آخری سفارتی کوشش

Rate this item
(0 votes)
آخری سفارتی کوشش
کیا واقعی یہ مذاکرات امن کی ایک سنجیدہ کوشش تھے؟  یا پھر ایک ایسی آخری سفارتی کاوش جس کے ذریعے ہر فریق اپنے اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہتا تھا؟ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات بظاہر امن کی خواہش کا اظہار ضرور تھے، مگر حقیقت میں یہ تینوں ممالک کی ایک ایسی آخری کوشش تھی جس میں ہر فریق اپنے لیے گنجائش بھی پیدا کر رہا تھا اور دنیا کو ایک پیغام بھی دے رہا تھا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں نرم لہجے میں بات کی جا رہی تھی مگر پس منظر میں موجود عدم اعتماد اپنی جگہ برقرار تھا۔ امریکہ اور ایران تو خاص طور پر اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ان مذاکرات سے کوئی بڑا نتیجہ نکلنا مشکل ہے، اس کے باوجود یہ عمل جاری رکھا گیا تاکہ دنیا کے سامنے یہ واضح کیا جا سکے کہ وہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہے۔ یوں یہ مذاکرات صرف امن کی کوشش نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی مرحلہ بھی تھے جو آنے والے فیصلوں کے لیے بنیاد فراہم کرنے والا تھا۔
 
ایران کے لیے یہ مذاکرات کسی امید کی کرن سے زیادہ ایک سفارتی ذمہ داری تھے،  ایک ایسی روایت کا تسلسل جس کے ذریعے وہ خود کو ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ ماضی کے تجربات میں امریکہ کے وعدے کس طرح وقت کے ساتھ اور متعدد بار دورانِ مذاکرات تحلیل ہوتے رہے ہیں اور کس طرح ہر معاہدہ کسی نہ کسی مرحلے پر یکطرفہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ایران نے اس عمل میں شرکت کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اب بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک طرح کی پہلے سے حاصل شدہ اخلاقی برتری میں اضافہ کرنے کی کوشش تھی، تاکہ کل اگر حالات مزید کشیدہ ہوں تو ایران یہ کہہ سکے کہ اس نے ہر بار ہر ممکن حد تک امن کی راہ اختیار کی تھی۔ درحقیقت ایران کی یہ حکمت عملی دوہری تھی، ایک طرف عالمی برادری کو مطمئن کرنا اور دوسری طرف اپنے داخلی حلقوں کو یہ باور کرانا کہ ریاست نے کسی بھی ممکنہ راستے کو نظر انداز نہیں کیا۔ یوں ایران مذاکرات میں شریک ہو کر بھی دراصل اپنی آئندہ سخت پالیسیوں کے لیے اخلاقی بنیاد تیار کر رہا تھا۔
 
امریکہ کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہ تھا، بلکہ شاید زیادہ پیچیدہ تھا۔ ایک طرف وہ دنیا کے سامنے خود کو امن کا داعی ظاہر کرنا چاہتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس پر یہ الزام بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس کے اتحادی ساتھ چھوڑ چُکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک سمیت دُنیا بھر کے کئی ممالک آبنائے ہرمز پر ایرانی موقف کو سرکاری سطح پر مان چُکے ہیں۔ نیٹو کی حمایت میں بھی واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اس کے اپنے ملک کے اندر ایک نئی بیداری جنم لے رہی ہے، جہاں عوامی سطح پر یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا اسرائیل کی جنگ امریکہ کو لڑنی چاہیے یا نہیں۔ ایسے ماحول میں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک موقع تھے کہ وہ عالمی اوربالخصوص داخلی دونوں سطحوں پر اپنے مؤقف کو تقویت دے سکے۔ وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ تو ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، مگر مسئلہ ایران کی پالیسیوں میں ہے۔ یوں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک سفارتی اقدام کم اور ایک بیانیہ مضبوط کرنے کا ذریعہ زیادہ تھے، تاکہ حسبِ سابق  آنے والے کسی بھی سخت فیصلے کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا جا سکے کہ “ہم نے تو کوشش کی تھی”۔

