Super User

Super User

بین الاقوامی گروپ: چیئرمین تنظیم اتحاد امت ضیا الحق نقشبندی کا کہنا تھا کہ نبی رحمتﷺ کا پیغام امن پوری دنیا میں پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے، حالات اور وقت کی مشکلات نے یہ ثابت کیا ہے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوا کرتا، تمام تر مسائل و معاملات مذاکرات کی میز پر ہی حل کیے جائیں تو جنگوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر دہشتگردی کو اسلام کیساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اسلام کیساتھ جڑے ہوئے دہشتگردوں کو الگ کرنے ضرورت ہے۔

تنظیم اتحاد امت پاکستان ربیع الاول شریف کو ’’امن و محبت‘‘ کے طور پر منائے گی۔ اس سلسلہ میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جشن عید میلادالنبی ﷺ بھرپور مذہبی جوش و خروش سے منائی جائے گی۔ صوبوں، اضلاع اور تحصیلوں، قصبوں اور دیہاتوں میں بعنوان ’’امن و محبت کانفرنسوں‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔ 12 ربیع الاول شریف کو ’’جشن عید میلادالنبی ﷺ ریلیاں‘‘ نکالی جائیں گی جن میں علماء کرام و مشائخ عظام خطابات کریں گے۔ یہ بات چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان محمد ضیاء الحق نقشبندی نے لاہور میں ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ نبی رحمتﷺ کا پیغام امن پوری دنیا میں پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے، حالات اور وقت کی مشکلات نے یہ ثابت کیا ہے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوا کرتا، تمام تر مسائل و معاملات مذاکرات کی میز پر ہی حل کیے جائیں تو جنگوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر دہشتگردی کو اسلام کیساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اسلام کیساتھ جڑے ہوئے دہشتگردوں کو الگ کرنے ضرورت ہے، جس قوم کے بچے اسکول نہ جائیں اسی قوم میں دہشتگردی فروغ پاتی ہے، قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ والا پاکستان وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کیلئے ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیے، معیاری اور یکساں نصاب سے 18 کڑور عوام ایک قوم کو روپ اپنا سکتی ہے جبکہ اساتذہ کی تربیت کے بغیر جدید نصاب بھی کچھ نہ کر پائے گا۔ اسناد کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ اجلاس میں ایگزیکٹو بورڈ کے سرکردہ راہنماؤں نے شرکت کی۔

بین الاقوامی گروپ: مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکہ میں آباد دیگر برادریوں کی طرح مسلمان بھی محب وطن امریکی ہیں۔مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

امریکی صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ریپبلکن ”ڈونلڈ ٹرمپ “کے حالیہ بیان اور دہشت گردی کے خلاف امریکی مسلمانوں نے نیویارک کے” ٹائمز اسکوائر “پراحتجاجی ریلی نکالی۔

ریلی کا اہتمام درجنوں مسلم تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس کے لیے کئی دنوں سے ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر مہم چلائی جارہی تھی۔ریلی میںامریکہ میں مقیم مسلمان مرد و خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شریک تھے ،لیکن ان میں اکثریت امریکہ میں پیدا ہونے والے اُن نوجوان اور اسکول کے بچوں کی تھی جن کے بقول اسکولوں میں خصوصاً کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعے اور ٹرمپ کے مسلمانوں سے متعلق ”اشتعال انگیز“ بیانات کے بعد ان کے خلاف امتیازی رویے میں اضافہ ہوا ہے۔ریلی کے شرکا دہشت گردی سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بلند آواز میں نعرے لگا رہے تھے جس سے نیویارک کا ٹائمز اسکوائر گونج اٹھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکہ میں آباد دیگر برادریوں کی طرح مسلمان بھی محب وطن امریکی ہیں۔مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور مسلم برادری بھی دہشت گردی سے نفرت کرتی ہے اور وہ مجرم نہیں بلکہ خود متاثر ہیں۔اس موقع پر ٹائم اسکوائر پر موجود دنیا بھر سے آئے سیاحوں نے ریلی کے شرکا کے نعروں کا ہاتھ لہرا کر جواب دیا جبکہ چند ایک نے آگے بڑھ کر ریلی کے شرکا کو گلے بھی لگایا۔

