ایرانی فوج کے ترجمان امیر محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ حقیقت میں ابھی ختم نہیں ہوئی اور مسلح افواج اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل اور مزید مستحکم بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آخری دنوں تک دشمن نے کئی بار زمینی حملے کی دھمکیاں دیں، لیکن ایرانی زمینی فوج کی تیاری اور مضبوط دفاعی انتظامات کے باعث وہ کبھی سرحدوں کے راستے کوئی کارروائی نہ کر سکا۔
انہوں نے جنگی میدان میں زمینی فوج کے کردار اور کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے جنگ کے دوران ہر محاذ پر ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ فوجی کمان اور انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹوں سے واضح تھا کہ دشمن حملے کی تیاری کر رہا ہے، اسی لیے جنگ سے پہلے ہی فوج کے تمام یونٹس مکمل تیاری کی حالت میں تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ زمینی فورسز نے جنگ کے دوران کئی اہم کارروائیاں کیں، جن میں دشمن کے ٹھکانوں پر فجر اور فتح میزائلوں سے کامیاب حملے بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے زمینی فوج نے مسلسل نگرانی اور دفاعی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں دشمن آخر تک زمینی حملے کی ہمت نہ کر سکا۔ سپاہ پاسداران کے ساتھ مل کر زمینی فورسز کی مشترکہ تیاری نے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا۔
امیر اکرمینیا نے فضائیہ کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی جنگی طیاروں نے خطے میں دشمن کے مختلف مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں اربیل، کویت اور قطر میں قائم ٹھکانے شامل تھے۔ ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں اس کارروائی کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے، جہاں ایرانی ایف-5 طیارے شدید دفاعی حصار عبور کرکے امریکی اڈے تک پہنچ کر اسے نشانہ بنایا۔ فضائیہ نے جنگ کے آخری دن تک دشمن کے مختلف مقامات پر ڈرون حملے جاری رکھے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی اصفہان میں دشمن کی دراندازی کے موقع پر زمینی فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی طیارہ مار گرایا، جس سے دشمن کی کارروائی ناکام ہوگئی۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
