Super User
سوره قصص
بسم الله الرحمن الرحيم
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
1 طسم
(1) طۤسۤم
2 تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ
(2) یہ کتابِ مبین کی آیتیں ہیں
3 نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(3) ہم آپ کو موسٰی اور فرعون کی سّچی خبر سنارہے ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہیں
4 إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(4) فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اور اس نے اہلِ زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا کہ ایک گروہ نے دوسرے کو بالکل کمزور بنادیا وہ لڑکوں کو ذبح کردیا کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھا کرتا تھا وہ یقینا مفسدین میں سے تھا
5 وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(5) اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں
6 وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
(6) اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو ان ہی کمزوروں کے ہاتھوں سے وہ منظر دکھلائیںجس سے یہ ڈر رہے ہیں
7 وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(7) اور ہم نے مادر موسٰی کی طرف وحی کی کہ اپنے بچّہ کو دودھ پلاؤ اور اس کے بعد جب اس کی زندگی کا خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور بالکل ڈرو نہیں اور پریشان نہ ہو کہ ہم اسے تمہاری طرف پلٹا دینے والے اور اسے مرسلین میں سے قرار دینے والے ہیں
8 فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ
(8) پھر فرعون والوںنے اسے اٹھالیا کہ انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث هرنج و الم بنے .بیشک فرعون اور ہامان اور ان کےلشکر والے سب غلطی پر تھے
9 وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(9) اور فرعون کی زوجہ نے کہا کہ یہ تو ہماری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لہٰذا اسے قتل نہ کرو کہ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہم اسے اپنا فرزند بنالیں اور وہ لوگ کچھ نہیں سمجھ رہے تھے
10 وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(10) اور موسٰی کی ماں کا دل بالکل خالی ہوگیا کہ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو مطمئن نہ بنادیتے تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں
11 وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(11) اور انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم بھی ان کا پیچھا کرو تو انہوں نے دور سے موسٰی کو دیکھا جب کہ ان لوگوں کو اس کا احساس بھی نہیں تھا
12 وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ
(12) اور ہم نے موسٰی پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ پہلے ہی سے حرام کردیا تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ بتاؤں جو اس کی کفالت کرسکیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں
13 فَرَدَدْنَاهُ إِلَى أُمِّهِ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(13) پھر ہم نے موسٰی کو ان کی ماں کی طرف پلٹا دیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اور وہ پریشان نہ رہیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا ّہے اگرچہ لوگوں کی اکثریت اسے نہیں جانتی ہے
14 وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(14) اور جب موسٰی جوانی کی توانائیوں کو پہنچے اور تندرست ہوگئے تو ہم نے انہیں علم اور حکمت عطا کردی اور ہم اسی طرح نیک عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں
15 وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَذَا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ
(15) اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے
16 قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(16) موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی لہذا مجھ معاف کردے تو پروردگار نے معاف کردیا کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
17 قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ
(17) موسٰی نے کہا کہ پروردگار تونے میری مدد کی ہے لہذا میں کبھی مجرموں کا ساتھی نہیں بنوں گا
18 فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
(18) پھر صبح کے وقت موسٰی شہر میں داخل ہوئے تو خوفزدہ اور حالات کی نگرانی کرتے ہوئے کہ اچانک دیکھا کہ جس نے کل مددکے لئے پکارا تھا وہ پھر فریاد کررہا ہے موسٰی نے کہا کہ یقینا تو کھنَا ہوا گمراہ ہے
19 فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
(19) پھر جب موسٰی نے چاہا کہ اس پر حملہ آور ہوں جو دونوں کا دشمن ہے تو اس نے کہا کہ موسٰی تم اسی طرح مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک بے گناہ کو قتل کیا ہے تم صرف روئے زمین میں سرکش حاکم بن کر رہنا چاہتے ہو اور یہ نہیں چاہتےہو کہ تمہارا شمار اصلاح کرنے والوں میں ہو
20 وَجَاء رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ
(20) اور ادھر آخ» شہر سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ موسٰی شہر کے بڑے لوگ باہمی مشورہ کررہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں لہذا تم شہر سے باہر نکل جاؤ میں تمہارے لئے نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں
21 فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(21) تو موسٰی شہر سے باہر نکلے خوفزدہ اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اور کہا کہ پروردگار مجھے ظالم قوم سے محفوظ رکھنا
22 وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاء مَدْيَنَ قَالَ عَسَى رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاء السَّبِيلِ
(22) اور جب موسٰی نے مدین کا رخ کیا تو کہا کہ عنقریب پروردگار مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت کردے گا
23 وَلَمَّا وَرَدَ مَاء مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاء وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
(23) اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں
24 فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
(24) موسٰی نے دونوں کے جانوروں کو پانی پلادیا اور پھر ایک سایہ میں آکر پناہ لے لی عرض کی پروردگار یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے
25 فَجَاءتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَاءهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(25) اتنے میں دونوں میں سے ایک لڑکی کمال شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ میرے بابا آپ کو بلارہے ہیں کہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت دے دیں پھر جو موسٰی ان کے پاس آئے اور اپنا قصّہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں اب تم ظالم قوم سے نجات پاگئے
26 قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
(26) ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ بابا آپ انہیں نوکر رکھ لیجئے کہ آپ جسے بھی نوکر رکھنا چاہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہوگا جو صاحبِ قوت بھی ہو اور امانتدار بھی ہو
27 قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(27) انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا عقد آپ سے کرنا چاہتا ہوں بشرطیکہ آپ آٹھ سال تک میری خدمت کریں پھر اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا اور میں آپ کو کوئی زحمت نہیں دینا چاہتا ہوں انشائ اللہ آپ مجھے نیک بندوں میں سے پائیں گے
28 قَالَ ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ وَاللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(28) موسٰی نے کہا کہ یہ میرے اور آپ کے درمیان کا معاہدہ ہے میں جو مدّت بھی پوری کردوں میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور میں جو کچھ بھی کہہ رہاہوں اللہ اس کا گواہ ہے
