طوفان الاقصی آپریشن، ایک نپا تلا اور معقول اقدام

Rate this item
(0 votes)
طوفان الاقصی آپریشن، ایک نپا تلا اور معقول اقدام
 
طوفان الاقصی آپریشن انجام پانے سے پہلے فلسطین کے اندر پانچ ایسی اسٹریٹجک تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں جن کی روک تھام کے لیے ایک بڑا اور جرات مندانہ قدم اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ پانچ تبدیلیاں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی رفتار میں تیزی، قدس شریف اور مسجد اقصی پر ٹکراو، اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی صورتحال اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی مہم کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات بحال ہو جانے کا بڑھتا ہوا امکان شامل تھے۔ ان تمام تبدیلیوں کی روشنی میں ایک اہم نتیجہ نکلتا تھا اور وہ یہ تھا کہ وقت فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے حق میں آگے نہیں بڑھ رہا۔ 2023ء غزہ کے خلاف جاری ظالمانہ محاصرے کو 16 برس بیت چکے تھے اور 22 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری ایک کم چوڑی پٹی میں محبوس ہو کر رہ گئے تھے۔
 
مزید برآں، اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے ان فلسطینیوں کی نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں اور دیگر روزمرہ فعالیت پر شدید قدغن عائد کر رکھا تھا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ سے پہلے بے روزگاری کی شرح 44 فیصد تک جا پہنچی تھی اور 60 فیصد جوان بے روزگار تھے جبکہ 12 لاکھ فلسطینی شہری غربت کے عالم میں کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہو چکے تھے۔ حماس ایک اسٹریٹجک مشکل سے روبرو ہو چکی تھی۔ اس نے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رکھا تھا لیکن ظالمانہ محاصرہ ختم کرنے پر قادر نہ تھی۔ وہ مختصر مدت کی جنگوں میں غاصب صیہونی رژیم کو نقصان تو پہنچاتی تھی لیکن بنیادی مساوات تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ تعمیر نو کا کام بھی بہت آہستہ ہو چکا تھا جبکہ مذاکرات بھی محاصرہ ختم کروانے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے تھے۔
 
مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کا پھیلاو فلسطین کی جغرافیائی صورتحال کو مسلسل خراب کر رہا تھا۔ 2023ء تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں 7 لاکھ 50 ہزار یہودی آبادکار زندگی بسر کر رہے تھے۔ بنجمن نیتن یاہو نے 2022ء کے آخر میں جو کابینہ تشکیل دی تھی اس میں بزالل اسموتریچ جیسے انتہاپسند چہرے شامل تھے جنہیں حکومت میں آ جانے کے بعد مغربی کنارے میں گہرا اثرورسوخ حاصل ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں اسٹریٹجک صبر مزید ممکن نہیں تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں اسٹریٹجک ڈیڈلاک پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ اسی طرح قدس شریف اور مسجد اقصی پر تنازعات کا سلسلہ بھی بڑھ چکا تھا۔ مئی 2021ء میں سیف القدس معرکہ انجام پایا جس سے ثابت ہو گیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرنے میں مسجد اقصی کا کردار کس قدر اہم اور بنیادی ہے۔
 
2022ء اور 2023ء میں رونما ہونے والے واقعات نے حماس کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ مسجد اقصی کی بار بار بے حرمتی، نمازیوں سے ناروا سلوک اور صیہونی انتہاپسند فاشسٹ حلقوں کی جانب سے مسجد اقصی سے متعلق بڑھتے مطالبات نے حالات مزید کشیدہ کر دیے تھے۔ اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدی بھی ایک اور اہم ایشو تھا۔ 7 اکتوبر 2023ء سے پہلے 5 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جبکہ ان میں سے 1200 ایسے قیدی تھے جو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں بند تھے۔ جب اتمار بن غفیر کو صیہونی رژیم کا نیا وزیر سیکورٹی امور بنا دیا گیا تو اس نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف زیادہ سخت گیرانہ اقدامات شروع کر دیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غاصب صیہونی رژیم نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مہم شروع کر رکھی تھی جس نے مسئلہ فلسطین کو بالکل پس پشت ڈال دیا تھا۔
 
2023ء تک صورتحال کچھ ایسی تھی کہ حتی اسلامی دنیا میں بھی فلسطین کاز کو تقریباً بھلایا جا چکا تھا اور اس مسئلے نے حماس کو شدید تشویش کا شکار کیا ہوا تھا۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی پر مشتمل ابراہیم معاہدوں نے ثابت کر دیا کہ عرب حکومتیں مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی مشتاق ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء سے محض دو ہفتے قبل ہی صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ایسے "نئے مشرق وسطی" کی نوید دلائی جس کا مرکز و محور اسرائیل اور عرب ممالک میں تعلقات معمول پر لانا اور ایشیا کو یورپ سے ملانے والی اقتصادی راہداری کی تعمیر تھا۔ اس نے جس منصوبے کا اعلان کیا وہ فلسطین کی پوری تاریخ کو اسرائیل کے طور پر دکھا رہا تھا اور ایک آزاد اور خودمختار فلسطین ریاست کا تصور ہی ختم کر دیا گیا تھا۔
 
لہذا حماس کی جانب سے طوفان الاقصی آپریشن درحقیقت ایک ایسا انتہائی اقدام تھا جو مکمل طور پر بروقت، نپا تلا اور معقول تھا۔ اس حقیقت کو بھانپنے کے لیے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر نہیں بلکہ اس سے پہلے والے واقعات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس اسرائیل کی جانب سے وسیع پیمانے پر جوابی کاروائی کی بھرپور توقع رکھتی تھی اور اس کے باوجود اس نے طوفان الاقصی جیسا عظیم آپریشن انجام دیا۔ اگرچہ غزہ نے فلسطین کاز کی بقا اور اسے اجاگر کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے لیکن دنیا بھر میں اس کے واضح اثرات قابل مشاہدہ ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار حتی مغربی اور یورپی معاشروں میں اسرائیل ایک جارح اور ظالم کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس کے خلاف نفرت دنیا بھر میں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی اخلاقی فتح ہے۔
 
 
تحریر: سامی العریان (کالم نگار المیادین)
 
Read 2 times