Super User

Super User

اطلاعات کے مطابق امریکا کے کئی شہروں میں نسل پرستانہ اقدامات کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ان مظاہروں میں پولیس کی مداخلت کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑا۔

نیویارک پولیس نے بدھ کی رات شکاگو اور منیا پولیس میں ہونے والے مظاہرے کی حمایت اور نسل پرستی کی مذمت کرنے والے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق نیویارک پولیس نے ان افراد کے علاوہ بھی دسیوں دیگر افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ادھر شکاگو میں حالات کشیدہ مگر کنٹرول میں بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے بدھ کے روز ایک ویڈیو فلم نشر کی تھی۔ اس ویڈیو فلم میں گزشتہ سال اکتوبر میں شکاگو میں ایک سترہ سالہ سیاہ فام لیکوان مک ڈونالڈ پر فائرنگ کا واقعہ دکھایا گیا ہے جس میں مک ڈونالڈ کو سولہ گولیاں لگیں۔ اس پرعوام نے سخت رد عمل کا اظہار اور احتجاج کیا۔

امریکی پولیس کے ایک سفید فام پولیس افسر جیسون وان ڈائک پر لیکوان مک ڈونالڈ کو جان بوجھ کر قتل کرنے کا الزام ہے۔ ویڈیو فلم میں ایک سفید فام پولیس افسر اس کے باوجود کہ ایک سیاہ فام نوجوان اس کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکا ہے پھر بھی وہ افسر سیاہ فام نوجوان پرفائرنگ کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ فائرنگ کرنے والا یہ پولیس افسر قتل کے الزام میں جیل میں ہے۔
سیاہ فام نوجوان کے قتل کی ویڈیو فلم نشر ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی رد عمل ظاہر کیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس ویڈیو پر جس میں ایک سفید فام پولیس افسرایک سیاہ فام نوجوان کو سولہ گولیاں مارکر ہلاک کرتا ہے، افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ادھر منیسوٹا ریاست کے شہر منیا پولیس میں بھی مظاہرین ایک اور سیاہ فام امریکی شہری جے کلارک کے قتل کی ویڈیو فلم نشر کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جے کلارک کو ایسی حالت میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ امریکا میں حالیہ مہینوں میں عوام نے متعدد بار نسل پرستانہ اورامتیازی سلوک اور سیاہ فام افراد کے خلاف ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بولیویا کے صدر اوو مورالیس سے ملاقات میں بولیویا اور لاطینی امریکا کے بعض دیگر ممالک کی استکبار کی دھونس اور دھمکیوں کے مقابلے میں جاذب نظر اور شجاعانہ استقامت کی قدردانی  اور دنیا اور جنوبی امریکہ میں جوانوں کی ماہیت کو تبدیل کرنے کے لئے امریکہ کی خطرناک سیاست پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ مضبوط ارادوں اور تعلقات اور تعاون میں اضافے کے زریعے اس تسلط پسندانہ سیاست کا مقابلہ کیا جانا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مستکبر امریکا کی توسیع پسندی کے مقابلے میں استقامت کو بولیویا اور صدر مورالس کا نہایت اہم بلکہ تیل کی صنعت کو قومیانے سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایران پہلا ملک تھا جو امام خمینی کی خود مختار عوامی تحریک کے ذریعے امریکی تسلط سے پوری طرح باہر نکل آیا اور اس نے مشرق و مغرب کی سامراجی قوتوں اور ان کے انواع و اقسام کے عسکری، اقتصادی اور سیکورٹی دباؤ کے سامنے مزاحمت کی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس قوت کی حمایت کرتا ہے کہ جو دنیا میں کہیں بھی تسلط پسندی اور منہ زوری کا مقابلہ کررہی ہے۔
آپ نے بولیویا کے پاس موجود وسیع وسائل اور صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ توانائیاں،  اور اسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان روابط اور تعاون کے مختلف امکانات، ملتوں کے مفادات میں اور سامراجی قوتوں کے مدمقابل استقامت میں مددگار واقع ہو سکتے ہیں۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سیاسی خود مختاری اور اقتصادی خود کفالت کے لئے بولیویا کی معاشی ترقی کی کوششوں کو لازمی اور گراں قدر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عملی (ہارڈویئر کے) میدان میں ترقی و پیشرفت کے ساتھ ساتھ  فکری اور نظری (سافٹ ویئر کے) میدان میں بھی پیشرفت کے لئے توجہ کی ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے  دنیا اور اسی طرح لاطینی امریکا کے خطے میں جدید مواصلاتی ذرائع کی مدد سے مقامی افراد اور نوجوانوں کی سوچ اور ماہیت کو دگرگوں کر دینے کی امریکی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر امریکی اپنی اس پالیسی میں کامیاب ہو جائیں اور نوجوانوں کی فکر کو امریکی فکر میں تبدیل کر دیں تو پھر وہ کسی فوجی بغاوت اور مسلحانہ کارروائی اور سخت اقدامات کے بغیر ہی ملکوں پر مسلط ہوجائیں گے۔

