Super User
یوم مسلح افواج کے موقع پر صدر مملکت روحانی کا خطاب
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج، اسلام پسندی،وطن پرستی اور عوامی حکمرانی کا مظہر ہیں۔ صدر مملکت نے یوم مسلح افواج کی مناسبت سے دارالحکومت تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی(رہ) کے مزار مقدس کے اطراف میں مسلح افواج کی فوجی پریڈ کے موقع پر اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سخت ترین ایام میں بھی اپنے نظام، وطن اور ملک کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور مسلط کردہ آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران سینہ سپر بنی رہی اور عزت و شرف اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فریضے پر مکمل عمل کیا۔انھوں نے کہا کہ مسلح افواج نے جنگ کے ہر شعبے نیز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جنگی منصوبوں میں بھی بھرپور تعاون کیا اور دشمنوں کے مقابلے میں پائمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہر قسم کی جارحیت کا جواب دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے یوم مسلح افواج کو ایرانی قوم کی قوت، اسلامی اور فداکار مسلح افواج سے عوام کی وابستگی کا دن قرار دیا اور کہا کہ یوم مسلح افواج ، مسلح افواج میں اتحاد و يکجہتی اور نشاط و شادابی کا دن ہے۔صدر مملکت جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اگر اس وقت، ایران کے سیاسی حکام و سفارتکار ڈیپلومیسی اور سیاسی مہم کے میدان میں سرگرم عمل ہوتے ہوئے عالمی طاقتوں کے ساتھ منطقی مذاکرات اور شجاعت و بہادری کے ساتھ اپنے ملک کے مفادات کا دفاع کررہے ہیں تو اس کے پیچھے ایرانی عوام کی رائے و حمایت، رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایت و رہنمائی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا اقتدار، کار فرما ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مذاکرات میں پوری دنیا کو اس بات کا پیغام دیا ہے کہ ایرانی حکومت اور عوام، منطق کے حامی اور جنگ وجارحیت کے خلاف ہیں جنھوں نے کبھی کسی ملک کو جارحیت کا نشانہ نہیں بنایا ہے اور ایران کے خلاف انجام پانے والی ہر طرح کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا ہے اور ایران کے پڑوسی ملکوں کو اس بات کو جان لینا چاہیئے کہ ایران کی مسلح افواج، پورے علاقے میں امن و استحکام کی حامی ہیں اور علاقے کے وہ تمام ممالک، جو امن و استحکام کے خواہاں ہیں، انھیں چاہیئے کہ ایران کی مسلح افواج پر بھروسہ کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایران کا اسلامی جمہوری نظام، شجاع و بہادر فوج رکھنے کے باوجود کسی بھی طاقت کو جارحیت کا مظاہرہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیگا ۔ قابل ذکر ہے کہ اٹھارہ اپریل کی تاریخ، اسلامی جمہوریہ ایران میں یوم مسلح افواج سے مناسبت رکھتی ہے۔
پرامن جوہری ٹکنالوجی ،اسلامی تہذيب و تمدن ميں سنگ میل
ایران کے دارلحکومت تہران کے آج کے خطیب نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی نے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کو اسلامی تہذیب و تمدن میں سنگ میل سے تعبیر کیا۔ انھوں نے مختلف شعبوں منجملہ زراعت و میڈیکل کے شعبوں میں پرامن جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق ایران کی ضروریات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری دانشوروں نے خدا و دین اسلام پر اپنے مکمل ایمان و یقین کی بدولت، علم و صنعت کی چوٹیوں کو سر کیا۔ خطیب نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی نے کہا کہ ایرانی قوم نے امید و آزادی کی بنیاد پر تمام تر خلاف ورزیوں کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنی سعی و کوشش سے مقامی توانائی کی بنیاد پر جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیشرفت کرکے مشرق و مغرب کو حیرت زدہ کردیا۔انھوں نے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایران کے موقف اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ تہران، پرامن جوہری توانائی کے سلسلے میں اپنے منطقی موقف سے ہرگز پسپائی اختیار نہیں کریگا۔ خطیب نماز جمعہ تہران حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی نے دختر گرامی پیغمبر اسلام حضرت فاطمہ زہرا(س) کی ولادت باسعادت اور یوم مادر و روز زن نیز خواتین کے حقوق کی رعایت کے بارے میں مغربی ملکوں کے دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ملکوں کی جانب سے خواتین کے حقوق کے سلسلے میں خلاف ورزی کے علاوہ کسی اور چیز کا مشاہدہ نہیں کیا گيا اور وہ ان حقوق کو صرف ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے ایران میں یوم مسلح افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی یوم قیام کی مناسبت سے مبارکباد بھی پیش کی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بحیثیت زوجہ
