روسی صدر پوتن کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

Rate this item
(0 votes)
روسی صدر پوتن کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ شام میں ایران اور روس کے درمیان تعاون کے اچھے تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ مشترکہ اہداف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے  تہران میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی-

رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں شام میں ایران اور روس کے مابین تعاون کے بےحد اچھے تجربات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تعاون کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ تہران اور ماسکو مشکل مواقع اور میدانوں میں اپنے مشترکہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں-

رہبر انقلاب اسلامی نے روسی صدر سے ملاقات میں غیر ملکی حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کے مقابلے میں تہران اور ماسکو کی مشترکہ استقامت کو اہم نتائج کا حامل قرار دیا اور فرمایا کہ شام میں دہشت گردوں کے حامی امریکی اتحاد کی شکست ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی ممالک بدستور سازشوں میں مصروف ہیں اس لئے شام کے مسئلے کے مکمل حل کے لئے مستحکم تعاون کا جاری رہنا ضروری ہے-

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق شامی عوام کو ہی حاصل ہے اور شام کی آئندہ حکومت کے بارے میں مسائل کا حل خود شام کے اندر ہی تلاش کیا جانا چاہئے-

آپ نے فرمایا کہ شامی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ کسی بھی منصوبے پر عمل کرنے کے لئے کسی کے دباؤ میں نہ آئے اور شام کے مسائل کے حل کے لئے جو بھی فارمولے تیار کئے جائیں وہ وسیع البنیاد ہوں- آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ بعض ملکوں  میں سعودی حکمرانوں کی خونریز مداخلت منجملہ یمن میں آل سعود کی روزانہ کی جارحیت اور جرائم سے سعودی عرب  گہرے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے-

آپ نے فرمایا کہ سعودی حکام یمن کے مظلوم عوام تک جو مہلک اور وبائی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں دوائیں بھی نہیں پہنچنے دے رہے ہیں- رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاہدے اور چند جانبہ معاہدوں کی رعایت کی ضرورت پر روسی صدر پوتن کے بیان کو سراہا اور فرمایا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی حکام اپنی سرکشی جاری رکھے ہوئے ہیں جن کا عقل و منطق اور صحیح راستوں سے استفادہ کرکے جواب دیا جانا چاہئے-

روسی صدر پوتن نے بھی اس ملاقات میں اپنے دورہ تہران اور رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو ایک اسٹریٹیجک شریک اور بڑا ہمسایہ ملک سمجھتے ہیں اور سبھی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے اور مستحکم بنانے کے ہرموقع اور راستے سے استفادہ کریں گے-

روسی صدر نے شام میں مشترکہ اہداف کی تکمیل اور رسائی کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کے موقف کو انتہائی موثر اور دانشمندانہ بتایا اور کہا کہ کسی بھی ملک منجملہ شام میں کوئی بھی سیاسی تبدیلی خود اس ملک کے اندر سے ہی ہونی چاہئے-

روسی صدر نے ایٹمی معاہدے کے لئے ماسکو کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو آئی اے ای اے کے بنیادی اصول اور موقف میں تبدیلی کو ایک غلط کام سمجھتا ہے اور ایران کے ایٹمی معاملے کو دیگر مسائل منجملہ دفاعی معاملات سے جوڑے جانے کے خلاف ہے-

 

Read 19 times

Add comment


Security code
Refresh