Super User
ایران: نئے ایٹمی بجلی گھروں کا معاہدہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی عنقریب ماسکو کا دورہ کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ علی اکبر صالحی ماسکو کے دورے میں ایران میں نئے ایٹمی بجلي گھر بنانے کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس ایٹم کے مینجنگ ڈائریکٹر نیکولائي اسپاسکی نے تہران کا دورہ کیا اور نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے بارے میں ایرانی حکام سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی عنقریب ماسکو کا دورہ کرکے نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں تجارتی معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ کمالوندی نے کہا کہ روس ایٹم کے سربراہ نے گذشتہ روز تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ نئے ایٹمی بجلی گھروں کے فنی اور تکنیکی مسائل کا جائزہ لیا ہے اور اس اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا جائے گا اور اسے حتمی شکل دیدی جائے گي۔ روس ایٹم کے سربراہ آج ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینئر مذاکرات کار عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔
سری لنکا میں مذہبی اختلافات پر مبنی اجتماعات پر پابندی
سری لنکا کی پولیس نے مذہبی اختلافات پر منتج ہونے والے اجتماعات اور سیمیناروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کی پولیس کے ترجمان آجیت روہانا نے کہا ہے کہ اب کے بعد آئین کے مطابق آزادی اظہار کی پابندی کے لۓ ایسے اجتماعات اور سیمیناروں کی اجازت نہیں دی جائے گي جو فرقہ ورانہ اختلافات کا باعث بنتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران انتہا پسند بڈھسٹوں نے سری لنکا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے کر کے ان میں سے دسیوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ متعدد مسلمانوں کو زخمی بھی کردیا ہے۔ ان انتہا پسند بڈھسٹوں نے مسلمانوں کے بہت سے رہائشی مکانات ، دوکانوں اور مذہبی مقامات کو نذر آتش بھی کردیا ہے۔ سری لنکا کے اخبارات و جرائد نے تشدد کے ان واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں پولیس کی کاکردگی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رہبر معظم سے عدلیہ کے سربراہ ،اعلی ججوں اور اہلکاروں کی ملاقات
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عدلیہ کے سربراہ ، اعلی صوبائی ججوں ، سرکاری وکلاء اور اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں عدلیہ میں آیت اللہ لاریجانی کے نئے پانچ سالہ دور کے لئے چھ اصلی ترجیحات بیان کرنے کے ضمن میں ملک کے عام مفادات اور بڑے مسائل میں تینوں قوا کے سربراہان کے درمیان باہمی تعاون، اتحاد اور یکجہتی کو بہت ہی ضروری اور اہم قراردیا اور امریکہ اور مغربی تسلط پسند طاقتوں کے فتنہ پرور اور شرانگيز ہاتھوں کو عراق کے حالیہ واقعات کے پس پردہ قراردیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے عراق میں ہر قسم کی امریکی مداخلت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس بات پر اعتقاد ہے کہ عراقی عوام ، عراقی حکومت اور عراق کے دینی مراجع عراق کے موجودہ فتنہ اور بحران کو ختم کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں شہدائے ہفتم تیر بالخصوص شہید آیت اللہ بہشتی اور اسی طرح شہید آیت اللہ قدوسی کی یاد تازہ کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا اور عدلیہ کو دیگر اداروں کی نسبت اسلامی نظام کے تمام اداروں کی طرف سے حق اور عدل و انصاف کے قیام کا ضامن قراردیتے ہوئے فرمایا: اسی بنیاد پر عدلیہ سے توقعات بہت زیادہ ہیں اور عدلیہ کے سربراہ جو ایک عالم، فاضل ، متدین ، مجتہد، خوش فکر، انقلابی ، مسائل سے آگاہ اور شجاع انسان ہیں ان کی ممتاز توانائیوں اور صلاحیتوں کے پیش نظر اہداف اور توقعات تک پہنچنا ممکن ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ پانچ سال میں عدلیہ کے سربراہ اور عدلیہ کے اعلی حکام کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے نئے دور کے لئے چھ اصلی ترجیحات کو بیان کیا۔
