آیت اللہ اعرافی: ایرانی قوم رہبر شہید کے خون کا انتقام لینے کے لیے پر عزم ہے

Rate this item
(0 votes)
آیت اللہ اعرافی: ایرانی قوم رہبر شہید کے خون کا انتقام لینے کے لیے پر عزم ہے

 سربراہ حوزات علمیہ ایران، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے گزشتہ رات رہبر شہید کی تشییع و تدفین کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کیا۔ یہ مجلس رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شبستانِ امام خمینیؒ میں منعقد کی گئی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی تلاوت اور محمد و آل محمد علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کے بعد، امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت پر علمائے کرام، مراجعِ عظام اور حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں منعقدہ مجلس عزاء کے شرکاء اور عوام کو تعزیت پیش کی، جبکہ بقیۃ اللہ الاعظم، حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے آغاز پر مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے اولیائے الٰہی، شہداء، جنگ اور دفاع مقدس کے شہداء، رہبر شہید کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی ارواح مطہرہ کے لیے دورود و صلوات کا نذرانہ پیش کیا۔

آیت اللہ اعرافی نے آیاتِ عظام، مراجعِ تقلید، امام راحل اور رہبرِ معظم انقلاب کے خاندان، عظیم شخصیات، اساتذہ، مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان، جامعہ مدرسین، حوزات علمیہ کی اعلیٰ کونسل اور علمی، حوزوی، یونیورسٹی اور ثقافتی اداروں سے وابستہ افراد کی اس مجلس عزاء میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا: ’’اپنی گفتگو کے آغاز میں آج کے حالات کے بارے میں چند جملے عرض کروں گا، اس کے بعد رہبر شہید کی شخصیت اور ان کی زندگی اور سیرت کے ایک دو پہلو بیان کروں گا۔‘‘

رہبر شہید کے خون کا بدلہ ذاتی انتقام نہیں

سربراہ حوزات علمیہ نے کہا کہ ایرانی قوم اب بھی رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے سوگ میں ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم آج بھی اپنے عزیز رہبر کے غم میں سوگوار ہیں، رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے کھڑے ہیں اور اس عظیم شہید کے خون کا انتقام لینے کے عزم پر بھی قائم ہیں۔‘‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’یہ بات ہمیں واضح طور پر یاد رکھنی اور اس پر تاکید کرنی چاہیے کہ ہمارے عظیم شہید کا انتقام اور ایران و امتِ مسلمہ کی آزادی و خودمختاری کے دشمنوں سے انتقام، کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ یہ امتِ اسلام کا انتقام ہے۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ نے مزید کہا: ’’یہ خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور دنیا بھر کے تمام مظلوموں کی خونخواہی ہے، لہٰذا اس معاملے میں مغالطہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایرانی قوم اور محاذ مقاومت کی جانب سے رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور ان کے خون کے بدلے کا مطالبہ کرنے کا یہ معاملہ کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے کہ کوئی اس کے مقابلے میں مزاحمت کرنا چاہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’یہ انتقام ایک قوم کا انتقام اور دنیا بھر کے مستضعفین کا انتقام ہے۔ ہم رہبر شہید کے انتقام اور خونخواہی کے اس عہد پر قائم ہیں اور ہماری قوم رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی کرتے ہوئے اس عہد پر ڈٹی ہوئی ہے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے واضح کیا: ’’6 ماہ تو کوئی مدت ہی نہیں؛ اگر چھ سال بھی گزر جائیں، تب بھی یہ قوم میدان میں موجود رہے گی اور رہبر شہید کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اسی طرح ڈٹی رہے گی۔‘‘

انہوں نے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ’’شاد و آباد رہے وہ قوم جو آج بھی دل و جان اور اپنی پوری ہستی، جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ اسلام کے دفاع اور شہداء کے مقاصد کی پاسداری کے لیے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔ خدا کی عنایت آپ کے ساتھ ہے اور ان شاء اللہ آپ اسی راستے کو جاری رکھیں گے۔‘‘

