تکفیریوں کے عقاید اور سیاست کے بارے میں اھل سنت کا نظریہ کیا ہے؟

Rate this item
(0 votes)
تکفیریوں کے عقاید اور سیاست کے بارے میں اھل سنت کا نظریہ کیا ہے؟

شورای افتاء اور شورای علماء سنندج: ہمارے اصول کے مطابق آج کل کے تکفیری خوارج میں سے ہیں اور ان کے عقاید اوران کا  مذھب ، اسلام کے دائرے سے باہر ہے یہ ہمارا اصول ہے۔

عسلویہ کے امام جمعہ شیخ ابراھیم محمدی :علماء اھل سنت کی نظر میں کسی کو ہرگز یہ اجازت نہیں دی گئی ہے کہ وہ دوسرے کو کافر قرار دے ۔ مگر یہ کہ وہ شخص ایسا کام کرے کہ جو اس کے کافر ہونے کو بیان کرے مثال کے طور پر اگر کوئی اسلام کے کسی بھی رکن کا انکار کرے، اس صورت میں ہر کوئی اس کو کافر نہیں کہہ سکتا بلکہ اس کو قاضی کے پاس جانا ہے اور قاضی اس کی نصیحت کرے گا تاکہ وہ شخص اپنے کام سے پلٹ آئے۔

شیخ عبد الستار حرمی امام جمعہ اھل سنت نخل تقی : اسلام اعتدال اور میانہ روی کا دین ہے ، پیغمبر اکرم(ص)  نے عبادات میں غلو اور افراط سے روکا ہے۔ ھر طرح کا افراط مذموم ہے یہ افراط کبھی کفر کی حد تک پہنچتا ہے اور کبھی فسق اور گناہ کی حد تک ، ان فرقوں کے اعتقاد کے بارے اھل سنت کا نظریہ حضرت امام علی (ع) اور باقی اصحاب سے لیا گیا ہے، اور آج کے دور میں تکفیری فرقے کا پرانے تکفیری فرقوں سے زیادہ فرق نہیں ہے۔

دینی مدارس کے شورای تدوین نصاب کے ممبر اور اھل سنت کے شورای افتاء کے نائب صدر شیخ خلیل افراء :

تکفیر یعنی معاشرے کے  کسی فرد کے بارے میں حکم کفر دینا ، یعنی کسی بھی اھل قبلہ یا مسلمان کو کفر کی نسبت دینا ۔ یہ مسئلہ خطرناک بدعتوں میں ہے کہ اس حساس دور میں بعض مسلمان  اس میں مبتلا ہوئے ہیں ، یعنی وہ بغیر کسی تامل اور تحقیق کے مسلمانوں کو کفر اور بے دینی کی نسبت دیتے ہیں۔

پس جہاں تک ممکن ہو۔ ہمیں تکفیر کے خطرے سے دوررہنا چاھیئے ، اور جان لینا چاھیے کہ جوکچھ بھی اس سلسلے میں کہا جائے گا اس کے بارے ایک دن ہم سے حساب لیا  جائے گا خدا کا ارشاد ہے  : و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر و الفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا ( اسراء ۳۶)

ہمارے اوپر واجب ہے کہ قرآن اور سنت کی پیروی کریں اور ائمہ اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی پیروی کریں یہاں تک کہ تکفیر کے خطرے سے نجات پا سکیں اور اپنے لئے دنیا اور آخرت  راہ نجات اور سعادت اور فلاح حاصل کرسکیں۔

تکفیر دین کے احکام میں سے ایک حکم شرعی ہے جس کے اسباب و شرائط اور موانع اور علامت مندرجہ ذیل ہیں :

تکفیر کے قاعدے :

۱۔ کسی انسان کو کافر جاننا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا کفر کسی یقینی اور شرعی دلیل سے ثابت ہو۔کیونکہ حقیقی کافر وہی ہے جس کو خدا اور رسول نے کافر جانا ہے

۲۔ کوئی بھی کفر کا حکم نہیں دے سکتا  مگر یہ کہ جو شرعی دلائل سے آگاہ اور عالم ہو۔

