امریکی زوال کے 7 امریکی گواہ

Rate this item
(0 votes)
امریکی زوال کے 7 امریکی گواہ

امریکہ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی بلا منازع بڑی طاقت کہلواتا تھا اس وقت رو بزوال ہے۔ بہت سارے مفکرین اور دانشور اس حقیقت پر یقین کامل رکھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے دلائل کے سہارے امریکی زوال کی گواہی دیتا ہے۔

حالیہ برسوں میں امریکی طاقت کے زوال اور یک قطبی عالمی نظام کے چند کثیر قطبی عالمی نظام میں بدلنے کے سلسلے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ ذرائع ابلاغ میں جاری رہا ہے اور ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ موضوع کس حد تک سنجیدہ ہے اور جو لوگ امریکی زوال کی بات کرتے ہیں ان کے ہاں اس کی نشانیاں اور معیارات کیا ہیں؟

اس رپورٹ میں سات ایسے مفکرین کی آراء و نظریات کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے جو عرصے سے اس زوال کی پیش گوئی کرتے آئے ہیں۔

اس رپورٹ کی تمہید میں امریکی قیادت میں یک قطبی عالمی نظام کے آغاز پر روشنی ڈالیں گے۔

دیمک جیسا زوال

سوویت اتحاد (کمیونسٹ روس) وقت کے امریکی صدر جارج ہربرٹ واکر بش (بش سینئر) کے برسر اقتدار آنے کے دو سال بعد سنہ 1991ع‍ میں زوال پذیر ہوا۔ بش کے علاوہ بھی کئی لوگ اس وقت دوسری عالمی جنگ کے ترکے کے طور پر بنے دو قطبی عالمی نظام کے خاتمے کے گن گارہے تھے۔ بش تزویری امور کے ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں ایک دوسرے کو امریکی بالادستی کے دور اور امریکی صدی کے آغاز کی خوشخبریاں سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ "اس کے بعد دنیا پر امریکی طرز حیات، اقدار اور ثقافت کی حکمرانی ہوگی۔

بل کلنٹن کا نعرہ بھی بش سینئر سے ملتا جلتا تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ اب جو امریکہ کہے گا دنیا میں وہی ہوگا اور یہ کہ دنیا میں اقدار کا تعین امریکہ کرے گا اور جب ان کا دور گذرا اور بش جونیئر کا دور آیا تو انھوں نے باپ کی روش کو اپنے انداز سے جاری رکھا۔ انھوں نے اپنا منصوبہ فرانسس فوکویاما کے نظریئے "تاریخ کا خاتمہ" (1) اور سیموئل ہنٹنگٹن (2) کے نظریئے "تہذیبوں کا تصادم" (3) پر استوار کیا۔ بش جونیئر نے سوویت اتحاد کے بعد ایک منظم دہشت گردی کو امریکہ کے نئے دشمن کے طور پر متعارف کروایا اور افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوئے۔

ان مسائل کے بعد ہی امریکی بالادستی کے زوال کی پہلی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ مشہور امریکی مفکر اور نظریہ پرداز نوآم چامسکی نے اسی زمانے میں کہا کہ امریکی زوال کا آغاز ہوچکا ہے اور امریکی حکام کا یہ متکبرانہ خیال ـ کہ امریکہ ہی بلا مقابلہ طاقت ہے ـ ایک خوش خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

امریکی پروفیسر اور کیٹو (4) نامی تھنک ٹینک کے سینئر رکن ٹیڈ گیلن کارپینٹر (5) نے امریکہ کے تدریجی زوال کے لئے "دیمک جیسا زوال" (6) کی اصطلاح سے استفادہ کیا جسے بعد میں کرسٹوفر لین (7) نے اپنے مضمون میں استعمال کیا۔

