Super User

Super User

Tuesday, 09 December 2014 00:00

سورہ ہود

بسم الله الرحمن الرحيم

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

الَر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

(1) الۤر - یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں اور ایک صاحبِ علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں 

        2      أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ

(2) کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو -میں اسی کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں 

        3      وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ

(3) اور اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ وہ تم کو مقررہ مدّت میں بہترین فائدہ عطا کرے گا اور صاحبِ فضل کو اس کے فضل کا حق دے گا اور میں تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے خوفزدہ ہوں 

        4      إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

(4) تم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے 

        5      أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

(5) آگاہ ہوجاؤ کہ یہ لوگ اپنے سینوں کو دہرائے لے رہے ہیں کہ اس طرح پیغمبر سے چھپ جائیں تو آگاہ رہیں کہ یہ جب اپنے کپڑوں کو خوب لپیٹ لیتے ہیں تو اس وقت بھی وہ ان کے ظاہر و باطن دونوں کو جانتا ہے کہ وہ تمام سینوں کے رازوں کا جاننے والا ہے 

        6      وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

(6) اور زمین پر چلنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جس کا رزق خدا کے ذمہ نہ ہو -وہ ہر ایک کے سونپے جانے کی جگہ اور اس کے قرار کی منزل کو جانتا ہے اور سب کچھ کتاب مبین میں محفوظ ہے 

        7      وَهُوَ الَّذِي خَلَق السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ

(7) اور وہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور اس کا تخت اقتدار پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے اور اگر آپ کہیں گے کہ تم لوگ موت کے بعد پھر اٹھائے جانے والے ہو تو یہ کافر کہیں گے کہ یہ تو صرف ایک کھلا ہوا جادو ہے 

        8      وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلاَ يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ

(8) اور اگر ہم ان کے عذاب کو ایک معینہ مدّت کے لئے ٹال دیں تو طنز کریں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ جس دن عذاب آجائے گا تو پھر پلٹنے والا نہیں ہے اور پھر وہ عذاب ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا جس کا یہ مذاق اڑا رہے تھے 

        9      وَلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

(9) اور اگر ہم انسان کو رحمت دے کر چھین لیتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے اور کفر کرنے لگتا ہے 

         ۱۰        وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاء بَعْدَ ضَرَّاء مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ

(10) اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ اب تو ہماری ساری برائیاں چلی گئیں اور وہخوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے 

        11    إِلاَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَـئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

(11) علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں کہ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر بھی ہے 

       12    فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَآئِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاء مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

(12) پس کیا تم ہماری وحی کے بعض حصوں کو اس لئے ترک کرنے والے ہو یا اس سے تمہارا سینہ اس لئے تنگ ہوا ہے کہ یہ لوگ کہیں گے کہ ان کے اوپر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا ان کے ساتھ َمُلک کیوں نہیں آیا ...تو آپ صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر شئے کا نگراں اور ذمہ دار ہے 

        13      أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

(13) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کے جیسے دس سورہ گڑھ کر تم بھی لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلالو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو 

        14    فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أُنزِلِ بِعِلْمِ اللّهِ وَأَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

(14) پھر اگر یہ آپ کی بات قبول نہ کریں تو تم سب سمجھ لو کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب خدا کے علم سے ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو کیا اب تم اسلام لانے والے ہو 

        15    مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لاَ يُبْخَسُونَ

(15) جو شخص زندگانی دنیا اور اس کی زینت ہی چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا پورا پورا حساب یہیں کردیتے ہیں اور کسی طرح کی کمی نہیں کرتے ہیں 

        16    أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(16) اور یہی وہ ہیں جن کے لئے آخرت میں جہنم ّکے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان کے سارے کاروبار برباد ہوگئے ہیں اور سارے اعمال باطل و بے اثر ہوگئے ہیں 

        17    أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَامًا وَرَحْمَةً أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ

(17) کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے اس کا گواہ بھی ہے اور اس کے پہلے موسٰی کیکتاب گواہی دے رہی ہے جو قوم کے لئے پیشوا اور رحمت تھی -وہ افترا کرے گا بیشک صاحبانِ ایمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ان کاٹھکانہ جہنم ّہے تو خبردار تم اس قرآن کی طرف سے شک میں مبتلا نہ ہونا -یہ خدا کی طرف سے برحق ہے اگرچہ اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ہیں 
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ

        18    وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أُوْلَـئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَـؤُلاء الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

(18) اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹا الزام لگاتا ہے. یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو سارے گواہ گواہی دیں گے کہ ان لوگوں نے خدا کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے تو آگاہ ہوجاؤ کہ ظالمین پر خدا کی لعنت ہے 

        19    الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ

(19) جو راسِ خدا سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کے بارے میں کفر اور انکار کرنے والے ہیں 

        20      أُولَـئِكَ لَمْ يَكُونُواْ مُعْجِزِينَ فِي الأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُواْ يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُواْ يُبْصِرُونَ

(20) یہ لوگ نہ روئے زمین میں خدا کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ خد اکے علاوہ ان کا کوئی ناصر و مددگار ہے ان کا عذاب دگنا کردیا جائے گا کہ یہ نہ حق بات سن سکتے تھے اور نہ اس کے منظر عام کو دیکھ سکتے تھے 

        21    أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ

(21) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود اپنے نفس کو خسارہ میں مبتلا کیا اور ان سے وہ بھی گم ہوگئے جن کا افترا کیا کرتے تھے 

        22    لاَ جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأَخْسَرُونَ

(22) یقینا یہ لوگ آخرت میں بہت بڑا گھاٹا اٹھانے والے ہیں 

        23    إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُواْ إِلَى رَبِّهِمْ أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ الجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

(23) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دئیے اور اپنے رب کی بارگاہ میں عاجزی سے پیش آئے وہی اہل جّنت ہیں اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں 

        24    مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأَعْمَى وَالأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلاً أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ

(24) کافر اور مسلمان کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے سننے والے کی ہے تو کیا یہ دونوں مثال کے اعتبار سے برابر ہوسکتے ہیں تمہیں ہوش کیوں نہیں آتا ہے 

        25    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

(25) اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجاکہ میں تمہارے لئے کھلے ہوئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں 

        26    أَن لاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ

(26) اور یہ کہ خبردار تم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا کہ میں تمہارے بارے میں دردناک دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں 

        27    فَقَالَ الْمَلأُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قِوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ

(27) تو ان کی قوم کے بڑے لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا -انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو اپنا ہی جیسا ایک انسان سمجھ رہے ہیں اور تمہارے اتباع کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پست طبقہ کے سادہ لوح افراد ہیں. ہم تم میں اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیںدیکھتے ہیں بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں 

        28    قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّيَ وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ

