Super User

Super User

 

مسجد امیر چقماق، جسے یزد کی تاریخ میں مسجد جامع نو اور یا مسجد دھوک بھی کہا گیا ہے، تیموری دور میں، شاہرخ کے دربار کے مقرب اور یزد کے حاکم امیر جلال الدین چقماق شامی اور ان کی شریک حیات ستی فاطمہ کی ہمت سے یہ مسجد تعمیر کی گئ ہے۔

 مذکورہ مسجد شاہرخ میرزا تیموری کی بادشاہی میں سنہ 841ھ میں تعمیر کی گئی ہے کہ شکوہ، عظمت اور خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک شہر یزد کی مسجد جامع کے بعد بہترین اور قابل اعتبار ترین مسجد ہے۔

یہ مسجد پہلے، شہر سے باہر تھی، حتی محمد شاہ قاچار کی سلطنت تک شہر کی دیوار موجود تھی اور یہ مسجد شہر سے باہر تھی۔

فتح علی شاہ قاچار کی حکمرانی کے دوران، حاجی حسین عطار کے توسط سے اس مسجد کے شبستان میں کچھ تغییرات انجام پائے ہیں۔

اس مسجد کا ایک ایوان، بلند صدرد روازہ اور ایک خوبصورت پیشخوان ( کاونٹر) ہے جس سے اس مسجد کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ اس مسجد میں داخل ہونے کے دو صدر دروازے ہیں، جن میں سے ایک مشرق کی طرف اور دوسرا شمال کی طرف ہے اور دونوں دروازے بلند ایوان سے ملحق ہیں۔ اس میں کئی باشکوہ کتیبے ہیں جو خطاطی کی ہنر کے لحاظ سے کافی اہمیت کے حامل ہیں اور مسجد کی تعمیر کی تاریخ ان کتیبوں میں درج کی گئی ہے۔ مسجد کے دوشبستان ہیں، ایک گرمائی اور دوسرا سرمائی شبستان۔ اس کے گرمائی شبستان میں ایک خوبصورت ہواکش (باد گیر) لگا ہوا ہے۔

اس مسجد کا محراب خوبصورت سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے جس کے حاشیے معرق ٹائیلوں سے مزیّن کئے گئے ہیں اور ان پتھروں پر قرآن مجید کی چند آیات کندہ کی گئی ہیں۔

مسجد کے شبستان کے دونوں طرف کئی طاق ہیں، اس کے پچھلے حصہ میں ڈالان ہیں، شبستان کو چھ ضلعوں والی ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔ اس کے محراب کو لاجوردی،طلائی اور سفید رنگ کی ٹایلوں سےمزیّن کیاگیا ہے۔ شبستان کی روشنی اس کی چھت پر نصب چار پنجروں سے حاصل ہو تی ہے،اس کی دیواریں سفید چونے اورایوان لاجوردی اورسبز رنگ کی ٹایلوں اور اینٹوں سےسجائی کئی ہیں۔مسجد کے سرمائی شبستان مسجدمیں داخل ہونے کے ڈالان کے دونوں طرف واقع ہیں اور ان کی روشنی سنگ مرمر سے حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح مسجد کا مؤذّنہ مستطیل شکل کی اینٹوں سے بنا ہوا ہے جو مسجد کے مشرقی ضلع کے صدر دروازے پر واقع ہے۔

یہ مسجد میدان امیر چخماق کے جنوبی ضلع پر واقع ہے اور میدان کی طرف کھلنے والے دروازہ پر ایک پتھر نصب کیا گیا ہے،جس پر اس مسجد کے وقف نامہ کا متن خط نسخ میں کندہ کیا ہوا ہے۔

ستی فاطمہ کی آرام گاہ کے علاوہ ان کے شوہر اور اس مسجد کے بانی امیر چقماق کا مقبرہ بھی معماری کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ اس گنبد کو تیموری معماری سے الہام لے کر تعمیر کیا گیا ہے اور ایران میں منفرد نمونہ ہے۔

شمالی ڈالان کے دونوں طرف معرق ٹائیلوں کے بنے ہوئے پنجرے ہیں۔ ایوان کا صدر دروازہمعرق ٹائیلوں سے سجا ہوا ہے، جن میں کچھ کتیبے موجود ہیں، جن کی عبارت حسب ذیل ہے:

