Super User
حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی حیات طیبہ پر ایک نظر
حضرت امام حسن علیہ السلام امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے بطن مبارک سے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارہا فرمایا تھا کہ حسن و حسین میرے بیٹے ہیں اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ہو اور حسن و حسین رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ہیں۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت ۳ھ کو مدینہ میں ہوئی ،آپ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت سے تین یا چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔
فرزند رسول حضرت امام حسن علیہ السلام انسانی کمالات میں اپنے والد گرامی کا کامل نمونہ اور اپنے نانا کی نشانی تھے۔ جب تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم با حیات رہے اپ اور آپ کے بھائی امام حسین علیہ السلام ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رہتے تھے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عام و خاص نے بہت زیادہ احادیث بیان کی ہیں کہ آپ نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں میرے بیٹے امام ہیں، خواہ وہ اٹھیں یا بیٹھیں۔
حضرت رسول خدا(ص) فرماتے تھے: "پروردگارا! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس کو دوست رکھ" ۔ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا: "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
فرزند رسول امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام باوقار اور متین شخصیت کے حامل تھے۔ آپ غریبوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ راتوں کو ان کے درمیان کھانا تقسیم کیا کرتے تھے۔ ان کی ہر طرح سے مدد کیا کرتے تھے۔ اسی لئے تمام لوگ بھی آپ سے بے انتھا محبت کرتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں دوبار اپنی تمام دولت و ثروت غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کردی تھی۔ تین بار اپنی جائداد کو وقف کیا تھا جس میں سے آدھی اپنے لئے اور آدھی راہ خدا میں بخش دی تھی۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نہایت شجاع اور بہادر بھی تھے۔ اپنے بابا امام علی علیہ السلام کے ساتھ جب آپ جنگ کرنے جاتے تھے تو فوج میں آگے آگے رہتے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے صرف چہ مھینے حکومت کی تھی۔
آپ کا مزار اقدس، جنت البقیع میں تین دیگر اماموں کی قبروں کے ساتھ ہے۔
دنیا بھر میں صہیونی جارحیت کے خلاف مظاہرے
انڈونیشیا کےعوام نے صہیونی حکومت کے خلاف غزہ میں مظاہرے کئے۔ الاقصی ٹی وی چینل کی رپورٹ کی مطابق انڈونیشیا کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے غزہ ميں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ کاروائیوں اور پے در پے حملوں کے خلاف احتجاج کیا ۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے ۔ وہ ایسے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے کہ جن پر تحریر تھا "غزہ کو نجات دو" ۔ انڈونیشیا کی حکومت نے دس لاکھ ڈالر فلسطینی عوام کی مدد کے لئے مخصوص کئےہیں۔ دوسری جانب غزہ میں فلسطینی عوام پر جاری حملوں کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں نے فلسطینی عوام کی حمایت کے لئے کمیٹیاں قائم کئے جانے اور ان کے لئے امداد جمع کرنے کا اقدام کیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کےمطابق ملیشیاء کے سابق وزیر اعظم اور امن فائونڈیشن "پردانا" کے سربراہ مہاتیر محمد نے آج اس ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے مدد بھیجيں خواہ و کم ہی کیوں نہ ہو۔ امن فاونڈیشن کے سربراہ نے انٹرنیٹ پر ایک اکاؤنٹ کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی مدد کرنے کی اپیل کی ۔
