Super User
جناب حمزہ
حمزہ بن عبد المطلب پیغمبر اسلام (ص) کے چچا تھے آپ عرب کے شجاع ترین شخص اور صدر اسلام کے بہادر اور رشید مرد تھے آپ نے اپنے بتیجھے کے شانہ بشانہ اسلام کی نصرت کی۔ اور سخت ترین مراحل میں پیغمبر اکرم (ص) اور دین اسلام کا دفاع کیا۔ قریش کے سردار اور عرب کے بڑے بڑے سورما ان کی شجاعت اور ابہت کے سامنے خوف کھاتے تھے۔
انہوں نے اپنی پوری قدرت کےساتھ مکہ کے نازک ترین ماحول میں پیغمبر اکرم (ص) کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور ابو جہل سے پیغمبر (ص) کا انتقام لینے کی غرض سے اس کا سر پھوڑ دیا تھا جو اس نے شان رسالت میں گستاخی کی تھی لیکن کوئی ان کےسامنے آنے کی جرئت نہ کر سکا۔
جناب حمزہ جنگ بدر میں قریش کے سب سے بڑے پہلوان ’’ شیبہ‘‘ کے مقابلہ کے لیے گئے اور اسے زمین بھوس کر دیا کئی ساروں کو واصل جہنم اور زخمی کیا۔
جناب حمزہ کا خاندان
جناب حمزہ بن عبد المطلب بن ہاشم کی والدہ سلمی عمرو بن زید بن لبید کی بیٹی تھیں۔ اور آپ کے بھائیوں میں سے عبد اللہ، ابو طالب، ابولہب، وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان کی بہنیں بھی عاتکہ، امیمہ، صفیہ، اور برّہ تھیں۔
پیغمبر کا رضاعی بھائی
ابو لہب کی کنیز ثوبیہ جس نے جناب حمزہ کو دودھ پلایا تھا اس نے کچھ دن رسول خدا (ص) کو بھی دودھ پلایا۔( امتاع الاسماع، ص6) اس وجہ سے جناب حمزہ پیغمبر اسلام کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔
دوسری طرف سے جناب حمزہ نے قبیلہ بنی سعد کی رہنے والی سعدیہ نامی خاتون کا دودھ بھی پیا تھا اور بعد میں وہ خاتون رسول خدا(ص) کی دائیہ بھی رہی ہیں یعنی رسول خدا(ص) کو بھی انہوں نے دودھ پلایا۔ لہذا جناب حمزہ دو اعتبار سے رسول خدا(ص) کے رضاعی بھائی ہوئے، ثوبیہ کی طرف سے بھی اور سعدیہ کی طرف سے بھی (سدالغابة، ج1، ص15)
پیغمبر کے لیے منگنی
خدیجہ جو اس وقت کی بہت بڑی تاجرہ تھی اس نے رسول خدا (ص) کو اپنے غلام میسرہ کے ساتھ تجارت کے لیے شام کی طرف بھیجا۔ میسرہ نے اس سفر میں رسول خدا (ص) سے کچھ کرامات کو مشاہدہ کیا جو اس نے واپس پہنچ کر خدیجہ کے لیے بیان کیں۔
جناب خدیجہ نے ایک شخص کو رسول خدا (ص) کی خدمت میں بھیجا اور آپ سے شادی کے لیے اپنی تمنا کا اظہار کیا۔ رسول خدا(ص) نے اپنے چچا سے مشورہ کیا اس کے بعد جناب حمزہ کے ساتھ خویلد بن اسد بن عبد العزی کے پاس رشتہ کے لیے گئے اور جناب خدیجہ کی منگنی کی۔( سيرة النبي، ج 1، 205)
جناب حمزہ اور بیٹے کی کفالت
ایک سال قریش قحط اور خشکسالی کی وجہ سے ایک شدید پریشانی میں گرفتار ہوئے۔ جناب ابوطالب کے یہاں اہل و عیال کافی زیادہ تھا۔ اس وجہ سے رسول خدا(ص) نے اپنے چچا عباس جو اس زمانے میں بنی ہاشم میں سب سے زیادہ ثروتمند تھے سے کہا: آئیں آپ کے بھائی ابوطالب کے پاس چلتے ہیں اور ان کی مدد کے لیے ان کی اولاد میں سے ایک کوکفالت کے لیے میں اپنے پاس لے جاتا ہوں اور ایک کو آپ لے جائیں۔
جناب عباس نے قبول کر لیا۔ جناب حمزہ کو خبر ملی تو وہ بھی اس کام کے لیے ان کے ساتھ ہو لئے۔ حضرت ابو طالب نے کہا: عقیل کو میرے پاس چھوڑ دو باقی والوں میں سے انتخاب کر لو۔ رسول خدا(ص) نے علی علیہ السلام کا انتخاب کر لیا۔ جناب عباس نے طالب، اور جناب حمزہ نے جعفر کا انتخاب کیا۔( سيرة النبي، ج 1، ۲۰۸)
جناب حمزہ کا اسلام لانا
پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت کے بعد جناب حمزہ بھی خدا کی وحدانیت اور پیغمبر(ص) کی رسالت پر ایمان لائے اور اپنے بتیجھے کے دین کو قبول کیا۔ جناب حمزہ کے اسلام لانے کے بعد قریش کی پیشنہادیں یکے بود دیگرے شروع ہو گئیں۔ اس لیے کہ انہوں نے دیکھا کہ سب سے زیادہ شجاع شخص پیغمبر پر ایمان لے آیا ہے۔ لہذا انہیں جناب حمزہ کی حمایت کی امید نہیں رہ گئی تھی۔ لیکن پیغمبر اکرم(ص) نے ان کی کوئی فرمائش بھی قبول نہیں کی۔
ابوجہل نے قریش کے درمیان تقریر کی اور اس کے بعد قریش نے پیغمبر کے قتل کا منصوبہ بنایا۔
ایک دن ابو جھل نے رسول خدا (ص)کو صفا کے مقام پر دیکھا تو انہیں گالیاں دیں۔ پیغمبر(ص) نے اس کے بکواس پر کوئی توجہ نہیں کی۔ عبد اللہ بن جدعان کی کنیز اس ماجرا کو دیکھ رہی تھی اس نے فورا اس بات کی خبر جناب حمزہ کو دی۔
جناب حمزہ کو بہت برا لگا انہوں نے ابو جہل سے انتقام کا ارادہ کر لیا لہذا فورا اٹھے اور ابو جہل کی تلاش میں نکلے، دیکھا کہ ابوجہل قریش کے ایک مجمع کے درمیان بیٹھا ہوا ہے۔ جناب حمزہ بغیر اس کے کہ کسی سے کوئی بات کریں سیدھے ابوجھل کی طرف بڑھے اور اپنی کمان کو اس کے سر پر دے مارا۔
ابو جھل کا سر پھٹ گیا۔ اس کے بعد جناب حمزہ نے کہا: تو پیغمبر کو گالیاں دیتا ہے؟ میں ان پر ایمان لایا ہوں جس راستے پر وہ چلیں گے اس پر میں چلوں گا۔ اگر تیرے اندر جرئت ہے تو میں میرے ساتھ مقابلہ کر۔ ابو جہل نے لوگوں کی طرف رخ کر کے کہا: میں نے محمد کے حق میں برا کیا۔ حمزہ کو حق ہے کہ ناراض ہو۔ (فرازهايي از تاريخ پيامبر اسلام، ص 114)
اسلام کی دن بدن ترقی سے قریش کی نگرانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور پیغمبر کو اذیت و آذار کا سلسلہ مزید بڑھتا گیا۔ حتی آپ (ص) کے چچا ابو لہب اور ان کی بیوی بھی آپ(ص) کو اذیت کرنے سے باز نہیں آتے تھے خاص طور پر اس وجہ سے کہ وہ پیغمبر اکرم کے پڑوسی تھے اپنے گھر کا سارا کوڑا کرکٹ رسول خدا (ص) کے اوپر ڈالتے تھے۔ حتی انہوں نے بھیڑکی اوجری ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ البتہ جناب حمزہ نے ان سے بھی انتقام لے لیا۔
جناب حمزہ اسلام کی ابتدائی جنگوں میں
۱۲ ربیع الاول کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی، جناب حمزہ جس طرح سے مکہ میں رسول اسلام (ص) کے سپر تھے مدینہ میں بھی آپ نے رسول اسلام(ص) کی بھر پور حمایت کی۔ ہجرت کے دوسرے سال ۱۷ رمضان کوجب جنگ بدر وجود میں آئی تو جناب حمزہ نے نہایت بہادری کے ساتھ جنگ بدر میں شرکت کی اور دشمن کا مقابلہ کیا جنگ بدر میں آپ قریش کے پہلوان عتبہ کے مد مقابل جنگ کی اور اسے زمین بوس کیا۔
جنگ بدر میں مشرکین مکہ نے شکست کھانے کے بعد مسلمانوں سے بدلہ چکانے کے لیے جنگ احد کی۔ جنگ احد میں ہندہ جگر خوارہ نے پہلے سے اپنے حبشی غلام کو جناب حمزہ کو قتل کے لیے آمادہ کر رکھا تھا تاکہ جنگ بدر میں جناب حمزہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے اپنے باپ عتبہ کا بدلہ لے۔ ھندہ کا حبشی غلام جنگ کے دوران مسلسل جناب حمزہ کی تاک میں رہا اور فرصت پاتے ہی اس نے جناب حمزہ کے سینے میں نیزہ کا وار کر دیا۔
جناب حمزہ کی شہادت
جیسا کہ بیان کیا جنگ احد میں ھندہ نے اپنے حبشی غلام کو اپنے زیورات دینے اور آزاد کرنے کی قیمت کو جناب حمزہ کی شہادت قرار دیا۔ حبشی غلام نے جنگ احد میں انہیں نیزہ مار کر شہید کر دیا اس کے بعد ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے جناب حمزہ کے کان و ناک کاٹ کر اور اس کے بعد جناب حمزہ کا جگر نکال کر چبا دیا اسی وجہ سے اسے ہندہ جگر خوار کہا جاتا ہے۔
