قرآنی آیات میں بانی اسلام کی معرفت کی ایک جھلک

Rate this item
(0 votes)
قرآنی آیات میں بانی اسلام کی معرفت کی ایک جھلک
معرفت یعنی درست شناخت (سچائی پر مبنی عقیدہ)، جس انسان کو کسی نظریئے، عقیدے یا شخصیت کی درست شناخت نہ ہو، وہ اس کی تعلیمات کے مطابق عمل بھی درست نہیں کرسکتا۔ گویا انسان کی باطنی معرفت (Esoteric cognition)   اُس کے ظاہری عمل کی عمر اور حدود اربعہ طے کرتی ہے۔ معرفت جتنی گہری ہوتی ہے، عمل اتنا ہی پائیدار ہوتا ہے۔ آسان لفظوں میں کسی بھی شخص پر اُس کے عقیدے کی سچائی جتنی آشکار ہوتی ہے، وہ اُس پر عمل کا بھی اتنا ہی پابند ہوتا ہے۔ اِس رو سے معرفتِ نہائی اور عملِ بلافصل جُزوِ لاینفک ((Indivisible)) ہیں۔ دینِ اسلام نے ہمیں پیغمبرِ اسلام ؐ کی سیرت کے مطابق اعمال انجام دینے کا حکم دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمیں جتنی پیغمبرِ اسلام ؐ کی معرفت ہوگی، ہم اتنا ہی اُن کی سیرت پر عمل کریں گے۔ بانی اسلام کی معرفت کا ایک اہم اور قطعی منبع (Definite source) قرآن مجید ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں کسی بھی چیز کے بارے میں قرآن مجید سے معرفت اور شناخت حاصل کرنے کا رجحان کم  ہے، چنانچہ بانی اسلامﷺ کی بھی جو کچھ شناخت ہمیں ہے، اُس کا زیادہ تر انحصار قرآن مجید کے علاوہ دیگر کتب اور ہمارے اپنے قلبی تمایلات پر ہے۔

اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بانی اسلامﷺ کی درست شناخت، یعنی معرفت کے بغیر زندگی گزارنے کے بجائے قرآن مجید سے حقیقی معرفت حاصل کریں۔ یعنی ہمیں اپنے خود ساختہ ذہنی مفروضات اور کہنہ عقائد پر قائم رہنے کے بجائے قرآن مجید کی نورانی و ملکوتی آیات سے اپنے پیغمبرﷺ کی معرفت حاصل کرنی چاہیئے۔ کسی بھی قوم کا رہبر و رہنماء اس کے لئے نمونہء عمل (Role model) ہوتا ہے۔ اقوام اپنے رہبر کے نقشِ قدم پر چل کر ہی تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ گویا کسی قوم کے قائد کے نقوشِ زندگانی ہی اپنی قوم کے لئے چراغِ ہدایت ہوتے ہیں۔ قائد اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں جس طور سے بھی زندگی گزارتا ہے، اس کا ہر لمحہ اپنی قوم کے لئے نشانِ علم و عمل بن جاتا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت محمد الرسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی کو امّت مسلمہ کے لئے قائد اور نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ اب یہ مسلمانانِ عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی شخصیت اور حیاتِ مقدسہ کے تمام پہلووں کی معرفت حاصل کریں، تاکہ اس معرفت کے مطابق اعمال انجام دے سکیں۔ ہم اس مختصر تحریر میں قرآن مجید کو بطورِ منبع اپنے سامنے رکھ کر بانی اسلام کی معرفت کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خداوندِ عالم سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری اس سعی و کاوش کو ہمارے لئے دنیا و آخرت میں سعادت و نجات کا باعث بنائے۔(آمین)

ولادت سے پہلے حضور کی بشارت
قرآن مجید کے مطابق حضرت محمد الرسول اللہﷺ کے آنے کی بشارت آپ سے پہلے والے انبیا خصوصاً حضرت عیسیٰ نے دی ہوئی تھی۔ اس حوالے سے ایک آیت ملاحظہ فرمائیں:وَاِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِی ِسْرَائِیلَ ِنِّی رَسُولُ اﷲِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ َاحْمَدُ فَلَمَّا جَائَہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحْر مُبِین۔ "اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جس کا نام احمد ہے لیکن پھر بھی جب وہ معجزات لے کر آئے تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔[1] مندرجہ بالا آیت کے مطابق حضرت عیسیٰ نے حضورِ اکرم کے آنے کی بشارت دی تھی۔