علامہ سید ساجدعلی نقوی نے کہا ہے کہ قرآن حکیم کے علاوہ رسول اکرم ﷺ نے اپنی سیرت‘ سنت اور احادیث کی شکل میں ایسا خزانہ امت مسلمہ کے لئے چھوڑا کہ جو آپ کے وصال کے صدیوں بعد بھی عالم انسانیت کی مکمل رہنمائی کررہا ہے اور انسانیت کو ہر میدان میں زندگی گزارنے کا طریقہ اور ترقی کا سلیقہ سکھا رہا ہے۔ اگر امت مسلمہ بالخصوص اور عالم انسانیت بالعموم حضور اکرم ﷺکی سیرت‘ سنت اور فرامین پر عمل کرے تو خطہ ارض سے تمام مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ امت مسلمہ کی نجات کے لئے وصال پیغمبر اکرم ﷺکے بعد اہل بیت اطہار ؑ نے امت کے تمام معاملات میں رہنمائی کی۔ عالم انسانیت کے انفرادی‘ اجتماعی‘ روحانی ‘ دینی و دنیاوی مسائل کا حل اہل بیت نے اپنے عمل و کردار سے پیش کیا اور خاتم النبین ﷺکے بعد حقیقی جانشین کے طور پر اپنے فرائض انجام دیئے۔خاتم المرسلین کے یوم وصال اور نواسہ رسول اکرم ﷺحضرت امام حسن علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم خواہش مند ہیں کہ سیرت رسول اکرم ﷺکا عملی مشاہدہ کریں اور سنت نبوی کی عملی تعبیر و تشریح دیکھیں تو ہمیں سیرت امام حسن ؑ کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا ہوگا کیونکہ نبی اکرم ؐ نے حضرت علی ؑ اور سیدہ فاطمہ زہرا ؑ کے بعد حضرت امام حسن ؑ کی تربیت اس نہج پر کی کہ حضرت امام حسن ؑ ہر مرحلے‘ ہرمیدان‘ ہر موڑ اور ہر انداز میں شبیہ پیغمبر ﷺ نظر آئے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ رسول خدا ﷺنے اپنی احادیث میں حضرت امام حسن ؑ کی شان و منزلت اور سخاوت و مرتبت کی نشاندہی فرمادی تھی۔ جب امام حسن ؑ کے دور میں فتنہ و فساد نے سر اٹھایا اور مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تو امام حسن ؑ نے اپنے جد امجد کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلمانوں کو امن و محبت کا درس دیا اور صلح کا راستہ اپناکر ثابت کردیا کہ اہلبیت ؑ ‘ دین محمدی ﷺکی نگہبانی کا فریضہ بخوبی ادا کرنا جانتے ہیں اور کسی صورت میں بھی اسلام کے حصے بخرے ہونا گوارہ نہیں کرتے۔قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ مو جودہ پرفتن اور سنگین حالات میں ہمیں سیرت امام حسن ؑ سے درس لیتے ہوئے باہمی اختلافات اور فروعی مسائل کے حل کے لئے امن‘ محبت‘ رواداری‘ تحمل اور برداشت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ امت مسلمہ میں شیعہ سنی کی تفریق اور مسلکی اختلافات کے خاتمے‘ امن و آشتی کے فروغ اور حکومت سازی کے اسلامی معیار کے قیام کے لئے سیرت امام حسن ؑ پر عمل ہی واحد راستہ ہے۔خوشنودی خدا،محمد وآل محمدؐ کی خاطر اپنے دشمن کے ساتھ گولی اور گالی کا طریقہ اپنانے کی بجائے علم‘ عقل و شعور‘ محبت اور تحمل و برداشت کا راستہ اپنانا ہوگا ۔

رپورٹ کے مطابق تہران کے خطیب نماز جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے کہا ہے کہ مغربی نوجوانوں کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے خط نے حق و باطل کے درمیان فرق کو نمایاں کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط مغربی نوجوانوں کے لیے دعوت فکر ہے کہ وہ سوچیں کہ تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں اصل حقائق کیوں سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ تہران کے خطیب نماز جمعہ نے کہا کہ مغربی نوجوانوں کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے خط میں دہشت گردی کے اسباب اور مغرب کے دہرے معیاروں کی انتہائی باریک بینی اور دانشمندی کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کا خط اسلامی انقلاب کے عالمی ہونے کی نوید ثابت ہوگا۔