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جب امیرالمومنین علی مرتضیٰ علیہ السلام کے بیت الشرف تشریف لے گئیں تو دوسرے روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے ۔ آپ نے علی علیہ السلام سے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، یا رسول اللہ میں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین معین و مددگار پایا ۔
گویا علی علیہ السلام یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زوجہ قابل تعریف وہی ہے جو اطاعت شوہر کے ساتھ ساتھ مطیع پروردگار بھی ہو شاعر نے اس بات کو ایسے نظم کیا ۔
حسن سیرت کے لئے خوبی سیرت ہے ضرور
گل و ہی گل ہے جو خوشبو بھی دے رنگت کے سوا
چونکہ حسن، دائمی نہیں ہوتا بلکہ عمل دائمی ہوتا ہے آخرت میں دنیاوی حسن کام آنے والا نہیں بلکہ نیک اعمال ساتھ دینگے ۔پھر علی علیہ السلام سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول خدانے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا ۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے چاہنے والوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیئے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو ۔
لاکھوں سلام ہو ہمارا اس شہزادی پر جس کا مہر ایک زرہ اور ایک کتان کا بنا ہوا معمولی ترین لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال تھا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو۔
فرزند رسول مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : کسی خاتون کا مہر زیادہ ہونا باعث فضیلت نہیں قابل مذمت ہے بلکہ مہر کا کم ہونا باعث عزت و شرافت ہے ۔
حضرت ابوالفضل العباس (ع) کا مقتل رہبر معظم حضرت خامنہ ای کے زبانی

حضرت ابوالفضل العباس کی وفاداری بھی سب سے زیادہ اسی مقام پر جلوہ گر ہوئی جب آپ شریعۂ فرات میں وارد ہوئے لیکن پانی نہیں پیا کیونکہ آپ کو بھائی حسین اور خاندان رسول کے بچے اور دیگر پیاسے یاد عام میں بھی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کو پانی کآرہے تھے اور آپ ان سے پہلے پانی پینا اپنی جوانمردی کے خلاف سمجھتے تھے۔ البتہ نقل معروف جو افواہ ے لئے فرات روانہ کیا تھا لیکن میں نے جو کچھ خود ارشاد شیخ مفید اور سید ابن طاؤس کی کتاب “اللہوف جیسی معتبر کتب میں دیکھا ہے وہ اس روایت سے کسی حد تک مختلف ہے اور اس سے اس واقعے کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ان معتبر کتب میں منقول ہے کہ ان آخری لمحات اور لحظات میں ان بچوں اور چھوٹی بچیوں اور اہل حرم پر پیاس کا دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ امام حسین اور حضرت ابوالفضل علیہما السلام دونوں ساتھ پانی لانے کے لئے چلے گئے۔ ابوالفضل اکیلے نہيں گئے؛ حضرت امام حسین (ع) بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور اسی شریعۂ فرات کی طرف چلے گئے جو کہ فرات کا ایک حصہ تھا؛ اس امید سے کہ وہاں سے پانی اٹھا کر لائیں گے۔ یہ دو بہادر اور قوی بھائی پیٹھ سے پیٹھ لگا کر میدان جنگ میں لڑے۔ ایک امام حسین علیہ السلام تھے جن کی عمر اس وقت ساٹھ برس کے قریب تھی لیکن طاقت اور شجاعت کے لحاظ سے بےمثل نام آوروں میں شمار ہوتے تھے اور دوسرے حضرت عباس علیہ السلام تھے جن کی عمر 30 برس سے کچھ اوپر تھی اور انہیں اپنی منفرد خصوصیات سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ دو بھائی کندھے سے کندھا ملا کر اور پیٹھ سے پیٹھ لگا کر دشمن کے بحر متلاطم میں صفیں کاٹ کاٹ رہے تھے تا کہ فرات کے کنارے تک پہنچ سکیں تا کہ شاید پانی لا سکیں۔ اسی اثناء میں امام حسین علیہ السلام نے محسوس کیا کہ دشمن نے آپ کے اور آپ بھائی عباس کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔ اسی حال میں ابوالفضل پانی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