29 فَلَمَّا قَضَى مُوسَىالْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(29) پھر جب موسٰی مدّت کو پورا کرچکے اور اپنے اہل کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے ایک آگ نظر آئی انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ تم لوگ ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید اس میں سے کوئی خبر لے آؤں یا کوئی چنگاری ہی لے آؤں کہ تم لوگ اس سے تاپنے کا کام لے سکو
30 فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِي مِن شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
(30) پھر جو اس آگ کے قریب آئے تو وادی کے داہنے رخ سے ایک مبارک مقام پر ایک درخت سے آوز آئی موسٰی میں عالمین کا پالنے والا خدا ہوں
31 وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ يَا مُوسَى أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ
(31) اور تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اور جو موسٰی نے دیکھا تو وہ سانپ کی طرح لہرا رہا تھا یہ دیکھ کر موسٰی پیچھے ہٹ گئے اور پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا تو پھر آواز آئی کہ موسٰی آگے بڑھو اور ڈرو نہیں کہ تم بالکل مامون و محفوظ ہو
32 اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ
(32) ذرا اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کرو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید اور چمکدار بن کر برآمد ہوگا اور خوف سے اپنے بازوؤں کو اپنی طرف سمیٹ لو تمہارے لئے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف یہ دو دلیلیں ہیں کہ یہ لوگ سب فاسق اور بدکار ہیں
33 قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(33) موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے تو مجھے خوف ہے کہ یہ مجھے قتل کردیں گے اور کار تبلیغ رک جائے گا
34 وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
(34) اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان کے مالک ہیں لہٰذا انہیں میرے ساتھ مددگار بنادے جو میری تصدیق کرسکیں کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ لوگ میری تکذیب نہ کردیں
35 قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِآيَاتِنَا أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُونَ
(35) ارشاد ہوا کہ ہم تمہارے بازؤں کو تمہارے بھائی سے مضبوط کردیں گے اور تمہارے لئے ایسا غلبہ قرار دیں گے کہ یہ لوگ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں اور ہماری نشانیوں کے سہارے تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے
36 فَلَمَّا جَاءهُم مُّوسَى بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ
(36) پھر جب موسٰی ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صرف ایک گڑھا ہوا جادو ہے اور ہم نے اپنے گزشتہ بزرگوں سے اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی ہے
37 وَقَالَ مُوسَى رَبِّي أَعْلَمُ بِمَن جَاء بِالْهُدَى مِنْ عِندِهِ وَمَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
(37) اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کے لئے آخرت کا گھر ہے یقینا ظالمین کے لئے فلاح نہیں ہے
38 وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا لَّعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ
(38) اور فرعون نے کہا کہ میرے زعما ئ مملکت! میرے علم میں تمہارے لئے میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہٰذا ہامان تم میرے لئے مٹی کا پجاوا لگاؤ اور پھر ایک قلعہ تیار کرو کہ میں اس پر چڑھ کر موسٰی کے خدا کی خبر لے آؤں اور میرا خیال تو یہ ہی ہے کہ موسٰی جھوٹے ہیں
39 وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ
(39) اور فرعون اور اس کے لشکر نے ناحق غرور سے کام لیا اور یہ خیال کرلیا کہ وہ پلٹا کر ہماری بارگاہ میں نہیں لائے جائیں گے
40 فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ
(40) تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور سب کو دریا میں ڈال دیا تو دیکھو کہ ظالمین کا انجام کیسا ہوتا ہے
41 وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ
(41) اور ہم نے ان لوگوں کوجہّنم کی طرف دعوت دینے والا پیشوا قرار د ے دیا ہے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی
42 وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ
(42) اور دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت کو لگادیا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے
43 وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(43) اور ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردینے کے بعد موسٰی کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے بصیرت کا سامان اور ہدایت و رحمت ہے اور شاید اسی طرح یہ لوگ نصیحت حاصل کرلیں
44 وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ
(44) اور آپ اس وقت طور کے مغربی رخ پر نہ تھے جب ہم نے موسٰی کی طرف اپنا حکم بھیجا اور آپ اس واقعہ کے حاضرین میں سے بھی نہیں تھے
45 وَلَكِنَّا أَنشَأْنَا قُرُونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(45) لیکن ہم نے بہت سی قوموں کو پیدا کیا پھر ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور آپ تو اہل مدین میں بھی مقیم نہیں تھے کہ انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے لیکن ہم رسول بنانے والے توتھے
46 وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(46) اور آپ طِور کے کسی جانب اس وقت نہیں تھے جب ہم نے موسٰی کو آواز دی لیکن آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کی طرف آپ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا ہے کہ شاید وہ اس طرح عبرت اور نصیحت حاصل کرلیں
47 وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(47) اور اگر ایسا نہ ہوتا کہ جب ان پر گذشتہ اعمال کی بنا پر کوئی مصیبت نازل ہوتی تو یہی کہتے کہ پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا ہے کہ ہم تیری نشانیوں کی پیروی کرتے اور صاحبان ایمان میں شامل ہوجاتے
48 فَلَمَّا جَاءهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَى أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِن قَبْلُ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ
(48) پھر اس کے بعد جب ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ انہیں وہ سب کیوں نہیں دیا گیا ہے جو موسٰی کو دیا گیا تھا تو کیا ان لوگوں نے اس سے پہلے موسٰی کا انکار نہیں کیا اور اب تو کہتے ہیں کہ توریت اور قرآن جادو ہے جو ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور ہم دونوں ہی کا انکار کرنے والے ہیں
49 قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَى مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(49) تو آپ کہہ دیجئے کہ اچھا تم پروردگار کی طرف سے کوئی کتاب لے آؤ جو دونوں سے زیادہ صحیح ہو اور میں اس کا اتباع کرلوں اگر تم اپنی بات میں سچے ہو
50 فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءهُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
(50) پھر اگر قبول نہ کریں تو سمجھ لیجئے کہ یہ صرف اپنی خواہشات کا اتباع کرنے والے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو خدائی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کا اتباع کرلے جب کہ اللہ ظالم قوم کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے
51 وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(51) اور ہم نے مسلسل ان لوگوں تک اپنی باتیں پہنچائیں کہ شاید اسی طرح نصیحت حاصل کرلیں
52 الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ
(52) جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں
53 وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ
(53) اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے یہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو پہلے ہی سے تسلیم کئے ہوئے تھے
54 أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
(54) یہی وہ لوگ ہیں جن کو دہری جزا دی جائے گی کہ انہوں نے صبر کیا ہے اور یہ نیکیوں کے ذریعہ برائیوں کو دفع کرتے ہیں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
55 وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ
(55) اور جب لغو بات سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے ہیں
56 إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(56) پیغمبر بیشک آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ ان لوگوں سے خوب باخبر ہے جو ہدایت پانے والے ہیں
57 وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِن لَّدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(57) اور یہ کفاّر کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے تو کیا ہم نے انہیں ایک محفوظ حرم پر قبضہ نہیں دیا ہے جس کی طرف ہر شے کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بنا پر چلے آرہے ہیں لیکن ان کی اکثریتسمجھتی ہی نہیں ہے
58 وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ
(58) اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ان کی معیشت کے غرور کی بنا پر ہلاک کردیا اب یہ ان کے مکانات ہیں جو ان کے بعد پھر آباد نہ ہوسکے مگر بہت کم اور درحقیقت ہم ہی ہر چیز کے وارث اور مالک ہیں
59 وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ
(59) اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ اس کے مرکزمیں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کرے اور ہم کسی بستی کے تباہ کرنے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں
60 وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(60) اور جو کچھ بھی تمہیں عطا کیا گیا ہے یہ چند روزہ لذت هدنیا اور زینت هدنیا ہے اور جو کچھ بھی خدا کی بارگاہ میں ہے وہ خیراور باقی رہنے والا ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ہو
61 أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
(61) کیا وہ بندہ جس سے ہم نے بہترین وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پا بھی لے گا اس کے مانند ہے جسے ہم نے دنیا میں تھوڑی سی لذّت دے دی ہے اور پھر وہ روزہ قیامت خدا کی بارگاہ میں کھینچ کر حاضر کیا جائے گا
62 وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(62) جس دن خدا ان لوگوں کو آواز دے گا کہ میرے وہ شرکائ کہاں ہیں جن کی شرکت کا تمہیں خیال تھا
63 قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاء الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ
(63) تو جن شرکائ پر عذاب ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ پروردگار یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا ہے اور اسی طرح گمراہ کیاہے جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے لیکن اب ان سے برائت چاہتے ہیں یہ ہماری عبادت تو نہیں کررہے تھے
64 وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ
(64) تو کہا جائے گا کہ اچھا اپنے شرکائ کو پکارو تو وہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے بلکہ عذاب ہی کو دیکھیں گے تو کاش یہ دنیا ہی میں ہدایت یافتہ ہوجاتے
65 وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
(65) اور جس دن خدا ان سے پکار کر کہے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا
66 فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنبَاء يَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَاءلُونَ
(66) تو ان پر ساری خبریں تاریک ہوجائیں گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال بھی نہ کرسکیں گے
67 فَأَمَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَن يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ
(67) لیکن جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا وہ یقینا فلاح پانے والوں میں شمار ہوجائے گا
68 وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاء وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
(68) اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسندکرتا ہے - ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے - خدا ان کے شرک سے پاک اور بلند و برتر ہے
69 وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(69) اور آپ کا پروردگار ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو یہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور انہیں بھی جانتا ہے جن کا یہ اعلان و اظہار کرتے ہیں
70 وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(70) وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے اور اول و آخر اور دنیا و آخرت میں ساری حمد اسی کے لئے ہے اسی کے لئے حکم ہے اور اسی کی طرف تم سب کو واپس جانا پڑے گا
71 قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاء أَفَلَا تَسْمَعُونَ
(71) آپ کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر خدا تمہارے لئے رات کو قیامت تک کے لئے ابدی بنادے تو کیا اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی کو لے آسکے تو کیا تم بات سنتے نہیں ہو
72 قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
(72) اور کہئے کہ اگر وہ دن کو قیامت تک کے لئے دائمی بنادے تو اس کے علاوہ کون معبود ہے جوتمہارے لئے وہ رات لے آئے گا جس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم دیکھتے نہیں ہو
73 وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(73) یہ اس کی رحمت کا ایک حصہّ ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن دونوں بنائے ہیں تاکہ آرام بھی کرسکو اور رزق بھی تلاش کرسکو اور شاید اس کا شکریہ بھی ادا کرسکو
74 وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(74) اور قیامت کے دن خدا انہیں آواز دے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی شرکت کا تمہیں خیال تھا
75 وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(75) اور ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے اور منکرین سے کہیں گے کہ تم بھی اپنی دلیل لے آؤ تب انہیں معلوم ہوگا کہ حق اللہ ہی کے لئے ہے اور پھر وہ جو افترا پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب گم ہوجائیں گی
76 إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ
(76) بیشک قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا مگر اس نے قوم پر ظلم کیا اور ہم نے بھی اسے اتنے خزانے دے دیئے تھے کہ ایکطاقت ور جماعت سے بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھ سکتی تھیں پھر جب اس سے قوم نے کہا کہ اس قدر نہ اتراؤ کہ خدا اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
77 وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
(77) اور جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصّہ بھول نہ جاؤ اور نیکی کرو جس طرح کہ خدا نے تمہارے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو کہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
78 قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ القُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ
(78) قارون نے کہا کہ مجھے یہ سب کچھ میرے علم کی بنا پر دیا گیا ہے تو کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی نسلوں کو ہلاک کردیا ہے جو اس سے زیادہ طاقتور اور مال کے اعتبار سے دولت مند تھیں اور ایسے مجرموں سے تو ان کے گناہوں کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جاتا ہے
79 فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