ڈالان کے اوپر دائیں جانب لفظ " اللہ" خط کوفی میں لکھا گیا ہے، اس کے داخل میں بھی اسی خط میں( دونوں اطراف میں ایک دوسرے کے مقابلے میں) سورہ حمد( فاتحہ) اور مذکورہ لفظ کے اوپر ایک سیدھے خط میں :" اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" اور " بسم اللہ الرحمن الرحیم" لکھا گیا ہے۔ مذکورہ کتیبہ کے اوپر خط کوفی میں لفظ " محمد" لکھا گیا ہے۔

گنبد کے بیرونی حصہ پر اور اس کے ارد گرد، خط کوفی میں یہ عبارت لکھی گئی ہے:" السلطان ظل اللہ"۔ محراب کا اصلی حصہ معرق ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے اور اس کے درمیان میں ایک خوبصورت سنگ مرمر نصب کیا گیا ہے جس کی لمبائی 38/ 2میٹر اور چوڑائی 15/1 میٹر ہے۔

سنگ مرمر کے کتیبوں کی عبارت حسب ذیل ہے:" قال اللہ تبارک و تعالی جل جلالہ وعم نوالہ اقم الصلوہ۔ ۔ ۔ مقاماً محموداً صدق اللہ وھو علی کل شیء قدیر" یہ عبارت خط نسخ میں لکھی گئی ہے۔ اس سنگ مرمر کے نیچے دونوں طرف اور درمیان میں قندیل اوربیل بوٹوں کی نقش نگاری کی گئی ہے اور اس کے اطراف میں موجود کتیبہ پر خط کوفی میں یہ عبارت لکھی گئی ہے:"قال اللہ تبارک و تعالی انما یعمر مساجداللہ من آمن باللہ والیوم الاخر واقم الصلوہ واتی الزکوة ولم یخش الا اللہ فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین"

مسجد کے مشرقی صدر دروازہ پرمعرق ٹائیلوں سے بناہوا خط ثلث میں ایک کتیبہ ہے، جسے صفوی دور کے مشہور اور معروف خطاط محمد الحکیم مولانا شمس الدین محمد شاہ حکیم نے لکھا ہے۔ ان ہی کے قلم سے ایک اور کتیبہ مسجد جامع کی اصلی دھیلز پر بھی موجود ہے۔

مسجد امیر چقماق یزد، رات کا ایک خوبصورت منظر

پاکستان، افغانستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے ان ممالک کی حکومتوں اور عوام سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے تعزیتی پیغام کے ساتھ ساتھ ایران کی ہلال احمر کمیٹی کے سربراہ نے پاکستان و افغانستان کی ہلال احمر کمیٹیوں کے سربراہوں کے نام اپنے الگ الگ پیغامات میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لئے فوری طور پر امدادی ٹیمیں روانہ کرنے کے لئے ایران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی ہلال احمر کمیٹی کے سربراہ امیر محسن ضیائی نے پیر کے روز اپنے افغان اور پاکستانی ہم منصب کے نام علیحدہ علیحدہ پیغامات میں ان ملکوں میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات پر تعزیت پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اپنی طبی و امدادی ٹیمیں فوری طور پر پاکستان اور افغانستان روانہ کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

پاکستان کی ہلال احمر کمیٹی کے سربراہ سعید الہی اور افغانستان کی ہلال احمر کمیٹی کی سربراہ فاطمہ گیلانی کے نام ایران کی ہلال احمر کمیٹی کے سربراہ امیر محسن ضیائی کے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں آیا ہے کہ ایران کی ہلال احمر کمیٹی اس طرح کے افسوسناک واقعات کا مقابلہ کرنے میں ان دونوں ملکوں کی ہلال احمر کمیٹیوں کی توانائیوں سے مکمل طور پر واقف ہے تاہم ایران، ان کی امدادی کارروائیوں کی حمایت کے لئے فوری طور پر اپنی امدادی و طبی ٹیمیں روانہ کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

۲۰۱۵/۰۸/۲۳ – رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج و زیارات کے اراکین سے ملاقات میں حج کو اسلام کی بقا اور امت اسلامی کے وحدت و عظمت کا مظہر اور اسی کے ساتھ اس بزرگ اجتماعی اور انفرادی فریضے کے زریعے ملت ایران کے وحدت بخش تجربات کو دوران حج دوسروں تک منتقل کرنے کو امت مسلمہ کی ہمبستگی، ہمدلی اور اقتدار کا سبب قرار دیا۔
آپ نے تمام اسلامی عبادات کے مقابلے میں حج کی بے نظیر خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کے دو منفرد اجتماعی اور انفرادی پہلو ہیں کہ ان دونوں پہلووں کی رعیات کے زریعے حجاج کرام اور مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی سعادت میں خاص اثر واقع ہوتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے خانہ خدا کی زیارت اور حج کے مناسک کو روح کی تطہیر کے لئے نے نظیر موقع، خداوند متعال سے نزدیک ہونے کا زریعہ اور توشہ عمر کی فراہمی کا زریعہ قرار دیتے ہوئے خانہ خدا کے زائرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کے ہر ہر عمل کی قدر کریں اور اپنی روح اور جان کو اس بزرگ نعمت کے سرچشمے سے پاکیزہ اور سیراب کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے حج کے اجتماعی پہلو نیز رنگ و نسل، مذہب و ثقافت اور ظاہری فرق کے ساتھ تمام اقوام و ملل کے مکہ اور مدینہ میں حاضر ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حج وحدت اسلامی کی حقیقی فرصت اور مظہر ہے۔
آپ نے ان لوگوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہ جو مختلف طریقوں سے قوم اور نسل جیسے مفاہیم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں نیز امت مسلمہ کی حقیقت اور اہمیت کو کم رنگ کر رہے ہیں فرمایا کہ حج اسلامی امت کی تشکیل کا با معنی نمونہ اور ہم زبانی، ہم دلی اور مسلمانان عالم سے ہمدردی کے اظہار کا عظیم موقع ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امت اسلامی کی عظمت کی تجلی اور ایک دوسرے کے تجربات کے تبادلے کو حج کے اجتماعی پہلو کا ایک اور اہم نکتہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کے آپس میں تجربات کو تبادلہ اور انہیں بیان کرنے سے اسلامی امت کی تقویت میں اضافہ ہوتا ہے۔
آپ نے تمام تر موضوعات میں ملت ایران کے موثر اور کارآمد تجربات من جملہ دشمن شناسی، دشمن پر اعتماد نہ کرنے اور دوست کو دشمن نہ سمجھنے جیسے موضوعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اپنے فہم و ادارک سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عالمی استکبار اور صیہونیت، ملت ایران اور امت اسلامی کے حقیقی دشمن ہیں اور اسی بنا پر تمام عظیم قومی اور مذہبی جلسوں میں وہ لوگ امریکا اور صیہونیت کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ گذشتہ ۳۶ سالوں کے دوران استکبار نے ایران کے ساتھ دشمنی کو دوسرے ممالک کی زبانی اور انکے طرز عمل کے زریعے انجام دیا ہے لیکن ملت ایران ہمیشہ اس بات کی جانب متوجہ ہے کہ یہ ممالک فریب خوردہ اور آلہ کار ہیں اور اصلی دمشن وہی امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے بعض ممالک میں مختلف اسلامی گروہوں کی جانب سے حکومت قاٗم کرنے کے ناکام تجربے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں نے ملت ایران کے برخلاف دوست اور دشمن کو پہچاننے میں غلطی کی اور اسی وجہ سے نقصان اٹھایا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے حج کے دوران اتحاد کے تجربے کو ملت ایران کی جانب سے دوسری ملتوں کو منتقل کرنے کے قابل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے عوام نے اپنے تمام تر عقیدتی، فکری اور سیاسی اختلافات اور قوم و قبیلے کے فرق کے باوجود اپنی قومی وحدت کی حفاظت کی ہے اور وہ اس نعمت الہیٰ کی قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہیں اور اس گرانقدر تجربے کو دوسری مسلمان ملتوں کو منتقل کیا جانا ضروری ہے۔
آپ نے بعض ممالک میں مذہبی، سیاسی حتی گروہی بنیادوں پر جنگ و جدل و وحدت جیسی نعمت کی قدر نہ کرنے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خداوند متعال کی کسی بھی ملت سے رشتے داری نہیں ہے اور اگر لوگ اتحاد اور ہمدلی کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھیں گے تو خداوند متعال انہیں اختلافات، جنگ وجدل اور خونریزی جیسی بلاوں میں مبتلا کردے گا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلام، ایران اور اسلامی نظام کے خلاف عالمی ستمگروں کی سازشوں کی ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ شیعیت اور ایران کے خلاف نہیں بلکہ قرآن کے خلاف سازشیں کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ قرآن اور اسلام ملتوں کی بیداری کا مرکز ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مستکبرین کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان اثر و رسوخ پیدا کرنے اور انہیں نقصان پہچانے کے طریقوں تک رساٗی حاصل کرنے کی مسلسل کوششوں کیا جنب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ استکبار کی جانب سے بے دریغ مالی امداد کی وجہ سے امریکہ، یورپ، مقبوضہ فلسطین اور اس سے وابستہ دوسرے ممالک میں دسیوں ایسے مراکز اور فکری اور سیاسی ادارے کام کر رہے ہیں کہ جو اسلام اور شیعیت کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق میں مشغول ہیں تاکہ امت مسلمہ میں موجود بیداری اور اقتدار آفرین عوامل کی شناسائی کی جائے اور ان سے مقابلے کو عملیاتی کیا جائے۔