جیسا کہ نقل ہوا ہے حضرت عباس خیام میں پہنچانے کے لئے مشک میں پانی بھردیتے ہیں۔ یہاں ہر انسان اپنے لئے اس حق کا قائل ہوجاتا ہے کہ ایک چلو پانی اپنے خشکیدہ ہونٹوں تک بھی پہنچا دے؛ لیکن عباس نے یہاں بھی اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کیا۔ ابوالفضل العباس نے پانی اٹھالیا اور جب ان کی نظر پانی پر پڑی تو “فذکر عطش الحسین” عباس کو امام حسین کے سوکھے ہونٹ یاد آئے؛ شاید انہیں بچیوں اور بچوں کی العطش کی صدائیں یاد آئیں، شاید پیاس کی شدت سے علی اصغر کے صدائے گریہ یاد آئی اور انھوں نے پانی پینا پسند نہیں کیا اور پانی پھینک کر دریا سے باہر نکل آئے۔ پانی سے باہر نکلتے وقت وہ حوادث پیش آتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام اچانک بھائی کی صدا سنتے ہیں دشمن کے لشکر کے بیچ سے، جب عباس نے پکارا “يا اخا ادرك اخاك” بھائی جان اپنے بھائی کو پا لینا۔۔۔
نماز جمعہ 14 فروری 2000 یوم تاسوعا محرم الحرام 1421 ہجری۔
صحافیوں کی شہادت، بزدلانہ اقدام
اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے المنارٹی وی چینل کے تین صحافیوں کی شہادت کے بزدلانہ اقدام کی مذمت کی ۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے آج ، المنار ٹی وی چینل کے تین صحافیوں کو شام کے شہر معلولا میں، تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس بربریت نے ایک بار پھر ، تشدد اور انتہاپسندی سے پیدا ہونے والے ٹھوس خطرات کو نمایاں کردیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ ایران نے ، تشدد اور انتہاپسندی سے عاری دنیا پر مبنی اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کے منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے افراد کا قتل ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام ملکوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو ضروری بنا دیتا ہے ۔ المنار چینل نے اعلان کیا ہے کہ شہید حمزہ الحاج حسن کی نماز جنازہ آج بعلبک ميں ، مزاحمت کے حامیوں اور لبنان کے عوام کی ایک بڑی تعداد کی شرکت سے انجام پائے گي جبکہ حلیم علوہ کو کل شمال مشرقی لبنان کے شہر ھرمل ميں دفن کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ تکفیری دہشتگردوں نے شام کے مغربی شہر معلولا میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ چینل کے تین صحافیوں کو گولی مارکر شہید کر دیا جبکہ دو زخمی بھی ہوئے ہيں ۔ المنار ٹی وی کا یہ گروپ ، مسلح عناصر کے قبضے سے معلولا کے علاقے کو ، شامی فوج کے توسط سے آزاد کرانے کی کارروائی کی کوریج کررہا تھا کہ چند مسلح عناصر نے انہیں گولی مارکر شہید کردیا ۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اخلاق و کردار
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی صفات کا واضح نمونہ تھیں جو دو سخا ، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ آپ اپنے شوہرنامدار حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کو سوں دور تھیں ۔ آپ نےشادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضیٰ علیہ السلام کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گذارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت ،گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گذرتا تھا ۔ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجودکے ذرات میں گھل مل چکا تھا ۔
حضرت فاطمہ زھرا زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الہی کو سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔آپ نے جو کچھ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا ۔ آپ اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے شوہر کے حق کا دفاع کرتی تھیں ۔لہذا آج کی خواتین کو بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے درس لے کر اپنی زندگی کو کامیاب وکامران بنانا چائیے ۔
ایران میں ٹارگٹ کلنگ سے 17 ہزار افراد شھید
