عباسی گھٹن میں امام حسن عسکری(ع) کی پانچ انتہائی خفیہ حکمت عملیاں ترجمہ: فرحت حسین

Rate this item
(0 votes)
عباسی گھٹن میں امام حسن عسکری(ع) کی پانچ انتہائی خفیہ حکمت عملیاں ترجمہ: فرحت حسین

تاریخ کی مختصر سی ورق گردانی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات طیبہ کے مختصر جائزے سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امامت کی حیات کا یہ دور سابقہ ادوار سے بالکل مختلف تھا۔ عباسی سرکار نے مسلمانوں کے درمیان امام حسن عسکری علیہ السلام کی خاص منزلت کے پیش نظر، آپ کی زندگی کے تمام شعبوں پر کڑی نگرانی کا انتظام کیا تھا اور ستمگر حکمران آپ کے لئے کسی بھی قسم کی قائل نہ تھے۔ امام(ع) کے تمام علمی، ثقافتی، سیاسی، دینی اور سماجی تعلقات پر حکومت کی نہایت شدید حفاظتی اور معلوماتی نگرانی قائم کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود  آپ نے عباسی دور کے شدید گھٹن کے اس دور میں شیعہ معاشروں کی تقویت اور اپنے پیروکاروں کے لئے فکری، ثقافتی امداد رسانی کے لئے پانچ انتہائی خفیہ حکمت عملیوں کا انتظام کیا تھا:

1۔ نہایت قابل قدر علمی اور ثقافتی کوششیں  

گوکہ کہ امام(ع) کو عباسی سرکار کی کڑی نگرانی کا سامنا تھا مگر آپ نے تمام تر سیاسی اور معاشرتی گھٹن اور دباؤ کے باوجود ایسے شاگرد تیار کئے تھے جنہوں نے اسلامی علوم و معارف کی ترویج، شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کے شبہات کا ازالہ کرنے اور سائلین کے سوالات کا جواب دینے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ شیخ طوسی فرماتے ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ان فکری سپاہیوں کی تعداد ـ جو بہر طور امام(ع) کے چشمہ علم و معرفت سے سیراب ہوئے تھے ـ 100 تک پہنچتی تھی۔ (1) ان نمایاں علمی شخصیات میں سے کچھ نمایاں ترین  احمد بن اسحاق قمی، ابو ہاشم داؤد بن قاسم جعفری، عبداللہ بن جغفر حِمیَری، ابو جعفر محمد بن عثمان سعید بن عَمرِی وغیرہ ہیں۔

2۔ شیعیان اہل بیت(ع) کے ساتھ رابطے کے لئے خفیہ جال بچھانا

امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں شیعہ معاشرہ قم، آبہ، نیشابور، سامرا، خراسان، یمن، رے، آذربائی جان، کوفہ، بصرہ، جرجان، بغداد سمیت دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں اور متعدد شہروں میں پھیلا ہوا تھا۔ جن کے درمیان سامرا، بغداد، نیشابور، قم اور کوفہ جیسے شہر ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور خاص حکمت عملی کے حامل تھے۔ (2)

اور پھر شیعہ حیات کے جغرافیے کی وسعت اور پھیلاؤ ایک خفیہ ادارے اور روابط کے ایک خفیہ نظام کا تقاضا کرتے تھے، ایسا نظام جو  امام(ع) کے انتظام و قیادت کے تحت کام کرتے ہوئے شیعیان اہل بیت(ع) کو امامت و ولایت سے متصل کردے۔  فطری امر ہے کہ عباسی سرکاری کی طرف سے امام(ع) کی کڑی نگرانی اور شدید حفاظتی انتظامات کے ہوتے ہوئے، اس طرح کا نظام بہترین شیوہ تھا جو شیعہ معاشروں کے انتظام و قیادت کو ممکن بنا سکتا تھا۔ اسی سلسلے میں نویں امام کے دور امامت کے آخری برسوں سے وکالت اور نمائندوں کی تقرری کا انتہائی خفیہ جال مختلف علاقوں میں منظم اور سرگرم عمل ہوا۔ یہ سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں بھی جاری رہا۔ (3)

3۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی انتہائی خفیہ اور سیاسی سرگرمیاں