(28) انہوں نے جواب دیا کہ اے قوم تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل رکھتا ہوں اور وہ مجھے اپنی طرف سے وہ رحمت عطا کردے جو تمہیں دکھائی نہ دے تو کیا میں ناگواری کے باوجود زبردستی تمہارے اوپر لادسکتا ہوں 

        29      وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالاً إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللّهِ وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَلَـكِنِّيَ أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ

(29) اے قوم میں تم سے کوئی مال تو نہیں چاہتا ہوں -میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں صاحبان هایمان کو نکال بھی نہیں سکتا ہوںکہ وہ لوگ اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے والے ہیں البتہ میں تم کو ایک جاہل قوم تصور کررہا ہوں 

        30    وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ

(30) اے قوم میں ان لوگوں کو نکال باہر کردوں تو اللہ کی طرف سے میرا مددگار کون ہوگا کیا تمہیں ہوش نہیں آتا ہے 

        31    وَلاَ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلاَ أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلاَ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلاَ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللّهُ خَيْرًا اللّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ

(31) اور میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا ہوں کہ میرے پاس تمام خدائی خزانے موجود ہیں اور نہ ہر غیب کے جاننے کا دعوٰی کرتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ جو لوگ تمہارے نگاہوں میں ذلیل ہیں ان کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ خدا انہیں خیر نہ دے گا -اللہ ان کے دلوں سے خوب باخبر ہے -میں ایسا کہہ دوں گا تو ظالموں میں شمار ہوجاؤں گا 

        32    قَالُواْ يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتَنِا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

(32) ان لوگوں نے کہا کہ نوح آپ نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا تو اب جس چیز کا وعدہ کررہے تھے اسے لے آؤ اگر تم اپنے دعوٰی میں سچے ہو 

        33    قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ اللّهُ إِن شَاء وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

(33) نوح نے کہا کہ وہ تو خدا لے آئے گا اگر چاہے گا اور تم اسے عاجز بھی نہیں کرسکتے ہو 

        34    وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

(34) اور میں تمہیں نصیحت بھی کرنا چاہوں تو میری نصیحت تمہارے کام نہیں آئے گی اگر خدا ہی تم کو گمراہی میں چھوڑ دینا چاہے -وہی تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو 

        35    أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرَمُونَ


(35) کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پاس سے گڑھ لیا ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے گڑھا ہے تو اس کا جرم میرے ذمہ ہے اور میں تمہارے جرائم سے بری اور بیزار ہوں 

        36    وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلاَّ مَن قَدْ آمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ

(36) اور نوح کی طرف یہ وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے اب کوئی ایمان نہ لائے گا علاوہ ان کے جو ایمان لاچکے لہذا تم ان کے افعال سے رنجیدہ نہ ہو 

        37    وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلاَ تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ

(37) اور ہماری نگاہوں کے سامنے ہماری وحی کی نگرانی میں کشتی تیار کرو اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرو کہ یہ سب غرق ہوجانے والے ہیں 

        38      وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُواْ مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ

(38) اور نوح کشتی بنارہے تھے اور جب بھی قوم کی کسی جماعت کا گزر ہوتا تھا تو ان کا مذاق اڑاتے تھے -نوح نے کہا کہ اگر تم ہمارا مذاق اڑاؤ گے تو کل ہم اسی طرح تمہارا بھی مذاق اڑائیں گے 

        39    فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ

(39) پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس کے پاس عذاب آتا ہے اسے رسوا کردیا جاتا ہے اور پھر وہ عذاب دائمی ہی ہوجاتا ہے 

        40    حَتَّى إِذَا جَاء أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلاَّ مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِيلٌ

(40) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے کہا کہ نوح اپنے ساتھ ہر جوڑے میں سے دو کو لے لو اور اپنے اہل کو بھی لے لو علاوہ ان کے جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور صاحبان هایمان کو بھی لے لو اور ان کے ساتھ ایمان والے بہت ہی کم تھے 

        41    وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

(41) نوح نے کہا کہ اب تم سب کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کے سہارے اس کا بہاؤ بھی ہے اور ٹھہراؤ بھی اور بیشک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے 

        42    وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلاَ تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ

(42) اور وہ کشتی انہیں لے کر پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جارہی تھی کہ نوح نے اپنے فرزند کو آواز دی جو الگ جگہ پر تھا کہ فرزند ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں میں نہ ہوجا 

        43    قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاء قَالَ لاَ عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِلاَّ مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ

(43) اس نے کہا کہ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا -نوح نے کہا کہ آج حکم خدا سے کوئی بچانے والا نہیں ہے سوائے اس کے جس پر خود خدا رحم کرے اور پھر دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا 

        44    وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءكِ وَيَا سَمَاء أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاء وَقُضِيَ الأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْداً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

(44) اور قدرت کا حکم ہوا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اور اے آسمان اپنے پانی کو روک لے .اور پھر پانی گھٹ گیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشتی کوئہ جودی پر ٹھہر گئی اور آواز آئی کہ ہلاکت قوم هظالمین کے لئے ہے 

        45    وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابُنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

(45) اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار میرا فرزند میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے 

        46      قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ

(46) ارشاد ہوا کہ نوح یہ تمہارے اہل سے نہیں ہے یہ عمل هغیر صالح ہے لہذا مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے -میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تمہارا شمار جاہلوں میں نہ ہوجائے 

        47    قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ

(47) نوح نے کہا کہ خدایا میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ اس چیز کا سوال کروں جس کا علم نہ ہو اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے گا اور مجھ پر رحم نہ کرے گا تو میں خسارہ والوں میں ہوجاؤں گا 

        48    قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

(48) ارشاد ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ کشتی سے اترو یہ سلامتی اور برکت تمہارے ساتھ کی قوم پر ہے اور کچھ قومیں ہیں جنہیں ہم پہلے راحت دیں گے اس کے بعد ہماری طرف سے دردناک عذاب ملے گا 

        49    تِلْكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلاَ قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

(49) پیغمبریہ غیب کی خبریں ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی کررہے ہیں جن کا علم نہ آپ کو تھا اور نہ آپ کی قوم کو لہذا آپ صبر کریں کہ انجام صاحبان هتقویٰ کے ہاتھ میں ہے 

        50    وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ

(50) اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو انہوں نے کہا قوم والو اللہ کی عبادت کرو-اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے.تم صرف افترا کرنے والے ہو 

        51    يَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلاَ تَعْقِلُونَ

(51) قوم والو میں تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا میرا اجر تو اس پروردگار کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے کیا تم عقل استعمال نہیں کرتے ہو 

        52    وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْاْ مُجْرِمِينَ

(52) اے قوم خدا سے استغفار کرو اس کے بعد اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ وہ آسمان سے موسلادھار پانی برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں قوت کا اضافہ کردے گا اور خبردار مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرلینا 