ادھر ہزاروں یہودیوں نے امریکہ کے مختلف شہروں میں غزہ پر صہیونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کی ۔ تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جی ٹی آئی نیوز ویب سائٹ نےکہ جو خود کو پوری دنیا ميں یہودیوں کا خبری ذریعہ متعارف کراتا ہے، رپورٹ میں کہا ہےکہ کل جمعے کو امریکہ کے پندرہ شہروں منجملہ بوسٹن ، نیویارک ، شیکاگو، لاس آنجلس ، فیلادلیفا ، سانسفرانسیکو ميں اسرائیل کے خلاف مظاہرے کئےگئے ۔ نیویارک سے موصولہ خبر کے مطابق مظاہرین نے صہیونی حکومت کی نسل پرستانہ اور فسطائی پالیسیوں کی مذمت کی اور وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حکومت کی حمایت بند کرے ۔ مظاہرین کہ جن کے درمیان امریکی مسلمانوں ، یہودیوں اورعربوں کی تعداد موجود تھی، فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور اسرائیل کی جارحیتوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ صہیونیت مخالف خاخاموں اور یہودیوں کا ایک گروہ بھی اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور اسرائیل مخالف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھا ۔ اس اجتماع میں امریکہ میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن "سارا فلانڈرز" نے صہیونی حکومت کی پالیسیوں کی امریکہ کی جانب سے حمایت کئے جانے پر کڑی نکتہ چینی کی اور مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج فلسطین کا دن ہے اور پوری دنیا میں لوگ فلسطین کی حمایت کے لئے آمادہ ہيں اور نیویارک میں ہزاروں افراد نے فلسطین کی مدد کرنے اور اسرائیل کے لئے امریکی امداد کی مخالفت میں اجتماع کیاہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اخلاقی خصوصیات
انسانی اخلاق سے مراد مکارم اخلاق ہے جن کے بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق – مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہے (بحارالانوار ج 71 ص 420)
ایک اور حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ علیکم بمکارم الاخلاق فان اللہ بعثنی بھا وان من مکارم الاخلاق ان یعفوا عمن ظلمہ و یعطی من حرمہ و یصل من قطعہ و ان یعودمن لایعودہ۔ یہ مکارم اخلاق میں سے ہے کہ انسان اس پر ظلم کرنے والے کو معاف کر دے ، اس کے ساتھ تعلقات و رشتہ برقرار کرے جس نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے ،اور اس کی طرف لوٹ کر جائے جس نے اسے چھوڑ دیا ہے (ہندی ج 3 طبرسی ج 10ص333)
مکارم اخلاق ،انسانی اخلاق اور حسن خلق میں کیا فرق ہے ؟ آئیے لغت کا سہارا لیتے ہیں ،
مکارم مکرمۃ کی جمع ہے اور مکرمہ کی اصل کرم ہے۔ کرم عام طورسے اس کام کو کہا جاتا ہے جسمیں عفو و درگذر اور عظمت و بزرگواری ہو یا بالفاظ دیگر وہ کام غیر معمولی ہوتا ہے چنانچہ اولیا ء اللہ کے غیر معمولی کاموں کو کرامت کہا جاتا ہے۔
راغب مفردات میں کہتے ہیں کہ کرم ان امور کو کہا جاتا ہے جو غیر معمولی اور با عظمت ہوں اور جو چیز شرافت و بزرگواری کی حامل ہو اسے کرم سے متصف کیا جاتا ہے۔ بنا بریں مکارم اخلاق محاسن اخلاق سے برتر و بالا ہیں۔ البتہ روایات میں ان دونوں کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ حسن خلق سے مراد وہ اچھے اخلاق ہیں جو حد اعتدال میں تربیت یافتہ لوگوں میں ہوتے ہیں۔ اسی امر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا الخلق الحسن لاینزع الا من ولد حیضۃ او ولد زنۃ۔ حسن خلق پاک و پاکیزہ انسان کا لازمہ ہے
ہے جو فطرت و خلقت کے لحاظ سے پاک پیدا ہوا ہے اور حیض یا زناسے پیدا ہونے والا ہی حسن خلق کا حامل نہیں ہوتا شاید اسی بنا پر روایات میں حسن خلق کے مراتب ذکر کئے گئے ہیں اور جس کا اخلاق جتنا اچھا ہو گا اسے اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا ، حدیث شریف میں ہے "اکمل المومنین ایمانا"احسنہم خلقا"اس مومن کا ایمان کامل تر ہے جس کا اخلاق بہتر ہے۔ (مجلس ص 389 ) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے کہ ان من احبکم الی احسنکم خلقا "تم میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہے جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو۔
مکام اخلاق حد اعلائے حسن خلق کو کہتے ہیں اور اسے ہم کرامت نفس ، اخلاق کریمانہ بھی کہ سکتے ہیں۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ہے "احسن الاخلاق ما حملک علی المکارم"سب سے اچھے اخلاق وہ ہیں جو تمہیں مکارم اخلاق کی منزل تک لے جائیں۔ (غررالحکم ج 2 ص 462) مثال کے طور پر اچھے اخلاق میں ایک یہ ہے کہ انسان دوسروں کے حق میں نیکی اور احسان کرے اس کے بھی مرتبے ہیں۔
بعض اوقات کوئی کسی کے حق میں نیکی کرتا ہے جس کے حق میں نیکی کی گئی ہے اس کا انسانی ، اسلامی اور عرفی فریضہ ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے۔ قرآن کریم اس سلسلے میں کہتا ہے۔ ھل جزاء الاحسان الاحسان (الرحمن 60)کیا احسان کی جزاء احسان کے علاوہ کچھ اور ہو گی؟