۳۔ کفر اور تکفیر کے احکام کو سیکھنا چاھئے تاکہ ہر ایک پر کفر اور تکفیر کا فتوی نہ لگائیں۔

۴۔ تکفیر میں حد سے زیادہ غلو کرنا جائز نہیں ہے خصوصا ہمارے شرع میں غلو اور افراط سے منع کیا گیا ہے۔

ہم مسلمانان اپنے مذھب کے کلامی مباحث میں  اھل سنت  کے مطابق کسی بھی ایسے مسلمان کو جو قبلہ کی جانب نماز پڑھتا ہو کفر کی نسبت نہیں دیتے ہیں ، خصوصا کلامی کتابوں میں جیسے کہ کتاب عقیدہ الطماویہ کہ جو مدارس عالیہ میں پڑھائی  جاتی ہے ، ولا نکفر اھل القبلہ ۔۔۔۔ سب اھل قبلہ مسلمان ہیں اور وہ شھادتین کو زبان پر جاری کرتے ہیں ، یہ پیغمبر کے حدیث کی نص ہے : امرت ان اقاتل الناس حتی شھدوا ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا رسول اللہ  و یقیموا الصلاۃ و یوتوا الزکاۃ ما ذا حفلوا ذلک عصموا منی دمائھم و اموالھم الا بحق الاسلام و حسابھم علی اللہ تعالی

مسلمانوں کے سب مذاھب اور اسلامی فرقے ، جو کلمہ شھادتیں پڑھتے ہیں انھیں کفر کی نسبت ںہیں دی جاسکتی ، سب اسلامی مذاھب ، شافعی ، حنفی ، شیعہ ، حنبلی ، مالکی ، صوفی  زیدی سب اور سب مسلمان ہیں ان میں کسی کی تکفیر کرنا اور لعنت بھیجنا جائز نہیں ہے بلکہ ہم اس کو حرام جانتے ہیں ، اور اس سلسلے میں ایران کے سبھی اھل سنت کا نظریہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اسلامی مذاھب میں سے کسی ایک بھی مذھب کو تکفیر کرنا جائز نہیں ہے ۔ سب اھل سنت کی نظر میں تکفیر ممنوع ہے اور انسانیت اس کی مذمت کرتی ہے ۔

ماموستا ملا احمد شیخی امام جمعہ ثلاث باباجانی: تکفیری اھل سنت کی نظر میں دین سے الگ ہیں کیونکہ قرآن اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے  ، اور تفرقہ ڈالنے والے شیطان کے دوست ہے۔

تکفیر سنیوں کی طرف سے ہو یا شیعوں کی طرف سے ، چاھے شیعہ سنی کو تکفیر کرے یا سنی شیعہ کو ، اور دیںی امور میں اماموں یا صحابہ کو تکفیر کریں یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے اور یہ قرآن اور سنت کے منافی ہے۔

ماموستا ملا رشید ثنائی امام جمعہ سر پل ذھاب : اھل سنت کی نظر میں تکفیریت کی نفی کی گئی ہے کیونکہ قرآن اور اسلام کی نظر میں اختلاف اور تفرقہ کی مذمت کی گئی ہے اور اس میں شک نہیں کہ تفرقہ پیدا کرنے والے شیطان کے دوست ہیں۔

ماموستا حسین عینی امام جمعہ تحصیل نوسود شھر پاوہ : مسلمانوں کے درمیان تکفیریت حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کرنے کے لیے ایک فتنہ ہے اور اس طرح کے اعتقادات اور افکار مسلمانوں کے درمیان مذموم ہیں۔

ماموستا محمد محمدی یاری ، مولوی یاری مدرسہ کے مہتمم : ایران کے اھل سنت قطعی طور پر تکفیری عقاید ، نظریات اور ان کی سیاستوں  کے مخالف ہیں ، یہ اسلام دشمن طاقتوں  کی ایک پرورش یافتہ جماعت ہے اور ان کا مقصد اسلام کے نام پر ہی اسلام کو بدنام کرنا ہے۔

