مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حوالے سے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج اور تباہ کن صورت اختیار کرنے کے عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا کے انتظامات، انفرادری اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور ضروری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
تحقیقات میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی گئی۔ علاوہ ازیں سی سی ٹی وی ریکارڈ سے پمز نرسری میں ہنگامی صورتحال کے غیرمعمولی سرعت سے پیدا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جہاں فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی ۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود رہے۔ تقریباً 6:39:15 بجے تک گہرے دھویں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا۔ شواہد اس عمومی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سے ممکنہ کارروائی کی۔
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ ممکنہ طور پر غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث پیدا ہوئی، کیبل انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتشگیر مواد کو آگ لگ گئی۔
رپورٹ کے مطابق شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے کے امکان، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی کو آگ لگنے کی وجہ قرار دینے یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکان کی تائید نہیں کرتے۔ انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی موجود نہیں۔ انکوائری کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی نوعیت کی خرابی تھی۔
برقی خرابی کی درست نوعیت اور اس کی روک تھام میں ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کیا جانا ضروری ہے۔ مینٹی نینس ریکارڈ کے مطابق نرسری کے اے سی یونٹس کی سروسنگ کی گئی تھی۔ ریکارڈ کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کے جامع برقی حفاظتی جانچ کا موثر نظام موجود نہیں تھا۔ اہم بات ہے کہ برقی آلات کا فعال ہونا اس امر کے مترادف نہیں کہ اس کی برقی تنصیب بھی آگ سے مکمل طور پر محفوظ تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلات کو فعال رکھنے اور ان کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے درمیان اہم ادارہ جاتی خلا موجود تھا۔ نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا۔ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے۔ متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، چنانچہ ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سرعت کے ساتھ ممکن نہیں تھا۔ اس موقع پر صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی بہت محدود تھے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور نومولود بچوں کے انخلاء کے ایس او پیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتا لگانے، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے چند سیکنڈز میں کارروائی کی۔
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی ای ایس ریکارڈ کے مطابق ایکسٹرنل نوٹیفیکیشن (بیرونی امداد) 06:54 بجے جبکہ ڈسپیچ 06:55 بجے اور آپریشنل آمد 07:01 بجے ثابت ہوتی ہے۔ لہذا بنیادی تشویش 6:38 بجے پر آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان کا وقفہ ناقابل قبول ہے ۔ پمز کوئی آزمودہ Incident Command System قائم کرنے کا ثبوت نہیں پیش کر سکا جو آگ کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلاء، خطرے کی روک تھام، رسائی کے انتظام اور مربوط امدادی کارروائی کو فعال کر سکے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
