے مشورہ پر ام البنین کے ساتھ شادی کی اور اس سے چار فرزند شجاع اور دلیر ہوے ۔ (3)
حضرت عباس (ع) امیر المومنین علی (ع) اور اپنی فھیم والدہ کے آغوش میں پرورش پائی اور امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) جیسے بھائیوں کے ساتھ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ساتھ رہے ۔ جب امیر المومنین علی (ع) کی خلافت کا آغاز ہواحضرت عباس (ع) دس سال کے تھے اور اسی سن میں جنگ میں شرکت کرکے فعال کردار ادا کیا۔ ایک ماھر جنگجو کے مانند جنگ کیا ـ
امیر المومنین علی (ع) کی شھادت کے بعد کسی لمحہ بھی اپنے بھائیوں کی ہمراہی اور یاری کرنے سے غافل نہ رہے اور انکے حفاظت کار تھے ۔ حضرت عباس (ع) کی وفاداری اور فداکاری عاشور کے دن اپنے اوج کو پہنچی ـ
کربلا میں حضرت عباس (ع) نے ایک نرالی تاویخ رقم کی ، امام حسین (ع) کے فوج کے قابلترین اور ماہرترین سپہ سالار اور علمدار تھےاور آنحضرت کو بھی آپ سے نہایت محبت تھی اور آپ کے مشورے پر عمل کرتے تھے ـ
عاشورا کے عصر کو جب شمر بن ذی الجوشن ، نے حضرت عباس اور ان کے بھائیوں جعفر ، عثمان ، اور عبداللہ ، کے لۓ امان نامہ بھیجکر چاہا کہ امام حسین (ع) کو جھوڑ کر عمر بن سعد کے ساتھ مل جاۓ یا دونوں کو چھوڑ کر وطن واپس چلے جائیں ـ حضرت عباس اور انکے بھائیوں نے شمر کے اس دعوت کو ٹھکرایا اور حضرت عباس نے کہا : تیرے ہاتھ ٹوٹیں اور تیرے امان نامے پر لعنت ہو ـ اے خدا کے دشمن کیا تم ہمیں حکم کرتے ہو کہ امام حسین (ع) کی مدد نہ کریں اور اسکے بدلے ملعون اور اسکے اولادوں کی اطاعت کریں ؟ کیا ہمیں امان ہےاور پیغمبر (ص) کے فرزند کیلۓ امان نہیں ـ (4)
اسی طر ح جب عاشور کی رات امام حسین (ع) نے اپنے تمام ساتھیوں سے کہا کہ رات کے اندھیرے کا سہارا لے کے یہاں سے چلے جاو اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاو دشمن کامعاملہ صرف مجھ سے ہے اور مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو ـ اس وقت سب سے پہلے حضرت عباس (ع) نے اپنی جانثاری اور وفاداری کا اعلان کیا۔ عرض کی اے امام ! کس لۓ آپ کو چوڑ دیں ؟ کیا آپ کے بعد زندہ رہیں ؟ خدا نہ کرے ہم آپ کو چھوڑکر دشمنوں کے مقابلے میں آپ کو اکیلا چھوڑیں ـ ہم آپ کے ساتھ رہیں گے اور اپنی آخری سانس تک آپ کی حمایت کریں گۓ ـ
حضرت عباس (ع) کے بعد امام حسین (ع) کے دوسرے سارے ساتھیوں نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ـ (5)
بحر حال ، اس عظیم انسان نے دسویں محرم کو قربانی اور فداکاری کی عظیم اور بے نظیر تاریخ وقم کی اور جب تک زندہ تھے امام حسین (ع) پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دی اور خمیہ گاہ کی طرف دشمن ترچھی آنکھ سے بھی حضرت امام حسین (ع) کے خیموں کی طرف دیکھنے کی جرئت نہ کر سکا اور جب بچوں کیلۓ پانی لینے گۓ دشمن کے ہاتھوں شھید ہوۓ ۔
جب فرات سے پانی بھر کر واپس لوٹ رہے تھے دشمن نے پیچھے سے وار کرکے دائنا اور پھر بائنا بازرو قلم کیا اور چاروں طرف تیر باران کیا گیا ایک تیر آنکھ میں پیوست ہوا اور سرمبارک پر جب شدید ضرب لگا گھوڑے سے زمین پرگر اے گئے اور شمشیر، نیزے اور تیروں کی نوکوں نے حضرت کے بدن کو گھیر لیا ـ
اس حال میں عباس بن علی (ع) نے امام حسین (ع) کو پکارا !یا حسین (ع) مجھے پالے !
امام حسین (ع) جب اپنے بھائي کے پارہ پارہ بدن کے پاس پہنچۓ ، نہایت متاثر اور غمگین ہوے ان کی جدائي پر رو رہے تھے اپنے کمرپر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ألآن اِنْكَسَرَ ظَہْري وَ قَلّت حيلَتي؛ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور تدبیر اتمام کو پہنچ گئی ـ (6)
امام زین العابدین (ع) جو کہ کربلا میں حاضر تھے اور اپنے چاچا عباس (ع) کی بے نظیر فداکاری اور مجاھدت کو نذیک سے دکھا تھا ، انکی فداکاری اور معنوی مقام کے بارے میں فرماتے تھے : رَحَمَ اللہ العبّاس، فَلَقَدْ آثَر، و أبلي، و فدي اخاہ بنفسہ حتّي قطعت يداہ، فابدلہ اللہ (عزّ و جلّ) بہما جناحين يطير بہما مع الملائكہ في الجنّہ، كما جعل لجعفر بن ابي طالب(ع)، و انّ للعباس عند اللہ (تبارك و تعالي) منزلہ يغبطہ بہا جميع الشّہداء يوم القيامہ ـ (7)
بعنی :خدا میرے چاچا عباس (ع) کو رحمت کرے کہ اپنے آپ کو اپنے بھائی پر فدا کیا یہاں تک کہ دونوں بازوں قلم ہوے اور اللہ تعالی نے ان دوہاتھوں کے بدلے دو پر دیۓ جن سے وہ جنت میں اڑتے ہیں جسطرح انکا چاچا جعفر بن ابیطالب (ع) کو دو پر عنایت ہوے ہیں ۔ بار گاہ الہی میں حضرت عباس (ع) کا ایسا مقام اور ایسی فضیلت ہے کہ ہر شھید اسکی آرزو کرتا ہے ـ
امام صادق علیہ السلام انسانی علوم کا بے مثل چہرہ ہیں، امین ائمہ و رسول اللہ (ص) ہیں، ہزاروں شاگردوں کے استاد ہیں مذاہب اربعہ کے امام آپ (ع) کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور اپ حضرت ابوالفضل (ع) کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں:
میرے چچا عباس علیہ السلام نافذ بصیرت اور ایمان محکم کے مالک تھے۔ اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا بہترین انداز سے آزمائش سے عہدہ برآ ہوئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔
کلام امام صادق (ع) کے اہم نکتے:
الف ـ دوراندیشی اور ہوشیاری
تـیـزبـیـنـى، اور ہوشیاری فکر کی استواری اور رائے کے استحکام کا نتیجہ ہے اور انسان صرف اسی صورت میں یہ استواری اور استحکام حاصل کرسکتا ہے کہ روح و نفس کی تہذیب و تزکیہ کرے، خلوص نیت کا مالک ہو، غرور اور نفسانی خواہشات کو اپنے آپ سے دور کرے اور انہیں اپنے باطن پر مسلط نہ ہونے دے۔
تیزبینی اور بصیرت ابوالفضل العباس کی برجستہ ترین خصوصیات میں سے ہے۔ تیزبینی اور فکر کی گہرائی کی بدولت ہی امام ہدایت اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی حمایت و پیروی کے لئے اٹھے اور شرف و کرامت کی چوٹیاں سر کردیں اور تاریخ کے صفحات پر امر ہوگئے۔ پس جب تک انسانی اقدار محترم ہیں انسان حضرت عباس کی بے مثل شخصیت کے سامنے سر تعظیم خم کرتا رہے گا۔
ب ـ ایمانِ محکم
حضرت عباس (ع) کی ایک اہم صفت آپ (ع) کے ایمان محکم سے عبارت ہے۔ ایمان محکم کی نشانی یہ ہے کہ آپ (ع) نے اپنے بھائی ریحانةالرسول (ص) کے ساتھ مل کر جہاد کیا جس سے مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا اور یہ حقیقت روز عاشورا آپ (ع) کی رجز خوانی سے ظاہر و ثابت ہے کہ آپ (ع) کربلا میں دنیا کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے آئے تھے اور جانتے تھے کہ امام (ع) کی محبت کا اللہ کی اطاعت میں مضمر ہے اور یہ کہ امام حسین (ع) کا ساتھ دینا در حقیقت اللہ تعالی کے دین کی حمایت ہے۔ ایمان محکم دلیل یہی تو ہے۔
ج - امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جہاد