سنہ 2016ع‍ ڈونلڈ ٹرمپ بر برسراقتدار آئے تو امریکی طاقت اور امریکی سپنے کے زوال کے بارے میں متعدد دوسرے تجزیہ نگاروں نے بھی اظہار خیال کیا۔ ٹرمپ نے 2016 میں پہلی سطح کے امریکی سیاستدان کے طور پر امریکی طاقت کے کی نشانیاں ناپید ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "امریکہ باعظمت نہیں رہا" اور انھوں نے اس نعرے کو اپنی صدارتی انتخابی مہم کا نعرہ قرار دیا کہ "آیئے امریکہ کو ایک بار پھر باعظمت بنائیں"۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی سلامتی کی تزویری دستاویز (سنہ 2017ع‍) میں ـ پہلی بار، "مسلسل جنگ جوئیوں" اور "رقیبوں سے پیچھے رہنے" کے بموجب ـ امریکی طاقت کے تدریجی زوال کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور اس سلسلے کا سدباب کرنے یا اسے مؤخر کرنے کو اپنے منصوبوں کا محور قرار دیا۔ مشہور امریکی سیاستدان ہنری کیسنجر نے بھی کہا ہے کہ "میرے خیال میں شاید ٹرمپ ان ہی تاریخی کرداروں میں سے ایک ہے جو کبھی ایک دور کے خاتمے کا اعلان کرنے کے لئے ابھرتے ہیں"۔

ٹرمپ اور امریکی طاقت کے زوال کے باہمی تعلق کے بارے میں تجزیہ نگاروں کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ زوال کا سلسلہ عرصہ پہلے شروع ہوچکا تھا اور عوام نے ٹرمپ کے اس نعرے کو ووٹ دیا کہ "ایک بار پھر امریکہ کو باعظمت بنائیں"، جو اس حقیقت کا ضمنی اور سماجی اعتراف ہے کہ "امریکہ پسماندگی کا شکار ہوچکا ہے"۔ ان لوگوں کے خیال میں ٹرمپ اس زوال کا سبب نہیں بلکہ اس کی علامت ہیں۔

بعض دوسروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ سے پہلے زوال کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور ٹرمپ ہی نے  بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدہ ہوکر اور دیرینہ اتحادیوں کو دور کرکے دنیا میں امریکہ کے قائدانہ کردار اور اثر و رسوخ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں ٹرمپ امریکی زوال کا سبب ہیں۔

تجزیہ نگاروں کی ایک تیسری جماعت بھی ہے جنہوں نے درمیانی موقف اپنایا ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکی طاقت کے زوال کا ایک تدریجی اور سست رو سلسلہ پہلے سے موجود تھا لیکن ٹرمپ نے امریکہ کے اسی رخ کو آشکار کردیا جس نے اس سلسلے کا آغاز کیا تھا اور یوں انھوں نے اس سلسلے کی رفتار کو تیزتر کردیا۔

بہرحال تینوں مبصرین کے تینوں گروہوں کا مشترکہ خی

ال ہے کہ امریکی طاقت اور بالادستی کا زوال اس سے کہیں زيادہ نمایاں ہے کہ اس کا انکار کیا جاسکے۔

ذیل میں ہم ان مفکرین اور نظریہ پردازوں کا تعارف کروانے کی کوشش کی ہے جو مختلف نشانیوں اور علائم کی رو سے امریکی طاقت کے زوال کی پیشگوئی کر چکے ہیں۔

ذیل میں ہم ان مفکرین اور نظریہ پردازوں کا تعارف کروانے کی کوشش کی ہے جو مختلف نشانیوں اور علائم کی رو سے امریکی طاقت کے زوال کی پیشگوئی کر چکے ہیں۔

1-نوام چامسکی (8)

چامسکی، نظریہ ‌پرداز، مفکر اور سیاسی مبصر ہیں جنہوں نے متعدد مقالات اور مضامین امریکہ کے زوال کے بارے میں تحریر کئے ہیں۔ وہ "فرید زکریا" سمیت دوسرے مبصرین کی مانند سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے زوال کا باعث خود امریکہ ہی ہے۔

چامسکی کہتے ہیں کہ امریکہ ـ اگرچہ ایک جمہوریت ہے ـ لیکن یہ "سرمایہ داروں کا ملک" بن چکا ہے۔ وہ جو "امریکہ کے سیاسی دھارے میں کالے دھن (9) کے کردار" محقق اور ناقد ہیں، تفصیل کے ساتھ سیاستدانوں کو کمپنیوں اور نجی مالیاتی اداروں کے مفادات کا تابع بنانے میں امیر لابیوں کے کردار کے بارے میں متعدد مضامین تحریر کرچکے ہیں۔