(79) پھر قارون اپنی قوم کے سامنے زیب و زینت کے ساتھ برآمد ہوا تو جن لوگوں کے دل میں زندگانی دنیا کی خواہش تھی انہوںنے کہنا شروع کردیا کہ کاش ہمارے پاس بھی یہ ساز و سامان ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے عظیم حصہ ّ کا مالک ہے
80 وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ
(80) اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ افسوس تمہارے حال پر - اللرُ کا ثواب صاحبان ایمان و عمل صالح کے لئے اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کے علاوہ کسی کو نہیں دیا جاتا ہے
81 فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ المُنتَصِرِينَ
(81) پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسا دیا اور نہ کوئی گروہ خدا کے علاوہ بچانے والا پیدا ہوا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرنے والا تھا
82 وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ
(82) اور جن لوگوں نے کل اس کی جگہ کی تمناّ کی تھی وہ کہنے لگے کہ معاذ اللہ یہ تو خدا جس بندے کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے یہاں چاہتا ہے تنگی پیدا کردیتا ہے اور اگر اس نے ہم پر احسان نہ کردیا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیا ہوتا معاذاللرُ کافروں کے لئے واقعا فلاح نہیں ہے
83 تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
(83) یہ دار آخرت وہ ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں اور عاقبت تو صرف صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے
84 مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(84) جو کوئی نیکی کرے گا اسے اس سے بہتر اجر ملے گا اور جو کوئی برائی کرے گا تو برائی کرنے والوں کو اتنی ہی سزادی جائے گی جیسے اعمال وہ کرتے رہے ہیں
85 إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ مَن جَاء بِالْهُدَى وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(85) بیشک جس نے آپ پر قرآن کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کو آپ کی منزل تک ضرور واپس پہنچائے گا .آپ کہہ دیجئے کہ میراپروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے
86 وَمَا كُنتَ تَرْجُو أَن يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ
(86) اور آپ تو اس بات کے امیدوار نہیں تھے کہ آپ کی طرف کتاب نازل کی جائے یہ تو رحمت هپروردگار ہے لہذا خبردار آپ کافروں کا ساتھ نہ دیجئے گا
87 وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ آيَاتِ اللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(87) اور ہرگز یہ لوگ آیات کے نازل ہونے کے بعد ان کی تبلیغ سے آپ کو روکنے نہ پائیں اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیجئے اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجایئے
88 وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(88) اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو مت پکارو کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس کی ذات کے ماسوا ہر شے ہلاک ہونے والی ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ کی طرف پلٹائے جاؤ گے
فرانس کے حالیہ واقعات کے بعد یورپ اور شمالی امریکی ملکوں کے نوجوانوں کے نام پیغام
قائد انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپ و شمالی امریکہ کے نوجوانوں کے نام ایک پیغام، تحریر فرمایا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے اس پیغام میں تحریر فرمایا ہے کہ فرانس اور بعض دیگر یورپی ملکوں میں پیش آنے والے واقعات نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ براہ راست آپ سب سے گفتگو کروں-
قائد انقلاب اسلامی کے پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
بسم الله الرّحمن الرّحیم
یورپ اور شمالی امریکا کے تمام نوجوانوں کے نام؛
فرانس کے حالیہ واقعات اور بعض دیگر مغربی ملکوں میں رونما ہونے والے ایسے ہی واقعات نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا کہ آپ سے براہ راست گفتگو کرنا چاہئے۔ میں آپ نوجوانوں کو اپنا مخاطب قرار دے رہا ہوں، اس وجہ سے نہیں کہ آپ کے والدین کو نظرانداز کر رہا ہوں، بلکہ اس وجہ سے کہ آپ کی سرزمین اور ملت کا مستقبل میں آپ کے ہاتھوں میں دیکھ رہا ہوں، نیز آپ کے دلوں میں حقیقت کو سمجھنے کا تجسس زیادہ متحرک اور زیادہ بیدار پاتا ہوں۔ اس تحریر میں میرا خطاب آپ کے سیاستدانوں اور سرکاری حکام سے نہیں ہے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے سیاست کے راستے کو عمدا صداقت و سچائی سے الگ کر دیا ہے۔
آپ سے مجھے اسلام کے بارے میں بات کرنی ہے اور خاص طور پر اسلام کی اس تصویر اور شبیہ کے بارے میں جو آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ گزشتہ دو عشرے سے اس طرف یعنی تقریبا سویت یونین کے سقوط کے بعد سے، بہت زیادہ کوششیں ہوئیں کہ اس عظیم دین کو خوفناک دشمن کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ خوف و نفرت کے جذبات بر انگیختہ کرنا اور پھر اس سے فائدہ اٹھانا، بد قسمتی سے مغرب کی سیاسی تاریخ میں بہت پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ یہاں گوناگوں خوف و ہراس کے بارے میں بات کرنا مقصود نہیں جس کی تاحال مغربی اقوام کو تلقین کی جاتی رہی ہے۔ آپ خود ہی حالیہ تاریخ کا مختصر ناقدانہ مطالعہ کرکے اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ حالیہ تاریخ نگاری میں، دنیا کی دیگر اقوام اور ثقافتوں کے ساتھ مغربی حکومتوں کے غیر صادقانہ اور فریب آمیز برتاؤ کی مذمت کی گئی ہے۔ یورپ اور امریکا کی تاریخ بردہ فروشی سے شرمسار ہے، استعماری دور کے باعث شرمندہ ہے، رنگدار نسلوں اور غیر عیسائیوں پر کئے جانے والے مظالم کے باعث نادم ہے، آپ کے محققین اور مورخین مذہب کے نام پر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے درمیان یا پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں قوم پرستی اور قومیت کے نام پر ہونے والی خونریزی پر حد درجہ اظہار شرمندگی کرتے ہیں۔
یہ چیز بجائے خود قابل تعریف ہے۔ اس طولانی فہرست کا کچھ حصہ سامنے لانے سے میرا مقصد تاریخ کی سرزنش کرنا نہیں ہے، بلکہ آپ سے چاہتا ہوں کہ اپنے روشن خیال لوگوں سے سوال کیجئے کہ آخر مغرب میں عمومی ضمیر چند عشروں اور بسا اوقات چند صدیوں کی تاخیر سے کیوں بیدار ہو اور ہوش میں آئے؟ عمومی ضمیر کے اندر نظر ثانی کا خیال عصری مسائل کے بجائے کیوں ماضی بعید کے ادوار پر مرکوز رہے؟ اسلامی نظریات اور ثقافت کے سلسلے میں طرز سلوک کے انتہائی اہم مسئلے میں کیوں عمومی آگاہی و ادراک کا سد باب کیا جاتا ہے؟
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ 'دوسروں' کے بارے میں موہوم خوف و نفرت پھیلانا اور ان کی تحقیر، تمام ظالمانہ استعمار اور استحصال کا مشترکہ مقدمہ رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ خود سے یہ سوال کیجئے کہ خوف پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کی پرانی پالیسی نے اس بار غیر معمولی شدت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ کیوں بنایا ہے؟ آج کی دنیا کا طاقت کا نظام کیوں چاہتا ہے کہ اسلامی فکر حاشیئے پر اور دفاعی حالت میں رہے؟ اسلام کے کون سے اقدار اور مفاہیم ہیں جو بڑی طاقتوں کے منصوبوں کے سد راہ بن رہے ہیں، اور اسلام کی شبیہ مسخ کرنے کی آڑ میں کون سے مفادات حاصل کئے جا رہے ہیں؟ تو میری پہلی گزارش یہ ہے کہ وسیع پیمانے پر اسلام کی تصویر مسخ کرنے کے محرکات کے بارے میں سوال اور جستجو کیجئے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ زہریلے پروپیگنڈے اور منفی تعصب کے طوفان کے مقابلے میں آپ اس دین کی براہ راست اور بلا واسطہ طور پر شناخت حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ کم از کم آپ کو اتنا معلوم ہو کہ جس چیز سے آپ کو بیزار اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے، وہ کیا ہے اور اس کی کیا ماہیت ہے؟ میرا یہ اصرار نہیں ہے کہ آپ اسلام کے بارے میں میری رائے یا کسی اور نظریئے کو قبول کیجئے بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ موقع نہ دیجئے کہ آج کی دنیا کی یہ کمال پذیر اور موثر حقیقت، آلودہ اہداف و مقاصد کے سائے میں آپ کے سامنے پیش کی جائے۔ اس بات کا موقع نہ دیجئے کہ زرخرید دہشت گردوں کو ریاکارانہ طور پر اسلام کے نمائندوں کی حیثیت سے آپ کے سامنے متعارف کرایا جائے۔ اسلام کو اس کے اصلی مآخذ کے ذریعے پہچانئے۔ قرآن اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی زندگی کے ذریعے اسلام سے روشناس ہوئیے۔ میں یہاں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا اب تک کبھی آپ نے مسلمانوں کے قرآن سے براہ راست رجوع کیا ہے؟ کیا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی تعلیمات اور آپ کے انسانی و اخلاقی اسباق کا مطالعہ کیا ہے؟ کیا کبھی ذرائع ابلاغ کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی اسلام کا پیغام حاصل کیا ہے؟ کیا کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ یہی اسلام آخر کس طرح اور کن اقدار کی بنیاد پر صدیوں سے دنیا کے سب سے بڑے علمی و فکری تمدن کی پرورش کر رہا ہے اور اس نے اعلی سطح کے مفکرین اور دانشوروں کی تربیت کی ہے؟