امام صادق علیہ السلام نے اپنے مختصر سے ارشاد میں قہرمان کربلا چچا عباس علیہ السلام کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عباس (ع) نے اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا۔ اس جہاد کے سپہ سالار سید الشہداء سبط رسول خدا (ص) اور سرور نوجوانان بہشت امام حسین بن علی علیہ السلام تھے۔ جہاد بھائی کی مقصد کے لئے ہورہا ہے اور بھائی نے فرمایا ہے کہ یہ جہاد امت محمد (ص) کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احیاء اور دین محمد (ص) کو انحراف سے بچانے کے لئے ہے۔ اپنے عظیم بھائی کے اس عظیم ہدف کے لئے جہاد میں شرکت ایک عظیم فضیلت تھی جو عباس (ع) نے ہاتھ سے نہ جانے دی۔ آزمائش کی گھڑی سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوئے، روز عاشور مردانگی اور اطاعت و وفا کے انمٹ نقوش چھوڑ دیئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔
د ـ فداكا ری اور جانفشانی
امام صادق علیہ السلام امام وقت بھائی امام حسین علیہ السلام کے راستے میں چچا عباس علیہ السلام کی فداکاری اور جان نثاری کی شہادت دے رہے ہیں جنہوں نے باطل کے خلاف لڑتے ہوئے خالصانہ انداز میں جانفشانی کی، کفر و باطل کے پیشواؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھائی کی پشت پناہی کی اور تاریخ کے عظیم ترین جانباز بن گئے؛ عظیم فداکاریاں کیں اور بھائی کے ساتھ مل کر شدید ترین دشواریاں برداشت کیں۔
امام صادق علیہ السلام زیارت جاری رکھتے ہوئے چچا عباس کی اعلی صفات اور اللہ کی بارگاہ میں آپ (ع) کی منزلت بیان فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں اور خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ آپ بدر کے مجاہدین کے راستی پر گامزن ہوئے اور اللہ کے راستے میں راہ خدا کے مجاہدین اور خدا پسند روشن ضمیروں اور اللہ کے دوستوں کی طرح اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور اللہ کے دوستوں کے مدافعین اور اس کے اولیاء کے مددگاروں کے حامیوں کی مانند لئے آگے بڑھے اور ان ہی کی مانند جِدّ و کوشش کی، پس خداوند متعال وہ مکمل ترین، بہترین اور والاترین پاداش آپ کو عطا فرمائے جو وہ اپنے اولیائے امر کے فرمانبرداروں اور اپنی دعوت کو لبیک کہنے والی ہستیوں کو عطا فرمایا کرتا ہے۔
امـام صـادق علیہ السلام گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالی کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ حضرت عباس عالم کے احرار کے باپ سیدالشہداء علیہ السلام کی راہ میں لڑتے ہوئے بدر کے مجاہدین کے راستے پر گامزن تھے؛ ان شجاع جوانمردوں کے راستی پر گامزن تھے جنہوں نے اپنے خوں سے اسلام کی دائمی فتح کو یقینی بنایا، وہ جو اپنے مقصد کے برحق ہونے پر یقین رکھتے تھے اور آگہی و بصیرت کے ساتھ شہادت کا انتخاب کیا اور توحید کا پرچم تاریخ کی چوٹی پر لہرایا اور کلمہ توحید کی صدا آفاق و انفس تک پہنچادی ۔ ابوالفضل العباس (ع) بھی اسی راستے پر گامزن ہوئے اور اسلام کو اموی اوباش اور ابوسفیان زادے کی چنگل سے نجات دلانے کے لئے میدان کارزار میں اترے وہی ابوسفیان زادہ جو کلمہ الہی کو مٹادینا چاہتا تھا اور اسلام کی بساط لپٹینا اور اسلام کا پرچم گرانا چاہتا تھا۔ آپ (ع) اپنے بھائی کے ہمراہ اس کے خلاف اٹھے اور اس راہ میں شہادت پائی۔
ابـوالفـضـل (ع) اپنے بھائی اور حریت پسندان عالم کے باپ سیدالشہداء حسین بن علی (ع) کی سپہ سالاری میں سفاک اموی طاغوت کے خلاف اٹھے اور ان ہی بھائیوں اور ان کے خاندان و انصار و اعوان کے قیام ہی کی برکت سے کلمہ حق کی تثبیت ہوئی اور اسلام فتحمند ہوا اور حق و حقیقت کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
قتل حسین اصل میں مرگ يزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
امام صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کی زیارت جاری رکھتے ہوئے آپ (ع) کی الہی پاداش کے بارے میں فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نصیحت و خیرخواہی کا حق ادا کیا اور آپ نے اپنی انتہائی کوششیں کردیں، پس خداوند متعال نے آپ کو شہیدوں کے درمیان مبعوث فرمایا؛ آپ کی روح کو سعیدوں کی ارواح کے ہمراہ کردیا؛ آپ کو وسیع ترین بہشتی منزل میں جگہ عطا فرمائی اور بہترین کمرے آپ کے سپرد کئے اور آپ کے نام کو علیّین کے زمری میں عالمگیر کردیا اور انبیاء، شہداء، صالحین کا رفیق قرار دے کر ان کے ہمراہ محشور فرمایا اور کیا خوب رفقاء ہیں یہ۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے سستی نہیں کی، پسپا نہیں ہوئے، اپنے امر میں بصیرت کے ساتھ آگے بڑھے جبکہ آپ صالحین اور انبیاء کی پیروی کررہے تھے۔ پس ہمارا اللہ آپ، اپنے نبی (ص) اور اپنے اولیاء (ع) کو برگزیدگان اور طاہرین کے مقام پر مجتمع فرمائے کہ وہی ہے مہربانوں کا مہربان ترین۔
زیارت کے اس آخری حصے میں ہم اس حقیقت سے واقفیت حاصل کرتے ہیں کہ کیا مقام و منزلت ہے امام صادق علیہ السلام کے نزدیک حضرت عباس علمدار کی؟ اسی بنا پر امام صادق علیہ السلام اپنے چچا کے لئے بہترین مقامات و درجات کی التجا کرتے ہیں اپنے پروردگار سے۔
حضرت عباس (ع) 34 سال کی عمر میں شھید ہوۓ اور آپ کا ایک چھوٹا فرزند تھا جن کا نام" عبید اللہ " تھا ـ ان سے آپ کی نسل با برکت آگۓ چلی ـ (8)
حوالہ:
1- مستدرك سفينه البحار (علي نمازي)، ج5، ص 211
2- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 342؛ منتهي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 187
3- منتهي الآمال، ج1، ص 187
4- منتهي الآمال، ج1، ص 337
5- الارشاد، ص 443؛ منتهي الآمال، ج1، ص 337
6- منتهي الآمال، ج1، ص 385
7- امالي (شيخ صدوق)، ص 373
8- منتهي الآمال، ج1، ص 189
قرآن کی نظر میں وحدت کا مفہوم
تمام اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہذا تم لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان صلح وصلاح بر قرار کرو ،قرآن مجید نے ایجاد وحدت کے لئے جو روش اختیار کی ہے کہ اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح قائم کرو ، اسکی تاثیر جامعہ اسلام میں مثبت ہے
واعتصموا بحبل اللّہ جمیعاًولا تفرقوا
تاریخ بشریت پر اگر غور وفکر کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائیگی کہ آغاز تاریخ سے ہی دو طرح کی سیاست وجود میں آئی ایک سیاست الٰہی دوسری سیاست طاغوتی ، سیاست الٰہی پایۂ توحید پر استوار تھی کہ جسکی رہبریت کی زمہ داری انبیاء و ائمہ معصومین علیہم السلام کے دوش پر تھی لیکن سیاست طاغوتی کی عمارت پایۂ شرک و تفرقہ و جدائی و اختلاف کے بل بوتے پر ٹکی ہوئی تھی ، کہ جسکی باگ ڈور طاغوتی و شیطانی ہاتھوں میں تھی .اگر حکومت اسلامی کی بقاء و حیات توحید سے انسلاک بشریت کی بنا پر ہے ، تو پھر حکومت طاغوتی و استعماری کی بقاء و حیات بشریت کے درمیان تفرقہ و جدائی سے وابستہ ہے چاہے وہ زمانہ ماضی کا ہو یا حال کا قرآ ن مجید بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے فرماتا ہے :
ان فرعون علا فی الارض وجعل اھلھا شیعاً یستضعف طائفة منھم یذبح ابنائھم و یستحی نسائھم انہ کان من المفسدین (قصص ٤)
بیشک فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اوراس نے اہل زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا کہ ایک گروہ نے دوسرے کو بالکل کمزور بنادیا ، وہ لڑکوں کو تہہ تیغ کر تا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا ، وہ یقینا مفسدین میں سے تھا .