چامسکی سرمایہ دارانہ نظام کے ناقدیں میں سے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جو کچھ آج "سرمایہ داری" کہلاتی ہے، در حقیقت کمپنیوں کی سوداگری کا دوسرا نام ہے اور یہ سوداگری وسیع البنیاد مطلق العنانیت پر استوار اور نہایت غیر جوابدہ ہے جو ملکی معیشت، سیاسی نظامات اور ثقافتی و سماجی حیات پر مسلط ہے۔  اور طاقتور حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتی ہے یہ سوداگری اندرونی معیشت اور بین الاقوامی برادری میں وسیع مداخلت کرتی ہے۔

چامسکی کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 80 فیصد عوام اپنے معاشی نظامی کو "ذاتا غیر منصفانہ" اور سیاسی نظآم کو دھوکہ باز سمجھتے ہیں جو "خاص مفادات" کا تحفظ کرتا ہے اور عوامی مفاد کو اہمیت نہیں دیتا۔ عوام کی اچھی خاصی اکثریت کا خیال ہے امریکی معاملات میں مزدوروں کی صدا نہیں سنی جاتی (یہی صورت حال برطانیہ کی بھی ہے)۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت محتاج عوام کو امداد رسانی کی ذمہ دار ہے، اور یہ کہ صحت اور تعلیم کے اخراجات کی تکمیل ٹیکس حذف کرنے اور بجٹ کو کم کرنے پر مقدم ہے، اور یہ کہ آج ریپبلکنز جو قوانین کانگریس سے بڑی آسانی سے منظور کروا رہے ہیں وہ سب امیروں کے مفاد اور عام لوگوں کے نقصان میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ جو دانشور کہلواتے ہیں شاید وہ کوئی دوسری داستان سرائی کرنا چاہیں لیکن حقائق تک پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

نوآم چامسکی اعلانیہ طور پر جدید عالمی نظام اور آج کی دنیا میں طاقت کے قواعد پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نظام اور اس کے قواعد سے سے حاصل ہونے والے نتائج دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ تفکرات کی ترویج کے مفاد میں ہیں اور جدید عالمی نظام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظام منافقت اور نسل پرستی پر استوار ہے۔ چامشسکی عراق کے سابق آمر صدام کو اسی نظام کا ثمرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی رائے کے مطابق جدید عالمی نظام میں حقائق کی تشریح صاحبان اقتدار کے مفاد میں ہوتی ہے؛ جیسا کہ کردوں پر صدام کے حملے کی خبروں کو وسیع سطح پر شائع کیا گیا یہاں تک کہ واشنگٹن نے بےگناہوں کے تحفظ کے بہانے اپنے مفادات کے حصول کے لئے قدم اٹھایا جبکہ اسی صدام نے شیعیان عراق پر کردوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک حملے کئے تھے لیکن نہ تو ان حملوں کی کوئی رپورٹ کہیں شائع ہوئی اور نہ ہی کوئی فکرمند ہوا!

 
2۔ جیمز پیٹراس (10)

برمنینگھم یونیورسٹی کے استاد اور فیکلٹی رکن جیمز پیٹراس ـ جو سینکڑوں مضامین اور درجنوں کتب کے مصنف ہیں ـ کی تحقیقات کا ایک موضوع "امریکی خارجہ پالیسی میں یہودی لابی کا کردار" ہے اور وہ اس لابی کی طرف سے ٹھونسی ہوئی پالیسیوں کو امریکہ کے زوال و انحطاط کا سبب گردانتے ہیں۔

پیٹراس نے اپنی کتاب "صہیونیت، عسکریت پسندی اور امریکی طاقت کا زوال" (11) میں خطے میں امریکی عسکریت پسندی میں یہودی لابی کے کردار پر تفصیل کے ساتھ  روشنی ڈالی ہے اور بعدازاں ان عوامل و اسباب پر بحث کی ہے جو دنیا بھر میں امریکی طاقت کے خاتمے کا موجب بنتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد، مغربی یورپ، جاپان، اور حال ہی میں چین اور روس نے اپنی معاشی صلاحیتوں کی بالیدگی کی طرف قدم بڑھائے ہیں اور اسی اثناء میں امریکہ یہودی لابی کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے اور عسکریت پسندی کی طرف مائل رہتا ہے۔

اس مغربی پروفیسر کا کہنا ہے کہ "جو کچھ امریکہ کے لئے نقصان دہ ہے وہ مختصر مدت میں یہودی ریاست (اسرائیل) کے مفاد میں ہے"۔