سینکڑوں مسلمانوں نے امریکہ کے شہر واشنگٹن میں سید الشہداء کی عزاداری کی اور وائٹ ہاوس کے سامنے پرچم امام حسین (ع) کو لہرا کر دھشتگردوں اور دھشتگردانہ کاروائیوں میں امریکہ کی حمایت کی مذمت کی۔
واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے عزاداروں نے سیاہ لباس پہن کر وائٹ ہاوس کے سامنے عزاداری کی اور دنیا میں جاری دھشتگردی کے خلاف احتجاج کیا۔

رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر علی لاریجانی نے کہاکہ یورپی نوجوانوں کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے خط نے سامراجی طاقتوں کے چہروں پر پڑی نقاب کھینچ کر اہم حقائق کو واضح کردیا ہے۔ انہوں نے کہا عالم اسلام شروع ہی سے جاہلانہ تشدد اور اندھے تعصبات کے خلاف جنگ کرتا چلا آیا ہے۔ اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے خط نے ،عقلانیت، حقائق اور باہمی ثقافتی احترام کی بنیاد پر، اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان رابطوں کی نئی بنیادیں فراہم کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، دراصل خطے کے عیار ڈکٹیٹروں کی خفیہ سازشوں اور بڑی طاقتوں کے انٹیلی جنس اداروں کی پیداوار ہے۔ ایران کے اسپیکر نے کہا کہ دہشت گردی کے سدباب کے لیے لشکرکشی کی ضرورت نہیں بلکہ لشکرکشی، دہشت گردی میں اضافے کا سبب بنے گی۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خطے پر تسلط جمانے کی سوچ کو ترک، اور آمر حکمرانوں کے بجائے مسلمانوں کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ خطے کی صورتحال نے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے خفیہ ہاتھوں کوآشکارہ کردیاہے- انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش نے جب مسلمانوں کا خون بہانا شروع کیا تھا اسی وقت بعض ملکوں کے دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے شواہد سامنے آگئے تھے لیکن علاقائی اتحاد اور فوجی مداخلت کےنتیجے میں دہشت گردوں کے حامی مزیدکھل کر سامنے آگئے ہیں۔

مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے کہا کہ بعض ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ خطے کی صورتحال کو درھم برھم کرکے اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بدامنی کا بحران انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ تمل ناڈو میں حالیہ شدید بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین سو پچیس ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ ریاست تمل ناڈو کے مختلف علاقے، حالیہ بارش اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، خاص طور سے چنئی، کڈلور اور کانجی پورم اضلاع میں شدید بارش اور پھر سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بتاہی ہوئی ہے۔ بعض علاقے اب بھی زیر آب ہیں۔ اسی کے ساتھ امدادی کام بڑے پیمانے پر جاری ہیں اور ریاستی حکام کے ساتھ فوج اور سماجی تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔اگرچہ سیلابی پانی میں کمی ہونے سے حالات میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن متاثرہ اضلاع کے لوگوں میں اب بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

ریاستی دارالحکومت چنئی اور ریاست کے کئی دیگر شہروں میں شدید بارش کے سبب بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع ہوگئی اور ٹیلی فون سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ بارش اور سیلاب نے سڑک، ریل اور ہوائی خدمات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق چنئی میں بہت سے سیلاب زدہ افراد کو غذائی اشیا، دوا اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے والے لوگ کھانے پینے کی اشیا کی قلت کے سبب ان کے لئے درخواست کرتے بھی دیکھے گئے ہیں۔
دریں اثنا سیلاب زدہ علاقوں میں غذائی اور دیگر ضروری اشیا کی قلت کی وجہ سے لوگوں نے احتجاج بھی کیا ہے۔ چنئی میں ہونے والے احتجاج کی وجہ سے شہر میں آمد و رفت بہت زیادہ متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تمل ناڈو کی ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں حالات معمول پر آجائیں گے۔

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگی(الکهف 107)