آپ نے مقامی تشخص کو تقویت پہنچانا اور نوجوانوں کو اقدار سے روشناس کرانے کو امریکی سازش کے مقابلے کا موثر طریقہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خداوند متعال پر توکل کرتے ہوئے اور مضبوط ارادوں کے زریعے ان جنگوں کو جیتا جا سکتا ہے۔

اس ملاقات میں بولیویا کے صدر ایوو مورالس نے رہبر انقلاب اسلامی سے اپنی ملاقات پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جناب عالی کو تمام خود مختار انقلابی تحریکوں اور خاص طور پر لاطینی امریکا کے انقلابات کا قائد اور باپ سمجھتے ہیں اور ہم نے آپ کی قیمتی، امید افزا اور سبق آموز باتوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
 
صدر مورالس نے امریکی مداخلتوں کو مشکلات کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے عہدہ سنبھالتے ہی ایران سے تعلقات کی بابت امریکیوں کی وارننگ کے جواب میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ہم ایک آزاد ملک ہیں اور دوسرے ملکوں سے روابط قائم کرنے کے لئے ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔
 
بولیویا کے صدر نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ ہم نے امریکیوں کو کبھی باج دیا ہے اور نہ دیں گے کہا کہ بولیویا کی تیل کی صنعت کو قومیا کر ہم نے اپنی خود مختاری اور آزاد ہونے کو ثابت کردیا ہے اور مغرب کی کئی سالوں پر مشتمل جارحیتوں کے سلسلے کو بھی ختم کردیا ہے۔
ایوو مورالس نے خود مختاری حاصل کرنے کے بعد ملک میں ہونے والی ترقی اور خدمات کو مغرب پر انحصار کے زمانے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بتاتے ہوئے اور سیاسی خود مختاری کے زیر سایہ اقتصادی خود انحصاری کے حصول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج بولیویا کی جی ڈی پی 36 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو اغیار پر انحصار کے دور کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

بولیویا کے صدر نے سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں ایران کے اہم تجربات اور وسیع صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور بولیویا دو تاریخی، ثقافتی اور عوامی اتحادی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ مختلف میدانوں میں دو طرفہ روابط کو اور فروغ ملے گا۔
 