اسلامی جمہوریہ ایران میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 17 ہزار افراد شھید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی شہید فاؤنڈیشن میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے کے معاون حجۃ الاسلام والمسلمین "سید حبیب اللہ حسنی" نے ایران کے مشرقی صوبے خراسان جنوبی کے گورنر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل ہونے والوں 17 ہزار شہداء کے باوجود، افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ دنیا کے بعض ممالک، غیر منصفانہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران پر دھشتگردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ حجۃ الاسلام والمسلمین "سید حبیب اللہ حسنی" نے مزید کہا کہ ایران کے مومن و غیور عوام اور شہداء کے اہل خانہ ، اسلامی جمہوری نظام سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں اور وہ اپنا سب کچھ اسلامی انقلاب پر قربان کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ ایران کی شہید فاؤنڈیشن میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے کے معاون نے مزید کہا کہ ملت ایران نے گذشتہ تین دہائیوں میں اسلامی نظام کے خلاف دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔
آیت الله حسینی بوشهری: حوزات علمیہ اور مساجد پر خصوصی توجہ رہے
حوزات علمیہ ایران کے سربراہ آیت الله سید هاشم حسینی بوشهری نے صوبہ قم کی سپریم کونسل کے اراکین سے ملاقات میں اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ غدیر اور عاشور، انقلاب اسلامی ایران بنیادیں ہیں کہا: انقلاب اسلامی ایران نے دنیا کو عظیم سبق دیا ہے ، اور اسلامی جمھوریہ ایران کی جانب سے کون سا آئڈیل پیش کیا جارہا ہے یہ دنیا کے لئے اہمیت کا حامل ہے ۔
انہوں نے مذھبی حکومت کے ادارہ کرنے میں ائمہ اطهار(ع) کے طرز عمل کی جانب اشارہ کیا اور کہا: حضرت زهرا(س) نے اس سلسلہ میں فرمایا کہ اگر حضرت علی(ع) کو حکومت کا موقع دیا گیا ہوتا تو لوگ چین و سکون اورعیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ۔
حوزات علمیہ ایران کے سربراہ نے مذھبی حکومت کی ذمہ داریوں اور اس کے وظائف میں آبادانی کی جانب اشارہ کیا اور کہا: حضرت علی(ع) نے مالک اشتر(رہ) کے نام خط میں تحریر کیا کہ اسلام میں آبادانی کو خاص اہمیت حاصل ہے جو انسان کی مادی اور معنوی حیات میں مددگار ہے ۔
مدرسین حوزہ علمیہ قم کونسل کے رکن نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہماری روایات میں دنیا پر بھی توجہ کی گئی ہے کہا: انسان اپنی مادی حیات میں آخرت کے مسائل کو بھی ملحوظ نظر رکھے ۔
حوزات علمیہ ایران کے سربراہ نے حوزات علمیہ اور مساجد پر خصوصی توجہ کی تاکید کرتے ہوئے کہا: ابتدائے اسلام میں مسجدیں مسلمانوں کی مشکلات و مسائل کے حل کا مرکز تھیں اور آج بھی مسجدوں کو انہیں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے آیات و روایات کے آئینہ میں عوام کی مشکلات کے حل کو ثواب و اجر آخرت کا باعث جانا اور کہا: صوبہ قم کی سپریم کونسل کے اراکین ، عوام کی خدمت کے حوالہ سے عطا کردہ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور مکمل اخلاص کے ساتھ لوگوں کی خدمت کریں نیز ثقافت اهل بیت(ع) کی ترویج میں کوشاں رہیں ۔
آذربائیجان کی دفاعی ضروریات پوری کریں گے
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے جمہوریہ آذربائیجان کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تھران کی جانب سے آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت دفاع کے پریس نوٹ کے مطابق ایران کے وزیر دفاع جنرل "حسین دھقان" نے تھران میں جمہوریہ آذربائيجان کے وزیر دفاع "ذاکر حسن اف" کے ساتھ ملاقات میں ایران و جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان دیرینہ تعلقات اور مشترکہ دینی و ثقافتی اقدار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم علاقائی و بین الاقوامی مسائل میں دونوں ملکوں کے مشترکہ مواقف اہمیت کے حامل ہیں۔ ایران کے وزیر دفاع نے ایران و آذربائیجان کی سرحدوں کو دوستی و بھائی چارے کی سرحدیں قرار دیا اور تاکید کی کہ دونوں ملکوں میں تعمیری صلاح مشورے اور باہمی رابطے، اس امر کا باعث بنیں گے کہ دونوں ملکوں کی سرحدوں میں مکمل امن و امان اور سیکیورٹی کی برقراری قائم ہو۔ آذربائیجان کے وزیر دفاع نے بھی اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران علاقے کا ایک بڑا ملک ہے اور جمہوریہ آذربائیجان ، تھران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔ "ذاکرحسن اف" نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران کی پرامن جوہری سرگرمیوں کی حمایت کرتا ہے۔