حضورؐ کی ولادت کو بشارت کہنے کی وجہ
حضورِ اکرم  کے دنیا میں تشریف لانے کو اس لئے بشارت کہا گیا ہے، چونکہ حضورِ اکرم اپنے سے پہلے والے انبیاء کے مقابلے میں نئے اور بلند مفاہیم و مطالب اور کامل و اکمل شریعت لے کر آئے ہیں۔ اگر حضورِ اکرم نئے مفاہیم و معارف نہ لاتے یا گذشتہ انبیاء کے ہی ہم پلّہ شریعت لاتے تو ایسے میں یہ کوئی بشارت کی بات نہ تھی اور نہ ہی کسی نبی ضرورت تھی۔ حضرت عیسیٰ کا اپنی قوم کو حضورِ اکرم کی آمد کی بشارت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ حضورِ اکرم نہ صرف حضرت عیسیٰ سے اور قرآن مجید نہ صرف انجیل سے افضل و برتر ہے بلکہ حضورﷺ اپنے سے سابق تمام انبیاء سے برتر ہیں اور قرآنِ مجید گذشتہ تمام آسمانی کتابوں سے افضل ہے۔ چونکہ حضورﷺ سب انبیاء کے آخر میں تشریف لائے اور آپ ختم النّبیین ہیں، یعنی آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اس لئے آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے۔

حضورؐ کی نبوّت کا مقام 
             
حضور اکرمﷺ نہ صرف یہ کہ نبی ہیں بلکہ ختم النبیین ہیں۔ آپ کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت آپ کا ختم النبیّن ہونا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ پروردگار ہے: مَا کَانَ مُحَمَّد َبَا َحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اﷲِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اﷲُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمًا۔ "محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں اور اللہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے۔"[2]  مندرجہ بالا آیت حضور اکرمﷺ کی ختم نبوت پر واضح اور روشن دلیل ہے۔ اس آیت میں حضور اکرمﷺ  کو خَاتَمَ النَّبِیِّین کہا گیا ہے۔

خَاتَمَ النَّبِیِّین کا مطلب

خَاتَم کسی تحریر کے آخر میں لگائی جانے والی مہر کو کہتے ہیں۔ جب محرّر (تحریر کرنے والا) اپنی تحریر مکمل کر لیتا ہے تو وہ آخر میں ایک مہر لگا دیتا ہے، تاکہ (قاری) پڑھنے والے کو پتہ چل جائے کہ بات ختم ہوگئی ہے۔ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے سلسلہ نبوت کو جاری کرنے والے پروردگار نے حضورﷺ کو خَاتَمَ النَّبِیِّین، یعنی آخری نبی قرار دیا ہے۔ پس قرآن مجید کی روشنی میں حضورﷺ کے بعد ناں کوئی نبی آیا ہے اور ناں ہی آئے گا۔ حضورﷺ کا ایک اور امتیاز آپﷺ کی عبودیت اور بندگی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کی عبودیت کے بارے کیا ارشاد فرمایا ہے۔

حضورؐ  کی بندگی اور عبادت 
      
خداوند عالم کے نزدیک سب سے کامل ترین عبادت حضور اکرمﷺ کی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے آپ کے سوا کسی اور نبی یا رسول کو عبدہ یعنی بطور خاص اپنا عبد نہیں کہا جبکہ آپ کے بارے میں سورہ فرقان آیت ١میں ارشاد مبارک ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ۔ "بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا ہے"(١) اسی طرح سورہ اسراء کی آیت ایک میں ارشاد پروردگار ہے: سُبْحَانَ الَّذِی َسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ِلَی الْمَسْجِدِ الَْقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ِنَّہ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ۔ "پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار، جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے اطراف کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھلائیں، بیشک وہ پروردگار سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔"(١) حضور اکرمﷺ کی ایک اور اہم فضیلت یہ ہے کہ قرآن مجید نے آپ کو اول المسلمین قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کے اول المسلمین ہونے کے بارے میں کس طرح سے گفتگو فرمائی ہے۔