 ۲۰۱۵/۱۱/۲۹ – اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اتوار کے دن بحریہ کے افسروں اور کمانڈروں سے ملاقات میں سمندر کی اہمیت اور سمندر کے فوائد اور اس میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بحریہ کی قابل قدر پیشرفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اور بحریہ کی پیشرفت اور مضبوط اسٹرکچر پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ صالح، چاک و چوبند اور صحیح فکر اور مینجمنٹ کی حامل افردای قوت کے ساتھ ساتھ استقامت، راسخ عزم و ارادہ، خدا پر توکل اور روشن مستقبل کی امید وہ مددگار عناصر ہیں کہ جنہوں نے ایران اسلامی کو اس عظیم، تاریخی اور شایان شان کے مطابق مقام پر پہنچایا ہے۔
اس ملاقات میں کہ جو اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے قومی دن کی مناسبت سے انجام پائی تھی، سپریم لیڈر نے گذشتہ چند سالوں کے دوران بحریہ کی پیشرفت اور ترقی کو محسوس اور ملموس قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے سمندر کی اہمیت، عظمت اور حساسیت کو نظر انداز کیا جاتا تھا لیکن آج بحریہ نے بہت زیادہ ترقی کی ہے لیکن اب بھی مطلوبہ مقام تک فاصلہ موجود ہے۔
رہبر انقلاب نے سمندر کو دشمن کے خلاف طاقتور صف آرائی اور اسی کے ساتھ ساتھ دوستوں کے ساتھ موثر سرگرمی اور دوستانہ تعاون کی جگہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آزاد پانیوں تک رسائی، سمندر کے زریعے دنیا کی چاروں سمت کا آپس میں اتصال اور سمندر کی سطح پر ملکی دفاع کے امکانات سمندر کی مختلف برکتیں ہیں اور اعلی حکام اور عوام کو چاہئے کہ اس جانب توجہ کریں۔
آپ نے سمندر میں ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ کی تاریخی شان و منزلت کے مطابق مطلوبہ مقام پر پہنچنے کو بحریہ کی عظیم ذمہ داری قرار دیا اور فرمایا کہ ہم اب بھی آغاز سفر میں ہیں اور آپ اس کے مرد سفر ہیں تاکہ اس راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹائیں اور مستقبل کے اس مطلوبہ ہدف اور امید کو حاصل کریں۔
سپریم لیڈر نے مکران کے ساحل اور دریائے عمان کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ علاقہ، بحریہ کے لئے اپنی ذمہ دارایاں پوری کرنے کی راہ میں ایک بنیادی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور خاص طور پر اس خطے کی بحالی کے لئے حکومت کو بھی لازمی احکامات جاری کئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بحریہ کے مضبوط اسٹرکچر خاص طور پر لائق، صالح، چاک و چوبند اور ذمہ داری کا احساس کرنے والے اسٹاف کی تیاری کو بحریہ کی ذمہ داریوں کے محقق ہونے کا لازمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ افرادی قوت اور اچھی مینجمنٹ خوب معجزہ گر ہوتی ہے، جیسا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ملک کو مالی مشکلات اور مالی وسائل کی کمی کا سامنا تھا اور ابھی بھی یہ مشکل درپیش ہے، لیکن اس کے باوجود تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ مالی زرائع میں کمی اور مشکلات حتی خالی ہاتھ ہونے کے باوجود اگر اچھی مینجمنٹ ہو تو اس کے زریعے ان مشکلات سے عبور کیا جاسکتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی رح کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کو افرادی قوت کے معجزات کا ایک جلوہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی رح نے قدرت الہی پر تکیہ کرتے ہوئے اور اپنی بے مثال توانائی اور تاثیر کے زریعے ملت کے بحر بے کراں کی موجوں میں تلاطم پیدا کر دیا اور عالمی استکبار سے وابستہ اور بے پناہ وسائل اور امکانات کے حامل سیاسی نظام کا تختہ الٹ دیا۔
آپ نے مقدس دفاع میں ملت ایران کی حیرت انگیز کامیابی اور بے پناہ سیاسی اور مسلحانہ حمایت اور امکانات اور وسائل کے حامل دشمن کو شکست دینے کو افرادی قوت کا ایک اور نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آج ملت ایران اور مسلح افواج کی پیشرفت اور توانائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور استقامت، ارادے، راسخ عزم و ارادے، روشن مستقبل کی امید اور خدا پر توکل کے زریعے ملت ایران کی شان و منزلت کے مطابق پہلے سے روشن تر مستقبل کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے خطاب سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے نیول چیف ایڈمیرل سیاری نے بحریہ کی سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سربلند، چاک و چوبند، اور بلند ہمتوں کے ساتھ بڑے بڑے قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ بحریہ کے معیار کو ملت ایران کے شایان شان بنا سکیں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای  نے مغربی ممالک کے جوانوں کے نام اپنے خط میں فرانس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو باہمی مشاورت اور چارہ جوئی کے لئے زمینہ قرار دیتے ہوئے اور دنائے اسلام کے خلاف بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے دہشتگردی کی حمایت کے اثرات، اسرائیل کی غاصب حکومت کے دہشتگردانہ اقدامات کی حمایت اور دنیائے اسلام پر گذشتہ چند سالوں کے دوران ضرر رساں یلغاروں کا ذکر کرتے ہوئے جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں آپ جوانوں سے تقاضا کرتا ہوں کہ آپ لوگ درست شناخت اور غور و خوض کی بنیاد پر اور تلخ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی دنیا کے ساتھ عزت پر مبنی اور صحیح اشتراک عمل کی بنیاد رکھنے کی تیاری کریں

رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یورپی جوانوں کے نام

فرانس میں اندھی دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر مجھے آپ جوانوں سے مخاطب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے لئے یہ بہت ہی افسوس کی  بات ہے کہ اس طرح کے واقعات آپ جوانوں کے ساتھ گفتگو کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دردناک واقعات باہمی مشاورت اور چارہ جوئی کا راستہ ہموار نہ کریں تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے انسان کا غم  بجائے خود بنی نوع انسان کے لئے رنج و اندوہ کا باعث ہے۔

ایسے مناظر کہ جن میں بچہ اپنے اعزاء و اقرباء کے سامنے موت کو گلے لگا رہا ہو، ماں کہ جس کی وجہ سے اس کے اہل خانہ کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوجائیں، شوہر جو اپنی بیوی کے بے جان جسم کو تیزی کے ساتھ کسی سمت لے جا رہا ہو، یا وہ تماشائی کہ جسے یہ نہیں معلوم وہ چند لمحوں کے بعد خود اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے والا ہے،  یہ وہ  مناظر نہیں ہیں کہ جو انسان کے جذبات و احساسات کو نہ ابھارتے ہوں۔ ہر وہ شخص کہ جس میں محبت اور انسانیت پائي جاتی ہو۔ ان مناظر کو دیکھ کر متاثر  اور رنج و الم کا شکار ہوجاتا ہے۔ چاہے اس طرح کے واقعات فرانس میں رونما ہوئے ہوں، فلسطین یا عراق، لبنان اور شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمان اسی احساس کے حامل ہیں اور وہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بے زار ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے رنج و الم ایک اچھے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کا سبب نہ بنیں تو وہ  صرف تلخ اور بے ثمر یادوں کی صورت میں باقی رہ جائیں گے ۔ میرا اس بات پر ایمان  ہے کہ صرف آپ جوان ہی ہیں جو آج کی مشکلات سے سبق حاصل کر کے اس بات پر قادر ہو جائيں کہ مستقبل کی تعمیر کے لئے نئي راہیں تلاش کر سکیں اور ان غلط راستوں پر رکاوٹ بن جائیں کہ جو یورپ کو موجودہ مقام تک پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ آج دہشت گردی ہمارا اور آپ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ لیکن آپ لوگوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس بدامنی اور اضطراب کا حالیہ واقعات کے دوران آپ لوگوں کو سامنا کرنا  پڑا ہے ان مشکلات میں اور برسہا برس سے عراق، یمن، شام اور افغانستان کے لوگوں نے جو مشکلات برداشت کی ہیں ان میں دو اہم فرق پائے جاتے ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ اسلامی دنیا مختلف زاویوں سے نہایت ویسع اور بڑے پیمانے پر اور ایک بہت لمبے عرصے تک تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے۔ دوسرے یہ کہ افسوس کہ اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے  مختلف اور موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاید ہی کوئي ایسا فرد ہوگا جو القاعدہ، طالبان اور ان سے وابستہ منحوس گروہوں کو وجود میں لانے، ان کی تقویت اور ان کو مسلح کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے کردار سے آگاہ نہ ہو۔ اس براہ راست حمایت کے علاوہ تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام کے حامل ہونے کے باوجود ہمیشہ یورپ کے اتحادیوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے میں آگے کی جانب گامزن جمہوریت سے جنم لینے والے ترقی یافتہ اور روشن ترین نظریات کو بڑی بے رحمی کے ساتھ کچلا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا میں بیداری کی تحریک  کے ساتھ یورپ کا دوہرا رویہ یورپی پالیسیوں میں  پائےجانے والے تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس تضاد کی ایک تصویر اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کی حمایت کی صورت میں نظر آتی ہے۔ فلسطین کے مظلوم عوام ساٹھ سال سے زیادہ عرصے سے بدترین دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اگر یورپ کے عوام آج چند دنوں کے لئے اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں اور وہ عوامی مقامات اور پرہجوم علاقوں میں جانے سے گریز کر رہے ہیں تو فلسطینی خاندان دسیوں برسوں سے حتی اپنے گھروں میں بھی غاصب صیہونی حکومت کی تباہی و بربادی اور قتل و غارت گری کی مشینری سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ آج کونسے تشدد کا موازنہ صیہونی بستیوں کی تعمیر کے شدت ظلم کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاسکتا ہے؟ یہ حکومت روزانہ فلسطینیوں کے گھروں کو ویران اور ان کے باغات اور کھیتوں کو نیست و نابود کر رہی ہے لیکن اس کے بااثر اتحادی یا کم از کم بظاہر آزاد بین الاقوامی ادارے موثر انداز میں اور سنجیدہ طور  اس کی مذمت بھی نہیں کرتے  حتی فلسطینیوں کو اپنا ساز و سامان دوسری جگہ منتقل کرنے اور غلہ جات کو اکٹھا کرنے کا موقع بھی نہیں دیتی اور یہ سب کچھ وہ ان  دہشت زدہ ، سہمی اور روتی ہوئي خواتین اور بچوں کی آنکھوں کے سامنے انجام دیتی ہے کہ جو اپنے گھرانے کے افراد کو زد وکوب ہوتا ہوا اور بعض اوقات ان کو خوفناک ٹارچر سیلوں میں منتقل کئے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ کیا آج کی دنیا میں آپ کو کوئی اور ایسا ظلم نظر آتا ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر یا اتنے زیادہ عرصے تک کیا گيا ہو؟ سڑک کے درمیان میں ایک ایسی خاتون کو گولی مار دی جائے جس کا جرم صرف یہ ہو کہ اس نے سر سے پاؤں تک مسلح فوجی کے خلاف احتجاج کیا ہے تو یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس بربریت کا ارتکاب چونکہ ایک قابض حکومت کے فوجی کرتے ہیں تو کیا اسے دہشت گردی نہیں کہنا چاہئے؟ یا یہ تصاویر صرف اس لئے ہمارے ضمیر کو بیدار نہیں کرتیں کہ چونکہ ساٹھ برسوں کے دوران بارہا ان کو ٹیلی ویژن سے دیکھا جا چکا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران اسلامی دنیا پر کئے جانے والے متعدد حملے بھی ، کہ جن کے دوران بے شمار جانی نقصان ہوا، یورپ کی متضاد منطق کا ایک اور نمونہ ہے۔ جن ممالک پر یلغارکی گئی ہے ان کو جہاں انسانی جانوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں وہ اپنی بنیادی اقتصادی اور صنعتی تنصیبات سے بھی محروم ہوچکے ہیں، ان کی ترقی و پیشرفت کا سفر یا تو رک چکا ہے یا اس کی رفتار کم ہوگئي ہے اور موارد میں وہ دسیوں سال پيچھے چلے گئے ہیں۔ اس کے باوجود نہایت گستاخانہ انداز میں  ان سے کہا جاتا ہےکہ وہ اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھیں۔ ایسا کیسے ہوسکتاہے کہ کسی ملک کو ویرانے میں تبدیل کردیا جائے، اس کے شہروں اور دیہاتوں کو کھنڈرات میں بدل دیاجائے اور پھر ان سے کہا جائے کہ برائے مہربانی آپ لوگ اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھیں۔ کیا انہیں اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھنے یا المناک واقعات کو بھلا دینے کی تلقین کرنےکے بجائے ان سے سچے دل سے معافی مانگنا بہتر نہیں ہے؟ حالیہ برسوں کے دوران اسلامی دنیا کو جارحین کے بناوٹی چہروں اور منافقت سے جس الم و رنج کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ مادّی نقصانات سے کم نہیں ہے۔