ایوو مورالس نے کہا کہ بولیویا اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی ہمیشہ تعریف کرتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایران ثابت قدمی سے اپنے راستے پر رواں دواں رہے گا۔
 بولیویا کے صدر نے کہا کہ ایران جیسے انقلابی اور مزاحمتی ملکوں سے وسیع تعاون اور تعلقات کے زیر سایہ بولیویا بھی استقامت، استحکام اور توانائیوں سے آراستہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے صبح عراق کے صدر فواد معصوم اور انکے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران ایران اور عراق کے باہمی تعلق کی گہرائی کو با سابقہ، تاریخی اور ایک خطے میں دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات سے بھی زیادہ گہرا قرار دیا اور عراق میں ملی وحدت کی حفاظت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ملت عراق ایک عظیم اور قدیمی تاریخ کی حامل ملت ہے کہ جہاں ذہین اور با صلاحیت نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے اور عراق کو اسکے شائستہ مقام تک پہنچانے کے لئے ان نوجوانوں کی استعداد سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہئے۔
آپ نے اغیار کی شہ پر صدام کی جانب سے ۸ سالہ مسلط کردہ جنگ کے باوجود ایران اور عراق کے درمیان گہرے، صمیمانہ اور برادرانہ تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے ایک حیرت انگیز بات قرار دیا اور فرمایا کہ اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پیدل سفر کرنے کی رسم دوستانہ تعلقات کا ایک نمونہ ہے اس طرح کہ عراق کے عوام اس موقع پر ایرانی زائرین کی پذیرائی کرنے کے لئے اپنی محبت اور انفاق میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران اور عراق کے اعلی حکام کو چاہئے کہ وہ ان دو ممالک کے مفادات کی خاطراس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عراق میں داعش کے فتنے پر نسبتا غلبہ پانے اور گذشتہ دنوں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کیا اور عراق میں موجودہ ملی وحدت کی حفاظت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ عراق کی موجودہ حکومت کے اسٹرکچر میں صدر کو خاص اور اہم مقام حاصل ہے اور یہ منصب اختلافات میں کمی اور وحدت و اتحاد کو فروغ دینے میں خاطر خواہ کردار ادا کرسکتا ہے۔
آپ نے بعض خارجی عناصر کی جانب سے عراق میں اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عراقی عوام چاہے شیعہ ہوں یا سنی، کرد ہوں یا عرب کئی صدیوں سے بغیر کسی مشکل کے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خطے کے بعض ممالک اور اسی طرح اغیار ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے اور ہر اس کام سے پرہیز کرنا چاہئے جس کی وجہ سے اختلافات میں اضافہ ہو۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اختلافات میں شدت اور ان اختلافات کے عمومی سطح تک پہنچنے کو اغیار کی مداخلت اور دراندزی کے لئے زمینہ فراہم کرنے سے تعبیر کرتے ہوئےفرمایا کہ ایسا ماحول نہ بننے دیا جائے جس کی وجہ سے امریکی علی الاعلان عراق کی تقسیم کی بات کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ کیوں عراق جیسے بزرگ ممالک کہ جو ثروت اور ہزارھا سالہ تاریخ کے حامل ہیں انکے ٹکڑے کرکے چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بانٹ دیا جائے، تاکہ وہاں ہمیشہ اختلافات اور جنگ چلتی رہے۔
آپ نے فرمایا کہ قطعا عراقی حکام اپنے خارجہ تعلقات اور امریکہ سے بھی اپنے تعلقات کو اپنے ملک اور عوام کے منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کریں گے۔لیکن امریکیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ عراق کو اپنی ذاتی ملکیت تصور کریں اور جو بولنا چاہیں بولیں اور جو اقدام کرنا چاہیں انجام دیں۔
رہبر انقلاب نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ آج عراق اپنی عظیم ملت اور اسی طرح اپنے با صلاحیت اور ذہین نوجوانوں کی وجہ سے ماضی کے عراق سے بالکل مختلف ہے فرمایا کہ عراقی نوجوان اب بیدار ہوچکے ہیں اور اپنی قدرت و طاقت سے انہوں نے استفادہ کرنا شروع کیا ہے اور ایسے نوجوان کبھی بھی امریکہ کے زیر اثر نہیں آئیں گے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عراق داعش کے مقابلے میں عراق کی عوامی رضاکار فورس کو عراقی جوانوں کی بیداری اور قدرت کا روشن مصداق قرار دیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ عراق کو اس کے اصل اور شائستہ مقام پر پہنچانے کے لئے عراقی جوانوں کی ظرفیت اور توانائی سے پہلے سے زیادہ استفادہ کیا جانا چاہئے۔
آپ نے علمی، سائنسی اور دفاعی ٹیکنالوجیز اور تجربات کی عراق منتقلی کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی ہمہ جانبہ آمادگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سلسلے میں کوشش کی جانی چاہئے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی سطح میں اضافہ ہوسکے۔
اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے۔ عراق کے صدر فواد معصوم نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات پر بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عراقی عوام اور اعلی حکام کے درمیان ایک مجتہد اور مرجع تقلید کے عنوان سے حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت اور گفتگو کے اثر و رسوخ اور احترام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں وحدت کے قیام اور ہر طرح کے اختلافات سے پرہیز کے سلسلے میں آپ کی نصیحتیں قطعا اثرگذار ہوں گی۔