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ، ہشام ابن حکم سے اپنے وصیت نامے میں فرماتے ہیں یا ہشام قول اللہ عزوجل ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان جرت فی المومن والکافر و البر والفاجر۔ من صنع ا لیہ معرف فعلیہ ان یکافی بہ ولیست المکافاۃ ان تصنع کما صنع حتی تری فضلک فان صنعت کما صنع فلہ الفضل بالابتداء۔
اے ہشام خدا کا یہ فرمان کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ اس میں مومن و کافر ، نیک اور بدسب مساوی ہیں۔ (یعنی یہ تمام انسانوں کے لئے ضروری ہے ) جس کے حق میں نیکی کی جاتی ہے اسے اس کا بدلہ دینا چاہئے اور نیکی کا بدلہ نیکی سے دینے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہی نیک کام انجام دیدیا جائے کیونکہ اس میں کوئی فضل و برتری نہیں ہے اور اگر تم نے اسی کی طرح عمل کیا تو اس کو تم پر نیک کام کا آغاز کرنے کی وجہ سے برتری حاصل ہو گی۔
یہ وصیت نامہ علی بن شعبہ نے تحف العقول میں نقل کیا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان نیکی کے بدلے میں نیکی نہیں کرتا بلکہ اپنے اخلاقی اور انسانی فریضے کے مطابق اپنے بنی نوع کے کام آتا ہے اسکی مشکل دور کر دیتا ہے ، اسکی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ دراصل ہر انسان اپنے بنی نوع کے لئے ہمدردی اور محبت کے جذبات رکھتا ہے۔
بقول سعدی
بنی آدم اعضای یکدیگرند۔
کہ درآفرینش زیک گوہرند۔
جو عضوی بہ درد آورد روزگار۔
دگر عضوھارا نماند قرار۔
اس سے بڑھ کر مکرمت اخلاقی اور کرامت نفس کا مرحلہ ہے۔ جسے ہم مکارم اخلاق کہتے ہیں۔ اسکی مثال اذیت و آزار کے بدلے میں نیکی کرنا ہے جبکہ وہ بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن برائی کے بجائے نیکی اور احسان کرتا ہے یعنی نہ صرف انتقام اور بدلہ نہیں لیتا بلکہ بدی کرنے والے کو معاف کر دیتا ہے اور نیکی سے جواب دیتا ہے قرآن کریم کے مطابق۔ ادفع بالتی ہی احسن السئیۃ ( مومنون 96) اور آپ برائی کو اچھائی کے ذریعے رفع کیجئے کہ ہم ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں۔
بقول شاعر۔
بدی رابدی سھل باشد جزا
اگر مردی احسن الی من اساء
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ العفو تاج المکارم۔ عفوو درگزشت مکارم اخلاق میں سب سے اعلی ہے۔ (عزرالحکم ج 1 ص 140)
یہ آیات کریمہ ہماری بیان کر دہ باتوں کا ثبوت ہیں اور ان میں اخلاق کریمانہ کی پاداش بھی بیان کی گئی ہے "والذین اذا اصابھم البغی ہم ینتصرون۔ وجزاء السیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لایحب الظالمین۔ ولمن انتصر بعد طلبہ فاولئک ماعلیھم من بیل۔ ولمن صبر و غفر ان ذالک من عزم الامور۔(شوری 39-43)
"اور جب ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے تو اس کا بدلہ لے لیتے ہیں اور ہر برائی کا بدلہ اس کے جیسا ہوتا ہے پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر دے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ یقیناً ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔ اور جو شخص ظلم کے بعد بدلہ لے اس کے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔ الزام ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں پھیلاتے ہیں انہیں لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور یقیناً جو صبر کرے اور معاف کر دے تو اس کا یہ عمل بڑے حوصلے کا کام ہے۔
اس آیت سے چند امور واضح ہوتے ہیں۔
1۔ ستم رسیدہ کو انتقام لینے کا حق ہے کیونکہ بدی کا بدلہ عام طور سے بدی ہے۔
2۔ لیکن اگر معاف کر دے اور اسکے بعد اصلاح کرے (یعنی برائی اور ظلم و ستم کے آثار کو ظاہرا اور باطنا مٹا دے ) تواس کا اجر خدا پر ہو گا(اسکی کوئی حد نہیں ہو گی)
3۔ اگرستم رسیدہ انتقام لینا چاہے اور بدلہ لے توکسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے لیکن اگر صبر کرے اور عفو و درگزر سے کام لے تو اس نے نہایت حوصلے کا کام کیا ہے۔
