شہادت کے پیغام

Rate this item
(0 votes)
شہادت کے پیغام

مزاحمت کے میدان اور حرم کے دفاع میں ایک اور عظیم انسان کی شہادت کی خبر سامنے ائی ہے۔ یہ شہید اپنے دور کے طاقتور ترین کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ مزاحمت کے میدان میں ان کی شہادت کے کئی پیغام موجود ہیں۔

صیہونی حکومت اور مزاحمت کا خوف
صیہونی حکومت کا مزاحمتی محاذ کی طاقت اور اثر و رسوخ سے مسلسل خوف شہید اسلام حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔غزہ کی جارحیت میں اس کی واضح ناکامی کے المیے نے اس کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ غزہ کے حالیہ زخم کو مندمل کرنے کے لیے اسے کسی مرہم کی تلاش ہے۔ وہ اپنی خام خیالی میں اس طرح کے اقدامات سے خطے کی بڑی طاقت یعنی مزاحمتی محاذ کے علم برداروں کو قتل کرکے اس بلاک کو شدید دھچکا پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے اپنی خام خیالی اور بےہودہ وہم و خیال میں اس کمانڈر کو حاج قاسم کی برسی کے موقع پر شہید کیا۔ جس نے  اس کے اپنے بقول اپنے کالے کپڑے یعنی حاج قاسم کے سوگ کا لباس بھی نہیں اتارہ تھا۔ وہ شہادت کا منتظر تھا، کیونکہ حاج قاسم نے اس سے شہادت کا وعدہ کیا تھا۔ غاصب اور مجرم صیہونی حکومت نے سید رضی موسوی کو ان کی رہائش گاہ پر تین راکٹ فائر کرکے شہید کر دیا، تاکہ یاد دلایا جا سکے کہ  ایک سخت انتقام انتظار کر رہا ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر صیہونی لیڈروں کو اب اپنے ہی سائے سے ڈرنا چاہیئے۔

سید رضی موسوی کون تھے؟
خبر یہ تھی کہ "ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سینیئر مشیر دمشق میں زینبیہ کے علاقے میں صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہوگئے اور دشمن نے سید رضی کو تین میزائلوں سے شہید کر دیا۔" سید رضی موسوی شام میں پاسداران انقلاب اسلامی کے سینیئر مشیر تھے، جنہوں نے اس ملک میں جنگ کے تمام مراحل میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ انہوں نے صحرائی علاقوں سے لیکر دمشق کے نواحی علاقوں کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ وہ حلب میں مغرب کے حملے کو پسپا کرنے والے ثابت قدم لوگوں میں سے ایک تھے۔ شہید موسوی شام کے معاملے میں پاسداران انقلاب اسلامی کے سینیئر کمانڈروں میں سے ایک تھے، جنہیں صیہونی حکومت نے گذشتہ برسوں میں متعدد بار نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

 اس محترم شہید کا شمار سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے بڑے اور ممتاز کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ وہ شام میں پاسداران انقلاب اسلامی کے پرانے مشیروں اور شہید جنرل حاج قاسم سلیمانی کے اہم ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے مزاحمتی محاذ کو لیس کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی سالوں تک شام میں IRGC قدس فورس کے نمائندے رہے۔

صیہونی حکومت کے جرائم کا تجزیہ
صیہونی حکومت حاج قاسم اور ان کے ساتھیوں نیز مزاحمتی محاذ سے خوفزدہ ہے۔ وہ اس تحریک کے عظیم افراد کی شہادت کی تلاش میں ہے، تاکہ اپنے خوف کی سطح کو کم کرسکے اور غزہ میں اپنی ذلت آمیز شکست پر پردہ ڈال سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صیہونی حکومت کو مزاحمتی محاذ سے آئے روز ایک خوفناک دھچکا لگتا ہے۔ اسے غزہ پر حالیہ حملے سے جو شکست ملی، وہ بہت بڑی رسوائی تھی، اس لیے صیہونی حکومت اس شکست سے رائے عامہ اور اپنے حامیوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سید رضی موسوی کو شہید کرنا اسی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ یہ جرم ایسے وقت ہوا، جب ایرانی مشیر کو 1973ء کے عالمی کنونشن کے مطابق استثنیٰ حاصل ہے، لیکن کیا غاصب حکومت کسی بین الاقوامی قوانین اور حقوق کی پاسداری کرتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو غزہ کی جنگ میں 8 ہزار بے سہارا بچے شہید نہ ہوتے۔

مزاحمت جاری ہے
شہید سلیمانی، عراقی مزاحمت کے کمانڈر ابو مہدی المہندس، سید رضی موسوی نیز فلسطینی اور لبنانی مزاحمت کے بعض دیگر رہنماؤں کا قتل نہ صرف صہیونیت کے بدنام زمانہ پیکر پر مزاحمت کے حملوں کی وسعت کو کم نہیں کرے گا بلکہ صیہونی حکومت اور اس کے امریکی حامیوں کو مزید چیلنجوں اور حملوں کے طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے چیلنجز جو اس نے گذشتہ آٹھ دہائیوں میں کہیں نہیں دیکھے ہوں گے۔ بلا شک و شبہ صیہونی حکومت اور مجرم امریکہ کو ایران اور اسلامی مزاحمت کے سخت انتقام کا سامنا کرنا ہوگا اور یہ خوف صیہونی حکومت کی مکمل تباہی تک جاری رہے گا۔

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

Read 128 times