عراق کے صدر نے داعش کے عراق پر حملے اور سخت ترین حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عراق کی مدد کئے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اور عراق اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی اقداروں میں اشتراک پائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پہلے سے زیادہ فروغ اور مختلف میدانوں میں ایران کی توانائیوں اور تجربات سے استفادے کے خواہاں ہیں۔
صدر فواد معصوم نے عراق کی موجودہ صورتحال اور داخلی وحدت اور ہماہنگی کو پہلے سے زیادہ بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش سے مقابلے میں بہت زیادہ توفیقات ہمارے شامل حال ہوئی ہیں اور فوج، عوامی رضاکار فورس اور کرد پیشمرگہ کی باہمی ہماہنگی داعش پر کاری وار ثابت ہوئی ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے الجزائر کے وزیر اعظم عبدالمالک سلال اور انکے ہمراہ وفد سے ملاقات میں خطے اور بین الاقوامی بہت سارے مسائل کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور الجزائر کی فکری ہماہنگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نزدیک سیاسی نقطہ نگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملت ایران کی الجزائر اور اسکے عوام کے بارے میں مثبت سوچ ہے اور یہ موضوع بھی انقلاب الجزائر کے دوران استعمار کے خلاف الجزائر کے عوام کے مجاہدانہ طرز عمل کی وجہ سے ہے۔
آپ نے ملتوں کے درمیان معنوی اور قلبی تعلقات کو مختلف میدانوں میں بالخصوص اقتصادی میدان میں تعاون کے لئے انتہائی مناسب زمینہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ الجزائر اور ایران کے درمیان تعاون کی سطح انتہائی کم ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سفر اور مشترکہ کمیشن کے قیام کے زریعے بہت جلد اور اسی طرح نائب صدر اسحاق جہانگیری کے الجزائر کے سفر کے بعد، دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے داعش اور خطے کے ممالک کی جانب سے ان تمام دہشتگرد گروہوں سے مقابلہ کئے جانے کہ جو اسلام کا چہرہ مخدوش کررہے ہیں کے حوالے سے الجزائر کے وزیراعظم کی بات پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ داعش اور وہ تمام دہشتگرد جو اس وقت اسلام کے نام پر پورے خطے میں پھیل گئے ہیں، انکا موضوع کوئی عادی اور فطری موضوع نہیں ہے بلکہ ان دہشتگردوں کو باقاعدہ وجود بخشا گیا ہے اور انکی حمایت کی جاتی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے خطے کے بعض ممالک کی جانب سے دہشتگرد گروہ داعش کی حمایت کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اور اسی طرح امریکہ اور اسلام کے دشمن ممالک کی جانب سے ان دہشتگردوں کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وہ اسلامی ممالک کہ جو دلسوز ہیں اور ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفق ہیں، وہ گفتگو اور تعاون کے زریعے دہشتگردوں سے مقابلے کے لئے عملی راہ حل تک پہنچ سکیں۔
آپ نے الجزائر، شام، ایران اور بعض دوسرے ممالک پر مشتمل مزاحمت کے الائنس کہ جو اسلامی انقلاب کے آغاز میں وجود میں آیا تھا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض ممالک کہ جو امریکہ کے پیرو ہیں، وہ اس الائنس کی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج مشترکہ نظریات اور مفادات کے حامل اسلامی ممالک پر مشتمل اس طرح کے اتحاد کا موقع آن پہنچا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر اس طرح کو کوئی الائنس بنایا جائے، تو یہ اسلامی ممالک اسلامی دنیا کے مسائل کے سلسلے میں موثر واقع ہوسکتے ہیں اور خطے کی مشکلات کے حل کے لئے اور دہشتگردی سے مقابلے کے لئے عملی اقدامات انجام دے سکتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات کے اختتام پر فرمایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ الجزائر کے صدر بوتفلیقہ جلد از جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔
الجزائر کے وزیراعظم عبدالمالک سلال نے اس ملاقات میں  تہران میں منعقدہ گیس برآمد کرنے والے ملکوں کی کانفرنس کو کامیاب قرار دیا اور ایران کے اعلی حکام سے ملاقات اور گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور الجزائر کی بعض سیاسی مسائل خاص طور پر داعش اور خطے میں موجود دوسرے دہشتگرد گروہوں کے بارے میں نقطہ نگاہ نہایت نزدیک ہے اور تہران کے مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ اقتصادی تعلقات کی سطح موجودہ شرائط سے باہر نکل کر قابل قبول سطح تک پہنچ جائے گی۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو سے ملاقات میں استکبار کی سیاست کے مقابلے میں وینزویلا کی مزاحمت اور حوصلہ افزا اقدامات کی قدردانی کرتے ہوئے فرمایا کہ آج استکبار کی سیاست عظیم بلاوں کی مانند بشریت کے درپے ہیں اور آزاد ملتوں کی  پیشرفت و ترقی اور کامیابی کی تنہا راہ ارادوں کی جنگ میں استقامت اور عوام پر بھروسہ کرنا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے لاطینی امریکہ کے علاقے میں امریکہ کی ہرس و ھوس پر مبنی سیاست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اس خطے کو اپنی کالونی سمجھتا تھا لیکن وینزویلا کی بے مثال کوششوں سے اس خطے کو ایک آزاد اور مستقل شناخت کے حامل خطے میں تبدیل کردیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے وینزویلا پر امریکی دباو کو، وینزویلا کے عوام اور حکومت کی حوصلہ افزا مزاحمت کو نابود کرنے کا امریکی ہدف قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آجکل دنیا میں رونما ہونے والی جنگیں ارادوں کی جنگیں ہیں اور آپ استقامت، مستحکم ارادوں اور اپنے ملک میں موجود وسیع امکانات کے زریعے ان مشکلات کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مغرب سے وابستہ اور ڈکٹیٹر پہلوی حکومت کے خاتمے میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی رح نے خالی ہاتھ لیکن عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے اور میدان میں حاضر ہوکر امریکی اور یورپی حمایت یافتہ حکومت کا تکتہ الٹ دیا اور آزاد ملتوں اور حکومتوں کی کامیابی و کامرانی کا راز اسی نسخے سے استفادے میں پنہاں ہے۔