آیت اللہ شہید مطہری نے اپنی کتاب فلسفہ اخلاق میں "فعل فطری اور فعل اخلاقی"کی بحث میں مکارم اخلاق کے سلسلے میں دلچسپ تحقیقات پیش کی ہیں اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائے مکارم اخلاق کے بعض جملے نقل کئے ہیں۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں اللھم صلی علی محمد وآل محمد وسددنی لان اعارض من غشنی بالنصح و اجزی من ھجرنی بالبر و اثیب من حرمنی بالبذل واکافی من قطعنی بالصلۃ و اخالف من اغتابنی الی حسن الذکر و ان اشکرالحسنۃ او اغضی عن السیئۃ۔ اے پروردگار محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ا ور مجھے توفیق دے کہ جو مجھ سے غش و فریب کرے میں اس کی خیر خواہی کروں ،جو مجھے چھوڑ دے اس سے حسن سلوک سے پیش آؤں جو مجھے محروم کرے اسے صلہ رحمی کے ساتھ بدلہ دوں اور پس پشت میری برائی کرے میں اس کے برخلاف اس کا ذکر خیر کروں اور حسن سلوک پر شکریہ ادا کروں اور بدی سے چشم پوشی کروں۔
اس کے بعد شہید مطہری عارف نامدار خواجہ عبداللہ انصاری کا یہ جملہ نقل کرتے ہیں کہ بدی کا جواب بدی سے دینا کتوں کا کام ہے ، نیکی کا جواب نیکی سے دینا گدھوں کا کام ہے اور بدی کا جواب نیکی سے دینا خواجہ عبداللہ انصاری کا کام ہے۔
واضح رہے اس سلسلے میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں یہاں پر ہم ایک حدیث نقل کر رہے ہیں جو مرحوم کلینی نے ابوحمزہ ثمالی کے واسطے سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ثلاث من مکارم الدینا والآخرۃ، تعفوا عمن ظلمک و تصل من قطعک و تحلم اذا جھل علیک۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین چیزیں دنیا و آخرت میں اچھی صفات میں شمار ہوتی ہیں (انسان کو ان سے دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچتا ہے )وہ یہ ہیں کہ جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو،اور جو تمہیں محروم کرے اس سے صلہ رحم کرو اور جو تمہارے ساتھ نادانی کرے اس کے ساتھ صبر سے کام لو۔
کلینی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک خطبے میں فرمایا الا اخبرکم بخیر خلائق الدنیا و الآخرہ العفو عمن ظلمک و تصل من قطعک و الاحسان الی من اساء الیک و اعطاء من حرمک
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں دنیا و آخرت کے بہترین اخلاق سے آگاہ نہ کروں ؟ اسے معاف کر دینا جوتم پر ظلم کرے۔ اس سے ملنا جو تمہیں چھوڑ دے اس پر احسان کرنا جس نے تمہارے ساتھ برائی کی ہو۔ اسے نوازنا جس نے تمہیں محروم کر دیا ہو۔ ان ہی الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک اور روایت نقل ہوئی۔
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکارم اخلاق بیان کرنا کسی انسان کا کام نہیں کیونکہ آپ کے بارے میں خداوند قدوس فرماتا ہے کہ انک لعلی خلق عظیم۔ (اصول کافی باب حسن الخلق) قلم آپ کے فضائل و کرامات بیان کرنے سے عاجز ہے۔ جو امور ذیل میں بیان کئے جا رہے ہیں وہ آپ کے محاسن و مکارم اخلاق کے سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں ہیں۔
مرحوم محدث قمی کا کہنا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں سمونے یا آفتاب کو روزن دیوار سے گھر میں اتارنے کے مترادف ہے لیکن بقول شاعر
آب دریا را اگر نتواں کشید
ہم بقدرتشنگی باید چشید
ماخوذ : رسول الله کے اخلاق حسنه كي كتاب
جمع و ترتيب : عبيد
فلسطینی عوام، استعمار کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں: آیت اللہ جنتی
تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطیب آیت اللہ احمد جنتی نے عراق میں دہشتگرد گروہوں کے مظالم اور مظلوم فلسطینیوں پر صیہونی حکومت کے حملوں کے سلسلے میں عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ احمد جنتی کی امامت میں ادا کی گئی۔ آیت اللہ احمد جنتی نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور صیہونی حکومت کو خطے کی ایک منحوس مثلث قرار دیا اور کہا کہ ایسی صورتحال میں بھی عالمی برادری نے فلسطین اورعراق کے عوام کی افسوسناک صورتحال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ آیت اللہ احمد جنتی نے غزہ پٹی کے بے گناہ فلسطینیوں پر صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اسرائیل اور امریکہ کی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اپنی استقامت کی وجہ سے فلسطینی سرزمین میں دشمنوں کے مذموم مقاصد کے حصول کے سدراہ ہوں گے۔ آیت اللہ جنتی نے خطے کے بعض ممالک کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ان حکومتوں کے پٹھو حکام امریکی حمایت کی وجہ سے صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے کی جرات بھی نہیں رکھتے ہیں۔
پاکستانی صدر نے تحفظ پاکستان بل پر دستخط کردیئے