3۔ فرید زکریا

فرید زکریا ایک سیاسی دانشور اور امریکی نیوز چینل "سی این این" کا اینکرپرسن ہیں جنہوں نے اپنی تحقیقات کا بڑا حصہ امریکی خارجہ پالیسی کو مختص کردیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی زوال و انحطاط کا سبب یہ ہے کہ اس ملک نے دوسری عالمی جنگ کے بعد طاقت سے غلط فائدہ اٹھایا ہے۔

زکریا کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دوستوں کو اپنے آپ سے دور کردیا ہے اور اپنے دشمنوں کو تقویت پہنچائی ہے۔

زکریا کہ کہنا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں نے امریکی بالادستی کے خاتمے میں دوہرا کردار ادا کیا ہے۔ ان حملوں نے ابتداء میں واشنگٹن ک

و آمادہ کیا کہ اپنے وسائل اور افواج کو ـ اس [امریکہ] کے بقول ـ دہشت گردی کے خلاف حرکت دے۔ سنہ 2001ع‍ میں امریکی معیشت اپنے بعد کی پانچ اقتصادی طاقتوں کی مجموعی معیشت سے بڑی تھی، اور اس نے اپنے فوجی اخراجات کو بڑی حد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ دوسرا سبب امریکہ کا عراق پر حملہ تھا جو اس ملک کے لئے ایک نہایت مہنگے المیے میں بدل گیا۔

ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے سے امریکی خارجہ پالیسی کو آخری مہلک اور کاری ضربوں کا نشانہ بننا پڑا ہے اور انھوں نے امریکہ کو "ماورائے بحرالکاہل شراکت داری" (12) جیسے معاہدوں سے نکال کر، یورپ سے دوری اختیار کرکے اور امریکی خارجہ پالیسی کی باگ ڈور سعودی ریاست اور یہودی ریاست کے ہاتھ میں دے کر امریکی بالادستی کے زوال کو عیاں بھی کردیا ہے اور آگے بھی بڑھایا ہے۔

4- ڈیوڈ رینی  (13)

ڈیوڈ رینی ایلینویز  یونیورسٹی (14) کے استاد اور 100 سے زیادہ کتب اور مقالات کے مصنف ہیں۔ وہ اپنی کتاب "جدید عالمی ابتری: امریکی طاقت کا زوال" (15) میں " اقدار کا بحران" (16) نامی مفہوم کو زیر بحث لاتے ہوئے لکھتے ہیں: کہ اس بحران نے 2008ع‍ کے معاشی بحران کے بعد امریکی معاشرے کو آ لیا ہے۔ ان کے بقول اقدار کا بحران سرمایہ داری کی پوری تاریخ میں بھی جاری رہا ہے اور یہ ذاتا سرمایہ داری کا لازمہ ہے۔

رینی نے اپنی ویب گاہ میں اس کتاب میں مندرجہ نظریات کی یوں وضاحت کی ہے: "میں نے جو نتائج اخذ کئے ہیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے 1970ع‍ اور 1980ع‍ کی دہائیوں کا تجربہ وہی ہے جس کو میں "اقدار کا بحران" کہتا ہوں جس کے رد عمل میں پورا سرمایہ داری نظام بنیادی تبدیلیوں سے دوچار ہے اور اس کے نتیجے میں مزدوروں کو اپنے روزگار سے محروم اور اپنی رہائشی سہولتوں سے محروم ہوکر خانہ بدوش ہونا پڑا، اس کے باوجود کہ اسی پالیسی کو نئے سرے سے تیار کرکے جارج بش (سینئر) نے "جدید عالمی نظام" کا نام دیا جبکہ یہ پالیسی جاری رکھنے کے قابل نہ تھی۔ یہ نظام ایک تنکوں کے بنے گھر کے اوپر استوار تھا اور آج وہ تنکوں کا گھر شکست و ریخت کے مرحلے سے گذر رہا ہے۔ ہمیں ایک بار پھر اقدار کے بحران کا سامنا ہے۔ ہم نے اس کتاب میں استدلال کیا ہے کہ اقدار کا موجودہ بحران یا تو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے نفاذ پر منتج ہوگا یا پھر بنیادی تبدیلیوں پر"۔