میں آپ سے چاہتا ہوں کہ یہ موقع نہ دیجئے کہ توہین آمیز اور مذموم تصویر پیش کرکے لوگ حقیقت اور آپ کے درمیان جذبات کی دیوار کھڑی کر دیں اور آپ کو غیر جانبدارانہ فیصلے کے امکانات سے محروم کر دیں۔ آج مواصلاتی ذرائع نے جغرافیائی سرحدوں کو توڑ دیا ہے تو آپ خود کو ذہنی سطح پر بنا دی جانے والی فرضی حدود میں محصور نہ ہونے دیجئے۔ حالانکہ کوئی بھی انفرادی طور پر اس خلیج کو بھر نہیں سکتا جو پیدا کر دی گئی ہے، مگر آپ میں سے ہر کوئی، خود کو اور اپنے گرد و پیش کے افراد کو حقیقت سے روشناس کرانے کے مقصد سے اس خلیج پر فکر و انصاف پسندی کا ایک پل ضرور تعمیر کر سکتا ہے۔ اسلام اور آپ نوجوانوں کے درمیان یہ چیلنج جس کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے، یقینا ناگوار ہے مگر آپ کے متلاشی اور تجسس سے بھرے ذہن میں نئے سوال پیدا کر سکتی ہے۔ ان سوالوں کے جواب کی تلاش، آپ کے سامنے نئے حقائق کے انکشاف کا موقع فراہم کریگی۔ بنابریں اسلام سے غیر جانبدارانہ آشنائی اور صحیح ادراک کے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیجئے تاکہ شاید حقیقت کے سلسلے میں آپ کی ذمہ دارانہ روش کی برکت سے، آئندہ نسلیں اسلام کے سلسلے میں مغرب کے برتاؤ کی تاریخ کے اس دور کو کبیدہ خاطر ہوئے بغیر فکری و ذہنی آسودگی کے ساتھ ضبط تحریر میں لائیں۔
سیّدعلی خامنهای
۱۳۹۳/۱۱/۱ (ہجری شمسی مطابق 21 جنوری 2015)
شیخ عفیف النابلسی: امام خمینی (رہ) نے اسلام کے اندر نئی روح پھونکی
لبنان کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عفیف النابلسی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی(رہ) کے بارے میں کہا: امام خمینی (رہ) ایک نیک آدمی اور دنیا والوں پر اللہ کی حجت تھے انہوں نے اسلام کے اندر نئی روح پھونکی۔
لبنان کے شیعوں کی مجلس اعلی کے رکن نے اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ امام راحل نے مسلمانوں کو معنوی زندگی دی کہا: انہوں نے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور پوری دنیا کی طرف سے پڑنے والے دباو کے باوجود انہوں نے مرتد سلمان رشدی کے خلاف تاریخی فتویٰ دیا۔
شیخ عفیف النابلسی نے واضح کیا: ہم نے امام کے افکار کے بارے میں متعدد مقالات تحریر کئے ہیں اور ہم اسی طرح رہبر انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تئیں وفادار ہیں اور ان کے راستے پر پابند رہیں گے۔
حزب اللہ لبنان کے سابق رکن نے اسلامی مزاحمت کی غاصب اسرائیل پر کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ۳۳ روزہ جنگ کے دوران میں نے رہبر انقلاب کو ایک خط لکھا اور اس میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایران کی مدد اور مراجع کرام اور نیک بندوں کی دعائیں نہ ہوتیں تو ہم ہرگز اس جنگ میں کامیابی حاصل نہ کر پاتے۔
واضح رہے کہ شیخ عفیف النابلسی لبنان کے بزرگ عالم دین اور "المجلس الإسلامي الشيعي الأعلى" کے رکن ہیں۔ انہوں نے شہید شیخ راغب حرب کے ساتھ مل کر علمائے جبل عامل تنظیم کا قیام عمل میں لایا اور جنوبی لبنان میں اسلامی مزاحمت کی حمایت میں کافی رول ادا کیا۔ شیخ النابلسی شہید سید عباس موسوی کے دور میں حزب اللہ لبنان کے رکن تھے اور ان کے بعد انہوں نے تدریس اور تالیف کا راستہ اختیار کر لیا۔
صیہونی فوجیوں کی فلسطینیوں پر فائرنگ
صیہونی فوجیوں نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی غزہ پٹی میں فلسطینیوں پر فائرنگ کی ہے۔ فلسطینی ذرائع نے اعلان کیاہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے منگل کے دن جنوبی غزہ پٹی میں واقع خان یونس میں فلسطینی کسانوں پر فائرنگ کی ۔ اس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں ابھی تک کوئي رپورٹ موصول نہیں ہوئي ہے۔ واضح رہےکہ صیہونی فوجی غزہ پٹی میں پچاس روزہ جنگ کے بعد فلسطینی استقامت کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بارہا اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی ماہی گیروں اور فلسطین کی زرعی زمینوں کو فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اب تک دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔
آج اسلام خطرے میں ہے، تکفیریت سے مقابلہ حقیقت میں اسلام کا دفاع ہے
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مناسبت سے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے یوم ولادت پر تمام مسلمانوں اور عیسائی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خطے کے بعض اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔
تکفیری دہشتگرد عناصر اب اپنے حامی ممالک کیجانب بڑھ رہے ہیں:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ تکفیری دہشت گرد عناصر جو خود کو اسلام اور رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب کرتے ہیں درحقیقت اپنے غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات کے ذریعے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، قرآن کریم اور امت مسلمہ کی توہین کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے اسلام کو درپیش خطرات ان خطرات سے کہیں زیادہ سنگین اور نقصان دہ ہیں جو اسلام دشمن عناصر کی جانب سے کتابیں لکھنے اور فلمیں اور کارٹون بنانے کے ذریعے اسلام کو پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر جو بیگناہ افراد کا سر تن سے جدا کرتے ہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دفاع کے دعویدار نہیں ہوسکتے، لہذا تکفیری دہشت گروہوں کا مقابلہ درحقیقت اسلام کا دفاع ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اب تکفیری دہشت گرد عناصر کا رخ اپنے ہی حامی ممالک کی جانب ہوتا جا رہا ہے، جس کی واضح مثال گذشتہ دنوں فرانس میں ہونے والے دہشت گردانہ اقدامات ہیں۔ انہوں نے خطے کے تمام ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا: "میں آج خطے کے تمام ممالک کو واضح انداز میں کہتا ہوں کہ یہ تکفیری دہشت گرد گروہ مستقبل قریب میں ان کی عزت اور آبرو کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ تکفیری عناصر سے درپیش خطرات صرف سیاسی حد تک نہیں بلکہ ان دہشت گرد گروہوں نے اسلام کی عزت، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن کریم کی عظمت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ لہذا جب اسلام کے دفاع کی بات آتی ہے تو بہت سی چیزوں کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ آج اسلام خطرے میں ہے، ایسے ہی جیسے امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں اسلام خطرے میں تھا، لہذا آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کی کم تعداد کی پرواہ کئے بغیر اسلام کے تحفظ کیلئے انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔"
وینزویلا کے صدر جمہوریہ نے امام خمینی(رہ) کو خراج عقیدت پیش کیا