لیکن سیاست الٰہی کے رہبروں کی سعی تھی کہ لوگوں کو توحید کی دعوت دیں اور اتحاد و اتفاق کے راستے پر گامزن رکھیں لہٰذا فرمایا : الحمد للّٰہ رب العالمین ، ساری تعریف عالمین کے پروردگار کیلئے ہے یہ آیت فقط خدا کی خالقیت کی نشاندہی نہیں کر رہی ہے بلکہ منشاء وحدت کو بھی بیان کر رہی ہے کہ سارے جہان کے افراد ایک خدا سے وابستہ ہیں اور ایک امت سے متصل ہیں ، کہ جسکا مبداء و محور مذہب و ملت نہیں بلکہ خدا وآخرت پر ایمان اور انجام عمل صالح ہے .
قرآن اور دعوت وحدت
قرآن کریم نے متعدد طریقوں سے مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دی ہے ارشاد ہوتا ہے :
و انّ ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاتقون (مومنون ٥٢)
بیشک تمہاری امت کا دین ایک دین ہے اور میں تمہار ا پروردگار ہوں لہذا مجھ سے ڈرو .
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے :
انماالمومنون اخوة فاصلحوا بین اخویکم (الحجرات ١٠)
تمام اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہذا تم لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان صلح وصلاح بر قرار کرو ،قرآن مجید نے ایجاد وحدت کے لئے جو روش اختیار کی ہے کہ اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح قائم کرو ، اسکی تاثیر جامعہ اسلام میں مثبت ہے ، قبائل عرب جو ہمیشہ آپس میں جنگ و جدال میں مشغول رہا کرتے تھے اور اختلاف وافتراق انکا شعار بن چکا تھا ، ظہور اسلام کے بعد قرآن نے ان سے بھی وحدت کا کلمہ پڑھوالیا ، اور یہ وحدت کی طاقت تھی کہ جنگ بدر میں تین سو تیرہ افراد ہزار پر غالب ہو گئے ، اگر عالم اسلام اس دور میں اصلاح اخوت کو اپنا فریضہ سمجھ کر وحدت کے راستے پر گامزن ہو جائے تو نہ صرف ظلم وبربریت کے سیلاب سے اپنے کو نجات دے سکتا ہے بلکہ اس کے مقابل ایک مستحکم و پائدار چٹان کے مانند ہوگا
پیغمبر اسلام کی یہی کوشش تھی کہ مسلمان ایک قوت و طاقت کے حامل ہو جائیں ، لہذا انکے درمیان میں برادری کو برقرار کیا اور پھر علی علیہ السلام کو اپنا بھائی کہکر وحدت کے راستے کو ہموار کر دیا ،
قران ومفہوم وحدت
دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کی نظر میں وحدت کا کیا مفہوم ہے،آیا وحدت اتحادو اتفاق کا نام ہے، اخوت ومحبت کا نام ہے یا کوئی اور شیٔ ہے، قرآن مجید آواز دیتا ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا(عمران ١٥٣)تم سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبو طی کے ساتھ پکڑ لو اور متفرق نہ ہو ، یہ آیت صریحا لوگوں کے اتحاد کی دعوت دے رہی اور ہر طرح کے تفرقہ سے روک رہی ہے، مفسران نے حبل اللہ سے جو مراد لیا ہے وہ یہ ہے کہ ، ہر طرح کا وسیلہ اور ارتباط خدا کی ذات اقدس سے منسلک ہے ، چاہے یہ وسیلہ اسلام ہے یا قرآن ،یا پیامبر و اہلبیت علیھم السلام .اس آیت کے پہلے جملہ سے ظاہر ہو تا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہے اور وحدت مسلمین برقرار ہے ، کیونکہ ظاہرا ساری امت اس ایک پلیٹ فارم پرجمع ہے ، اور ہر فرقہ واعتصموابحبل اللہ کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن جب دوسرے جملہ پر نظر پڑتی ہے تو مفہوم وحدت ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہ امت تفرقہ کے شکنجہ میں گرفتار ہے، لہذا جب تک تفرقہ کو دور نہ کرو گے مفہوم وحدت سمجھ میں نہ آئیگا ، اور جس دن تفرقہ کو دور کرکے ریسمان الٰہی سے متمسک ہو کر جامعہ کو وحدت کا لباس پہنا دیا تو پھر اسلام کے سامنے کفر کی بڑی سے بڑی طاقت بھی گھٹنے ٹیک دے گی، کیونکہ اس وحدت میں اتنا عظم و استحکام پایا جاتا ہے کہ انسان اقلیت کے باوجودبھی دشمن کے سامنے کانھم بنیان مرصوص کا مصداق ہوتا ہے، اور فتح اسکے قدم چومتی ہے اور اسی اتحاد کا نتیجہ تھا کہ ابتداء اسلام میں مسلمانوں کی اقلیت ہونے کے باوجود فتح کامرانی کا تاج انکے سررہا ، اس بات کو قرآن مجید نے بھی بیان کیا ہے:
واذکروااذانتم قلیل مستضعفون فی الا رض تخافون ان یتخطّفکم الناس فاواکم و ایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبات لعلکم تشکرون(انفال٢٦)
مسلمانوں اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم قلیل تعداد میں اور کمزور تھے تمھیں ہر وقت اس بات کا خوف تھا کہ لوگ تمھیں اچک لیجا ئینگے ، لیکن خدا نے تمھیں پناہ دی اور اپنی مدد سے تمھاری تائید کی ، اور تمھیں پاکیزہ رزق عطا کیا کہ تم اس کا شکریہ ادا کرو.
وحدت ایک ایسا کلمہ ہے کہ جسکی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان محبت و شفقت پیدا ہوتی ہے، قرآن مجید نے اصحا ب پیغمبر کے بارے میں فرمایا :
محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم(فتح٢٩)
محمد اللہ کے رسول ہیں اور انکے ساتھی کفار کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مشفق و مہربان ہیں، پس مفہوم دحدت فقط یہ نہیں کہ تمام مسلمان آپس میں دوستی و محبت کو برقرار رکھیں ، بلکہ عملی طور پر متحد ہو کر قرآن و اسلام اور اسکے اصول سے دفاع کی خاطر دشمن اسلام کے سامنے شمشیر بکف ہو جائیںقرآن و حدیث کے مطابق مفہوم وحدت بہت وسیع ہے وحدت نام ہے امت واحدہ کا ، وحدت نام ہے اخوت مسلمین کا ، وحدت نام ہے حبل اللہ کی گرفت کا ، وحدت نام ہے ولاتفرقوافی الدین کا ، وحدت نام ہے ولاتکونوامن المشرکین کا ، وحدت نام ہے فالف قلوبکم کا ، وحدت نام ہے کان من الذین آمنوا کا، وحدت نام ہے واحبب لہ ما تحب لنفسک کا وحدت نام ہے دین الٰہی سے تمسک کا ، وحدت نام ہے اصول وفروع کی حفاظت کا ، پس اگر وحدت اسلامی ، اخلاقی و قرآنی و ہمکاری کی بنیاد پر مملکت اسلامی میں مسلمانوں کے درمیان ایجاد ہو جائے تو پھر وہ ملک کبھی بھی غلامی کے طوق میں نہیں جکڑ سکتا ، اس لئے کہ لطف الٰہی ہر لحاظ سے اسکے شامل حال ہوگی ، اور ساتھ ہی ساتھ دشمن کا کلیجہ وحشت وترس سے دھل اٹھے گا.
اسلام میں تفرقہ کیوں ؟
شرق وغرب کی استعماری طاقتوں کو اگر آج کسی چیز سے خوف ہے تو وہ وحدت مسلمین کا ہے انکو معلوم ہے کہ جس دن مسلمان متحد ہو جائیںگے اس دن سے ہم مشکلوں میں گرفتار ہو جائیں گے ، لہٰذا انکی ساری طاقت اس بات پر صرف ہو رہی ہے کہ انکے درمیان تفرقہ بر قرار رہے ، انھوں نے پیسوں کے ذریعہ نہ جانے کتنے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو خرید لیا ہے ، اب انکے سامنے قرآن کی کوئی حیثیت نہیں ، اتحاد مسلمین کی کوئی بات نہیں ، ورنہ بوسنیا کی سر زمین سے یا للمسلمین کی صدا بلند نہ ہوتی ، افغانستان کے مسلمانوں کو ظلم کی چکیوں میں نہ پیساجاتا ، فلسطینیوں کے خون سے ہولی نہ کھیلی جاتی ، لیکن افسوس کہ قرآن نے جس قدر وحدت کی تاکید کی ہے اتنا ہی مسلمان تفرقہ و اختلاف میں گرفتار ہے ، جبکہ قرآن نے کھل کر مسلمانوں کو تفرقہ و اختلاف کا نتیجہ بتا دیا ہے : ارشاد ہوتا ہے :
ولا تنازعو ا فتفشلوا وتذہب ریحکم واصبر وا انَّ اللہ مع الصابرین (انفال ٤٦)
تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جائو اور تمہاری طاقت ختم ہو جائے بلکہ مقاومت کرو کہ خدا مقاومت کرنے والوں کے ساتھ ہے لیکن اسکے باوجود بھی اسلامی ممالک اس طرح سے خاموش ہیں کہ جیسے صم بکم عمی فہم لا یرجعون کے اصل مصداق یہی ہیں .