رینی مزید لکھتے ہیں: "دنیا میں امریکہ کا مسلط کردار 1940ع‍ کے عشرے کے وسط سے قائم تھا اور سرمایہ دارانہ نظام ـ اپنی موجودہ شکل میں ـ مختلف پہلؤوں سے دباؤ کا شکار رہا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہمہ جہت دباؤ آخرکار کامیاب ہوجائے اگرچہ معلوم نہیں ہے کہ کونسی چیز اس کے متبادل کے طور پر سامنے آئے گی۔ حکومت کے اخراجات میں اضافے کی تجاویز بھی کارساز نہيں ہونگی"۔

رینی کہتے ہیں: "جیسا کہ میں نے کہا کہ سنہ ہے کہ سنہ 2008-2009ع‍ سے اقدار کا بحران شروع ہوچکا ہے؛ تو یہ کہنا میرا مقصود نہ تھا کہ جس تجربے سے ہم 2008ع‍ میں گذرے ہیں یہی 1930ع‍ کی دہائی کے اقتصادی بحران کے بعد واحد کسادبازاری تھی؛ جس صورت حال سے ہم آج گذر رہے ہیں یہ اس بحران کی تدریجی بہتری نہیں ہے بلکہ ہم ایک نہایت سنجیدہ بحران کے ابتدائی دنوں میں ہیں۔ اقدار کا بحران سرمایہ دارانہ نظام کی پوری تاریخ میں جاری رہا ہے اور یہ بحران اس نظام کا لازمہ ہے۔
 
5- الفرڈ میک کائے  (17)

وسکانسن میڈیسون یونیورسٹی (18) میں تاریخ کے پروفیسر الفرڈ میک کائے نے مشہور کتاب "ہیروئن کی سیاست: منشیات کے عالمی لین دین میں سی آئی کی شراکت داری" (19) کے مصنف بھی ہیں۔ میک کائے نے امریکی زوال کے بارے میں بےشمار مضامین لکھ لئے ہیں اور ہاں! وہ ان "امریکہ کے بغیر کے عالمی نظام" کا خیر مقدم کرنے والے دانشوروں میں شامل ہیں۔
میک کائے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سی آئی کی فوجی بغاوتوں، ویت نام کی جنگ، عراق اور اور افغانستان پر جارحیت کے بعد عقوبت خانوں کے قیام اور مختلف ممالک میں امریکی ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ امریکی بالادستی کے زوال کے اسباب میں چین کے کردار کو بہت نمایاں سمجھتے ہیں۔

میک کائے کا خیال ہے کہ چین نے امریکی عالمی نظام کے متوازی عالمی نظام کی بنیاد رکھ کر مغرب کے زیر تسلط اداروں اور تنظیموں کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

میک کائے کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (20) "نیٹو" کا متبادل ہے، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (21) آئی ایم ایف کا متبادل اور خطے میں معاشی شراکت کا جامع معاہدہ (22) ماورائے بحرالکاہل شراکت داری نامی معاہدے (23) کا متبادل ہے۔ یہ مماثل ادارے ہیں جنہیں چین نے مغربی اداروں کے متبادل کے طور پر تشکیل دیا ہے۔

990ع‍ کی دہائی میں ـ ایک مختصر مدت کے لئے ـ ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنیوں کے حصص (المعروف بہ Dot-com Bubble) میں حباب کے انداز میں اضافہ کیا گیا اور موجودہ صدی کی ابتدائی دہائی میں رہائش کی قیمت میں حباب سازی ایسی پالیسی تھی جو اگرچہ ابتداء میں کارگر ثابت ہوئی لیکن کچھ عرصہ بعد بحران پر منتج ہوئی اور اس وقت اس سطح کی حباب سازی کے لئے کوئی رغبت نظر نہيں آرہی ہے؛ گوکہ کہ اس وقت شرح سود صفر (0) تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ چونکہ اس صورت حال میں شرح سود میں کمی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مجموعی مانگ میں اضافے کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں اضافے کا بھی امکان نہیں ہے لہذا امریکہ ٹرمپ کے دور میں اپنا بحران دوسرے ممالک ـ بالخصوص چین ـ میں برآمد کرکے اپنے بحران پر غلبہ پانے کے لئے کوشاں ہے۔

پٹنائک کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان معاشی جنگ ـ جسے امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے شروع کیا گیا ہے ـ اس وقت امریکہ کے اندرونی بحران کو عالمی معیشت میں منتقل کررہی ہے  اور دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے لئے پانے والی مختصر سی رغبت کو بھی مزید کم کرچکی ہے۔