وینزویلا کے صدر جمہوریہ نیکلاس ماڈورا جو ایران کے دورے پر تها اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی(رہ) کے مرقد پر حاضر ہو کر پھول چڑھائے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے اپنے اس سفر میں صدر روحانی اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے بھی الگ الگ ملاقات اور گفتگو کی۔
ان کی گفتگو کا محور ایران اور وینزویلا کے درمیان پائے جانے والے روابط کو مزید استحکام بخشنا تھا۔ واضح رہے کہ نیکلاس مادوڑا کا صدر جمہوریہ کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ایران کا یہ پہلا دورہ تھا۔
ایران، حماس تعلقات اسٹریٹیجک اہمیت کے ہیں
لبنان ميں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے نمائندے نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ اس تحریک کے تعلقات اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔ لبنان میں تحریک حماس کے نمائندے علی برکہ نے فلسطین کے اطلاع رسانی کے مرکز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنے قیام کے آغاز سے لے کراب تک کسی بھی وقت مسئلہ فلسطین سے غفلت نہیں برتی ہے اور ہمیشہ صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی ہے۔ علی برکہ نے تہران میں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر ایران کا شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ ، امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنے کا ایک اہم ترین عامل شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے میں بعض عرب ملکوں کی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عرب ممالک فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت کے اقدامات کے تماشائی بنے بیٹھےہیں بلکہ بعض تو اس غاصب اور جارح حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے بھی درپے ہیں۔
رہبر معظم سے ونزوئلا کے صدر میڈورا نے ملاقات کی
۲۰۱۵/۰۱/۱۰ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا کے ساتھ ملاقات میں غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے اقدامات اور مؤقف کی تعریف و تجلیل کی اورلاطینی امریکی علاقہ میں ونزوئلا کے دلیرانہ اور مؤثر اسٹراٹیک مؤقف کو سامراجی طاقتوں کی ونزوئلا کے خلاف عداوت اور دشمنی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا ونزوئلا کے ساتھ تمام شعبوں میں ہمہ گیر تعاون کو فروغ دینے کا پختہ عزم اور قطعی ارادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کے آنجہانی سابق صدر ہوگوشاویز کو ایران کے بہترین اور اچھے دوست کے عنوان سے یاد کیا اور دونوں ممالک کے قریبی روابط کی طرف اشارہ کیا اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے بھی اپنے دور میں اس تعاون کو اچھی طرح جاری رکھا اور دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ سازشوں اور مشکلات پر آپ شجاعت اور دلیری کے ساتھ غالب آگئے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک مختصر عرصہ میں تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی کو ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمارے مشترک دشمن تیل کو ہمارے خلاف سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یقینی طور پر تیل کی قیمت میں نمایاں کمی میں ان کا اہم کردار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کی قیمت میں کمی کے سلسلے میں ہمآہنگ مقابلہ کے لئے ونزوئلا اور ایران کے صدور کے درمیان باہمی تعاون کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون صرف تیل کے شعبہ تک محدود نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کی موجودہ سطح توقع سے کم ہے لہذا اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ونزوئلا کے دلیرانہ اقدامات ، شجاعانہ مؤقف اور پائداری کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: لاطینی امریکی ممالک درحقیقت ونزوئلا کی عمیق اسٹراٹیجک ہیں اور ونزوئلا کے مقاصد علاقائی قوموں کی بیداری کا باعث بنے اور امریکہ کی ونزوئلا کی حکومت اور قوم کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی اصلی وجہ بھی یہی مسئلہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں غزہ کی 51 روزہ جنک میں ونزوئلا کی حکومت کے بہت اچھے مؤقف اور اسی طرح اس ملاقات میں ونزوئلا کے صدر کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسرائیل کی غاصب حکومت دنیا میں بالخصوص ہمارے علاقہ کی قوموں کے درمیان مکمل طور پر ایک منفور حکومت بن چکی ہے اور اس غاصب صہیونی حکومت کے خلاف آپ کے دلیرانہ اور شجاعانہ مؤقف کی بدولت علاقہ کی بہت سی قومیں آپ کی دوست بن جائیں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کی حکومت کی کامیابی کی تمنا کی اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوان اور پختہ عز م و ارادہ کے مالک ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم بھی باہمی تعاون کو فروغ دینے پر استوار ہےجس کا کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان آغاز اور استمرار جاری ہے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اس ملاقات میں صدر حسن روحانی بھی موجود تھےونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ونزوئلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز ہمیشہ اپنے خطاب میں جناب عالی کی ہدایات کو یاد کرتے تھے اور وہ ایران اور ایرانی قوم کے لئے خاص مقام و منزلت کے قائل تھے اور ہم بھی انھیں کی طرح ایران کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
جناب میڈورا نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بہت ہی گرانقدر سرمایہ قراردیتے ہوئے کہا: ہمیں دونوں ممالک کی اندرونی ظرفیتوں اور توانائیوں سےاستفادہ کرتے ہوئے ترقی اور توسعہ کی راہ میں مضبوط اور استوار قدم اٹھنا چاہیے۔
ونزوئلا کے صدر نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اوپک کے رکن ممالک کے درمیان قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اسی طرح تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک جیسے روس کے ساتھ اجماع پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں تاکہ ہم باہمی تعاون کے ذریعہ تیل کی قیمتوں کو کسی قابل قبول مرحلے تک واپس لوٹا سکیں ۔
جناب میڈورا نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین عالم بشریت کا ایک مقصد ہے اور ونزوئلا کی حکومت اور قوم اپنے آپ کو فلسطینی مقصد کا مدیون اور مقروض سمجھتے ہیں اور ہمیں اطیمنان ہے کہ فلسطین ایک دن آزاد ہوجائے گا۔
ونزوئلا کے صدر نے کہا : مسئلہ فلسطین سامراجی پالیسیوں اور امریکہ کی تباہ کن سازشوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اور امریکہ اپنے تسلط پسند اور انسانیت کے خلاف چہرے کوہزار معتبر چہروں کے پیچھے چھپانے اور پنہاں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے دلیرانہ مؤقف کی تعریف/تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت ہے/میڈورا: تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنے کے لئے اجماع پیدا کرنے کی تلاش /مسئلہ فلسطین ، امریکی حکومت کی تباہ کن اور سامراجی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ( بروز سنیچر ) سہ پہر کو ونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا کے ساتھ ملاقات میں غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے اقدامات اور مؤقف کی تعریف و تجلیل کی اورلاطینی امریکی علاقہ میں ونزوئلا کے دلیرانہ اور مؤثر اسٹراٹیک مؤقف کو سامراجی طاقتوں کی ونزوئلا کے خلاف عداوت اور دشمنی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا ونزوئلا کے ساتھ تمام شعبوں میں ہمہ گیر تعاون کو فروغ دینے کا پختہ عزم اور قطعی ارادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کے آنجہانی سابق صدر ہوگوشاویز کو ایران کے بہترین اور اچھے دوست کے عنوان سے یاد کیا اور دونوں ممالک کے قریبی روابط کی طرف اشارہ کیا اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے بھی اپنے دور میں اس تعاون کو اچھی طرح جاری رکھا اور دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ سازشوں اور مشکلات پر آپ شجاعت اور دلیری کے ساتھ غالب آگئے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک مختصر عرصہ میں تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی کو ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمارے مشترک دشمن تیل کو ہمارے خلاف سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یقینی طور پر تیل کی قیمت میں نمایاں کمی میں ان کا اہم کردار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کی قیمت میں کمی کے سلسلے میں ہمآہنگ مقابلہ کے لئے ونزوئلا اور ایران کے صدور کے درمیان باہمی تعاون کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون صرف تیل کے شعبہ تک محدود نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کی موجودہ سطح توقع سے کم ہے لہذا اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ونزوئلا کے دلیرانہ اقدامات ، شجاعانہ مؤقف اور پائداری کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: لاطینی امریکی ممالک درحقیقت ونزوئلا کی عمیق اسٹراٹیجک ہیں اور ونزوئلا کے مقاصد علاقائی قوموں کی بیداری کا باعث بنے اور امریکہ کی ونزوئلا کی حکومت اور قوم کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی اصلی وجہ بھی یہی مسئلہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں غزہ کی 51 روزہ جنک میں ونزوئلا کی حکومت کے بہت اچھے مؤقف اور اسی طرح اس ملاقات میں ونزوئلا کے صدر کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسرائیل کی غاصب حکومت دنیا میں بالخصوص ہمارے علاقہ کی قوموں کے درمیان مکمل طور پر ایک منفور حکومت بن چکی ہے اور اس غاصب صہیونی حکومت کے خلاف آپ کے دلیرانہ اور شجاعانہ مؤقف کی بدولت علاقہ کی بہت سی قومیں آپ کی دوست بن جائیں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کی حکومت کی کامیابی کی تمنا کی اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوان اور پختہ عز م و ارادہ کے مالک ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم بھی باہمی تعاون کو فروغ دینے پر استوار ہےجس کا کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان آغاز اور استمرار جاری ہے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اس ملاقات میں صدر حسن روحانی بھی موجود تھےونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ونزوئلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز ہمیشہ اپنے خطاب میں جناب عالی کی ہدایات کو یاد کرتے تھے اور وہ ایران اور ایرانی قوم کے لئے خاص مقام و منزلت کے قائل تھے اور ہم بھی انھیں کی طرح ایران کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
جناب میڈورا نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بہت ہی گرانقدر سرمایہ قراردیتے ہوئے کہا: ہمیں دونوں ممالک کی اندرونی ظرفیتوں اور توانائیوں سےاستفادہ کرتے ہوئے ترقی اور توسعہ کی راہ میں مضبوط اور استوار قدم اٹھنا چاہیے۔
ونزوئلا کے صدر نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اوپک کے رکن ممالک کے درمیان قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اسی طرح تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک جیسے روس کے ساتھ اجماع پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں تاکہ ہم باہمی تعاون کے ذریعہ تیل کی قیمتوں کو کسی قابل قبول مرحلے تک واپس لوٹا سکیں ۔
جناب میڈورا نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین عالم بشریت کا ایک مقصد ہے اور ونزوئلا کی حکومت اور قوم اپنے آپ کو فلسطینی مقصد کا مدیون اور مقروض سمجھتے ہیں اور ہمیں اطیمنان ہے کہ فلسطین ایک دن آزاد ہوجائے گا۔
ونزوئلا کے صدر نے کہا : مسئلہ فلسطین سامراجی پالیسیوں اور امریکہ کی تباہ کن سازشوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اور امریکہ اپنے تسلط پسند اور انسانیت کے خلاف چہرے کوہزار معتبر چہروں کے پیچھے چھپانے اور پنہاں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
رہبر معظم سے ونزوئلا کے صدر میڈورا نے ملاقات کی
۲۰۱۵/۰۱/۱۰ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا کے ساتھ ملاقات میں غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے اقدامات اور مؤقف کی تعریف و تجلیل کی اورلاطینی امریکی علاقہ میں ونزوئلا کے دلیرانہ اور مؤثر اسٹراٹیک مؤقف کو سامراجی طاقتوں کی ونزوئلا کے خلاف عداوت اور دشمنی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا ونزوئلا کے ساتھ تمام شعبوں میں ہمہ گیر تعاون کو فروغ دینے کا پختہ عزم اور قطعی ارادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کے آنجہانی سابق صدر ہوگوشاویز کو ایران کے بہترین اور اچھے دوست کے عنوان سے یاد کیا اور دونوں ممالک کے قریبی روابط کی طرف اشارہ کیا اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے بھی اپنے دور میں اس تعاون کو اچھی طرح جاری رکھا اور دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ سازشوں اور مشکلات پر آپ شجاعت اور دلیری کے ساتھ غالب آگئے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک مختصر عرصہ میں تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی کو ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمارے مشترک دشمن تیل کو ہمارے خلاف سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یقینی طور پر تیل کی قیمت میں نمایاں کمی میں ان کا اہم کردار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کی قیمت میں کمی کے سلسلے میں ہمآہنگ مقابلہ کے لئے ونزوئلا اور ایران کے صدور کے درمیان باہمی تعاون کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون صرف تیل کے شعبہ تک محدود نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کی موجودہ سطح توقع سے کم ہے لہذا اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ونزوئلا کے دلیرانہ اقدامات ، شجاعانہ مؤقف اور پائداری کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: لاطینی امریکی ممالک درحقیقت ونزوئلا کی عمیق اسٹراٹیجک ہیں اور ونزوئلا کے مقاصد علاقائی قوموں کی بیداری کا باعث بنے اور امریکہ کی ونزوئلا کی حکومت اور قوم کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی اصلی وجہ بھی یہی مسئلہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں غزہ کی 51 روزہ جنک میں ونزوئلا کی حکومت کے بہت اچھے مؤقف اور اسی طرح اس ملاقات میں ونزوئلا کے صدر کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسرائیل کی غاصب حکومت دنیا میں بالخصوص ہمارے علاقہ کی قوموں کے درمیان مکمل طور پر ایک منفور حکومت بن چکی ہے اور اس غاصب صہیونی حکومت کے خلاف آپ کے دلیرانہ اور شجاعانہ مؤقف کی بدولت علاقہ کی بہت سی قومیں آپ کی دوست بن جائیں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کی حکومت کی کامیابی کی تمنا کی اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوان اور پختہ عز م و ارادہ کے مالک ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم بھی باہمی تعاون کو فروغ دینے پر استوار ہےجس کا کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان آغاز اور استمرار جاری ہے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اس ملاقات میں صدر حسن روحانی بھی موجود تھےونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ونزوئلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز ہمیشہ اپنے خطاب میں جناب عالی کی ہدایات کو یاد کرتے تھے اور وہ ایران اور ایرانی قوم کے لئے خاص مقام و منزلت کے قائل تھے اور ہم بھی انھیں کی طرح ایران کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
