انتظار یعنی زندگي کی موجودہ صورتحال کو تسلیم نہ کرنا
اس زاویے سے انتظار کا مطلب ہے مطمئن نہ ہونا، انسان کی زندگي کی موجودہ صورتحال کو تسلیم نہ کرنا اور مطلوبہ صورتحال تک رسائی کے لیے کوشش کرنا اور مسلّمہ بات ہے کہ یہ مطلوبہ صورتحال ولی خدا حضرت حجت ابن الحسن مہدی صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ و عجل اللہ فرجہ و ارواحنا فداہ کے مضبوط ہاتھوں سے عملی جامہ پہنے گی۔ (17 اگست 2008) (امام مہدی کے ظہور کے) انتظار کا مسئلہ بھی مہدویت کے عقیدے کا لازمی جز ہے اور یہ بھی منزل کمال کی سمت امت مسلمہ کی عمومی و اجتماعی حرکت اور حقیقت دین کو سمجھانے میں بنیادی حیثیت رکھنے والے مفاہیم میں ہے۔ انتظار یعنی توجہ، انتظار یعنی ایک یقینی حقیقت پر نظر رکھنا۔ یہ ہے انتظار کا مفہوم۔ انتظار یعنی یہ مستقبل جس کے ہم منتظر ہیں یقینی ہے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ یہ انتظار ایک جیتے جاگتے انسان کا انتظار ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ (9 جولائی 2011)
مہدویت، دین اسلام کے سب سے اعلیٰ معارف میں سے ایک
اسی بات کے تسلسل میں کہنا چاہیے کہ مہدویت کا مسئلہ، دینی عقائد اور معارف کی چند اہم ترین بنیادوں میں سے ایک ہے، جیسے عقیدۂ نبوت ہے۔ مہدویت کے عقیدے کی اہمیت کو ایسا ہی سمجھنا چاہیے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ عقیدہ جس چیز کی نوید دیتا ہے وہ وہی چیز ہے جس کے لیے تمام انبیاء کو مبعوث کیا گیا اور وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کی بنیاد پر ایک توحیدی معاشرے کی تشکیل سے عبارت ہے۔ امام زمانہ (سلام اللہ علیہ و عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا زمانہ ایسا زمانہ ہے۔ یہ توحیدی معاشرے کا زمانہ ہے، یہ یکتا پرستی کی بالادستی کا زمانہ ہے، یہ انسانی زندگی کے گوشے گوشے میں دین و روحانیت کی حقیقی فرمانروائی کا زمانہ ہے، حقیقی معنی میں انصاف کے قیام کا زمانہ ہے۔ (9 جولائی 2011)
مہدئ موعود کی ولادت، دنیا کے تمام پاکیزہ اور آزاد منش انسانوں کی عید کا دن
بنابریں حضرت مہدی کسی خاص گروہ یا کچھ خاص لوگوں سے مختص نہیں ہیں۔ مہدئ موعود (ارواحنا لتراب مقدمہ الفدا) کی ولادت کا دن، در حقیقت دنیا کے تمام پاکیزہ اور آزاد منش انسانوں کی عید کا دن ہے۔ ممکنہ طور پر صرف وہی لوگ اس دن خوشی و مسرت محسوس نہ کر پائیں جو ظلم کی بنیادوں کا حصہ یا دنیا کے طاغوتوں اور ظالموں کے پیروکار ہوں ورنہ کون سا آزاد منش انسان ہے جو پوری دنیا میں عدل و انصاف کے فروغ، انصاف کے پرچم کے لہرانے اور ظلم کے خاتمے سے خوش نہ ہو اور اس کی آرزو نہ رکھتا ہو۔ (23 نومبر 2008) پندرہ شعبان کا دن امیدوں کا دن ہے ، یہ امید اہلبیت کے شیعوں سے مخصوص نہیں ہے، حتیٰ امت مسلمہ سے بھی مخصوص نہیں ہے۔ عالم بشریت کے ایک روشن و درخشاں مستقبل کی آرزو اور پوری دنیا میں انصاف قائم کرنے والے ایک عدل گستر، منجی موعود کے ظہور پر تقریباً وہ تمام ادیان اتفاق رکھتے ہیں جو آج دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ (17 اگست 2008)
تمام مذاہب میں مہدئ موعود کے ظہور کا عقیدہ
صرف شیعہ ہی نہیں ہیں جو مہدئ موعود (سلام اللہ علیہ) کے منتظر ہیں بلکہ نجات دہندہ اور مہدی کا انتظار تمام مسلمانوں سے متعلق ہے۔ شیعوں اور دوسروں میں فرق یہ ہے کہ شیعہ اس نجات دہندہ کو نام، علامات اور مختلف خصوصیات کے ساتھ جانتے ہیں تاہم دوسرے مسلمان، جو نجات دہندہ پر عقیدہ بھی رکھتے ہیں، نجات دہندہ کو نہیں پہچانتے، بس یہی فرق ہے ورنہ مہدویت کے بنیادی عقیدے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ دیگر ادیان بھی اپنے عقائد میں، زمانے کے آخر میں نجات دہندہ کے انتظار کا عقیدہ رکھتے ہیں، انھوں نے بھی اس مسئلے کے ایک حصے میں بات کو صحیح سمجھا ہے لیکن مسئلے کے بنیادی حصے میں جو نجات دہندہ کی ذات کی معرفت ہے، اس میں ان کے یہاں کمی ہے۔ شیعہ اپنی پختہ اور قطعی معلومات کے ساتھ نجات دہندہ کو نام، نشانی، خصوصیات، تاریخ ولادت کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ (20 ستمبر 2005) اسی تناظر میں "تاریخ کے ایک دور میں مہدی کے ظہور" کا عقیدہ صرف شیعوں سے مختص نہیں ہے، سبھی مسلمان، چاہے شیعہ ہوں یا سنی، اس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ غیر مسلمان بھی ایک طرح سے اس پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ البتہ شیعوں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسانیت کے اس نجات دہندہ کو نام، علامات اور خصوصیات کے ساتھ جانتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ نجات دہندہ حکم الٰہی پر عمل کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ جب بھی پروردگار عالم اسے حکم دے گا وہ اس عظیم کام کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے جو انسانیت اور تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ (22 اکتوبر 2002)
مہدئ موعود کے انتظار کے جذبے کا امید بخش اور حوصلہ افزا ہونا
حقیقت میں انتظار کا جذبہ، حضرت امام زمانہ (ارواحنا فداہ) سے جڑے ہونے، ان کے ظہور کے منتظر ہونے اور اس دن کے منتظر رہنے کا جذبہ، اسلامی معاشرے کے لیے امید کا بہت اہم دریچہ ہے۔ ہم گشائش کے منتظر ہیں اور خود یہ انتظار اپنی جگہ کسی گشائش سے کم نہیں ہے، خود یہ انتظار گشائش کا دریچہ ہے، یہ اپنے آپ میں امید بخش اور حوصلہ افزا ہے۔ یہ انتظار عبث اور بے مقصد زندگی گزارنے کے احساس، بے وقعتی کے احساس، مایوسی کے احساس، مستقبل کے بارے میں گمراہی اور منزل گم کر دینے کے احساس سے نجات دلاتا ہے، امید عطا کرتا ہے، راستہ دکھاتا ہے۔ امام زمانہ (سلام اللہ علیہ) کا مسئلہ ایسا ہے۔ (11 جون 2014)
مہدئ موعود پر دل سے عقیدہ، روحانی اور سماجی تکلیفوں سے شفا عطا کرتا ہے
حضرت حجت (ارواحنا فداہ) کی ولادت اور اس عظیم یاد سے ہمیں سبق ملنا چاہیے۔ جذبات بہت اچھے ہیں، جذبات انسانوں کے بہت سے نیک اعمال کے پشت پناہ ہیں، دنیا کے اس عظیم نجات دہندہ کے وجود پر قلبی ایمان و عقیدہ بہت سی معنوی، روحانی اور سماجی بیماریوں اور آلام سے شفا عطا کرتا ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر ہمیں اس یاد اور اس عظیم واقعے سے سبق لینا چاہیے۔" (12 نومبر 2000) اسی اہم بنیاد کی بنا پر انتظار اور مہدویت کا مسئلہ ایک دلیل اور منطق کا حامل ہے: "کوئی یہ نہ سوچے کہ مہدویت کا مسئلہ، صرف ایک جذباتی مسئلہ ہے، جی نہیں، مہدویت کی فکری بنیادیں، بہت مضبوط اور مستحکم ہیں۔ ان تمام شکوک و شبہات کے، جو اس عقیدے کے مخالفوں اور دشمنوں نے ذہنوں میں پیدا کیے ہیں، ٹھوس جوابات موجود ہیں۔ اگرچہ اس عقیدے کا منطقی، فکری اور استدلالی پہلو بہت ٹھوس اور واضحں ہے لیکن اسی کے ساتھ اس شیعی عقیدے کا جذباتی، معنوی اور ایمانی پہلو بھی بہت اہم ہے۔ (28 جنوری 1994)
مہدئ موعود کے ظہور کے لیے تیاری
حضرت مہدی کی عالمی تحریک کی عظمت و ہمہ گیری کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے فرائض پر صحیح طریقے سے عمل کرنا چاہیے: ہمیں خود کو تیار کرنا چاہیے، ہر شخص کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ خود کو تیار کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ تیاری معنوی ہے، روحانی ہے اور ایمانی ہے۔ ہر شخص کو امید، ایمان اور نورانیت کے ذریعے اپنے اندر عظیم سرمایہ پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ اس لائق بن سکے کہ حضرت کے قریبیوں، ان کے خاص لوگوں، ان کے ساتھیوں، ان کی عظیم عالمی تحریک میں ان کے معاونوں میں شامل ہو سکے۔ (28 جنوری 1994)




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