پٹنائک کے مطابق، اگرچہ ممکن ہے کہ یوں تصور کیا جائے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو ایک نئی اقتصادی کسادبازاری کے دہانے تک لے گئی ہیں؛ لیکن عالمی مبصرین اور تجزیہ نگار 2016ع‍ میں ان کے انتخاب کو نولبرل معیشت ـ جو رونلڈ ریگن (33) کی صدارت کے دور سے امریکہ کی معاشی پالیسی سازی کا اصول قرار پائی تھی ـ کے زوال  کی علامت سمجھتے ہیں اور اس انتخاب کو اس زوال کا سبب نہيں گردانتے۔

6۔ پربھات پٹنائک (24)

پربھات پٹنائک بھارت کے مارکسی نظریئے کے حامل ماہر معاشیات اور سیاسی مبصر ہیں جو تقریبا 10 کتابوں کے مؤلف ہیں جو انھوں نے ان کتابوں میں دنیا کے سیاسی مسائل کو معیشت کے دریچے سے دیکھا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے ناقدین میں سے ہیں اور انھوں نے اس نظام کے زوال کے اسباب کو بھی اس نظام کے اندرونی نقائص کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔
پٹنائک کے خیال میں 2008ع‍ کا معاشی بحران عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ باہم بُنا ہوا بحران ہے اور امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں اس بحران سے عبور  کے لئے بنیادی راہ حل تلاش کرنے کے بجائے عارضی اور سطحی اقدامات اور درد کُش دواؤں کا سہارا لیا گیا۔

پٹنائک نے حال ہی میں اپنی یادداشت میں لکھا: "سنہ 2008ع‍ کے مالیاتی بحران کے بعد امریکہ اور دوسرے ممالک میں توسیعی مالیاتی پالیسی (25) کو اختیار کیا گیا اور شرح سود کو تقریبا صفر (0) تک گھٹایا گیا۔ اس اقدام نے محض وقتی طور پر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو محض وقتی طور پر سانس لینے کا موقع فراہم کیا، لیکن اس وقت ایک بار پھر کسادبازاری کی نشانیاں ظاہر ہونے لگی ہیں"۔

پٹنائک ان نشانیوں کے بارے میں کہتے ہیں: "امریکہ میں تجارتی سرمایہ کاری میں کمی آنے لگی ہے اور صنعتی پیداوار کے اشاریہ جولائی 2019 کو جون کی نسبت 0.2 فیصد کمی آئی ہے۔ برطانیہ کی معیشت کو دوسرے سہ ماہی میں منفی نمو کا سامنا رہا اور جرمنی کی معیشت کی صورت حال بھی اس سے بہتر نہيں تھی۔ معیشت کی یہی تصویر اٹلی، برازیل، میکسیکو، ارجنٹائن اور بھارت سمیت دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی نظر آرہی ہے"۔

مغربی ممالک کے پالیسی سازوں کے ہاں کا راہ حل ـ اس طرح کے مسائل کے لئے ـ ایک بار پھر شرح سود میں کمی کرنا ہے۔ پٹنائک کا کہنا ہے کہ مغربی پالیسی سازوں کے اس راہ حل کا مقصد سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں بلکہ "اثاثوں کی قیمتوں میں بلبلا" پیدا کرنا ہے جو مجموعی مانگ (26) میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مجموعی مانگ میں یہ اضافہ در حقیقت ان لوگوں کی طرف سے ہوگا جو اپنے اثاثوں میں حبابی بڑھوتری (27) دیکھ کر محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ پہلے سے زیادہ امیر ہوگئے ہیں چنانچہ وہ اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

اس ہندوستانی معیشت دان کا کہنا ہے کہ "دوسری عالمی جنگ کے فورا بعد ـ یعنی نولبرلیت (28) کے عالمگیریت کے آغاز سے قبل، جب حکومتوں کو کساد بازاری کا خطرہ محسوس ہوتا تھا تو وہ سرکاری اخراجات کو بڑھا دیتی تھیں تا کہ اس طرح مجموعی مانگ میں اضافہ کرسکیں۔ حکومتیں ضرورت کے وقت مالیاتی واجبات یا قرضہ جات میں اضافہ کرنے پر قادر تھیں کیونکہ ان کے پاس سرمائے پر نظارت کرنے (29) کا طریقۂ کار ہوتا تھا اور مالیاتی واجبات میں اضافے کی صورت میں سرمایوں کے فرار (30) کا خطرہ لاحق نہيں ہوتا تھا"۔

