قائد انقلاب اسلامي كي جنگي ياديں

Rate this item
(0 votes)

۔ حوصلہ

سردار سرتيپ عبدالله عراقي :

عراق كي ايران كے ساته جنگ كے دوران حضرت ايۃ اللہ خامنہ اي نے شہيد ڈاكٹر مصطفي چمران كے ساته جنگ ميں بہت قريبي اور فعال كردار ادا كيا ۔ آيۃ اللہ موصوف ہتهيار لے كر رات ميں دشمن كي شناخت كے ليے نكل جاتے تهے، مجاهدان اسلام كي حمايت كرتے تهے اور انهيں حوصلہ ديتےتهے۔ سال 1988 كي جنگ كے آخر ميں جب ميدان جنگ كي صورتحال كچه بدل رہي تهي اور كچه لوگ اپنا حوصلہ كهو بيٹهے تهے اس وقت قائد انقلاب اسلامي كے صدر جمهوريہ ہونے كے باوجود، خود فوجي لباس زيب تن كر كے ، اور ايك جديد ٹكنك كے ساته ميدان جنگ ميں آ پہونچے ۔ موصوف كا جنگ ميں آنا فوجيوں كي حوصلہ افزايي كا بہت زيادہ باعث بنا ، يہاں تك كے انقلاب اسلامي كے فوجيوں نے جنگ كو منظم طريقےسے جاري ركهتے ہوے دشمنوں كا حملات كو ناكام بناكر جمهوري اسلامي ايران كو كامياب بنايا۔

 

۔خرّمشهر كي جنگ

حجت الاسلام والمسلمين ذوالنور :

ہم نے تقريباً چاليس دن خرمشهر ميں مضبوطي كے ساته مقابلہ كيا اور عراقيوں كو شهر ميں داخل نہ ہو نے ديا ، اس دوران قائد انقلاب اسلامي نے دشمنوں پر حملہ كرنے ميں ايك بے نظير بهادري اور دليري كا مظاهرہ كيا، عراقيوں كے ٹينكوں كو تباہ و برباد كر كے ان كي پيش قدمي كو ناكام بنايا۔ مقام معظم رهبري كبهي كبهي ۳يا ۵ نفرہ ٹكڑي كے ساته دشمن كي فوج كے بيچ تك چلے جاتے تهے اور دقيق اور ناب طريقہ سے انكي اطلاعات كو فراہم كر كے امام خميني ۔رہ۔ كے ليے لاتے تهے۔

 

۔ پہچان

سرداربرگيڈئر پاسدار علي فدوي :

جنگ كے ابتداي دنوں ميں جب ہم ملك كي خفيہ ايجنسي ميں كام كر رہے تهےاور ہمارا كام دشمن كي پہچان كرنا تها اور ان كے منصّبوں كا پتہ لگانا تها۔ ہم ايك دن ايك علاقہ ميں دشمن كي شناسايي كے ليے گيے ہوے تهے جہاں كچه عرصہ پہلے دشمن كا پڑاو تها ، اس جگہ ايك كنواں تها ، كنويں كو دونوں طرف گهنا جنگل تها ، جس طرف بهي ہم كهڑے ہوتے تهے دوسري طرف سے، گهنے درختوں كي بنا پر كويي بهي ہميں ديكه نہيں سكتا تها۔ ہم يہ سوچ رہے تهے كہ عراقي كنويں كے اس پار ہيں اور يہي سوچتے ہوے ہم پوري نگراني كے ساته آگے بڑه رہے تهے اچانك ہميں كچه لوگوں كے چلنے كي آواز سنايي دي ، ہم نے سوچا دشمن عراقي ہماري طرف آگے بڑه رہے ہيں۔ وہ بهي ہماري طرح يہي سوچ رہے تهے ، ہم پوري تياري اور حفاظت كے ساته كنويں كے اس پار دوڑ كر گيے ، اچانك ہمار نظر رهبر معظم انقلاب كے چہرے پر پڑي كہ وہ بهي حضرت امام خميني كي طرف سے نمايندگي كر رہے ہيں اور چند لوگوں كے ساته ہم سے پہلے ہي اس منطقہ كا جايزہ لے كر واپس لوٹ رہے ہيں

مقام معظم رهبري كا يہ كام ہمارے ليے بڑا حيران كن تها ہم نے اس ديدار سے ہميں بہت بڑا ہوصلہ ملا ہم نے اپنے ہتهياروں كونيچے اتارہ اور قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي سے ملاقات كي آقا نے ہم سب سے مصافحہ كيا اور ہم سب كےبوسے ليے۔

 

۔ قائد انقلاب اسلامي فوجيوں كے ساته

اميربرگيڈئر احمد دادبي :

حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي جنگ كے دوران صدر جمهوريہ تهے، مريوان گيے اور وہاں لوگوں سے ملاقات كي، ملاقات كے بعد ہم سولہ گيے ،فوجي ، رضا كار اور فوجيوں كے بچے ، سب لوگ وہاں جمع تهے سولہ كي گيلري ميں دسترخوان بچهايا ۔ ہم نے حضرت سے كہا سولہ ميں بهيڑ ہے ہم ايك دوسري جگہ چلتے ہيں اور كهانا تناول فرماتے ہيں ،حضرت نے فرمايا: نہيں انہيں بچوں كے ساته كهانا كهاوں گا بہت زيادہ لوگ تهے رهبر معظم انہيں فوجيوں كے درميان بيٹهے ، بچوں نے رهبر معظم كے ساته بيٹه كر كهانا كهايا ، اس دن كا يہ منظر ميرے ليے ايك بہترين ياد گار تها كہ جو كبهي بهِ ميرے ذهن سے نكلنے والا نہيں تها۔

 

۔ مضبوط ستون

كمانڈر درپايان علي شمخاني

جنگ كے ابتدايي دنوں ميں ہم محاظ جنوب ميں كچه مشكلات كے شكار تهے جب بهي ہم اپني سختيوں اور مشكلوں كو بيان كرنا چاہتے تهے ، تو ہم رهبر معظم كي خدمت ميں چلے جاتے تهے جنوب كے محاظ پر انكا حاضر ہونا ہمارے ليے ايك مضبوط ستون كي طرح تها ، ہم اكثر اوقات رهبر معظم كے ساته ميٹنگ ركهتے تهے اور اپني مشكلات ان سے بيان كرتے تهَ اور ان سے مدد مانگتے تهے رهبر معظم آيۃ اللہ خامنہ اي بهي ہماري مشكلات كو امام زمانہ كے سامنے پيش كرتے تهے اور جہاں تك ہو سكتا تها حضور خود بهي ہماري مدد كرتے اور ہماري رهنمايي كرتے تهے۔

 

۔فوجي لباس

حجت الاسلام والمسلمين ذوالنور :

قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي نے مجه سے فرمايا : كہ ميں جنگ كے زمانے ميں ہميشہ فوجي لباس ميں ہوتا تها، ليكن ہميشہ مجهے يہ تشويش رہتي تهي كہ ميں كيا كروں فوجي لباس پہن كر ميدان ميں آوں يا روحاني پيغمبرانہ لباس پہن كر آوں ۔ ليكن جب بهي واپس تہران جايا كرتے تهے ، روحاني لباس اسي فوجي لباس كے اوپر پہن ليا كرتے تهے ، اور ساري رپوٹ امام خميني كي خدمت ميں پيش كر كے نماز جمعہ پڑحنے كے ليے جاتے تهے ۔ اپنے بات كو آگے بڑہاتے ہوے يہ بهي فرمايا: كہ ايك روز ميں ميدان جهاد سے جماران رپوٹ دينے كے ليے گيا امام خميني اپنے حجرے كي كهڑكي كے سامنے كهڑے تهے ۔ ميں اپني قميض كے بٹن كهول رہا تها كہ تهوڑي دير ہو گيي امام كهڑے مسكرا رہے تهے اور ميري طرف ديكه رہے تهے جب ميں كمرے ميں داخل ہوا ميں نے سلام كيا اور امام كے ہا تهوں كو چوما ، امام نے بهي ميري پشت پر ہاته مارا اور ارشاد فرمايا: كہ ايك زمانہ تها كہ يہ فوجي لباس ہمارے ليے شايان شان نہيں تها اور عرف عام ميں ہمارے ليے زيب نہيں ديتا تها ليكن آج يہ لباس آپ كے تن پر كتنا سج رہا ہے اور كتنا اچها لگ رہا ہے ،آيۃ اللہ خامنہ اي نے فرمايا : امام كے اس كلام نے ميرے دل سے اس تشويش كو ختم كر ديا كہ جوميں فوجي لباس كے بارے ميں ركهتا تها اور اس كے بعد ميں فوجي لباس پہننے ميں فخر محسوس كرتا تها۔

 

۔اصرار

سردار برگيڈئر پاسدار محمّد كوثري :

قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي كے صدر جمہوريہ منتخب ہونے كے بعد امام خميني نے ان كو جنگ ميں جانے سے منع كر ديا تها ۔ آيۃ اللہ خامنہ اي نے بہت زيادہ اصرار كے بعد آيۃ اللہ خميني سے جنگ ميں جانے كي اجازت لي اور دوبارہ جنگ ميں قدم ركها ، رهبر معظم نے جنگ ميں جانے سے پہلے امام جمعہ تہران ہو نے كے ناطے تمام آيمہ جمعہ كوپيغام ديا اور انہيں جنگ ميں آنے كي دعوت دي ۔ رهبر معظم كي اس انقلابي حركت نے ميدان جنگ ميں ايك بہت بڑي تبديلي لايي ۔ اس دوران رهبر معظم لشكروں كے درميان جاتے اور ان كے درميان آپسي اتحاد و بهايي چارے كي تحقيق كرتے ، ايك ايك سے ان كي مشكلات كو سنتے اور ہميشہ ايك باپ كي طرح سلوك كرتے، مہرباني اور عطوفت كے ساته ان كي باتوں كو سنتے تهے ۔ رهبر معظم كے اس طريقہ كار نے فوجيوں كے حوصلہ كو بلند كر ديا اور ان كے اندر ايسا اثر ڈالا كہ جو دشمنوں كي شكست كا باعث بنا۔

Read 1329 times

Add comment


Security code
Refresh