رہبرِ شہید؛ ایک جامع شخصیت

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے رہبرِ شہید کی شخصیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’اپنی گفتگو کے آغاز میں ہمارے عظیم شہید کے بارے میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخ میں جن شخصیات کو ہم دیکھتے اور ان کا جائزہ لیتے ہیں، ان میں بعض شخصیات یک رخی، دو رخی یا تین رخی ہوتی ہیں، لیکن کبھی ہمیں ایسی شخصیت کا سامنا ہوتا ہے جو متعدد مختلف اور متعدد پہلوؤں کی حامل ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے رہبرِ شہید بھی ان نورانی، درخشاں اور گوناگوں پہلوؤں کے حامل افراد میں سے تھے، جو علم و دانش، مہارت، انتظام و انصرام اور قیادت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’جب ہم دیگر شخصیات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں غور و فکر کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کی عظمت کے کچھ پہلوؤں کو دریافت کرکے پیش کر سکیں، لیکن جب ہم اس عظیم شخصیت کے سامنے آتے ہیں تو اس عزیز اور شریف چہرے میں اتنی تابانی اور درخشندگی موجود ہے کہ ہمیں بیٹھ کر سوچنا پڑتا ہے کہ ان اوصاف کے اس پورے مجموعے، فضائل اور بے شمار خوبیوں کے اس کہکشاں میں سے کس خوبی کو منتخب کریں اور کس پہلو کو نمایاں کریں۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے واضح کیا: ’’ہمارے رہبرِ شہید بھی ایسی ہی جامع، بلند مرتبہ اور گوناگوں پہلوؤں کی حامل شخصیت تھے، جن کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد نشستیں اور مجالس منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ’’رہبر کی شخصیت کی جامعیت اور ان کی یہ خصوصیات اس قدر نمایاں اور بلند ہیں کہ جب ہم ان اوصاف و امتیازات کے اس مجموعے کے سامنے آتے ہیں تو حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’خطے اور ایران کی ہزاروں سالہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجیے؛ دینی پہلوؤں سے قطع نظر بھی، امام راحل کی عظمت اور ہمارے رہبرِ شہید کی عظمت کے مقابلے میں ہمیں اس مقام و مرتبے کی کوئی دوسری شخصیت نظر نہیں آتی۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’ایران کی عظیم قوم کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ اسلامی انقلاب کے دوران ہمارے ملک کو ایسی عظیم، یگانہ اور بلند مرتبہ شخصیات نصیب ہوئیں۔ ہم ان عظیم رہنماؤں کی علمی، ایمانی اور اخلاقی زندگی اور ان کی مجاہدتوں کا ایران اور خطے کے تمام سابق رہنماؤں کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہم ثابت کریں گے کہ انقلاب کے یہ دونوں قائد، خاص کر رہبرِ شہید ایسی عظمت، شان و شوکت اور درخشندگی کے حامل تھے کہ جس کی مثال کہیں اور تلاش کرنا ممکن نہیں۔‘‘

رہبرِ شہید؛ فکر و عمل کا حسین امتزاج

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے رہبرِ شہید کی ایک اور خصوصیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’ممالک کے رہنماؤں کو دو یا تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ بعض رہنما فکر و نظریے کے میدان میں تو صاحبِ نظر ہوتے ہیں، لیکن عملی میدان اور انتظام و قیادت میں زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’دنیانکے رہنماؤں کا ایک دوسرا اور بہت بڑا گروہ ایسا ہے جو عملی میدان میں تو مضبوط ہوتا ہے، لیکن نظریے، فکری بنیادوں اور معرفتی اصولوں کے میدان میں خالی ہاتھ اور کمزور ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’لیکن رہنماؤں کا ایک مختصر گروہ ایسا بھی ہے جو نظریے کے میدان میں بھی مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے اور عملی میدان، انتظام، قیادت اور رہنمائی میں بھی ماہر اور باصلاحیت ہوتا ہے، اور ہمارے رہبرِ شہید بھی اسی قسم کی شخصیت تھے۔‘‘

اول: اسلامی نظریہ ساز اور نظریہ پرداز

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: رہبرِ شہید ایک عظیم اور بلند مرتبہ رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری نورانی زندگی اسلام کے لیے وقف کیے رکھی، قوم کے لیے جانفشانی کی اور فکر و عمل دونوں کو یکجا کیا۔ ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ رہبرِ شہید نے تین بڑی خصوصیات کو ایک ساتھ جمع کیا تھا۔ پہلی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اسلامی نظریہ پرداز اور نظریہ ساز تھے۔