اے عزیز جوانو! مجھےامید ہے کہ آپ لوگ موجودہ اور آنے والے زمانے میں جھوٹ سے آلودہ اس ذہنیت کو بدل دیں گے وہ ذہنیت کہ جس کا بڑا فن دور رس مقاصد کو چھپانا اور نقصان دہ اغراض و مقاصد کی آرائش کرنا ہے۔ میرے نزدیک امن و امان کی برقراری کا پہلا مرحلہ تشدد پیدا کرنے والی اس فکر کو بدلنے سے عبارت ہے۔ یورپ کی پالیسی پر جب تک دوہرے معیارات چھائے رہیں گے اور جب تک دہشت گردی کے طاقتور حامی اسے اچھی اور بری دہشت گردی میں تقسیم کرتے رہے گے اور جب تک حکومتوں کے مفادات کو انسانی اور اخلاقی اقدار پر ترجیح دی جاتی رہے گی تب تک تشدد کا سبب کسی اور چیز میں تلاش نہیں کرنا چاہئے۔

افسوس کہ برسہا برس سے یہ علل و اسباب تدریجا یورپ کی ثقافتی پالیسیوں میں بھی رسوخ کر چکے ہیں اور انہوں نے ایک نرم اور خاموش یلغار شروع کر رکھی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اپنی مقامی اور قومی ثقافت پر فخر کرتے ہیں۔ ایسی ثقافتیں کہ جو ثمر کا حامل اور بالیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیکڑوں برسوں سے انسانی معاشروں کی بطریق احسن  پرورش کر رہی ہیں۔ اسلامی دنیا بھی اس امر سے مستثنی نہیں ہے۔ لیکن عصر حاضر میں یورپی دنیا جدید ترین آلات کا سہارا لے کر پوری دنیا پر ایک جیسی ثقافت اور کلچر مسلط کرنے کے درپے  ہے۔ میں مغربی ثقافت کو دوسری قوموں پر مسلط کرنے اور آزاد ثقافتوں کو حقیر سمجھنے کو ایک خاموش اور بہت ہی نقصان دہ تشدد سمجھتا ہوں۔ ایسی حالتوں میں مالا مال ثقافتوں کو حقیر سمجھا جا رہا ہے اور ان کے قابل احترام ارکان کی توہین کی جا رہی ہے کہ جب ان کی متبادل ثقافتوں میں ان ثفافتوں کی جگہ لینے کی اہلیت نہیں ہے۔ مثلا جارحانہ رویہ اور اخلاقی بے راہ روی پر مبنی دو عوامل کی وجہ سے ، کہ جو یورپی ثقافت کے دو بنیادی ترکیبی عناصر میں تبدیل ہو چکے ہیں، اس ثقافت کا مقام خود اپنے اصلی مقام میں بھی گھٹ کر رہ گیا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم معنویت سے عاری، جنگ پسند اور فحش ثقافت کو تسلیم نہ کریں تو کیا ہم گناہ گار ہیں؟ اگر ہم فن و ہنر کے نام پر مختلف اشیاء کی صورت میں اپنے جوانوں کے طرف امنڈ کر آنے والے تباہ کن سیلاب کی روک تھام کریں تو کیا ہم قصور وار ہیں؟ میں ثقافتی رابطوں کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا ۔ جب بھی مطلوبہ معاشروں کے احترام کے ساتھ  اور طبیعی حالات میں یہ رابطے قائم کئے گئے تو ان کا نتیجہ ترقی و پیشرفت اور بالیدگی کی صورت میں برآمد ہوا ہے اور اس کے برعکس زبردستی مسلط کئے گئے اور ناموزوں رابطے ناکام اور نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ بہت ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ داعش جیسے پست گروہ درآمد شدہ ثفافتوں کے ساتھ اسی طرح کے ناکام رابطوں کا نتیجہ ہیں۔ اگر واقعی اعتقاد کے اعتبار سے کوئي مشکل ہوتی تو سامراجی دور سے قبل بھی اسلامی دنیا میں اس طرح کے واقعات پیش آتے حالانکہ تاریخ اس کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔ مسلمہ تاریخی حقائق سے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کس طرح  ایک مسترد کی گئي انتہا پسندانہ فکر کے ساتھ سامراج کے  رابطے نے، وہ بھی ایک بدو قبیلے میں، اس خطے میں انتہا پسندی کا بیج بویا۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دینے والے دنیا کے سب سے زیادہ انسانی ترین اور اخلاقی ترین دینی مکتب سے داعش جیسی گندگی جنم لے سکے؟