آپ نے دشمن کی جانب سے بے تحاشہ دباو اور پابندیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حیرت انگیز علمی پیشرفت و ترقی کو گراں قدر تجربہ گردانتے ہوئے فرمایا کہ یہ تجربہ عوام پر بھروسے اور انکی ہمراہی کے زریعے حاصل ہوا ہے اور تمام مشکلات کا حل عوام کی محبت اور انکے دل جیتنے کے لئے خلوص کے ساتھ اپنے وضایف کو انجام دینا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی طرح ایران اور وینزویلا کے درمیان دوطرفہ تعاون میں اضافے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران وینزویلا کی پیشرفت اور ترقی کو اپنی پیشرفت اور ترقی سمجھتا ہے۔
اس ملاقات میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے رہبر انقلاب اسلامی سے دوبارہ ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور وینزویلا حقیقی دوست اور مستحکم باہمی رابطے کے حامل ممالک ہیں۔
صدر مادورو نے وینزویلا کے آنجہانی صدر ہوگو شاویز کی رہبر انقلاب اسلامی سے والہانہ عقیدت و احترام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بھی آپ سے ملاقات میں بہت زیادہ رہنمائی حاصل کی ہے اور آپ کی نصیحتوں نے میرے اندر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔
وینزویلا کے صدر نے ملک کی آزادی کے لئے استقامت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سامراج دنیا میں فتنہ و فساد اور ناامنی اور ملکوں کی شناخت مسخ کرنے کے زریعے ملکوں کی آزادی سلب کرنے کے درپے ہے۔
صدر مادورو نے امریکہ کی سازشوں کے مقابلے میں وینزویلا کی حکومت اور عوام کی آمادگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے تاکید کی ہے ہم ارادوں کی اس جنگ میں عوام پر بھروسے کے زریعے دشمن کو شکست دیں گے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے گیس ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعاون میں توسیع اور مشترکہ پروجیکٹس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جدید پلاننگ کی ضرورت ہے اور اسی طرح ہمیں چاہئے کہ اپنے تعلقات کو بالاترین سطح پر لے جائیں اور اسے مزید ارتقا دینے کی کوشش کریں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نائیجیریا کے صدر جناب محمد بوھاری سے ملاقات میں اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی شناخت کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو ایک اساسی ضرورت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ دہشتگردوں سے مقابلے کا دعوی کرنے والے نام نہاد عالمی اتحادی کسی طور بھی قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ داعش اور اس جیسے دہشتگرد گروہوں کو بنانے یا انکی حمایت کے پیچھے یہی تباہ کن عوامل خاص طور پر امریکہ کارفرما ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلام کے آشکار دشمنوں اور وہ دشمن کہ جو اسلام کے نام پر اسلام سے دشمنی کر رہے ہیں کو قینچی کے دو دھاریں قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی ممالک کو ان خطرناک دشمنوں کے مقابلے میں آپس میں تعاون کے زریعے اپنی شناخت اور اپنے مفادات کی حفاظت کرنی چاہئے۔
رہبر انقلاب نے ، داعش اور بوکوحرام جیسے دہشتگرد گروہوں سے مقابلے کے لئے امریکا اور مغرب سے تعاون کی امید اور مدد کی امید رکھنے کو غلط اقدام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ موثق اور صحیح اطلاعات کے مطابق امریکی اور خطے کے بعض رجعت پسند ممالک عراق میں داعش کی براہ راست مدد کررہے ہیں اور تخریباکارنہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات اور رابطے دوسرے ممالک سے رابطے اور تعلقات ختم کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک سے گہرے تعلقات ہیں لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے بہت زیادہ نزدیک ہونا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی طرح جناب بوہاری کے ایک متدین مسلمان کے طور پر نائیجیریا جیسے اہم ملک کا صدر منتخب ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعاون اور باہم تعلقات کے لئےموجود وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ان امکانات کی شناخت کی جانی چاہئے اور ان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے۔
اس ملاقات میں ایران کے نائب صدر اسحقا جہانگیری بھی موجود تھے۔ نائیجیریا کے صدر محمد بوہاری نے اپنے ملک اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تعلقات کو دیرینہ اور مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک عظیم اور پیشرفتہ ملک ہے اور اس ملک میں تعلقات اور تعاون کے لئے وسیع امکانات موجود ہیں۔