انہوں نے کہا: ہمارے رہبرِ شہید ایک اسلامی نظریہ پرداز اور اسلامی نظریہ ساز تھے۔ اسلامی حکمرانی کے حوالے سے نظریات اور افکار کی ایک پوری دنیا ان کے فکر و منطق اور ان کی گفتگو میں موجزن تھی۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: رہبرِ شہید کی گفتگو مضبوط نظریاتی مواد پر مشتمل تھی اور تقریباً چار دہائیوں کے دوران انہوں نے اسلامی حکمرانی کے بارے میں مختلف شعبوں میں درجنوں گہرے نظریات اخذ کیے، انہیں پیش کیا اور ان کی وضاحت فرمائی۔

انہوں نے کہا: یہاں اس موضوع کو تفصیل سے بیان کرنے کی گنجائش نہیں، لیکن رہبرِ شہید کے پاس معاشرت، ثقافت، معیشت اور سیاست کے شعبوں میں مختلف نظریات اور افکار موجود تھے۔ اگر رہبر نہ ہوتے تو وہ ایک نظریہ پرداز، مرجع تقلید، ماہر عالم اور اسلامی تمدن کی تعمیر کی راہ میں اسلامی حکمرانی کے لیے بے شمار نظریات رکھنے والی شخصیت ہوتے۔ وہ اسلام کی راہ میں ایک ایسے قائد تھے جو نظریہ پرداز، صاحبِ معرفت اور نظریہ ساز تھے۔

دوم: عملی میدان کے معمار اور عملی رہنما

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: رہبر شہید نظریہ سازی کے ساتھ ساتھ عملی میدان کے معمار اور عملی رہنما بھی تھے۔ وہ نظریے کو فکر اور منطق سے نکال کر عملی میدان میں لے آتے تھے، جن کے بعض نتائج کی طرف میں آگے اشارہ کروں گا۔ رہبرِ شہید نظریہ پرداز، عملی میدان کے معمار، تحریکوں کے رہنما اور اسلامی حکمرانی کے قیام کے لیے عملی اور میدانی نیٹ ورک تشکیل دینے والے معمار تھے۔

سوم: طاقت پیدا کرنے کے معمار

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ہمارے رہبر کی تیسری خصوصیت یہ تھی کہ ان کی نظریہ سازی اور عملی میدان کی معماری صرف اسی حد تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اسلامی نظریات اور عملی میدان کی معماری کو معاشرے، ثقافت، علم و دانش اور دفاع کے شعبوں میں طاقت پیدا کرنے میں تبدیل کر دیا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ایسے رہنما بھی ہیں جو اقتدار اور قوت پیدا کرتے ہیں، لیکن ہمارے رہبرِ شہید ان دو عظیم خصوصیات، یعنی نظریاتی قوت اور عملی رہنمائی کے ساتھ ساتھ طاقت پیدا کرنے کے معمار بھی تھے؛ ایسی طاقت کے معمار جس کے سامنے آج دنیا حیرت زدہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس قوم کی طاقت اسی رہبرِ عظیم کی قیادت اور معماری کا نتیجہ ہے۔ وہی تھے جنہوں نے ہمیں یہ طاقت اور صلاحیت عطا کی، وہی تھے جنہوں نے ہمیں حوصلہ دیا اور وہی ایران، محاذ مقاومت اور امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کا سبب بنے۔

رہبرِ شہید؛ ایران اور امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کے معمار

آیت اللہ اعرافی نے کہا: میں نے یہاں شہید کی طاقت پیدا کرنے اور ان کی قیادت کے چھ شعبے نوٹ کیے ہیں، جن میں سے ایک دو کا ذکر کروں گا۔ ہمارے رہبر ہمارے اور آپ کے ساتھ ساتھ امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کے معمار تھے اور انہوں نے مختلف شعبوں میں ہمارے، آپ کے اور امتِ اسلام کے لیے اقتدار و طاقت پیدا کی۔

علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں طاقت

حوزات علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے رکن نے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کو اقتدار کے اہم شعبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ میں نوجوانوں، یونیورسٹی سے وابستہ افراد اور عوام سے کہتا ہوں کہ علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت حاصل کرنے کا یہ راستہ رہبرِ شہید سے سیکھیں۔

انہوں نے مزید کہا: بھائیو اور بہنو! امتِ اسلام گزشتہ دو سو سال سے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہم کئی سالوں اور صدیوں تک علمی و ٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب کے محتاج رہے اور ہمارے تمام علمی و فنی امور مغرب پر منحصر رہے۔