رسول خدا (ص) کو جناب حمزہ کی شہادت کا صدمہ
جب پیغمبر اکرم (ص) کو جناب حمزہ کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کو بھیجا تاکہ ان کے بارے میں خبر لائیں حضرت علی علیہ السلام نے جب جناب حمزہ کی لاش کو اس کیفیت میں دیکھا تو رسول خدا (ص) کے پاس واپس جانے کی ہمت نہ کر سکے۔
جب حضرت علی (ع) رسول اسلام کے پاس خبر لے کر واپس نہیں گئے تو رسول اسلام خود جناب حمزہ کی لاش پر تشریف لائے۔ جب آپ نے جناب حمزہ کو اس رقت بار حالت میں دیکھا تو فرمایا: میں ہرگز آپ سے زیادہ کسی کا مصیبت میں مبتلا نہیں ہوں گا، اس موقع سے زیادہ کوئی موقع میرے لیے سخت نہیں ہوگا۔ :"لن اصابَ بِمِثْلکَ ابَداً، ما وَقَفتُ مَوقِفاً قَطٌّ اَعنيَ...".[ تاريخ پيامبر اسلام، دکترآيتي، ص323)
اس کے بعد فرمایا: اگر خدا مجھے طاقت دے تو میں عمو حمزہ کے بدلے میں قریش کے ستر افراد کو قتل کروں۔ اور ان کے بدن کے اعضا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔ اس ہنگام حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور یہ آیت تلاوت کیا: : وَ إِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصّابِرينَ[نحل/ 126) اگر آپ ان کو سزا دینا چاہتے ہیں تو اپنی سزا میں اعتدال سے کام لیں اور اگر صبر سے کام لیں گے تو صبر کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہے‘‘۔
رسول خدا(ص) نے یہ پیغام الہی سننے کے بعد فرمایا: پس میں صبر کروں گا اور ان کا انتقام خدا پر چھوڑ دوں گا۔ اس کے بعد اپنے کندھے سے برد یمانی کو اتار کر جناب حمزہ کے اوپر ڈال دیا
پیغمبر اکرم (ص) تھوڑی دیر تک جناب حمزہ کی لاش کے پاس کھڑے رہے اس کے بعد فرمایا: جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ سات آسمانوں پر لکھا ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر ہیں‘‘۔ (تاريخ پيامبر اسلام، دکتر آيتي، ص323)
رسول خدا(ص) سے روایت ہوئی ہے: جو شخص میری زیارت کرے اور میرے چچا حمزہ کی زیارت نہ کرے اس نے میرے حق میں جفا کی ہے‘‘۔ (کليات مفاتيح الجنان، زيارت نامه حضرت حمزه)۔
جب جنگ احد تمام ہو گئی تو مسلمانوں نے اپنے شہیدوں کو دفنانا شروع کیا۔ رسول خدا(ص) نے جناب حمزہ اور دیگر شہدا کو بغیر غسل کے دفنانے کا حکم دیا۔ اور فرمایا: انہیں اسی طرح خون میں لت پت دفنا دو میں ان پر گواہ ہوں‘‘۔
جناب حمزہ کا جنازہ پہلا جنازہ ہے جس پر رسول خدا(ص) نے چار تکبیریں نماز ادا کی۔ اس کے بعد باقی شہدا کے جنازے بھی جناب حمزہ کے جنازہ کے پاس لا کر رکھے گئے رسول خدا(ص) نے ہر شہید پر نماز کے ساتھ جناب حمزہ پر بھی نماز پڑھی۔ چنانچہ ستر مرتبہ جناب حمزہ پر نماز ادا کی گئی۔ (طبقات محمد بن سعد کاتب واقدي.)
رسول خدا(ص) کے حکم کے مطابق جناب حمزہ کو عبد اللہ بن جحش کی لاش کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفنا دیا۔( کليات منتهي الامال ، ص 77.)
امریکی جنگی سازوسامان کی منتقلی کیلئے پاکستانی فضا کے استعمال کی اجازت
ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی ایرلائنز کے ذریعے امریکہ کی ڈیڑھ ہزار سے زائد فوجی اور بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سازوسامان افغانستان منتقل کئے جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ اجازت دیئے جانے کا مقصد، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے موقع پر اس ملک کی صورت حال کنٹرول اور طالبان گروہ کا مقابلہ کرنے کیلئے افغان فوج کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان، فوجی سازوسامان منتقل کئے جانے کا یہ عمل آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا۔
رہبر معظم سے دایہ کے دن کی مناسبت سے بعض دائيوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دائیوں کے دن کی مناسبت سے بعض دائیوں اور دایہ حکام کے ساتھ ملاقات میں معاشرے کی صحت و سلامتی میں دائيوں کی خدمات اور اسی طرح انسانی نسل کے بقا میں دائیوں کے اہم کردار کو گرانقدر قراردیا اور ملک کی آبادی کے اضافہ کے سلسلے میں بنیادی پالیسیوں کے اجراء کے لئے دائیوں کی خدمات سے استفادہ کی ثقافت کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: نسل انسانی بڑھانے اور ملک کی جوان آبادی میں کمی کو روکنے کا مسئلہ ایک حیاتی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کا سنجیدگی کے ساتھ پیچھا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی دائيوں کی دلسوزانہ خدمات اور زحمات کی قدر اور ماں اور بچے کی صحت و سلامتی کی حفاظت میں ان کے تجربہ، احساس ذمہ داری، علم اور صبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ تمام مرد اور خواتین دائیوں کے مرہون منت ہیں اور دائیوں کا بھی عوام کے درمیان ہمیشہ ایک خاص احترام اور خاص مقام رہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب سلامی نے طبیعی ولادت کے سلسلے میں عورتوں کو دائیوں کی خدمات سے استفادہ کے سلسلے میں ترغیب و تشویق کو اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ماہرین کو بچے اور ماں کی حفاظت کے سلسلے میں غیر طبیعی وضع حمل کے نقصانات سے آگاہ کرنا چاہیے اور اسی طرح طبیعی وضع حمل کے مثبت آثار اور فوائد سے معاشرے میں آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیدائش اور نسل بڑھانے کی اہمیت اور طبیعی ولادت کے ممتاز نقش اور اس سلسلے میں دائيوں کی خدمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جوانوں کی آبادی میں اضافہ ملک کا ایک امتیاز ہے اور غلط پالیسیوں اور غلط اقدامات کے استمرار کی صورت میں آئندہ برسوں میں ملک کی جوان آبادی میں شدید کمی واقع ہوچائے گي اور اس طرح ہم عام بوڑھی آبادی کے عظیم مسئلہ سے دوچار ہوجائیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جوان آبادی کے بغیر ملک یعنی ایسا ملک جس میں شوق و نشاط اور خلاقیت اور پیشرفت نہ ہو لہذا انسانی نسل بڑھانے کے پروگرام کا سنجیدگی کے ساتھ پیچھا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی طرح ملک بھر کی دائيوں کی مشکلات برطرف کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حکومتی اداروں اور حکام کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں موجود خامیوں اور نقائص کو دور کرنےکی تلاش و کوشش کریں۔
اس ملاقات کے آغاز میں دائیوں کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر معصومہ آبادی نے ملک میں 50 ہزار دائیوں اور آبادی میں توسعہ میں ان کے ممتاز نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج ملک میں 50 فیصد بچے غیر طبیعی طریقہ سے پیدا ہوتے ہیں اور بہت سےغیر ضروری آپریشنز، آبادی کے اضافہ اور ماؤں کے حاملہ ہونے میں بہت بڑی رکاٹ ہیں۔