اوّلِ مخلوق اور اول مسلمین

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اکرمﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ لوگوں سے کہیں کہ میں اوّلُ المسلمین (پہلا مسلمان) ہوں۔ خدا نے کسی اور پیغمبر کے لئے یہ لقب استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ حضرت ابراہیم، رسول اکرمﷺ سے پہلے دنیا میں تشریف لائے اور بزرگانِ انبیاء میں شمار ہوتے ہیں، خود رسول اکرمﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ "انا ابن الذبیحین" حضورﷺ نے خود کو حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسمٰعیل کا فرزند قرار دیا ہے، لیکن اس کے باوجود خدا نے حضرت ابراہیم کو اوّلُ المسلمین نہیں کہا۔ حضرت نوح شیخ الانبیاء ہیں اور حضرت آدم جو کہ ابولبشر ہیں، خدا نے انھیں بھی اس لقب سے منسوب نہیں کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور کوﷺ وقت اور زمانے کے اعتبار سے اوّلُ المسلمین نہیں کہا گیا، چونکہ حضورﷺ سے پہلے بھی انبیاء اس دنیا میں موجود تھے۔ حضورﷺ کو اس لئے اوّلُ المسلمین کہا گیا ہے، چونکہ آپﷺ مخلوقِ اوّل ہیں، یعنی آپ کی ذات ِ اقدس سب سے پہلے خلق ہوئی، چنانچہ اس لحاظ سے آپ اوّلُ المسلمین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضورﷺ ہی محشور ہوں گے۔

خدا وندِ عالم نے سورہ انعام کی آیت ١٦٢تا ١٦٣ میں ارشاد فرمایا ہے: قُلْ ِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَای وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (١٦٢) لاَشَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ ُمِرْتُ وََنَا َوَّلُ الْمُسْلِمِینَ (١٦٣) (162) کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری عبادتیں، میری زندگی، میری موت سب اللہ کے لئے ہے، جو عالمین کا پالنے والا ہے۔ (163) اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اسی طرح سورہ زمر کی آیت ١٢ میں ارشاد پروردگار ہے: قُلْ ِنِّی ُمِرْتُ َنْ َعْبُدَ اﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّینَ (١١) وَُمِرْتُ لَِنْ َکُونَ َوَّلَ الْمُسْلِمِینَ (١٢) (11) کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں (12) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بن جاوں۔ حضورﷺ کی شخصیّت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ کی سیرت و سنّت سراپائے وحی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے۔

سراپائے وحی

قرآن مجید نے حضورﷺ کے کلام اور سکوت دونوں کو مرضیِ پروردگار کے تابع قرار دیا ہے۔ جیسا کہ سورہ نجم کی آیت ٣ اور ٤ میں ارشاد پروردگار ہے۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی (٣) انْ ہُوَ ِلاَّ وَحْی یُوحَی(٤) "وہ ہوائے نفس کے تحت نطق نہیں کرتا، اس کا نطق وحی ہوتا ہے۔" یاد رہے کہ نطق سے مراد قول یا گفتگو نہیں ہے بلکہ نطق سے مراد سکوت و گفتگو ہر دو حالتیں ہیں۔ قانونی اختراعات اور سماجی مسائل کے بارے میں انسان جو کچھ بھی ہوائے نفس کے تحت کرتا ہے، وہ ناں ہی تو جامع اور کامل ہوتا ہے اور ناں ہی حق و عدالت کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے، لیکن اس کے برعکس انسان جو کچھ وحی الٰہی کے تحت کرتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ جامع اور کامل ہوتا ہے بلکہ عین حق و عدالت بھی ہوتا ہے۔ پس پیغمبر اسلامﷺ کی تمام گفتار و کردار میں وحی کا پرتو اور جلوہ ہے اور اس میں کسی بھی طرح سے ہوائے نفس کا کوئی عمل دخل نہیں۔ قرآن مجید نے حضورﷺ کی ذاتِ گرامی کو پیکرِ عصمت قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کی عصمت و طہارت کے بارے میں کس انداز سے گفتگو فرمائی ہے۔