امام جمعہ قم نے مزید کہا: آج بھی عالمِ اسلام وسیع پیمانے پر دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ ہمارے عظیم رہبر نے تقریباً چالیس سال کی اپنی الٰہی قیادت اور ولایت کے دوران ایک سنجیدہ اور مستقل راستہ اختیار کیے رکھا، اور وہ ایران کے لیے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت پیدا کرنا تھا۔

آیت اللہ اعرافی نے اس پالیسی کی بنیادیں بیان کرتے ہوئے کہا: ان کا عقیدہ تھا کہ ہماری یونیورسٹیاں، ہمارے حوزات، ہمارے ماہرین اور ہمارا علمی و ٹیکنالوجی کا معاشرہ علم و ٹیکنالوجی کی سرحدوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: دوسری بات یہ تھی کہ یہ علم اور ٹیکنالوجی ایرانی اور مسلمان ذہن سے جنم لینا چاہیے اور علم کی جدید ترین سرحدوں پر استوار ہونا چاہیے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: تیسری بات جس پر وہ زور دیتے تھے، وہ یہ تھی کہ ہمیں جہادی انداز میں کام کرنا چاہیے، مختصر راستہ اختیار کرنا چاہیے، علم کی سرحدوں کو عبور کرنا چاہیے اور اپنی تاریخی پسماندگی پر قابو پانا چاہیے۔

انہوں نے کہا: یہ وہ مستقل اور مسلسل خطوط تھے جن کے لیے وہ کوشش کرتے رہے؛ ماہرین اور نخبگان کو محفوظ رکھنا، علمی و ٹیکنالوجی کی خودمختاری، انسانی علوم میں اسلامی نقطۂ نظر اور علمی و ٹیکنالوجی کی خودمختاری پر توجہ، رہبرِ شہید کی جانب سے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت پیدا کرنے کے بنیادی اصولوں میں شامل تھے۔

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: آپ نے بارہا دیکھا ہے کہ وہ کس طرح حکومتی عہدیداروں کو جھنجھوڑتے تھے، سائنسی اداروں کی بنیاد رکھی اور اسے مضبوط کیا، علم و دانش کے مراکز کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور مسلسل ان امور کی پیروی کرتے تھے۔

انہوں نے کہا: وہ بارہا پوچھتے تھے کہ دنیا میں ہماری علمی اور ٹیکنالوجی کی درجہ بندی کہاں ہے؟ وہ بڑی حساسیت کے ساتھ خبردار کرتے تھے کہ کہیں ہم خطے اور دنیا میں علمی ترقی کے میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

ایران کی دو سو سالہ پسماندگی کا ازالہ

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ایران کی دو سو سالہ پسماندگی بڑی حد تک ان کی کوششوں سے دور ہوئی اور اس کے نتائج ہم جوہری ٹیکنالوجی، اسٹیم سیلز، علومِ شناختی، جدید اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز، نینو ٹیکنالوجی، ادویات سازی کی صنعت اور ان تمام صلاحیتوں میں دیکھ رہے ہیں جو ہمارے نوجوانوں، ماہرین اور سائنس دانوں کی صلاحیتوں سے وجود میں آئیں اور ایران ایک ترقی یافتہ اور علمی طور پر خودمختار ملک بن گیا۔

آیت اللہ اعرافی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’عزیز نوجوانو، محترم بھائیو اور بہنو! یاد رکھیں کہ ہم تمام شعبوں میں دوسروں پر منحصر اور پسماندہ تھے۔ یہ انقلاب آیا، امام آئے اور رہبرِ شہید آئے؛ انہوں نے جدید علم اور ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر فروغ دیا اور ایران کو علمی جدوجہد کے میدان میں خودمختار بنایا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’مجھے کبھی کبھار غیر ایرانی شخصیات سے گفتگو کا موقع ملتا تھا اور میں دیکھتا تھا کہ وہ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ ایک ایسا ملک جو پابندیوں، محاصرے اور جنگ کا سامنا کر رہا ہو، وہ مختلف صنعتوں میں اس طرح ترقی کیسے کر رہا ہے اور جوہری ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں سے کیسے تیار کر رہا ہے؟‘‘