جان مینرڈ کینز (31) جنہیں سرمایہ دارانہ نظام کے اقتصادی نظام کے معماروں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، "مالی معاملات کو بین الاقوامی بنانے" کے خلاف تھے اور کہتے تھے کہ مالی معاملات کی حدودی کو ایک ملک کی سرحد کے اندر تک محدود ہونا چاہئے۔ اور اگر مالی معاملات کو بین الاقوامی بنایا جاے تو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں قومی ریاستوں (32) کی صلاحیت محدود ہوکر رہ جائے گی اور وہ مالی مسائل کے ہاتھوں میں قیدی بن کر رہ جائیں گی اور یہ سلسلہ روزگار کی فراہمی کے لئے سرکاری اخراجات کی بڑھوتری سے متصادم ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی اور وکیل کے طور پر اس خطرے کو محسوس کرتے تھے کہ اگر قومی ریاستیں  روزگار کے مواقع میں ضرورت کے مطابق اضافہ نہ کرسکیں تو سرمایہ داری اپنی بقاء کی ضمانت نہیں دے سکے گی۔

لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی معیشت بالآخر اسی سمت چلی گئی جس کا کینز کو خطرہ تھا۔ مسلسل خسارے ـ جو کہ اس دور میں امریکہ کے کرنٹ اکاؤنٹ سے بھی بڑا ہے ـ کی بنا پر کثیرالقومی بینکوں کے پاس سرمائے کے ڈھیر لگانے ، نیز 1970ع‍ کی دہائی میں تیل کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافے اور سرمایے پر کنٹرول ـ جو بہت زیادہ مشکل ہوچکا تھا ـ کے پیش نظر اوپک کے رکن ممالک کے تیل کی آمدنی کے انبار اکٹھے کرنے کی وجہ سے، نیست و نابود ہوگئی۔ یہ رویہ اس لئے تھا کہ پوری دنیا کا مالی نظام کھل جائے اور ممالک اپنی مرضی کے مطابق ایک دوسرے کی مالیاتی منڈی تک رسائی حاصل کرسکیں۔ چنانچہ دنیا میں "بین الاقوامی مالیات" کی بالادستی کا آغاز ہوا۔ یہ رویہ مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے روزگار کی سطح کے تحفظ سے قومی ریاستوں کی پسپائی کے مترادف تھا۔ چنانچہ نولبرل سرمایہ داری میں مجموعی مانگ میں اضافہ کرنے کا واحد طریقہ قیمتوں میں ہیجان پیدا کرکے قیمتوں میں حباب پیدا کرنا تھا جس کے لئے شرح سود میں کمی کی پالیسی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

پٹنائک کی رائے کے مطابق ـ حکومت کے اخراجات کے برعکس، جنہیں مرضی کے مطابق منظم کیا جاسکتا ہے ـ "بلبلے" یا "حباب" کو مرتب یا کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ 1

7۔ کرسٹوفر لین (34)

کرسٹوفر لین ابھرے ہوئے سیاسی مبصر اور ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے جارج بش سکول آف گورنمنٹ اینڈ پبلک سروس (35) کے انٹیلی جنس و قومی سلامتی کے استاد اور فیکلٹی رکن ہیں جنہوں نے اب تک امریکی خارجہ پالیسی کے سلسلے میں 100 سے زائد مقالات اور تین کتب کے مصنف ہیں اور امریکی بالادستی، نیٹو اتحاد، عالمی جنگ کے بعد کی امریکی پالیسی، عراق میں امریکی پالیسی وغیرہ جیسے موضوعات پر ان کے درجنوں تحقیقی مقالات کئی معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہوچکی ہیں۔

کرسٹوفر لین نے اپنے ایک مضمون میں ـ جسے چیتھم ہاؤس (36) نے شائع کیا ـ امریکی بالادستی کے زوال کے اسباب و عوامل کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور جدید چین کے ظہور  کو اس زوال کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا سبب گردانا ہے۔ لکھتے ہیں: "آج فوجی، معاشی اور انتظامی قطاروں ـ جو "پاکس امریکانا" (37) اور امریکی بالادستی کی نگہبانی کررہی تھیں ـ کو چين نے خطرے میں ڈال دیا ہے"۔