عصمت و طہارت  کا درجہ

عصمت و طہارت سے مراد فقط انسان کی گفتگو میں غلطیوں سے حفاظت نہیں بلکہ اس کے تمام مراحلِ زندگی میں غلطیوں اور لغزشوں سے حفاظت کا نام عصمت و طہارت ہے۔ چنانچہ وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی (٣) ِانْ ہُوَ ِلاَّ وَحْی یُوحَی (٤) سے یہی مطلب بیان ہو رہا ہے کہ حضورﷺکی تمام سیرت و حیات، عصمت و طہارت میں ڈھلی ہوئی ہے۔ اسی طرح سورہ انعام کی آیت ٥٠ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ا ِنْ َتَّبِعُ ِلاَّ مَا یُوحَی۔ "ہم تو صرف وحی پروردگار کا اتباع کرتے ہیں۔" چونکہ حضورﷺ نے صرف وحی کی پیروی کی ہے، اس لئے آپ کی تمام تر زندگی عصمت و طہارت کی آئینہ دار ہے۔ قرآن مجید نے حضورﷺ کی ذات ِمقدس کو معصوم ہونے کے باعث تمام جہان کے لئے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضورﷺ کو نمونہ عمل قرار دینے سے متعلق قرآن مجید نے کیا بیان فرمایا ہے۔

بحیثیتِ نمونہ عمل

قرآن مجید نے سورہ احزاب کی آیت ٢١ میں حضورﷺ کو تمام عالم کے لئے نمونہ عمل قراردیتے ہوئے فرمایا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اﷲِ ُسْوَة حَسَنَة لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اﷲَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اﷲَ کَثِیرًا۔ "تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔" اس آیہ مجیدہ میں نہ صرف یہ کہ رسولِ اکرمﷺ کو نمونہ عمل قرار دیا گیا ہے بلکہ ان لوگوں کی شناخت بھی کرائی گئی ہے، جو حضورﷺ کی اتباع اور پیروی کرنے والے ہیں۔ قرآن مجید کے مطابق اگر کوئی شخص حضورﷺ کی پیروی نہیں کرتا اور حضورﷺ کو اپنے لئے نمونہ عمل نہیں مانتا تو وہ دراصل اللہ سے غافل ہے اور روزِ آخرت سے ناامید ہے۔ پس اگر ہم اللہ کو اپنا خالق و مالک سمجھتے ہیں اور روزِ قیامت پر یقین رکھتے ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم زندگی کے تمام سیاسی و اجتماعی و انفرادی معاملات میں بھی حضورﷺ کی پیروی اور اطاعت کریں۔ چنانچہ سورہ حشر کی آیت ٧ میں ارشاد پروردگار ہے: وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَاتَّقُوا اﷲَ ِنَّ اﷲَ شَدِیدُ الْعِقَابِ۔ "اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے، اسے لے لو اور جس چیز سے منع کر دے، اس سے رک جاو اور اللہ سے ڈرو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔" رسول اکرمﷺ چونکہ عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل ہیں، اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے اتنے عظیم پیغمرﷺ کو کن القابات اور خطابات سے پکارا ہے۔

خدا کا حضورؐ سے اندازِ گفتگو
 قرآن مجید میں خداوندِ عالم نے مختلف انبیاء کرام کو اُن کے نام لے کر مخاطب کیا ہے، جبکہ حضورﷺ کو نام لے کر پکارنے کے بجائے مختلف القابات سے یاد کیا ہے۔ قرآن مجید نے حضورﷺ کو کبھی "قُل" یعنی فرما دیجئے، کبھی فبشّر عبادالذین۔۔۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دیجئے۔۔۔۔ اور کہیں پر یا ایھا النّبی، کہیں پر یا ایھا لمزمل، کہیں پر یا ایھا المدثر۔۔۔ کہا ہے، لیکن کہیں پر بھی یا محمدﷺ نہیں کہا۔ قرآن مجید کی روشنی میں حضورﷺ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ خداوندِ عالم نے حضورﷺ کے اخلاق کو خلقِ عظیم قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کے اخلاقِ حسنہ پر کس طرح روشنی ڈالی ہے۔

اخلاقِ حسنہ

خداوندِ عالم تمام اوصافِ حسنہ اور عظمتوں کا حقیقی مالک ہے۔ حضور اکرمﷺ اس قدر اعلیٰ و ارفع اخلاق کے مالک تھے کہ تمام اوصافِ حسنہ کے خالق و مالک نے بھی آپ کے خُلق کو "خُلقِ عظیم" کہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے سورہ قلم کی آیت ٤:
وَِانَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ(٤) "اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں۔" چونکہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کی عظمت اور قدر و قیمت مال و ثروت اور جاہ و حشمت سے ہے، لیکن خدا نے اس آیہ مجیدہ کے ذریعے سے بنی نوع انسان کو یہ پیغام دیا ہے کہ عظمت خُلق میں ہے مال و دولت میں نہیں ہے۔۔ حضورﷺ کی ذاتِ گرامی کو قرآن مجید نے جہاں پر خُلقِ عظیم قرار دیا ہے، وہیں پر آپ کے خُلق کی جہانِ ہستی کو فیضیاب کرنے کے لئے آپ کو عالمی نبی بھی قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حضورﷺ کی نبوّت کے عالمی ہونے کے بارے میں قرآن مجید نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔

عالمی نبوّت    
  
خداوند عالم نے حضورﷺ کی نبوّت کو عالمی قرار دیا ہے، البتّہ اس نبوّت کو صرف مومنین پر احسان شمار کیا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے قرآن کو عالمین کے لئے بھیجا ہے، لیکن صرف متّقین کے لئے ہی ہدایت قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت١٨٥ میں ارشاد پروردگار ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی ُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِلنَّاس۔ "ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے، جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔" قرآن مجید نازل تو پورے عالمِ انسانیت کے لئے ہدایت بن کر ہوا، لیکن اس سے ہدایت صرف متّقین ہی حاصل کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ٢ میں ارشاد پرور دگار ہے: ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ۔ "یہ وہ کتاب ہے، جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے۔" اس طرح حضورﷺ کے بارے میں ارشاد پروردگار ہے کہ ہم نے آپ کو پورے عالم بشریت کے لئے بھیجا ہے، لیکن آپ کو بھیج کر احسان صرف مومنین پر کیا ہے۔ چونکہ غیر مومن لوگ اس نعمت کو سمجھتے ہی نہیں تو ان پر احسان کس بات کا۔

ملاحظہ فرمائیں سورہ سباء کی آیت٢٨: وَمَا َرْسَلْنَاکَ ِلاَّ کَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِیرًا وَ نَذِیرًا وَلَکِنَّ َکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ۔ "اور پیغمبرﷺ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے صرف بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے، یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں۔" چونکہ پیغمبر کی آمد کی حقیقت سے اکثر لوگ بے خبر ہیں تو اس لئے پیغمبر کی بعثت کا احسان صرف اور صرف مومنین سے منسوب کیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ آل عمران کی آیت١٦٤: لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ َنْفُسِہِمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَِنْ کَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ۔ "یقیناً خدا نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے، جو ان پر آیات الہیہ کی تلاوت کرتا ہے، انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ یہ لوگ پہلے سے بڑی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔" سورہ اعراف کی آیت١٥٨میں بھی حضورﷺ کو پورے عالم بشریت کے لئے رسول کہا گیا ہے۔ آیت قرآنی ملاحظہ فرمائیں۔ قلْ یَاَیُّہَا النَّاسُ ِنِّی رَسُولُ اﷲِ ِلَیْکُمْ جَمِیعًا۔ "پیغمبر ----- کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول اور نمائندہ ہوں۔"

مندرجہ بالا آیات سے پتہ چلتا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کی نبوت تو عالمی اور بین الاقوامی ہے، لیکن اس سے فیضیاب فقط مومنین ہوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے سورج تو پوری دنیا میں چمکتا ہے، لیکن اس کی روشنی سے صرف بینا لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں، اندھے سورج کی روشنی میں بھی تاریکی جیسی زندگی گزارتے ہیں۔ چونکہ صرف مومنین ہی حضورﷺ کی قدر و منزلت پہچانتے ہیں اور حضورﷺکی ذات سے فیض اٹھاتے ہیں، اس لئے حضورﷺ پر درود بھیجنے کے لئے بھی صرف مومنین کو ہی کہا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ احزاب کی آیت ٥٦: ا ِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا۔ "بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلوات بھیجتے ہیں تو اے مومنین تم بھی ان پر صلوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو۔" رسول اکرمﷺ کی ذاتِ مبارک کو قرآن مجید نے عالمی کہنے کے علاوہ لوگوں کے لئے مونس و ہمدرد بھی کہا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کی عوام سے ہمدردی اور شفقت کو کس طرح بیان کیا ہے۔

