ایرانی خلائی ادارے کے سربراہ حسن سالاریہ نے کہا ہے کہ جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پارس2 کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور اسے لانچ کے پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔
وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خلائی ہفتے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں بالخصوص گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران کی خلائی صنعت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس شعبے میں تاریخی سنگ میل عبور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں وزارت دفاع و مسلح افواج کی معاونت، وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، جامعات، تحقیقی مراکز اور خلائی شعبے میں سرگرم دیگر اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
سالاریہ نے حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا پہلا مواصلاتی سیٹلائٹ ’’ناہید ۲‘‘ کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچایا گیا اور اس کے بیشتر تجربات بھی کامیابی سے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے خلائی کیریئر ’’قائم ۱۰۰‘‘ کی کارکردگی کے استحکام کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ’’چمران‘‘ سیٹلائٹ نے بھی اپنی کارکردگی کامیابی سے مکمل کی۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے مدار میں سیٹلائٹ کی پوزیشن کو کنٹرول کرنے کے الگورتھمز کی تیاری کے میدان میں ایران کا پہلا مداری قرب حاصل کیا گیا، جو ایک اہم کامیابی ہے۔
ایرانی خلائی ادارے کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’’سیمرغ‘‘ سیٹلائٹ کیریئر کے ذریعے سب سے زیادہ وزنی محمولے کو مدار میں پہنچانا بھی ایک اہم کامیابی تھی۔ اس کے علاوہ ’’سامان‘‘ مداری منتقلی بلاک کے سافٹ ویئر سمیولیٹر کا تجربہ بھی سیمرغ کے ذریعے کیا گیا۔ سامان بلاک کے جدید تر نمونے بھی تیار کیے جا رہے ہیں اور یہ بلند مداروں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سالاریہ نے ’’پایا‘‘ سیٹلائٹ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سیٹلائٹ نے اپنی مکمل کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ گزشتہ سال مدار میں پہنچایا گیا تھا اور کیمرہ سمیت اس کا پورا ذیلی نظام مکمل طور پر ایران میں تیار کیا گیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کی جدید نسلیں بھی زیر تعمیر ہیں اور اعلیٰ معیار کی تصویربرداری اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔
انہوں نے خلائی ڈیٹا تک رسائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سیٹلائٹ کنٹرول مراکز اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور تصاویر تک رسائی کے مراکز کا قیام اور توسیع وزارت مواصلات کے اہم پروگراموں میں شامل ہے، کیونکہ خلائی صنعت کو خلائی معیشت میں بروئے کار لانے کے لیے ڈیٹا تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
حسن سالاریہ نے بتایا کہ ’’پارس 2‘‘، ’’پایا‘‘ کا جدید تر نمونہ ہے اور اسے 3 میٹر سے بہتر تصویری ریزولوشن کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ لانچ کے پروگرام میں شامل ہے اور اس کی لانچ سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے خلائی صنعت میں نجی شعبے کی شرکت کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران نجی شعبے کے تیار کردہ تین سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے گئے ہیں۔ ان سیٹلائٹس کی تکنیکی سطح اگرچہ نسبتاً کم ہوسکتی ہے، تاہم نجی شعبے کی صلاحیتوں سے استفادہ اور خلائی صنعت کی ترقی میں تیزی لانے کے حوالے سے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
سالاریہ نے مزید کہا کہ ’’شہید سلیمانی‘‘ سیٹلائٹ منظومے کا پہلا نمونہ گزشتہ سال عشرہ فجر کے موقع پر پیش کیا گیا تھا اور یہ منظومہ اس وقت زیر تعمیر ہے۔ یہ وزارت مواصلات کے خلائی صنعت سے متعلق اہم منصوبوں میں شامل ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