محترمہ ڈاکٹر معصومہ آبادی نے دائیوں کی خدمات کو بیمہ کرنے اور تعلیمی مراکز میں لڑکیوں سے منسلک تعلیمات کے سلسلے میں منصوبہ بندی کو موجودہ ثقافت کی اصلاح اور دائیوں کی خدمات سے استفادہ کے منجملہ راہ حل قراردیا۔
ایران کی منڈی میں داخل ہونے کے لئے امریکی کمپنیوں میں رقابت
اخبار کیہان کے مطابق فرانسیسی اخبار فیگارو نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسے میں جبکہ مغرب اور ایران کے درمیان سیاسی مذاکرات کا آغاز ہوگيا ہے، غیر ملکی کمپنیاں، تہران کے ساتھ اپنے تعلقات اور روابط کےفروغ میں کوشاں ہیں۔ اس رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ امریکہ کی کار کمپنی " کرائسلر" نے، مارچ 2014 کے آغاز سے ایرانی منڈی میں سرمایہ کاری کے لئے، صدر مملکت ڈاکٹر روحانی کو تجویز پیش کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ایک اور کمپنی "سیسکو سسٹم " نے بھی جو کمپیوٹر بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے، ایران کو کمپیوٹر وسائل ایکسپورٹ کرنے کے لئے درخواست پیش کی ہے۔ فیگارو کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی جنرل موٹر کے بعد، تیل کی بڑی کمپنیاں اور بوئینگ طیارے بنانے والی کمپنی بھی ایران کی منڈی میں قدم رکھنا چاہتی ہیں۔ ایران اور مغرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کی رو سے بوئینگ کمپنی نے حال ہی میں ایران ایئر کمپنی کو پرزے فروخت کرنے کا لائسنس حاصل کیا ہے۔
جناب حمیدہ بنت صاعد

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شریک حیات اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حمیدہ بنت صاعد تاریخ اسلام کی ایک عظیم المرتبت ، نامور اور بافضیلت خاتون ہیں۔
فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: " وہ دنیا میں حمیدہ یعنی پسندیدہ اور آخرت میں محمودہ یعنی نیک صفات کی حامل خاتون ہیں"۔جناب حمیدہ جو فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی کنیز تھیں، انہیں آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو بخش دیا تھا ۔
فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے حمیدہ سے نکاح کیا اور ان کو اعلی مرتبے پر فائز کیا، جناب حمیدہ سے چار اولادیں یعنی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ، اسحاق ، فاطمۂکبری اور محمد پیدا ہوئے ۔ خاندان علوی میں حمیدہ کو اعلی مقام حاصل تھا اور ہر شخص ان کا احترام کرتا تھا خانواد عصمت و طہارت میں زندگی بسر کرنے کی وجہ سے روز بروز ان کے علم و فضل میں اضافہ ہوتا گیا، چنانچہ آپ فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے حکم سے مدینے کی خواتین کو احکام و معارف اسلامی کی تعلیم دیتی تھیں ، مؤرخین کے مطابق جناب حمیدہ عفت و حیا اور فضائل و کمالات کے لحاظ سے اپنے زمانے کی خواتین کے درمیان فقید المثال خاتون تھیں اور شائستگی، انتظامی امور کی صلاحیت اور امانت و صداقت جیسے اعلی صفات سے متصف تھیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اہل مدینہ کی واجبات کی ادائیگی کے امور ہمیشہ اپنی والدہ ماجدہ جناب ام فروہ اور اپنی شریک حیات جناب حمیدہ کے سپرد کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جناب حمیدہ حدیث بھی نقل کرتی تھیں ۔
