صہیونی حکومت میں ایران سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں، جنرل جوانی

Rate this item
(0 votes)
صہیونی حکومت میں ایران سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں، جنرل جوانی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سیاسی ونگ کے نائب سربراہ جنرل ید اللہ جوانی نے مسلح افواج میں نئے مقرر ہونے والے کمانڈروں کے سابقہ ریکارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افراد دفاع مقدس کے تجربہ کار اور ایرانی قوم کے بہترین اثاثوں میں سے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی صلاحیت ثابت کرچکا ہے، خصوصا اس دور میں جب اعلی کمانڈروں کو شہید کر دیا گیا تھا اور ان افراد نے نائب کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میجر جنرل احمد وحیدی کے حکم نامے میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس کے علاوہ ایک نئے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اب ہم جو بھی اقدام کریں گے، اگرچہ اس کی نوعیت دفاعی ہوگی، لیکن اس دفاعی انداز کو جارحانہ شکل اختیار کرنا ہوگی۔

جنرل جوانی نے تاکید کی کہ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ ہم نے کبھی جنگ شروع نہیں کی، نہ امام خمینی کے دور میں، نہ شہید امام خامنہ ای کے دور میں اور نہ ہی اب۔ لیکن چونکہ ہم جنگ کی حالت میں ہیں اور دشمن مواقع کی تلاش میں ہے، اس لیے دشمن کو ان احکامات اور ان کے پیغامات سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہماری مسلح افواج اپنے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی لائیں گی۔

سپاہ کے اعلی افسر نے کہا کہ جاری کیے گئے احکامات کی بنیاد پر ایرانی سرزمین کے دفاع، سلامتی کے تحفظ اور دشمن کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے جو کچھ ضروری ہوگا، مناسب وقت پر انجام دیا جائے گا، جیسا کہ ہم نے حالیہ واقعات میں بھی دیکھا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوگا۔

جنرل جوانی نے واضح کیا کہ اہم بات یہ ہے کہ جنگ شروع کرنے والا دشمن تھا اور اس سلسلے میں ہمارے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں، اگرچہ ان کی نوعیت جارحانہ بھی ہو سکتی ہے اور یہ مسلح افواج کے نئے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے خلاف اچانک کارروائیاں کرکے ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ ممکن ہے دشمن کو خود تزویراتی نوعیت کے اچانک اقدامات کا سامنا کرنا پڑے اور یہ بھی نئے کمانڈروں کے احکامات میں بیان کیے گئے نئے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے جنگ کی روک تھام اور ڈیٹرنس کے لیے مسلح افواج کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اقدامات کا مقصد جنگ شروع ہونے سے روکنا ہے، لیکن دشمن نے غلط اندازے اور غلط حساب کتاب کے ساتھ جنگ شروع کی، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے بعد اس نے ملک کے اندر بھی کچھ اقدامات کی منصوبہ بندی کی، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد 12 روزہ جنگ میں اسرائیلی حکومت میدان میں اتری۔ تاہم صہیونی حکومت کی اتنی حیثیت نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہوسکے۔ 12 روزہ جنگ میں بھی اسرائیلی حکومت امریکی حمایت اور پشت پناہی کے سہارے میدان میں اتری تھی۔

Read 7 times