آپ نے فرمایا کہ عالمی غنڈے اسلام کے نام پر شدت پسندی اور فرقہ واریت کے پروگرام کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ دین مبین اسلام کو بدنام کریں، ملتوں کو آپس میں لڑوائیں حتیٰ ایک قوم میں جنگ وجدل کے زریعے اسلامی امت کو کمزور کر سکیں لیکن حج کے ایام میں ملت ایران کے دشمن کو پہچاننے اور وحدت بخش تجربات کو دوسری قوموں کو منتقل کرنے سے اس طرح کی سازشوں سے بچا جا سکتا ہے۔
رہبر انقلاب نے مزید فرمایا کہ البتہ حج کے ایام میں ملتوں کے درمیان اپنے تجربات کے بارے میں تبادلہ خیال کے بھی مخالفین موجود ہیں لیکن بہرحال اس کا راستہ ڈھونڈنا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں ایک بار پھر حج کے انفرادی اور اجتماعی زاویوں کی جانب توجہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حجاج محترم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معطر شہر میں سانس لینے کے بے نظیر موقع کو اور مکہ معظمہ اور خانہ خدا میں عبادی اور مشتاقانہ حضور کو بازار میں گھومنے پھرنے اور خریداری کرنے میں ضایع کردیں اور پھر پوری زندگی مسجدالحرام اور مسجد النبی میں اس بے نظیر  اور با نشاط فرصت سے استفادہ نہ کرنے کا قلق اس کے دل میں رہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو میں حج کے اجرا کے لئے کوشش کرنے کو زیبا ترین اور با شکوہ ترین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے حج کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی تمام تر توانائیوں کو حج کے صحیح اجرا کے لئے استعمال کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے قبل نمائندہ ولی فقیہ اور ایرانی زائرین کے سرپرست حجت الاسلام و المسلمین قاضی عسکر نے عشرہ کرامت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس سال حج کو " معنویت، بصیرت اور ہمدلی کا حج" قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ حج کی عالی حکمت عملی اور اسٹریٹجی، انسانی علم و دانش میں ارتقاء، زائرین اور علما کے کاروانوں کی با معرفت تربیت، علمی نشستوں کا انعقاد اور زائرین اور حج کے منتظمین کی ظرفیت سے صحیح استفادہ کرنا حج کے مراسم کے انعقاد کے اہم پہلووں میں سے ہے۔
نمائندہ ولی فقیہ اور زائرین کے سرپرست نے کہا کہ اس سال حج کو ملت ایران کی عزت وکرامت کے تحفظ کے ضمن میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی وحدت کے مرکز میں تبدیل ہو جانا چاہئے۔
حج و زیارات آرگنائزیشن کے سربراہ جناب اوحدی نے بھی اس آرگنائزیشن کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے زائرین کی جانب سے حج کے لئے نام لکھوانے کے عمل کو آسان کرنے، باسٹھ فیصد زائرین کی براہ راست مدینہ منورہ بذریعہ ہوائی جہاز بھیجنے، کھانے پینے میں تنوع، زائرین کی ضرورت کی اشیاء کی ملک میں داخلی سطح پر فراہمی، تمام تر خدمات کی قیمت میں کمی اور حج سے متعلق تمام تر پروگرام کی جدید ٹیکنالوجی کے زریعے اطلاع رسانی کواس سال حج کے لئے حج و زیارات آرگنائزیشن کے عملی اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال ہمارے ملک سے ۶۴ ہزار زائرین کے ۴۵۵ کاروانوں کی صورت میں حج پر جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات سے پہلے حج سے متعلق کتابوں اور تصاویر کی نمایش کا دیدار بھی کیا۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سید حسن فیروز آبادی نے دوبارہ میزائل تجربے شروع کرنے کی درخواست پر مبنی پارلیمانی اراکین کے بیان کے بعد آج اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ میزائل تجربے کرنے کے لئے ایک پالیسی ساز کمیٹی، مسائل کا جائزہ لیتی ہے اور اسے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر رہبر انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور آپ کی اجازت ملنے کے بعد تجربے کئے جاتے ہیں۔ جنرل فیروز آبادی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے جن امور کی اجازت دی ہے وہ مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے پاس ہیں اور مناسب مواقع پر ان پر عمل کیا جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ، ملت ایران کی استقامت کا نتیجہ ہے اور ملت ایران نے مغرب کے تمام تر دباؤ کے باوجود اسے تسلیم ہونے پر مجبور کر دیا۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اتوار کے روز مسلط کردہ جنگ کے اسیروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منعقدہ پہلی قومی کانفرنس سے خطاب کیا- اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ مغربی ملکوں نے بارہا پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی ایران کی کوششوں نیز یورینیم کی افزودگی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ این پی ٹی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ ملک جو ایٹمی ٹیکنالوجی کا حامل ہے وہ یورینیم کی افزودگی کر سکتا ہے۔ اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ ملت ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے سے، مسلط کردہ جنگ کے زمانے تک سخت ترین حالات کا مقابلہ کرکے انہیں مواقع میں تبدیل کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ اور علاقے کے عرب ملکوں کے دعو‏ؤں کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف اتحاد کی بنیاد ہی جھوٹ ہے اور یہ اتحاد، داعش کے خلاف لڑنا نہیں چاہتا بلکہ اس گروہ کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے جنگ عراق اور امریکہ کی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق پر امریکہ کے قبضے اور اسکے نتیجے میں عراقی عوام کے سامنے آںے والے مسائل کے باوجود عراقی قوم نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور اسی استقامت و صبر کے نتیجے میں انہیں امریکیوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیابی ملی۔

اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کا آٹھواں اجلاس "پیغمبر رحمت اور استقامت کے ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری" کے زیر عنوان تہران میں شروع ہو گیا ہے۔

تہران میں "پیغمبر رحمت اور استقامت کے ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری" کے زیر عنوان شروع ہونے والے اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کے آٹھویں اجلاس میں پینتیس ممالک کی شخصیات شریک ہیں۔ میڈیا ٹیکنالوجی کی نمائش کا افتتاح، "پاکیزہ ذرائع ابلاغ، پاکیزہ پروڈکشن" کے نعرے کے ساتھ پاکیزہ میڈیا برانڈ اور یو نیوز خبر رساں ایجنسی کا افتتاح اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کے آٹھویں اجلاس کے موقع پر "اتحاد" کے نام سے اسلامی فلم مارکیٹ فیسٹول کا انعقاد بھی عمل لایا گیا ہے۔ جس کا مقصد عالم اسلام کے ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں کو متعارف کرانے کے مقصد سے صاف ستھرے ذرائع ابلاغ کی پروڈکشن کو پیش کرنا ہے۔ اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کا قیام اسلامی جمہوریہ ایران کی تجویز پر عمل میں لایا گیا۔ اس یونین کے قیام کا مقصد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر تسلط پسند طاقتوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس یونین کے دو سو بیس سے زیادہ ارکان ہیں۔ حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے تہران میں اس یونین کے آٹھویں اجلاس میں کہا ہے کہ سامراجی ممالک فرقہ واریت پھیلا کر خطے کی دولت اور قدرتی ذخائر کی لوٹ مار کرنا چاہتے ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے تسلط کے نظام کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دشمن کے ذرائع ابلاغ کی غلط اور بے بنیاد خبروں کا مقابلہ کرنے اور حقیقت پر مبنی خبریں منظر عام پر لانے کو اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کا ایک اہم مقصد قرار دیا۔ عراق کے حکومت قانون اتحاد کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نوری مالکی نے اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کے آٹھویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں اسلامی ممالک کو جن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے ان کا مقابلہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ نوری مالکی نے مزید کہا کہ ذرائع ابلاغ پیغام پہنچانے کے سلسلے میں گرانقدر کردار کے حامل ہیں اور اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کے اراکین کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اسلامی عدل و انصاف کا پیغام دنیا تک پہنچائیں۔ نوری مالکی نے اسلام کے عدل و انصاف پر مبنی پیغام کو اتحاد اور وحدت برقرار کرنے والا پیغام قرار دیا۔