پاکستان کے صدر ممنون حسین نے تحفظ پاکستان بل 2014 پر دستخط کردیئے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اتفاق رائے سے منظور ہونے والے تحفظ پاکستان بل پر صدر ممنون حسین نے بھی دستخط کر دیئے جس کے بعد تحفظ پاکستان بل تحفظ پاکستان ایکٹ 2014 بن گیا جس کا اطلاق آئندہ 2 سال کے لئے اور فوری نافذ العمل ہوگا۔ تحفظ پاکستان ایکٹ کے اطلاق کے بعد سیکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات حاصل ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی فورسز کو وارنٹ کے بغیر ملزمان کو گرفتار کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ ملزمان کو 90 روز تک حراست میں رکھا جاسکے گا۔
مسجد خمیس – بحرین
مسجد خمیس (عربی میں مسجد الخمیس)، بحرین کی ایک تاریخی مسجد کا نام ہے ، جو بحرین کی دیکھنے کے قابل عمارتوں میں شمار ھوتی ہے۔ یہ مسجد بحرین کے شمالی صوبہ میں واقع ہے۔
اس مسجد کا نام " مسجد خمیس" رکھنے کی علت یہ ہے کہ " علاقہ خمیس" سے اس کی نسبت دی گئی ہے اور اس کو اسی علاقہ میں تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد خمیس بحرین کے قدیمی علاقہ " اطمیس" میں سترہ اور رفاع کے درمیان واقع ہے۔
مسجد خمیس کے مینار
مسجد خمیس کے دو مینار ہیں۔ اس کے مغربی مینار پر خط کوفی میں ایک عبارت پتھر پر کندہ کاری کی گئی ہے اور یہ مینار مسجد کے صدر دروازے پر واقع ہے۔ اس عبارت سے معلوم ھوتا ہے کہ یہ مینار گیارہویں صدی عیسوی کے دوسرے حصہ میں قبیلہ العوینیین کے تیسرے حکمران سنان محمد بن الفضل عبداللہ نامی شخص کے توسط سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ لیکن اس مسجد کا دوسرا مینار سولھویں صدی عیسوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
مسجد خمیس دلکش صورت میں اسلامی معماری کے اصولوں کے تحت تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے باقی بچے آثار میں اس کے ستون، اندرونی اور بیرونی رواق ہیں جو گچ کاری کے فن سے مزین کئے گئے ہیں۔ اس مسجد کے مغربی حصہ میں ایک دینی مدرسہ ہے جس میں علمائے دین بچوں کو فقہ، حدیث، نحو، دینی اوردنیوی مسائل کی تعلیم دیتے ہیں۔
" مسجد خمیس" مملکت بحرین کی ایک مشہور تاریخی اور قدیمی اسلامی عمارت ہے۔ یہ مسجد علاقہ خلیج فارس کی قدیمی ترین مسجد شمار ھوتی ہے۔ اس مسجد کو دیکھنے کے لئے ہر سال بہت سے سیاح آتے ہیں۔
طے پایا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر نو کی جائے گی۔ بحرین کی وزارت ثقافت نے اعلان کیا ہے کہ: " اس وزارت نے مسجد خمیس کی تعمیر اور اسے وسعت بخشنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مسجد کو اپنا تاریخی مقام ملے۔"
اس کے علاوہ طے پایا ہے کہ مسجد کی تاریخ کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ایک مرکذ بھی قائم کیا جائے گا اور اس مسجد کو خوبصورت بنانے کے سلسلے میں اس کی تعمیر نو کی جائے گی تاکہ یہ مسجد بحرین کی ایک مشہور اور اہم تاریخی عمارت میں تبدیل ھو جائے۔
ابوایوب انصاری (رح)
![]()
ابوايوب انصاري كي مزار سلطان ايوب مسجد استنبول میں
نام و نسب
آپ کا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف بن غنم بن مالک بن النجار تھا اور ابو ایوب انصاری کے نام سے مشہور تھے اور آپ کو قبیلہ خزرج میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کی ماں ھند بنت سعید بن عمرو بن امرو القیس تھا۔
۱: پیغمبر اکرم (ص) کے سب سے پہلے میزبان
تاریخی منابع میں ملتا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) مدینہ میں تشریف لے گئے اور تمام قبائل اور طوائف نے آپ کو اپنے گھروں میں لے جانے کی کوشش کی لیکن پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے سواری کی لگام کو اس کی گردن میں ڈال دیا اور فرمایا: جہاں میری سواری مجھے لے جائے گی میں وہی قیام کروں گا۔
پیغمبر اکرم (ص) کی سواری اتنے سارے عاشقوں اور چاہنے والوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی صرف جناب ابو ایوب کے گھر کے پاس بیٹھ گئی۔ جو اس وقت مدینہ کے سب سے زیادہ فقیر شخص تھے پیغمبر اکرم(ص) سواری سے اترے اور ان کے گھر میں رہائش اختیار کی۔
لوگوں نے آپ کو گھیرلیا اور ہر کوئی آپ کو اپنے گھر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا اتنے میں جناب ابو ایوب کی ماں پیغمبر اکرم (ص) کا سامان سفر اٹھا کر اپنے گھر میں لے گئی۔
