توسل کے بارے میں علماء اھل سنت کا نظریہ کیا ہے؟

Rate this item
(0 votes)
توسل کے بارے میں علماء اھل سنت کا نظریہ کیا ہے؟

ماموستا ملا رشید ثںائی ، امام جمعہ سر پل ذھاب : اھل سنت کی نظر میں توسل جایز ہے ، کیونکہ توسل کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صالح شخص کو خدا جانا جائے۔

ماموستا حسین عینی  پاوہ شھر کے نوسود تحصیل کے امام جمعہ: جب بارش نہیں برستی تھی تو حضرت عباس ( آنحضرت کے چچا ) سے توسل کیا اور اس طرح رسول اکرم (ص) کے چچا کی برکت سے بارش آئی۔ اگر خدا نخواستہ توسل میں کسی شخص کو خدا نہ جانیں تو توسل صحیح اور جائز ہے۔ لیکن اگر کسی کو خدا جانیں تو شرک ہے۔

ماموستا محمد محمد یاری ، مدرسہ مولوی یاری کے پرنسپل : توسل کرنا جائز ہے، چاہے وہ اعمال ہوں یا اشخاص ، قرآن اور حدیث نبوی میں توسل کے سلسلے میں کافی آیات اور روایات موجود ہیں۔

قصر شیرین کی مسجد النبی (ص) کے امام جماعت ماموستا ملا عادل غلامی :

توسل کے معنی وسیلہ کے ہیں ، لیکن قرآن کی اصطلاح میں ہر اس کام کو جو ہمیں خداوند متعال سے نزدیک کرے ۔اھل سنت کی نظر میں توسل کے معنی یہ ہیں کہ ہم اپنے اعمال کے ذریعے جیسے نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے اور حج اور زکات کے ذریعے خدا سے توسل کرتے ہیں  یا خدا سے چاہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ اطھا (ع)  کے مقام یا اصحاب یا صالحین کے مقام ومنزلت کی وجہ سے بخش دے۔

 سنندج کے شورائے علماء اور شورائے افتاء : تین چیزوں سے توسل کرنا جائز ہے۔ ایک دوسرے کی دعائے خیر، ۲۔ اپنے اعمال صالحہ ، ۳۔ اسماء الحسنی سے توسل کرنا۔

عسلویہ کے اھل سنت کے امام جمعہ شیخ ابراھیم محمدی: اھل سنت کے نزدیک توسل ایک مشروع عمل ہے، لیکن صرف خداوند متعال کے اسماء اور صفات سے یا خود توسل کرنے والے شخص اپنی عمل صالح کے ذریعے یا زندہ حاضر شخص سے دعا طلب کرنا جائز ہے۔

کنگان کے امام جمعہ شیخ جمالی :  اھل سنت زندہ مومنین اور صالحین سے توسل کرنا اور اعمال صالحہ سے توسل کرنا جائز جانتے ہیں۔

 نخل تقی کے اھل سنت امام جمعہ شیخ عبد الستار حرمی :  نیک اور صالح آدمیوں کی دعا سے توسل کرنا جائز ہے  اپنے عمل صالح سے بھی توسل کرنا جائز ہے۔ اسماء اللہ سے توسل کرنا جائز ہے۔

اھل سنت کے دینی مدارس کے  شورای تدوین نصاب  کے ممبر اور شورائے روحانیت اھل سنت کے نائب چیئرمین اور شورای افتاء کے سرپرست شیخ خلیل افراء ۔

لغت میں توسل وسیلہ سے لیا گیا ہے، جس کے معنی تقرب حاصل کرنا اور وسیلہ لینے کے ہیں۔ راغب کے مفردات میں وسیلہ کی یہ تعریف کی گئی ہے : وسیلہ کے معنی  اس چیز سے توسل کرنے کے ہیں جس کی جانب میلان اور رغبت ہو ۔ اور ہر اس چیز سے جس کے ذریعے انسان مقصد تک پہنچ جائے چاہے وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز ۔ یہ لغت میں توسل کی تعریف ہے ۔

لیکن اصطلاح میں توسل ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے انسان اپنی گناہوں کی بخشش  کے لئے اور اپنے حاجات روا ہونے کےلئے خدا سے نزدیک ہوجائے جیسے کہ پیغمبر اکرم (ص) صالح بندے کی حیات کے دوران ۔ اپنے نیک اعمال اور دعا سے توسل کرنا۔

توسل کا معنی اور مفھوم کے لحاظ سے استغاثہ کے ساتھ کوئی فرق نہیں ہے۔ اور صحیح حدیث میں یہ بات ذکر ہوئی ہے۔ ( ان الشمس تدنو یوم القیامۃ حتی یبلغ  العرق نصف الاذن فبینما ھم کذالک استغاثوا بآدم ثم موسی ثم بمحمد (ص) ۔ یہ حدیث مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے ۔ ترجمہ: قیامت کے دن جب لوگ سورج کی شدید گرمی  سے بے تاب ہوجائیں گے تو وہ پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کریں گے اور ان سے مدد چاھیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ توسل اور استغاثہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں ہے ان دونوں کے مورد استعمال ایک ہی ہے۔ ، انبیاء  اور صالحین سے استغاثہ  اور توسل کرنے  کے ایک ہی معنی ہیں۔  اور وہ یہ ہے کہ انہیں جو کرامت اور مقام خداوند متعال کے پاس ہے،  مقصود تک پہنچنے کے اسباب اور وسائل ہیں اور یہاں پر فاعل خداوند متعال ہے۔