جناب میڈورا نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بہت ہی گرانقدر سرمایہ قراردیتے ہوئے کہا: ہمیں دونوں ممالک کی اندرونی ظرفیتوں اور توانائیوں سےاستفادہ کرتے ہوئے ترقی اور توسعہ کی راہ میں مضبوط اور استوار قدم اٹھنا چاہیے۔
ونزوئلا کے صدر نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اوپک کے رکن ممالک کے درمیان قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اسی طرح تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک جیسے روس کے ساتھ اجماع پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں تاکہ ہم باہمی تعاون کے ذریعہ تیل کی قیمتوں کو کسی قابل قبول مرحلے تک واپس لوٹا سکیں ۔
جناب میڈورا نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین عالم بشریت کا ایک مقصد ہے اور ونزوئلا کی حکومت اور قوم اپنے آپ کو فلسطینی مقصد کا مدیون اور مقروض سمجھتے ہیں اور ہمیں اطیمنان ہے کہ فلسطین ایک دن آزاد ہوجائے گا۔
ونزوئلا کے صدر نے کہا : مسئلہ فلسطین سامراجی پالیسیوں اور امریکہ کی تباہ کن سازشوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اور امریکہ اپنے تسلط پسند اور انسانیت کے خلاف چہرے کوہزار معتبر چہروں کے پیچھے چھپانے اور پنہاں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے دلیرانہ مؤقف کی تعریف/تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت ہے/میڈورا: تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنے کے لئے اجماع پیدا کرنے کی تلاش /مسئلہ فلسطین ، امریکی حکومت کی تباہ کن اور سامراجی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ( بروز سنیچر ) سہ پہر کو ونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا کے ساتھ ملاقات میں غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ونزوئلا کے اقدامات اور مؤقف کی تعریف و تجلیل کی اورلاطینی امریکی علاقہ میں ونزوئلا کے دلیرانہ اور مؤثر اسٹراٹیک مؤقف کو سامراجی طاقتوں کی ونزوئلا کے خلاف عداوت اور دشمنی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا ونزوئلا کے ساتھ تمام شعبوں میں ہمہ گیر تعاون کو فروغ دینے کا پختہ عزم اور قطعی ارادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کے آنجہانی سابق صدر ہوگوشاویز کو ایران کے بہترین اور اچھے دوست کے عنوان سے یاد کیا اور دونوں ممالک کے قریبی روابط کی طرف اشارہ کیا اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے بھی اپنے دور میں اس تعاون کو اچھی طرح جاری رکھا اور دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ سازشوں اور مشکلات پر آپ شجاعت اور دلیری کے ساتھ غالب آگئے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک مختصر عرصہ میں تیل کی قیمتوں میں عجیب کمی کو ایک سیاسی اور غیر اقتصادی حرکت قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمارے مشترک دشمن تیل کو ہمارے خلاف سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یقینی طور پر تیل کی قیمت میں نمایاں کمی میں ان کا اہم کردار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کی قیمت میں کمی کے سلسلے میں ہمآہنگ مقابلہ کے لئے ونزوئلا اور ایران کے صدور کے درمیان باہمی تعاون کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون صرف تیل کے شعبہ تک محدود نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کی موجودہ سطح توقع سے کم ہے لہذا اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ونزوئلا کے دلیرانہ اقدامات ، شجاعانہ مؤقف اور پائداری کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: لاطینی امریکی ممالک درحقیقت ونزوئلا کی عمیق اسٹراٹیجک ہیں اور ونزوئلا کے مقاصد علاقائی قوموں کی بیداری کا باعث بنے اور امریکہ کی ونزوئلا کی حکومت اور قوم کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی اصلی وجہ بھی یہی مسئلہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں غزہ کی 51 روزہ جنک میں ونزوئلا کی حکومت کے بہت اچھے مؤقف اور اسی طرح اس ملاقات میں ونزوئلا کے صدر کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسرائیل کی غاصب حکومت دنیا میں بالخصوص ہمارے علاقہ کی قوموں کے درمیان مکمل طور پر ایک منفور حکومت بن چکی ہے اور اس غاصب صہیونی حکومت کے خلاف آپ کے دلیرانہ اور شجاعانہ مؤقف کی بدولت علاقہ کی بہت سی قومیں آپ کی دوست بن جائیں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ونزوئلا کی حکومت کی کامیابی کی تمنا کی اور جناب میڈورا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوان اور پختہ عز م و ارادہ کے مالک ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم بھی باہمی تعاون کو فروغ دینے پر استوار ہےجس کا کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان آغاز اور استمرار جاری ہے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اس ملاقات میں صدر حسن روحانی بھی موجود تھےونزوئلا کے صدر جناب نیکلس میڈورا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ونزوئلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز ہمیشہ اپنے خطاب میں جناب عالی کی ہدایات کو یاد کرتے تھے اور وہ ایران اور ایرانی قوم کے لئے خاص مقام و منزلت کے قائل تھے اور ہم بھی انھیں کی طرح ایران کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
جناب میڈورا نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بہت ہی گرانقدر سرمایہ قراردیتے ہوئے کہا: ہمیں دونوں ممالک کی اندرونی ظرفیتوں اور توانائیوں سےاستفادہ کرتے ہوئے ترقی اور توسعہ کی راہ میں مضبوط اور استوار قدم اٹھنا چاہیے۔
ونزوئلا کے صدر نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اوپک کے رکن ممالک کے درمیان قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اسی طرح تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک جیسے روس کے ساتھ اجماع پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں تاکہ ہم باہمی تعاون کے ذریعہ تیل کی قیمتوں کو کسی قابل قبول مرحلے تک واپس لوٹا سکیں ۔
جناب میڈورا نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین عالم بشریت کا ایک مقصد ہے اور ونزوئلا کی حکومت اور قوم اپنے آپ کو فلسطینی مقصد کا مدیون اور مقروض سمجھتے ہیں اور ہمیں اطیمنان ہے کہ فلسطین ایک دن آزاد ہوجائے گا۔
ونزوئلا کے صدر نے کہا : مسئلہ فلسطین سامراجی پالیسیوں اور امریکہ کی تباہ کن سازشوں کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اور امریکہ اپنے تسلط پسند اور انسانیت کے خلاف چہرے کوہزار معتبر چہروں کے پیچھے چھپانے اور پنہاں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
ایران، حماس تعلقات اسٹریٹیجک اہمیت کے ہیں
لبنان ميں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے نمائندے نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ اس تحریک کے تعلقات اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔ لبنان میں تحریک حماس کے نمائندے علی برکہ نے فلسطین کے اطلاع رسانی کے مرکز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنے قیام کے آغاز سے لے کراب تک کسی بھی وقت مسئلہ فلسطین سے غفلت نہیں برتی ہے اور ہمیشہ صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی ہے۔ علی برکہ نے تہران میں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر ایران کا شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ ، امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنے کا ایک اہم ترین عامل شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے میں بعض عرب ملکوں کی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عرب ممالک فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت کے اقدامات کے تماشائی بنے بیٹھےہیں بلکہ بعض تو اس غاصب اور جارح حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے بھی درپے ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
