زیارت قبور کے بارے میں علمائے اھل سنت کا نظریہ کیا ہے؟

Rate this item
(1 Vote)
زیارت قبور کے بارے میں علمائے اھل سنت کا نظریہ  کیا ہے؟

سنندج شھر کے شورائے افتاء اور شورای علماء کا نظریہ: قبور کی زیارت کرنا سنت ہے اور اس میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے۔

کنگان شھر کے اھل سنت امام جمعہ شیخ محمد جمال : قبور کی زیارت کرنا اس حدیث شریف : "زوروا القبور فانھا تذکرکم الآخرۃ" ( قبور اور مقبروں کی زیارت کے لئے جاؤ یہ تمھیں آخرت کی  یاد دلاتے ہیں،) کی رو سے جائز ہے۔

نخل تقی شھر کے اھل سنت امام جمعہ  شیخ عبد الستار حرمی : قبور کی زیارت کرنا اس لحاظ سے کہ انسان نصیحت اور عبرت حاصل کرے جائز ہے، البتہ اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ انسان جس جگہ بھی دعا کرے، خدا سنتا ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ قبر کے پاس ہی دعا کرے۔

اھل سنت کے  دینی مدارس کے تدریسی نظام  کی شوریٰ کے ممبر اور شورائے علماء اھل سنت کے نائب اور شورائے افتاء کے سرپرست شیخ خلیل افراء :  تذکراورعبرت حاصل کرنے کےلئے قبور کی زیارت  آنحضرت (ص) کی اس حدیث کے مطابق:  زوروا القبور فانھا تذکرکم الآخرۃ " جائز ہے اور اس میں کوئی منع نہیں ہے۔

 شھر باباجانی کے اھل سنت امام جمعہ ماموستا ملا احمد شیخی : قبور کی زیارت ، اگر نصیحت اور عبرت حاصل کرنے  اور آخرت کی یاد آوری کے لئے ہو تو جائز ہے خصوصا مردوں کے لئے۔

شھر سر پل ذھاب کے اھل سنت امام جمعہ ماموستا ملا رشید ثنائی : پیغمبر اکرم (ص) ہر دن جنت البقیع میں قبور کی زیارت کرنے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔ پس یہ مسلمانوں کے لئے سنت ہے۔

پاوہ شھر کے ضلع نوسود کے اھل سنت امام جمعہ ماموستا حسین عینی : اگر انسان جائے اور ایک سورہ فاتحہ قرائت کرے اور موت کی یاد تازہ کرے اور دعا خیر بھی کرے تو یہ ایک اچھا کام ہے۔

شھر عسلویہ کے اھل سنت امام جمعہ شیخ ابراھیم محمدی: زیارت قبور مردوں کے لئے جائز ہے اور اس کی حکمت بھی تذکر اور عبرت حاصل کرنا ہے، لیکن عورتوں کی زیارت کے  بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اور علماء شافعی مذھب کا نظریہ یہ ہے کہ عورتوں کا مقبرے پرجانا جائز نہیں ہے۔

 مدرسہ مولوی یاری کے پرنسپل ماموستا محمد محمدی یاری : قبور کی زیارت کرنا شرعی طریقے کے مطابق سنت ہے اور صحیح احادیث میں زیارت قبور کی اجازت موجود ہے ۔

شھر قصر شرین کی مسجد النبی (ص) کے اھل سنت امام جماعت ماموستا ملا عادل  غلامی :

قبور کی زیارت کرنا اھل سنت کی نظر میں جائز ہے۔ آنحضرت (ص) بھی صبح کو نماز صبح کے بعد قبرستان بقیع  کی زیارت کو جاتے تھے اور رسول اکرم احد کے مقبرے کی اور دوسرے مقبروں کی زیارت کو جاتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے ۔ حقیقت میں قبور کی زیارت کرنا موت کی تاد کو تازہ کرتی ہے۔

شھر روانسر کے اھل سنت امام جمعہ ماموستا ملا عبد اللہ غفوری : یہ بات قطعی ہے کہ اھل قبور کی زیارت عام طور پر اور بزرگوں اور صالحوں کے قبور کی زیارت خصوصی طور پر اھل سنت کے نزدیک تذکر اور عبرت حاصل کرنے کے لئے  مطلوب بلکہ مسنون ہیں  حضرت ام المومنین عایشہ نے فرمایا: آنحضرت (ص) بعض راتوں کو جنت البقیع کی زیارت کے لئے جاتے تھے ۔

شھر باغلق کے اھل سنت امام جمعہ آخوند رحیم بردی صمدی: اھل سنت کے نزدیک اھل قبور کی زیارت کرنا اھم ہے۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ : انھا نھتکم عن زیارۃ القبور الا فذروھا"

مولوی امان اللہ برزگر سمیع آباد کے اھل سنت امام جمعہ : چونکہ آنحضرت (ص) کی ایک حدیث کے مطابق اھل قبور کی زیارت ہمیں آخرت کی یاد دلاتی ہے تو ہمیں زیارت قبور کے لئے جانا چاھیئے اور سب اولیاء خدا اپنے مشایخ اور اساتذہ کی وفات کے بعد  ان کی قبروں سے مدد طلب کرتے تھے ۔ اور اھل اللہ انھیں باذن الھی راھنمائی کرتے ہیں۔

 تایبا کے اھل سنت امام جمعہ مولوی توکلی : اھل قبور کی زیارت آخرت کی یاد آوری کے لئے ہے اور قبور کی زیارت انسانوں کو موت کی یاد دلاتی ہے۔

تربت جام کے اھل سنت امام جمعہ مولوی شرف الدین جامی الاحمدی : " زیارت القبور کفارۃ الذنوب" ( اھل قبور کی زیارت گناھوں کا کفارہ ہے) اور خود آنحضرت بھی بقیع میں زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور سلام کرتے تھے لیکن جماعت کی صورت میں نہیں ہونا چاھیئے۔

 

Read 273 times

Add comment


Security code
Refresh