ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران بحری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے سن ۱۹۸۲ کے کنونشن کا رکن نہیں ہے اس لئے آبنائے ہرمز کے سلسلے میں اس کا فیصلہ ، قانون کی بنیاد پر ہے۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ ان حالات میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں کسی بھی طرح کی خلل اندازی اور اس کے نتائج کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز، ایران کی ساحلی حدود میں واقع ہے، اس لئے ایران کو قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اس علاقے میں سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے، بحری گزرگاہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز کے مخاصمانہ یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کے سد باب کے لئے ضروری اور مناسب اقدامات کرے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
