امریکہ کے مقابلے میں ایران کی فتح

Rate this item
(0 votes)
امریکہ کے مقابلے میں ایران کی فتح

1979ء میں ایران میں انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی ہم نے اس کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔ ہم نے (امام) خمینی کے بارے میں تحقیق کی، ایران کے (بشار) اسد سے اتحاد کے بارے میں تحقیق کی، 1980ء میں (تہران میں امریکی شہریوں کو) یرغمال بنانے کے بحران کا جائزہ لیا، اسرائیل کے خلاف ایران کی پراکسی وار کی تحقیق کی، ایران کے جوہری پروگرام میں پھیلاو اور گذشتہ ایک عشرے کے دوران چار عرب ممالک پر مسلح عناصر کے کنٹرول کا جائزہ بھی لیا۔ یہاں تک میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کم از کم اس وقت تک تہران کے حکام کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ میں نے ایران کی اسٹریٹیجیز کے بارے میں پہلی کتاب اس وقت لکھی جب میں بیروت میں تھا۔ اس کے بعد 1992ء میں میں نے متعدد مجلوں میں تحقیقی مقالے اور مختلف کالم لکھے۔
 
میں نے اپنے ان مقالات اور کالمز میں  واشنگٹن کو ایک نئے بلاک کی ممکنہ تشکیل کے بارے میں خبردار کیا۔ میں گذشتہ 41 برس سے ایران پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے کانگریس کے بیشمار اجلاس میں شرکت بھی کی اور سکیورٹی و دفاعی اداروں کے سیمینارز میں بھی شریک ہوا۔ میری تحقیق زیادہ تر ایران میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، اس کے جیوپولیٹیکل پہلووں اور ایران میں رونما ہونے والے ہنگاموں پر مرکوز رہی ہے۔ ابتدا سے آج تک اسلامی جمہوریہ ایران کے تاریخی سفر کو آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: "تہران نے امریکہ، اسرائیل اور بعض مغربی ممالک کے ساتھ مسلسل ٹکراو کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے سرد جنگ، 1990ء کے عشرے میں یونی پولر سسٹم، نائن الیون کے بعد کے عرصے، عرب اسپرنگ اور عراق اور افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد والے حالات سے کامیابی سے عبور کیا ہے۔"
 
ایران نے اندرونی سطح پر اپنی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو پروان چڑھایا ہے اور مسلح گروہوں کے ذریعے خطے میں اپنے اثرورسوخ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران نے اپنے ساتھ جوہری معاہدے کی جذابیت کا سہارا لیتے ہوئے مغربی دنیا میں بھی اچھا خاصہ اثرورسوخ پیدا کر لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران کیوں فاتح قرار پایا ہے؟ اور کیا اس کی کامیابیوں کے سلسلے کو روکا جا سکتا ہے؟ اس کی چند وجوہات ہیں۔ ایران نے لبنان سے لے کر عراق تک سینکڑوں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری وجہ خطے میں موجود ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ہیں۔ تیسری وجہ امریکہ کی پالیسیاں ہیں۔ چوتھی وجہ ایران کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ ہے جبکہ پانچویں وجہ بعض مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی حمایت ہے۔
 
ایران کے تمام سکیورٹی اداروں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ایران سے مذاکرات میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکالنے پر راضی ہو جانا امریکہ کیلئے ایک اسٹریٹجک غلطی ہو گا۔ ایسا اقدام مولویوں (ایرانی حکام) کو فتح عطا کرے گا۔ (یاد رہے امریکہ نے مارچ 2019ء میں سپاہ پاسداران انقلابی اسلامی ایران کا نام بیرونی دہشت گرد تنظیموں یا ایف ٹی او کی فہرست میں داخل کر دیا تھا جس کے ردعمل میں ایران کی قومی سلامتی کونسل نے بھی خطے میں امریکی فوج کے کمان سنٹر "سینٹکام" کو دہشت گرد گروہ قرار دے دیا تھا)۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی قدس فورس نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اثرورسوخ بڑھانے کیلئے مضبوط مسلح گروہ تشکیل دیے ہیں۔
 
دوسری طرف واشنگٹن نے نائن الیون کے بعد کئی بار ایران کے بارے میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ تہران نے امریکہ کی پالیسی میں اسی تزلزل اور تبدیلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جرج ڈبلیو بش کی حکومت نے ایران کو شیطنت کا محور قرار دیا جبکہ اس کے بعد برسراقتدار آنے والی براک اوباما کی حکومت نے نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سازباز کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آئے اور انہوں نے 2016ء میں ایک بار پھر ایران سے متعلق یو ٹرن لیا اور امریکہ ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا۔ چار سال بعد جب حالیہ صدر جو بائیڈن نے حکومت سنبھالی تو انہوں نے دوبارہ گذشتہ حکومت کی پالیسی کو تبدیل کر دیا۔
 
ایران کی پوزیشن 2009ء میں مضبوط ہونا شروع ہوئی اور 2015ء میں اس کی طاقت عروج پر پہنچ گئی۔ اس کا نتیجہ یوں نکلا کہ ایران نے نہ صرف خطے میں اپنا اثرورسوخ بہت حد تک بڑھا لیا بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی اس کا اثرورسوخ محسوس ہونے لگا۔ بورجام نامی جوہری معاہدہ نہ صرف عرب ممالک بلکہ مغربی ممالک میں بھی ایران کے اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بنا۔ مغربی ممالک نے ایران کے جوانوں، خواتین اور مذہبی اقلیتوں پر کام کرنے کی بجائے اپنی پوری توجہ ایرانی حکومت پر مرکوز کر رکھی ہے۔ بدقسمتی سے ایران اپنے جوہری معاہدے کو مزید طاقتور ہونے اور امریکی مفادات کو مزید زک پہنچانے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ فی الحال ایران جیت چکا ہے اور جب تک امریکہ اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتا بدستور فاتح قرار پائے گا۔

Read 47 times

Add comment


Security code
Refresh