پالیسیوں کے نفاذ کے لئے مخصوص اور واضح طریقہ کار پہلی ترجیح تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عدلیہ سے متعلق پالیسیوں کے نفاذ اور نگرانی کے لئے واضح اور مخصوص طریقہ کار اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ججوں اور دیگر اعلی اہلکاروں کی کار کردگی پر نگرانی اور نظارت کو عدلیہ کی دوسری اصلی ترجیح قراردیتے ہوئے فرمایا: نظارت اور نگرانی کا عمل اتنا وسیع اور سنجیدگي پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ بعض کاموں پر اشکالات اور شکایات کم سے کم سطح تک پہنچ جائیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے احکام کے نفاذ میں عدم تاخير کو تیسری ترجیح کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے فرمایا: احکام کے نفاذ میں طولانی تاخير بعض نقائص کا مظہر ہیں جنھیں شناخت کرکے برطرف کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مقدمہ کی سماعت کے طولانی ہونے کے سلسلے میں ایک نکتہ کی یاد دلاتے ہوئے فرمایا: مقدمہ کے متوسط طور پر طولانی ہونے کے اعداد شمار میں کمی اچھی بات ہے لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ کتنے عرصہ میں کتنے مقدمات کو کتنی مدت کے اندر نمٹایا گيا اس کا اوسط جائزہ لینا چاہیے اور اگر تعداد زيادہ ہو تو اس میں کمی کرنی چاہیے۔
افراد کی تربیت ، جانشینی کی منصوبہ بندی، چوتھی ترجیح تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب سلامی نے اشارہ کیا اور جرم کی روک تھام کو پانچویں ترجیح کے طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا: جرم کی روک تھام کا موضوع ایک عام موضوع ہے جو کسی ایک قوہ کے دائرے سے باہر ہے لہذا عدلیہ کو اس سلسلے میں دیگر اداروں کے ساتھ مضبوط اور قریبی رابطہ قائم رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ مشترکہ نقاط کو مضبوط ، مستحکم اور قوی بنانا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جرم کی روک تھام مکمل طور پر ایک علمی موضوع بھی ہے لہذا اسی وجہ سے جرم کے عوامل و عناصر کی پہچان اور اس سے رونما ہونے والے خطرات کی شناخت کے لئے اس موضوع کے ماہرین اور مفکرین کے ساتھ صلاح و مشورہ اور اس سلسلے میں ان سے تعاون حاصل کرنا چاہیے۔
تینوں قوا کے درمیان باہمی تعاون میں اضافہ چھٹی اور آخری ترجیح تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں ہمیشہ تینوں قوا کے سربراہان کو اس بات کی تاکید کرتا رہا ہوں کہ وہ اپنے درمیان تعاون میں اضافہ پر توجہ دیں اور یہ تعاون اداروں کے اندرونی مسائل اور ملک کے بڑے مسائل کے دو شعبوں میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مختلف مسائل میں اسلامی نظام کے مجموعہ کی آواز یکساں طور پر سنائی دینی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف اور گوناگوں مسائل میں عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی کے منطقی، مدلل اور اچھے مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تینوں قوا کے سربراہان کے درمیان باہمی تعاون اور ہمفکری کے ذریعہ حکومت کے مختلف شعبوں میں ایسے مؤقف کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملکی مفادات اور مصالح کو تمام امور سے بالاتر قراردیتے ہوئے فرمایا: تینوں قوا کے سربراہان کو اپنے مشترکہ جلسات کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیےکیونکہ ان جلسات کے ذریعہ بعض مشکلات کو حل کرنے اور ملکی امور کی پیشرفت اور بعض شکایات کو دور کرنے میں اچھی خاصی مدد ملتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے اہم مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے اندر جو مشکلات موجود ہیں یا جن مشکلات کے ہونے کے بارے میں وہم ہے وہ سب قابل حل ہیں بشرطیکہ ہم اپنی قابلیت اور اندرونی صلاحیتوں پر قدرے اعتماد کریں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کے ساتھ عالمی تسلط پسندنظام کی مخالفت اور عداوت ملک کے لئے ایک اصلی چيلنج ہے اور ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا اور درک کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم تسلط پسند نظام کی عداوت اور دشمنی پر توجہ نہیں دیں گے تو ملک کے مسائل کے تجزيہ اور تحلیل میں اشتباہ کے مرتکب ہوں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےحضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: جو افراد دشمن کی معاندانہ رفتار کو نہیں دیکھنا چاہتے وہ ایسے افراد کے مانند ہیں جو دشمن کے سامنے اپنی آنکھ کو بند کردیتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام کے ساتھ تسلط پسند نظام کی دشمنی اور عداوت کی اصلی وجہ تسلط پسند نظام کی بنیادوں کے متزلزل اور کھوکھلے ہونے اور اسلامی نظام کے عدل و انصاف پر مبنی نئے پیغام کو قراردیا اور عراق کے حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک بالخصوص امریکی حکام عراق میں فتنہ اور بحران کو جاری رکھنے کے لئے بعض جاہل ،نادان اور متعصب لوگوں سے سؤ استفادہ کررہے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عراق کے حالیکہ واقعات کا اصلی مقصد اس ملک کے عوام کو ان نتائج سے محروم کرنا ہے جو انھوں نے امریکی مداخلت کے باوجود استقامت اور پائداری کے ذریعہ حاصل کئے ہیں جن میں سب سے اہم عوامی اور جمہوری نظام کی بالا دستی اور حکمرانی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکہ عراق میں ہونے والے انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت سے راضی نہیں ہے اور وہ عراقی عوام کے منتخب نمائندوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ عراقی عوام پر اپنے نمائندوں کو مسلط کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے اور عراق میں جاری فتنہ امریکہ کی اسی سازش کا نتیجہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق میں جاری فتنہ کو مذہبی لڑائی میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں امریکی حکام کے بیانات اور کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عراق میں جاری لڑائی شیعہ اور سنی لڑائی نہیں ہے بلکہ امریکہ اور مغربی تسلط پسند طاقتیں صدام دور کے باقی ماندہ جاہل ، نادان اور متعصب سلفی وہابی تکفیریوں سے پیدل فوج کے طور پر استفادہ کرکے عراق کے امن و ثبات اور عراق کی ارضی سالمیت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عراق میں فتنہ پھیلانے والے عناصر ، عراق کے استقلال پر اعتقاد اور ایمان رکھنے والے سنیوں کے بھی اتنے ہی دشمن ہیں جتنے شیعوں کے دشمن ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عراق میں اصلی جھگڑا ان لوگوں کے درمیان ہے جو یا عراق کے استقلال کے خواہاں ہیں یا عراق کو امریکی کیمپ سے ملحق کرنا چاہتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق میں جاری فتنہ کو ختم کرنے کے سلسلے میں عراقی عوام کی توانائيوں اور صلاحیتوں کو کافی قراردیتے ہوئے فرمایا: ہم عراق میں امریکہ اور دیگر ممالک کی مداخلت کے شدید خلاف ہیں اور ہم اس کی تائید نہیں کرتے ہیں کیونکہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عراقی عوام ، عراقی حکومت اور عراق کے دینی مراجع ،موجودہ فتنہ کو ختم کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور انشاء اللہ وہ اس فتنہ کو ختم کردیں گے۔
اس ملاقات کے آغاز میں عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے گذشتہ پانچ برس میں عدلیہ کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: تہران اور قم میں در تخصصی مراکز کے قیام ، انسانی تربیت میں کمی اور کیفی لحاظ سے اضافہ ، افراد کی خدمت کے آغاز اور خدمت کے دوران تربیت ، عدلیہ کے حکام اور ججوں کی کارکردگی پر کڑی نظارت، خدمات رسانی کو بہتر بنانے کے لئےجدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ، عدالتی پولیس کے قیام کے بل سمیت دیگر قانونی دستاویزات کی تدوین اور ترمیم عدلیہ کے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