توبہ کے منافع اور فوائد

گناھوں سے توبہ کے متعلق قرآن کریم کی آیات اور اھل بیت علیھم السلام سے مروی احادیث و روایات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں توبہ کے بھت سے منافع و فوائد ذکر ھوئے ھیں، جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ھے:
(( ۔۔۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا۔ یُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ۔ وَیُمْدِدْکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اٴَنْھارًا))۔
”۔۔۔اور کھا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بھت زیادہ بخشنے والا ھے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا۔اور اموال واولاد کے ذریعہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے لئے باغات اور نھریں قرار دے گا“۔
(( ۔۔۔ تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَةً نَصوحاً عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّاتٍ تَجْریٖ مِنْ تَحْتِھَا الاَنْھارُ۔۔۔)) ۔
”توبہ کرو، عنقریب تمھارا پرودگار تمھاری برائیوں کو مٹادے گا اور تمھیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نھریں جاری ھوں گی“۔
توبہ سے متعلق اکثر آیات خداوندعالم کی دو صفات ”غفور“ و ”رحیم“ پر ختم ھوتی ھیں، جس کا مطلب یہ ھے کہ خداوندعالم حقیقی توبہ کرنے والے پر اپنی بخشش اوررحمت کے دروازے کھول دیتاھے۔
(( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھل الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھم بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ۔۔۔))۔
”اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ھیں اور تقویٰ اختیا رکر لیتے تو ھم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے “۔
”مجمع البیان“ جو ایک گرانقدر تفسیر ھے اس میں ایک بھترین روایت نقل کی گئی ھے:
” ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ھے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناھوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی ، اس سے (بھی) امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناھوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یھی فرمایا: اپنے گناھوں سے استعفار کرو۔
اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: (فرزند رسول!) آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے نھیں کھی ھے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یھی نتیجہ نکلتا ھے جھاں خداوندعالم نے فرمایا ھے: (( استغفروا ربّکم۔۔۔)) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو) ، لہٰذا میں نے سبھی کو استغفار کے لئے کھا، تاکہ ان کی مشکلات ، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ھوجائیں۔
بھر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ھیں: گناھوں سے پاک ھوجانا، رحمت الٰھی کا نزول ، بخشش خداوندی،عذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق، روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی، اعضاء و جوارح کی طھارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغات او رنھروں میں برکت، قحطی ،مہنگائی اور غربت کا خاتمہ۔
(( ۔۔۔ تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَةً نَصوحاً عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِھَا الاَنْھارُ۔۔۔)) ۔
”توبہ کرو، عنقریب تمھارا پرودگار تمھاری برائیوں کو مٹادے گا اور تمھیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نھریں جاری ھوں گی“۔
توبہ سے متعلق اکثر آیات خداوندعالم کی دو صفات ”غفور“ و ”رحیم“ پر ختم ھوتی ھیں، جس کا مطلب یہ ھے کہ خداوندعالم حقیقی توبہ کرنے والے پر اپنی بخشش اوررحمت کے دروازے کھول دیتاھے۔
(( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھل الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھم بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ۔۔۔))۔
”اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ھیں اور تقویٰ اختیا رکر لیتے تو ھم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے “۔
”مجمع البیان“ جو ایک گرانقدر تفسیر ھے اس میں ایک بھترین روایت نقل کی گئی ھے:
” ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ھے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناھوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی ، اس سے (بھی) امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناھوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یھی فرمایا: اپنے گناھوں سے استعفار کرو۔
اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: (فرزند رسول!) آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے نھیں کھی ھے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یھی نتیجہ نکلتا ھے جھاں خداوندعالم نے فرمایا ھے: (( استغفروا ربّکم۔۔۔)) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو) ، لہٰذا میں نے سبھی کو استغفار کے لئے کھا، تاکہ ان کی مشکلات ، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ھوجائیں۔
بھر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ھیں: گناھوں سے پاک ھوجانا، رحمت الٰھی کا نزول ، بخشش خداوندی ،عذاب آخرت سے نجات ، جنت میں جانے کا استحقاق ، روح کی پاکیزگی ، دل کی صفائی ، اعضاء و جوارح کی طھارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول ، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغات اور نھروں میں برکت ، قحطی ، مہنگائی اور غربت کا خاتمہ ۔
عقیدہٴ ظہور کا اخلاق پر اثر
مشہور مصری مفسر "طنطاوی" نے اپنی تفسیر میں قرب ساعت" قیامت" اور ظہور مہدی کے بارے میں ابن خلدون کے نظریات نقل کرنے کے بعد ان دونوں موضوعات کو پست ہمتی، تساہلی اور اختلاف و تفرقہ کا سبب قرار دیا ہے اور علمائے اسلام کی جانب غفلت بلکہ جہالت و ضلالت کی نسبت دی ہے
اختلاف و تفرقہ کے بارے میں گذشتہ مقالہ میں وضاحت پیش کی جا چکی ہے اور یہ بتایا گیا
ہےکہ تمام اچھے عنوانات یا حقائق کا فاسد اور مفاد پرست افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہوا ہے یہاں تک کہ مذہبی و قومی اتحاد کے ذریعہ بھی اختلافات برپا کئے گئے اورتحفظ اتحاد کے نام پر بھی اختلاف پیدا ہوئے اور شرم سے سر جھکا دینے والے جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
لیکن اس کے باوجود اتحاد کی اچھائی اور ضرورت پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔
دوسرے اسلامی عقائد کی مانند ظہور مہدی کے عقیدہ کو بھی اسلامی فرقوں کے درمیان قدر مشترک اور اتحاد کا ذریعہ ہونا چاہئے تھا، غلطی آپ کی ہے جو ایسے موضوع کا انکار کر رہے ہیں یا اس کے ذریعہ امت کے درمیان تفرقہ پیدا کر رہے ہیں جس پر پوری امت مسلمہ متفق و متحد ہے اور جس کے لئے دوسرے اسلامی عقائد سے زیادہ معتبر مدارک و منابع پائے جاتے ہیں۔
رہا قرب ساعت "قیامت" کا مسئلہ پہلی بات تو یہ کہ اقتراب اور قرب قیامت پر ایمان، قرآن مجید کی صریح و محکم آیات سے ماخوذ ہے۔
