خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی جھڑپوں کے دوران عرب میڈیا نے مختلف زاویوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا ہے، جس سے ایک ایسے پیچیدہ بحران کی تصویر سامنے آتی ہے جس کے معاشی، سیاسی اور تزویراتی اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ان تجزیات میں صرف جنگ کے میدان کے نتائج ہی نہیں بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت، اس کے اعلان کردہ اہداف کی کامیابی یا ناکامی، اور اس تصادم کے علاقائی و عالمی توازن پر اثرات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔
ان رپورٹس کا بڑا حصہ اس جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات پر مرکوز ہے، خاص طور پر خلیج فارس کے ممالک کے لیے، جو آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ، توانائی کی تجارت میں خلل اور منڈیوں میں عدم استحکام کے باعث شدید معاشی جھٹکوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی دوران بعض میڈیا اداروں نے واشنگٹن اور شخصی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں تضادات کو بھی اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ اعلان کردہ اہداف اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ اور اس کی بحران کو سنبھالنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ کچھ تجزیے عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی معیشت پر اس جنگ کے طویل المدتی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔
ان تمام تجزیات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود عرب میڈیا اس بات پر متفق ہے کہ اس جنگ نے خطے کے سابقہ توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اور امریکہ کے ساتھ عرب ممالک کے مستقبل کے تعلقات اور حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
المیادین: کیا ٹرمپ خلیج فارس کے ممالک کے نقصانات کی پروا کرتے ہیں؟
المیادین ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے سب سے زیادہ معاشی نقصان خلیج فارس کے ممالک کو پہنچایا ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تیل و گیس کی برآمدات میں کمی آئی، سیاحت متاثر ہوئی اور خدمات کے شعبے میں جمود پیدا ہوا، جس سے ان ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خطے کی معیشت کو براہ راست 200 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، جس میں سے 103 سے 168 ارب ڈالر خلیجی ممالک کے حصے میں آئے ہیں۔ لاکھوں ملازمتیں ختم ہوئیں اور سماجی و معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں ٹرمپ کی بے توجہی کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں: اسرائیل کا دباؤ، خلیجی ممالک کو مالی وسائل کے طور پر دیکھنا، اور ایران کے مقابلے میں ناکامی کو چھپانے کی کوشش۔
الجزیرہ: ٹرمپ دو ناکامیوں کے درمیان پھنس گئے
الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز سیاست کو متضاد اور غیر متوقع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایران میں نظام کی تبدیلی کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا، جو حاصل نہ ہو سکا۔
ایران نے نقصانات کے باوجود اپنی داخلی یکجہتی برقرار رکھی اور سیاسی و فوجی سطح پر مزاحمت جاری رکھی۔ جنگ میں ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایک طرف حملوں میں شدت کی دھمکی دی، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق ٹرمپ اب دو ناکامیوں کے درمیان گھرے ہوئے ہیں: جنگ جاری رکھنے کی صورت میں بڑھتے اخراجات اور عالمی ساکھ کو نقصان، یا ایران کے شرائط پر سمجھوتہ، جو امریکی ناکامی کا اعتراف ہوگا۔
العربیہ: امریکہ کی سیاسی ساکھ متاثر
العربیہ نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے بحران کو عالمی سطح تک پہنچا دیا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
یورپ، چین اور بھارت کو اس صورتحال سے زیادہ معاشی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ امریکہ کو براہ راست کم نقصان ہوا ہے، تاہم اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی ہے کیونکہ وہ اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عربی 21: سعودی معیشت کی کمزوریاں بے نقاب
عربی 21 نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سعودی عرب کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس میں تیل و گیس کی برآمدات میں کمی، خوراک کی درآمد میں مشکلات، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان شامل ہے۔
سعودی مرکزی بینک کے مطابق 2025 میں ملک کو 96 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جو مسلسل دوسرا سال ہے۔ اگرچہ تیل کی آمدن زیادہ رہی، لیکن خدمات، مالیاتی لین دین اور دیگر شعبوں میں خسارہ برقرار رہا۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی خدمات پر اخراجات، سرمایہ کا بیرون ملک اخراج، بیرونی امداد اور تارکین وطن کی جانب سے 58 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اس خسارے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیشگوئی کی ہے کہ یہ خسارہ 2031 تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اقتصادی شرح نمو بھی کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
