شنگھائی سربراہی اجلاس کی سائڈلائن میں؛ ایران اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

Rate this item
(0 votes)
شنگھائی سربراہی اجلاس کی سائڈلائن میں؛ ایران اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

رپورٹ کے مطابق، "حسین امیرعبداللہیان" نے شنگھائی سرابراہی اجلاس کے موقع پر باہمی ملاقاتوں کے سلسلے میں جمعرات کی رات کو بھارت کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

اس موقع پر انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات سمیت تعاون بڑھانے کے بنیادی ڈاھنچوں کی موجودگی کا ذکرکرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بھارت سے کثیر الجہتی تعاون بڑھانے پر تیار ہے۔

امیر عبداللہیان نے ایران اور افغانستان کے درمیان طویل مشترکہ سرحدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سب سے پہلا متاثر ملک ہے۔

انہوں نے ایران میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان مہاجرین کو امداد فراہم کرنے میں عالمی اداروں اور مغربی ممالک کی بے حسی پر تنقید کی۔

امیر عبداللہیان نے ان مہمانوں کے استقبال اور میزبانی اور ہمارے ملک کیجانب سے انتہائی سخت اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے عروج پر ان کیلئے انسانی خدمات کی فراہمی کو دونوں قوموں کی انسان دوستی کی گہرائی کی علامت سمجھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے تمام افغان نسلی گروہوں کی شرکت کیساتھ ایک جامع حکومت کی تشکیل کو افغانستان کیلئے واحد مطلوبہ سیاسی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ ہمارا ملک افغانستان کی سیاسی صورتحال کا خصوصی تعاقب کرتا رہتا ہے۔

انہوں نے تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں ایران اور بھارت کے درمیان تعاون کے مشترکہ کمیشن کے جلد قیام کا مطالبہ کیا۔

دراین اثنا بھارتی وزیر خارجہ "جے شنکر" نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران سے باہمی تعاون بڑھانے پر تیار ہے۔

انہوں علاقائی چیلنجز اور خاص طور افغان مسئلے سے متعلق، ایران اور بھارت کے درمیان مزید مشاورت کا مطالبہ کیا۔

بھارتی وزیر خارجہ نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے انعقاد کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے تعاون بڑھانے کیلئے نئی دہلی کی تیاری پر زور دیا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کا آج بروز جمعہ کو اس تنظیم کے 12 مستقل اور مبصر رکن کے سربراہوں بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کی شرکت سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں انعقاد کیا گیا۔

Read 51 times

Add comment


Security code
Refresh