دوسری بات یہ کہ یہ عقیدہ کسی بھی قیمت پر ضعف یا سستی کا موجب نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے برخلاف قوت ارادی، احساس ذمہ داری، خلوص نیت، تہذیب نفس، اور کارِ خیر اور اعمال صالح کی جانب رغبت کا باعث ہوگا۔ غلطی سے آپ نے چونکہ حقائق کی تصدیق یا تکذیب کا معیار مادی نتائج کو بنا رکھا ہے اس لئے آپ "اقترا ب ساعت" کو براہ راست ممالک کی فتح کا سبب، مختلف ایجادات اور صنعتی و مادی ترقی کی دعوت کا موجب قرار دینا چاہتے ہیں اور آپ معنویات و اخلاقیات کی تاثیر اور اسلام کے مقصد ِ نظر "مدینہ فاضلہ" اوراس کے رابطہ سے بے خبر ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ انبیاء کی دعوت اور تعلیم و تربیت کی اساس مبداء ومعاد کے ایمان پرہے۔
مسلمانوں نے مبد ا ء ومعاد اور اسی اقتراب ساعت کے ایمان کے ساتھ بڑے بڑے ممالک کو فتح کیا ہے اور دور دراز علاقوں میں اسلامی پرچم لہرایا ہے اور دنیا بھر میں انسانی آزادی کا پیغام دیا ہے۔
اسی ایمان کے ساتھ دنیا والوں کو علم و دانش، تحقیق و تفکر اور علمی و صنعتی ترقی کی دعوت دی ہے ۔مسلمان اسی ایمان کے ساتھ علم و دانش اور تہذیب و تمدن کے علمبردار بنے ۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں بھی اسلام نے نامورعلماء پیش کےٴ۔
قیام مہدی اور قیامت کے وقت کی تعیین کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ "یہ عقائد انحراف و گمراہی کا ذریعہ ہیں اور فلاں دھوکہ باز سنی صوفی نے اس کا وقت مقرر کر دیا ہے" اس طرح آپ اپنے سنی بھائیوں سے شکوہ کر رہے ہیں۔ آپ کو شکوہ کا حق بھی ہے لیکن اگر کوئی مسلمان اس دھوکہ باز صوفی کی بات تسلیم کرلے تو اس کا گناہ اہل سنت کے آپ جیسے رہبروں کی گردن پر ہے کہ آپ افکار و اذہان کو روشن نہیں کرتے مبداء و معاد سے متعلق قرآنی معارف مسلمانوں کو نہیں بتاتے۔
قرآن نے صاف و صریح طور پر اعلان کیا کہ قیامت کا علم صرف خدا کو ہے اور ہمارا عقیدہ یہی ہے کسی کو قیامت کے وقت کا علم نہیں ہے اور اگر کوئی اس کا وقت معین کرے تو وہ جھوٹا ہے۔ عوام کی اکثریت بلکہ تمام مسلمان چاہے سنی ہوں یا شیعہ انہیں علم ہے کہ قیامت کی اطلاع کسی کو نہیں ہے۔ علماء اور خواص کو تو جانے دیجئے۔ قرآن کا اعلان ہے:
"انّ اللہ عندہ علم السّاعة" (۱(
اس کے باوجودبھی اگر نادان اس بارے میں اظہار خیال کرے تو اس کی بات قابل قبول نہ ہوگی اور نہ ہی کوئی اس کی بات پر دھیان دے گا۔ ایسے عقائد ضعف یا سستی کا موجب نہیں ہیں۔ بلکہ ضعف ِمسلمین کا سبب حقائق کا چھپایا جانا، حکام کی غلط سیاست اور اسلامی معاشرہ کو اسلام کے واضح راستہ سے گمراہ کرنا ہے۔
قیام ساعت اور قرب قیامت کی طرح ظہور مہدی پر ایمان بھی ضعف، پست ہمتی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کا سبب نہیں ہے۔ کسی نے نہیں کہا کہ چونکہ مہدی کا ظہور ہوگا لہٰذا تمام ذمہ داریاں ختم اب مسلمانوں کو کفار کے حملوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں کرنا ہے بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔
کسی نے نہیں کہا کہ آیہٴ کریمہ :
"واعدوا لہم مااستطعتم من قوة" (۱)
امربالمعروف و نہی عن المنکر، حق کی طرف دعوت، اسلام کے دفاع اور سیاسی و سماجی فرائض سے متعلق آیات کا نفاذنہیں ہونا چاہئے۔
کسی نے نہیں کہا کہ ظہور مہدی کا عقیدہ کاہل سست، ضعیف الارادہ اور بہانہ تلاش کرنے والوں اور اپنے گھر، وطن اور اسلامی علاقوں میں اغیار کے ظلم و ستم برداشت کرنے والوں کے لئے "عذر" ہے۔
ایک بھی روایت میں یہ نہیں ملتا کہ تمام امور مستقبل یا ظہور مہدی تک معطل رکھو،اس کے برعکس روایات میں صبروثبات، سعی واستقامت اور شدت کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور قرآنی احکام پر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
جیسے کہ پیغمبر اکرم اوراسلام کے اولین مجاہد حضرت علی اور دیگر صحابہٴ والا مقام نے ظہور مہدی کے انتظار میں گوشہ نشینی اختیار نہیں کی اورگھر میں خاموش نہیں بیٹھے رہے بلکہ کلمہ ٴ اسلام کی برتری کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں ہوئے اوراس راہ میں کسی قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا آج بھی مسلمانوں کی یہی ذمہ داری ہے۔
ظہور مہدی کا ایمان اور امام وقت کی موجودگی کا احساس، ذمہ داریوں سے غافل نہیں بناتا بلکہ احساس ذمہ داری میں اضافہ کرتا ہے۔
ظہور مہدی کا عقیدہ طہارت نفس، زہدوتقویٰ اور پاکیزگی کردار کا سبب ہے۔
ظہور مہدی کے ایمان کا مطلب امور کو آئندہ پر اُٹھا رکھنا، گوشہ نشینی اختیار کرنا اورآج کوکل پر ٹالنا اور کفار واغیار کے تسلط کو قبول کرنا، علمی وصنعتی ترقی نہ کرنا اور سماجی امور کی اصلاح ترک کردینا ہرگز نہیں ہے۔
ظہور مہدی کا عقیدہ رشد فکر کا باعث اور ضعف وناامیدی اور مستقبل کے تئیں مایوسی سے روکتاہے چنانچہظہور مہدی کے عقیدے سے وہی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو:
"انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون"(۱)
"ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
"یریدون لیطفئوا نور اللّٰہ بافواہھم"(۲)
"یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنی پھونکوںسے بجھا دیں۔"
"ولاتہنوا ولاتحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم موٴمنین"(۳)
"مسلمانوں! خبردار (دینی معاملات میں) سستی نہ کرو اور (مال غنیمت اور متاع دنیا فوت ہوجانے کے ) مصائب سے محزون نہ ہونا اگر تم صاحبان ایمان ہو تو سربلندی تمہارے ہی لئے ہے۔"
جیسی آیات سے حاصل ہوتے ہیں جس طرح ان آیات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان سستی کا شکار ہوجائے اور ذمہ داریوں سے گریزاں رہے اسی طرح ظہور مہدی ، آپ کے غلبہ اور عالمی حکومت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سستی اور ذمہ داریوں میں کوتاہی کو جائز سمجھ لیں۔
جس طرح صدر اسلام کے مسلمانوں نے ان آیات اور پیغمبر اکرم کی بشارتوں سے مستقبل کی فتوحات اور مسلمانوں کے ہاتھوں ممالک کی فتح کے بارے میں یہ نہیں سمجھا کہ ہمیں گھر میں بیٹھ کر مستقبل کا انتظار کرنا چاہئے اور دور سے مسلمانوں کی شکست، اور کفار کے مقابل علم وصنعت اور اسباب قوت میں مسلمانوں کی پسماندگی کا نظارہ کرتے رہنا چاہئے اور اس دور کے مسلمان یہ سوچ کر
خاموش نہیں بیٹھ گئے کہ خدا حافظ وناصر ہے اس نے نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا نور کبھی بجھ نہیں سکتااسی طرح جو لوگ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں خصوصاً اگرانہوں نے شیعہ طرق سے نقل ہونے والی روایات پڑھی ہیں تو انھیں اوامر خدا کی اطاعت اور احکام الٰہی کی ادائیگی میں دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ آگے ہونا چاہئے اور قرآن وشریعت، حریم اسلام، عظمت مسلمین کے دفاع کے لئے زیادہ غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
اللھّم عجّل فرجہ وسہّ-ل مخرجہ واجعلنا من انصارہ واعوانہ
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین۔
(۱)یقینا الله ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ،سورئہ لقمان ۳۴۔
(۱) اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت کا انتظام کرو، سورئہ انفال۔ ۶۰
(۱)سورہٴ حجر آیت۹۔
(۲)سورہٴ صف آیت۸۔
())سورہٴ آل عمران آیت۱۳۹۔
صفات مومن 7
کچھ حدیثوں کے مطابق ۲۵/ ذیقعدہ روز” دحو الارض“ اور امام رضا علیہ السلام کے مدینہ سے طوس کی طرف سفر کی تاریخ بھی ہے۔”دحو“کے معنی پھیلانے کے ہیں۔ قرآن کی آیت < والارض بعد ذلک دحیہا [1] اسی قبیل سے ہے ۔زمین کے پھیلاؤ سے کیا مراد ہے؟ اور یہ اس علم جدید سے کس طرح سازگار ہے جس میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ زمین نظام شمسی کا جز ہے اور سورج سے جدا ہوئی ہے؟