امت کے درمیان مقام و مرتبہ

خدا تعالیٰ نے بعض انبیاء کو لوگوں کا بھائی کہا ہے۔ جیسے حضرت صالح کے بارے میں سورہ اعراف کی آیت ٧٣ میں فرمایا کہ "ہم نے قوم ثمود کے لئے ان کے بھائی صالح  کو بھیجا" اسی طرح حضرت ہود کے بارے میں سورہ ہود کی آیت ٥٠ میں یوں ارشاد فرمایا: "ہم نے قوم ِعاد کے لئے ان کے بھائی ہود کو بھیجا" اور اسی طرح سورہ شعراء کی آیت ١٠٦ میں حضرت نوح کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا: "اس وقت کہ جب ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا" لیکن پیغمبر اسلام کے بارے میں قرآن مجید نے بھائی کی تعبیر استعمال نہیں کی، بلکہ حضورﷺ کا تعارف قرآن مجید نے یوں کروایا ہے: ھُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الُْمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُم۔ "اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا ہے، جو ان ہی میں سے تھا۔" پھر اسی طرح سورہ توبہ کی آیت ١٢٨ میں ارشاد فرمایا: لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُول مِنْ َنفُسِکُمْ عَزِیز عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیص عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُوف رَحِیم۔ "یقیناً تمہارے پاس وہ پیغمبر آیا ہے، جو تم ہی میں سے ہے اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی ہے، وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق اور مہربان ہے۔"
        
مندرجہ بالا آیات سے پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ اپنی عوام دوستی اور مہربانی کے باعث لوگوں سے اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ قرآن مجید نے آپ کا تعارف بھی اس طرح سے کرایا ہے کہ آپ ان لوگوں کے بھائی وغیرہ نہیں بلکہ خود انہی میں سے ہیں۔ یہ بھی آپ کی نرمی، شفقت اور لوگوں کے لئے انس و ہمدردی کا جذبہ ہی تھا کہ جس کی بناء پر سورہ نساء کی آیت ٦٤میں یوں فرمایا گیا ہے: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ  اِذْظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُااللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ لَوَاجَدُوااللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ "اور ہم نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا ہے، مگر صرف اس لئے کہ حکِم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپﷺ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔" اسی طرح سورہ انبیاء کی آیت ١٠٧ میں حضورﷺ کو عالمین کے لئے رحمت کہا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ انبیاء کی آیت ١٠٧ وَمَا اَرْسَلْنَاکَ ِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ۔ "اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے۔" حضورﷺ کی لوگوں سے ہمدردی، شفقت اور رحمت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے رسولﷺ کی اطاعت بھی لوگوں کے لئے لازمی قرار دی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کی اطاعت کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں حضورﷺ کی اطاعت:
حضورﷺ کی اطاعت کو اللہ نے نہ صرف اپنی اطاعت قرار دیا ہے بلکہ محبوبِ خدا بننے کے لئے اطاعتِ پیغمبرِ اسلامﷺ کو لازمی قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ آل عمران کی آیت ٣١: قُلْ ِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اﷲَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمْ اﷲُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاﷲُ غَفُور رَحِیم۔ "اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔" جس طرح حضورﷺ کی اطاعت کو قرآن نے خدا کی محبت اور بخشش و مغفرت کے لئے لازمی قرار دیا ہے، اسی طرح حضورﷺ کی نافرمانی اور عدمِ اطاعت کو بھی خدا کی ناراضگی اور کفر قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں سورہ آل عمران کی ہی آیت ٣٢ ملاحظہ فرمائیں: قُلْ َطِیعُوا اﷲَ وَالرَّسُولَ فَِنْ تَوَلَّوْا فَِنَّ اﷲَ لاَیُحِبُّ الْکَافِرِین۔ "کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو کہ جو اس سے روگردانی کرے گا تو خدا کافرین کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے۔" قرآن مجید نے حضورﷺ کی اطاعت کرنے پر اس قدر تاکید کی ہے اور مومنین کو خبردار کیا ہے کہ ہرگز اپنے آپ کو رسولﷺ پر مقدّم نہ کریں اور رسولﷺ سے آگے نہ بڑھیں۔ چنانچہ سورہ حجرات کی آیت ١ میں ارشاد پروردگار ہے: یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ اﷲِ وَرَسُولِہِ وَاتَّقُوا اﷲَ ِنَّ اﷲَ سَمِیع عَلِیم۔ "ایمان والو خبردار خدا اور رسول سے آگے نہ بڑھنا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے۔"