        53    قَالُواْ يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

(53) ان لوگوں نے کہا اے ہود تم کوئی معجزہ تو لائے نہیں اور ہم صرف تمہارے کہنے پر اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے اور تمہاری بات پر ایمان لانے والے نہیں ہیں 

        54      إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوَءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

(54) ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی نے آپ کو دیوانہ بنادیا ہے -ہود نے کہا کہ میں خدا کو گواہ بناکر کہتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں 

        55    مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ

(55) لہذا تم سب مل کر میرے ساتھ مکاری کرو اور مجھے مہلت نہ دو 

        56    إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

(56) میرا اعتماد پروردگار پر ہے جو میرا اور تمہارا سب کا خدا ہے اور کوئی زمین پر چلنے والا ایسا نہیںہے جس کی پیشانی اس کے قبضہ میں نہ ہو میرے پروردگار کا راستہ بالکل سیدھا ہے 

        57    فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

(57) اس کے بعد بھی انحراف کرو تو میں نے خدائی پیغام کو پہنچادیا ہے اب خدا تمہاری جگہ پر دوسری قوموں کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہو بیشک میرا پروردگار ہر شے کا نگراں ہے 

        58    وَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ

(58) اور جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے ہود اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے بچالیااور انہیں سخت عذاب سے نجات دے دی 

        59    وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُواْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْاْ رُسُلَهُ وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ

(59) یہ قوم عاد ہے جس نے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ظالم و سرکش کا اتباع کرلیا 

        60    وَأُتْبِعُواْ فِي هَـذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلا إِنَّ عَادًا كَفَرُواْ رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ

(60) اور اس دنیا میں بھی اور قیامت میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ عاد نے اپنے پررودگار کا کفر کیا تو اب ہود کی قوم عاد کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے

        61    وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ

(61) اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اور انہوں نے کہا کہ اے قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اس نے تمہیںزمین سے پیدا کیا ہے اور اس میں آباد کیا ہے اب اس سے استغفار کرو اور اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ کہ میرا پروردگار قریب تر اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے 

        62    قَالُواْ يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـذَا أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ

(62) ان لوگوں نے کہا کہ اے صالح اس سے پہلے تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تم اس بات سے روکتے ہو کہ ہم اپنے بزرگوں کے معبودوں کی پرستش کریں -ہم یقینا تمہاری دعوت کی طرف سے شک اور شبہ میں ہیں 

        63       قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةً مِّن رَّبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ

(63) انہوں نے کہا اے قوم تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے رحمت عطا کی ہے تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا تو اس کے مقابلہ میں کون میری مدد کرسکے گا تم تو گھاٹے میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے ہو 

        64    وَيَا قَوْمِ هَـذِهِ نَاقَةُ اللّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللّهِ وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ

(64) اے قوم یہ ناقہ اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہے اسے آزاد چھوڑ دو تاکہ زمین هخدا میں چین سے کھائے اور اسے کسی طرح کی تکلیف نہ دینا کہ تمہیں جلدی ہی کوئی عذاب اپنی گرفت میں لے لے 

        65    فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ

(65) اس کے بعد بھی ان لوگوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا کہ اب اپنے گھروں میں تین دن تک اور آرام کرو کہ یہ وعدہ الٰہی ہے جو غلط نہیں ہوسکتا ہے 

        66    فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ

(66) اس کے بعد جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے صالح اور ان کے ساتھ کے صاحبانِ ایمان کو اپنی رحمت سے اپنے عذاب اور اس دن کی رسوائی سے بچالیا کہ تمہارا پروردگار صاحب هقوت اور سب پر غالب ہے 

        67    وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

(67) اور ظلم کرنے والوں کو ایک چنگھاڑنے اپنی لپیٹ میں لے لیا تو وہ اپنے دیار میں اوندھے پڑے رہ گئے 

        68    كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا أَلاَ إِنَّ ثَمُودَ كَفرُواْ رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْدًا لِّثَمُودَ

(68) جیسے کبھی یہاں بسے ہی نہیں تھے -آگاہ ہوجاؤ کہ ثمود نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور ہوشیار ہوجاؤ کہ ثمود کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے 

        69    وَلَقَدْ جَاءتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُـشْرَى قَالُواْ سَلاَمًا قَالَ سَلاَمٌ فَمَا لَبِثَ أَن جَاء بِعِجْلٍ حَنِيذٍ

(69) اور ابراہیم کے پاس ہمارے نمائندے بشارت لے کر آئے اور آکر سلام کیا تو ابراہیم نے بھی سلام کیا اور تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ بھنا ہوا بچھڑا لے آئے 

        70    فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لاَ تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُواْ لاَ تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ

(70) اور جب دیکھا کہ ان لوگوں کے ہاتھ ادھر نہیں بڑھ رہے ہیں تو تعجب کیا اور ان کی طرف سے خوف محسوس کیا انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں 

        71    وَامْرَأَتُهُ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ وَمِن وَرَاء إِسْحَقَ يَعْقُوبَ

(71) ابراہیم کی زوجہ اسی جگہ کھڑی تھیں یہ سن کر ہنس پڑیں تو ہم نے انہیں اسحاق کی بشارت دے دی اور اسحاق کے بعد پھر یعقوب کی بشارت دی 

        72      قَالَتْ يَا وَيْلَتَى أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ

(72) تو انہوں نے کہا کہ یہ مصیبت اب میرے یہاں بچہ ہوگا جب کہ میں بھی بوڑھی ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں یہ تو بالکل عجیب سی بات ہے 

        73    قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

(73) فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں حکم الٰہی میں تعجب ہورہا ہے اللہ کی رحمت اور برکت تم گھر والوں پر ہے وہ قابلِ حمد اور صاحبهمجد و بزرگی ہے 

        74    فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ

(74) اس کے بعد جب ابراہیم کا خوف برطرف ہوا اور ان کے پاس بشارت بھی آچکی تو انہوں نے ہم سے قوم لوط کے بارے میں اصرار کرنا شروع کردیا 

        75    إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ

(75) بیشک ابراہیم بہت ہی دردمند اور خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے 

        76    يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ قَدْ جَاء أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ

(76) ابراہیم اس بات سے اعراض کرو -اب حکم خدا آچکا ہے اور ان لوگوں تک وہ عذاب آنے والا ہے جو پلٹایا نہیں جاسکتا 

        77    وَلَمَّا جَاءتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَـذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ

(77) اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کے خیال سے رنجیدہ ہوئے اور تنگ دل ہوگئے اور کہا کہ یہ بڑا سخت دن ہے 

        78    وَجَاءهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُواْ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَـؤُلاء بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُواْ اللّهَ وَلاَ تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ

(78) اور ان کی قوم دوڑتی ہوئی آگئی اور اس کے پہلے بھی یہ لوگ ایسے برے کام کررہے تھے لوط نے کہا اے قوم یہ ہماری لڑکیاں تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں خدا سے ڈرو اور مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ نہ کرو کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں ہے 

        79    قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

(79) ان لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمیں آپ کی لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں 

        80    قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ

(80) لوط نے کہا کاش میرے پاس قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا 

        81    قَالُواْ يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ

(81) تو فرشتوں نے کہا کہ ہم آپ کے پروردگار کے نمائندے ہیں یہ ظالم آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے ہیں -آپ اپنے گھر والوں کو لے کررات کے کسے حّصے میں چلے جائیے اور کوئی شخص کسی کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے سوائے آپ کی زوجہ کے کہ اس تک وہی عذاب آنے والا ہے جو قوم تک آنے والا ہے ان کا وقت مقرر ہنگام هصبح ہے اور کیا صبح قریب نہیں ہے 

        82      فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ

(82) پھر جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے زمین کو تہ و بالا کردیا اور ان پر مسلسل کھرنجے دار پتھروں کی بارش کردی 

        83    مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ

(83) جن پر خدا کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے 

        84    وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّيَ أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ

(84) اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم اللہ کی عبادت کر کہ اس کہ علاوہ تیرا کوئی خدا نہیں ہے اور خبردار ناپ تول میں کمی نہ کرنا کہ میں تمہیں بھلائی میں دیکھ رہا ہوں اور میں تمہارے بارے میں اس دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو سب کو احاطہ کرلے گا 

        85    وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ

(85) اے قوم ناپ تول میں انصاف سے کام لو اور لوگوں کو کم چیزیں مت دو اور روئے زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو 

        86    بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ

(86) اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحبِ ایمان ہو اور میں تمہارے معاملات کا نگراں اور ذمہ دار نہیں ہوں 

        87    قَالُواْ يَا شُعَيْبُ أَصَلاَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاء إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ

(87) ان لوگوں نے طنز کیا کہ شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا اپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں تم تو بڑے بردبار اور سمجھ دار معلوم ہوتے ہو 

        88    قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىَ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

(88) شعیب نے کہا کہ اے قوم والو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں خدا کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے بہترین رزق عطا کردیا ہے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا ہوں کہ جس چیز سے تم کو روکتا ہوں خود اسی کی خلاف ورزی کروں میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہو -میری توفیق صرف اللہ سے وابستہ ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف میں توجہ کررہا ہوں 

        89      وَيَا قَوْمِ لاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ

(89) اور اے قوم کہیں میری مخالفت تم پر ایسا عذاب نازل نہ کرادے جیسا عذاب قوم نوح ,قوم ہود یا قوم صالح  پر نازل ہوا تھا اور قوم لوط بھی تم سے کچھ دور نہیں ہے 

        90    وَاسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ

(90) اور اپنے پروردگار سے استغفار کرو اس کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ کہ بیشک میرا پروردگار بہت مہربان اور محبت کرنے والا ہے 

        91    قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ

(91) ان لوگوں نے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں اور ہم توآپ کو اپنے درمیان کمزور ہی پارہے ہیں کہ اگر آپ کا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم آپ کو سنگسار کردیتے اور آپ ہم پر غالب نہیں آسکتے تھے 

        92    قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

(92) شعیب نے کہا کہ کیا میرا قبیلہ تمہاری نگاہ میں اللہ سے زیادہ عزیز ہے اور تم نے اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے جب کہ میرا پروردگار تمہارے اعمال کا خوب احاطہ کئے ہوئے ہے 

        93    وَيَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُواْ إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ

(93) اور اے قوم تم اپنی جگہ پر اپنا کام کرو میں اپنا کام کررہا ہوں عنقریب جان لو گے کہ کس کے پاس عذاب آکر اسے رسوا کردیتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور انتظار کرو کہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں 

        94    وَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مَّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

(94) اور جب ہمارا حکم (عذاب)آگیا تو ہم نے شعیب اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ظلم کرنے والوں کو ایک چنگھاڑنے پکڑ لیا تو وہ اپنے دیار ہی میں الٹ پلٹ ہوگئے 

        95    كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا أَلاَ بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ

(95) جیسے کبھی یہاں بسے ہی نہیں تھے اور آگاہ ہوجاؤ کہ قوم مدین کے لئے ویسے ہی ہلاکت ہے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوگئی تھی 

        96    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

(96) اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا 

        97    إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ

(97) فرعون اور اس کی قوم کی طرف تو لوگوں نے فرعون کے حکم کا اتباع کرلیا جب کہ فرعون کا حکم عقل و ہوش والا حکم نہیں تھا 

        98      يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ

(98) وہ روزِ قیامت اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور انہیں جہّنم ّمیں وارد کردے گا جو بدترین وارد ہونے کی جگہ ہے 

        99    وَأُتْبِعُواْ فِي هَـذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

(99) ان لوگوں کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگادی گئی ہے اور روز قیامت بھی یہ بدترین عطیہ ہے جو انہیں دیا جائے گا 

        100  ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَحَصِيدٌ

(100) یہ چند بستیوں کی خبریں ہیں جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں -ان میں سے بعض باقی رہ گئی ہیں اور بعض کٹ پٹ کر برابر ہو گئی ہیں 

        101  وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـكِن ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ لِّمَّا جَاء أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ

(101) اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو عذاب کے آجانے کے بعد ان کے وہ خدا بھی کام نہ آئے جنہیں وہ خدا کو چھوڑ کر پکار رہے تھے اور ان خداؤں نے مزید ہلاکت کے علاوہ انہیں کچھ نہیں دیا 

        102  وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ

(102) اور اسی طرح تمہارے پروردگار کی گرفت ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ اس کی گرفت بہت ہی سخت اور دردناک ہوتی ہے 


        103  إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ

(103) اس بات میں ان لوگوں کے لئے نشانی پائی جاتی ہے جو عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہیں -وہ دن جس دن تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہوگا 

        104  وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ

(104) اور ہم اپنے عذاب کو صرف ایک معینہ مدّت کے لئے ٹال رہے ہیں 

        105  يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ

(105) اس کے بعد جس دن وہ آجائے گا تو کوئی شخص بھی ِذنِ خدا کے بغیر کسی سے بات بھی نہ کرسکے گا -اس دن کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت 

        106  فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُواْ فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ

(106) پس جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ جہّنم میں رہیں گے جہاں اُن کے لئے صرف ہائے وائے اور چیخ پکار ہوگی 

        107  خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ

(107) وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں مگر یہ کہ آپ کا پروردگار نکالنا چاہے کہ وہ جو بھی چاہے کرسکتا ہے 