آیت اللہ آملی لاریجانی نے بجٹ اور استخدام میں استقلال کو عدلیہ کے لئے اہم چيلنج قراردیا اور کم سے کم مدت میں مقدمات کی سماعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دیگر ممالک کی نسبت ملک میں مقدمات کی سماعت اور رسیدگی کی مدت قابل قبول ہے۔
عدلیہ کے سربراہ نے دوسرے قوا کے ساتھ تعاون کو بہتر قراردیتے ہوئے کہا: ہم عدلیہ کے استقلال کی حفاظت کے ساتھ قوہ مجریہ اور قوہ مقننہ کے ساتھ بہتر تعاون اور تعامل کی کوشش کرتے ہیں۔
ایرانی سیٹلائیٹ جلد فضا میں ھیجے جائیں گے
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلائی ادارے کے نائب سربراہ حمید فاضلی نے کہا ہے کہ ایران میں تیار کردہ چند سیٹلائیٹ عنقریب خلا میں بھیجے جائيں گے۔ اخبار جام جم کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق حمید فاضلی نے مزید کہا ہے کہ شریف سیٹ، فجر اور تدبیر سیٹیلائٹ خلاء میں بھیجے جانے کے لۓ تیار ہیں۔ حمید فاضلی نے مزید کہا کہ ناہید نامی سیٹیلائٹ کو بھی سنہ دو ہزار چودہ کے اختتام تک خلاء میں بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے حالیہ برسوں کے دوران خلاء میں علمی اور تحقیقاتی سیٹیلائٹ بھیجنے کے سلسلے میں قابل ملاحظہ ترقی و پیشرفت کی ہے۔
نرم دلی و رواداری
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے نظیر اخلاقی صفات میں ایک نرم دلی اور رواداری ہے۔ آپ بدو عربوں یہاں تک کہ کینہ پرور دشمنوں کی درشت خوئی، بے ادبی اور جایلت پر نرمی اور رواداری سے پیش آتے تھے۔ آپ کی اس صفت نے بے شمار لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا گرویدہ بھی بنا دیا۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں بلین الجانب تانس القلوب"نرمی اور (مریبانی) سے ہی لوگ مانوس ہوتے ہیں۔ (غررالحکم ج 2 ص 411 )
( رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے کہ وعلیکم بالاناءۃ واللین والتسرع من سلاح الشیطان وما من شئی احب الی اللہ من الاناءۃ واللین۔
تمہیں نرمی اور رواداری اختیار کرنی چاہیے ،اور ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنے میں جلد بازی شیطان کا کام ہے اور خدا کے نزدیک نرمی اور رواداری سے پسندیدہ اخلاق اور کوئی نہیں ہے۔ (علل الشرایع ج 2 ص210)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ان العلم خلیل المومن ، والحلم وزیرہ
بے شک علم مومن کاسچا دوست ہے حلم اس کا وزیر ہے صبر اسکی فوج کا امیر ہے دوستی اس کا بھائی ہے نرمی اس کا باپ ہے۔ (مجلسی ج 78 ص 244)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نرم خوئی اور رواداری خدا کی خاص عنایت و لطف میں ہے اسی صفت کی وجہ سے لوگ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ سورہ مبارکہ آل عمران میں آپ کی ان ہی صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہو رہا ہے "فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فظا غلیظا القلب لانفضوامن حولک فاعف عنھم واستغفرلھم۔ پیغمبر اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے لہذا اب انہیں معاف کر دو اور ان کے لئے استعفار کرو۔(آل عمران 150)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نرم مزاجی اور رواداری کے بارے میں دو واقعات ملاحظہ فرمائیں۔