نائیجیریا کے صدر نے جی ای سی ایف کے سربراہی اجلاس میں دعوت دینے پر ایران کا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج اور رہبر انقلاب سے ملاقات میں میں نے بہت زیادہ رہنمائی حاصل کی ہے اور میں اس ملاقات اور رہنمائی کا قدردان ہوں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دو طرفہ عالمی اور علاقائی تعاون میں توسیع اور خطے کے مسائل خاص طور پر شام کے معاملے میں روس کی موثر موجودگی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ خطے کے بارے میں امریکہ کا طویل المیعاد منصوبہ تمام ممالک خاص طور پر ایران اور روس کے لئے نقصاندہ ہے اور اسے ہوشیاری اور قریبی تعاون کے زریعے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں کہ جو تقریبا دو گھنٹے جاری رہی صدر پیوٹن کو موجودہ دور کی ایک برجستہ شخصیت قرار دیتے ہوئے اور ایٹمی معاملے میں روس کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مسئلہ ایک نتیجے تک پہنچ گیا ہے لیکن ہمیں امریکہ پر زرہ برابر بھی اعتماد نہیں ہے اور ہم آنکھیں کھلی رکھ کر نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کے بارے میں امریکہ کی رفتار اور اسکے اقدامات پر نطر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ نے دوطرفہ تعلقات کو توسیع دینے کے سلسلے میں صدر پیوٹن اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام کے سنجیدہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اقتصادی مسائل اور اس جیسے دوسرے موضوعات کے سلسلے میں دوطرفہ تعاون موجودہ سطح سے مزید توسیع پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سیاست اور امن و امان کے سلسلے میں تہران اور ماسکو کے باہمی تعاون ، مختلف مسائل کے بارے میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران روس کے صدر کے مواقف کو بہت اچھا اور جدت پسند قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکی ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے رقیبوں کو پسپائی پر مجبور کردیں لیکن آپ نے انکی اس پالیسی کو ناکام بنا دیا۔
آپ نے شام کے سلسلے میں ماسکو کے اقدامات اور فیصلوں کو خطے اور دنیا میں روس اور صدر پیوٹن کی قدر و قیمت اور مقبولیت میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اپنے طویل مدت منصوبے کے زریعے اس بات کے درپے ہے کہ وہ شام پر اپنا تسلط قائم کرے اسکے بعد خطے میں اپنے تسلط اور کنٹرول میں توسیع کرے، تاکہ مغربی ایشیا میں اپنے تاریخی عدم تسلط کے خلا کو پر کرسکے اور اسکا یہ پلان تمام ممالک خاص طور پر ایران اور روس کے لئے خطرے کا باعث ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اور اسکے پٹھو ممالک شام کے سلسلے میں اس کوشش میں ہیں کہ اپنے نا مکمل اہداف کو حاصل کرنے کے لئے سیاست اور مذاکرات میں فوجی اقدامات کا سہارا لیں کہ اس سلسلے میں ہوشیاری کے ساتھ اور اٹل موقف اپنا کر اس کا راستہ روکا جائے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے شام کے عوام کے منتخب کردہ اور قانونی صدر بشار اسد کو ہٹائے جانے کے امریکی دباو کو واشنگٹن کے کمزور سیاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ شام کے صدر بشار اسد نے عام انتخابات میں مختلف زاویوں یعنی مذہبی، سیاسی اور مختلف قوموں پر مشتمل شام کے عوام کی اکثریت کی جانب سے ووٹ حاصل کئے ہیں اور امریکہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شام کے عوام کے ووٹوں اور انکے انتخاب سے صرف نطر کرے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شام کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ شام کے عوام اور وہاں کی حکومت کو اطلاع دے کر اور انکی موافقت سے کیا جائے۔
آپ نے داعش سمیت مختلف تکفیری دہشتگرد گروہوں کو امریکہ کی جانب سے براہ راست یا بلاواسطہ  مدد کئے جانے کو بھی امریکی کمزور سیاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دہشتگردوں کی مدد کرنے کی وجہ سے خطے اور دنیا کی رائے عامہ میں ناقابل اعتبار ممالک کے ساتھ امریکی تعاون اس بات کی دلیل ہے کہ امریکیوں کی ڈپلومیسی میں اخلاقی اقداریں نہیں پائی جاتیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی وجہ سے ہم ایٹمی مسئلے کے علاوہ کہ البتہ اس کے بارے میں بھی خاص دلائل موجودہ ہیں،  نہ شام کے بارے میں اور نہ ہی کسی دوسرے موضوع پر امریکہ سے دوطرفہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے نہ ہی کبھی کریں گے۔  
رہبر انقلاب اسلامی نے شام کے مسئلے کے درست راہ حل کو ضروری اور خطے کے مستقبل کے لئے موثر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر دہشتگرد کہ جنہوں نے شام میں سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے نابود نہیں ہوئے، انکی تخریب کارانہ سرگرمیوں کا دائرہ وسطی ایشیا اور دوسرے علاقوں تک پھیل جائے گا۔
اس ملاقات میں روس کے صدر نے بھی رہبر انقلاب اسلامی کے گراں قدر تجربات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اور اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعلقات خاص طور پر  ایرواسپیس، اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پہلے سے زیادہ توسیع اور پیشرفت ہوئی ہے اور ہمیں بہت خوشی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مل کر سیکورٹی کے مسائل اور خطے اور دنیا کے مسائل کے بارے میں سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
صدر پیوٹن نے اسلامی جمہوریہ کو ایک آزاد، استوار اور روشن مستقبل کا حامل ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو خطے اور دنیا میں اپنا ایک قابل اعتماد اتحادی مانتے ہیں۔
روس کے صدر نے کہا کہ ہم اس بات کے پابند ہیں کہ دوسروں کے برخلاف ہم اپنے دوستوں کی پیٹھ میں خنجر نہ گھونپیں اور کبھی بھی اپنے دوستوں کے خاف کوئی اقدام انجام نہ دیں اور اگر کسی سے اختلافات بھی ہوں تو اسے بات چیت کے زریعے حل کریں۔
صدر پیوٹن نے شام کے بارے میں دونوں ممالک کے مواقف کو انتہائی نزدیک قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں کئے جانے والے بہت زیادہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ شام کے بحران کا حل صرف سایسی ڈائیلاگ اور اس ملک کے عوام کے ووٹوں اور شام کے تمام عوام اور اقوام کی رائے کے احترام کے زریعے ہی ممکن ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے فیصلے کو شامی عوام پر مسلط کرے اور انکی جگہ حکومت کی تشکیل اور شام کے صدر کے بارے میں فیصلہ کرے۔
