بے گناہوں کے دفاع پر پاپ کی جرات کو سلام: آیت اللہ اعرافی کا اہم پیغام

Rate this item
(0 votes)
بے گناہوں کے دفاع پر پاپ کی جرات کو سلام: آیت اللہ اعرافی کا اہم پیغام

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے عالمی کیتھولک چرچ کے رہنما پاپ لیون چهاردہم کے نام ایک اہم مکتوب میں ان کے جرات مندانہ اور انسانی موقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ نے مسیحیت کی حقیقی تعلیمات سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔”

اپنے پیغام میں آیت اللہ اعرافی نے موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں جب ظلم کے خلاف خاموشی طاقتوروں اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعویداروں کی زبان بن چکی ہے، اور کئی عالمی رہنما سیاسی مصلحتوں میں الجھ کر حق گوئی سے گریزاں ہیں، ایسے میں پاپ کا بے گناہوں پر بمباری کی مذمت کرنا ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس آواز کو “تاریک دور میں روشنی کی کرن” قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہیں مسلمان بھی اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہیں، ہمیشہ امن، رحمت اور مظلوموں کے دفاع کا پیغام دیتے رہے ہیں، اور پاپ کا حالیہ موقف اسی الٰہی تعلیمات کی عملی تصویر ہے۔ ان کے مطابق، ویٹیکن صرف ایک مذہبی مرکز نہیں بلکہ انصاف کی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاپ کے موقف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دینی ضمیر آج بھی زندہ ہے اور دین انسانی معاشرے میں اخلاقی رہنمائی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالموں کو عذابِ الٰہی کی یاد دہانی کرانا انبیاء کی مشترکہ سنت رہی ہے، اور یہی روش آج بھی اختیار کی جانی چاہیے۔

خط میں بین المذاہب ہم آہنگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن اہلِ کتاب کو مشترکہ اقدار کی طرف بلاتا ہے، اور آج یہ مشترکہ نکتہ انسانیت کا دفاع اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ آیت اللہ اعرافی نے اعلان کیا کہ حوزہ علمیہ قم ویٹیکن کے ساتھ اس سلسلے میں مزید گہرے تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اس اخلاقی ہم آہنگی کو ایک عالمی تحریک میں بدلا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انبیائے الٰہی کی مشترکہ تعلیمات—جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل ہیں—آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں، اور دنیا میں انصاف کی آواز ایک دن ظلم و تشدد پر غالب آئے گی۔

Read 1 times