)3(انگریزی شیعہ کون ہیں؟

Rate this item
(0 votes)
)3(انگریزی شیعہ کون ہیں؟

 گزشتہ سے پیوستہ
رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں:
اگر مسلمان متحد ہوں تو فلسطین کا حال وہ نہیں رہے گا جو ہم دیکھ رہے ہیں؛ آج فلسطین کی صورت حال دشوار ہے۔۔۔ دشمنان اسلام چاہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کو ذہنوں سے دور کر دیں اور فراموش کروا دیں۔ وہ مغربی ایشیا ـ جو ہمارے ہی ممالک پر مشتمل اور بہت حساس اور تزویری علاقہ ہے ۔۔۔ [کے عوام اور حکومتوں] کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں، [چاہتے ہیں کہ] مسلمان، مسلمان کے مقابلے میں آئے، عرب عرب کے مقابلے میں، اور ایک دوسرے کو نشانہ بنائیں اور نیست و نابود کریں، تاکہ مسلم ممالک کی فوجیں ـ بالخصوص صہیوی ریاست کے پڑوسی ممالک کی فوجیں ـ روز بروز کمزور سے کمزورتر ہوجائیں؛ ان کا مقصد یہ ہے۔
آج علاقے میں دو ارادوں کے درمیان تضاد و تعارض ہے: ایک وحدت کا ارادہ اور دوسرا انتشار کا ارادہ۔ وحدت کا ارادہ مؤمنین کا ارادہ ہے؛ مسلمانوں کے اتحاد و اجتماع کا نعرہ مخلص حلقووں سے سنائی دے رہا ہے جو مسلمانوں کو باہمی اشتراکات کی طرف توجہ دینے کی دعوت دے رہا ہے۔۔۔۔ اگر مسلمین متحد ہوجائیں تو ان کی موجودہ [ناگفتہ بہ] صورت حال باقی نہیں رہے گی؛ مسلمان کو عزت ملے گی۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ مشرق بعید میں میانمار سے لے کر ـ جہاں مسلم کُشی ہے، مغربی افریقہ میں، نائیجریا وغیرہ میں مسلم کُشی؛ ہر جگہ مسلمانوں کو قتل کیا جاتا ہے، ایک جگہ بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں، دوسری جگہ بوکو حرام اور داعش وغیرہ کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اس آگ کو بھڑکاتے ہیں انگریزی شیعہ اور امریکی سنی ایک جیسے ہیں، [یہ] سب ایک قینچی کے دو پھل ہیں؛ ان کی سعی [باطل] یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑا دیں؛ یہ انتشار والے ارادے کا پیغام ہے جو شیطانی ارادہ ہے؛ جبکہ وحدت کا پیغام یہ ہے کہ یہ [مسلمین] ان اختلافات کو پیچھے چھوڑیں، شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں اور مل کر کام کریں۔
اگر آپ آج مستکبرین اور اقوام عالم کے تنفس کی فضا پر قابضین کے موقف اور خیالات کو دیکھ لیں، تو اپ دیکھتے ہیں کہ یہ سب انتشار اور تفرقے کی طرف دعوت ہے؛ قدیم الایام سے انگریزوں کی پالیسی کو "تفرقہ ڈآلو اور آقا بنو: ("فَرِّق تَسُد") کی پالیسی کہا جاتا تھا۔ آقائی اور سیادت کرو "تفرقہ ڈالو" کے بدولت؛ جس وقت انگلستان میں کچھ طاقت تھی، ان کی پالیسی یہ تھی؛ آج بھی دنیا کے آج کی مادی طاقتوں کی یہی پالیسی ہے؛ خواہ وہ امریکہ ہے، اور خواہ پھر بھی حال ہی میں برطانیہ۔ انگریز ہمیشہ سے ہمارے علاقے میں شر اور بدی کا سرچشمہ تھے، ہمیشہ قوموں کے لئے تباہی اور بد بختی کا ذریعہ تھے۔ جو ضربیں انھوں نے اس علاقے کی ملتوں پر لگائی ہیں، شاید کم ہی اس دنیا کے کسی علاقے میں کسی طاقت کی طرف سے ان کی کوئی مثال ملتی ہو۔ برصغیر میں ـ جو آج پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش  کی صورت میں موجود ہے ـ اپنے انداز سے ضرب لگائی [اور] اُس طرح لوگوں کو دبائے رکھا؛ ۔۔۔ بالآخر فلسطین میں بھی انھوں نے وہ نحوست اور خباثت بھرا اقدام کیا اور مسلمانوں کو اور درحقیقت ایک قوم کو اپنے وطن سے بےدخل کرکے بےخانماں کرنا کردیا؛ ہزاروں سالہ قدیم ملک ـ بنام فلسطین ـ انگلستانیوں کی پالیسیوں کے ذریعے [نقشے سے] غائب ہوگیا۔ اس علاقے میں حالیہ دو صدیوں سے، ـ دو صدیوں اور کچھ برسوں تقریبا 1800ع‍ سے آج تک ـ جو کچھ بھی انگریزوں سے سرزد ہوا ہے شر و فساد اور دھونس دھمکی کے سوا کچھ نہیں ہے؛ اس کے باوجود وہ برطانوی اہلکار (1) آتی ہے یہاں اور کہتی ہے "ایران اس علاقے کے لئے خطرناک ہے"، ایران علاقے کے لئے [باعث] خطرہ ہے؟ ایسا کہنے کے لئے کافی بےشرمی کی ضرورت ہے کہ جو لوگ پوری تاریخ میں اس علاقے کے لئے خطرہ اور بدشگونی اور بدبختی [کا سبب] رہے ہیں، یہاں آکر ہمارے مظلوم اور عزیز ملک کو مورد الزام ٹہرا دے؛ یہ لوگ ایسے ہی ہیں۔  
جس وقت سے اس علاقے میں اسلامی بیداری کی نشانیاں دیکھی گئیں، اختلاف اور تفرقہ پھیلانے کے لئے سازشوں میں بھی شدت اور وسعت آئی؛ یہ لوگ تفرقے کو اقوام پر مسلط ہونے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ جب سے محسوس ہوا کہ اس علاقے میں نئی باتیں، جدید اسلامی افکار، اقوام کی استقامت اور ملتوں کے زندہ ہونے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے جذبات معرض وجود میں آرہے ہیں، دشمنوں کی اختلاف انگیز اقدامات میں اضافہ ہوا؛ جب ایران میں اسلامی نظام قائم ہوا، جس نے اسلام کا پرچم اٹھایا، قرآن کو ہاتھوں پر اٹھایا اور فخر کے ساتھ کہا کہ ہم اسلام پر عمل کرتے ہیں اور اس کے پاس اقتدار بھی تھا، سیاست، وسائل اور مسلح افواج بھی تھیں اور اس نے ان سے استفادہ کیا اور انہیں روز بروز تقویت پہنچائی، ان تفرقہ آمیز اقدامات میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے اس تفرقہ آمیز اقدام کو شدت بخشی ہے اس اسلامی تحریک کو اس اسلامی عزت سے نمٹنے کے لئے۔ اسلام ان [یعنی اپنے دشمنوں] کے لئے خطرناک تھا، جب اسلامی بیداری مسلم ملت میں آگئی؛ لیکن جس اسلام کے پاس حکومت نہیں ہے، فوج نہیں ہے، سیاسی مشینری نہیں ہے، ضروری وسائل اور اموال نہیں ہے، ایک عظیم اور مجاہد ملت نہیں ہے مختلف ہے اس اسلام سے جس کے پاس یہ سب کچھ ہے؛ اسلامی جمہوریہ کے پاس وسیع سرزمین، مجاہد ملت، جوان، حوصلہ مند اور مؤمن قوم، دنیا کی اوسط سے بہتراستعداد اور سائنس اور ترقی کی طرف پیشقدمی، موجود ہے۔ درست ہے کہ اس طرح کا ایران ان کے لئے خطرے کا باعث ہے؛ کیونکہ مسلم اقوام کے آگے ایک نمونہ عمل بنتا ہے، تو وہ اس کے دشمن ہیں۔ اگر کبھی نرمی اور لچک کا دعویٰ بھی کریں، تو وہ جھوٹا ہے؛ ان کے کام کا باطن تشدد سے عبارت ہے۔ ان مسائل کو سمجھنا چاہئے، انہیں پہچان لینا چاہئے، اس دشمن سے نمٹنے کے لئے ـ جس کے پاس نہ اخلاق ہے، نہ دین ہے، نہ انصاف ہے؛ اپنا حلیہ آراستہ کر دیتا ہے، لیکن باطنی لحاظ سے حقیقی معنوں میں ایک وحشی ہے ـ اقوام کو تیار رہنا چاہئے"۔  (2)
۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔
1-۔ بحرین میں منعقدہ خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس سے سابق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے (Theresa May) کے گستاخانہ خطاب کی طرف اشارہ۔
2۔ اسلامی نظام کے اعلٰی عہدیداروں اور وحدت اسلامی کانفرنس میں شریک مہمانوں سے خطاب مورخہ 17 دسمبر 2016ع‍-۔

Read 397 times

Add comment


Security code
Refresh