شام کے صدر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے فرمایا کہ امریکی چاہتے ہیں کہ شام کی جنگ میں حاصل نہ ہونے والے اپنے مطلوبہ اہداف کو مذاکرات کی میز پر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ہم اس سلسلے میں پوری طرح چوکنا ہیں۔
ولادیمیر پیوٹن نے شام میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر روس کے حملے جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے، شام کے بحران کے حل کے لئے ماسکو اور تہران کے تعاون اور مشاورت کو نہایت ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دنیا میں جمہوریت کا دعوی کرتے ہیں وہ شام میں انتخابات کی مخالفت نہیں کرسکتے۔
اس ملاقات کے اختتام پر روس کے صدر نے رہبر انقلاب اسلامی کی خدمت قرآن کریم کا نہایت قدیم اور نادر نسخہ تحفے کے طور پر یش کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے یہ تحفہ دیئے جانے پر انکا شکریہ ادا کیا۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی اف سے ملاقات میں ایران اور ترکمانستان کے قریبی تعلقات اور دو جانبہ تعاون کو توسیع دینے کے سلسلے میں موجود امکانات اور خطے میں فتنے اور سازش کو ہوا دیئے جانے کا مقابلہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ دہشتگرد عناصر سے مقابلے اور انکے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے عوام کے درمیان صحیح اسلامی سرگرمیوں کا فروغ اور معتدل اور عقلانی اسلامی افکار پر مبنی تحریکوں کی تقویت کے زریعے ممکن ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں ایران اور ترکمنستان کی ملتوں کو ایسا ہمسایہ کہ جو عزیز و اقارب کی مانند ہیں قرار دیا اور آپس میں تعاون کے لئے موجود امکانات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ضروری ہے کہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ معاہدوں کے اجرا کے لئے موثر اور عملی اقدامات انجام دیئے جائیں۔
رہبر انقلاب نے ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے امن و امان، فلاح و بہبود اور پیشرفت و ترقی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے فائدے میں قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایران اور ترکمنستان کی سرحدیں امن و امان اور صلح پر مبنی سرحدیں ہیں اور یہ بات دونوں ممالک کے آرام و آسائش کا سبب ہے اور ایران کے راستے خلیج فارس اور آزاد پانیوں تک ترکمانستان کی رسائی ترکمانستان کے لئے ایک قیمتی موقع ہے۔
آپ نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود ایران اور ترکمانستان میں امن و امان کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کے ثبات کے لئے باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا اور فرمایا کہ داعش اور تکفیری گروہوں کے وحشیانہ اقدامات اور دہشتگردی کے مقابلے میں کہ جو اسلام کے نام پر ان سنگین جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں، ضروری ہے کہ عوام کو صحیح اسلامی سرگرمیوں کے امکانات فراہم کئے جائیں اور ان عناصر کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے معتدل اور عقلی اسلامی افکار پر مبنی تحریکوں کی تقویت کی جائے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے دہشتگرد عناصر کی جانب سے سر تن سے جدا کرنے اور انسانوں کو زندہ جلا کر مارنے جیسے وحشیانہ اقدامات کو ان عناصر کی اسلام سے مکمل بیگانگی کی علامت قرار دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ اسلام بھائی چارے، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کا مذہب ہے اور ان جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس ملاقات میں سینئر نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے۔ ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمد اف نے اپنے تہران کے سفر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکمانستان کے ہمیشہ اچھے اور تاریخی تعلقات رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں برابر کے شریک رہے ہیں اور آپ کی یہ گفتگو کہ یہ دونوں ممالک نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں بلکہ عزیز و اقارب کی مانند ہیں ترکمانستان کی حکومت اور عوام کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔
ترکمانستان کے صدر نے اپنے پچھلے سفر میں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے کی گئی نصیحتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک دانا رہبر و لیڈر اور متفکر شخصیت کے عنوان سے آپ کی نصیحتیں ہمارے لئے نہایت قابل قدر ہیں اور آپ کی نصیحتوں پر عمل کرنے سے کافی اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
انہوں نے باہمی تعلقات میں توسیع خاص طور پر گیس، حمل ونقل اور مواصلات کے شعبوں میں موجود امکانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکمانستان کے تجارت اور تعمیرات کے شعبوں میں مشترکہ پروجیکٹس کی تکمیل پورے خطے کے لئے فائدہ مند ہے۔
ترکمانستان کے صدر نے شاہراہ ریشم کی تاریخی اہمیت کو تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کی خواہش ہے کہ وہ ایران اور ترکمانستان کے زریعے سمندر تک رسائی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے خطے کے سیاسی حالات کو ناساز قرار دیتے ہوئے اور دہشتگرد گروہ داعش کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ داعش اور اس جیسے دوسرے گروہوں کا اسلام سے دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بعض ممالک انکی مدد اور حمایت میں مشغول ہیں۔