بیشک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں (اسی طرح) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو تقوٰی رکھتے ہیں، (6)[10:6]

صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطینی مظاہرین پر تشدد کیا ہے-

اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت کے فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر تشدد کیا ہے- اطلاعات کے مطابق غرب اردن کی شمال مغربی سرحد پر واقع قلقیلیا شہر میں سیکڑوں فلسطینیوں نے مظاہرہ کر کے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں صیہونی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے صیہونی حکومت کے اقدام کی مذمت کی- مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں الدوابشہ خاندان کے شہیدوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ قدس کی غاصب صیہونی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت پر زور دے رہے تھے- قلقیلیا کی عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹر مراد اشتیوی نے کہا کہ غاصب اسرائیل کی فوج کے خصوصی دستوں نے مظاہرین پر پلاسٹک کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا- انہوں نے کہا کہ غاصب فوجیوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مظاہرین کے خلاف جنگی گولیاں بھی استعمال کیں جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے اور آنسو گیس کی وجہ سے ان کو سانس لینے میں دشواری پیش آئی- زخمیوں میں بچے اور فلسطینیوں کے حامی بعض غیرملکی بھی شامل ہیں- ادھر رام اللہ کے مشرقی علاقے سلواد میں بھی صیہونی فوجیوں کی اسی طرح کا مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور انھوں نے ان پر فائرنگ کی- صیہونی فوجیوں کے اس حملے میں کم سے کم نو فلسطینی زخمی ہو گئے- دریں اثنا صیہونی فوجیوں نے ہفتے کی صبح نابلس کے مغرب میں واقع ایک گاؤں کفر قدوم کو فوجی علاقہ قرار دے کر اس کے داخلی راستے بند کر دئیے-

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی رو سے بعض محدودیتوں کے باوجود ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں بند نہیں ہوں گی-

رپورٹ کے مطابق علی اکبر صالحی نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی معاہدے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران میں نو ہزار ایک سو سنٹری فیوج مشینیں کام کر رہی ہیں جو سال میں دو ٹن یورینیم کی افزودگی کا کام کر سکتی ہیں۔ ایران کے، ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ زیادہ سنٹری فیوج مشینیں کیوں نہں بنائی گئیں، کہا کہ ایٹمی صنعت کوئی ایسی صنعت نہیں ہے کہ مشین کا ایک نمونہ بنالیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اسے بڑی تعداد میں تیار کر لیا گیا ہے بلکہ اس صنعت کی سیفٹی کے لئے خاص تدابیر اپنانی پڑتی ہیں تاکہ مطلوبہ مشینوں کو مکمل اعتماد کے ساتھ ایٹمی بجلی گھر کے سسٹم میں شامل کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ آٹھ سے دس سال کی مدت ایٹمی صنعت میں تحقیقات اور توسیع کے لئے مناسب ہے اور اس دوران ایران کے ایٹمی ثمرات کو مکمل پر حاصل کیا جا سکتا ہے اور رکاوٹوں کو دور نیز ایٹمی ایندھن بنانے کے لئے بین الاقوامی تعاون سے اس سائیکل کو مکمل کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان میں مانسون کی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں تباہ کاریاں جاری ہیں اور اب تک دو سو افراد کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق ہو چکی ہے۔

رپورٹوں کے مطابق ہندوستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران گجرات، راجستھان، مغربی بنگال، منی پور اور اوڑیسہ ریاستیں مانسون کی موسلا دھار بارشوں اور نتیجے میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے کافی متاثر ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان شمال مشرقی ریاست منی پور میں ہوا جہاں ستّر فیصد سے زیادہ زرعی اراضی تباہ اور سات سو گھر پانی میں ڈوب گئے۔ ریاست گجرات کے اعلی عہدے داروں کا بھی کہنا ہے کہ ریاست میں سیلاب کے نتیجے میں ترپن افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ تقریبا چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