خداوندِ عالم نے جس طرح رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ اسی طرح رسول کی اطاعت کرنے والوں کو بھی انعامات و اکرامات کی بشارت دی ہے۔ اس سلسلے میں سورہ نساء کی آیت ٦٩ ملاحظہ فرمائیں: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ۔ وَحَسُنَ اُولٰئِکَ رَفِیْقًا۔ "اور جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا، جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں۔ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہی بہترین رفقاء ہیں۔" قرآنی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی رسولﷺ کی اطاعت کئے بغیر اللہ کی اطاعت کا دم بھرے تو اصل میں وہ اطاعت ِ الٰہی کا محض ڈھونگ رچا رہا ہے اور خدا کے نزدیک ایسے شخص کا اطاعت کا دعویٰ کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور ایسے لوگوں کو جہنّم میں دھکیلا جائے گا۔ جیسا کہ سورہ احزاب کی آیت٦٦ میں ارشاد پروردگار ہے: یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوہُہُمْ فِی النَّارِ یَقُولُونَ یَالَیْتَنَا َطَعْنَا اﷲَ وََطَعْنَا الرَّسُولَ۔ "جس دن ان کے چہرے جہنم کی طرف موڑ دیئے جائیں گے اور یہ کہیں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی۔"
      
قرآن مجید کے مطابق حضورﷺ کے فیصلے کے بعد کسی کو چون و چرا کرنے کی اجازت نہیں ہے، چونکہ اطاعت کا تقاضا یہی ہے کہ حکمِ رسولﷺ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ اس ضمن میں سورہ احزاب کی آیت٣٦ ملاحظہ فرمائیں:  وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَمُؤْمِنَةٍ ِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُولُہُ َمْرًا َنْ یَکُونَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ مِنْ َمْرِہِمْ وَمَنْ یَعْصِ اﷲَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِینًا۔ "اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کر دیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحبِ اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔" مندرجہ بالا آیات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی اطاعت ہی اصل میں خدا کی اطاعت ہے اور اگر کوئی رسولﷺ سے دوری اختیار کرتا ہے تو وہ دراصل قرآن سے دوری اختیار کرتا ہے، چونکہ حضورﷺ کی اطاعت اور پیروی کا حکم قرآن مجید نے ہی دیا ہے۔ قرآن مجید نے صرف حضورﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ حضورﷺ کے ادب و احترام کا بھی حکم دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضورﷺ کے ادب و احترام کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔

امت پر ادب و احترام کا وجوب

خداوندِ عالم نے لوگوں کو پیغمبرﷺ کا احترام بجا لانے کی از حد تاکید فرمائی ہے۔ بعض لوگ پیغمبرﷺ سے اس حد تک بے تکلّف ہوا چاہتے تھے کہ کبھی آرام کے وقت میں مخل ہوتے تھے اور کبھی بزم ِپیغمبر ﷺ میں پیغمبر کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کرتے تھے اور کبھی پیغمبرﷺ سے بلاضرورت سرگوشی کرتے تھے، قرآن مجید ان تمام امور کو خلاف ادب و احترام شمار کیا ہے اور لوگوں کو ایسی حرکات سے منع فرمایا ہے۔ نمونے کے طور پر سورہ حجرات کی چند آیات ملاحظہ فرمائیں۔  َاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَرْفَعُوا َصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَتَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ َنْ تَحْبَطَ َعْمَالُکُمْ وََنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ(٢) اِنَّ الَّذِینَ یَغُضُّونَ َصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ ُوْلَئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اﷲُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوَی لَہُمْ مَغْفِرَة وََجْر عَظِیم(٣) ِنَّ الَّذِینَ یُنَادُونَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ َکْثَرُہُمْ لاَیَعْقِلُونَ(٤) وَلَوْ َنَّہُمْ صَبَرُوا حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْہِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَہُمْ وَاﷲُ غَفُور رَحِیم(٥)
                   
