ٹرمپ ایران جنگ سے نکل پائے گا؟

Rate this item
(0 votes)
ٹرمپ ایران جنگ سے نکل پائے گا؟


اسرائیل، ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کبھی حامی نہیں رہا۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی جارحیت سے قبل جاری نیوکلیئر مذاکرات کے دوران، امریکی انتظامیہ میں صہیونی لابی کے اثر و رسوخ کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اداروں کی رپورٹس کے بجائے موساد کی انٹیلیجنس کے اس دعوے سے متاثر ہوئے کہ ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنا کر نظام کی فوری تبدیلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد اپنے دعوؤں کے برخلاف ایران کے اندر مطلوبہ سطح کی شورش برپا کرنے میں ناکام رہا، جس پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے ادارے پر برہمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ، اپنی فطرت کے عین مطابق عالمی قیادت کا کریڈٹ لینے کی خواہش میں، اسرائیل کے ساتھ اس حملے میں شامل ہو گئے۔ جنگی میدان میں درپیش مشکلات کے ساتھ ساتھ امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی بھی نمایاں ہو کر سامنے آنے لگیں، جو دہائیوں کی محنت کے باوجود ایران کے نظریات اور داخلی صورتحال کا درست ادراک حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس سبکی سے بچنے کے لیے امریکی کاؤنٹر ٹیررازم ادارے کے ڈائریکٹر جوکینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے صاف کہہ بھی دیا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی۔ اسی طرح امریکی انٹیلیجنس ادارے کی سربراہ تلسی گباڈ بھی اس سوال کا جواب دینے میں تذبذب کا شکار رہیں کہ یہ جنگ آخر کس انٹیلیجنس کی بنیاد پر شروع کی گئی، جبکہ خود اداروں نے ایران کو فوری خطرہ قرار نہیں دیا تھا اور صدر کیونکر ادارے کی رپورٹ کے بغیر جنگ میں کود سکتے ہیں۔
 
جنگ جاری رہی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد، غیر واضح اور بعض اوقات بوکھلاہٹ پر مبنی بیانات نے امریکا کے اندر تشویش کو مزید بڑھا دیا۔ یہ سوال شدت اختیار کر گئے کہ آیا وہ اپنی شروع کردہ جنگ پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ان پر دباؤ بڑھا کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے، کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا، اور کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے عالمی تیل منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔ اسرائیل کی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی یہ رہی کہ اس نے اپنے مقرر کردہ اہداف اور اپنی تخمینہ شدہ صورتحال کے مطابق مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے امریکا کو براہِ راست جنگ میں کامیابی سے شامل کر لیا۔
 
اگر ڈونلڈ ٹرمپ رہبر انقلاب اسلامی پر حملے کی یہ ناجائز کارروائی صرف اسرائیل کے ذریعے کرواتے اور خود پس منظر میں رہتے، جو ان کے گمان میں رجیم کی تبدیلی کا یقینی پیش خیمہ بن سکتی تھی، تو نہ صرف امریکا کی عالمی ساکھ محفوظ رہتی بلکہ وہ آج خود تنازع کا فریق بننے کے بجائے، حسبِ روایت، ثالث کے طور پر سامنے آ سکتے تھے اور ایک اور عالمی تنازع کے خاتمے کا کریڈٹ بھی حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے خود دنیا کو اس کارروائی کی خبر دے کر ایرانی عوام کا مسیحا اور دنیا کے شہنشاہ بننے کا اعلان کرنا بہتر سمجھا۔
 
دوسری جانب، ایران نے رہبر اور کمانڈروں کی عظیم شہادت کے باوجود ایک بار پھر چٹان کی مانند خود کو سنبھالا، جس نے دنیا کو ایرانی نظام کی مضبوطی پر حیرت زدہ کر دیا۔ اس ناجائز حملے نے ایران کو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ایک ساتھ گھیرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈے بھی اس کے جائز اہداف کے طور پر سامنے آ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اپنے اتحادیوں پر حملوں کے امکانات کے حوالے سے مطمئن دکھائی دیتے تھے کہ ایسا نہیں ہوگا، اور اسی اعتماد میں وہ کسی واضح “پلان بی” کے بغیر عجلت میں اس جنگ میں شامل ہو گئے۔ اب جبکہ صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی اہداف کا واضح تضاد بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
 
ایران نے امریکا کو ایسے حالات میں لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ ایسا راستہ جو اس کے اپنے مفادات سے مطابقت رکھتا ہو۔ جبکہ اسی صورتحال میں اسرائیل خود کو شدید خطرے میں محسوس کر رہا ہے۔ اسرائیل کے جنگی اہداف کے تناظر میں اسے اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سمیت توانائی کے بڑے اثاثے تباہ ہو جائیں، جبکہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف اس کے اتحادی متاثر ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری (ریسیشن) بھی تقریباً یقینی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی دفاعی ماہرین کے مطابق، زمینی کارروائی کے بغیر صرف فضائی حملوں سے موجودہ جنگی ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ خرگ جزیرے پر زمینی فوج اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور رہا، مگر اس کے اپنے شدید خطرات ہیں، جن میں ممکنہ طور پر امریکی فوجیوں کے یرغمال بنائے جانے کا خدشہ بھی شامل ہے۔ ایک ایسی سبکی جس کے لیے امریکا تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کی علامت کے طور پر آنے والا بحری بیڑا بھی وہاں سے دور ہٹا لیا گیا ہے۔
 
ان متوازی اور باہم متصادم اہداف کے باعث امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب مذاکرات کی طرف مائل نظر آتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے اس جنگ سے نکلنے کا راستہ نکالا جا سکے۔ ٹرمپ کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے باعزت نکلنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ وہ جنگ کو مزید وسعت دیں، جس کی انہوں نے کوشش بھی کی۔ وہ ایران کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر نیٹو حتیٰ کہ چین کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے پر اُکسا چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملوں کی سائٹ سے یورپ کو مخاطب کر کے انہیں خطرے سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔
 
امریکا کے لیے یہ راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان سمیت کئی ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں، جبکہ امریکی افواج کی مزید تعیناتی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے امریکا ممکنہ طور پر جنگی دباؤ اور مذاکراتی حکمتِ عملی دونوں میں بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کا آغاز بھی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا، تاہم اس وقت نہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ درپیش تھا، نہ امریکی عرب اتحادی براہِ راست دباؤ میں آئے تھے، اور نہ ہی عالمی معیشت پر فوری خدشات منڈلا رہے تھے۔ اس کے باوجود اسرائیل بالآخر یکطرفہ طور پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔
 
موجودہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور نازک دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ نہ تو جنگ پر مکمل کنٹرول رکھتے نظر آتے ہیں، نہ ہی یورپی اتحادیوں اور نیٹو کو اس بے تکی جنگ میں شمولیت پر پوری طرح قائل کر سکے ہیں۔ عرب اتحادی بھی اپنے ممکنہ نقصانات کے پیشِ نظر اس جنگ کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں، جبکہ اندرونِ ملک عوام اور اپوزیشن کو بھی اس کے واضح اور قابلِ قبول جواز پر قائل نہیں کیا جا سکا۔ ایسے حالات میں بظاہر امریکا کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے مزید وقت درکار ہے، اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

Read 4 times