آیت اللہ اعرافی نے اس مسئلے کو زمانے کے حیرت انگیز واقعات میں شمار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ ہمارے زمانے کی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین باتوں میں سے ایک ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبھی مختلف اجلاسوں میں جب اعداد و شمار پیش کیے جاتے اور خطے میں ایران کی علمی درجہ بندی ذرا بھی نیچے آتی تو وہ برہم ہو جاتے تھے۔ وہ اس قوم، امتِ اسلام اور عزیز ایران سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ ایران خطے میں سب سے آگے ہو۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’بڑے بڑے اقدامات کیے گئے اور وہ اس معاملے میں کسی صورت پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھے۔ اس راستے کی کامیابیاں بھی بے شمار ہیں اور آج بھی ہمیں اس راستے کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘

دفاعی اور فوجی طاقت

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے طاقت کے دوسرے میدان، یعنی دفاعی اور فوجی طاقت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک ایسی قوم تھے جس پر دوسری عالمی جنگ کے دوران غیر ملکیوں نے حملہ کیا اور چند ہی گھنٹوں میں ہمارا پورا دفاعی نظام بکھر گیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہماری فوج اور لشکر کے تمام اعلیٰ افسران ایک طرف ہوگئے، انہوں نے اپنے فوجی عہدے اور نشان اتار دیے اور فرار ہوگئے، جبکہ ملعون شاہ بھی ملک سے فرار ہوگیا۔ ملک کے حالات درہم برہم ہوگئے، حالانکہ ہم جنگ میں بھی شامل نہیں تھے۔ یہی ہماری طاقت تھی؛ ہماری تمام دفاعی صلاحیت اور اسلحہ ایک ہی لہر میں تباہ ہوگیا۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: ’’ہماری تاریخ میں بارہا یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ 28 مرداد کے واقعے میں ایک لہر آئی، شاہ فرار ہوگیا اور سب پیچھے ہٹ گئے۔ امریکی آئے، انہوں نے انہیں بچایا اور دوبارہ قوم پر مسلط کردیا۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ’’ہمارے طیارے، ہماری بحری اور فوجی طاقت، سب دوسروں پر منحصر اور محتاج تھے اور ان کے حکم کے بغیر ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ آپ کے رہبرِ شہید نے دفاعی طاقت کو ایک انتہائی جدید فوجی نظریے کی بنیاد پر استوار کیا۔‘‘

دفاع، جنگ طلبی نہیں

مجلسِ خبرگان کے فقہاء کی کونسل کے رکن نے کہا: ’’ایک اصول یہ تھا کہ ہم جنگ طلب نہیں ہیں، لیکن اگر دفاع کی نوبت آئے تو ہم آخری دم تک اور بغیر پیچھے ہٹے آگے بڑھیں گے۔‘‘ انہوں نے ان نظریات کے سامنے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا جو پسپائی اختیار کرنے اور اسلحہ و میزائل ترک کرنے کی دعوت دیتے تھے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے ہتھیاروں کی ترقی کا سلسلہ روکنے سے متعلق بعض نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’بیس یا تیس سال پہلے ایک سوچ اور نظریہ پیش کیا گیا کہ ہمیں ہتھیاروں کی ترقی کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اگر ہم تیس سال پہلے اس نظریے کے سامنے تسلیم ہوگئے ہوتے تو آج کہاں کھڑے ہوتے؟ ہمارے سر پر ذلت کی خاک ہوتی۔‘‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’انہوں نے بے دفاعی، خوش فہمی اور ہتھیاروں و دفاعی سازوسامان کی تیاری سے پیچھے ہٹنے کے نظریے کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘‘

دفاعی حکمت عملی اور فوج کا مستقبل

آیت اللہ اعرافی نے رہبرِ شہید کی دفاعی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’اسی طرح ہوشمندانہ اور جارحانہ دفاع بھی ان کی پالیسی کا حصہ تھا۔ ان کی جانب سے کہی گئی آخری باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ اگر آپ جنگ میں داخل ہوتے ہیں تو یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ہم جارحیت پسند نہیں ہیں، لیکن جب دفاع کا وقت آئے گا تو ہم دشمن پر حملہ کریں گے اور دشمنوں کے لیے حالات کو سخت بنا دیں گے۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے واضح کیا: ’’اس عظیم رہبر کی دوراندیشی، مستقبل بینی، پیش بینی اور دفاعی و فوجی قیادت نے ایران کو خطے میں ایک منفرد طاقت اور دنیا میں ایک نمایاں قوت بنا دیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’انہوں نے ایران کو ایسی واحد طاقت بنایا جو دنیا کی طاقتور ترین افواج کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔ اللہ کے فضل سے اور رہبرِ معظم انقلاب کی رہنمائی اور مسلح افواج کی قربانیوں کے ذریعے اسلام اور ایران کے دشمنوں کے مقابلے میں یہ برتری اور مزاحمت جاری اور برقرار رہے گی۔‘‘