محدث قمی نے سفینہ البحار میں انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا آپ ایک عبا اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے ایک عرب آتا ہے اور آپ کی عبا کو پکڑ کر زور سے کھینچتا ہے جس سے آپ کی گردن پر خراش پڑ جاتے ہیں اور آپ سے کہتا ہے کہ اے محمد میرے ان دونوں اونٹوں پر خدا کے اس مال میں سے جو تمہارے پاس ہے لاد دو کیونکہ وہ نہ تو تمہارا مال ہے اور نہ تمہارے باپ کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرد عرب کی یہ بات سنکرخاموش رہے اور فرمایا المال مال اللہ وانا عبدہ۔ سارا مال خدا کا ہے اور میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس کے بعد فرمایا اے مرد عرب تو نے جو میرے ساتھ کیا ہے کیا اسکی تلافی چاہتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں کیونکہ تم ان میں سے نہیں ہو جو برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں۔ آنحضرت یہ سنکر ہنس پڑے اور فرمایا مرد عرب کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر خرما لاد دیا جائے۔ اسکے بعد اسے روانہ کر دیا۔ (سفینہ البحار باب خلق)
1۔ شیخ صدوق نے اپنی کتاب امالی میں ساتویں امام علیہ السلام کے واسطے سے حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک مرد یہودی کی چند اشرفیاں قرض تھیں ، یہودی نے آنحضرت سے قرضہ طلب کر لیا۔ آپ نے فرمایا میرے پاس تمھیں دینے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہودی نے کہا میں اپنا پیسہ لیئے بغیر آپ کو جانے نہیں دونگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرایسا ہے تو میں تیرے پاس ہی بیٹھا رہوں گا، آپ اس مرد یہودی کے پاس بیٹھ گئے اور اس دن کی نمازیں وہیں ادا کیں۔ جب آپ کے صحابہ کو واقعے کا علم ہوا تو یہودی کے پاس آئے اور اسے ڈرانے دھمکانے لگے۔ آپ نے صحابہ کو منع فرمایا اصحاب نے کہا اس یہودی نے آپ کو قیدی بنا لیا ہے اس کے جواب میں آپ نے فرمایا لم پبعثنی ربی بان اظلم معاھدا ولاغیرہ۔ خدا نے مجھے نبی بنا کر نہیں بھیجا تاکہ میں ہم پیمان کافر یا کسی اور پر ظلم کروں۔ دوسرے دن مرد یہودی اسلام لے آیا اس نے شہادتین جاری کیں اور کہا کہ میں نے اپنا نصف مال راہ خدا میں دیدیا خدا کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا مگر یہ کہ میں نے توریت میں آپ کی صفات اور تعریف پڑھی ہے توریت میں آپ کے بارے میں اس طرح ملتا ہے کہ محمد بن عبداللہ مولدہ بمکہ و مہجرہ بطیبہ ولیس بفظ ولاغلیظ و بسخاب و لا متزین بفحش ولاقول الخناء وانا اشھدان لا الہ الا ا للہ وانک رسول اللہ وھذا مالی فاحکم فیہ بما ا نزل اللہ۔ محمد ابن عبداللہ جس کی جائے پیدائش مکہ ہے اور جو ہجرت کر کے مدینے آئے گا نہ سخت دل ہے نہ تند خو ،کسی سے چیخ کر بات نہیں کرتے اور نہ ان کی زبان فحش اور بیہودہ گوئی سے آلودہ ہے ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اس کے رسول ہیں اور یہ میرا مال ہے جو میں نے آپ کے اختیار میں دیدیا اب آپ اس کے بارے میں خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں۔
سورہ توبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف میں ارشاد ہوتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیزعلیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم۔ فان تولوا فقل حسبی اللہ لا الہ الا ا للہ ہو علیہ توکلت و ہورب العرش العظیم۔
یقیناً تمہارے پاس وہ پیغمبر آیا ہے جو تمہیں میں سے ہے اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی ہے ، وہ تمایری ہدایت کے لئے حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق و مہربان ہے اب اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ پھیر لیں تو کہ دیجئے کہ میرے لئے خدا کافی ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے میرا اعتقاد اسی پر ہے اور وہی عرش اعظم کا پروردگار ہے۔
ماخوذ از کتاب رسول اللہ کے اخلاق حسنہ
مختلف مصنفین، فارسی سے ترجمہ
جمع و ترتیب: اعجاز عبید
شراب کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟
انسان کی عمر پرشراب کا اثر
ایک مغربی دانشور کا کہنا ہے کہ ۲۱/ سے ۲۳/ سالہ جوانوں میں ۵۱/ فی صد شراب کے عادی مرجاتے ہیں جبکہ شراب نہ پینے والوں میں سے ۱۰ /افراد بھی نہیں مرتے۔
ایک دوسرے مشہور دانشور نے کہا: بیس سالہ جوان جن کے بارے میں ۵۰/ سال تک زندہ رہنے کی توقع کی جاتی ہے وہ شراب کی وجہ سے ۳۵/ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔
بیمہ کمپنیوں کے تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ شرابیوں کی عمر دوسروں کی نسبت ۲۵/ سے ۳۰/فیصد کم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرابیوں کی اوسط عمر ۳۵/ سے ۵۰/ سال ہے، جبکہ اصول صحت کا یہ اوسط ۶۰/ سال سے زیادہ ہے۔
انسانی نسل میں شراب کی تاثیر
انعقاد نطفہ کے وقت اگر مرد نشہ میں تو ”الکلسیم حاد “ (Alcoalism) کی ۳۵/ فیصد بیماریاں بچہ میں منتقل ہوتی ہیں اور اگر مرد اور عورت دونوں نشہ میں ہوں تو ”الکلسیم حاد “ (Alcoalism)کی سو فیصد بیماریاں بچہ میں ظاہر ہوتی ہیں، اس بنا پر اولاد کے بارے میں شراب کی تاثیر پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہے، ہم یہاں کچھ مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہیں:
طبیعی وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں ۴۵/ فیصد ماں باپ دونوں کی شراب نوشی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، ۳۱/ فیصد ماں کی شراب نوشی کے باعث ہوتے ہیں اور ۱۷/ فیصد باپ کے شرابی ہونے کی وجہ سے، پیدائش کے وقت زندگی کی توانائی سے عاری سو بچوں میں ۶ شرابی باپ کی وجہ سے اور ۴۵/ فیصد شرابی ماں کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں، شرابی ماں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے ۴۵ فیصد بچے پست قد پیدا ہوتے ہیں شرابی ماؤں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے بھی ۷۵ فیصد بچے کافی عقلی اور روحانی طاقت سے محروم ہوتے ہیں۔
اخلاق پر شراب کا اثر شرابی شخص گھروالوں سے ہمدردی اور اہل و عیال سے کم محبت کرتا ہے بارہا دیکھا گیا ہے کہ شرابی باپ نے اپنی اولاد کو قتل کردیا ۔
شراب کے اجتماعی نقصانات
ایک انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۶۱ءء میں ”نیون“ شہر کے شرابیوں کے اجتماعی جرائم کچھ اس طرح ہیں:
عام قتل : ۵۰ فی صد مار پیٹ اور زخم وارد کرنے کے جرائم ۸/۷۷ فیصد
جنسی جرائم ۸/۸۸ فیصد۔
ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے جرائم زیادہ ترنشہ کی حالت میں انجام پاتے ہیں۔
شراب کے اقتصادی نقصانات
نفسیاتی امراض کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے: ” افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومتیں شراب کے ٹیکس اور منافع کا حساب تو کرتی ہیں لیکن ان اخراجات کو نظر میں نہیں رکھتی جو شراب کے بُرے اثرات کی روک تھام پر ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریوں کی زیادتی، ایسے بُرے معاشرہ کے نقصانات، قیمتی اوقات کی بربادی، حالت نشہ میں ڈرائیورنگ حادثات، پاک نسلوں کی تباہی، سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی، پولیس کی زحمتیں اور گرفتاری، شرابیوں کی اولاد کے لئے پرورش گاہیں اور ہسپتال، شراب سے متعلقہ جرائم کے لئے عدالتوں کی مصروفیات، شرابیوں کے لئے قید خانے مختصر یہ کہ اگر شراب نوشی سے ہونے والے دیگر نقصانات کو جمع کیا جائے تو حکومتوں کو معلوم ہوگا کہ وہ آمدنی جو شراب سے ہوتی ہے وہ مذکورہ نقصانات کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔
ان کے علاوہ شراب نوشی کے افسوسناک نتائج کا موازنہ نہ صرف ڈالروں سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ احساسات کی موت، گھروں کی تباہی، آرزوؤں کی بربادی اور صاحبان فکر افراد کی دماغی صلاحیتوں کا نقصان، یہ سب کچھ پیسے کے مقابل نہیں لائے جاسکتے۔
خلاصہ یہ کہ شراب کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ایک دانشور کے بقول اگر حکومتیں یہ ضمانت دیں کہ وہ شراب خانوں کا آدھا دروازہ بند کردیں تو یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ ہم آدھے ہسپتالوں اور آدھے پاگل خانوں سے بے نیاز ہوجائیں گے۔
اگر شراب کی تجارت میں نوعِ بشر کے لئے کوئی فائدہ ہو یا فرض کریں کہ چند لمحوں کے لئے انسان اس کی وجہ سے اپنے غموں سے بے خبر ہوجاتا ہے تب بھی اس کا نقصان کہیں زیادہ، بہت وسیع ہے کہ اس کے فوائد اور نقصانات کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔(1)