دوسری جانب یہ بھی پوچھا جانا چاہئے کہ یورپ میں پیدا ہونے والے اور اسی فکری اور روحانی ماحول میں پرورش پانے والے افراد اس طرح کے گروہوں میں کیوں شامل ہوتے ہیں؟ کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ افراد ایک دو مرتبہ جنگی علاقوں کا دورہ کر کے اس حد تک انتہا پسند بن جاتے ہیں کہ وہ اپنے ہم وطنوں پرگولیاں برسا دیں؟ یقینا آلودہ اور تشدد کو وجود میں لانے والے ماحول میں عرصۂ دراز تک نامناسب ثقافتی غذا سے پرورش پانے کے اثرات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کا ایک ایسا جامع جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ جو معاشرے کی آشکارا اور خفیہ گندگیوں کی نشاندہی کر سکے۔

شاید صنعتی اور اقتصادی ترقی کے برسوں کے دوران عدم مساوات اور بعض اوقات قانونی اور اسٹرکچرل امتیازی سلوک کے نتیجے میں مغربی معاشرے کے بعض طبقات میں بوئي جانے والی شدید نفرت کی وجہ سے ایسا کینہ پیدا ہو گیا ہے کہ جو وقتا فوقتا ایک مرض کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

بہرحال یہ اب آپ لوگ ہیں  کہ جنہیں معاشرے کے اس ظاہری خول کو اتار پھینکنا ہے اور دشمنی اور کینے کا پتہ لگا کر اسے ختم کریں۔ شگافوں کو گہرا کرنےکے بجائے پر کرنا ہے۔ دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں سب سے بڑی غلطی عجلت پر مبنی وہ رد عمل ہے کہ جو موجودہ مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں تشکیل پانے والے مسلمان معاشرے کو، کہ جو کئي ملین سرگرم اور فرض شناس انسانوں پر مشتمل  ہے ، تنہائی اور اضطراب میں مبتلا کرنے پر منتج ہونے والا ہر ایسا اقدام جو جذبات کی رو میں بہہ کر اور عجلت پسندی سے کام لے کر انجام دیا گيا ہو  اور جو اس معاشرے کو اضطراب ، تنزلی اور خوف و ہراس میں مبتلا کردے اور پہلے سے زیادہ انہیں ان کے اصلی حقوق سے محروم کر دے اور انہیں میدان عمل سے دور کردے۔ اس سے نہ صرف مشکل حل نہیں ہوگی بلکہ اس سے فاصلے مزید بڑھیں گے اور کدورتوں میں وسعت آئے گی۔ سطحی تدابیر اور رد عمل میں انجام دیئے جانےوالے اقدامات کا ،  خاص کر اگر ان کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے، سوائے موجودہ دھڑے بندیوں میں اضافہ کرنے اور آئندہ بحرانوں کا راستہ ہموار کرنے پر منتج ہونے کے علاوہ کوئي اور نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق بعض یورپی ممالک میں ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو شہریوں کو مسلمانوں کی جاسوسی پر اکساتے ہیں۔ یہ ظالمانہ رویہ ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ظلم لامحالہ ظالم کی طرف پلٹنے کی خصوصیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ مسلمان اس ناقدری کے سزاوار بھی نہیں ہیں۔ مغربی دنیا صدیوں سے مسلمانوں کو بہت اچھی طرح  پہنچانتی ہے۔ اس دن سے کہ جب یورپ والے اسلامی سرزمینوں میں مہمان تھے اور ان کی نظریں میزبانوں کی دولت پر جمی ہوئي تھیں۔ اور اس دن بھی کہ جب وہ میزبان تھے انہوں نے مسلمانوں کے کام اور ان کے افکار سے فائدہ اٹھایا ان کو مسلمانوں میں مہربانی اور صبر کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔ بنابریں میں آپ جوانوں سے تقاضا کرتا ہوں کہ آپ لوگ درست شناخت اور غور و خوض کی بنیاد پر اور تلخ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی دنیا کے ساتھ عزت پر مبنی اور صحیح اشتراک عمل کی بنیاد رکھنے کی تیاری کریں۔ اس صورت میں وہ دن دور نہیں کہ آپ لوگ یہ دیکھ لیں گے کہ آپ جن بنیادوں پر اس عمارت کو استوار کریں گے وہ اپنے معماروں کے سروں پر اطمینان اور اعتماد کا سایہ کرے گی، ان کو امن و سکون کی گرماہٹ کا تحفہ دے  گی اور صحفہ ہستی میں تابناک مستقبل کی امید کی کرن روشن کرے گی۔

سید علی خامنہ ای

8 آذر 1394 
بمطابق ۲۹ نومبر ۲۰۱۵ عیسوی