خودمختار، سائنسی اور عوامی بنیادوں پر دفاعی نظام کی بنیاد

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: ’’ہمارے رہبرِ شہید، جو ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھے، انہوں نے فوجی صنعت اور فوجی سازوسامان کی تیاری کو خودمختار بنیادوں پر آگے بڑھایا؛ کمانڈ کے لیے افرادی قوت اور مسلح افواج کے اہلکاروں کی تربیت کی اور مسلح افواج کے ایمان اور جذبے کی رہنمائی کی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’انہوں نے دفاع کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا اور دفاع کو عوامی بنایا۔ عوامی بسیج کے ذریعے عوام پر مبنی اور ایمان کی بنیاد پر قائم دفاعی نظام کی بنیاد رکھی، جس کی بنیاد علم و دانش پر تھی۔ یہ دفاعی نظام خونِ جگر دے کر تشکیل دیا گیا۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ چھ ماہ سے میدان میں موجود ہیں، اس کا نتیجہ دنیا بھر میں ہماری مسلح افواج کی درخشاں کارکردگی ہے اور اس کا نتیجہ ٹرمپ اور ایران و محورِ مقاومت کے دشمنوں کی بے بسی اور درماندگی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ راستہ مقدس اتحاد، رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی قیادت میں جاری رہے گا۔‘‘

رہبرِ شہید اور اسلامی انقلاب کے نظریات سے تجدیدِ عہد

انہوں نے کہا: ’’آج رات ہم یہاں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں رہبرِ معظم انقلاب کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ رہبرِ شہید، امامِ کبیر اور اسلامی انقلاب کے راستے پر آخری سانس تک ڈٹے رہیں گے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے محاذ مقاومت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’محاذ مقاومت، درماندگی کا محور نہیں بلکہ استقامت اور مجاہدت کا محور ہے۔ رہبرِ شہید عملی میدان میں انتظام اور قیادت کرتے تھے اور امام، ایران اور امتِ اسلام کے لیے طاقت و اقتدار پیدا کرنے کے معمار تھے۔ یہ طاقت سیاست، بین الاقوامی تعلقات، ثقافت، معیشت، ٹیکنالوجی، علم اور دفاع کے شعبوں میں تشکیل پائی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’میں نے اس طاقت کے دو شعبوں کی طرف اشارہ کیا، لیکن ہمارے حکومتی عہدیداروں، ہماری پارلیمنٹ، ہماری انتظامی قوتوں اور سب کو ایران کی خودمختاری اور عظمت کی راہ اور ہمہ گیر ثقافتی، علمی، ایمانی، جہادی اور دفاعی طاقت کی راہ کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘

تمام اداروں میں خودمختاری اور طاقت کے راستے کو جاری رکھنے کی ضرورت

آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہمیں اس نظریے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، کہا: ’’ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة‘‘ کی گونج ہماری عدلیہ، ہمارے تمام سرکاری محکموں، انتظامی ڈھانچوں اور اداروں کی گہرائیوں میں، ہمارے حوزات، یونیورسٹیوں اور نظامِ تعلیم و تربیت کے ہر گوشے میں پہنچنی اور نمایاں ہونی چاہیے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: ’’ہمارے پاس واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سب کو اللہ کی عطا کردہ وحدت، مضبوط دلوں اور پختہ ارادوں کے ساتھ رہبرِ معظم انقلاب کی قیادت میں اس امام کے راستے کو جاری رکھنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’آج رات ہم یہاں ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ پورے ایران کے عوام، پورے خطے میں موجود لوگ، دنیا کے گوشہ و کنار میں اسلامی انقلاب سے محبت رکھنے والے افراد اور دنیا بھر کے مستضعفین، استکباری طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے رہنے اور امامِ عظیم کے راستے کو جاری رکھنے کے عہد پر قائم ہیں، اور آج ہم بھی عہد و پیمان کرتے ہیں کہ اسی طرح ڈٹے رہیں گے۔‘‘

 

Read 30 times