کس طرح انسان خداوند متعال سے متوسل ہوتا ہے؟ خدا وندمتعال کا ارشاد ہے ( یا ایھا الذین آمنوا اتقو اللہ  و ابتغو الیہ الوسیلہ ۔....) ایمان والو! خدا سے ڈرو یعنی تقوی اختیار کرو ، اور خدا کے لئے وسیلہ قرار دو ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ خداوند متعال کی جانب بھترین وسیلہ تقوی اور خدا سے ڈرنا ہے۔ ( خداوند متعال سے توسل کرنا اور اس کی ذات سے متوسل ہونے کا مطلب  خدا کے اسماء اللہ الحسنی اور اس کے مقدس ناموں سے  توسل کرنا ہے ۔ زندہ صالح انسان سے توسل کرنا ، یعنی صالح شخص آپ کے لیے  دعا کرے  جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی حیات طیبہ میں اھل بیت اطھار (ع) اور اصحاب کرام (رض) پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کرتے تھے ۔ جس وقت پیغمبر نے ان کے لئے بارش طلب کی۔

عمل صالح سے توسل کرنے کی مثال ان لوگوں کی ہے جو غار میں داخل ہوئے اور پہاڑ سے ایک بڑا پتھر گرا  جس نے غار کا دروازہ بند کردیا ، ان تین آدمیوں جن پر غار کا دروازہ بند ہوگیا  اپنے اس نیک عمل سے متوسل ہوئے جو انہوں نے انجام دیا تھا  پتھر اپنی جگہ سے ہٹا اور غار کا دروازہ کھلا ۔ اور یہ سلامتی سے باہر آئے۔

ماموستا ملا احمد شیخی امام جمعہ ثلاث بابا جانی : حضرت علی (ع) نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۱۰  میں اس مشروط توسل کو بیان کیا ہے  جو کہ مورد قبول ہے اور اھل سنت اس کی تایید کرتے ہیں۔

ماموستا ملا عبد اللہ غفوری امام جمعہ روانسر :  آیہ شریفہ  " و ابتغوا الیہ الوسیلۃ " کے مطابق وسیلہ قرار دینا جیسے عبادات اعمال صالحہ ، صلہ رحم اپنے والدین کی جانب توجہ ، بزرگان دین کی پیروی  اور ان کی حیات میں ان کی عزت اور احترام کرنا ، " موت کے وقت المرء مع من احب " انسان اسی کے ساتھ محشور ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔  لہذا صالحین سے انس رکھنا، رستگاری کا سبب بنتا ہے۔

باغلق کے اھل سنت امام  آخوند رحیم بردی صمدی:  اھل سنت کا  توسل پر اعتقاد ہے اور یہ بات ثابت ہوئی ہے۔

تایباد کے اھل سنت امام جمعہ مولوی توکلی: صالحین اور بزرگوں سے توسل کرنا اور ان سے دعا طلب کرنا ان کے زندہ ہونے کی صورت میں ہے۔

 مولوی نور اللہ فرقانی خلیل آباد خواف : توسل جائز ہے لیکن ہر چیز سے توسل نہیں کیا جاسکتا ہے  حضرت علی (ع) نے نہج البلاغہ میں  بہت اچھے مطالب بیان کئے ہیں " و ابتغوا الیہ  الوسیلہ " نیک اعمال ، نماز  وغیرہ ، سب وسیلہ ہیں ، پیغمبر (ص) اور نیک اشخاص سے توسل کیا جاسکتا ہے۔

مولوی شرف الدین جامی الاحمدی تربت جام اھل سنت امام جمعہ: کوئی اشکال نہیں ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ بے واسطہ مقابل والے سے کوئی چیز درخواست نہ کرے بلکہ یہ نیت ہونی چاھیئے کہ اس شخص کے ذریعے جو کہ مقرب در گاہ الھی ہے، میرے حاجات روا ہوجائیں۔

سمیع آباد کے اھل سنت امام جمعہ مولوی امان اللہ برزگر :

 خداوند کا ارشاد ہے کہ " و ابتغوا الیہ الوسیلۃ " اور یہ وہی توسل کا معنی ہے ، بعض وسیلے سے مراد نماز اور روزہ اور نیک اعمال جانتے ہیں لیکن اکثر اھل سنت کی مراد  خدا کے صالح بندے ہیں، چاھے وہ زندہ ہوں یا وفات پائے ہوں۔ وہ خدا سے تقرب حاصل کرنے کا وسیلہ ہیں۔ یعنی وہ اس طرح کہتے ہیں کہ خدا اس صالح بندے کے احترام میں ہمارے اوپر رحم کر یا ہمارے بیمار کو شفا عنایت کر۔

 

Read 20 times

Add comment


Security code
Refresh