ماموستا ملا عادل غلامی قصر شیرین کی مسجد النبی (ص) کے امام جماعت : قرآن اور اھل سنت کی نظر میں کسی بھی مسلمان کو کفر کا فتوی لگانا حرام ہے۔ کسی کے کفر پر قائل ہونے پر اس میں کافر ہونے  شرائط موجود ہونے چاھیئے ، لیکن آج کے دور میں جو تکفیری سب مسلمانوں پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور اس طرح انسانوں کا قتل عام کرکے ، دنیا میں نا امنی پھیلاتے ہیں  یہ سب صھیونی طاقتوں کے آلہ کار ہیں جن کا مقصد مسلماںوں اوراسلام کو مٹانا ہے۔ چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ ، اس سے ان کام نہیں ہے یہ صرف اسلام کو خاک میں ملانا چاھتے ہیں لہذا ہم اھل سنت ان سے برائت کا اعلان کرتے ہیں خدایا مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف ڈالنے والوں کو نابود فرما ۔

ماموستا  ملا عبد اللہ غفوری امام جمعہ روانسر : اھل سنت کی رو سے تکفیری مورد انکار ہیں ، کیونکہ قرآن اور اسلام میں تفرقہ سے روک دیا گیا ہے اور تفرقہ پیدا کرنے والا شیطان کا دوست ہے۔

تکفیریوں کے عقائد باطل اور سب مسلماںوں کے عقاید کے خلاف ہیں ، کیونکہ وہ اپنے علاوہ سب  مسلمانوں اور اھل قبلہ اور اھل شھادتیں کے کفر کا حکم دیتے  ہیں ، من کفر مسلما فقد کفر من قال لا الہ الا اللہ و انی رسول اللہ و اقام الصلاۃ و اتی الزکات و ۔۔۔۔

نتیجہ کے طور پر تکفیریوں کے اعتقادات اور ان کی سیاستیں  چاھے وہ قتل عام ، خوف و دہشت پھیلانے ، ظلم و ستم کرنے اور عزت کو پامال کرنے کی صورت میں ہو وہ دین اسلام کے سراسر منافی ہے  یہ لوگ دہشت گرد ، قاتل اور ظالم ہیں۔

آخوند رحیم بردی صمدی امام جمعہ اھل سنت باغلق : تکفیریوں کے عقائد اور ان کی افکار اھل سنت کے نقطہ نظر میں باطل اور اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

مولوی توکلی امام جمعہ اھل سنت تایباد: تکفیریوں کو اپنے اعتقادات میں کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ وہ احکام شریعت کے پابند نہیں ہیں۔ جو بھی انہیں نہیں مانتا ہو وہ اسے کافر جانتے ہیں ان کے اعتقادات اور افکار ہم اھل سنت کی نظر میں باطل ہیں۔

مولوی نور اللہ فرقانی خلیل آباد خواف : امام ابو حنیفہ نے فرمایا: جو بھی لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا وہ مسلمان ہے اور اس کو کافر قرار دینا جائز نہیں ہے۔ تکفیریت ایک ایسا مسئلہ ہے جو مسلمانوں کو ختم کرنا چاھتے ہیں مسلمانوں کے درمیان یہ انحرافی فکر ختم ہونی چاھیئے۔

مولوی شرف الدین جامی الاحمدی امام جمعہ اھل سنت تربت جام : اھل سنت و الجماعت کی نظر میں مسلماںوں کو کافر قرار دینا  جائز نہیں ہے خصوصا امام ابو حنیفہ نے فرمایا: جو بھی لاالہ الا اللہ کہے وہ مسلمان ہے اگر چہ ظاھر طور پر ہو ، اور اس کو کافر قرار دینا حرام ہے۔

مولوی امان اللہ برزگر سمیع آباد کے اھل سنت امام جمعہ : تکفیری نہ صرف اھل سنت ہی نہیں ہیں بلکہ وہ  مسلمان ہی نہیں ہیں وہ محارب اور مفسد فی الارض ہیں ، وہ شیعیوں اور سنیوں کو کافر قرار دیتے ہیں جبکہ اھل سنت ھر اس شخص کو جو کلمہ شھادتین پڑھتا ہو مسلمان جانتے ہیں اور اس کی جان ، مال اور عزت محفوظ ہے۔

Read 19 times

Add comment


Security code
Refresh