        108  وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء رَبُّكَ عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذٍ

(108) اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے اور وہیں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر یہ کہ پروردگار اس کے خلاف چاہے ...._یہ خدا کی ایک عطا ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے 

        109    فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـؤُلاء مَا يَعْبُدُونَ إِلاَّ كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُم مِّن قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍ


(109) لہذا خدا کے علاوہ جس کی بھی یہ پرستش کرتے ہیں اس کی طرف سے آپ کسی شبہ میں نہ پڑیں یہ اسی طرح پرستش کررہے ہیں جس طرح ان کے باپ دادا کررہے تھے اور ہم انہیں پورا پورا حّصہ بغیر کسی کمی کے دیں گے 

        110  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ

(110) اور ہم نے موسٰی  کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے بات نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس عذاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں 

        111  وَإِنَّ كُـلاًّ لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

(111) اور یقیناتمہارا پروردگار سب کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ ان سب کے اعمال سے خوب باخبر ہے 

        112  فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

(112) لہذا آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت سے کام لیں اور وہ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کرلی ہے اور کوئی کسی طرح کی زیادتی نہ کرے کہ خدا سب کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے 

        113  وَلاَ تَرْكَنُواْ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ

(113) اور خبردار تم لوگ ظالموں کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرنا کہ جہّنم کی آگ تمہیں چھولے گی اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست نہیں ہوگا اور تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی 

        114  وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ

(114) اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصّو ں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں اور یہ ذک» خدا کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے 

        115  وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

(115) اور آپ صبر سے کام لیں کہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے 

        116  فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجْرِمِينَ

(116) تو تمہارے پہلے والے زمانوں اور نسلوں میں ایسے صاحبان عقل کیوں نہیں پیدا ہوئے ہیں جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے علاوہ ان چند افراد کے جنہیں ہم نے نجات دے دی اور ظالم تو اپنے عیش ہی کے پیچھے پڑے رہے اور یہ سب کے سب مجرم تھے 

        117  وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

(117) اور آپ کے پروردگار کا کام یہ نہیں ہے کہ کسی قریہ کو ظلم کرکے تباہ کردے جب کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں 

        118     وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

(118) اور اگر آپ کا پروردگار چاہ لیتا تو سارے انسانوں کو ایک قوم بنادیتا (لیکن وہ جبر نہیں کرتاہے) لہذا یہ ہمیشہ مختلف ہی رہیں گے

        119  إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

(119) علاوہ ان کے جن پر خدا نے رحم کردیا ہو اور اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے اور آپ کے پروردگار کی یہ بات قطعی حق ہے کہ ہم جہنم ّکو انسانوں اور جنوں سے بھر کر رہیں گے 

        120  وَكُـلاًّ نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءكَ فِي هَـذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ

(120) اور ہم قدیم رسولوں کے واقعات آپ سے بیان کررہے ہیں کہ ان کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط رکھیں اور ان واقعات میں حق ,نصیحت اور صاحبان هایمان کے لئے سامانِ عبرت بھی ہے 

        121  وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ

(121) اور آپ ان بے ایمانوں سے کہہ دیں کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو اور ہم اپنی جگہ پر اپنا کام کررہے ہیں 

        122  وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ

(122) اور پھر انتظار کرو کہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں 

        123  وَلِلّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

 (123) اور اللہ ہی کے لئے آسمان اور زمین کا کل غیب ہے اور اسی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے لہذا آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر اعتماد کریں کہ آپ کا رب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے





 

صیہونی ریاست کے مزدوروں نے بیت المقدس کے مشرقی علاقے شعفاط میں فلسطینیوں کے ۱۰ مکانوں اور دکانوں کو بلڈوزر کے ذریعے ڈھیر کر دیا۔
الاقصی ٹی وی نے اعلان کیا کہ گھروں کو گرائے جاتے وقت فلسطینیوں نے مقابلہ کیا جس کی وجہ سے کئی فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
صیہونی ریاست نے پہلے ان گھروں کے غیر قانونیہونے کا اعلان کیا جبکہ کئی دیگر مکانوں کو گرانے کی بھی دھمکی دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بیت اللحم میں صیہونی فورسز نے فلسطینیوں پر حملے کر کے ۱۱ جوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

 

 

 

۲۰۱۴/۱۱/۲۷ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے رضاکار فورس کی اعلی کونسل کے ارکان اور رضاکار فورس کے مختلف طبقات کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں انسانی، الہی اور بصیرت کی ذمہ داری کے احساس کو رضاکار فورس کی منطقی فکر کی دو اصلی بنیادیں قرار دیا اور ایران کی مذاکراتی ٹیم کی استقامت، پائداری اور تلاش و کوشش کی تعریف کی اور امریکہ کا اعتماد حاصل کرنے کے سلسلے میں ایرانی قوم کی بے نیازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس دلیل کی بنیاد پر ہم اصل مذاکرات کے مخالف نہیں تھے اسی دلیل کی بنیاد پر ہم مذاکرات میں توسیع کے بھی مخالف نہیں ہیں البتہ ہر منصفانہ اور عاقلانہ معاہدے کو قبول کریں گے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ امریکی حکومت ہے جسے معاہدے کی ضرورت ہےاور معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسے سب سے زیادہ نقصان ہوگا اور سرانجام اگر یہ مذاکرات نتیجہ تک بھی نہ پہنچے تو اسلامی جمہوریہ ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اندرونی جذبات اور عشق کے ہمراہ فکر و علم و منطق کو عمل کے وسیع اور مختلف میدانوں میں رضاکار فورس کی کامیاب موجودگی کی رمزقراردیتے ہوئے فرمایا: رضاکار فورس کی اصلی اور بنیادی فکر مضبوط و مستحکم دینی اصولوں پر استوار ہے اور رضاکار فورس معاشرے و سماج اور اپنے خاندان کے بارے میں ذمہ داری کے احساس سے سرشار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: رضاکار فورس اور بسیجی فکر کا دوسرا ستون بصیرت،وقت اور ترجیحات کی شناخت، دوست و دشمن کی شناخت اور دشمن کے ساتھ مقابلہ کے لئے وسائل کی شناخت ہے جو پہلے ستون کی تکمیل اور اس کے لئے لازم شرط ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے عدم بصیرت کو شبہات ، نادانیوں اور انحرافات میں مبتلا ہونےکا باعث قرار دیتے ہوئے فرمایا: جن لوگوں کے پاس بصیرت نہیں ہے وہ ان نادان لوگوں کی طرح ہیں جوسن 88 ہجری شمسی میں فتنہ میں گرفتار ہوگئے، غبار آلود فضا اور ماحول میں حرکت اور عمل کی وجہ سے وہ منحرف ہوگئے اوراسی وجہ سے وہ دشمن کے مدد گاربن گئےاورانھوں نے دوست کو اپنے حملے کا نشانہ بنادیا۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے بصیرت کے بغیر ذمہ داری کے احساس کو بہت خطرناک قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض افراد انقلاب سے قبل مزاحمت کے دوران اور حالیہ تین عشروں میں احساس ذمہ داری کے ساتھ کام کیا لیکن انھوں نے بصیرت کے بغیر ایسے اقدامات انجام دیئے جن سے ملک، انقلاب اور حضرت امام (رہ) کی تحریک کوبہت نقصان پہنچا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بصیرت کے موضوع پر سن 88 ہجری شمسی کے فتنہ میں اپنی متعدد تاکیدات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انہی ایام میں بعض لوگ بصیرت کی تاکید پر ناراض ہوگئے لیکن میں پھر بصیرت پر تاکید کرتا ہوں ، کیونکہ انسان میں جذبہ اور ذمہ داری جتنی زیادہ ہو اگر بصیرت نہ ہو تو خطرہ بہت زیادہ ہےاور اس قسم کے فرد پر کسی قسم کا کوئی اطمینان نہیں ہے۔