جب زمین سورج سے جدا ہوئی تھی تو آگ کا ایک دہکتا ہوا گولا تھی،بعد میں اس کی گرمی سے اس کے چاروں طرف پانی وجود میں آیا جس سے سیلابی بارش کا سلسلہ شروع ہوا اور نتیجہ میں زمین کی پوری سطح پانی میں پوشیدہ ہوگئی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ پانی زمین میں سمانے لگااور زمین پر جگہ جگہ خشکی نظر آنے لگی۔ بس ” دحو الارض“ پانی کے نیچے سے زمین کے ظاہر ہونے کا د ن ہے۔ کچھ روایتوں کی بنا پر سب سے پہلے خانہ کعبہ کا حصہ ظاہر ہوا۔ آج کا جدید علم میںبھی اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی ہے۔ یہ دن حقیقت میں الله کی ایک بڑی نعمت حاصل ہونے کا دن ہے اس دن الله نے زمین کو پانی کے نیچے سے ظاہر کرکے زندگی کے لئے آمادہ کیا۔
کچھ تواریخ کے مطابق اس دن امام رضا علیہ السلام نے مدینہ سے طوس کی طرف سفر شروع کیا اور یہ بھی ہم ایرانیوں کے لئے الله کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، کیوںکہ حضرت کے قدموں کی برکت سے یہ ملک آبادی،معنویت، روحانیت اور الله کی برکتوں کے سر چشموں میں تبدیل ہو گیا۔ اگر ہمارے ملک میں امام کی بارگاہ نہ ہوتی تو شیعوںکے لئے کوئی پناہ گاہ نہ تھی۔ ہر سال تقریباً ۵۰۰۰۰۰۰,۱ افراد اہل بیت علیہم السلام سے تجدید بیعت کے لئے آپ کے روضئہ مبارک پر جاتے ہیں اورآپ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں۔ آپ کی معنویت ہمارے پورے ملک پر سایہ فگن ہے اور ہم سے بلاؤں کو دور کرتی ہے۔ بہرحال آج کا دن کئی وجہوں سے مبارک دن ہے۔ میں الله سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم کو اس دن کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
مقدمہ :
اس ہفتہ کی اخلاقی بحث میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث نقل کی جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی تھی ۔ اس حدیث میں مومن کامل کی ۱۰۳ صفتیں بیان کی گئی ہیں، ہم گذشتہ جلسہ تک ان میں سے ۳۱/ صفتیں بیان کرچکے ہیں اور آج کے اس جلسہ میں چار صفات اور بیان کریں گے۔
حدیث :
” ….. حلیماً اذا جہل علیہ، صبوراً علی من اساء الیہ، یبجل الکبیر ویرحم الصغیر“ [2]
ترجمہ :
مومن کامل الایمان جاہلوں کے جہل کے مقابل بردبار اور برائیوں کے مقابل بہت زیادہ صبر کرنے والا ہوتا ہے،وہ بزرگوں کے کے ساتھ احترام سے پیش آتا ہے اور اپنے سے چھوٹوں پر رحم کر تا ہے۔
حدیث کی شرح :
مومن کی بتیسویں صفت: ” حلیماً اذا جہل علیہ“ ہے۔
یعنی وہ جاہلوں کے جہل کے مقابل بردباری سے کام لیتاہے اگر کوئی اس کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ اس کی برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتا۔
مومن کی تینتسویںصفت: ” صبوراً علی من اساء علیہ“ ہے۔
یعنی اگر کوئی مومن کے ساتھ عمداً برا سلوک کرتا ہے تو وہ اس پر صبر کتا ہے۔پہلی صفت میں اور اس صفت میں یہ فرق پایا جاتا ہے کہ پہلی صفت میںزبان کی برائی مراد ہے اور اس صفت میں عملی برائی مراد ہے۔اسلام میں دو چیزیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک کا نام قانون اور دوسری کا نام اخلاق ہے ، قانون یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ برائ کرے تو آپ اس کے ساتھ اسی اندازہ میں برائی کرو۔قرآن میں ارشاد ہوتاہے کہ فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدیٰ علیکم [3] یعنی جو تم پر زیادتی کرے تم اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پرکی ہے۔ یہ قانون اس لئے ہے تاکہ برے لوگ برے کام انجام نہ دیں۔لیکن اخلاق یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ برائی کے بدلہ میں برائی نہ کروبلکہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دو۔ قرآن فرماتا ہے کہ < واذا مرو باللغو مروا کراماً [4] یا <ادفع باللتی ہی احسن السیئہ [5] یعنی آپ برائی کواچھائی کے ذریعہ ختم کیجئے۔ یا< واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاماً [6] جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں تو وہ انھیں سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔
مومن کی چوتیسویں صفت:”یبجل الکبیر“ہے ۔
یعنی مومن بزرگوں کی تعظیم کرتا ہے ۔ بزرگوں کے احترام کا مسئلہ بہت سی روایات میں بیان زیر غور آیا ہے ۔ مرحوم شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب”سفینة البحار“ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ” من وقر ذا شیبہة لشیبتہ آمنہ الله تعالیٰ من فزع یوم القیامة“ [7] جو کسی بزرگ کا احترام اس کی بزرگی کی وجہ سے کرے تو الله اسے روز قیامت کے عذاب سے محفوظ کرے گا۔ایک دوسری روایت میں ملتا ہے کہ ” ان من اجلال الله تعالیٰ اکرام ذی الشیبة المسلم“ [8] یعنی الله تعالیٰ کی تعظیم میں سے ایک یہ ہے کہ مسلم بزرگوں کا احترام کرو۔
مومن کی پیتیسویں صفت:”یرحم الصغیر“ہے
یعنی چھوٹوں پر رحم کرتا ہے۔ یعنی محبت کے ساتھ پیش آتا ہے۔
مشہور ہے کہ جب بزرگوں کے پاس جاؤ تو ان کی بزرگی کی وجہ سے ان کا احترام کرو اور جب بچوں کے پاس جاؤ تو ان کا احترام اس وجہ سے کرو کہ انھوں نے کم گنا ہ انجام دیئے ہیں۔
[1] سورہٴ نازعات: آیہ/ ۳۰
[2] بحارالانوار،ج/ ۶۴ ، ص/ ۳۱۱
[3] سورہٴ بقرہ: آیہ/ ۱۹۴
[4] سورہٴ فرقان: آیہ/ ۷۲
[5] سورہٴ مومنون:آیہ/ ۹۶
[6] سورہٴ فرقان:آیہ/ ۶۳
[7] سفینة البحار ، مادہ” شیب “
[8] سفینة البحار، مادہ ”شیب “
صفات مومن 6
مقدمہ:
اس اخلاقی بحث میں پیغمبر اکرم کی و ہ حدیث بیان کی جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے بیان فرمائی تھی۔ اس حدیث میں مومن کی ۱۰۳ صفتیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے ۲۶ صفتیں بیان ہو چکی ہیں اور آج کے اس جلسہ میں مومن کے پانچ صفات اوربیان کرنے ہیں۔
حدیث :
” ۔ ۔ ۔ لطیف الحرکات، حلو المشاہدات، کثیر العبادة، حسن الوقار، لین الجانب“۔ ۔ ۔ [1]
ترجمہ :
مومن کی حرکتیں ہمیشہ لطیف ہو تی ہیں،وہ خوش مزاج اورکثیرالعبادة ہوتاہے ،اس سے سبک حرکتیں سرزد نہیں ہوتی اور اس کی ذات میں بہت زیادہ محبت و عاطفیت پائی جاتی ہے۔
شرح حدیث :
مومن کی ستائیسویں صفت: ” لطیف حرکات“ ہوناہے ۔
یعنی مومن کے حرکات و سکنات بہت لطف ہوتے ہیںاور وہ الله کی مخلوق کے ساتھ محبت آمیز سلوک کرتا ہے ۔
مومن کی اٹھائیسویں صفت:” حلو المشاہد“ ہونا ہے ۔
یعنی مومن خوش مزاج ہوتا ہے اور ہمیشہ شاد رہتا ہے وہ کبھی بھی ترش رو نہیں ہوتا۔
مومن کی انتیسویں صفت: ” کثیر العبادات“ ہے ۔
یعنی مومن بہت زیادہ عبادت کرتا ہے ۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ عبادت سے روزہ، نمازمراد ہے یا اس کے کوئی اور معنی ہیں؟
عبادت کی دوقسمیں ہیں :
عبادت اپنے خاص معنی میں :
یہ وہ عبادت ہے کہ اگر اس میں قصد قربت نہ کیا جائے تو باطل ہو جاتی ہے۔
عبادت اپنے عام معنی میں :
ہر وہ کام کہ جس کواگر قصد قربت کے ساتھ کیا جائے تو ثواب رکھتا ہو مگر قصد قربت اس کے صحیح ہونے کے لئے شرط نہ ہو ۔ اس صورت میں تمام کاموں کو عبادت کا لباس پہنایاجا سکتا ہے ۔ عبادت روایت میں اسی معنی میں ہو سکتی ہے ۔
مومن کی تیسویں صفت: ” حسن الوقار“ ہے ، یعنی مومن چھوٹی اور نیچی حرکتیں انجام نہیں دیتا۔ وِقار یا وَقار کامادہ وَقَ رَ ہیں جس کے معنی سنگینی کے ہیں۔
مومن کی اکتیسویں صفت: ” لین الجانب “ ہے یعنی مومن میں محبت و عاطفت پائی جاتی ہے۔
اوپر ذکر کی گئی پانچ صفتوں میں سے چار صفتیں لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے مربوط ہیں۔ لوگوں سے اچھی طرح ملنا اور ان سے نیک سلوک کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے مخاطبین متاثر ہوتے ہیں چاہے دینی افراد ہوں یا دنیوی۔