حضرت حمیدہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ ان سے موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ امام صادق علیہ السلام جب ایک سو اٹھائیس ہجری میں اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ حج پر گئے، تو اپنی حاملہ بیوی کو بھی ساتھ لےگئے۔ مناسک حج ادا کرنے کے بعد جب ابواء کی سر زمین پہنچے، تو وہاں پر حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت ہوئی ۔
ابو بصیر کہتا ہے :میں جس سال امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ حج پر گیا اور جب ہم ابواء کے مقام پر پہنچے، تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ امام صادق علیہ السلام بہت ہی خوشحال تھے ، جناب حمیدہ کے پاس گئے اور تھوڑی دیر کے بعد خوشحالی کی حالت میں واپس لوٹے _
منہال قصاب کہتا ہے: جب میں مکہ سے مدینہ گیا اور جب ابواء کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ خدا نے امام صادق علیہ السلام کو فرزند عطا کیا ۔
فقہ اہل بیت : امام صادق علیہ السلام نے اپنی بیوی کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا، انہیں اسلام کے معارف بتائے۔ حضرت کی صحبت میں جناب حمیدہ کے علم میں اضافہ ہوتا گیا ۔حتیٰ کہ ایک دن ہی جناب حمیدہ علوم اہل بیت لوگوں تک پہنچانے کے فرائض ادا کرنے لگی ۔کئی بار امام صادق علیہ السلام نے نصیحت کی کہ مسلمان عورتوں کو تعلیم دیں۔
شیخ عباس قمی لکھتے ہیں: وہ ایک عالمہ اور فقيھہ تھیں۔ تمام عورتیں مسائل اور احکام کے لیے آپ کے پاس جاتیں تھیں۔
عبدالرحمن بن حجاج کہتا ہے: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا۔ حج میں ہمارے پاس ایک بچہ بھی ہے اور اس کا حج بجالانا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا :بچے کی ماں کو کہو کہ وہ حمیدہ کے پاس جائے اور مسائل سیکھے۔ اس بچے کی ماں جناب حمیدہ کی خدمت میں گئی اور مسائل پوچھے۔ انہوں نے کہا: جب ترویہ کا دن آئے تو بچے کے سلے ہوئے کپڑے اتاردیں۔ پھر اس کی طرف سے احرام کی نیت کریں۔ جب دہم ذی الحج آئے تو اس کی طرف سے شیطان کو پتھر ماریں اس کے سر کے بال کومنڈوائیں اور بیت اللہ کی زیارت کروائیں اور پھر کنیز کو حکم دو کہ اسے کعبہ کا طواف کرائے اور پھر صفا ومروہ کے درمیان.
ابو بصیر کہتا ہے: امام صادق علیہ السلام کی وفات کے بعد حمیدہ بربریہ کی خدمت میں ہم حاضر ہوئے اور انہیں تسلیت عرض کی وہ رونے لگی اور پھر فرماتی ہیں: " لو رأیت ابا عبداللّٰہ عند الموت لرأیت عجباً فتح عینیہ ثم قال اجمعوا لی کل من بینی وبینہ قرابة فلم نترک احداً الا جمعناہ فنظر الیھم ثم قال ان شفاعتنا لا تنال مستخفا بالصلوة " – " اے ابو بصیر ! اگر تو ابا عبداللہ کو موت کے وقت دیکھتا تو ایک عجیب چیز مشاہدہ کرتا انہوں نے اپنی آنکھوں کو کھولا اور فرمایا : میرے رشتہ داروں کو بلائو جب ہم جمع ہوگئے تو فرمایا : جو شخص نماز کو اہمیت نہیں دیتا اسے ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوگی" ۔
ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون جاری رہے گا
ایران کی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان اتفاق رائے کے سات نکات کو حتمی شکل دے دی جائے گی .