 

 

25/11/2014 - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تکفیری گروپ کے بارے میں اسلامی علماء کی عالمی کانفرنس میں شریک مہمانوں اور دانشوروں کے ساتھ ملاقات میں حالیہ برسوں میں تکفیری گروپ کے احیاء کو عالم اسلام کے لئے استکبارکی گھناؤنی سازش اور مسلط کردہ مشکل قرار دیا اور سلفی وہابی تکفیری گروہ کے اقدامات کو مسجد الاقصی اور مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے سلسلے میں امریکی ، اسرائيلی اور سامراجی طاقتوں کی گھناؤنی سازش کا حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سلفی وہابی تکفیری گروہ کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے علمی ، منطقی اور ہمہ گير تحریک ایجاد کرنے ، اس گروہ کے احیاء میں استکباری پالیسیوں کے کارفرما ہونے ، مسئلہ فلسطین کے عالم اسلام کے اصلی مسئلہ ہونے اور اس کے عام مطالبہ کو دور حاضر میں عالم اسلام کے علماء کی اہم ذمہ داریوں اور ترجیحات میں قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں آیات عظام مکارم شیرازی اور سبحانی اور قم کے دوسرے علماء و فضلاء کے اس کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں سنجیدہ اہتمام اور تکفیری گروہ کے ساتھ مقابلہ کے لئے عالم اسلام کے علماء کے درمیان ہمہ گير علمی ہمآہنگي کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس خطرناک گروہ کے سلسلے میں تحقیق کے بارے میں اس نکتہ پر توجہ دینی چاہیے کہ اصلی موضوع احیا شدہ تکفیری گروہ کے ساتھ ہمہ گیر مقابلہ کرنا چاہیے جو داعش دہشت گرد گروہ سے بالا تر ہے اور حقیقت میں داعش اس شجریہ خبیثہ کی ایک شاخ کا نام ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ایک ناقابل انکار نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تکفیری گروہ اور اس کی پشتپناہ حکومتیں مکمل طور پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی سامراجی طاقتوں کے اہداف کی جانب حرکت کررہی ہیں اور اسلامی لبادہ پہن کر امریکہ اور صہیونیوں کی خدمت کررہی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے ساتھ مقابلہ اور سامراجی طاقتوں کے اہداف کے سلسلے سلفی تکفیریوں کے اقدامات کے بعض نمونوں کی طرف اشارہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کو منحرف کرنے کو پہلے نمونہ کے طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی بیداری کی تحریک امریکہ مخالف، اسرائیل مخالف اوراستبداد مخالف تھی لیکن سلفی وہابی تکفیریوں نے اس عظیم اسلامی تحریک کومسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی اور برادر کشی میں تبدیل کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس علاقہ میں مسلمانوں کی مزاحمتی فرنٹ لائن مقبوضہ فلسطین تھی لیکن سلفی وہابی تکفیری گروہ نے اس فرنٹ لائن کو تبدیل کردیا اور عراق، شام، پاکستان اورلیبیا کے شہروں کی سڑکوں پر اسے لے آئےجو تکفیریوں کے بھیانک ،خوفناک اور ناقابل فراموش جرائم کا ایک حصہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کو منحرف کرنے کو امریکہ، اسرائیل ، برطانیہ اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کی خدمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اس گمراہ گروہ کی استکباری اہداف کے سلسلے میں خدمت کا دوسرا نمونہ یہ ہے کہ سلفی وہابی تکفیریوں کی پشتپناہ حکومتیں غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں زبان کھولنے سے قاصر ہیں حتی وہ مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کا تعاون کررہی ہیں لیکن یہی طاقتیں ، اسلامی ممالک اور مسلمانوں پر چوٹ وارد کرنے کے لئے بہت زیادہ سرگرم عمل ہیں۔

 

 

ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے شمال میں واقع شہر پاوہ کے عالم دین اور امام جمعہ ’’ملا قادر قادری‘‘ نے ’’علمائے اسلامی کے نقطہ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو ہم پریشان تھے، اب بھی امریکہ عراق پر حملے کر رہا ہے، دو مہینوں سے دنیا کے چالیس ملک ایک چھوٹے سے شہر کوبانی سے دھشتگردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہیں، یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا: داعش یقینا نابود ہو کر رہے گا چونکہ افراطی ٹولوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے لیکن یہ فکر ختم ہونے والی نہیں ہے۔
پاوہ کے امام جمعہ نے کہا: ہمیں اپنی مساجد کی حفاظت کرنا چاہیے تاکہ داعشی فکر ان میں سرایت نہ کر جائے، داعش کا نتیجہ اسلام فوبیا ہے تاکہ اسلام دنیا میں پیشرفت نہ کرے۔ امریکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی اور دنیا میں اسلامی بیداری کے وجود پانے کے بعد، اسلام کا چہرہ بگاڑنے کی کوشش میں لگ گیا اور داعش کو اسی مقصد کی خاطر وجود میں لایا گیا۔
ملا قادر قادری نے کہا: مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ایسے اور ٹولے دنیا میں سر نہ نکالیں۔ ہم ایران میں شیعہ اور سنی سب ایک ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں، مشکلات پائی جاتی ہیں لیکن ایک ساتھ زندگی کا لطف کچھ اور ہی ہے۔ ایران میں امن و سکون چند چیزوں کی وجہ سے برقرار ہے ایک رہبر معظم انقلاب کی حکیمانہ رہبری سے، دوسرے شیعہ سنی علماء کی ہمفکری اور تیسرے لوگوں کے میدان میں پر جوش حضور سے۔

 

 