دشمن ہمارے ماتھے پر تند خوئی کا کلنک لگانے کے لئے کوشاں ہے لہٰذا یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ہم جہاں” اشداء علی الکفار“ ہیں، وہیں ” رحماء بینہم“ بھی ہیں۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں ملتا ہے کہ وہ ان غیر مسلم افراد سے بھی محبت کے ساتھ ملتے تھے جو در پئے قتال نہیں تھے ۔نمونہ کے طور پر تاریخ میںملتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام ایک یہودی کے ہم سفر تھے۔ اور آپ نے اس سے پہلے ہی بتا دیاتھا کہ دو راہے پر پہونچ کر میں تجھ سے جدا ہو جاؤںگا۔ لیکن دو راہے پر پہونچ کر بھی جب حضرت اس کے ساتھ چلتے رہے تو اس یہودی نے کہا کہ آپ کو تو دو راہ پر مجھ سے جدا ہو جا نا تھا لیکن آپ اب بھی میرے ساتھ چل رہے ہیں شاید آپ بھل گئے ہیں اور غلط راستے پر چل رہے ہیں ، حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نہیں! میں بھولا نہیں ہوں بلکہ اپنے دین کے حکم کے مطابق ہم سفر کے حق کو ادا کرنے کے لئے تھوڑی دو رتیرے ساتھ چل رہا ہوں۔ آپ کا یہ عمل دیکھ کر اس نے تعجب کیا اور مسلمان ہو گیا۔ اسلام کے ایک سادے حکم پر عمل کرنا بہت سے لوگوں کے مسلمان بن نے کا سبب بنتا ہے۔< یدخل فی دین الله افواجاً>لیکن افسوس ہے کہ کچھ مقدس افراد بہت زیادہ خشک ہو تے ہیں اور اپنے اس عمل کے ذریعہ دشمن کو بولنے کا موقعہ دیتے ہیں جب کہ دین کی بنیاد تند خوئی پر نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ۱۱۴ سورہٴ ہیں جن میں سے ۱۱۳ سورہ ” الرحمٰن الرحیم“ سے شروع ہوتے ہیں۔ یعنی ۱۱۴/۱ میں تندی اور ۱۱۳ میں رحمت ہے۔
دنیا میں دو طریقہ کے اخلاقات پائے جاتے ہیں :
1. ریاکارانہ اخلاق( دنیاوی فائدے حاصل کرنے کے لئے
2. مخلصانہ اخلاق( جو دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے
پہلی قسم کا اخلاق یوروپ میں پایا جاتاہے جیسے وہ لوگ ہوائی جہاز میں اپنے مسافروں کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے ہیں کیونکہ یہ کام ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اچھا سلوک مسافرون کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری قسم کا اخلاق مومن کی صفت ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ مومن کا اخلاق بہت اچھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن دنیاوی فائدے حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ آپس میں میل محبت بڑھانے کے لئے اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہے۔ قرآن کریم میں حکیم لقمان کے قصے میںان کی نصیحتوں کے تحت ذکر ہوا ہے کہ < ولا تصعر خدک للناس و لا تمش فی الارض مرحا [2] ” تعصر“ کا مادہ” صعر“ ہے اور یہ ایک بیماری ہے جو اونٹ میں پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی وجہ سے اونٹ کی گردن دائیں یا بائیں طرف مڑ جاتی ہے ۔ آیت فرمارہی ہے کہ گردن مڑ ے بیماراونٹ کی طرح نہ رہو اور لوگوں کی طرف سے اپنے چہرے کو نہ موڑو۔ اس تعبیرسے معلوم ہوتا ہے کہ بد اخلاق افراد ایک قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ آیت کے آخرمیں بیان ہوا ہے کہ تکبرکے ساتھ نہ چلو۔
________________________________________
[1] بحار،ج/ ۶۴ ، ص/ ۳۱۰
[2] سورہٴ لقمان: آیہ/ ۱۸
صفات مومن 5
مقدمہ :
گذشتہ جلسوں میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی تھی اس حدیث میں مومن کے ایک سو تین صفات بیان فرمائے گئے ہیں جن میں سے بائیس صفات بیان ہو چکے ہیں اور آج اس جلسہ میں ہم چار صفات اور بیان کریں گے۔
حدیث :
” ۔ ۔ ۔ ۔ احلی من الشہد واصلد من الصلد ،لا یکشف سراً ولا یحتک ستراً ۔ ۔ ۔ [1]
مومن شہد سے زیادہ شرین اور پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ،جو لوگ اس کو اپنے راز بتا دیتے ہیں وہ ان کو آشکار نہیں کرتااور اگر خود سے کسی کے راز کو جان لیتا ہے تو اسے بھی ظاہر نہیں کرتا۔
حدیث کی تشریح :
مومن کی تیئیسویں صفت”احلی من الشہد“ہے۔
مومن شہد سے زیادہ شرین ہوتا ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک بہت اچھا ہوتا ہے ۔ائمہ معصومین ﷼اور خاصطور پر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کی نشست اور ملاقاتیںبہت شرین ہوا کرتی تھیں۔آپ اہل مزاح اور ظریف باتیں کرنے والے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انسان جتنا زیادہ مقدس ہو، اسے اتناہی زیادہ ترشرو ہو نا چاہئے ۔جبکہ واقعیت یہ ہے کہ انسان کی سماجی،سیاسی،تہذیبی ودیگر پہلوؤں میںترقی کے لئے جو چیز سب سے زیادہ موثر ہے وہ اس کا نیک سلوک ہی ہے ۔کبھی کبھی سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل کام کو بھی نیک سلوک ،محبت بھری باتوں اور خندہ پیشانی کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے ۔نیک سلوک کے ذریعہ جہاں عقدوں کو حل اور کدورت کو پاک کیا جا سکتا ہے وہیں غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کرکے آپسی تنازع کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے ۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اکثر ما تلج بہ امتی الجنة تقویٰ الله وحسن الخلق“ [2] میر امت کے زیادہ تر افراد اچھے اخلاق اور تقویٰ کے ذریعہ جنت میں جائیں گے ۔
مومن کی چوبیسویں صفت”اصلد من الصلد“ہے
یعنی مومن پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔کچھ لوگ احلیٰ من الشہد کی منزل میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ خوش اخلاق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دشمن کے مقابلہ میں بھی سختی نہ برتے۔لیکن پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن شہد سے زیاد شرین تو ہوتا ہے لیکن سست نہیں ہوتا،وہ دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ سے زیادہ سخت ہوتاہے ۔روایت میں ملتا ہے کہ مومن دوستوں کے درمیان ”رحماء بینہم “ اور دشمن کے مقابل اشداء علی الکفار ہوتا ہے ۔مومن لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے (اشد من زبر الحدیدو اشد من الجبل)چونکہ لوہے اور پہاڑ کو تراشا جا سکتاہے لیکن مومن کو تراشا نہیں جاسکتا۔جس طرح حضرت علی علیہ السلام تھے ۔لیکن ایک گروہ نے یہ بہانہ بنایاکہ کیونکہ وہ شوخ مذاج ہیں اس لئے خلیفہ نہیں بن سکتے ۔جبکہ وہ مضبوط اور سخت تھے۔جہاں پر حالات اجازت دیں انسان کو خشک اور سخت نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جو دنیامیں سختی کرتا ہے الله اس پر آخرت میں سختی کرے گا۔
مومن کی پچیسویں صفت”لا یکشف سراً“ہے
یعنی مومن رازوں کو فاش نہیںکرتا۔رازوںکو فاش کرنے کے کیا معنی ہیں؟
ہر انسان کی خصوصی زندگی میں کچھ راز پائے جاتے ہیںجن کے بارے میں وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ کھلنے نہ پائیںکیونکہ اگر وہ راز کھل جائیں گے تو اس کو بہت سی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر کوئی انسان اپنے زار کو کسی دوسرے سے بیان کردے اور کہے کہ ”المجالس اماناة“یعنی یہ باتیں جو یہاں پر ہوئی ہیں آپ کے پاس امانت ہے تو یہ راز ہے۔ اور اس کو کسی دوسرے کے سامنے بیان نہیںکرنا چاہئے۔روایت میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ اگرکوئی آپ سے بات کرتے ہوئے ادھر ادھر اس وجہ سے دیکھتا رہے کہ کوئی دوسرا نہ سن لے تو یہ راز کی مثل ہے چاہے وہ یہ نہ کہے کہ یہ راز ہے ۔مومن کاراز مومن کے خون کی طرح محترم ہے، لہٰذا کسی مومن کے راز کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔
مومن کی چھبیسویں صفت”لا یہتک ستراً“ہے
یعنی مومن رازوںکو فاش نہیںکرتا۔ہتک ستر (رازوں کو فاش کرنا )کہاں پر استعمال ہوتا ہے اس کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے اگر کوئی انسان اپنا راز مجھ سے نہ کہے بلکہ میں خود کسی طرح اس کے راز کے بارے میں پتہ لگا لوں تو یہ ہتک ستر ہے۔لہٰذا ایسے راز کو فاش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہتک ستر اور اس کا ظاہر کرنا غیبت کی ایک قسم ہے۔ آج کل ایسے رازوں کو فاش کرنا ایک معمول سا بن گیا ہے لیکن ہم کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر وہ راز دوسروں کے لئے نقصاندہ نہ ہو اور خود اس کی ذات سے ہی وابستہ ہو تو اس کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔لیکن اگر کسی نے نظام ،سماج،ناموس،جوانوں اور لوگوںکے ایمان کے لئے خطرہ پیداکردیا ہے تو اس راز کو ظاہر کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔جس طرح غیبت ،کہ اگر مومن کے راز کی حفاظت سے اہم ہو تو بلامانع ہے، اسی طرح ہتک ستر میں بھی اہم اور مہم کا لحاظ ضروری ہے ۔الله ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
________________________________________
[1] بحارالانوار:ج/ ۶۴ ص/ ۳۱۰
[2] بحار الانوار:ج/ ۶۸ باب حسن الخلق ،ص/ ۳۷۵
صفات مومن 4
مقدمہ :
پچھلے جلسوں میں ہم نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ،جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی بیان کی یہ حدیث مومن کامل کے ایک سو تین صفات کے بارے میں تھی۔اس حدیث سے سولہ صفات بیان ہو چکے ہیں اور اب چھ صفات کی طرف اور اشارہ کرنا ہے ۔
حدیث :
” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بریئاًمن المحرمات،واقفاً عند الشبہات،کثیر العطاء،قلیل الاذیٰ،عوناً للغریب،واباً للیتیم ۔ ۔ ۔ ۔ [1]
ترجمہ :
مومن حرام چیزوں سے بیزار رہتا ہے ،شبہات کی منزل پر توقف کرتا ہے اور ان کا مرتکب نہیںہوتا،اس کی عطا بہت زیادہ ہوتی ہے،وہ لوگوں کو بہت کم اذیت دیتا ہے ،مسافروں کی مدد کرتا ہے اور یتیموں کے لئے باپ ہوتا ہے۔
حدیث کی شرح :
مومن کی سترہویں صفت”بریئاً من المحرمات “ ہے۔
یعنی مومن وہ ہے جو حرام سے بری اور گناہ سے بیزار ہے ۔گناہ انجام نہ دینا اور گناہ سے بیزار رہنا ان دونوں باتوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گناہ میں لذت تو محسوس کرتے ہیں مگر الله کی وجہ سے گناہ کو انجام نہیں دیتے ”یہ ہوا گناہ انجام نہ دینا“ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تہذیب نفس کے ذریعہ اس مقام پر پہونچ جاتے ہیں کہ ان کو گناہ سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ ہر گزگناہ سے لذت نہیں لیتے۔ بس یہی گناہ سے بیزاری ہے۔انسان کو اس مقام پر پہونچنے کے لئے (جہاں پر الله کی اطاعت سے لذت اور گناہ سے نفرت پیدا ہو جاے)بہت زیادہ زحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مومن کی اٹھارہویںصفت”واقفاً عند الشبہات“ ہے۔
یعنی مومن وہ ہے جو شبہات کے سامنے توقف کرتا ہے ۔چونکہ شبہات محرمات کا پیش خیمہ ہیں۔اس لئے جو شبہات کا مرتکب ہو جاتا ہے وہ محرمات میں پھنس جاتا ہے ۔شبہات سے بچنا چاہئے کیونکہ شبہات اس ڈھلان کی مانند ہے جو کسی درہ کے کنا رہ واقع ہو۔درواقع شبہات محرمات کا حریم (کسی چیز کے اطراف کا حصہ)ہے لہٰذا ان سے اسی طرح بچنا چاہئے جس طرح زیادہ وولٹیج والی بجلی سے ،کیونکہ اگر انسان معین فاصلہ کی حد سے آگے بڑھ جائے تو وہ اپنی طرف کھنیچ کی جلا ڈالتی ہے اسی لئے اس کے لئے حریم(اطراف کا فاصلہ)کے قائل ہیں ۔کچھ روایتوںمیں بہت اچھی تعبیر ملتی ہے جو بتاتی ہے کہ لوگوںکے حریم میں داخل نہ ہو ، تاکہ ان کے غضب کا شکار نہ بن سکو۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو منشیات کا شکار ہو گئے ہیں۔شروع میں انھوں نے تفریح میں نشہ کیا لیکن بعد میں بات یہاں تک پہونچ گئی کہ وہ اس کے بہت زیادہ عادی ہوگئے۔
مومن کی انیسویں صفت”کثیر العطا “ہے
یعنی مومن وہ ہے جو کثرت سے عطا کرتا ہے یہاں پر کثرت ،کثرت نسبی ہے یعنی (اپنے مال کے مطابق دینا)مثلاً اگر ایک بڑا سپتال بنوانے کے لئے ایک مالدار آدمی ایک لاکھ روپیہ دے تو یہ رقم اس کے مال کی نسبت کم ہے لیکن اگر ایک معمولی سا منشی ایک ہزار روپیہ دے تو سب اس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ یہ رقم اس کے مال کی نسبت زیادہ ہے ۔جنگ تبوک کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی فوج کی تیاری کے لئے لوگوں سے مدد کی درخواست کی رسول کے اس اعلان پر لوگوں نے بہت مدد کی اسی دوران ایک کاری گر نے اسلامی فوج کی مدد کرنے کے لئے رات میں اضافی کام کیا اور اس سے جو بدل ملا وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔اس کم رقم کو دیکھ کر پاس بیٹھے منافقین نے مذاق کرنا شروع کیا فورا آیت نازل ہوئی <الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقات والذین لا یجدون الا جہدہم فیسخرون منہم فسخر الله منہم ولہم عذاب الیم [2] جو لوگ ان پاک دل مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں جو اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرتے ہیں،تو الله ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوعقیل اپنی کھجوران کجھوروں پر ڈال دو تاکہ تمھاری کھجوروں کی وجہ سے ان کھجوروں میں برکت ہو جائے ۔
مومن کی بیسویں صفت”قلیل الایذیٰ“ ہے
یعنی مومن کامل الایمان کی طرف سے دوسروں کو کم اذیت ہوتی ہے۔اس مسلہ کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال عرض کرتا ہوں ہماری سماجی زندگی ایسی اذیتوں سے بھری ہوئی ہے ۔نمونہ کے طور پر گھر کی تعمیر ایک ایسا مسلہ ہے جوسب کے سامنے پیش آتا ہے۔ مکان کی تعمیر کے وقت لوگ تعمیر کے سامان (جیسے اینٹیں،پتھر،ریت،سمنٹ ۔۔۔۔۔۔۔ ) کو راستے میں پھیلاکر راستوں کو گھیر لیتے ہیں جس سے آنے جانے والوں کو اذیت ہوتی ہے ۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ سماجی زندگی میں جو یہ اذیتیںپائی جاتی ہیں ان کو جہاں تک ممکن ہو کم کرنا چاہئے۔بس مومن کی طرف سے لوگوں کو بہت کم اذیت ہوتی ہے ۔
مومن کی اکیسویں صفت”عوناً للغریب“ہے
یعنی مومن پردیسیوں کی مدد کرتا ہے ۔اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروںکی مددکرنابہت اچھا ہے لیکن درواقع یہ ایک بدلہ ہے یعنی آج میں اپنے پڑوسی کی مدد کررہا ہوں کل وہ میر مدد کرے گا ۔اہم بات تو یہ ہے کہ اس کی مددکی جائے جس سے بدلہ کی امید نہ ہو لہٰذاپردیسی کی مدد کرنا سب سے اچھا ہے۔
مومن کی بائیسویں صفت”اباً للیتیم “ہے
یعنی مومن یتیم کے لئے باپ ہوتا ہے ۔پیغمبر نے یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ مومن یتیموں کو کھانا کھلاتا ہے ،ان سے محبت کرتا ہے بلکہ فرمایا مومن یتیم کے لئے باپ ہوتا ہے ۔یعنی وہ تمام کام جو ایک باپ اپنے بچے کے لئے انجام دیتا ہے مومن یتیم کے لئے انجام دیتا ہے ۔
یہ تمام اخلاقی دستور سخت ماحول میں بیان ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنا اثر دکھایا ہے میں چاہتا ہوں کہ الله ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دے اور ہم سب ان صفات پر توجہ دیتے ہوئے کامل الایمان بن جائیں۔
________________________________________
[1] بحارالانوار،ج/ ۶۴ ص/ ۳۱۰
[2] سورہٴ توبہ:آیہ/ ۷۹




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
