قائد انقلاب اسلامی: پیغمبراکرم(ص) کی استقامت کی برکت سےاسلام دنیا کی پہلی طاقت بنا

Rate this item
(0 votes)
قائد انقلاب اسلامی: پیغمبراکرم(ص) کی استقامت کی برکت سےاسلام دنیا کی پہلی طاقت بنا

رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی کے بیانات پرمشتمل کتاب ( انسان 250 سالہ) میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی اورجہادی طرززندگی کے بارے میں آیا ہے:

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اہم کام، حق وحقیقت کی طرف دعوت اورپھراس دعوت کی راہ میں جہاد تھا۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ولسم اپنے زمانے کی تاریک دنیا کے مقابلے میں تشویش اورپریشانی سے دوچارنہیں ہوئے تھے۔ آپ مکہ میں اپنی تنہائی اورپھرمدینہ میں اپنے اصحاب کے درمیان بھی خوفزدہ نہیں ہوئے تھے بلکہ آپ نے اپنی بات پہنچاکراسے واضح اورروشن کیا تھا۔ اہانتوں کو برداشت کیا اورزحمتیں اورمشکلات برداشت کرکے اکثرلوگوں کو مسلمان بنا لیا تھا۔

اورجب آپ نے اسلامی حکومت کو تشکیل دیا اورخود حکومت اورطاقت کےمالک بن گئےتو اس وقت بھی آپ نےاسلام کی دعوت کا مقابلہ کرنے والے تمام گروہوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اوردنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو خطوط لکھ کرانہیں اپنا پیغام دیا۔ سختیاں برداشت کیں، معاشی دباو تحمل کیے اور بعض اوقات کئی کئی دن تک کھانا نہیں ملتا تھا اورچاروں طرف سےخطرات کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن آپ کے پاوں میں ذرا برابرلغزش نہیں آئی بلکہ طاقت وقدرت کےساتھ اسلامی معاشرے کو ترقی کی راہ پرگامزن کرکےاسے طاقت اورعزت کےمقام پرلاکھڑا کیا۔ بنابریں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استقامت اورپائیداری کی برکت سے بعد کے سالوں میں یہی معاشرہ اورنظام دنیا کی پہلی طاقت میں تبدیل ہوگیا تھا۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےایک مشہوراورمتواترحدیث میں فرمایا تھا: «بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ» آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد انسان کےاخلاقی اورروحانی فضائل کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا اورجب تک انسان خود اعلیٰ مکارم اخلاق کا مالک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یہ عظیم اورسنگین مشن نہیں سونپےگا۔ یہی وجہ ہےکہ بعثت کے اوائل میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: «وَ اِنَّکَ لَعَلَی‌ خُلُقٍ عَظیم»

 

Read 13 times

Add comment


Security code
Refresh