Super User

Super User

مسجد طور سینا ایتوپی میں پائی جانے والی ایک تاریخی مسجد ہے جس کی مخصوص ساخت آنے والوں کو اپنی طرف جلب کرتی ہے۔

مسجد طور سینا ایتوپی کی مشہورترین مسجدوں میں سے ایک ہے جو ایتوپی کے شہر (ولو) میں واقع ہے۔

مسجد طور سینا لکڑی سے بنائی گئی ہے جو 250 میٹر زمین کو احاطہ کیا ہوا ہے۔ اس مسجد کے  40 لکڑیوں کے ستون ہیں۔

اسی طرح مسجد کے اطراف سر سبز و شاداب ہونے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔

مسجد طور سینا کہ جو ایتوپی کے آثار قدیمہ کی لسٹ میں شامل ہے، اپنے مخصوص ساخت و ساز کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

ایتوپی کے مسلمان قرآن کی تعلیمات حاصل کرنے میں پوری دنیا میں مشہور ہیں ان کی ہر ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہِ تعلیم قرآن ضرور موجود ہوتا ہے۔ مسجد طور سینا بھی ایک عبادتگاہ ہونے کے ساتھ تعلیم قرآن کا بہترین درسگاہ بھی ہے۔

اس مسجد میں 430 طلباء قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

مسجد طور سینا سن 1943ء میں بنائی گئی۔

اس مسجد کی خصوصیات میں سے ایک ییہ ہے کہ یہ بہت ہی سادی ہے اور کسی قسم کی تزئین و آرایش نہیں ہے۔

آس پاس کے مسلمانوں کو اس مسجد سے خاص لگاو ہے۔

ایتوپی کہ جو پہلے حبشہ کے نام سے مشہور تھا مسلمانوں کا مرکز رہا ہے اور یہ سر زمین بہت سارے بزرگ صحابی رسول اکرم (ص) کا پناہ گاہ رہا ہے اور اس سرزمین کا پہلا بادشاہ کہ جس نے اسلام قبول کیا تھا نجاشی ہے آج بھی نجاشی کا مزار اس سرزمین کے مسلمانوں کی زیارگاہ ہے۔ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے اکثر کا تعلق شافعی مذھب سے ہے اور محب اھل بیت (ع) ہیں اور صوم و صلاۃ کا پابند ہیں۔

حضرت یوشع نبی(ع) کا مرقد اسلامی جمہوریہ ایران کے شھر اصفہان کے تاریخی مقام تخت فولاد کے شمال تکیہ شہداء میں واقع ہے۔

وہ ایریا کہ جس میں حضرت یوشع(ع) مدفون ہیں اسے "لسان الارض" کہا جاتاہے۔

 

حضرت یوشع نبی (ع) کی قبر مبارک سطح زمین سے تھوڑٰی بلند ہے اور اس کے اوپر سبز رنگ کا کپڑا بچھایا ہوا ہے جو کہ آج بھی دنیا بھر کے بہت سارے زائرین کی توجھ کا مرکز ہے۔

حضرت یوشع قوم بنی اسرائیل کے پیامبروں میں سے ایک پیامبر ہے جو حضرت موسی کی وفات کے تین دن بعد خود حضرت موسی کی وصیت پر عمل کرتے ہوے قوم بنی اسرائیل کی رھبریت کے منصب پر فائز ہوے۔

بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضرت یوشع بنی بھی ان افراد میں سے ہے کہ جسے کوروش (کہ جو ھخامنشی دور حکومت کا بانی اور پہلا بادشاہ تھا) کے زریعے بختنصر(کہ جو بنی اسرائیل کے اوپر خدا کی طرف سے عذاب کی صورت میں آیا تھا اور بہت ہی بے رحم اور ظالم تھا) کے ہاتھوں سے آزاد کیا اور بعد میں ایران کی طرف ھجرت کی۔

 

یہاں پر یہ بات بھی بیان کرنا مناسب ہے کہ حضرت یوشع کے نام سے دو اور مقام بھی تاریخدانوں نے بیان کیا ہے ان میں سے ایک مقام حضرت یوشع کے نام سے لبنان کے شمال میں المینہ الضنیہ نام کے کسی شھر کے ایک پرانے غار میں واقع ہے۔

 

اور دوسرا مقام اردن کے شھر اُمان کے نزدیک حضرت یوشع نبی کے نام سے ایک مقام موجود ہے۔

امام خمینیؒ فنا فی اللہ اور فنا فی الاسلام کی منزل پر فائز تھے۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پراسلامی جمہوریہ ایران اوردنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی برسی کی مناسبت سے تعزیتی پروگراموں کا سلسہ جاری ہے اسی سلسلے میں کل مجلس وحدت مسلمین سندھ کے  زیر اہتمام جیکب آباد میں ایک تک‌یتی جلسہ منغ منعقد ہوا جس سے مختلف شخصیات نے خطاب کیا ۔

 مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے جیکب آباد مرکزی امام بارگاہ میں رہبر کبیرانقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی 28ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ فنا فی اللہ اور فنا فی الاسلام کی منزل پر فائز تھے، اسی لئے عظیم انقلابی رہنماء آیۃ اللہ باقر الصدر ؒ نے فرمایا تھا کہ امام خمینی ؒ کی ذات میں اس طرح ضم ہوجاؤ جیسے وہ اسلام میں ضم ہوچکے ہیں۔ یعنی اپنی انا اور ذات مٹا کراس نے خود کو دین خدا میں فنا کر دیا ہے۔ آپ نے ایرانی قوم کو شاہ کی طاغوتی حکومت جبکہ اقوام عالم کو شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف قیام کا درس دیا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینی(رح) نے عصر حاضر کی انسانیت کو خواب غفلت سے بیدارکیا اور انہیں شیطان بزرگ اور طاغوت کے مقابل کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا، جمہوری اسلامی امام خمینی ؒ کا وہ عظیم شاہکار ہے جو عوام کی طاقت سے جمہوری اصولوں پر مبنی الٰہی نظام ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مغربی جمہوریت اقوام عالم کے لئے ایک سراب ہے، کیونکہ یہ مغربی جمہوریت ہی ہے جس نے انسانیت کو بش، اوباما اور ٹرمپ جیسے افراد تحفے میں دیئے ہیں۔ یہی نظام اقوام عالم کی بربادی اور تباہی کا ذمہ دار ہے۔

مغربی جمہوریت کے پاس انسانیت کے کسی درد کی دوا نہیں۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ قرآن و سنت اور سیرت آئمہ طاہرینؑ پر مبنی وہ پاکیزہ نظام ہے جو عصر حاضر کی پریشان انسانیت کو عزت، عظمت اور سربلندی عطا کرسکتا ہے۔ عالم انسانیت کا مستقبل اور دنیا کا بہترین نظام حکومت اسلامی جمہوری نظام ہی ہے۔