انقلابِ اسلامی اور اسلامی جمہوریہ کے استحکام میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کا کردار Featured

Rate this item
(0 votes)
انقلابِ اسلامی اور اسلامی جمہوریہ کے استحکام میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کا کردار

انقلابِ ایران بیسویں صدی کا وہ عظیم سیاسی و روحانی واقعہ تھا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ بدلا بلکہ استعماری نظامِ فکر کے مقابل ایک نئے نظریاتی ماڈل کو بھی جنم دیا۔ اس انقلاب کی فکری بنیادیں تو امام خمینیؒ کی قیادت میں استوار ہوئیں مگر اس انقلاب کی بقا، استحکام اور تدریجی ارتقا میں جن شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا، ان میں نمایاں نام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہی شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد سے کیا۔ جوانی کے ایام میں وہ نہ صرف فکری محاذ پر سرگرم رہے بلکہ جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

ان کی شخصیت میں انقلابی جوش، دینی بصیرت اور سیاسی حکمت کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے انہیں انقلاب کے فعال سپاہیوں میں شامل کر دیا۔ ان کی قربت اور فکری ہم آہنگی انہیں امامِ انقلاب، آیت اللہ روح اللہ خمینی کے نزدیک لے آئی اور یہی نسبت بعد ازاں ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کا سبب بنی۔ انقلاب کے بعد جب ایران ایک نئے سیاسی و سماجی تجربے سے گزر رہا تھا، اس وقت داخلی انتشار، بیرونی سازشوں اور جنگی دباؤ نے اسلامی نظام کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

ایسے نازک مرحلے پر آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں، خواہ وہ وزارتِ دفاع کے میدان میں رہنمائی ہو یا خطیبانہ اسلوب میں قوم کی فکری تربیت۔ انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے انقلاب کے اصول،استقلال، آزادی اور اسلامی حاکمیت کا ایک ایسا فکری بیانیہ عطا کیا گیا جس نے نوجوان نسل کو نظریاتی استقامت فراہم کی۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ انقلاب کے لیے سب سے بڑا امتحان تھی۔ اس جنگ میں آیت اللہ خامنہ ای نے محض ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک مجاہدِ فکر و عمل کے طور پر کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی محاذِ جنگ پر سپاہیوں کے لیے حوصلے کا سرچشمہ تھی اور ان کے خطابات میں صبر، ایثار اور شہادت کی روح کو تازگی ملتی رہی۔

یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے “مقاومت” کو ایک نظریہ بنا کر پیش کیا، جو بعد ازاں ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا بنیادی ستون بن گیا۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد جب قیادت کا حساس مرحلہ آیا تو آیت اللہ خامنہ ای کو نظامِ ولایتِ فقیہ کا امین منتخب کیا گیا۔ بطور رہبرِ انقلاب انہوں نے نہایت حکمت کے ساتھ ریاستی اداروں کو متوازن رکھا، نظریاتی خطوط کو محفوظ کیا اور نظام کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ ان کی قیادت کا بنیادی وصف یہ رہا کہ انہوں نے انقلاب کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک مسلسل جاری عمل میں تبدیل کر دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے “ثقافتی خودکفالت”، “اقتصادی مزاحمت” اور “علمی پیش رفت” جیسے تصورات کو فروغ دیا۔

شہید رہبر معظم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا علمی و ادبی ذوق بھی تھا۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ مفکر اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں اسلامی تہذیب کی گہرائی، فارسی ادب کی لطافت اور معاصر سیاسی شعور کی پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انقلاب کی اصل حفاظت اس کے فکری اور تہذیبی محاذ پر ہوتی ہے نہ کہ صرف عسکری قوت سے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم، میڈیا اور ثقافت کو انقلاب کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا۔

ان کی قیادت میں ایران نے خود کو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کیا جو عالمی استکبار کے سامنے جھکنے کے بجائے خود انحصاری اور نظریاتی استقامت کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے بیانات میں “امتِ مسلمہ کی وحدت” اور “مظلوم اقوام کی حمایت” ایک مستقل موضوع کے طور پر موجود رہی ہے۔ یوں وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام میں ایک فکری رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ اگر انقلابِ ایران ایک درخت ہے تو امام خمینیؒ نے اس کا بیج بویا اور آیت اللہ خامنہ ای نے اسے مسلسل آبیاری، نگہبانی اور طوفانوں سے حفاظت کے ذریعے تناور درخت میں بدلنے کی کوشش کی۔

ان کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے نظریاتی بقا، سیاسی استحکام اور عالمی سطح پر خودمختار شناخت کو برقرار رکھا۔ اس طرح آیت اللہ خامنہ ای کا کردار محض ایک سیاسی رہبر کا نہیں بلکہ ایک ایسے فکری معمار کا ہے جس نے انقلاب کی روح کو زمانے کے تغیرات کے باوجود زندہ رکھا اور اسے ایک مستقل و پائدار نظام میں ڈھال دیا۔ یہی ان کی سب سے بڑی خدمت ہے کہ انہوں نے انقلاب کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی امید بنا دیا۔

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

Read 4 times