ہم یہاں پر ایک اور نکتہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں، یہ نکتہ مختلف اعداد و شمار کا ایک مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک تفصیلی بحث کا محتاج کرتا ہے جس سے شراب کے نقصانات کا اندازہ ہوتا ہے۔
۱۔ برطانیہ میں شرابیوں کے دیوانہ پن کے سلسلہ میں ایک اعداد و شمار کے مطابق اس جنون کا دوسرے جنونوں سے مو ازنہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ۲۲۴۹/ دیوانوں میں سے صرف ۵۳ دیوانے دوسری وجوہات کی بنا پر دیوانگی کا شکار ہوئے ہیں، اور باقی سب شراب کی وجہ سے دیوانہ ہوئے ہیں۔(2)
۲۔ امریکہ کے ہسپتالوں کے ایک اعداد و شمار کے مطابق نفسیاتی بیماروں میں ۸۵ فی صد صرف شرابی تھے۔(3)
۳۔ برطانوی دانشور ”بنٹم“ لکھتا ہے: شراب ؛ انسان کے اندر شمالی ممالک میں کم عقلی اور بے وقوفی اور جنوبی ممالک میں اس کے اندر دیوانہ پن پیدا کرتی ہے، اس کے بعد کہتا ہے کہ اسلامی قوانین نے ہر طرح کی شراب کو حرام قرار دیا ہے اور یہ اسلام کا ایک امتیاز ہے۔(4)
۴۔ اگر ان لوگوں کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے جنھوں نے نشہ کی حالت میں خود کشی، ظلم و جنایت،گھروں کی بربادی اور عورتوں کی عصمت دری کی ہے تو واقعاً انسان کے ہوش اڑ جائیں گے۔(5)
۵۔ فرانس میں ہر روز ۴۴۰/ لوگ شراب پر اپنی جان قربان کرتے ہیں۔(۵)
۶۔ امریکہ کے ہسپتالوں میں نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ایک سال میں مرنے والوں کی تعداد”دوسری عالمی جنگ“ کے دو برابر ہے، امریکہ میں ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق نفسیاتی بیماریوں میں ”شراب“ اور ”سگریٹ“ بنیادی وجہ ہے۔(۶)
۷۔ ”ماہنامہ علوم ابزار“ کی بیسوی سالگرہ کی مناسبت سے”ہوگر“ نامی دانشور کے اعداد و
(1) کتاب سمپوزیوم الکل ، صفحہ ۶۵ (۲) کتاب سمپوزیوم الکل، صفحہ ۶۵
(۳) تفسیر طنطاوی ، جلد اول، صفحہ ۱۶۵ (۴) دائرة المعارف ،فرید وجدی ، جلد ۳، صفحہ ۷۹۰
(۵) بلاہای اجتماعی قرن ما، صفحہ ۲۰۵ (۶) مجمو عہ انتشارات جوان
شمار کے مطابق : ۶۰/ فی صد عمدی قتل، ۷۵/ فی صد مار پیٹ اور زخمی کرنا، ۳۰/ فیصد اخلاقی جرائم (منجملہ ماں بہن کے ساتھ زنا!) ۲۰/ فی صد چوری شرابی پینے والوں سے متعلق ہیں، اور اسی دانشور کی تحقیق کے مطابق ۴۰/ فیصد مجرم بچوں میں شراب کا سابقہ پایا جاتا ہے۔(1)
۸۔اقتصادی لحاظ سے صرف برطانیہ میں شراب پینے والے ملازمین کی غیر حاضری کی وجہ سے ۵۰ ملین ڈالر (225.000.000روپیہ) کا نقصان ہوا ہے، جس رقم سے بچوں کے لئے ہزاروں اسکول اور کالج بنائے جا سکتے ہیں۔(۲)
۹۔ فرانس میں ایک اعداد و شمار کے مطابق شراب کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح اس طرح ہے: شراب کی وجہ سے ۱۳۷ / ارب فرانک فرانس کے بجٹ میں اضافہ کرنا پڑا:۶۰/ ارب فرانک ، کورٹ اور قید خانوں کا خرچ۔
۴۰/ ارب فرانک ، عمومی فا ئد ہ مند امورکے لئے تعاون۔
۱۰/ ارب فرانک ، شرابیوں کے ہسپتالوں کا خرچ۔
۷۰/ ارب فرانک ، اجتماعی امنیت کے لئے خرچ۔
اس لحاظ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رو حا نی بیماروں ، ہسپتالوں، قتل و غارت، لڑائی جھگڑوں، چوری اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کی تعداد براہ راست شراب خانوں کی تعداد سے متعلق ہے۔(۳)(۴)
________________________________________
(1) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۷۴
2) کتاب سمپوزیوم الکل، صفحہ ۶۶
(3) مجموعہ انتشارات نسل جوان ، سال دوم صفحہ ۳۳۰
(4) نشریہ مر کز مطالعہ پیشرفتہای ایران (دربارہ الکل و قمار)
(5) تفسیر نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۷۴
غرب اردن کے فلسطینیوں کے علاقے سے باہر نکلنے پر پابندی