ایران کے شہر چابہار کے سنی امام جمعہ مولانا عبد الرحمٰن ملازئی نے قم میں منعقد ہونے والی "علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" کو خطاب کیا۔
انہوں نے اپنے بیان کو قرآنی آیات سے شروع کیا۔

 پروگرام کی ابتدا سے اب تک ہم  نے اس کانفرنس میں تقریر کرنے والے مقررین کی قابل قدر تقاریر اور انکے بیانات سے استفادہ کیا۔
وہ منحوس اور نامبارک عنصر جو آج عالم انسانیت کے لئے درد سر بنا ہوا ہے،ہمیں اسکو وجود میں لانے والے اسباب و محرکات کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔اسی کانفرنس میں بیٹھ کر جو میں نے بزرگوں کی تقاریر کو سنا،انہیں سننے کے بعد کچھ باتیں میرے ذہن میں آئی ہیں جو میں آپکی خدمت میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
تکفیری عنصر تقلید کو ٹھکرانے کا کڑوا نتیجہ ہے۔لہٰذا ایک ایسا شخص یا مرجع کہ جس میں تقلید کے لئے تمام تر لازم شرائط پائے جاتے ہوں،اگر اسکی تقلید کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور اس کام کی ضرورت کو آہستہ آہستہ سماج میں سلیقہ کے ساتھ فروغ دیا جائے تو اس سے اس نتہا پسند اور غیر شرعی و انسانی افکار کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
تکفیری مزاج حب جاہ، حب شہوت و ثروت کا تلخ نتیجہ ہے۔یہی تمام عناصر ایک بے بنیاد نظریہ کو ایک انسان کے ذہن میں ایجاد کرتے ہیں۔امریکا اور انگلینڈ جو مسلمانوں کے مشترکہ اہداف کی بنیادوں کو مختف ہتھکنڈے اپنا کر نابود کر چکے ہیں،وہ امت مسلمہ کو منتشر کرنے کے لئے سکون سے نہیں بیٹھے ہیں۔
اسلام کے بہت سے دعویداروں یا پھر اسلام کے نام نہاد منادیوں کی طرف سے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کے معانی اور اسکے اہداف کی طرف توجہ نہ دیا جانا یہ ایک بہت بڑا سبب ہے جسکی وجہ سے اس قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اس وقت ہم محرم کے محترم مہینہ کے آخری ایام میں یہاں جمع ہیں ،وہ میہنہ کہ جس میں، میں نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے یہ سبق سیکھا ہے کہ شمشیر صرف دین کی عزت کی خاطر اٹھتی ہےاور بس۔ آپکا مقصد اور جہاد کا مقصد صرف دین کی حفاظت ہے۔
دین اسلام میں اس قسم کا طرز فکر نہیں پایا جاتا۔دین اسلام محبت و مہربانی کا دین ہے،اور نبی اسلام(ص) اتحاد و رحمت کے نبی ہیں۔
کسی کے کفر کا فتوا دے دینا ہر کسی کے بس کا نہیں ہے،اسکے لئے اہلیت کی ضرورت ہے۔وہ کفر کا فتویٰ دینے کا حقدار ہے جس نے سالہا ماہر اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب طے کئے ہوں اور ان سے تعلیم حاصل کی ہو،ان کے ساتھ کام کیا ہو اور پھر مرجعیت کے مقام پر پہونچ کر اسے اپنے لئے محفوظ رکھا ہو۔
ایک مجتہد، مفتی یا مرجع ہی کوئی فتویٰ دے سکتا ہے۔ہر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔اہل سنت،انتہاپسندوں اور انکی حرکتوں کو حرام جانتے ہیں اور وہ ناجائز ہیں۔
آجکل کے سیاسی امور میں ہمارا ایک عظیم الشان رہبر ہے،ہم اسی کے افکار و نظریات کے تابع ہیں۔

 

یمن میں موجود شافعی مسلک کے معروف عالم دین اور مفتی اعظم شیخ سھل ابراہیم نے انتہا پسندی اور تکفیری تحریک کے سلسلہ سے قم میں کانفرنس کو خطاب کیا۔
انہوں نے کہا:قرآنی آیات نے مسلمانوں کو دیگر ادیان و مذاہب کے ساتھ امن و سکون سے زندگی گزارنے کی دعوت دی ہے۔لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپس میں اتحاد،یکجہتی اور بھائی چارہ کی فضا قائم کریں اور ایک دوسرے کی طرف کفر کی نسبت دینے سے پرھیز کریں۔
انہوں نے بعض اسلامی ممالک کے ذریعہ تکفیری فتنہ کی ہونے والی امداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:ان ممالک کی ثروت خود انہیں کی عوام پر خرچ ہونی چاہئے نہ یہ کہ اپنے ملک کی ثروت سے تکفیریت کے لئے امداد فراھم کریں۔
شیخ سہل نے کہا:اسلامی ممالک میں اختلاف اور تفرقہ پھیلانے والے چینلوں پر پابندی لگنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو تکفیریوں کے جرائم سے آگاہ کیا جائے۔

 

 

تہران کے خطیب نماز جمعہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران، گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات، آبرومندانہ طریقے سے انجام دے گا۔ تہران کے خطیب جمعہ آيۃ اللہ احمد جنتی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ویانا میں جاری مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم، امریکہ سے نہیں ڈرتی اور مذاکرات میں ہرگز، ذلت تسلیم نہیں کرے گی۔ آیۃ اللہ جنتی نے ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے رہنما ارشادات کی روشنی میں اور عوام کی حمایت سے، مذاکرات کا انجام بہترہوگا۔تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کے مقدس شہر قم میں " علماء اسلام کے نقطۂ نگاہ سے انتہا پسند اور تکفیری گروہوں "  کے بارے میں منعقدہ ایک کانفرنس کے بارے میں کہا کہ دشمنان اسلام کے خطروں اور دھمکیوں کے انکشاف کرنےکے لئے اس کانفرنس کا انعقاد معاشرے کے لئے بہت مفید ہے۔ آیۃ اللہ جنتی نے کہاکہ تکفیری اور انتہا پسند عناصر، عالم اسلام کو خطرے سے دوچار کرنے، اسلامی بیداری کو منحرف کرنے اور امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو علاقے ميں عملی جامہ پہنانے میں کوشاں ہیں۔ انہوں نے مسجد الاقصی میں اسرائیلی جارحیتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت مسجدالاقصی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اپنے اس مذموم مقصد کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی، فلسطینیوں کو بیت المقدس میں جانے کی اجازت نہیں دیتے اور وہاں انتہا پسند یہودیوں کوآباد کررہے ہیں ، ان کے لئے گھر بنا رہے ہيں تاکہ پھر فوج کی ضرورت ختم ہوجائے۔ آيۃاللہ جنتی نے کہا کہ ضرورت ہے کہ فلسطینی مسلمان، اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے مسلح ہوں اور انہيں اپنی سرزمین سے باہر نکال دیں۔