امام حسن عسکری علیہ السلام عباسی بادشاہت کی طرف سے شدید حفاظتی اقدامات اور نگرانیوں کے باوجود، کچھ خفیہ اور سیاسی سرگرمیوں کی قیادت کررہے تھے۔ لیکن امام(ع) کا حفاظتی نظام اس قدر محفوظ تھا کہ عباسی شاہی دربار کبھی بھی آپ کی خفیہ سرگرمیوں کا سراغ نہ لگا سکا اور اگر عباسیوں کو ان سرگرمیوں کی بھنک پڑتی تو یقینا وہ امام(ع) کے  خلاف شدید ترین اقدامات عمل میں لاتے۔ بطور مثال: عثمان بن سعید عَمری، جو امام کے نہایت قریبی ساتھی سمجھ جاتے تھے، معاشرے میں "سمّان" یا روغن فروش کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے اور اسی عنوان سے معاشرے میں کام کرتے تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب اور پیروکار جو اموال امام(ع) کو پہنچانے کا ارادہ کرتے، تو انہیں عثمان بن سعید کے پاس پہنچا دیتے تھے اور وہ انہیں گھی کے کنستروں اور مشکیزوں میں رکھ لیتے تھے اور امام(ع) کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ (4)

4۔ شیعیان اہل بیت(ع) کی مالی امداد

امام عسکری علیہ السلام کی زندگی کا ایک بہت کام یہ تھا کہ آپ محتاجوں کو توجہ دیتے تھے اور ان کے مالی مسائل حل کرلیتے تھے اور یہ اقدام بجائے خود شیعیان اہل بیت(ع) اور ادارۂ امامت کے درمیان رابطوں کے استحکام میں نہایت بابرکت کردار ادا کرتا تھا۔ تاریخی محققین کی رائے کے مطابق، امام(ع) کی اس ثقافتی، سماجی اور اقتصادی فعالیت نے معاشرے کے کمزور طبقوں کو مالی اور معاشی دباؤ سے کی بنا پر انہیں ظالم عباسی بادشاہی نظام میں جذب ہونے سے چھٹکارا دلوایا۔ (5)

بطور مثال بعض تاریخی مآخذ میں منقول ہے کہ ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں: میں مالی حوالے سے تنگدستی کا شکار تھا، میں نے اپنی صورت حال کو ایک خط کے ضمن میں امام حسن عسکری(ع) کے لئے تحریر کرنا چاہا مگر شرم کے مارے خط لکھنے کو نظر انداز کر گیا۔ جب گھر پہنچا تو امام(ع) نے 100 دینا میرے لئے بھجوا دیئے اور ایک خط بھی، جس میں آپ نے تحریر فرمایا تھا: جب بھی تمہیں ضرورت ہو، شرماؤ نہیں اور ہم سے مانگو، اللہ چاہے تو

اپنے مقصود تک پہنچوگے۔ (6)

5۔ شیعیان اہل بیت کو عصر غیبت کے لئے تیار کرنا

چونکہ ایک معاشرے کے امام و رہبر کا غائب ہونا ایک بہت بڑا اور ناقابل برداشت واقعہ ہے اور بہت سوں کے لئے ایسا واقعہ قبول کرنا، دشوار نظر آتا ہے۔ چنانچہ ابتداء ہی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی کوشش تھی کہ غیبت کے بہت اہم موضوع کو اپنے پیروکاروں کے لئے واضح کریں۔ اس بہت اہم اور تزویری اہمیت کے حامل موضوع کو امام علی النقی الہادی اور امام حسن عسکری علیہما السلام کے ادوار میں پہلے سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث لایا جاتا رہا تاکہ اسلامی معاشروں کو فرہنگ انتظار اور منتظر معاشرے کے آداب سے روشناس کرایا جاسکے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1- رجال، المکتبۃ الحیدریۃ، 1381، ص427۔
2- طبسی، شیخ محمد جواد،حیاۃ االامام العسکری، ص223۔
3- مہدی پیشوائی، سیرۂ پیشوایان، ص633۔
4- شیخ طوسی، الغیبۃ، ص214۔
5۔ مہدی پیشوایی، سیره پیشوایان، ص639۔
6- شیخ مفید، الارشاد، ص343۔

Read 220 times

Add comment


Security code
Refresh