غاصب صیہونی حکومت نے غرب اردن کے چار سو ساٹھ فلسطینیوں کے اس علاقے سے باہر جانے پر پابندی لگادی ہے۔ذرائع کے مطابق ان تمام فلسطینیوں کا تعلق شہر الخلیل سے ہے۔ صیہونی حکومت کی جانب سے یہ اقدام، تین صیہونی آباد کاروں کے لاپتہ ہونے کی بناء پر عمل میں لایا گیا ہے۔فلسطین کے ایک تاجر وفد کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شہر الخلیل کے ایک ہفتے سے جاری محاصرے کی بناء پر اس علاقے کی پیداواری سرگرمیوں میں پچاس فیصد تک کمی آگئی ہے اور اس محاصرے سے الخلیل کے عوام پر سماجی اور اقتصادی طور پر برا اثر پڑا ہے۔واضح رہے کہ الخلیل سے تین صیہونی آباد کاروں کے لاپتہ ہونے کی بناء پر غاصب صیہونی حکومت نے بھاری تعداد میں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
شہید کی والدہ پر بننے والی فلم کی ٹیم کی رہبر معظم سے ملاقات
اسلامی جمہوریہ ایران میں نئی بننے والی فلم شیار 143 کی ٹیم کے افراد نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فیچر فلم شیار 143 کی ٹیم کے ساتھ ملاقات میں، ایک شہید کی ماں کی زندگی پر بنائی جانے والی اس فلم کے بارے میں اپنے خیالات بیان فرمائے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں اس فلم کی ہدایت کار نرگس آبیار اور فلم میں کام کرنے والے اداکار اور فنی و تکنیکی عملے کے افراد بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ فیچر فلم شیار 143 نے 32 فجر فلم فیسٹول میں بہترین فلم میں سیمرغ ایواڈ حاصل کیا تھا، جبکہ فجر فلم فیسٹول میں اس فلم میں کام کرنے والی اداکارہ مریلا زارعی نے بہترین خاتون اداکارہ کا ایواڈ حاصل کیا ہے۔
برطانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے
حکومت برطانیہ کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف اس ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے کئے گئے۔ لندن سے موصولہ ذرائع کے مطابق ان مظاہروں کے دوران حکومت برطانیہ کے خلاف شدید نعرے لگائے گئے۔ لندن میں مظاہرین نے بی بی سی کی عمارت کے سامنے سے برطانوی پارلیمنٹ تک ایک بڑی ریلی بھی نکالی۔ ریلی کے شرکاء نے حکومت برطانیہ کی جانب سے شام اور عراق میں مداخلت جیسی جنگوں میں ملک کا خاصا بڑا بجٹ صرف کئے جانے پر اپنی مخالفت کا اعلان کیا۔قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام اور مختلف شعبوں کے ملازمین و کارکنوں نے اس قسم کے مظاہروں کیلئے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کا طیارہ بردار بیڑا خلیج فارس کی طرف روانہ
امریکہ کے ایک معروف مبصر نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جنگ پسندی کی بنا پر امریکہ دیوالیہ پن کا شکار ہوا ہے۔ پروفیسر لین واشنگٹن نے جو ٹمپل یونیورسٹی میں پڑھاتے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ گياریہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے امریکی کانگریس اور حکومت عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہی ہے اور عقل سلیم سے عاری ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان اور عراق پر ہرگز حملے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ یہ بات کبھی نہیں کرتے کہ افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کرنے والوں نے غلطی کی ہے۔ امریکہ نے ایک بار پھر اپنا طیارہ بردار بیڑا خلیج فارس کی طرف روانہ کیا ہے۔ ادھر ایک اور امریکی مبصر نے کہا ہے کہ کانگریس امریکی عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق باب کال نے کہا کہ امریکی عوام کانگریس پر بالکل اعتماد نہیں کرتے کیونکہ کانگریس نے جو قوانین منظور کئے ہیں ان کے سہارے ارب پتی سرمایہ دار اور بڑی بڑی کمپنیاں خواہ امریکہ سے باہر ہی کیوں نہ ہوں اپنی مالی اعانتوں سے انتخابات میں حصہ لینے والوں کو خرید سکتی ہیں اور عوام کے نمائندوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں ایسے لوگ آتے ہیں جنہیں خرید لیا گيا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دار طبقہ عملا کانگریس کو خرید لیتا ہے جس کے پیش نظر امریکہ میں ووٹ دنیا عبث ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