 

 

 

رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمیٰ بشیر نجفی جو چند روز قبل طبی معائنے کے لیے نجف اشرف سے لبنان کے دار الحکومت بیروت پہنچے بیروت کے ایک ہسپتال میں بھرتی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے اپنے اس سفر میں لبنان کی مختلف دینی اور سیاسی شخصیتوں سے ملاقاتیں بھی کیں رپورٹ کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز جنوبی لبنان کے شہر ’’جباع‘‘ میں شیعوں کی اسلامی اعلی کونسل کے نائب صدر شیخ عبد الامیر قبلان، حزب اللہ کے کمانڈر شیخ محمد جمعہ اور دیگر علماء و فضلا سے ملاقاتیں کیں۔

 حزب اللہ کے قائد سید حسن نصراللہ نے مرجع دینی آیۃ اللہ شیخ حافظ بشیرحسین النجفی کے لبنان میں موجوددفترمیں ان کی عیادت کی ہے،ذرائع کاکہنا ہے اس دوران سیدنے آیۃ اللہ کے ساتھ بالعموم پورے خطے کے اورخاص طورسے عراق اورلبنان میں مسلمانوں کے مختلف امورکے بارے میں تبادلہ خیا ل کیا۔

 

17/11/2014 - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگي میں آج صبح (بروزپیر) امام علی (ع) فوجی یونیورسٹی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی یونیورسٹیوں کے تربیت یافتہ جوانوں کی مشترکہ آٹھویں حلف برداری اور نشان اعطا کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی، تقریب کے میدان میں پہنچ کر سب سے پہلے شہداء کے مزار پر حاضر ہوئے اور دفاع مقدس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں  ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔

اس کے بعد میدان میں موجود فوجی دستوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو سلامی پیش کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس تقریب میں مسلح افواج کو ہر ملک کے اقتدار کےبنیادی ستونوں میں قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج کے حقیقی اقتدار کے لئے ایمان، بصیرت، پختہ عزم اور حقیقی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ پیشرفتہ ہتھیاروں سے مسلح ہونا اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج کی دنیا کو حقیقی اسلام کے حریت پسند پیغام کے لئے تشنہ قراردیتے ہوئے فرمایا: عالمی سامراجی اور منہ زورطاقتیں فوجی طاقت، ہنر ، سیاست اور اپنے تمام وسائل کے ذریعہ حقیقی اسلام کی آواز کو روکنے اور دبانے کی تلاش و کوشش کررہی ہیں اور سامراجی طاقتوں کا روزافزوں خوف و ہراس اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج کے اقتدار کے بارے میں گہری اور غیر سطحی رفتار پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: کسی ملک کی مسلح افواج کے اقتدار کا سبب صرف پیشرفتہ ہتھیار ، تربیت یافتہ جوان اور فوجیوں کی زیادہ تعداد نہیں ہوتی ہے  بلکہ معنوی جذبہ ،ذمہ داری کاحقیقی ادراک  اور مختلف جہات پر گہری نظر حکمفرما ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران ملک کی مسلح افواج کے پختہ عزم، خلاقیت، قدرت ، علمی اور معنوی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج پر دنیا کی گہری نظر ہے اور دنیا ایرانی مسلح افواج کو سنجيدگی سے لے رہی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ جہاں بھی رزم و پیکار اور ذمہ داری کی بات ہوتی ہے وہاں ایرانی مسلح افواج اپنی تمام توانائیوں کو بروی کارلائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام علی(ع)  یونیورسٹی کے افتخارات اوراس یونیورسٹی کے گرانقدر شہداء کی طرف اشارہ کیا اوریونیورسٹی کے کیڈٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے اقتدار کے ایک رکن کے عنوان سے مسلح افواج کی روزافزوں ترقی اور بلندی کے لئے اس علمی اور فوجی مجموعہ میں آپ اپنے آپ کو اچھی طرح آمادہ کریں اور دانشوروں اور ماہرین کی طرح جو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید تخلیقات پیش کررہے ہیں آپ بھی جدید ترین فوجی وسائل کی تخلیق کے ذریعہ ملک کے فوجی نظام کو مضبوط و مستحکم بنانے اور اس کی رفعت و بلندی کے لئے اپنے علم و دانش سے بھر پور استفادہ کریں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں ہر دور سے زیادہ بشریت کے لئے ایرانی قوم کے اسلامی پیغام کی نیاز و ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: عالمی سامراجی اور منہ زور طاقتیں اسلامی کے حریت پسند پیغام کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ تصور کرتے ہوئے شدید نگراں ہیں اور وہ اسلام کی آواز کو دبانے کے لئے  اپنے تمام وسائل، سیاست اور ہنر سے استفادہ کررہی ہیں اور دنیا کو اسلام سے خوفزدہ اور ہراساں کررہی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام کے نام پر دہشت گرد گروہوں کی تشکیل ، نام نہاد اسلامی حکومت کی تشکیل اور ان دہشت گرد گروہوں کے ذریعہ بے گناہ افراد کے قتل عام کو اسلام سے ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کا دشمنوں کا ایک نیا طریقہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انسایت کے لئے اسلام کا پیغام امن و صلح ، عزت اور سربلندی پر مبنی ہے لیکن اسلام کے دشمن نہیں چاہتے کہ قومیں اس پیغام سے آشنا ہوسکیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام علی علیہ السلام یونیورسٹی کے کیڈٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ سے پہلے والی نسل نے اسلام کے پیغام کو ہاتھ میں لے کر جنگ ، سیاست اور انقلاب کے میدانوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اب آپ ان عظیم شہیدوں اور گرانقدر انسانوں کے وارث ہیں اوراس پیغام کو اب  دنیا کے سامنے پیش کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل امام علی فوج یونیورسٹی کے کمانڈر جنرل فولادی نے خوش آمدید پیش کرتے ہوئے ایمان اور بصیرت ، روزمرہ مہارتوں و کیفیت کے رشد و ارتقاء کے سلسلے میں اس یونیورسٹی کی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں اور پروگراموں کے سلسلے میں رپورٹ پیش کی۔

اس تقریب میں کمانڈروں، فوجی اساتید، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ممتاز جوانوں اور ایک شہید کی ماں کو قرآن مجید کی ایک جلد اور جوائز سے نوازا گیا اور نئے فوجی جوانوں کے نمائندے نے بھی رہبر معظم انقلاب اسلامی سے اپنے نشان کو حاصل کیا۔

اس تقریب میں فوجی یونیورسٹیوں کے جوانوں نے گراؤنڈ میں " وارثان شہداء" پروگرام پیش کیا۔

اس تقریب کے اختتام پر فوجی جوانوں نے خود اعتماد کارروائی اور پریڈ کا شاندار مظاہرہ کیا۔