پیغمبر اکرم (ص) جو لوگوں کے ہجوم میں تھے فرمایا: میرا سامان کہاں گیا؟ عرض کیا: ابو ایوب کی ماں اپنے گھر لے گئیں ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: المرء مع رحلہ۔ انسان اپنے سامان کے ساتھ ہی جاتا ہے۔ اس طریقہ سے حضرت رسول خدا(ص) جناب ابو ایوب کے گھر مہمان ہو گئے۔ اور جب تک آپ کے لیے ایک کمرہ اور مسجد نہ بن جاتی آپ انہیں کے گھر میں سکونت پذیر رہے۔
ابو ایوب انصاری کے گھر کے واقعات
جناب ابو ایوب کا گھر دو منزلہ تھا۔ پیغمبر اکرم (ص) کے ان کے گھر میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے دوسری منزل میں زندگی بسر کرنا اپنے لیے جائز نہیں سمجھا۔ لہذا انہوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اوپر والی منزل کو پسند کریں گے یا نیچے والی کو میں نہیں چاہتا آپ سے اوپر والے طبقہ میں زندگی بسر کروں۔
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: چونکہ لوگ مجھ سے ملنے آئیں گے اس وجہ سے نیچے والا حصہ میرے لیے مناسب ہے۔ ابوایوب کہتے ہیں اس وجہ سے میں اور میری والدہ اوپر والے حصے میں رہ رہے تھے۔
ہم جب بھی کنویں سے ڈول کے ذریعہ پانی کھینچتے تھے تو یہ محتاط رہتے تھے کہ کبھی پانی کا کوئی قطرہ رسول خدا(ص) کے اوپر نہ پڑ جائے۔ جب ہم زینہ چڑھ کر اوپر جاتے تھے تو ایسے چلتے تھے کہ کبھی ہمارے قدموں کی آواز سے رسول خدا کو اذیت نہ ہو۔ اور اوپر والی چھت پر اس طریقہ سے رہتے تھے کہ کبھی ہمارے چلنے کی آواز بھی آپ (ص) کے کانوں تک نہ جانے پائے۔
جب کھانا پکاتے تھے تو گھر کا دروازہ بند کر دیتے تھے تاکہ دھواں سے پیغمبر(ص) کو اذیت نہ ہو۔ ایک دن پانی والا برتن گرا اور اس سے پانی بہہ گیا۔ ماں جلدی سے اٹھیں اور گھر میں پڑا ہوا ایک کپڑا اٹھا کر پانی پر ڈال دیا تاکہ پانی کا کوئی قطرہ نیچے نہ جانے پائے۔
۲: نقل حدیث
جناب ایوب کی ایک صفت یہ تھی کہ آپ نے پیغمبر اکرم (ص) سے احادیث کو بھی نقل کیا ہے۔ محدثین نے ابو ایوب انصاری کی روایات کو کافی اہمیت دی ہے۔
آپ نے رسول خدا (ص) سے نزدیک ہونے کی وجہ سے مختلف موضوعات پر کافی مقدار میں روایات نقل کی ہیں اس وجہ سے آپ کا نام میں بھی راویوں کی فہرست میں درج ہوا ہے اور صحابہ اور تابعین نے آپ سے روایات کو بیان کیا ہے۔
ابن عباس، ابن عمر، براء بن عازب، ابو امامه، زيد بن خالد جهنى، مقدام بن معدى كرب، انس بن مالك، جابر بن سمره، عبد الله بن يزيد خطمى، سعيد بن مسيب،عروه، سالم بن عبد الله، عطاء بن يسار، عطاء بن يزيد،، افلح، موسى بن طلحه، عبد الله بن حنين، عبد الرحمن بن ابى ليل، ابو عبد الرحمن حبلى، عمر بن ثابت، جبير بن نفير، ابو دهم سماعى، ابو سلمه عبد الرحمن، قرشع الضبى، محمد بن كعب و قاسم بن ابو عبد الرحمن نے ابو ایوب انصاری سے روایات نقل کی ہیں۔
بعض محققین نے جناب ابو ایوب سے نقل شدہ روایات کی تعداد ایک سو پچپن بتائی ہے جن میں سے سات موارد صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بہت سارے اماميه منابع و ماخذ جیسے کتاب خصال، وسائل الشیعہ میں ابو ایوب انصاری کی روایات دکھائی دیتی ہیں۔
3: اقدار کا پاس و لحاظ
۱: ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے ابو ایوب نے فرمایا: آپ کا اخلاق کس درجہ پر پہنچا ہے؟
ابو ایوب نے جواب دیا: «لااوذى جارا فمن دونه و لا امنعه معروفا اقدر عليه»
میں نے طے کیا ہے کہ کبھی بھی پڑوسی یا کسی دوسرے شخص کو اذیت نہ کروں اور جتنا میری توان میں ہے اس سے محروم نہ کروں۔
۲: ایک پیغمبر اکرم (ص) نے ابو ایوب کو دیکھا کہ دسترخوان پر گری ہوئی غذا کو کھا رہے ہیں۔ آپ ان کے اس کام سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا: «بورك لك و بورك عليك و بورك فيك» مبارک ہو تمہیں، تمہارے اوپر اور تمہارے اندر۔
ابو ایوب نے کہا: اے رسول خدا(ص)! یہ دعا میرے علاوہ بھی کسی اور کو بھی شامل ہو گی؟ فرمایا: جو بھی ایسا کرے گا وہ بھی اس کو پا لے گا جو میں نے کہا ہے خداوند عالم دیوانگی، جذام،برص اور بے عقلی کو اس سے دور کر دے گا۔
۳: امام علي (ع) فرماتے ہیں: ایک دن ابو ایوب انصاری پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پہنچے اور کہا: اے رسول خدا(ص)! کوئی نصیحت کیجیے شاید میں اس پر عمل کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں پانچ چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں:
۱۔ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی امید نہ رکھو اس یہی عین بے نیازی ہے۔