(2)ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا، جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔ (3)بیشک جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے اور ان ہی کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (4)بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں، ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی ہے۔ (5)اور اگر یہ اتنا صبر کر لیتے کہ آپ نکل کر باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اس کے علاوہ حضور کے گھر میں زیادہ دیر رکنے اور گپیں ہانکنے سے بھی لوگوں کو منع فرمایا ہے اور حضورﷺ کی بیویوں کو بھی خاص احترام دیا ہے اور لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ازواج پیغمبر سے پردے کے پیچھے سے سوال کریں، نیز ازواج پیغمبر سے پیغمبرﷺ کے بعد کسی اور کا نکاح کرنا بھی ممنوع قرار دیا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں سورہ احزاب کی آیت ٥٣: یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ ِلاَّ َنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ ِلَی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ ِنَاہُ وَلَکِنْ ِذَا دُعِیتُمْ فَادْخُلُوا فَِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَمُسْتَْنِسِینَ لِحَدِیثٍ ِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِ مِنْکُمْ وَاﷲُ لاَیَسْتَحْیِ مِنْ الْحَقِّ وَِذَا سََلْتُمُوہُنَّ مَتَاعًا فَاسَْلُوہُنَّ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ ذَلِکُمْ َطْہَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ وَمَا کَانَ لَکُمْ َنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اﷲِ وَلاََنْ تَنْکِحُوا َزْوَاجَہُ مِنْ بَعْدِہِ َبَدًا ِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اﷲِ عَظِیمًا(٥٣) (53)اے ایمان والو خبردار پیغمبر کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہونا، جب تک تمہیں کھانے کے لئے اجازت نہ دے دی جائے اور اس وقت بھی برتنوں پر نگاہ نہ رکھنا، ہاں جب دعوت دے دی جائے تو داخل ہوجائو اور جب کھالو تو فوراً منتشر ہو جاو اور باتوں میں نہ لگ جائو کہ یہ بات پیغمبر کو تکلیف پہنچاتی ہے اور وہ تمہارا خیال کرتے ہیں، حالانکہ اللہ حق کے بارے میں کسی بات کی شرم نہیں رکھتا اور جب ازواج پیغمبر سے کسی چیز کا سوال کرو تو پردہ کے پیچھے سے سوال کرو کہ یہ بات تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہیں حق نہیں ہے کہ خدا کے رسول کو اذیت دو یا ان کے بعد کبھی بھی ان کی ازواج سے نکاح کرو کہ یہ بات خدا کی نگاہ میں بہت بڑی بات ہے۔"

اسی طرح سورہ مجادلہ کی آیت ١٢ میں لوگوں کو حضورﷺ کے ساتھ خواہ مخواہ سرگوشی کرنے سے روکنے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ جو کوئی بھی حضور سے سرگوشی کرے، وہ حتّی المقدور صدقہ بھی دے۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ  مجادلہ کی آیت ١٢: یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَةً ذَلِکَ خَیْر لَکُمْ وََطْہَرُ فَِنْ لَمْ تَجِدُوا فَِانَّ اﷲَ غَفُور رَحِیم۔ "ایمان والو! جب بھی رسول کے کان میں کوئی راز کی بات کرو تو پہلے صدقہ نکال دو کہ یہی تمہارے حق میں بہتری اور پاکیزگی کی بات ہے پھر اگر صدقہ ممکن نہ ہو تو خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔"

خلاصہ
ہمارے پاس معرفت کا سب سے اہم منبع قرآن مجید ہے۔ توحید و نبوت، مبدا و معاد، میزان و صراط، حیات و کائنات اور ملکوت و موجودات کی صحیح شناخت صرف اور صرف قرآن مجید سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید اس لئے مہجور نہیں ہے کہ لوگ اس کی تلاوت نہیں کرتے بلکہ عالمی سچائی یہ ہے کہ دنیا میں آج بھی سب سے زیادہ تلاوت قرآن مجید کی ہی کی جاتی ہے۔ قرآن مجید اس لئے مہجور ہے کہ ہم حقائق و عقائد کے بارے میں قرآن مجید سے معرفت حاصل نہیں کرتے اور ہمارے اس تساہل کا سایہ بانی اسلامﷺ کی معرفت پر بھی پڑا ہوا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں پیغمبرِ اسلام کی معرفت اور شناخت بھی قرآن مجید کے بجائے دیگر منابع سے بیان کرنے کا رواج  زیادہ ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے پیغمبر کی شناخت اور معرفت کو قرآن مجید سے حاصل کریں، چونکہ ہمارے پیغمبرﷺ کی معرفت کا سب تحریر: نذر حافیسے اہم منبع قرآن مجید ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہمیں اپنے نبی اکرمﷺ کی صحیح معرفت نصیب ہوگی تو پھر ہمارے اعمال بھی اس معرفت کے مطابق درست ہوتے جائیں گے۔
 
 
 
Read 511 times

Add comment


Security code
Refresh