ایران کی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز كمالوندي نے کل ارنا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا معاہدے میں جوائنٹ ایکشن پلان کے تحت دونوں فریق نے جن نکات پر اتفاق کیا تھا ان میں سے سات کو جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین کی ایک ٹیم ایران پہنچی ہے جو پیر اور منگل کو ایران کے کچھ اداروں کا معائنہ کرے گی . كمالوندي نے اسی طرح کہا کہ دشمنوں نے ایران کے جوہری تنصیبات کے خلاف متعدد سازشیں کیں لیکن ملک کے تمام ادارے اپنی پوری توانائی کے ساتھ کام کر رہے ہیں .
ہزاروں افراد کے جاں بحق ہونے پر افغان حکومت اور عوام کو تعزیت
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اپنے ایک تعزیتی پیغام میں افغانستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے جاں بحق ہونے پر افغان حکومت اور عوام کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے اس دل خراش سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدارتی پریس نوٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج افغانستان کے صدر "حامد کرزئی" کے نام اپنے پیغام میں اس ہولناک واقعہ پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے ایران کی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی مادی و معنوی امداد کو اعلان کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر "علی لاریجانی" نے بھی اپنے ایک پیغام میں افغانستان کی پارلیمنٹ اور سینٹ کے سربراہوں کے نام اپنے پیغام میں اس دلخراش سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا اور افغانستان کے عوام اور حکومت کو تعزیت و تسلیت پیش کی۔ واضح رہے کہ افغانستان میں لینڈ سلائیڈنگ سے مرنے والوں کی تعداد 2500 سے زائد ہوگئی ہے۔حادثہ صوبہ بدخشاں کے گاوٴں میں پیش آیا جہاں مٹی کے تودے گرنے سے سیکڑوں مکان منوں مٹی تلے دب گئے،ابتدا میں 350 افراد کے ہلاک اور ڈھائی ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم اب گورنر بدخشاں نے اعلان کیا ہے کہ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 2500 سے زائد ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیاہے۔
ملی یکجہتی کونسل کے قائدین مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرینگے
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے۔
ملی یکجہتی کونسل کو سرگرم بنانے کے لئے متحرک ذرائع کا کہنا ہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں استحکام کا ذریعہ بنے گی اور اس میں تمام قابل ذکر جماعتیں شامل ہوں گی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی رابطوں کے بعد جماعت کا آئندہ اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے گا۔
ایران کی بحریہ ایک علمی مقام و منزلت کی حامل
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر نے بحریہ کی علمی و ٹیکنیکل صلاحتوں کی سطح کو نہایت ہی اعلی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ ایڈمرل "حبیب اللہ سیّاری" نے تھران میں 27 ویں انٹرنیشنل بک فیئر کے دورے کے موقع پر ارنا کے ساتھ گفتگو میں ایران کی بحریہ کے علمی و ٹیکنیکل مقام کے حوالے سے تاکید کی کہ اسی طرح جیسے رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ ایران کی بحریہ ایک علمی مقام و منزلت کی حامل رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بحری افواج ایسی علمی ٹیکنالوجی کی حامل ہے کہ جس کی مثال مشکل ہے۔ ایران کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل "حبیب اللہ سیّاری" نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ میں متعدد لائبریریاں ہیں کہ ان میں موجود اہم ترین کتابیں فنی و علمی شعبوں سے مربوط ہیں۔ واضح رہے کہ ان دنوں ایران کے دارالحکومت تھران میں 27 انٹرنیشنل بک فیئر ہورہا ہے کہ جو 10 مئی تک جاری رہے گا۔
افغانستان، مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ
غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق گذشتہ چند روز سے جاری طوفانی بارشوں نے اس ملک کے صوبے بدخشاں کے دور دراز کے دیہات میں تباہی مچادی ہے۔ مٹی کے تودے گرنے سے مختلف علاقوں میں کافی تعداد میں افراد پھنسے ہوئے ہیں،افغان حکومت اور اقوام متحدہ مشن کے امدادی دستے بھی متاثر علاقوں میں امداد کی کوشش کررہے ہیں۔
.......




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