۲۔ جتنا ممکن ہو لالچ اور طمع سے دوری اختیار کرو کہ یہی عین قفر ہے۔
۳۔ نماز کو اس طریقہ سے ادا کرو کہ گویا یہ آخری نماز ہے۔
۴۔ ایسا کام نہ کرو کہ اس کے بعد معذرت خواہی کرنا پڑے۔
۵۔ اور جو کچھ اپنے لیے پسند کرتے ہو دوسروں کے لیے بھی پسند کرو۔
4: جانثار سپاہی
جناب ابو ایوب کے اندر اطاعت اور بندگی کی جو روح پائی جاتی تھی اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ تمام جنگوں میں موجود رہتے تھے۔ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہے اور جنگ جمل، صفین اور نہروان میں بھی شرکت کی۔
ابراہیم بن علقمہ کا کہنا ہے کہ ایک دن ابو ایوب انصاری سے میں نے کہا: اے ابو ایوب! خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ تمہارے اوپر ایسی نظر کرم کی جو کسی پر نہیں کی۔ تم پیغمبر اکرم (ص) کے میزبان تھے۔ لیکن کیوں تم نے علی(ع) کا ساتھ دیا اور ان کے ساتھ بھی جنگوں میں شریک ہوئے اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی؟
ابوایوب نے جواب دیا:خدا کی قسم ایک دن اسی گھر پر جہاں تم لوگ بیٹھے ہو پیغمبر اکرم(ص) تشریف فرما تھے اور کوئی بھی گھر میں نہیں تھا۔ علی آپ (ص) کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور میں بائیں طرف۔ انس بن مالک سامنے کھڑے ہوئے تھے کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: انس دیکھو دروازے پر کون ہے؟ انس دروازے پر دیکھنے گئے تو عمار یاسر دروازے کے پیچھے تھے۔ پیغمبر نے فرمایا: عمار کے لیے دروازہ کھول دو۔ عمار پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔
پیغمبر نے خوش آمدید کہنے بعد فرمایا: اے عمار میرے بعد بہت ناگوار حوادث وجود پائیں گے یہاں تک کہ بعض مسلمان ایک دوسرے پر تلوار چلائیں گے اور ایک گروہ دوسرے سے برائت چاہےگا۔
اے عمار! اگرتم نے اس دن کو دیکھا تو اس کا ساتھ دینا جو میرے دائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔
اے عمار! اگر سب لوگ راستے سے ہٹ جائیں تو تم اسی راستے پر چلنا جس پر علی چلیں۔
اے عمار! کبھی بھی علی تمہیں راہ ہدایت سے منحرف نہیں کریں گے اور گمراہی کی طرف ہدایت نہیں کریں گے۔
اے عمار! علی کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔
آخر کار
ابو ایوب اکیاون ہجری میں شہر قسطنطنیہ کے نزدیک بیمار ہو گئے اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ابوايوب انصاري كي مزار – استنبول تركي
یمن میں جھڑپوں کے نتیجے میں 117 افراد ہلاک
یمن کے صوبے عمران میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 117 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق یمن کے صوبے عمران میں الحوثی گروہ اور مسلح قبائل و فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سے زیادہ افراد 117 ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ یمن کے صوبے عمران کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الحوثی گروہ کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں یمن کے 47 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ مقامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے شمال میں پچاس کیلو میٹر کے فاصلے پر ہونے والی جھڑپوں میں سے زیادہ الحوثی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یمن کی فضائیہ نے عمران شہر کے اطراف میں الحوثی گروہ کے خلاف کارروائی کا پلان تیار کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ الحوثی گروہ کے افراد نے 2012 میں اس ملک کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کی برطرف میں اہم کردار کیا تھا۔ الحوثی گروہ ملک میں سیاسی، اقتصادی اور مذہبی امتیازی سلوک کے خاتمے اور شیعوں کے حقوق کی بحالی کے لئے جدوجہد کررہا ہے۔
وزیرستان آپریشن، ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