حجر ابن عدی
مرج العذراء کی سرزمین وہ علاقہ ہے جسے خلیفہ دوم جناب عمر ابن خطاب کے زمانے میں " حجر ابن عدی " نے فتح کیا تھا اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی اور آج بھی اس سرزمین پر ان کی بے شمار یادگاریں موجود ہیں۔ جب حکومت کے اہلکار ان کا ہاتھ باندھ کر اس سرزمین پر لائے تو انہوں نے کہا : میں سب سے پہلا مسلمان تھا جس نے اس علاقے میں تکبیر کہی تھی اور خدا کو یاد کیا تھا اور اس وقت یہ لوگ مجھے یہاں قید کرکے لائے ہیں ۔
حجر ابن عدی کا سب سے بڑا جرم ان کا محب امام اور خليفه وقت حضرت علی (ع) ہونا تھا۔اسی لۓ اس نے ایک گروہ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ موجودہ شام کے علاقے مرج العذراء جائیں اور حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردیں۔ جب وه سپاہیوں نے انہیں گرفتار کیا تو ان سے کہا : اگر تم لوگ علی سے اظہار برات اور دوری اختیار کرو اور ان کی شان میں گستاخی کرو تو ہم تمہیں آزاد کردیں گے اوراگر ایسا نہیں کروگے تو تمہیں قتل کردیں گے حجرابن عدی اور ان کےساتھیوں نے کہا : تیز تلوار کےمقابلے میں صبر ورضا پر ایمان ہمارے لئے اس چیز سے بہت ہی آسان ہے جس کے بارے میں تم ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو۔ خدا و رسول اور حضرت امام علی علیہ السلام کے دیدار پر ایمان، دوزخ میں داخل ہونے سے زیادہ محبوب تر ہے ۔اس وقت حجر ابن عدی نے کہا : کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا اے حجر تم علی کی محبت میں ظلم و بربریت سے قتل کئے جاؤگے اور جب تمہارا خون زمین پر گرے گا تو اس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہوگا جو تمہارے سر کے زخموں کو دھو دے گا ۔
اور پھر یکے بعد دیگرے حجر ابن عدی کے باوفا ساتھی اپنے خون میں غلطاں ہوئے اور انہوں نے شہادت کا جام پی کر اپنی پاکیزہ زندگی کے نقوش کو تاریخ کے دامن میں ہمیشہ کے لئے ثبت کردیا اور آخر میں حضرت حجر بھی شہید ہوگئے ۔
پیغمبر اسلام (ص) کے عظیم صحابی حجر ابن عدی جوانی کے دور ہی سے شجاعت و بہادری جیسی صفت سے مزین تھے اور جس دن سے وہ اسلام لائےتھے اسی دن سے مشرکوں اور کافروں سے بر سر پیکار تھے آپ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے دوران فتح شام ، سرزمین مدائن اوراسلام کی اہم جنگوں میں بڑی شجاعت ودلیری کے ساتھ اسلام کا دفاع کرتے رہے اور مرج العذراء علاقے کے وہ سب سے پہلے مسلمان شہید تھے جنہوں نے مصلی شہادت پر پہنچنے کے باوجود دورکعت نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تاکہ عظمت پرودگار کے حضور میں راز ونیاز کرکے اپنی روح کو بالیدگی بخشیں ۔چنانچہ آپ نے مصلی شہادت پر دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت طلب کی ۔ دشمنوں کی نظرمیں ان کی نماز طولانی ہونے لگی تو انہوں نےکہا : تم نے نماز کو بہت طول دیدیا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ موت سے ڈر گئے ؟ حضرت حجر نے نہایت دلیری سے کہا یقین کرو کہ میری زندگی کی یہ سب سے کم وقت میں پڑھی جانے والی نماز تھی جو میں نے ابھی پڑھی ہے بالآخر حجر ابن عدی شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے اور جہاد کے سنگین بوجھ کو سرحد شہادت یعنی آخری منزل تک پہنچادیا۔
حجر ابن عدی کو شہید کرنے کے بعد امیر شام کو بہت سی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اور جب حج کے ارادے سے مدینہ گئے تو ام المومنین عائشہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن جناب عائشہ نے دو دلیلوں کی بنیاد پر ملنے سے انکار کردیا پہلے یہ کہ انہوں نے ان کے بھائی محمد ابن ابو بکر کو کیوں شہید کیا دوسرے یہ کہ اس نے حجر ابن عدی کو کیوں شہید کیا ۔امیر شام نے حضرت عائشہ سے معافی مانگی لیکن انہوں نے ملاقات کی اجازت نہ دی مگر جب اصرار زيادہ بڑھا تو جناب عائشہ نے ملاقات کی اجازت دے دی اور پھر پیغمبر اسلام (ص) کی یہ حدیث پڑھ کر اسے سنائی کہ پیغمبر (ص) نے فرمایاتھا کہ " سرزمین مرج العذراء پر ایک گروہ قتل ہوگا جن کے قتل سے پروردگار عالم اور اہل آسمان بہت زيادہ غضبناک ہوں گے " کہتے ہیں کہ امیر شام زندگی کے آخری لمحے تک اس دلخراش منظر کو یاد کرتا رہا اور حجر ابن عدی کے قتل پر اظہار پشیمانی کرتارہا ۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