 

 

   کوفہ کی اہم اوربا فضیلت مساجد میں سے ایک مسجد سہلہ ہے۔ یہ مسجد بہت سے انبیاء (ع) کی منزل گاہ اور عبادت گاہ ہے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، خضرعلیہ السلام کے مقامات قابل ذکر ہیں، اور بعض ائمہ اطہار علیہم السلام کی منزل گاہ ہے، من جملہ مقام امام صادق علیہ السلام، امام سجاد علیہ السلام وغیرہ۔

   امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے کہ :" مسجد سہلہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا گھر تھا، جہاں سے وہ عمالقہ گئے ہیں اور وہاں پر ادریس کا گھر ہے، صخرہ (چٹان) حضراء ہے اور اس مسجد میں صور پھونکا جاتا ہے وغیرہ"

   سہلہ کے معنی ہموار زمین ہیں۔ مسجد سہلہ کے دوسرے نام یہ ہیں: مسجد سہیل، بنی ظفر اور عبدالقیس، مذکورہ مسجد ایک قدیمی ترین اور مشہورترین اسلامی مساجد میں سے ہے۔ یہ مسجد پہلی صدی ہجری میں عرب قبائل کے توسط سے کوفہ میں مسجد جامع کے شمال مغرب میں تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد سہلہ نجف کی مشرق میں،یعنی قدیم شہر کوفہ میں واقع ہے۔ یہ مسجد امام علی علیہ السلام کی قبر مبارک کے شمال مشرق میں 10 کلومیٹر کے فاصلہ پر اور مسجد کوفہ کے شمال مغرب میں 2کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ روایات کے ایک مجموعہ میں مسجد سہلہ کے معنوی مقام و منزلت کا مختلف عبارتوں میں ذکر کیا گیا ہے۔

   یہ مسجد ایک غیر آباد اور بستی سے خالی زمین پر تعمیر کی گئی ہے، جس کے اطراف میں سرخ ریت ہے۔ یہ مسجد تقریباً مستطیل شکل کی ہے اور اس کی لمبائی 140 میٹر اور چوڑائی 135 میٹر ہے اور اس کی مساحت 17500 مربع میٹر ہے۔ اور اس مسجد کو احاطہ کرنے والی دیواروں کی بلندی تقریباً 22 میٹر ہے۔ اس کے چار ضلعوں کے کونوں پر باہر سے نیم دائرہ شکل کے برج بنائے گئے ہیں جو ایک دوسرے سےمساوی فاصلے پر واقع ہیں۔ مشرقی ضلع کی دیوار کے درمیان میں ایک مینار ہے جس کی بلندی 30 میٹر ہے۔ مسجد کا صدر دروازہ اس کے مشرقی ضلع کےبیچ میں، مذکورہ مینار کے نزدیک واقع ہے۔

   مسجد کے صحن کے مختلف حصوں میں کچھ محراب تعمیر کئے گئے ہیں جن کی دینی پیشواؤں کے نام پر نام گزاری کی گئی ہے، من جملہ مقام امام صادق علیہ السلام، امام سجاد علیہ السلام، امام زمانہ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، خضر علیہ السلام، یونس علیہ السلام، ہود علیہ السلام، اور مقام صالح علیہ السلام۔

   امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کیاگیا ہے کہ:" کوئی ایسی مشکل نہیں ہے، جو اس مسجد میں دورکعت نماز بجالانے کے بعد حل نہ ہوجائے۔"

   مسجد سہیلہ کو قبیلہ بنی ظفر نے تعمیر کیا ہے۔ وہ انصار کا ایک طائفہ ہے اور امام علی علیہ السلام مسجد بنی ظفر کو مسجد کوفہ کے مانند جانتے ہیں۔

ہندوستان میں شدید بارش کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد نوے سے تجاوز کرگئی

اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ایک ہفتے کے دوران ہونے والی شدید بارش کے نتیجے میں اب تک نوے سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

شدید بارش سے کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور کئی علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں نیز ریل پٹریاں بھی پانی میں ڈوب گئی ہیں جس کی وجہ سے کئی ٹرینیں منسوخ کردی گئیں۔ ٹرینیں منسوخ ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے ریاست کے متعدد علاقوں میں اسکول اور کالج بھی بند کردیئے گئے ہیں۔

ریاست کے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لئے بری اور ہوائی فوج کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لئے پانچ ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے اور انتظامیہ سے امدادی کاموں میں تیزی لانے کی تاکید کی ہے۔