پاکستان میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ساتھ حکومت پاکستان نے ملک بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیئے ہیں۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی الرٹ کے دائرے ہی میں پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ممکنہ تخریب کاری کی روک تھام کے پیش نظر ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور صوبے بلوچستان کے تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر خفیہ کیمرے نصب کردیئے ہیں۔ پاکستان ریلویز کوئٹہ کے ترجمان عباس علی کے مطابق کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی تمام ٹرینوں میں ممکنہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام اور مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ریلوے پولیس کے ساتھ آٹھ آٹھ تربیت یافتہ کمانڈوز بھی تعینات کئے گئے ہیں اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کو مزید محفوظ بنانے کیلئے پارکنگ ایریا بند کرکے بیرئیر لگادئیے گئے ہیں اور ریلوے کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ریلوے ٹریکس پر پٹرولنگ میں بھی اضافہ کردیاگیاہے۔
رہبر معظم سے ملک کے اعلی سول اور فوجی حکام کی ملاقات
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلی سول اور فوجی حکام اور بعض اعلی ڈائریکٹروں کے ساتھ ملاقات میں داخلی اور خارجی مسائل کے سلسلے میں اہم نکات پیش کئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور اداروں میں چند جانبہ خلل ایجاد کرنے اور پیچیدہ کوشش کو سامراجی طاقتوں بالخصوص امریکہ کا موجودہ اہم ہدف قراردیا اور عالمی اور علاقائی حساس حالات و شرائط اور تاریخ کے ایک حقیقی اور اہم موڑ پر پہنچنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عقلانی محاسبات یعنی اللہ تعالی کی ذات اور خلقت کے سنن پر اعتماد نیز دشمن کی شناخت اور اس پر عدم اعتماد کے اصلی عناصر کے پیش نظر ، عوام پر تکیہ ،تجربات، مجاہدت اور تلاش و کوشش کی روشنی میں اپنے اعلی اہداف تک پہنچنے اور اپنے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جد وجہد جاری رکھےگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ماہ رمضان المبارک کو تقوی، عبودیت اور رحمانی رفتار کے ساتھ شیطان اور شیطانی رفتار کے مقابلہ کا میدان قراردیتے ہوئے فرمایا: مقابلے کے اس میدان میں شیطان کا ایک اہم ہدف ہے جبکہ تقوی کا بھی بھی ایک بہت بڑا ہدف ہے، شیطان انسان کے محاسبات میں خلل پیدا کرکے اور اسے محاسباتی خطا کی طرف کھینچ کر اس سے اس خطا کی بنیاد پر اقدام کروانے کی تلاش و کوشش میں ہے جبکہ تقوی انسان میں دانائی اور آگاہی کی راہ ہموار کرتا ہے اور حق و باطل کے درمیان پہچان کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انسانوں میں محاسباتی خطا پیدا کرنے کے سلسلے میں لالچ اور دھمکی کو شیطان کے دو اصلی وسیلے قراردیتے ہوئے فرمایا: شیطان ایک طرف انسان کو دھمکی دیتا اور ڈراتا ہے اور دوسری طرف انسان کو جھوٹے وعدوں کا سراب دکھا کر اسے اپنے فریب کے جال میں گرفتار کرتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اس حصہ میں امریکہ اور تسلط پسند سامراجی طاقتوں کی رفتار پہچاننے کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور تسلط پسند سامراجی طاقتوں کی رفتار شیطان جیسی رفتار ہے کیونکہ وہ ہمیشہ دھمکی ، لالچ اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ جنھیں انھوں نے کبھی بھی عملی جامہ نہیں پہنایا، دوسرے ممالک کو مرعوب کرکے اپنے زیر اثر رکھنا چاہتے ہیں اور شیطان بھی دھمکی اور لالچ کے ذریعہ انسانی کے محاسبات میں خطا پیدا کرکے انسان کو محاسباتی خطا میں مبتلا کردیتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے محاسبہ میں خطا کو سب سے بڑا خطرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سب کو اس عظیم اور بڑے خطرے سے باخـبر رہنا چاہیے کیونکہ محاسبہ میں خطا اس بات کا باعث بنتی ہے کہ غلط اور اشتباہ فیصلہ کی وجہ سے انسان کی توانائی اور عزم عملی طور پر برباد اور ضائع ہوجاتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں حفاظت اور آگاہی کو حکام کے لئے بہت ہی حساس اور ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: محاسباتی عظیم خطاؤں میں سے ایک خطا یہ ہےکہ انسان الہی سنتوں اور معنوی عوامل کو نظر انداز کردے اور صرف مادی اور محسوس دائرے میں محدود رہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سعادت ، شقاوت ،پیشرفت اور عدم پیشرفت کو صرف مادی عوامل کے دائرے میں محدود قرار نہ دیتے ہوئے فرمایا: معنوی عوامل اور اللہ تعالی کی ناقابل تبدیل سنتیں بہت ہی مؤثر عوامل ہیں اور ان کا نظر انداز کرنا ناقابل تلافی خطا اور غلطی ہوگی۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