وہ امریکی طاقت کے زوال کے بارے میں لکھتے ہیں کہ چین نے عسکری اور معاشی شعبوں میں اپنے آپ کو امریکہ کے قریب تر پہنچایا ہے۔ لین نے رینڈ کارپوریشن (38) نامی تھنک ٹینک کے حوالے سے لکھا ہے کہ  2020 اور 2030 کے درمیان چین کا عسکری ڈھانچہ ـ ڈاکٹرائن، وسائل اور ہتھیاروں، نفری اور تربیت کے لحاظ سے ـ امریکہ کے برابر ہوجائے گا۔ رینڈ کے تجزیئے کے مطابق، پیشگوئی کی گئی ہے کہ ان ہی برسوں کے دوران مشرقی ایشیا کے علاقے میں امریکہ کا تسلط شدت سے کم ہوجائے گا۔

لین کا کہنا ہے کہ گذشتہ عشروں کے دوران امریکی معاشی قوت میں کمی آنے اور دوسری طرف سے چین کی معاشی قوت میں اضافے کی نشانیاں اس سے کہیں زیادہ واضح اور عیاں تھیں کہ انہیں نظرانداز کیا جاسکے۔ عظیم کسادبازاری کے آغاز سے لے کر اب تک چین تسلسل کے ساتھ برآمدات، تجارت اور پیداوار کے لحاظ سے پہلے درجے کے ممالک میں شامل ہے۔ سنہ 2014ع‍ میں عالمی بینک نے یہ اعلان کرکے دنیا کو حیرت زدہ کردیا کہ "چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں تبدیل ہوا ہے"۔

لین کہتے ہیں کہ جو واقعات عالمی سطح پر رونما ہوئے ہیں ان کی وجہ سے امریکہ کی نرم طاقت بھی شدت سے کم پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی معاشی کساد بازاری کے سب سے اہم اثرات وہ اثرات تھے جنہوں نے دنیا بھر میں امریکی نرم طاقت کے سلسلے کے عمومی ادراکات پر مرتب کئے ہیں اور اس امریکی طاقت کے بارے میں عمومی سوچ میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

یہ حقیقت کہ امریکہ کا زیر تسلط مالیاتی نظام امریکہ کے اندرونی بحران کی وجہ سے اضطراب سے دوچار ہوا اور اسی اضطراب نے امریکہ کی ساکھ اور طاقت کو دھبہ دار کردیا اور مغربی دنیا کے ان دعؤوں کو غیر معتبر کردیا کہ آزاد منڈی کی تجارت، جمہوریت اور عالمگیریت کی راہ پر گامزن ہونا ہی سیاسی اور معاشی ترقی کا واحد راستہ ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

 

ماخذ: https://www.tasnimnews.com/fa/news/1398/07/15/2111752
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ End of the history
2۔ Samuel P. Huntington
3۔ Clash of civilization
4۔ Cato Institute
5۔ Ted Galen carpenter
6۔ Termite Decline
7۔ Christopher Layne
8۔ Noam Chomsky
9۔ Dirty money
10۔ James Petras
11۔ Zionism, Militarism and the Decline of US Power (2008)
12۔ Trans-Pacific Partnership TPP
13۔ David Ranney
14۔ Illinois University
15۔ New World disorder: The decline of US Power
16۔ Crisis of Value
17۔ Alfred W. McCoy
18۔ University of Wisconsin Medison
19۔ The Politics of Heroin: CIA Complicity in the Global Drug Trade
20۔ Shanghai Cooperation Organization [or Shanghai Pact]
21۔ Asian Infrastructure Investment Bank [AIIB]
22۔ Regional Comprehensive Economic Partnership [RCEP]
23۔ Trans-Pacific Partnership [TPP]
24۔ Prabhat Patnaik
25۔ Expansionary monetary policy
26۔ Aggregate demand
27۔ Bubble rise
28۔ Neo-liberalism
29۔ Capital control
30۔ Flight of capital
31۔ John Maynard Keynes
32۔ Nation states
33۔ Ronald Wilson Reagan
34۔ Christopher Layne
35۔ George Bush School of Government and Public Service at Texas A&M University
36۔ Chatham House
37۔ Pax Americana
38۔ Pax Americana

Read 95 times

Add comment


Security code
Refresh