انگریزی شیعہ کون ہیں؟ (4)

Rate this item
(1 Vote)
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ (4)

گزشتہ سے پیوستہ

مذکورہ دلائل اور جوابات کے علاوہ مسئلۂ ولایت فقیہ اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے متعدد نقلی (قرآنی اور روائی) دلائل نقل ہوئے ہيں جن کی کثرت اور اعتبار کے سامنے پرچموں والی روایت استقامت نہیں کرسکتی۔ نقلی دلائل نیز بعض عقلی دلائل مذکورہ بالا سطور میں بیان ہوئے ہیں اور یہاں ایک عقلی اور ایک نقلی دلیل پر اکتفا کرتے ہیں:
1۔ عقلی دلیل: انسان کو اپنی معاشرتی حیات نیز فردی اور معنوی ارتقائی ضروریات کے تقاضوں کے مطابق، ایک طرف سے انفرادی اور اجتماعی پہلؤوں میں اللہ کے بھیجے ہوئے ایسے قانون کی ضرورت ہے جو ضعف، نقص، خطا اور نسیان (فراموشی) سے محفوظ ہو اور دوسری طرف سے اس کو ایک دینی حکومت اور عالم و عادل حاکم کی ضرورت ہے جو قانون کو مکمل طور پر نافذ کرے۔ کیونکہ الہی قانون انسانی حیات کے انفرادی اور اجتماعی پہلؤوں میں ان دو کے بغیر، یا ان دو میں سے ایک کے بغیر، قابل نفاذ نہیں ہے۔ اور اگر ان دو کی غیرموجودگی، معاشرتی پہلو میں لاقانونیت، انارکی اور تباہی کا سبب بنتی ہے اور کوئی بھی عقلمند انسان اس لاقانونیت اور تباہی پر رضامند نہیں ہوسکتا؛ یہ برہان، جو ایک عقلی دلیل ہے، جس میں انبیاء کا زمانہ بھی شامل ہوتا ہے، جس کا نتیجہ نبوت کی ضرورت ہے اور رسول خاتم(ص) کے زمانے کے بعد کا زمانہ بھی، جس کا ثمرہ امامت ہے؛ اس دلیل میں امام معصوم(ع) کی غیبت [غیر موجودگی] کا زمانہ بھی شامل ہے جس کا نتیجہ ولایت فقیہ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ (21)
2- نقلی دلیل: بہت ساری آیات کریمہ اور احادیث شریفہ ولایت فقیہ پر دلالت کرتی ہیں اور ہم یہاں صرف ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: امام زمانہ علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے بھجوائے گئے سوال کے جواب میں مرقوم فرمایا: "اور پیش آمدہ واقعات و حوادث میں ہماری حدیثوں کے راویوں [فقہاء] کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ تمہارے اوپر میری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر خدا کی حجت ہوں"۔ (22)
نتیجہ یہ کہ اولاً خود مذکورہ روایت میں قرینہ پایا جاتا ہے کہ امام(ع) کے ظہور سے اٹھنے والے باطل یا ضلالت کے پرچموں کا تعلق طاغوتوں، طاغوتی حکومتوں اور جھوٹے مدعیوں سے ہے اور ثانیاً یہ روایت خاص حالات اور خاص موضوع کے بارے میں ہے اور اگر اس کو مطلق مانا جائے تو تقریبا اسلام کا سب کجھ معطل ہوکر رہ جائے گا اور پھر اس کے مقابلے میں متعدد آیات قرآنی اور احادیث شریفہ موجود ہیں جو غیبت کے زمانے میں حکومت کے قیام اور امام(ع) کے لئے ماحول سازی کو واجب قرار دیتی ہیں بصورت دیگر اسلام ایک مردہ مذہب میں تبدیل ہوگا، ظہور مؤخر ہوگا، طاغوت چھا جائیں گے اور اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
امام خمینی (قدس سرہ) باطل کے پرچموں کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"آج مسلم معاشرے کا حال یہ ہے کہ جعلی مقدسین اسلام اور مسلمین کے اثر و رسوخ کا راستہ روک رہے ہیں؛ اور اسلام کا نام لے کر اسلام پر ضرب لگا رہے ہیں۔ اس جماعت کی جڑیں معاشرے کے علماء کے حلقوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ۔۔۔ ایسے افراد ہیں جو مقدس نمائی کے جذبات سے سرشار ہیں، اور اپنے بھیانک افکار کو معاشرے میں رائج کررہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اگر کسی کو دیکھ لیں جو کہہ رہا ہے کہ "آؤ، زندہ ہوجاؤ، آؤ اجازت نہ دو کہ ہم دوسروں کے پرچم تلے زندگی بسر کریں؛ امریکہ اور برطانیہ کو ہمارے اوپر سب کچھ ٹھونسنے کی اجازت نہ دو، اسرائیل کو اجازت نہ دو کہ اسرائیل مسلمانوں کو اس انداز سے مفلوج کردے" تو یہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس جماعت کو ابتداء ہی سے نصیحت کرکے بیدار کرنا چاہئے اور ان سے کہنا چاہئے کہ "کیا تم خطروں کو نہیں دیکھ رہے ہو، کیا نہیں دیکھ رہے ہو کہ اسرائیلی مار رہے ہیں، قتل کررہے ہیں اور نیست و نابود کررہے ہیں اور برطانیہ اور امریکہ ان کی مدد و حمایت کررہے ہیں اور تم بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہو"۔ (23)
بڑی عجیب بات ہے کہ انگریزی شیعہ نہ صرف ان امریکی اور برطانوی پرچموں کو دیکھ رہے ہیں بلکہ باطل کے ان پرچموں کے منحوس سائے میں بیٹھ کر حق و حقیقت کے واحد پرچمِ ولایت پر وار کررہے ہیں؛ جبکہ اس پرچم نے آج تک پرچم علمدار کربلا(ع) کا کردار ادا کیا ہے اور امریکہ اور صہیونی ریاست کو مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ پر قبضہ کرنے سے روکے رکھا ہے، مشاہد مشرفہ اور مزارات مقدسہ کے تحفظ کا کامیابی کے ساتھ دفاع کیا ہے، اور محاذ مزاحمت کی شکل میں مغرب، یہودی ریاست اور ان کے علاقائی گماشتوں کو اپنے عزائم پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21۔ جوادي آملي، عبدالله، ولايت فقيه، قم،‌ نشر اسراء، 1378ش، ص151ـ152۔
22۔ "وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّه‏ علیهم"۔ (صدوق، کمال الدین، ج2، ص483)
23۔ امام خمینی، ولایت فقیہ، ص145۔

Read 274 times

Add comment


Security code
Refresh