پاکستان کے لیے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش تھے، جہاں اسے بیک وقت کئی محاذوں پر توازن قائم رکھنا تھا۔ ایک طرف اسے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کے ساتھ اپنے معاملات کو سنبھالنا ہے، دوسری طرف فارن ریزرو کی مسلسل کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ اس کی معیشت پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات بھی ایک حساس معاملہ بن جاتے ہیں، کیونکہ ایک طرف جغرافیائی اور مذہبی قربت ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ مالی اور دفاعی وابستگیاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی تعیناتی اور دفاعی تعاون میں اضافہ بھی اسی توازن کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے وہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تو کھڑا ہی ہے۔ مگر ایران سے بھی دشمنی نہیں رکھناچاہتا، پاکستان ایران کے سامنے کھل کر کہنا چاہتا تھا کہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش کریں تاکہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو سعودی معاہدات کی بنا پر ایران کے سامنے کھڑا نہ ہونا پڑے۔

پاکستان کی اپنی مجبوریاں تھیں، جیسے کہ یو اے ای کی جانب سے دہائیوں پر محیط ساڑھے تین بلین ڈالر قرض کی اپریل کے آخر تک ادائیگی۔ اسی تناظر میں تقریباً پانچ ارب ڈالر کی متوقع سعودی و قطری مالی امداد بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آتی ہے، جس کی شرائط تاحال واضح نہیں،  یہ بھی واضح  نہیں ہو سکا کہ اس میں سعودیہ کی طرف سے کتنی امداد ہے اور قطر کی طرف سے کتنی امداد دی گئی۔ آئندہ دو ہفتوں میں یہ عقدہ کُھل سکتا ہے۔{سعودی عرب کا تو دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ ہے پاکستان کے ساتھ مگر قطر کیوں امداد دے رہا ہے، اس کی وجہ معاشی تعاون بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان قطر کا خلیجی اتحادی بِھی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان سے "ایل این جی" معاہدہ بھی رہا ہے۔ اسی لیے قطر پاکستان کو مستقل معاشی سہارا دینا چاہتا ہے تاکہ پاکستان علاقائی طورپر مستحکم رہے، اس کے علاوہ مستقبل قریب میں قطر کا بھی سعودی طرزپر پاکستان سے دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے}۔

مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آیا یہ واقعی امداد ہے یا ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری جس کے بدلے میں پاکستان سے مخصوص توقعات وابستہ ہوں گی۔ اپریل اور جون 2026 تک کی ادائیگیوں کے دباؤ کے پیشِ نظر یہ مالی سہارا پاکستان کے لیے وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی جیوپولیٹیکل توقعات مستقبل میں اس کی پالیسیوں کو محدود بھی کر سکتی ہیں۔ مذاکرات کے عین وسط میں پاکستان نے گزشتہ سال کے دفاعی معاہدے کے تحت تیرہ ہزار فوجی اور درجن سے زائد سٹیلٹھ طیارے سعودی عرب میں تعینات کر دیئے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ تعیناتی امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اب سعودی عرب سے مکمل طور پر جانا ہو گا۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی کشتی میں سوار ہے جسے بیک وقت دو مختلف سمتوں میں چلانا پڑ رہا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی مجبوری بھی ہے اور مہارت بھی۔
 
آخرکار یہ حقیقت اب زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی کہ یہ تینوں ممالک اپنی اپنی آخری سفارتی کوشش کر چکے ہیں، اور اب اگلا مرحلہ الفاظ سے زیادہ اقدامات کا ہوگا۔  مذاکرات کی میز پر جو کچھ کہا گیا وہ شاید تاریخ کے صفحات میں ایک رسمی کوشش کے طور پر درج ہو، مگر اصل کہانی اب اس کے بعد شروع ہوگی جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق کھل کر فیصلے کرے گا۔ یہ وہ مرحلہ ہوگا جہاں بیانیے کی جنگ عملی حکمت عملی میں بدل جائے گی، جہاں سفارتکاری کی نرم زبان کی جگہ طاقت کی واضح زبان لے سکتی ہے۔ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے دفاع میں مزید سخت مؤقف اختیار کرے گا، امریکہ اپنے عالمی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائے گا، اور پاکستان کو اپنی بقا اور توازن کے درمیان ایک بار پھر باریک لکیر پر چلنا ہوگا۔ یوں یہ مذاکرات ایک اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے دور کا آغاز ہیں جہاں مفادات کی سیاست کھل کر سامنے آئے گی اور ہر فیصلہ اپنے ساتھ ایک نئی قیمت لے کر آئے گا۔
 
 
 تحریر: ارشد مہدی جعفری
Read 4 times